Breaking News

New Issue Published • Sepember 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • ستمبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Thursday, September 17, 2026

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )


"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

 فارسی ادب کا  دامن علمی اعتبار  سے مالامال ہے۔ طاہری دور سے صفوی اور قاچاری دور کے علما ئے  ادب نے بے شمار نادر و نایاب کتابیں تصنیف کیں جن میں رودکی، دقیقی، اور فردوسی کا شاہ نامہ، رومی کی مثنوی معنوی، عطار کی منطق الطیر اور تذکرہ اولیاء، طوسی کا سیاست نامہ، غزالی کی کیمیائے سعادت، سمرقندی کا چار مقالہ اور سعدی کی گلستان و بوستان خصوصیات کے ساتھ قابل ذکر شاہ کار ہیں۔ انھیں کتابوں میں ایک معروف کتاب کلیلہ و دمنہ ہے، جسے سنسکرت، پہلوی، عربی اور فارسی ادبیات نے اپنے اپنے دامن میں سجا کر اپنے حسن کو حسین تر و وسیع کرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی پہلی کتاب ہے جو  تراجم کے مختلف مرحلوں سے گزری اور مختلف ناموں سے مشہور ہوئی، اس کے اصلی نام  وجہ تصنیف  اور مصنف و مؤلف کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، کلیلہ و دمنہ کے متعلق عوفی کی رائے مختلف ہے تو دولت شاہ سمرقندی کی رائے مختلف۔ براؤن کی تحقیق کچھ اور کہتی ہے تو رضا زادہ شفق اور ملک الشعرا بہار کی تحقیق کچھ اور۔ بہرحال بیش تر تذکرہ نگار اور محققین اس بات پر متفق ہیں اور خود کلیلہ و دمنہ کا مقدمہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس کی اصل سنسکرت ہے اور اس کا نام پنچ تنتر ہے اور اس کا مصنف و شنوشرما ہے۔ وجہ تصنیف کے متعلق ایک معتبر روایت یہ ملتی ہے کہ قدیم ہندوستان جہاں تہذیب و تمدن کا گہوارا تھا اور علم کی دیوی جہاںنواس کرتی تھی وہیں راجاؤں کے بیٹے علم سے گریزاں  رہتے تھے اور لاکھ کوشش و کاوش کے بعد بھی ان کا دل مائل بہ علم نہیں ہوتا تھا۔ وشنو شرما نے انھیں شہزادوں کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے سرلی اور پنچ تنتر تحریر کی۔

Sunday, September 13, 2026

📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


 📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


ماہنامہ قادرالکلام (Qadar ul Kalam)

ISSN: 3139-1028

Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal


قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔ اس شمارے میں اردو ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، فکشن، کلاسیکی ادبی روایت اور عصرِ حاضر کے اہم علمی و ادبی موضوعات پر معیاری اور تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔


اس شمارے میں ’’کلاسیکی روایت اور جدید ادبی شعور‘‘ میں  پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا مقالہ  ’’شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)‘‘ شامل کیا گیا ہے۔


ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا مضمون ’’نسائی آواز اور اردو شاعری‘‘، فہیم خاتون مسرت کا ’’نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ‘‘ اور طاہرہ خاتون کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر‘‘ اس شمارے کی علمی و تحقیقی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔اسی طرح زینت پروین کا ’’اردو فکشن میں نسائی فکر کی ابتدا‘‘، غزالہ ہاشمی کا ’’جانے کتنے موڑ: موضوع و اسلوب‘‘ اور ڈاکٹر فریدہ تبسم کا ’’ڈپٹی نذیر احمد اور توبۃ النصوح‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔ جدید عہد کے اہم علمی موضوعات کی نمائندگی سعدیہ فاطمہ کے مضمون ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا بدلتا ہوا کردار‘‘ سے ہوتی ہے۔ وغیرہ شامل ہے۔ 


یہ شمارہ اردو ادب کے کلاسیکی ورثے سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک متنوع علمی و ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ محققین، اساتذہ، طلبہ، ریسرچ اسکالرز، ادباء اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ شمارہ خصوصی مطالعے کا حامل ہے۔


📖 ستمبر کے تازہ شمارے کے مکمل مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے قادرالکلام کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں۔

Wednesday, September 9, 2026

پہلی جنگ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری


"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری"
معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)

 ’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے  ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے

کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے

تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک

ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک

Tuesday, September 8, 2026

بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد


ڈاکٹر فریدہ تبسم
کا یہ تحقیقی مضمون "بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد" 1857ء کی جنگِ آزادی میں بیگم حضرت محل کے سیاسی، عسکری اور سماجی کردار کا تاریخی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں ریاستِ اودھ کی قیادت، ہندو مسلم اتحاد، برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اور ان کی سیاسی بصیرت کو تاریخی تناظر میں واضح کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرفریدہ تبسم

1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔

1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔

Monday, September 7, 2026

کلام ظفر میں استعماری ظلم کے خلاف احتجاج


یہ مضمون ڈاکٹر محمد کاشف، اسسٹنٹ پروفیسر، الہٰ آباد یونیورسٹی، کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری کے ذریعے برطانوی استعمار کے ظلم، سیاسی غلامی، دہلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور آزادی کی آرزو کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون خاص طور پر ظفر کے شعری استعاروں اور علامتی احتجاج کو 1857ء کی جنگِ آزادی کے تاریخی پس منظر میں واضح کرتا ہے۔

 ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی) 

برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔

Sunday, September 6, 2026

برطانوی سامراج اوراردوکامزاحمتی ادب


پروفیسر سید محمود کاظمی کا یہ اہم تحقیقی مضمون "برطانوی سامراج اور اردو کا مزاحمتی ادب" اردو ادب میں مزاحمت، قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف ادبی اظہار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں غالب، بہادر شاہ ظفر، چکبست، اقبال، جوش، پریم چند اور دیگر شعراء و ادباء کے حوالے سے برطانوی سامراج کے خلاف اردو ادب کے مزاحمتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

 پروفیسرسید محمود کاظمی

ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ  کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ  ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو  ؎ 

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی

دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 

Saturday, September 5, 2026

تحریک آزادی اور برج نرائن چکبستؔ


پروفیسر زماں  آزردہ  (کشمیر)

یہ مضمون معروف قومی شاعر برج نرائن چکبستؔ کی شاعری اور تحریکِ آزادیِ ہند میں ان کے کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں چکبستؔ کی نظموں کے ذریعے حبِ وطن، قومی بیداری، خود اعتمادی، ہندو مسلم اتحاد اور آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے


 ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔

جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:

’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘ 

Friday, September 4, 2026

تحریک آزادی اور الہلال


 
 پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی

 یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

 مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ  صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے  ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو  ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘

Wednesday, September 2, 2026

اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار: ایک تجزیاتی مطالعہ



  رعنا تبسم(اسوسی ایٹ پروفیسر، آکولہ)
اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کی تعمیر و تشکیل میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ادب محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ یہ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں خواتین نے ہر دور میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ بیسویں صدی سے لے کر اکیسویں صدی تک، اردو خواتین ادیبات نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی اصلاح، سیاسی شعور اور قومی یکجہتی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ مقالہ اس بات کا احاطہ کرتا ہے کہ کس طرح خواتین نے گھر کی چار دیواری سے نکل کر ایوانِ ادب اور قومی تعمیر کے میدانوں تک اپنی پہنچ بنائی۔اردو ادب کی روایت میں خواتین نے صرف جذبات اور احساسات کی ترجمانی ہی نہیں کی بلکہ قومی زندگی کے ہر اہم موڑ پر اپنی فکری بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت بھی دیا۔ ان کی تحریریں معاشرتی شعور، اخلاقی اقدار، قومی یکجہتی اور تہذیبی شناخت کی امین رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کی تاریخ خواتین کی خدمات کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی ہے۔
تحریکِ آزادی اور خواتین کا قلمی جہاد
برصغیر میں جب آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، تو خواتین صرف تماشائی نہیں تھیں۔ سر سید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ نے خواتین کی تعلیم کے دروازے کھولے، جس کے نتیجے میں ایسی قلم کار پیدا ہوئیں جنہوں نے قوم کو بیدار کیا۔اس دور میں خواتین کے قلم نے گویا قوم کو یہ پیغام دیا کہ "قلم بھی ایک ہتھیار ہے۔" اگر مرد میدانِ جنگ میں تھے تو خواتین نے اپنے مضامین، نظموں اور تقریروں کے ذریعے قوم کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن رکھی۔ ان کی تحریروں میں حوصلہ، قربانی اور وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )

"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، اد...