Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Wednesday, October 28, 2026

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ



علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں سادگی، دل کشی، اخلاقی تربیت اور بلند حوصلگی کا پیغام بھی ملتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں بشریٰ رحمن نے اقبال کی بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کے موضوعات، فنی خصوصیات اور تعلیمی و تربیتی اہمیت کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ مطالعہ بچوں کی شاعری کے حوالے سے اقبال کی ادبی خدمات کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 بشریٰ رحمن(ریسرچ اسکالر،حیدرآباد)

علامہ محمد اقبال کی بچوں کے لیے شاعری اردو ادبِ اطفال کا اہم حصہ ہے۔ ان نظموں پر اخلاقی تربیت، بچوں کی نفسیات، اقدار، ترجمہ و اخذ، فطرت اور ماحول جیسے مختلف زاویوں سے قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ ان پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے یہ جائزہ لیتا ہے کہ اقبال کی منتخب نظمیں بچے کی اخلاقی سمجھ، زبان، ذخیرۂ الفاظ، مشاہدے اور اپنے گرد موجود دنیا سے واقفیت میں کس طرح مدد دے سکتی ہیں۔ تحقیق کے لیے بانگ ِ درا کی سات نظموں: ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘، ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’ایک گائے اور بکری‘‘، ’’بچے کی دعا‘‘، ’’ہمدردی‘‘، ’’پرندے کی فریاد‘‘ اور ’’ماں کا خواب‘‘ کا متنی مطالعہ کیا گیا ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کردار، مکالمہ، جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کے ذریعے اخلاقی بات کو محض نصیحت کی صورت میں نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک واقعے اور تجربے سے جوڑتے ہیں۔ یہ نظمیں اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے، آزادی اور قید، غرور اور خودداری، ہمدردی اور بے حسی جیسے بنیادی فرق بھی واضح کرتی ہیں۔ مقالے میں ان نظموں کی نصابی اہمیت کے ساتھ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کو اصل متن کے متبادل کے بجائے اس کی تفہیم میں مددگار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بچپن میں پڑھی ہوئی بعض نظمیں صرف یاد نہیں رہتیں بلکہ انسان کے سوچنے اور سمجھنے کے انداز کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ان کے کردار، منظر، الفاظ اور چھوٹے چھوٹے واقعات برسوں بعد بھی ذہن میں زندہ رہتے ہیں۔ کبھی مکڑا اور مکھی یاد آتے ہیں تو خوشامد اور فریب کا خیال ساتھ آتا ہے؛ کبھی پہاڑ اور گلہری کا مکالمہ یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی چیز بے مقصد یا بے کار نہیں ہوتی؛ اور کبھی پنجرے میں بند پرندے کی فریاد آزادی کی قدر کا احساس پیدا کرتی ہے۔ علامہ محمد اقبال کی بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کی بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ بچے کو صرف ایک کہانی نہیں سناتیں بلکہ آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں انسان، اخلاق، فطرت اور زندگی کے بنیادی تصورات قائم کرتی ہیں۔
اقبال کی شاعری کا ذکر آتے ہی عموماً خودی، قوم، عمل، آزادی اور فکری موضوعات ذہن میں آتے ہیں، لیکن ان کی شاعری کا ایک اہم اور دلچسپ حصہ وہ بھی ہے جو بچوں کے لیے لکھا گیا۔ بانگِ درا میں شامل ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘، ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’ایک گائے اور بکری‘‘، ’’بچے کی دعا‘‘، ’’ہمدردی‘‘، ’’ماں کا خواب‘‘ اور ’’پرندے کی فریاد‘‘ طویل عرصے سے بچوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی رہی ہیں۔ ان میں سے بعض اقبال کی اپنی تخلیق ہیں اور بعض دوسری زبانوں کی نظموں سے اخذ کی گئی ہیں۔ اقبال نے اخذ شدہ نظموں کو لفظ بہ لفظ نقل کرنے کے بجائے اردو کے مزاج اور بچے کی فہم کے مطابق نئے انداز میں پیش کیا، اس لیے وہ اردو نظم کا فطری حصہ محسوس ہوتی ہیں۔
ان نظموں کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ ان میں اچھے اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو ان کے ذریعے بچہ مختلف الفاظ، جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر سے آشنا ہوتا ہے۔ وہ چھوٹے اور بڑے، اچھے اور برے، آزاد اور قید، سچے اور جھوٹے جیسے فرق کو سمجھنے لگتا ہے۔ یوں یہ نظمیں ایک طرف اس کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور دوسری طرف اسے اپنے گرد موجود دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک نیا زاویہ دیتی ہیں۔
بچوں کو اخلاق سکھانے کے لیے صرف یہ کہنا کہ ’’جھوٹ نہ بولو‘‘، ’’کسی کو حقیر نہ سمجھو‘‘ یا ’’دوسروں سے ہمدردی کرو‘‘ ایک سیدھا طریقہ ہے، لیکن شعر اور کہانی کے ذریعے یہی بات کردار اور واقعے کے ساتھ ذہن میں جگہ بناتی ہے۔ ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ میں اگر صرف یہ کہہ دیا جاتا کہ ہر چیز کی اپنی اہمیت ہوتی ہے تو شاید بات اتنی مؤثر نہ ہوتی جتنی پہاڑ اور گلہری کے مکالمے سے ہوتی ہے۔ یہاں بچہ صرف نصیحت نہیں سنتا بل کہ  کرداروں کے ذریعے بات کو سمجھتا اور محسوس کرتا ہے۔
 سابقہ تحقیقات کا جائزہ
اقبال کی بچوں کے لیے شاعری پر کئی اہم مطالعات موجود ہیں اور ہر محقق نے اس موضوع کو ایک الگ زاویے سے دیکھا ہے۔ شاہوار بیگم نے بچوں کے ادب میں اقبال کے حصے کو مستقل موضوع بنایا، جب کہ  زیب النساء بیگم نے اقبال اور ادبِ اطفال کے تعلق کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ خرم علی شفیق نے روشنی کی تلاش میں بانگِ درا کی بچوں کے لیے نظموں کے تجزیے، تاریخی معلومات، انگریزی ماخذ اور نصاب سازی کو ایک ساتھ پیش کیا۔ یہ کتابیں موجودہ تحقیق کے لیے بنیادی پس منظر فراہم کرتی ہیں (بیگم، 1982؛ زیب النساء، 1992؛ شفیق، 2010)۔
یاسمین کوثر اور شگفتہ فردوس نے اپنے مقالے ’’علامہ اقبال بہ طور بچوں کے شاعر‘‘ میں اقبال کی بچوں کے لیے شاعری کو مجموعی طور پر دیکھا ہے۔ انھوں نے تربیت، امید، کردار سازی اور انگریزی شاعری سے اخذ کے پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی۔ اس تحقیق کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے اقبال کو بچوں کے شاعر کی حیثیت سے نمایاں کیا۔ (کوثر و فردوس، 2022)۔
ریاض احمد اور محمد عبداللہ نے 2024 میں اقبال کی دو بچوں کی نظموں کو انسان، دوسری مخلوقات اور ماحول کے تعلق کے حوالے سے دیکھا۔ اس تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ جانور اور فطرت صرف کہانی کے کردار نہیں رہتے بلکہ انسان اور ماحول کے رشتے کا حصہ بن جاتے ہیں (احمد و عبداللہ، 2024)۔
ان مطالعات کے علاوہ بھی بہت سے تحقیقی کام ہوئے ہیں۔ جن سے واضح ہوتا ہے کہ اخلاقی تربیت، اقدار، بچوں کی نفسیات، تعلیمی فکر، تخیل، ترجمہ و اخذ، فطرت اور ماحول جیسے پہلو پہلے ہی مختلف تحقیقات میں سامنے آ چکے ہیں۔ موجودہ مطالعہ ان کاموں کی قدر کرتے ہوئے ان پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
 تحقیق کی ضرورت اور علمی خلا
سابقہ تحقیقات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن ان کے مطالعے سے ایک اور سوال سامنے آتا ہے۔ اقبال کی بچوں کے لیے شاعری کو اگر بچے کی ابتدائی تربیت کے ایک وسیع دائرے میں دیکھا جائے تو اخلاق، زبان، مشاہدہ، فطرت اور ذہنی تربیت الگ الگ نہیں رہتے بلکہ ایک ہی نظم میں ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
مثلاً ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ صرف فریب سے بچنے کا سبق نہیں دیتی؛ اس میں مکڑا، مکھی، جالا، دعوت، خوشامد، احتیاط اور دھوکے جیسے الفاظ اور خیالات بھی سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ صرف غرور سے بچنے یا ہر مخلوق کی اہمیت بتانے والی نظم نہیں، بلکہ یہ بچے کو پہاڑ، گلہری، جسامت، طاقت، صلاحیت اور قدرت میں پائے جانے والے فرق کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔
موجودہ تحقیق کا بنیادی مقصد اسی باہمی تعلق کو واضح کرنا ہے۔ اس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اقبال کی بچوں کے لیے شاعری، خواہ طبع زاد ہو یا دوسری شاعری سے اخذ کی گئی ہو، بچے کو ایک ہی وقت میں اخلاق، زبان، فطرت، انسان اور اپنے گرد موجود دنیا سے واقف کرانے کے کیا امکانات رکھتی ہے۔ اچھا اور برا، چھوٹا اور بڑا، آزاد اور قید، طاقتور اور کم زور، غرور اور خودداری، ہمدردی اور بے حسی جیسے فرق اس مطالعے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
ایک اور پہلو اللہ کی مخلوق سے واقفیت کا ہے۔ اقبال کی بچوں کی نظموں میں پرندے، جانور، کیڑے، پہاڑ، باغ اور دوسری قدرتی چیزیں بار بار سامنے آتی ہیں۔ یوں نظم بچے کے سامنے گھر یا جماعت کی چار دیواری سے باہر ایک بڑی دنیا کھولتی ہے۔ موجودہ مطالعہ اسی مجموعی اثر اور اس کی نصابی اہمیت کو سامنے لاتا ہے، جب کہ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک ممکنہ تدریسی مددگار کے طور پر دیکھتا ہے۔
 منتخب نظموں کا تجزیہ
 ایک مکڑا اور مکھی
’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ بظاہر ایک مختصر واقعہ ہے جس میں مکڑا اپنی باتوں اور خوشامد سے مکھی کو اپنے قریب لانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسی چھوٹے واقعے میں احتیاط، نیت، فریب اور فیصلہ سازی جیسے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ مکھی ابتدا میں خطرے کو پہچانتی ہے، مگر تعریف اور خوشامد اس کے فیصلے کو بدل دیتی ہے۔
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا
(اقبال، ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘)
یہ نظم بچے کو مکڑا، مکھی اور جال جیسی قدرتی چیزوں سے متعارف کراتی ہے، اور ساتھ ہی یہ فرق بھی دکھاتی ہے کہ نرم لہجہ یا خوب صورت بات ہمیشہ اچھی نیت کی علامت نہیں ہوتی۔ خوشامد، احتیاط، فریب اور خطرے جیسے الفاظ ایک واقعے کے ساتھ جڑتے ہیں، اس لیے ان کے معنی صرف لغت تک محدود نہیں رہتے۔ آج کے دور میں اس نظم کو آن لائن دنیا، اجنبی رابطوں اور غیر ضروری تعریف سے محتاط رہنے جیسے موضوعات سے بھی جوڑا جا سکتا ہے، تاہم اصل نظم کا اخلاقی اور ادبی حسن اپنی جگہ برقرار رہنا چاہیے۔
 ایک پہاڑ اور گلہری
’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ میں ایک بڑے پہاڑ اور ایک چھوٹی سی گلہری کے درمیان مکالمہ ہے۔ نظم کا بنیادی حسن اسی فرق میں ہے: ایک طرف جسامت اور طاقت ہے، دوسری طرف حرکت، ہنر اور خود اعتمادی۔
نہیں ہے چیز  نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
(اقبال، ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘)
یہاں ایک اہم تربیتی پہلو سامنے آتا ہے۔ بچے اکثر اپنے آپ کو دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں۔ کوئی پڑھائی میں اچھا ہوتا ہے، کوئی کھیل میں، کوئی اچھا بولتا ہے اور کوئی کسی اور صلاحیت میں بہتر ہوتا ہے۔ یہ نظم بچے کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ہر شخص کی اپنی قدر، اپنا مقام اور اپنی خوبیاں ہوتی ہیں۔ اس لیے دوسروں سے متاثر ہو کر خود کو کم تر سمجھنے یا حسد کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا اور اپنی جگہ بنانا زیادہ اہم ہے۔
گلہری چھوٹی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو کم نہیں سمجھتی۔ وہ پہاڑ کی بڑائی کو مانتی ہے، لیکن اپنی صلاحیت کو بھی پہچانتی ہے۔ یوں نظم خود اعتمادی کے ساتھ یہ خیال بھی سامنے لاتی ہے کہ قدرت میں بڑا اور چھوٹا دونوں اپنی جگہ اہم ہیں۔ پہاڑ، گلہری، درخت اور قدرتی ماحول بچے کے ذہن میں ایک واضح منظر بھی بناتے ہیں۔
 ایک گائے اور بکری
’’ایک گائے اور بکری‘‘ میں دو جانوروں کے مکالمے کے ذریعے شکایت، شکر اور انسان و جانور کے تعلق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ نظم کا آغاز ہی بچے کو ایک سرسبز قدرتی منظر میں لے جاتا ہے:
اک چراگاہ ہری بھری تھی کہیں   تھی سراپا بہار جس کی زمیں
(اقبال، ’’ایک گائے اور بکری‘‘)
گائے اپنے حالات سے نالاں نظر آتی ہے، جبکہ بکری اسے ان سہولتوں اور نعمتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے جو اسے حاصل ہیں۔ اس طرح ایک ہی حالت کو دو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ساتھ ہی چراگاہ، ندی، درخت، گائے اور بکری جیسے الفاظ بچے کے مشاہدے اور فطرت سے تعلق کو وسیع کرتے ہیں۔ یہ نظم انسان اور دوسری مخلوقات کے باہمی تعلق پر بھی سوچنے کا موقع دیتی ہے۔
 بچے کی دعا
’’بچے کی دعا‘‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بچے کی اپنی آواز سامنے آتی ہے۔ وہ صرف کامیابی یا آرام نہیں مانگتا بلکہ علم، خدمت، نیکی اور اچھے کردار کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری   زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
(اقبال، ’’بچے کی دعا‘‘)
روشنی اور اندھیرے جیسے الفاظ یہاں صرف ظاہری معنی میں نہیں رہتے؛ روشنی علم اور نیکی سے جڑتی ہے جبکہ اندھیرا برائی اور جہالت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نظم بچے کو اپنے بارے میں سوچنے کا موقع دیتی ہے: میں کیسا انسان بننا چاہتا ہوں؟ میں دوسروں کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ اس لحاظ سے یہ نظم دعا کے ساتھ کردار سازی کا پہلو بھی رکھتی ہے۔
 ہمدردی
’’ہمدردی‘‘ دوسرے کے دکھ کو محسوس کرنے اور اس کی مدد کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ نظم میں بلبل کی پریشانی اور جگنو کی مدد ایک چھوٹے واقعے کے ذریعے سامنے آتی ہے۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے
(اقبال، ’’ہمدردی‘‘)
یہاں ہمدردی صرف احساس نہیں بلکہ عمل سے جڑتی ہے۔ جگنو چھوٹا ہے لیکن اپنی روشنی کو دوسرے کے کام لاتا ہے۔ یوں بچہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ مدد کے لیے بڑا یا طاقت ور ہونا ضروری نہیں؛ جو صلاحیت ہمارے پاس ہے وہ بھی کسی کے کام آ سکتی ہے۔ یہ نظم جذباتی سمجھ، خیر خواہی اور دوسروں کی ضرورت کو محسوس کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔
 پرندے کی فریاد
’’پرندے کی فریاد‘‘ میں ایک پنجرے میں بند پرندہ اپنی آزاد زندگی کو یاد کرتا ہے۔ آزادی کا تصور کسی مشکل فلسفیانہ زبان میں نہیں بلکہ ایک محسوس تجربے کے ذریعے سامنے آتا ہے۔
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں، وہ سب کا چہچہانا
 (اقبال، ’’پرندے کی فریاد‘‘)
پرندے کی یاد میں باغ، گھونسلا، ساتھی اور آزاد آنا جانا شامل ہے۔ اس طرح آزادی اور قید، خوشی اور غم، ساتھ اور تنہائی جیسے فرق ایک ہی نظم میں واضح ہوتے ہیں۔ بچہ پرندے کی حالت کے ذریعے یہ محسوس کر سکتا ہے کہ زندہ رہنے کے ساتھ آزادی اور اپنے فطری ماحول کی بھی اہمیت ہے۔
 ماں کا خواب
’’ماں کا خواب‘‘ دوسری نظموں کے مقابلے میں زیادہ جذباتی ہے۔ اس میں ماں کی محبت، جدائی، خوف اور غم کے احساسات نمایاں ہیں۔
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
(اقبال، ’’ماں کا خواب‘‘)
یہ نظم بچے کو یہ دکھاتی ہے کہ ادب صرف خوشی اور کھیل تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مشکل جذبات کو بھی بیان کرتا ہے۔ ماں کی محبت اور جدائی کا احساس اس نظم کا مرکز ہے۔ تاہم اس کی تدریس میں بچے کی عمر اور جذباتی سطح کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا، کیونکہ موت، جدائی اور غم کے احساسات دوسری منتخب نظموں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہیں۔
 اقبال کی بچوں کے لیے نظموں میں بہت سے ایسے الفاظ اور تصورات آتے ہیں جو بچے کی روزمرہ گفتگو سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔ مکڑا، مکھی، جالا، پہاڑ، گلہری، چراگاہ، پنجرہ، آزادی، فریب، ہمدردی اور خودداری جیسے الفاظ بچے کو الگ الگ تعریفوں کے ذریعے نہیں بل کہ کردار اور واقعے کے ساتھ ملتے ہیں۔ اس طرح لفظ اپنے معنی اور منظر دونوں کے ساتھ ذہن میں جگہ بنا سکتا ہے۔ شاعری کی لے اور تکرار بھی ان الفاظ کو یاد رہنے میں مدد دے سکتی ہے۔
 اچھے اور برے کی پہچان
ان نظموں میں اخلاقی بات اکثر براہِ راست نصیحت کے بجائے کرداروں اور واقعات سے سامنے آتی ہے۔ مکڑے کی چالاکی، مکھی کی غلطی، پہاڑ کے غرور، گلہری کی خود اعتمادی، جگنو کی مدد اور پرندے کی آزادی کی خواہش کے ذریعے بچہ مختلف رویوں کے فرق کو سمجھتا ہے۔ یوں سچ اور جھوٹ، غرور اور خودداری، ہمدردی اور بے حسی، آزادی اور قید، احتیاط اور جلد بازی جیسے تصورات واقعات کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔
 فطرت اور اللہ کی مخلوق سے تعلق
اقبال کی بچوں کے لیے نظموں میں جانور، پرندے اور قدرتی مناظر بار بار سامنے آتے ہیں۔ مکڑا، مکھی، گلہری، گائے، بکری، جگنو، پرندا، پہاڑ، باغ اور درخت بچے کی توجہ اس دنیا کی طرف لے جاتے ہیں جو اس کے فوری ماحول سے بڑی ہے۔ وہ ان مخلوقات کو صرف نام کے طور پر نہیں جانتا بلکہ ان کی حرکت، خصوصیات اور کردار کے ذریعے ان کے بارے میں سوچتا بھی ہے۔ اس طرح نظم بچے کو اللہ کی مختلف مخلوقات اور قدرت میں پائے جانے والے فرق کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
بچوں کے نصاب میں کسی نظم کی شمولیت صرف اس وجہ سے نہیں ہونی چاہیے کہ اس کا شاعر مشہور ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہ نظم بچے کو کیا دیتی ہے۔ اس لحاظ سے اقبال کی کئی نظمیں آج بھی اہم ہو سکتی ہیں، کیونکہ وہ زبان، اخلاق، سوچ، مشاہدے اور تخیل کو ایک ساتھ جگہ دیتی ہیں۔
’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ احتیاط اور فریب پر گفتگو کا موقع دیتی ہے؛ ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ خود اعتمادی اور ہر فرد کی اپنی صلاحیت کی طرف توجہ دلاتی ہے؛ ’’ہمدردی‘‘ دوسرے کے کام آنے کی اہمیت بتاتی ہے؛ ’’پرندے کی فریاد‘‘ آزادی اور قید کے فرق کو محسوس کراتی ہے؛ اور ’’بچے کی دعا‘‘ علم، خدمت اور اچھے کردار کی خواہش کو سامنے لاتی ہے۔
ان نظموں کو صرف حفظ اور سوال جواب تک محدود رکھنے کے بجائے گفتگو، تصویر، کردار ادا کرنے اور چھوٹی سرگرمیوں کے ساتھ پڑھایا جا سکتا ہے۔ مثلاً ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ کے بعد یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا چھوٹا ہونا کمزور ہونا ہے، یا اگر تم گلہری ہوتے تو پہاڑ کو کیا جواب دیتے؟ ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ کے بعد یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا ہر تعریف سچی ہوتی ہے اور مکھی کو کیا فیصلہ کرنا چاہیے تھا؟ ایسے سوالات نظم کو یاد کرنے سے آگے بڑھا کر سوچنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔
نظموں کا انتخاب عمر کے لحاظ سے بھی ہونا چاہیے۔ نسبتاً چھوٹے بچوں کے لیے سادہ، مکالماتی اور جانوروں کے کردار والی نظمیں زیادہ موزوں ہو سکتی ہیں، جبکہ غم، جدائی اور آزادی جیسے گہرے موضوعات بڑی عمر کے بچوں کے ساتھ زیادہ مناسب طریقے سے زیرِ بحث لائے جا سکتے ہیں۔
 عصرِ حاضر میں نئی تدریسی صورتیں اور مصنوعی ذہانت کے امکانات
یہ حصہ تحقیق کے نتائج کی روشنی میں چند ممکنہ تدریسی صورتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آج کے بچے کی زندگی میں موبائل، ویڈیو، گیم، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت شامل ہو چکے ہیں۔ اس لیے کلاسیکی نظموں کو نئی نسل کے سامنے پیش کرتے وقت جدید ذرائع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اصل متن اور اس کا ادبی حسن محفوظ رہے۔
مثلاً ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ کو تصویری کہانی میں، ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ کو مختصر متحرک تصویری صورت میں، اور مشکل الفاظ کو عمر کے مطابق آسان مثالوں کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سوال جواب، الفاظ کی مشقیں، تصویری سرگرمیاں اور کرداروں پر مبنی مشقیں بنائی جا سکتی ہیں۔ ایک ہی نظم کو چھوٹے اور بڑے بچوں کے لیے مختلف سطح پر سمجھایا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کو نظم کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ اس کا بہتر استعمال یہ ہے کہ وہ استاد اور بچے کو اصل نظم سمجھنے، مشکل لفظ کھولنے، منظر بنانے اور سوال پیدا کرنے میں مدد دے۔ اس طرح نئی ٹیکنالوجی کلاسیکی ادب کو پیچھے چھوڑنے کے بجائے اس تک رسائی کا ایک نیا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ان نظموں کی آج کی معنویت بھی اسی جگہ ہے۔ خوشامد اور فریب، دوسروں سے موازنہ، آزادی، ہمدردی اور اپنے ماحول کی قدر ایسے موضوعات ہیں جو کسی ایک دور تک محدود نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج انہیں نئے تعلیمی حالات اور نئے ذرائع کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت ہے۔
اقبال کی بچوں کے لیے شاعری محض اخلاقی نصیحت تک محدود نہیں۔ ان نظموں میں کردار، مکالمہ، فطرت اور روزمرہ زندگی سے قریب مثالوں کے ذریعے بچے کو اچھے اور برے رویوں، مختلف جذبات، نئی چیزوں اور نئے الفاظ سے آشنا کیا جاتا ہے۔ ان کی اپنی تخلیق ہو یا دوسری زبانوں کی شاعری سے اخذ کیا گیا کلام، اقبال نے اسے اردو کے ماحول میں اس طرح ڈھالا کہ وہ ایک الگ ادبی شناخت اختیار کر گیا۔
اس مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان نظموں میں بچے کی زبان، مشاہدے، اخلاقی سمجھ اور اپنے گرد موجود دنیا سے واقفیت کے کئی امکانات موجود ہیں۔ اسی لیے ان کی نصابی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ اقبال کی نظمیں ہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہ بچے کو سوچنے، محسوس کرنے اور فرق سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔
آج کے دور میں جدید تدریسی ذرائع اور مصنوعی ذہانت کو ان نظموں کے متبادل کے بجائے ان کی تفہیم میں مددگار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بچے کو صرف معلومات نہ دی جائیں بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے، دوسروں کو سمجھنے اور اپنے گرد موجود دنیا کو غور سے دیکھنے کی عادت بھی دی جائے۔ اقبال کی بچوں کے لیے شاعری اس مقصد میں آج بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
. حوالہ جات
اقبال، محمد۔ بانگِ درا۔ لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، 2002۔
بیگم، شاہوار۔ بچوں کے ادب میں اقبال کا حصہ۔ مرزا امیر علی جونپوری، 1982۔
زیب النساء بیگم۔ اقبال اور بچوں کا ادب۔ نئی دہلی: ترقی اردو بیورو، 1992۔
شفیق، خرم علی۔ روشنی کی تلاش: علامہ اقبال کی بچوں کے لیے نظموں کا تجزیہ، تاریخی معلومات اور نصاب سازی کے لیے تجاویز۔ لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، 2010۔
کوثر، یاسمین، اور شگفتہ فردوس۔ ’’علامہ اقبال بہ طور بچوں کے شاعر‘‘۔ متن (اردو ریسرچ جرنل)، جلد 3، شمارہ 2، 2022، ص 336-346۔
Bushra Rahman
Research Scholar, Department of Translation,
Maulana Azad National Urdu University, Hyderabad.

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...