ڈاکٹر جاوید اختر( اسسٹنٹ پروفیسر)
متھلا کے اردو افسانوں پر روشنی ڈالنے سے پہلے اس کی ادبی، علمی اور ثقافتی سرگرمیوں پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اس خطے میں اردو افسانے کی ابتدا و ارتقا اور رفتار کا تعین کیا جاسکے۔
متھلا پہلے ایک دیش تھا اور راجہ جنک اس کے حکمراں تھے۔ ہندو مذہب کے قدیم کتب و رسائل کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مشرق میں کوسی ندی، مغرب میں گنڈک، شمال میں کوہ ہمالیہ اور جنوب میں دریائے گنگا اس کے حدود اربع ہیں۔ منشی بہاری لال فطرت کی لکھی ہوئی کتاب ''آئینہ ترہت'' کے مطابق یہ علاقہ رشیوں اور منیوں کی آماجگاہ تھا۔ اسی میں متھلا راج قائم ہوا۔ لیکن ترہت اور متھلا راج کی تاریخی ٹھوس کڑیاں ہنوز نہیں ملتیں۔ 1095 عیسوی سے ترہت کا تاریخی تسلسل ملتا ہے۔ سب سے پہلے کرناٹک سے آکر نانب دیو جو پنوار خاندان کے راجا تھے، نے ترہت ریاست قائم کی۔ اس کے بعد کئی راجا آئے، مختلف جگہوں پر ڈیورھیاں بنیں، راجدھانیاں بھی بدلتی رہیں۔ پھر پٹھانوں نے یہاں پورا اقتدار حاصل کر لیا۔ محمد تغلق کے عہد حکومت سے ترہت کی حیثیت ایک صوبہ جیسی ہو گئی۔
بعد میں اکبر بادشاہ نے اسے بہار میں ملحق کر کے اسے صوبہ دار کے ماتحت کر دیا۔ 1557 عیسوی میں اکبر بادشاہ نے رگھو نندن رائے موضع رام پور انچل پنڈول، ضلع مدھوبنی کو اس کے علم و کمال سے متاثر ہو کر ترہت کی جاگیر عطا کی۔ انہوں نے اسے گرو دکشنا کے نام پر اپنے گرو مہیش ٹھاکر موضع بھور انچل پنڈول، ضلع دربھنگہ (حال ضلع مدھوبنی) کے قدموں میں ڈال دیا جو سلسلہ وار مہاراجہ دھیراج کامیشور سنگھ بہادر تک یعنی انگریزوں کے دور حکومت تک قائم رہا۔ انگریزوں کے دور حکومت میں دربھنگی خان کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے دربھنگہ کو نئی تہذیب و تمدن عطا کیا۔ انگریزوں ہی کے دور حکومت میں دربھنگہ ضلع بنا اور ترہت کمشنری بنی۔
ملک کی آزادی کے بعد زمینداری کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اسی کے تحت مہاراج دربھنگہ اور در بھنگی خاص کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے تمام زمینداروں کی زمینداری ختم ہوگئی۔ بعد میں دربھنگہ ضلع تین حصوں میں بٹ گیا۔ دربھنگہ کے علاوہ مدھوبنی اور سمستی پور اضلاع قائم ہوئے۔ دربھنگہ کمشنری بن گئی۔
ندیوں کے بہاؤ اور کٹاؤ کی وجہ سے اس کی حد بندی قائم نہیں رہ سکی۔ ’’ہسٹری آف متھلا‘‘ کے مصنف اوپندر ٹھاکر کے مطابق دربھنگہ، سمستی پور، مدھوبنی، مظفر پور، چمپارن، کٹیہار، سہرسہ، پورنیہ اور بیگو سرائے کے علاوہ ہمالیہ کی نچلی آبادی اور ترائی کے حصے متھلا کے علاقے ہیں۔ مگر ان خطوں میں زبان اور بولی کے اعتبار سے بعض علاقوں میں میتھلی کا اثر کمزور ہوتا گیا اور دوسری بولیاں جگہ بناتی گئیں۔ حاجی پور اور سمستی پور کے سرحدی علاقوں میں بجیکا کا چلن بڑھتا گیا۔ مظفر پور اور اس کے قرب و جوار میں میتھلی اور بھوجپوری کی ملاوٹ سے ایک نئی بولی کا رواج پیدا ہو گیا۔ پورینہ اور کٹیہار بھی بہت حد تک میتھلی زبان سے الگ ہو گئے ہیں۔ مدھوبنی دربھنگہ اور سمستی پور کے مسلم گھرانوں میں اردو، میتھلی اور ہندی کی ملاوٹ سے ایک نئی گھریلو زبان وجود میں آگئی ہے جیسے ’’کہاں جا ہے رہے۔ کہاں سے آو ہے۔ گھر نہ چلوے، پانی برسے والا ہو۔ ہم تہ سب کچھ بھول گلیو۔ پڑھوے لکھولے تہ آدمی بنوے۔ اسکول جیو ہے شام میں اے وو۔''
مختصر یہ کہ اب دربھنگہ، سمستی پور، مدھوبنی، سیتامڑھی، سوپول اور سہرسہ کے کچھ حصے کو ہی متھلانچل شمار کیا جاتا ہے۔ متھلا کی سرزمیں پر پہاڑی سلسلہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے میدانی علاقہ کہا جاتا ہے۔ یہاں ہرے بھرے باغ، لہلہاتے کھیتوں اور چھوٹے بڑے درختوں کے سلسلے نظر آتے ہیں۔ یہاں کے لوگ نرم، میٹھی اور دلکش زبان میتھلی بولتے ہیں۔ یہاں کا قول ہے۔
میتھلی بنا سب جن مٹھان
پگ پگ پوکھری ماچھ مکھان
ماچھ مکھان آمگہی پان
یہ تینوں متھلا کی شان
متھلا میں مٹھ اور خانقاہیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ علاقہ مہمان نوازی اور مردم خیزی کی وجہ سے ہر دور میں مشہور رہا ہے۔ پیٹنگز کی وجہ سے اسے بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔ یہاں کی سوراشٹر سبھا بھی کافی مشہور ہے۔ یہ سبھا میتھل برہمن کے دولہا دولہن کے مناسب رشتے کی تلاش اور شادی بیاہ کے سلسلے میں منعقد کی جاتی ہے۔ پوری دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
متھلا ادب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے بعض مسلمان بھی ہندی اور سنسکرت کے اچھے شاعر و ادیب رہے ہیں، یہاں میتھلی اور سنسکرت کے بڑے بڑے عالم، فلسفی اور کوی گزرے ہیں جو پورے ملک میں مشہور تھے۔ متھلا میں ودیاپتی کا نام بھی کافی روشن ہے۔ ان کی پیدائش 1350 عیسوی میں موضع بسفی ضلع مدھوبنی میں ہوئی۔ ان کی شاعری بین الاقوامی ادب پر ایک خاص اثر رکھتی ہے۔ ان کی شاعری کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔ ان کے متعلق فرانسیسی مصنف روماں اولال نے لکھا ہے:
''It was the part of the very source of divine Shakti of whom vidiapati, The old energy, the poet of Mithila and Ram Parasad of Bengal sung''
(حسن امام درد- متھلا اور ادب 1946 تک، مشمولہ ،تمثیل نو، دربھنگہ جولائی تا دسمبر 2006 ص۔ 41)
ودیاپتی کے بعد وشن پوری، گوبند داس، رگھوپتی اپادھیائے، مراری مشر، اجاچھی مشر، امبیکا پرساد، ڈاکڑا مرناتھ جھا، ناگا ارجن اور ڈاکٹر سبھدر شاستری وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ متھلا میں اردو اور فارسی کے عالموں، ادیبوں اور شاعروں کی کمی نہیں ہے۔ متھلا کے لوگ ہر دور میں علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کی وجہ سے مشہور رہے ہیں۔
جہاں تک متھلا میں اردو افسانہ نگاری کی بات ہے تو یہاں اردو افسانے کا رواج آزادی سے پہلے ہی سے رہا ہے۔ آزادی سے پہلے کے اردو افسانہ نگاروں میں شین مظفر پوری اور حسن امام درد کا نام روشن حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ آزادی سے پہلے کئی لوگوں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی لیکن انہیں وہ شہرت و مقبولیت نہ ملی جو ان دونوں کو ملی۔
آزادی کے بعد متھلا میں اردو افسانہ نگاری نے خاطر خواہ ترقی کی۔ آزادی کے بعد شین مظفر پوری کے علاوہ منظر کاظمی، شمیم سیفی اورشبیر احمد نے متھلا میں اردو افسانہ نگاری کو بام عروج تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا۔ ان لوگوں کے بعد متھلا میں ڈاکٹر قیام نیر، سہیل جامعی اور مجیر احمد آزاد نے اردو افسانوی ادب کو آگے بڑھانے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان افسانہ نگاروں کے کئی کئی افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان لوگوں کے علاوہ متھلا میں اردو افسانہ نگاری کو آگے بڑھانے میں انور آفاقی، خورشید انور، مشتاق شمسی، مظفر مہدی، ڈاکٹر منصور عمر، مبینہ امام، عطا عابدی، پروفیسر مشتاق احمد، منظر صدیقی، وصیہ عرفانہ، فیاض احمد، وصال احمد، پروفیسر ابوبکر عباد، اظہر نیر اور منظر ریونڈھوی کے نام قابل ذکر ہیں۔
اردو ایک ایسی زبان ہے جس میں کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ یہی چیز ان میں دلکشی، رعنائی اور مٹھاس پیدا کرتی ہے۔ چونکہ متھلا میں بولی جانے والی سب سے مقبول ترین زبان میتھلی ہے اس لیے اس کے اثرات یہاں بولی جانے والی اردو زبان پر پڑنا ناگزیر ہیں۔ متھلا میں رہنے والے لوگوں پر یہاں کے کلچر کا اثر پڑنا بھی فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے اردو افسانوں میں بھی میتھلی زبان کے اثرات، یہاں کا کلچر اور یہاں کا ماحول دیکھا جا سکتا ہے۔ متھلا کے اردو اور ہندی بولنے والے بھی میتھلی زبان اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں۔ یہاں بہت سے مسلمانوں کی زبان ہی میتھلی ہے۔ بہت سے مسلمانوں کی زبان خاص طور سے عورتوں کی گھریلو زبان اور کلچر پر بہت حد تک میتھلی اور متھلا کے اثرات ہیں۔ شادی، بیاہ، پرب، تیوہار، رہن سہن، کھانے پینے، لباس، مہمان نوازی اور دوسرے بہت سے امور خانہ داری میں متھلا کی زبان اور متھلا کے کلچر کا اثر نمایاں ہے۔ بچے کی پیدائش پر گیت گانا، چھٹی منانا، بچے کے ہاتھ پیر اور کمر میں دھاگہ باندھنا، پیشانی پر کالا نشان لگانا، شادی بیاہ میں دو لہے اور دلہن کا مانجھنے بیٹھنا، ہلدی کی رسم، مہدی کی رسم، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بارات لے جانا، کھانے پینے کا بہتر انتظام کرنا، لڑکے والے کی طرف سے لڑکی والے کے یہاں چاول، تیل سہاگ پورا اور مٹھائی وغیرہ لے جانا۔ شادی کے بعد چوتھی اور نوروز منانا، شب بارات میں حلوہ کے ساتھ ساتھ ٹھکوا پوری اور کھیر بنانا، کچھ لوگوں کا چھٹھ منانا اور سامہ چکیوہ کھیلنا، لباس کے طور پر دھوتی، گنجی گمچھا چوڑی بندی، سندور اور ساڑی پہننا۔ بھات، دال، ترکاری چپاتی لٹی، سموسہ کچڑی اور موڑھی کھانا جیسی بے شمار چیزیں ہیں جو متھلا کلچر سے مسلمانوں کے یہاں آئی ہیں اور مسلم تہذیب و تمدن سے بھی متھلا والوں نے بے شمار چیزیں اپنائی ہیں۔ ان ساری چیزوں کے اثرات متھلا میں لکھے جانے والے افسانوں میں پڑنا نا گزیر تھا۔
شین مظفر پوری کا تعلق متھلا کے جس معاشرہ سے تھا اس معاشرے کے افسانے انہوں نے کثرت سے لکھے ہیں۔ سماج کا نچلا اور متوسط طبقہ ان کے بیشتر افسانوں میں جلوہ گر ہوا ہے اپنے ماحول اور قرب و جوار کے حالات کی عکاسی ان کے یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
'خط ہے زبیدہ کا۔ بڑی مزیدار باتیں لکھی ہیں۔
زبیدہ۔ جو بیدہ کون؟''
وہی میری سکھی جس کے خط آیا کرتے ہیں.''
یہ تو کوئی مسلمانی نام معلوم ہوتا ہے کون ذات ہے؟
بس ذات وات کچھ نہیں۔ مسلمان ہے۔ میری بڑی چہیتی سکھی ہے۔
تمہارے نیہر میں مسلمان بھی ہیں؟ اور مسلمان لڑکی تمہاری ایسی چہیتی ہے۔
(افسانہ، نئی الف لیلی۔ شین مظفر پوری)
شین مظفر پوری نے متھلا میں بولے جانے والے الفاظ کو عام کیا ہے۔ جیسے پوال، گمچھا، اوسارا، کچھوٹا، گھمواں وغیرہ۔
منظر کاظمی ایک اپنے افسانہ نگار تھے جن کے اندر گاؤں کی خمیر تھی۔ اس علاقے یعنی متھلا کی مٹی کا عکس ان کی آنکھوں میں بسا تھا، اس کی خوشبو ذہن میں رچی بسی تھی، اس لئے متھلا کی تہذیب اور اس کے ماحول کا اثر ان کے افسانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کریم سیٹی کالج میں پرنسپل اور جمشید پور میں مصروف ترین زندگی گزارنے کے باوجود وہ اپنے گاؤں (ارئی، دربھنگہ) کو نہیں بھول پائے۔ ان کا بچپن گاؤں میں گزرا تھا۔ اس لئے وہ اپنے گاؤں کی دھول بھری سڑکوں والی مٹھاس کو بھول نہیں پائے۔ ان کے افسانوں میں گاؤں کے موسم، وہاں کی دھول بھری سڑکیں اور گاؤں کے لوگوں کے بھولے پن کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گاؤں میں بولی جانے والی میتھلی آمیز اردو کی مٹھاس کو محسوس کیا جا سکتا ہے.
شبیر احمد متھلا کے ایک مشہور ومعروف افسانہ نگار تھے۔ انہوں نے اپنے کچھ افسانوں میں دیہی زندگی کی تصویر کھینچی ہے۔ خصوصیت سے غیر منقسم دربھنگہ میں رہنے والے کسان کھیتوں اور کھلیانوں میں کام کرنے والے مزدور، دیہاتوں میں رہنے والی عورتیں، ان کی زبان اور متھلا کلچر کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر قیام نیر متھلا کے افسانہ نگاروں میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ماحول اور اس کے ارد گرد ہونے والے واقعات و حادثات اور ناہمواریوں کی نشاندہی کی ہے۔ متھلا میں بہتی ہوئی ندیاں اور بڑی ندیوں سے چھوٹی ندیوں اور نالوں میں آکر تیزی سے بہتے ہوئے، اچھلتے ہوئے پائی، کھلے آسمان میں اڑتے ہوئے پرندوں کے جھنڈ، آم کے باغات کے منجر کی بھینی بھینی خوشبو، مکھانوں کے پتوں سے ڈھکے ہوئے تالاب کے حسین منظر کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھا ہے، اس لئے ان کی منظر نگاری اور فضاکشی دلکش اور دلنشیں ہوتی ہے۔ اس اقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
’’ندی کا بہتا ہوا صاف و شفاف پانی، کھیتوں میں لہلہاتی ہوئی فصلیں، ہوا کے دوش پر جھومتے ہوئے شاداب درخت، دل و دماغ کو تازگی اور فرحت بخشتے ہیں۔ کوئل کی کوکو، پپیہے کی پی پی اور بلبل کے سریلے نغموں سے ساری فضا گونجتی رہتی ہے۔ موسیقی بکھیرتے ہوئے پرندوں کے جھنڈ اور اڑتے ہوئے سفید سفید بگلوں کی قطاریں ایک حسین سماں باندھ دیتے ہیں۔‘‘
(افسانہ، پھول اور کانٹے۔ ڈاکٹر قیام نیر)
متھلا میں بولی جانے والی میتھلی اور اردو زبان کی آمیزش سے بولی جانے والی بھاشا کا استعمال ان کے افسانوں میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ متھلا کلچر کے اثرات بھی ان کے افسانوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
’’حجور! یہ میرے آدمی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں میری جنگی ہے۔ مجھ کو مارنے پیٹنے کا حک ان کو ہے نا۔ یہ میری اچھائی کے لیے ہی ایسا کرتے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر میں کہاں رہوں گی۔ میرے ماں باپ ساری جنگی کے لیے ان ہی کے پلے سے باندھا ہے نا۔''
(افسانہ بندھن۔ ڈاکٹر!قیام نیر)
مختصر یہ کہ ڈاکٹر قیام نیر متھلا کے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانے خاص و عام میں مقبول ہیں۔ وہ کم و بیش پچپن سالوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔
سہیل جامعی لگ بھگ پچاس برسوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ متھلا کے رہنے والے ہیں اس لیے ان کے افسانوں میں میتھلی زبان اور متھلا کلچر کے اثرات جابجا نظر آتے ہیں۔
’’ آشرم دیکھ کر ورماجی نارنگ کے ساتھ واپس آگئے۔ وہ سوچنے لگے کتنا ہرا بھرا اور خوبصورت آشرم ہے۔ ہر ایک کمرے میں دو بیڈ، ایک میز دو کرسی، ایک الماری اور ضرورت کی دوسری تمام چیز یں۔ کمرے سے سٹاہوا چھوٹا سا بر آمدہ، جہاں پتی پتنی آرام سے رہ سکتے ہیں؟ ‘‘
(افسانہ اپارٹمنٹ لائف، سہیل جامعی)
مجیر احمد آزاد متھلا کے ایک جانے مانے افسانہ نگار ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ متھلا، میتھلی اور متھلا کلچر سے انہیں گہرا لگاؤ رہا ہے۔ انہوں نے دیہی زندگی پر مبنی افسانے زیادہ لکھے ہیں اس لیے ان کے یہاں علاقائی رنگ گہرا ہے۔ ان کے افسانوں میں متھلا کی سوندھی مٹی کی خوشبو، رہٹ کی آوازیں اور کھیتوں میں لہلہاتی فصلوں کی سرسراہٹ جابجا ملتی ہے۔
’’ بونٹ کی چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں پھلوں سے لدی ہوئی تھیں۔ چنے کے پتوں کے اوٹ میں دانے اس طرح لٹک رہے تھے جیسے کسی دوشیزہ کے کانوں میں بالیاں جھوم رہی ہوں۔ ابھی وہ اپنی فصلوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ سائن پٹی کی طرف سے مویشیوں کا جھنڈ پگڈنڈی کی طرف بڑھتا دکھائی دیا۔ راکھو مستعد ہو گیا۔ اس نے جلدی سے کھیت میں پڑی تیل پلائی ہوئی لاٹھی سنبھالی اور مینڈ پر ہی سے چلایا۔ او بھینسوار سب دیکھ کے بھائی۔ جرا دیکھ کے پھسل ہے بھائی۔‘‘
(افسانہ ۔راگھو کی کھیتی، مجیر احمد آزاد)۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد دیہات اور دیہاتیوں پر قلم اٹھاتے ہیں تو وہاں کے کھیت کھلیان اور بازار ہاٹ کی بات کرتے ہیں تو حقیقت کا عکس ان کو افسانوں میں جگمگانے لگتا ہے۔
’’وہ واقعہ آج بھی اس کے ذہن میں تازہ ہے جب اسی آم کے باغ میں رام جی ساہو کے بیٹے نے اس کو لاتوں سے مار مار کر ادھ مرا کر دیاتھا۔ قصور اتنا تھا کہ گزرتے ہوئے اس نے دو آم چن لیے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں بھول پایا کہ گھر آنے پر اس کے پتا نے بھی ایک طمانچہ یہ کہتے ہوئے جڑا تھا کہ مالک کے گاچھی میں گئیل کاہے؟۔‘‘
مختصر یہ کہ مجیر احمد آزاد کے افسانوں میں علاقائی رنگ کے ساتھ ساتھ میں میتھلی زبان اور متھلا کلچر کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ان لوگوں کے علاوہ متھلا کے کئی افسانہ نگاروں جیسے مشتاق شمسی، اظہر نیر، ڈاکٹر مشتاق احمد، وصیہ عرفانہ، منظر ریونڈھوی، شوکت خلیل، انور آفاقی، مظفر مہدی، منظر صدیقی، فیاض احمد وجیہہ اور سلمان عبد الصمد وغیرہ کے افسانوں میں بھی جا بہ جا میتھلی زبان اور متھلا کلچر کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔
***
جلد (1) شمارہ (1) اکتوبر 2025
جلد (1) شمارہ (1) اکتوبر 2025
Dr. Jawed Akhtar
Assistant Professor,
Deptt. of Urdu,
Millat College,
Darbhanga,Bihar
E-mail: jawed.phdurdu@gmail.com
The Influence of Maithili Language and Mithila Culture on Urdu Short Stories
Ocotber 2025 Vol.1, Issue.1

No comments:
Post a Comment