Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Friday, August 28, 2026

📢 اہم اعلان | قادرالکلام خصوصی شمارہ

الحمدللہ! ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ماہنامہ قادرالکلام، حیدرآباد (انڈیا) کے خصوصی شمارے کے متعلق سرٹیفکیٹس اور کتابیں بذریعہ اسپیڈ پوسٹ  روانہ کر دی گئی ہیں۔ 📚📜

ان شاء اللہ، تمام معزز قلم کاروں اور محققین کو ان کی کتابیں اور سرٹیفکیٹس عنقریب موصول ہو جائیں گے۔

تمام متعلقہ احباب سے گزارش ہے کہ وصولی کے لیے چند دن انتظار فرمائیں۔

🌐 مزید تفصیلات اور تازہ معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:
www.qadirulkalam.com

📱 مزید معلومات اور رابطے کے لیے واٹس ایپ:
8885303386

آپ کے علمی و ادبی تعاون اور اعتماد کے لیے تہہ دل سے شکریہ۔

قادرالکلام
علم، تحقیق اور ادب کے فروغ کا سفر ✨

Wednesday, August 12, 2026

📚 تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ


یہ مضمون ’’تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر مجید بیدار کا ایک تحقیقی و تاریخی مطالعہ ہے۔ اس میں 1857ء سے 1947ء تک اردو صحافت، اخبارات و رسائل اور ممتاز صحافیوں کی جدوجہدِ آزادی میں خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون اردو صحافت کے ذریعے قومی شعور، حب الوطنی اور آزادی کی تحریک کو فروغ دینے کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔

پروفیسر مجید بیدار

  جمہوریت میں صحافت کو تیسری آنکھ کا درجہ حاصل ہے۔ تحریک ِآزادی ہی نہیں بلکہ جدوجہد ِآزادی میں ہندوستان کی صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس قدر انقلابی نعرے اور وطن پرستی کے جذبات کو ابھارنے میں اردو زبان نے حق ادا کیا ہے‘ اس کی مثال ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ملنی مشکل ہے۔ 1857ء کے بعد سے لے کر 1947ء تک ہندوستان میں اردو اخبارات ‘ رسائل اور جرائد نکالنے والے مدیران یا ان سے وابستہ افراد نے صحافت کو تجارت پیشہ یا پھر ایک وسیلۂ اظہار کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے اخبارات سے وابستہ ہوکر جدوجہد آزادی کو تیزتر کرنے میں اردو صحافت کو ایک تحریک کا درجہ دے دیا اور اپنے کالموں‘ اداریوں اور خبروں کے ذریعہ ہندوستانیوں میں اتحاد اور میل جول کا ماحول پیدا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ غدر سے لے کر ہندوستان کی آزادی تک کے تمام اردو اخبارات کا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اردو صحافت نے کبھی عصبیت ‘ فرقہ واریت‘ علاقہ واریت یا پھر مذہب کی فضا استوار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ صاف طور پر ظاہر ہوجاتا ہے کہ شمالی اور جنوبی ہند سے اردو میں شائع ہونے والے تمام اخبارات نے صرف ایک مقصد کے لیے اپنی صحافت کے جوہر دکھائے اور وہ مقصد تھا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروایا جائے اور ہندوستانیوں میں  حب الوطنی کے جذبے کو پروان چڑھاکر انھیں سچے دیش بھکت بنایا جائے۔ یہی وجہ رہی کہ تحریک آزادی میں تیزی اور انگریزی سامراج کے خلاف غم و غصہ کی لہر نے عوام میں اس قدر شدت اختیار کرلی کہ 100 سالہ علمی جدوجہد میں ہندوستانیوں کو وہ کامیابی حاصل نہ ہوئی جو 40 سالہ اردو صحافت نے انجام دی۔ بلاشبہ تحریک آزادی میں ہندوستان کی کامیابی کو ہم صحافت کی دین قرار دے سکتے ہیں۔ ہندوستانی سیاسی رہنماؤں اور مختلف مذہبی سربراہوں کے بیانات اخبارات میں شائع نہ ہوئے اور صحافت کے توسط سے عوام تک نہیں پہنچے اور ان کے توسط سے انگریز بربریت کا کچا چھٹا عوام کے سامنے نہ آتا تو آزادی کا حصول حد درجہ دشوار ہوجاتا۔ اخبارات نے جب انگریز ظلم و زیادتی کی رپورٹنگ شروع کی تو ساری دنیا پر حقیقت آشکار ہوگئی کہ ہندوستان کو اپنے زیر نگیں رکھ کر سامراجیت کس طرح مفادات حاصل کررہی ہے۔ انگریزی رویہ کو اردو اخبارات نے صحافت کے ذریعہ  طشت از بام کیا جس کی وجہ سے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

Wednesday, August 5, 2026

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا


📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا


ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM)

ISSN: 3139-1028

Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal


الحمدللہ، قادرالکلام کا یومِ آزادی خصوصی شمارہ (اگست 2026) شائع ہو چکا ہے۔


یہ خصوصی شمارہ تحریکِ آزادی ہند اور اردو ادب کے موضوع پر مبنی ہے، جس میں ممتاز اساتذہ، محققین اور اہلِ قلم کے تحقیقی و تنقیدی مقالات شامل ہیں۔


اس شمارے میں تحریکِ آزادی، اردو صحافت، الہلال، برج نرائن چکبستؔ، مولانا ابوالکلام آزاد، بہادر شاہ ظفر، حسرت موہانی، بیگم حضرت محل، مزاحمتی ادب، اردو شاعری، اردو ناول نگاری، خواتین کا کردار اور دیگر اہم موضوعات پر مستند مقالات شامل کیے گئے ہیں۔


اس شمارے میں ایک اہم انگریزی تحقیقی مقالہ بھی شامل ہے:


The Literary Representation of Colonial Resistance in India and Australia

Dr. Mohammed Kalim Mohiuddin


📖 مطالعہ کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:


🌐 www.qadirulkalam.com


📧 qadarulkalam@gmail.com


📧 qadirulkalam5@gmail.com


📱 WhatsApp: +91 8885303386

#قادرالکلام #اردو_ادب #تحریک_آزادی #آزادی_ہند #اردو_تحقیقی_جریدہ #اردو_صحافت #مولانا_آزاد #بہادر_شاہ_ظفر #حسرت_موہانی #ادبی_تحقیق #PeerReviewed #ResearchJournal 

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...