Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label قادرالکلام. Show all posts
Showing posts with label قادرالکلام. Show all posts

Monday, October 19, 2026

ٖٖفراق گورکھپوری: ایک تعارف


زیرِ نظر مضمون میں ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری نے اردو کے ممتاز شاعر فراق گورکھپوری کی حیات، شخصیت اور ادبی خدمات کا تعارف پیش کیا ہے۔ مضمون میں فراق کی غزل گوئی، تحریکِ آزادی میں شرکت، ادبی اساتذہ، شعری مجموعوں، تنقیدی نظریات اور ادبی اعزازات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحریر فراق گورکھپوری کی شاعری اور اردو ادب میں ان کے مقام کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری ( اردو لکچرر)

؎شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

(فراقؔ)

اردو شاعری کی آبرو اگر غزل ہے تو غزل کے شعرا پر ہمیں ناز ہونا چاہیے۔خصوصاً جنھوں نے اردو غزل کو نیا انداز، نیا لب و لہجہ اور نئی قدروں سے رو شناس کرایاان میں ایک فراق گورکھپوری ہیںجن کی مقبولیت ان کی کتابوں کی اشاعت سے قبل ہو چکی تھی۔

فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ 28 اگست 1896 ء کو گورکھپور کے بانس گاوں میں پیدا ہوئے۔والد کا نام گورکھ پرشاد اور والدہ کا نام دلاری دیوی تھا۔والد گورکھ پرشاد پیشے سے ایک وکیل تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ فراق کے والدگورکھ پرشاد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔

Saturday, October 17, 2026

لوک گیتوں میںاردو:مارواڑ کے خصوصی حوالے سے


’’لوک گیتوں میں اردو: مارواڑ کے خصوصی حوالے سے‘‘
ڈاکٹر فخرالنساء بانو (صدر شعبۂ اردو، گورنمنٹ ڈونگر کالج، بیکانیر، راجستھان) کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں مارواڑ کے لوک گیتوں کی روایت، ان کی ادبی و ثقافتی اہمیت، عوامی جذبات، رسم و رواج، تہواروں اور راجستھانی معاشرت سے ان کے تعلق کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون لوک گیتوں کو تہذیبی ورثے اور اجتماعی زندگی کی ترجمانی کرنے والے اہم وسیلے کے طور پر دیکھتا ہے۔


 ڈاکٹر فخرالنساء بانو (صدر شعبہ اردو)

مارواڑی لوک گیتوں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اردو میں انہیں عوامی گیت کہا جاتا ہے۔ کونسا گیت کب وجود میں آیا، کونسا گیت کس نے لکھا اس کے شاعر کا نام کیا ہے۔ یہ علم کس کونہیں اور شاید کسی نے اس کی تلاش بھی نہیں کی ہیں حال ہندوستان کے تمام لوک گیتوں کا ہے۔ یہ گیت حالات اور ماحول کی کوکھ سے اپنے آپ ہی پیدا ہوئے اور عوامی دل وذہن کو متاثر کرنے کے بعد خود ہی پرورش پانے لگے۔ اور سینہ بہ سینہ ان کا سفر جاری رہا۔ ہمارے یہ لوک گیت صدیوں پرانی ہندوستانی تہذیب کے سچے محافظ ہیں۔حبیب خان گوران لوک گیتوں سے متعلق رقم طراز ہیں۔

’’مارواڑ ی لوک گیتوں کی تصوراتی دنیا بہت وسیع ہے۔ زندگی کا کونسا ایسا پہلو اور کونسا ایسا گوشہ ہے جس کا ذکر مارواڑ لوک گیتوں میں نہیں ملتا۔ انسان کی اپنی ذاتی زندگی اور اس کی مذہبی سوچ مارواڑ لوک گیتوں کے توسط سے نمایاں ہوتی ہے ۔ فطرت کا انسانی زندگی سے ناقابلِ تقسیم تعلق رہا ہے۔ انسان کی گودمیں پلا، کھیلا، رویا اور پنپا ہے۔ فطرت کی تلخیاں اور شیرینی خوبصورتی اور بدصورتی دونوں کا اثر انسان کی زندگی پر پڑتا ہے اس لیے فطرت اور انسان ایک دوسرے میںمدغم ہوچکے ہیں۔‘‘  ۱؎

Friday, October 16, 2026

شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ



’’شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ‘‘
ڈاکٹر صفیہ فاطمی (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں شاکر خلیق کی ادبی شخصیت اور ان کے شعری و نثری کارناموں کے مطالعے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ موضوع اردو ادب میں تخلیقی اظہار اور ادبی سرمایے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔

 ڈاکٹر صفیہ فاطمی(اسسٹنٹ پروفیسر )

 شاکر احمد یحییٰ کا سالِ پیدائش 1945 ہے ۔آبائی وطن دربھنگا ہے۔ امی جان کا نام صفیہ خاتون اور ابا محترم کا نام عبدالخالق خلیق ہے۔ اسی مناسبت سے شاکر احمد نے شاکر خلیق کے قلمی نام کو اختیار کیا۔ تعلیمی سند کے اعتبار سے وہ ڈبل ایم اے، بی ایل اور پی ایچ ڈی ہیں۔ کچھ دنوں تک پٹنہ ہائی کورٹ میں وکالت کی۔ سال 1971 ء میں سی ایم کالج دربھنگا میں تقرری ہوئی۔ متھلا یونیورسٹی دربھنگا کے صدر شعبہ اردو بنے۔ مورخہ 31/05/2005کو ریٹائرمنٹ ہوا۔ ان کی درج ذیل کتابیں میری نگاہ سے گزری ہیں۔

Thursday, October 15, 2026

ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب


’’ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب‘‘
ڈاکٹر محمد عابد کریم (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں ہندوستانی معاشرت میں مسلم تہذیب کی اہمیت اور اس کے سماجی و ثقافتی پہلوؤں کے مطالعے کی گنجائش پیش کی گئی ہے۔ یہ موضوع ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت اور مختلف ثقافتوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں معاون ہے۔

ڈاکٹر محمد عابد کریم (اسسٹنٹ پروفیسر )  
  ابتدائی چند صدیوں میں جو مسلمان باہر سے ہندستان آئے ۔ وہ چار طرح کے لوگ تھے۔ عرب تاجر، عرب فاتح، مبلغین اسلام اور ترک فاتح۔ مسلمان ہونے کے باوجود یہ چاروں گروہ الگ الگ خصوصیات اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ چناں چہ اپنی مخصوص صلاحیتوں کے اعتبار سے انھوں نے اس ملک کی مذہبی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی زندگی پر اثر ڈالا۔ اسلام میں مذہب کا دائرہ عقائدو عبادات میں محدود نہیں، وہ باہمی تعلقات، حقوق و فرائض اور معاشرت و تمدن پر حاوی ہے اور اس لیے  بھی کہ مذہب کو اگر تمدن و معاشرت سے، اور تمدن و معاشرت کو مذہب سے الگ کردیا جائے تو مذہب بے اثر، محدود اور کم زور اور تمدن و معاشرت شتر بے مہار اور خواہشات و مفادات کا آلہء کار بن جاتے ہیں۔

Monday, September 28, 2026

مہتاب قدر کے انتقال پر قادرالکلام کی جانب سے اظہارِ تعزیت


انتہائی افسوس اور گہرے رنج و غم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ جناب مہتاب قدر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال کی خبر قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد کے لیے نہایت صدمہ انگیز اور دل گرفتہ کرنے والی ہے۔ ہم اس موقع پر مرحوم کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

جناب مہتاب قدر، سعودی عرب جنوری 2026ء سے قادرالکلام ماہنامہ کے Foreign Editorial Board Member کی حیثیت سے ادارے کے ساتھ وابستہ رہے۔ اس دوران ان کی علمی و ادبی دلچسپی، خلوص اور ادارے کے لیے نیک خواہشات ہمارے لیے ہمیشہ باعثِ حوصلہ رہیں۔ انہوں نے اپنے منصب کو محض رسمی وابستگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ادارے کے مختلف امور میں اپنی قیمتی آرا اور مشوروں سے نوازتے رہے۔

اگرچہ ان کی باضابطہ ادارتی وابستگی کا عرصہ زیادہ طویل نہیں تھا، لیکن اس مختصر مدت میں بھی ان کے ساتھ قائم ہونے والا علمی و ادبی رشتہ ہمارے لیے اہم اور قابلِ قدر رہا۔ بعد ازاں بھی وہ قادرالکلام کے لیے اپنے مشوروں، رہنمائی اور خیرخواہانہ آرا کے ذریعے ہمارے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے تھے۔ ان کی گفتگو میں ادارے کی ترقی اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے حوالے سے جو خلوص اور دلچسپی تھی، اسے ہم ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھیں گے۔

ان کا انتقال ہمارے لیے صرف ایک رکنِ ادارتی بورڈ کی جدائی نہیں بلکہ ایک مخلص علمی و ادبی رفیق اور خیرخواہ مشیر کی جدائی ہے۔ ان کی وفات سے قادرالکلام کے علمی و ادبی حلقے میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے محسوس کیا جائے گا۔ ان کی یادیں، ان کی گفتگو اور ان کے قیمتی مشورے ہمارے لیے ہمیشہ ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے رہیں گے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بعض شخصیات کا تعلق وقت کی مدت سے نہیں بلکہ ان کے خلوص، محبت اور تعاون سے پہچانا جاتا ہے۔ مہتاب قدر بھی ان ہی مخلص وابستگان میں شامل تھے جنہوں نے قادرالکلام کے سفر میں اپنی بساط کے مطابق حوصلہ افزائی اور رہنمائی فرمائی۔ ان کی خدمات اور وابستگی کو ادارہ ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھے گا۔

معروف شاعر و صحافی مہتاب قدر کا انتقال جمعہ، 25 ستمبر 2026 کی صبح حیدرآباد (تلنگانہ) میں ہوا۔ وہ طویل عرصے سے جدہ میں مقیم تھے اور مختصر مدت کے لیے اپنے وطن حیدرآباد آئے ہوئے تھے۔وہ حلقۂ اربابِ ذوق، جدہ کے بانی اور پندرہ روزہ ادبی جریدے ’’اردو گلبن‘‘ جدہ کے بانی مدیر بھی تھے۔

اس المناک موقع پر قادرالکلام ماہنامہ کی پوری ٹیم مرحوم کے اہلِ خانہ اور تمام سوگواران کے ساتھ برابر کی شریکِ غم ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔

اللہ رب العزت پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کی علمی و ادبی وابستگیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔

Saturday, September 26, 2026

نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ

 

اردو افسانے کے اہم فن کار نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی مطالعہ، فہیم خاتون مسرت کے قلم سے۔

  فہیم خاتوں مسرت ۔ناندیڑ ،مہاراشٹرا

  جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعہ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت چغتائی اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلیٰ پائے کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانے کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان کے مسائل کو موضوع بنایا وہیں ظالموں اور سرمایہ داروں کے ظلم وبربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ترقی پسند تحریک کا دوراردو افسانہ نگاری کا عہدزریں کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہندوستان مختلف مسائل سے دوچار تھا۔ عدم مساوات اور معاشی بحران کا مسئلہ ابھی حل بھی نہیں ہوا تھا کہ ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آیا۔ تقسیم ہند کے سانحے اور اس کے ردعمل کے طور پر رونما ہونے والے فسادات نے لوگوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کردیا۔

اس دوران انسانیت کو شرمسارکردینے والے حادثات اور ہجرت کے کرب نے لوگوں کو بے حس بنادیا جس نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو صلب کردیا۔ جہاں ان مسائل کی وجہ سے اردو افسانے کے موضوعات کو وسعت حاصل ہوئی، وہیں موضوعات کی یکسانیت نے اکتاہٹ پیدا کردی، اور مقلدین کی بھرمار نے ادب کو نعرہ بنادیا جس کی وجہ سے اس تحریک کا زور  روز بہ روز  ختم ہوتا چلاگیا۔  ۱۹۶۰ء کے بعداردو افسانے میں تجربات اور ردــوقبول کے دور کا آغاز ہوا۔ ان تجربات نے جہاں اردو افسانے کو مروجہ اسلوب سے باہر نکالا وہیں اردو افسانے کو نئے معنی و مفاہیم بھی عطا کیے۔ جدیدیت کی یہ تحریک ادب کے ساتھ ساتھ اسلوب اور موضوعات میں بھی شعوری طور پر تبدیلی کی خواہش مند تھی۔ چنان چہ اظہار خیال کے لیے  نئے  اسلوب کی تشکیل کا عمل شروع ہوا، اور یہیں سے اسلوب کی سطح پر تجربات کے دور کا آغاز ہوا۔ موضوعات میں انفرادیت اور نئے پن کی جستجو نے انھیں اجتماعی موضوعات سے دورکردیا۔ کبھی افسانے میں کردار کو، کبھی کہانی کو رد کیا گیا۔ افسانہ نگار اپنی بات اشاروں، کنایوں، تشبیہات و استعارات میں بیان کرنے لگا۔ حقیقت نگاری کا اسلوب علامتی اور تمثیلی پیرایہ بیان اختیار کرتا چلاگیا۔ اسی دور میں قاری تلازمہ خیال، خود کلامی، شعور کی روکی تکنیک اور آپ بیتی جیسے اسلوب سے متعارف ہوا۔۱۹۷۰ء کے بعد اردو افسانہ نگاری کا اہم مرکز مہاراشٹر رہا۔

Tuesday, September 22, 2026

آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری


 پیشِ خدمت ہے عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور) کا تحقیقی مضمون ’’آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری‘‘، جس میں اردو ناول کے ذریعے تحریکِ آزادی، قومی شعور اور عہد کے سماجی و تہذیبی حالات کی عکاسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور)

  لفظ ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ناویلا سے مشتق ہے۔ ناول کے معنی نئی چیز کے ہیں۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ صنف ِ ناول ایک طویل نثری قصہ ہے جس میں انسانی زندگی کو کرداروں، واقعات اور معاشرتی حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ 

ای،ایم فوریسٹر (E.M. Forester)کے مطابق ناول ایک ایسا نثری بیانیہ ہے جس میں کردار ، واقعات اور انسانی زندگی کا تسلسل فن کارانہ اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناول نثری صنف ادب ہے۔ 

ادب اور سماج کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اسی لیے ادب کسی بھی قوم کی تہذیبی، سماجی اور سیاسی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو اردو ادب کی تمام اصناف اس سے متاثر ہوئیں۔ اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو ناول نے بھی قومی شعور، سیاسی بیداری، سماجی اصلاح اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدائی اردو ناولوں کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناول نگاروں نے قومی غلامی، سامراجی استحصال، فرقہ واریت، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل اور آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ اس طرح اردو ناول محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ قومی بیداری اور فکری مزاحمت کا مؤثر وسیلہ بھی بن گیا۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر اٹھی تھی ۔اس میں اگرچہ بنیادی طور پر یہاں کے سیاسی و اقتصادی حالات اور برطانوی سرمایہ داری کی سخت گیریوں کو خاصہ دخل تھا لیکن قومیت کے جدید تصور کے ساتھ ہی بین الاقوامی مسائل کا شعور بھی آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ ہندوستان کے فکشن نگاروں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اب سیاسی و سماجی مسائل کی سطح ملکی اور علاقائی حدود سے نکل کر ایک وسیع تر سرحد میں داخل ہو رہی ہیں۔

Sunday, September 6, 2026

برطانوی سامراج اوراردوکامزاحمتی ادب


پروفیسر سید محمود کاظمی کا یہ اہم تحقیقی مضمون "برطانوی سامراج اور اردو کا مزاحمتی ادب" اردو ادب میں مزاحمت، قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف ادبی اظہار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں غالب، بہادر شاہ ظفر، چکبست، اقبال، جوش، پریم چند اور دیگر شعراء و ادباء کے حوالے سے برطانوی سامراج کے خلاف اردو ادب کے مزاحمتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

 پروفیسرسید محمود کاظمی

ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ  کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ  ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو  ؎ 

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی

دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 

Friday, September 4, 2026

تحریک آزادی اور الہلال


 
 پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی

 یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

 مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ  صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے  ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو  ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...