Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Monday, October 19, 2026

ٖٖفراق گورکھپوری: ایک تعارف


زیرِ نظر مضمون میں ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری نے اردو کے ممتاز شاعر فراق گورکھپوری کی حیات، شخصیت اور ادبی خدمات کا تعارف پیش کیا ہے۔ مضمون میں فراق کی غزل گوئی، تحریکِ آزادی میں شرکت، ادبی اساتذہ، شعری مجموعوں، تنقیدی نظریات اور ادبی اعزازات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحریر فراق گورکھپوری کی شاعری اور اردو ادب میں ان کے مقام کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری ( اردو لکچرر)

؎شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

(فراقؔ)

اردو شاعری کی آبرو اگر غزل ہے تو غزل کے شعرا پر ہمیں ناز ہونا چاہیے۔خصوصاً جنھوں نے اردو غزل کو نیا انداز، نیا لب و لہجہ اور نئی قدروں سے رو شناس کرایاان میں ایک فراق گورکھپوری ہیںجن کی مقبولیت ان کی کتابوں کی اشاعت سے قبل ہو چکی تھی۔

فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ 28 اگست 1896 ء کو گورکھپور کے بانس گاوں میں پیدا ہوئے۔والد کا نام گورکھ پرشاد اور والدہ کا نام دلاری دیوی تھا۔والد گورکھ پرشاد پیشے سے ایک وکیل تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ فراق کے والدگورکھ پرشاد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔

فراق نے اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ بیس سال کی عمر میں پہلی غزل کہی۔ بی۔ اے کی تعلیم مکمل کرنے بعد انھوں نے ڈپٹی کلکٹر کا عہدہ سنبھالا لیکن بہت جلد ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔ تحریکِ آزادی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سنہ 1920ء  میں گاندھی جی کی ’’عدم تعاون‘‘ کی تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں ڈیڑھ سال جیل کی سزا کاٹنی پڑی۔جیل میں ان کی ملاقات بڑ ے بڑے سیاسی رہنماوں سے ہوئی۔

فراق گورکھپوری کو تحریکِ عدم تعاون کے دوران پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ گرفتار کر کے آگرہ جیل بھیجا گیا تھا۔ چوں کہ اس وقت آگرہ جیل میں ملک بھر سے کئی نامور ادیب، دانشور اور شعراء قید تھے اس لیے جیل کے اندر باقاعدہ ہفتہ وار مشاعروں کا آغاز کیا گیا۔ ان مشاعروں میں کہی گئی غزلوں نے فراق کے شعری سفر میں ایک انقلابی موڑ پیدا کیا۔ فراق کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعرگزر ے ہیں۔

آگرہ جیل میں شعر وادب کے دل داہ قیدیوں نے طرحی مشاعرہ کی بنیاد ڈالی۔ پہلے مشاعرے میں فراق نے دو یا تین غزلیں سنائی تھیں۔ جیل میں قیام کے دوران فراق گورکھپوری نے باقاعدہ ادبی ریکارڈز اور ان کے مجموعہ کلام ’’غزلستان‘‘ کے حوالوں کے مطابق بنیادی طور پر دو غزلیں کہی تھیں جن میں سے ایک جیل کے طرحی مشاعرے میں پڑھی گئی تھی اور دوسری فتح گڑھ جیل سے آگرہ جیل منتقل ہوتے ہوئے کہی گئی تھی۔کُل ملا کر آگرہ جیل کی اسیری کے دوران کل 12 غزلیں کہی تھیں۔ اس تاریخی اور ادبی حقیقت کی تفصیلات اور شواہدان کی کتاب غزلستان میں موجود ہیں۔جیل کے مشاعرے میں پڑھی گئی ان کی مشہور غزل کا ایک یادگار شعر درج ذیل ہے:

اہلِ زنداں کی یہ محفل ہے ثبوت اس کا فراقؔ

کہ بکھر کر کے بھی شیرازہ پریشاں نہ ہوا

(بحوالہ غزلستان،کلیاتِ فراق،جلد اول،ص۔ 20)

فراق انگریزی ادب پر بھی گہری گرفت رکھتے تھے۔ جیل سے رہائی کے بعد انھوں نے الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسرکی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور مغربی ادب کی بہترین تخلیقات کو اردو کے مزاج میں ڈھالنے کے لیے کامیاب تراجم کیے۔ان میں ایک ’’ترانہ خزاں‘‘ فراق گورکھپوری کی ایک مشہور نظم کا نام ہے جو اردو شاعری میں خزاں، حیات اور زوال کے فلسفے کو اجاگر کرتی ہے۔فراق نے یہ نظم انگریزی کے مشہور شاعر پی بی شیلی (Percy Bysshe Shelley) کی شہرہ آفاق نظم Ode to the West Wind کا اردو زبان میں ترجمہ کیا اوراسے ’’ترانۂ خزاں‘‘ کا نام دیا۔

فراق گورکھپوری اردو ادب کے ایک مایہ ناز شاعر، نقاد اور منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شاعری اور شخصیت دونوں ہی غیر معمولی اور دلچسپ تضادات سے بھرپور تھیں۔وہ اردو کے پہلے ادیب تھے جنہیں 1969 میں ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی انعام ’’گیان پیٹھ ایوارڈ‘‘ان کے مجموعہ کلام ’’گلِ نغمہ‘‘ پر ملا۔ اردو ادب کی کئی مایہ ناز شخصیات کو ان کی گراں قدر خدمات پر اس ایوارڈ سے نوازا گیا جن میںفراق گورکھپوری کو شاعری کے لیے،کرشن چندر افسانہ اور ناول نگاری کے لیے،رضیہ سجاد ظہیر اردو فکشن اور ترجمہ نگاری کے لیے اوررنبیر سنگھاردو صحافت کے لیے دیا گیا۔

فراق گورکھپوری کو1965 میں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈسے نوازا گیا۔ سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ (Soviet Land Nehru Award) ایک نامور ادبی اور ثقافتی اعزاز تھا جو 1965ء میں بھارت اور سوویت یونین (روس) کے مابین تعلقات کو مضبوط اور دوستانہ بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ ان ہندوستانی ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور مترجمین کو دیا جاتا تھا جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے امن، سوشلزم اور دونوں ممالک کے ثقافتی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہو۔اس ایوارڈ کا نام ’’سوویت لینڈ‘‘ نامی رسالے پر رکھا گیا تھا جو سوویت حکومت کی نیوز ایجنسی (TASS) کی طرف سے بھارت میں شائع کیا جاتا تھا۔

 اس کے علاوہ انہیں غالب ایوارڈ، پدم بھوشن اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔فراق کے شعری مجموعوں میں روحِ کائنات، گلبانگ،رمز و کنایات، غزلستان، شبنمستان، چراغاں،اندازے اور روپ (رباعیوں کا مجموعہ)شامل ہیں۔ 

’’گلبانگ ‘‘کے لغوی معنی’’'بلبل کی چہکار‘‘ یا’’اونچی آواز‘‘ کے ہیں۔’’گلبانگ‘‘ فراق گورکھپوری کا شعری مجموعہ ہے جو 1967 میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب چند رباعیات اور دوہے کے علاوہ غزلوں اور منتخب کلام پر مشتمل کتاب ہے۔ 

فراق گورکھپوری کی ایک اور کتاب’’اندازے‘‘ تنقید سے متعلق ہے جو 1956 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انہوں نے اردو کے آٹھ قدیم اور کلاسیکی شعرا ء مصحفیؔ، غالبؔ، ذوقؔ، حالیؔ، داغؔ، حسرتؔ، ریاضؔ اور فانیؔ کے کلام کا گہرا تنقیدی اور جمالیاتی جائزہ لیا ہے۔

’’فراق کے لطیفے‘‘ کتاب کو 1982ء ،جو کہ فراق گورکھپوری کی وفات کا سال بھی ہے،میں مشتاق نقوی نے مرتب کیاجس میں فراق گورکھپوری کی بذلہ سنجی، شگفتہ مزاجی اور حاضر جوابی کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔کتاب کی ضخامت تقریباً 126 صفحات پر مشتمل ہے۔فراق گورکھپوری جہاں اپنی گہری اور جمالیاتی غزل گوئی کے لیے معروف تھے، وہیں وہ ادبی حلقوں میں اپنی حاضر جوابی، کاٹ دار جملوں، اور بے باک گفتگو کے لیے بھی بے حد مشہور تھے۔ ان کی محفلوں میں طنز و مزاح اور چٹکلوں کا ایک خاص رنگ ہوتا تھا جو اکثر علم و ادب کے گرد گھومتا تھا۔اس کتاب میں فراق صاحب کی زندگی کے وہ دلچسپ واقعات، نوک جھونک اور لطیفے جمع کیے گئے ہیں جو انہوں نے اپنے دوستوں، ہم عصر شعراء اور مداحوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کہے تھے۔ ان لطیفوں اور چٹکلوں کے پس منظر میں اس دور کے مشاعروں کی تہذیب، لکھنؤ اور الہٰ آباد کا ادبی ماحول اور اردو زبان کی باریکیوں کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔

 ایک بار ایک مشاعرے میں فراق کے پڑھنے کے بعد کسی نوجوان شاعر کا نام پکارا گیا۔ اس نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا کہ فراق صاحب کے بعد میں کیسے اپنا کلام سنا سکتا ہوں، یہ آداب کی خلاف ورزی ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے فراق نے آواز لگائی کہ ’’میاں صاحب زادے! اگر میرے بعد پیدا ہو سکتے ہو تو شعر بھی پڑھ سکتے ہو‘‘۔(بحوالہ فراق گورکھپوری کے لطیفے، ریختہ ڈاٹ کام)

فراق گورکھپوری نے اپنی شاعری کی شروعات میں جن اساتذہ سے اپنے کلام پر اصلاح لی اور ان کی شاگردی اختیار کی ان میں دو نام سب سے نمایاں ہیں۔پہلے استاد شیخ مہدی حسن ناصر اور وسیم خیر آبادی تھے۔شیخ مہدی حسن ناصری سے فراق نے 1915 ء سے 1918ء کے اپنے تعلیمی دور کے دوران ان سے اپنے کلام پر اصلاح لینا شروع کی تھی اوروسیم خیرآبادی جو امیر مینائی کے شاگرد تھے،سے تقریباً چھ سال تک اپنے کلام پر ان سے اصلاح لیتے رہے۔ 1929ء میں وسیم خیرآبادی کے انتقال کے بعد فراق نے کسی اور کو اپنا استاد نہیں بنایا۔فراق کا پہلا شعری مجموعہ تحفہ خوشتر ہے جو1922 میں شائع ہوا۔ 

معروف نقاد ڈاکٹر محمد حسن نے فراق گورکھپوری کو’’اردو شاعری کا آسکر وائلڈ‘‘کہا ہے۔انھوں نے اپنے ایک مشہور مضمون ’’فراق کا طرز احساس‘‘ میں کہا ہے۔یہ مضمون ان کی کتاب شعری عناصرمیں شامل ہے جو تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن کے مطابق فراق گورکھپوری کا حسن پرستی اور عشق کا تصور انہیں مغرب کے مشہور ادیب آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) کے قریب لاتا ہے۔

بقول’’گوپی چند نارنگ فراق حسن و جمال کی بولتی ہوئی روح کے شاعر ہیں‘‘۔گوپی چند نارنگ کا یہ مشہور قول ان کی مرتبہ کتاب ’’فراق گورکھپوری: شاعر، نقاد، دانشور‘‘ میں موجود ہے۔اس کتاب میں فراق گورکھپوری کی شخصیت، فکر اور فن کے مختلف پہلوؤں پر مضامین اور مقالات یکجا کیے گئے ہیں۔اسی کتاب میں گوپی چند نارنگ کا تفصیلی مضمون’’فراق گورکھپوری: کہاں کا درد بھرا تھا تیرے فسانے میں‘‘ شامل ہے۔’’کہاں کا درد بھرا تھا تیرے فسانے میں‘‘ فراق گورکھپوری کا ایک انتہائی معروف اور خوبصورت شعر ہے:

؎کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں

جنوں کا نام اُچھلتا رہا زمانے میں

فراقؔ دوڑ گئی روح سی زمانے میں

کہاں کا درد بھرا تھا تیرے فسانے میں

فراق اپنی شاعری کی خصوصیت کے بارے میں خود لکھتے ہیں:

ہر قسم کی ایک تاریخ ہوتی ہے اور اس کا ایک مزاج ہوتاہے۔ اس کی اجتماعی زندگی کی کچھ بلند قدریں ہوتی ہیں۔ پھر تمام انسانیت کی زندگی کی بھی تاریخ ہوتی ہے  اوراس زندگی کی کچھ ارتقائی قدریں ہوتی ہیں۔ قومی زندگی اور عالمگیر زندگی کی ان قدروں اور ہندوستان کے کلچر کے اس مزاج کو اپنی شاعری میں سمونا ملکی اور عالمی زندگی کے پاکیزہ محرکات کو گویائی عطا کرنا ہی میرا مقصد شاعری رہا ہے۔‘‘

(بحوالہ مضمون کچھ فراق کے بارے میں مشمولہ من آنم، نظیر صدیقی، شاہکار، الہ ٰآباد، فراق نمبر، ص۔ 154)

 3 مارچ 1982 کو حرکت قلب بند ہو جانے سے فراق اردو ادب کو داغ فراق دے گئے۔ فراق اس تہذیب کا مکمل نمونہ تھے جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے۔ ضبط قریشی نے کیا خوب کہا ہے:

کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو

تم ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے

٭٭٭

Dr. Sheikh Niyazuddin Sabri

 Lecturer

 House No. 7-5-142

Lakshmi Nagar Colony

 Mahabubnagar  509001.T.G

 Phone: 9618996036

فراق گورکھپوری کی شاعری اردو غزل کی ان روشن روایتوں میں شامل ہے جن میں حسن و عشق، انسانی احساسات اور ہندوستانی تہذیب کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری کا یہ مضمون فراق کی زندگی اور ادبی خدمات کے مختلف پہلوؤں سے قارئین کو روشناس کراتا ہے۔

📚 ایسے ہی علمی، ادبی اور تحقیقی مضامین پڑھنے کے لیے قادرالکلام ماہنامہ کی ویب سائٹ وزٹ کیجیے۔

🌐 https://www.qadirulkalam.com/

قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)
ISSN: 3139-1028

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...