"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
ماہنامہ قادرالکلام (Qadar ul Kalam)
ISSN: 3139-1028
Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal
قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔ اس شمارے میں اردو ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، فکشن، کلاسیکی ادبی روایت اور عصرِ حاضر کے اہم علمی و ادبی موضوعات پر معیاری اور تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
اس شمارے میں ’’کلاسیکی روایت اور جدید ادبی شعور‘‘ میں پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا مقالہ ’’شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)‘‘ شامل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا مضمون ’’نسائی آواز اور اردو شاعری‘‘، فہیم خاتون مسرت کا ’’نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ‘‘ اور طاہرہ خاتون کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر‘‘ اس شمارے کی علمی و تحقیقی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔اسی طرح زینت پروین کا ’’اردو فکشن میں نسائی فکر کی ابتدا‘‘، غزالہ ہاشمی کا ’’جانے کتنے موڑ: موضوع و اسلوب‘‘ اور ڈاکٹر فریدہ تبسم کا ’’ڈپٹی نذیر احمد اور توبۃ النصوح‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔ جدید عہد کے اہم علمی موضوعات کی نمائندگی سعدیہ فاطمہ کے مضمون ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا بدلتا ہوا کردار‘‘ سے ہوتی ہے۔ وغیرہ شامل ہے۔
یہ شمارہ اردو ادب کے کلاسیکی ورثے سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک متنوع علمی و ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ محققین، اساتذہ، طلبہ، ریسرچ اسکالرز، ادباء اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ شمارہ خصوصی مطالعے کا حامل ہے۔
📖 ستمبر کے تازہ شمارے کے مکمل مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے قادرالکلام کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں۔
نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)
اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے
دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے
قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے
کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے
تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک
ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک
ڈاکٹرفریدہ تبسم
1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔
1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔
ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی)
برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔
بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔
ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو ؎
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی
دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔
جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:
’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘
یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘
"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، اد...