ڈاکٹرفریدہ تبسم (اسسٹنٹ پروفیسر)
سیماب اکبرآبادی کی زبان سادہ، دل نشین اور عام فہم ہے، جبکہ ان کے خیالات میں گہرائی اور وسعت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار آج بھی عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف جذبات کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ قاری کو غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
سیماب اکبرآبادی کا تعارف اور حالاتِ زندگی
سیماب اکبرآبادی کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ آپ 5 جون 1880ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے، جو قدیم زمانے میں اکبرآباد کہلاتا تھا، اسی نسبت سے آپ نے "سیماب اکبرآبادی" تخلص اختیار کیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور کم عمری ہی سے شعر و ادب سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔
آپ نے اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں مہارت حاصل کی اور بعد ازاں مشہور استادِ سخن داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔ داغ دہلوی کی تربیت نے آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور آپ جلد ہی اردو کے معروف شعراء میں شمار ہونے لگے۔
سیماب اکبرآبادی نہایت زرخیز طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور بے شمار شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ان کے ہزاروں شاگرد برصغیر کے مختلف علاقوں میں موجود تھے۔


























