Breaking News

New Issue Published • August 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • اگست 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Tuesday, June 30, 2026

سیماب اکبرآبادی: حیات، فن اور شاعری


ڈاکٹرفریدہ تبسم (اسسٹنٹ پروفیسر)

 اردو شاعری کی تاریخ میں بعض شعراء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، فنی مہارت اور تخلیقی وسعت کے ذریعے ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ سیماب اکبرآبادی ان ہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شمار بیسویں صدی کے ان اہم شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل، نظم، رباعی، نعت اور دیگر اصنافِ سخن میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت، انسانی جذبات، روحانیت، اخلاقیات اور فلسفۂ حیات کے مختلف پہلو نہایت خوبصورتی سے نمایاں ہوتے ہیں۔

سیماب اکبرآبادی کی زبان سادہ، دل نشین اور عام فہم ہے، جبکہ ان کے خیالات میں گہرائی اور وسعت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار آج بھی عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف جذبات کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ قاری کو غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

 سیماب اکبرآبادی کا تعارف اور حالاتِ زندگی

سیماب اکبرآبادی کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ آپ 5 جون 1880ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے، جو قدیم زمانے میں اکبرآباد کہلاتا تھا، اسی نسبت سے آپ نے "سیماب اکبرآبادی" تخلص اختیار کیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور کم عمری ہی سے شعر و ادب سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔

آپ نے اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں مہارت حاصل کی اور بعد ازاں مشہور استادِ سخن داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔ داغ دہلوی کی تربیت نے آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور آپ جلد ہی اردو کے معروف شعراء میں شمار ہونے لگے۔

سیماب اکبرآبادی نہایت زرخیز طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور بے شمار شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ان کے ہزاروں شاگرد برصغیر کے مختلف علاقوں میں موجود تھے۔

Friday, June 26, 2026

قومی ترقی میں اردو زبان کا کردار: NEP-2020 کے تناظر میں


 ڈاکٹر سید حیات باشاہ  (اسسٹنٹ پروفیسر،کیرالا)

قومی ترقی میں اردو زبان کا کردار: NEP-2020 کے تناظر میں ڈاکٹر سید حیات باشاہ (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ تعلیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ملاپورم سینٹر، کیرالا) کا ایک تحقیقی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 (NEP-2020) کی روشنی میں اردو زبان کے تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور معاشی کردار کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت، کثیر لسانی تعلیم، اردو زبان کے فروغ کے امکانات اور موجودہ چیلنجز کو مستند حوالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔)

اردو زبان برصغیر کی ایک اہم تہذیبی اور لسانی روایت کی حامل زبان ہے، جس نے بھارت میں قومی ترقی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ National Education Policy 2020 (NEP-2020) کے نفاذ نے مادری اور علاقائی زبانوں کی اہمیت کو ازسرنو اجاگر کیا ہے، جس کے تناظر میں اردو زبان کے کردار کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس مقالے کا مقصد اردو زبان کے تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور معاشی کردار کو NEP-2020 کی روشنی میں تنقیدی انداز میں پیش کرنا ہے۔

تحقیقی مطالعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم طلبہ کی فہم و ادراک کو بہتر بناتی ہے اور سیکھنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتی ہے (Mohanty, 2019)۔ اردو زبان بھارت کے کئی علاقوں میں اسی کردار کو ادا کرتی ہے، جہاں یہ طلبہ کو پیچیدہ تصورات سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ مزید برآں، NEP-2020 کثیر لسانی تعلیم پر زور دیتی ہے، جو اردو جیسی زبانوں کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔سماجی سطح پر اردو زبان مختلف ثقافتی اور مذہبی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ اردو ادب، شاعری اور فلمی صنعت نے بھارت میں مشترکہ تہذیب کو مضبوط کیا ہے۔ معاشی لحاظ سے اردو زبان میڈیا، اشاعتی صنعت اور تخلیقی معیشت میں مواقع فراہم کرتی ہے۔

Thursday, June 25, 2026

گلستاں حیات: قرآنی تعلیمات کا آئینہ


محمد فہیم محی الدین  

(کالم نگار، صحافی) 

 تبصرہ بر کتاب:   گلدستہ  ٔ  حیات  (تالیف منتخب آیاتِ قرآنیہ)

(Guldasta  e  Hayat (The  Vase  of  the  Life

مرتب:   سید عبد الواجِد ہاشمی

ناشر:        شادان پبلیشنگ ہاؤس، گولکنڈہ فورٹ، حیدرآباد

صفحات:      148 

قیمت:    100 روپے

بہ زبان:  اردو   و   انگریزی 

ISBN  :   978-81-981132-21

قرآنِ کریم وہ آسمانی کتاب ہے جس نے انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم، اخلاق، عدل اور ہدایت کی روشنی بخشی۔ ہر دور میں اہلِ علم نے قرآن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے۔ کسی نے تفسیر لکھی، کسی نے ترجمہ، کسی نے قصص القرآن کے ذریعے، تو کسی نے اخلاقی و اصلاحی پہلوؤں کو نمایاں کر کے قرآن کی تعلیمات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔

Wednesday, June 24, 2026

بنگال میں اُردو زبان و ادب کا فروغ: مسائل و امکانات


 ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ  (صدر شعبۂ اردو)

تمہید: تاریخی پس منظر
 ہندوستان میں جنمی، پلی بڑھی اور مقبولیت کی معراج کو چھونے والی اُردو زبان جب سرزمینِ بنگال میں قدم رکھتی ہے، تو اپنی شیرینی اور حلاوت کے سبب یہاں کے مقامی باشندوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بنگال میں متعدد شعرا و ادبا پیدا ہوتے ہیں اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان تخلیق کاروں نے بلا امتیازِ مذہب و ملت اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اُردو  زبان کا رشتہ بنگال سے صدیوں پرانا  رہاہے۔ مغلیہ دور سے لے کر برطانوی عہد حکومت تک، بنگال (خاص طور پر کولکاتا اورمرشد آباد) اُردو زبان و ادب کا ایک بڑا  اور اہم مرکز رہا ہے۔ مارکوٹس آف ویلزلی کے ہاتھوں  فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو نثر کی تاریخ میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے کولکاتا کو اُردو  زبان کی جنم بھومیوں کے برابر لا کھڑا کیا۔  میر امن دہلوی کی ’’باغ و بہار‘‘ ہو یا حیدر بخش حیدری کی تصانیف، ان کی خوشبو اسی بنگال کی فضاؤں سے اٹھی تھی۔ اس کے بعد کے ادوار میں بھی بنگال نے علامہ رضا علی وحشت اور پرویز شاہدی جیسے بلند پایہ شعراء اور ادباء پیدا کیے۔
ابتدائی دور میں اردو زبان کو رواج دینے اور اسے فروغ دینے میں بنگال کے جن علاقوں کو اولیت حاصل رہی، ان میں پنڈوہ (مالدہ)، مرشد آباد، کولکاتا اور اس کے مضافات انتہائی اہم ہیں۔ بنگال کے ان مراکز میں ایسے بے شمار اردو شعرا و ادبا پیدا ہوئے جن میں ہندو دھرم کے پیروکار بھی شامل تھے اور اسلام کے شیدائی بھی۔     

Tuesday, June 23, 2026

مصر میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس: ایک تحقیقی مطالعہ


  ڈاکٹر مر وہ لطفی ہیکل  (اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو)

مصر میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ کئی دہائیوں سے بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تصنیفی اور تحقیقی سرگرمیاں بھی تسلسل کے ساتھ انجام پا رہی ہیں۔ مصر کی متعدد یونیورسٹیوں میں اردو زبان میں تصنیف و تحقیق کے ذریعے علمی خدمات انجام دی ہیں۔ ان علمی کاوشوں کے نتیجے میں اردو زبان کی تدریس اور تحقیق کے میدان میں اہلِ علم نے برصغیر اور مصر کے درمیان تہذیبی، فکری اور علمی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں مصر میں اردو کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی تعداد خاصی قابلِ توجہ ہے۔
مصر کی جن یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی تدریس کا باقاعدہ انتظام موجود ہے، ان میں قاہرہ یونیورسٹی، جامعہ ازہر، عین شمس یونیورسٹی، اسکندریہ یونیورسٹی، طنطا یونیورسٹی، منصورہ یونیورسٹی اور قنا یونیورسٹی قابلِ ذکر ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اردو زبان و ادب کے مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے تحریر کیے جا رہے ہیں، جو اردو تحقیق کے فروغ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو سنہ 1930ء میں برصغیر کے کئی اردو داں افراد مصر تشریف لائے، جو اردو زبان پر عبور رکھتے تھے۔ انہی میں ابو سعید العربی کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے قاہرہ سے پہلی مرتبہ اردو زبان کا رسالہ ’’جہانِ اسلامی‘‘ شائع کیا۔ اسی زمانے میں اردو کا ایک ہفتہ وار اخبار بھی عمل میں آیا، جس سے مصر میں اردو صحافت کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
مصری یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی تدریس گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری ہے۔

Monday, June 22, 2026

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ:بحیثیت دانشور،مصنف اور ادیب


 سید سلطان پاشاہ

ریسرچ اسکالر،شعبہ ترجمہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی  

مولانا  سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کی ولادت  3رجب المرجب 1321 ھ بمطابق25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد (دکن ) میں ہوئی۔ والد ماجد نے آپ کا نام ابو الا علیٰ رکھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا تعلق سادات اہل بیت کے معروف شاخ سلسلہء مودودیہ سے تھا ان کے جد امجد خواجہ قطب الدین مودود چشتیؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ(اجمیری) کے پر دادا پیر تھے۔ بادشاہ شاہ عالم کے زمانے میں ان کا خاندان دہلی آکر آباد ہوا اور چھٹی پشت تک وہیں آباد رہا۔  مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے والد ’’سید احمد حسن ‘‘ (1920ء۔1855ء) دہلی میں پیداہوئے۔ علی گڑھ میں کچھ تعلیم حاصل کی پھر الہ آباد سے وکالت کاامتحان پاس کیا  اور      اورنگ آباد ،حیدرآباد دکن جا کر وکالت شروع کردی۔ سید احمد حسن ’’سر سید احمدخان ‘‘ کے بھانجے تھے۔ مولانا مودودیؒ کی والدہ ’’محترمہ رقیہ بیگم ‘‘ کاتعلق دہلی سے تھا۔ سید احمدحسن کے چار بیٹے ابوالقاسم،ابو محمد، ابوالخیر، ابوالاعلیٰ تھے۔ سید مودودیؒ کی تربیت  ان کے والدنے خاص توجہ سے کی۔ وہ انہیں مذہبی تعلیم خود دیتے تھے۔ اردو، فارسی اور عربی کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث کی تعلیم بھی اتالیق کے ذریعے گھر پر دی جاتی تھی۔ تعلیم کے ساتھ اخلا قی اصلاح کا بھی وہ خاص خیال رکھتے تھے۔ سید احمد حسن رات کو سونے سے قبل اپنے دونوں بچوں ( ابوالخیر مودودی ؒاور ابوالاعلیٰ مودودی) کو پیغمبروں کے قصے ، تاریخ ِ اسلام ، تاریخ ِہندوستان اور سبق آموزکہانیاں سناتے تھے ۔وہ رسمی تعلیم و تلقین  سے زیادہ حقیقی شعورو ادراک پر یقین رکھتے تھے ۔ انہوں نے بچوں کی اردو تعلیم کے لیے حالی کے " شکوہء ہند"کو منتخب کیا تھا۔سید احمد حسن زبان کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے۔ انہوں نےخود 20 سال دکن میں اپنے قیام کے  دوران   اپنی زبان کو دکنی اثرات سے محفوظ رکھا۔اگر کبھی بچوں کی زبان سے کوئی مقامی لفظ  یا محاورہ غلط سن لیتے تو بروقت اس کی اصلاح کردیتے تھے۔۔ آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ مولانا مودودی ؒ کہا کرتے تھے ۔’’  میرے والد مرحوم میری تربیت پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔ وہ میری زبان اوراخلاق کو معیاری،سُتھرائی اور پاکیزہ بنانے کی انتہائی کوشش کرتے تھے۔ وہ راتوں کو مجھے پیغمبروں کے قصے،، تاریخِ اسلام اور تاریخ ہند کے واقعات اور سبق آموز کہانیاں سنایاکرتے تھے۔ وہ میری عادات پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی ملازمہ کے ایک بچے کو مارا تو انھوں نے اس بچے کو بلاکر کہا کہ" تو بھی اسے مار"

Sunday, June 21, 2026

خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"


QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)

ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

قادرالکلام ماہنامہ اپنے خصوصی شمارہ "آزادیِ ہند اور اردو ادب" کے لیے تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی مضامین طلب کرتا ہے۔ اس خصوصی شمارے کا مقصد تحریکِ آزادیِ ہند میں اردو زبان و ادب کے کردار، مجاہدینِ آزادی کی ادبی خدمات، قومی شعور کی تشکیل، اردو صحافت کی جدوجہد، اور آزادی کے تصور کی ادبی و فکری جہات کو اجاگر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اساتذہ، محققین، ریسرچ اسکالرز، ادبا اور اہلِ قلم سے درخواست ہے کہ وہ درج ذیل موضوعات یا ان سے متعلق کسی مناسب عنوان پر اپنے مقالات ارسال فرمائیں۔

مجوزہ موضوعات

اردو شاعری اور تحریکِ آزادی

  1. آزادیِ ہند اور اردو نظم

  2. آزادیِ ہند اور اردو غزل

  3. تحریکِ آزادی میں انقلابی شاعری کا کردار

  4. قومی شعور کی بیداری میں اردو شاعری کا حصہ

  5. اردو شاعری میں حب الوطنی کا تصور

  6. آزادیِ ہند اور قومی ترانے

  7. اردو شاعری میں شہادت اور قربانی کا تصور

  8. اردو شاعری میں آزادی کی علامتیں اور استعارے

  9. آزادیِ ہند اور مزاحمتی شاعری

  10. آزادیِ ہند کے موضوع پر معاصر اردو شاعری

اردو نثر اور تحریکِ آزادی

  1. آزادیِ ہند اور اردو ناول

  2. آزادیِ ہند اور اردو افسانہ

  3. آزادیِ ہند اور اردو ڈراما

  4. آزادیِ ہند اور اردو خاکہ نگاری

  5. آزادیِ ہند اور اردو سفرنامہ

  6. اردو نثر میں قومی بیداری

  7. تحریکِ آزادی کے موضوع پر اردو افسانوی ادب

  8. آزادیِ ہند اور اردو تنقید

  9. آزادیِ ہند اور اردو انشائیہ

  10. اردو ادب میں قومی تشخص کا مسئلہ

اردو صحافت اور تحریکِ آزادی

  1. تحریکِ آزادی میں اردو اخبارات کا کردار

  2. اردو جرائد اور قومی شعور

  3. آزادیِ ہند اور صحافتی تحریکیں

  4. اردو صحافت اور برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد

  5. مولانا محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات

  6. مولانا ابوالکلام آزاد اور اردو صحافت

  7. روزنامہ "الہلال" اور تحریکِ آزادی

  8. اردو اخبارات میں قومی تحریک کی عکاسی

  9. آزادیِ ہند اور صحافتی مزاحمت

  10. اردو صحافت اور عوامی بیداری

مجاہدینِ آزادی اور اردو ادب

  1. اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری

  2. رام پرساد بسمل اور اردو ادب

  3. مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی خدمات

  4. حسرت موہانی کی انقلابی شاعری

  5. جوش ملیح آبادی اور جذبۂ آزادی

  6. بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں آزادی کا تصور

  7. مولانا محمد علی جوہر کی قومی خدمات

  8. خان عبدالغفار خان اور قومی بیداری

  9. ٹیپو سلطان اور اردو ادبی روایت

  10. مجاہدینِ آزادی کے ادبی افکار

شخصیات کے خصوصی مطالعات

  1. علامہ اقبال اور تصورِ آزادی

  2. اکبر الہ آبادی کے سیاسی و سماجی افکار

  3. فراق گورکھپوری اور حب الوطنی

  4. چکبست کی قومی شاعری

  5. سرسید احمد خان اور قومی شعور

  6. شبلی نعمانی اور فکری بیداری

  7. مولانا ظفر علی خان کی ادبی و صحافتی خدمات

  8. ساغر نظامی کی قومی شاعری

  9. جگن ناتھ آزاد اور قومی ہم آہنگی

  10. آزادی کے موضوع پر اردو ادبا کا فکری سرمایہ

خواتین اور تحریکِ آزادی

  1. تحریکِ آزادی میں خواتین کا کردار

  2. اردو ادب میں خواتین مجاہدینِ آزادی

  3. بیگم حضرت محل کی خدمات

  4. آزادی کے ادب میں خواتین کی نمائندگی

  5. خواتین قلم کار اور قومی بیداری

  6. اردو شاعرات اور تحریکِ آزادی

  7. خواتین کے قومی و ادبی تصورات

  8. اردو ادب میں نسائی نقطۂ نظر اور آزادی

  9. خواتین اور آزادی کی ادبی تحریک

  10. اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار

علاقائی مطالعات

  1. دکن اور تحریکِ آزادی

  2. حیدرآباد کی تحریکِ آزادی اور اردو ادب

  3. جنوبی ہند کے اردو ادبا اور قومی تحریک

  4. شمالی ہند کے اردو ادبا اور آزادیِ ہند

  5. بنگال اور اردو ادب میں قومی شعور

  6. کشمیر اور تحریکِ آزادی کے ادبی اثرات

  7. علاقائی اردو صحافت اور قومی تحریک

  8. ہندوستان کے مختلف خطوں میں اردو کی خدمات

  9. آزادیِ ہند اور دکنی ادب

  10. علاقائی ادب اور قومی یکجہتی

فکری، تہذیبی اور تنقیدی مباحث

  1. اردو ادب میں قومیت کا تصور

  2. اردو ادب اور گاندھی جی

  3. اردو ادب اور عدم تشدد

  4. آزادی اور جمہوری اقدار

  5. آزادیِ ہند اور بین المذاہب ہم آہنگی

  6. اردو ادب اور سیکولر اقدار

  7. آزادی اور انسانی حقوق کا تصور

  8. اردو ادب میں قومی یکجہتی

  9. تحریکِ آزادی کے فکری مباحث

  10. آزادیِ ہند اور اردو تنقیدی روایت

تقسیمِ ہند اور اس کے اثرات

  1. تقسیمِ ہند اور اردو ادب

  2. تقسیم کے بعد اردو شاعری کے رجحانات

  3. تقسیمِ ہند اور اردو افسانہ

  4. تقسیمِ ہند اور اردو ناول

  5. مہاجرت کا ادبی بیانیہ

  6. اردو ادب میں المیۂ تقسیم

  7. تقسیمِ ہند اور تہذیبی شناخت

  8. تقسیمِ ہند کے سماجی اثرات

  9. اردو ادب میں سرحد اور شناخت کا مسئلہ

  10. تقسیمِ ہند کے موضوع پر معاصر مطالعے

جدید و معاصر تناظر

  1. آزادیِ ہند اور بچوں کا اردو ادب

  2. آزادیِ ہند اور اردو گیت

  3. آزادیِ ہند اور فلمی ادب

  4. آزادیِ ہند اور عوامی ادب

  5. معاصر اردو ادب میں آزادی کا تصور

  6. ڈیجیٹل دور میں تحریکِ آزادی کی ادبی روایت

  7. نئی نسل اور آزادیِ ہند کا ادبی شعور

  8. آزادیِ ہند اور سوشل میڈیا میں اردو ادب

  9. قومی موضوعات اور موجودہ اردو ادب

  10. آزادیِ ہند: نئے تحقیقی زاویے

تخلیقی گوشہ

  1. آزادیِ ہند پر نظم

  2. آزادیِ ہند پر غزل

  3. آزادیِ ہند پر افسانہ

  4. آزادیِ ہند پر خاکہ

  5. آزادیِ ہند پر مضمون

  6. آزادیِ ہند پر سفرنامہ

  7. آزادیِ ہند پر تاثراتی تحریر

  8. آزادیِ ہند اور قومی یکجہتی پر شاعری

  9. آزادیِ ہند اور انسانی اقدار پر تخلیقی تحریریں

  10. آزادیِ ہند کے موضوع پر غیر مطبوعہ تخلیقات

نوٹ: مذکورہ عنوانات کے علاوہ بھی موضوعِ خاص سے متعلق معیاری تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی مضامین ارسال کیے جا سکتے ہیں۔


Saturday, June 20, 2026

پروفیسر منظر حسین کا ایک اہم کارنامہ ’’اقبال اور مشرقی مفکرین‘‘


 پروفیسرزماں آزردهؔ 

روفیسر منظر حسین کثیر التصانیف ہیں۔ ان کی تصانیف تنقیدی اور تحقیقی کاوشوں پر محیط ہیں۔ انھوں نے مغربی مفکرین پر بھی قلم اٹھایا ہے اور مشرقی دانش وروں پربھی ۔ اقبالؔ کے حوالے سے بھی انھوں  نے اپنے ذہن کی جولانیوں اور قلم کی کارفرما ئیوں سے بے حد اہم نقوش کھینچ  دیے  ہیں ۔ اقبالؔ نے خود اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں بعض غلط فہمیوں کے ساتھ خود سپردگی سے کام لیا ہے ۔ اول تو اس زمانے میں براہِ راست فلسفہ کا طالب علم ہونا پھر آرنلڈؔ جیسے جید پروفیسر سےکسب فیض کرنا اور اس پر فخر کرنا ، اس پر طرہ یہ کہ Development of Metaphysic in Persia پرباقاعدہ یعنی پی ایچ ڈی کے لیے مقالہ لکھنا اور اس پر میونخ  جرمنی سے ڈگری حاصل کرنا۔ ان سب باتوں کے ان پر سوچنے والوں اور کام کرنے والوں نے مشرقی عینک اتار کے مغرب کے ڈھب کو اپنے اوپر طاری کردیا ۔  کچھ اس طرح کا تسامح  فیض احمد فیضؔ کے سلسلے میں بھی ہوا ۔ اقبالؔ کی طرح ان کی بھی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی ۔ ان کی بھی ابتدائی تعلیم  اُسی  استادسے ہوئی جس سے اقبالؔ کی ہوئی تھی ، یعنی میر حسنؔ۔ اقبالؔ نے فلسفے کی تعلیم کے دوران اسلامی تعلیمات اور  ان کی  فلسفیا نہ تو جیہات کی طرف بھی توجہ کی  اور فیضؔ نے انگریزی میں ایم اے کرنے سے پہلے عربی میں ایم اے کیا تھا مگر بعد میںان کے روزگار کا سلسلہ چونکہ ماسکو سے جڑ گیا، اس لیے ان کی اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں کی ہوئی شاعری کے تاربھی اشتراکیت کے ساتھ جوڑ دیے گیے۔ 

بہر حال بات ہو رہی تھی ، اقبالؔ کو مغرب کے حوالے کرنے کی ، مجھے یقین ہےکہ اقبالؔ کو مغرب سے جوڑنے کی وجہ یہی رہی ۔ جگن ناتھ آزادؔ نے اقبالؔ کے حوالے سے کافی کام کیا۔ چناں چہ پاکستان سے ہندوستان آئے تھے۔ تلوک چند محروم کے بیٹے تھے ، جن کی نعتیں سکولوں میں  صبح کی دعائیہ مجالس  میں خوب پڑھی جاتی تھیں ۔ دلی میں کچھ رسائل سے وابستہ رہنے کے بعد مستقل طور پر کشمیر میں رہے ۔ حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات کے پرنسپل انفارمیشن بیورو کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ پڑھنے لکھنے کی سہولتیں ہر طرح سے بہم تھیں۔ بعض آفیشل میں ان کے ساتھ اس طرح شامل کار تھے کہ ذاتی مطالعے کے لیے کتابیں بھی بہم تھیں اور جب چاہتے بول کے لکھواتے تھے ۔ اس طرح ان کے علمی کام میں ایسی بیش تر سہولتیں دستیاب تھیں، جو عموماً یو نیو رسٹیوں کے پروفیسرس کو بھی بہم نہیں ہوتی ہیں ۔ میں تو یہاں تک کہوں گاکہ اپنی جیب سے معاوضہ ادا کرنے پر بھی اس طرح کی سہولتیں حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور سے کشمیرمیں ۔ سفر کی آسانیاں بھی اُن کو مہیا تھیں، اور حق تو یہ ہے کہ علمی اداروں سے ان کے روابط بھی نہ صرف دوستانہ تھے بلکہ پڑھے لکھے لوگوں کی انفرادی سطح پر بھی نہ صرف مدد کرتے تھے ، بلکہ ان کو متعارف کرنے میں بھی کسی طرح کا بخل نہیں کرتے تھے ۔ میں کیا عرض کروں کہ میں نے پہلی بار جس علمی مجلس کی صدارت کی ہے، اسے بھی آزادؔ صاحب نے ہی آراستہ کیا تھا بل کہ ان کے اپنے ہی دفتر کے ریڈنگ روم میں اس نشست کا اہتمام ہوا تھا۔ ڈاکٹر اکبر حیدری مرحوم نے میر تقی میرؔ کے ایک دیوان کے حوالے سے گفتگوکی تھی جس کو انھوں  نے آگرے میں دریافت کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میر غلام رسول ناز کی مرحوم بھی اس نشست میں موجود تھے ۔

اردو ادب کی فکری روایت اور عالمی تناظر


  اداریہ


ادب کسی بھی قوم کی فکری تاریخ، تہذیبی شعور اور اجتماعی احساسات کا آئینہ ہوتا ہے۔ اردو ادب اس حوالے سے ایک نہایت ثروت مند اور ہمہ گیر روایت رکھتا ہے جس نے برصغیر کے سماجی، سیاسی اور فکری ارتقاء کو نہایت خوبصورتی سے محفوظ کیا ہے۔ بین الاقوامی ماہنامہ قادرالکلام  اسی ادبی روایت کو علمی تحقیق، تنقید اور تخلیق کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ایک سنجیدہ اور بامقصد کوشش ہے۔

زیرِ نظر شمارہ اردو ادب کے مختلف ادوار اور رجحانات کا ایک متوازن مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس میں کلاسیکی ادب سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک وسیع تناظر اختیار کیا گیا ہے۔’’ علامہ اقبال کے فکری اثرات‘‘، ’’مولانا آزاد کی طرزِ نگارش‘‘، ’’اردو زبان کا قومی ترقی میں کردارجدید تعلیمی پالیسی (NEP-2020) ‘‘کے تناظر میں اردو کی افادیت جیسے موضوعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اردو ادب آج بھی فکری ارتقاء کے سفر میں فعال اور متحرک ہے۔

Wednesday, June 17, 2026

ملاغواصی کا فن ، مینا ستونتی کے حوالے سے


واجدہ بیگم  (اسسٹنٹ پروفیسر )

 ملّا غواصی دکنی اردو کے ممتاز شاعر اور مثنوی نگار تھے۔ اردو مثنوی کی روایت میں ان کا نام قطب شاہی عہد کے اہم شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام معلوم نہیں، تاہم وہ اپنے تخلص غواصی سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں دکنی زبان کی سادگی، مقامی رنگ اور اخلاقی اقدار نمایاں طور پر جلوہ گر ہیں۔

ملّا غواصی گولکنڈہ کے رہنے والے تھے۔ ان کی تاریخِ پیدائش یقینی طور پر معلوم نہیں، تاہم محققین کے مطابق وہ ابراہیم قطب شاہ کے عہد میں تقریباً 1572ء سے 1580ء کے درمیان پیدا ہوئے۔ اس اعتبار سے ان کی شعری تربیت محمد قلی قطب شاہ کے دور میں ہوئی اور انہوں نے اسی زمانے میں شعر گوئی کی طرف باقاعدہ توجہ دی۔

ابتدائی زندگی میں ملّا غواصی کا تعلق قطب شاہی فوج سے تھا۔ وہ سپاہی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے تھے اور رات کے وقت پہرے کی ڈیوٹی ان کے ذمے ہوتی تھی۔ تاہم ان کا اصل رجحان شعر و ادب کی طرف تھا۔ شاعری سے غیر معمولی لگاؤ اور فطری صلاحیت کے باعث انہوں نے بادشاہ کو خط لکھ کر فوجی ملازمت سے سبک دوشی کی درخواست کی، جسے منظور کر لیا گیا۔

The Importance of Perseverance and Continuous Learning


Mohammed Aqeel Ahmed

In today’s fast-paced world, success rarely comes overnight. As the saying goes, “Rome wasn’t built in a day.” Achieving one’s goals requires consistent effort, patience, and a willingness to learn from mistakes. People who give up at the first hurdle often miss out on opportunities that lie just around the corner. Perseverance, coupled with continuous learning, is the key to unlocking one’s full potential.

Education and knowledge are not limited to the walls of a classroom. Life itself is the best teacher, and every experience, whether positive or negative, has a lesson to offer. As the idiom goes, *“Every cloud has a silver lining.” Challenges and setbacks are not the end of the road; they are stepping stones toward growth and personal development. Those who embrace this mindset develop resilience and a sense of purpose.

Monday, June 15, 2026

Augmented Reality in Modern Education and Technology


 Augmented Reality in Modern Education and Technology


Ms Nusrath Afreen

Lecturer in Computers


Augmented Reality refers to the enhancement of the Real-World Environment by adding Digital elements such as Graphics, Sound, and Text through Technological devices. Augmented Reality is used in many areas of Daily life such as Education, Healthcare, Gaming, Automobile industry and Mobile applications. 

The Development of Augmented Reality can be understood through three major Trends: Past, Present, and Future trends.

The past Trends of Augmented Reality (AR) started in the mid-20th century with early inventions and ideas. In 1957, Morton Heilig created a machine called Sensorama that gave users an experience using visuals, sound, and vibration. In 1960, L. Frank Baum suggested the idea of electronic displays that could add digital information to the real world. In 1975, Myron Krueger developed the first interactive virtual environment. Later, in 1980, Steve Mann created the first wearable computer. These early developments helped in building the base for modern AR, but at that time, the technology was still simple and experimental.

Sunday, June 14, 2026

’’ہندوستان کی آزادی اور اردو ادب‘‘


ماہنامہ قادرالکلام، حیدرآباد (انڈیا)

ISSN: 3139-1028
ایک ماہانہ دو لسانی بین الاقوامی تحقیقی و ریفریڈ جریدہ

ماہنامہ قادرالکلام تمام محققین، اساتذۂ کرام، ریسرچ اسکالرز، ماہرینِ تعلیم، ادباء، قلمکاروں اور طلبہ کو اپنے آئندہ خصوصی شمارہ کے لیے تحقیقی مقالات، تنقیدی مضامین اور علمی تحریریں ارسال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

خصوصی شمارہ کا موضوع:

’’ہندوستان کی آزادی اور اردو ادب‘‘

اس خصوصی شمارے کا مقصد ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے دوران اردو ادب، اردو صحافت اور ادبی شخصیات کے فکری، تہذیبی اور قومی کردار کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کرنا ہے۔

اس موضوع سے متعلق تاریخی، ادبی، تہذیبی، تنقیدی اور تحقیقی زاویوں پر مبنی مقالات کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

خاص طور پر ریسرچ اسکالرز، کالج و یونیورسٹی اساتذہ، اور نئے محققین سے گزارش ہے کہ اس علمی موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی تحقیقی کاوشوں کو وسیع علمی حلقوں تک پہنچائیں۔

منتخب تحقیقی مقالات کو ISSN سے منظور شدہ بین الاقوامی ریفریڈ تحقیقی جریدے میں شائع کیا جائے گا۔

📝 اپنا مقالہ اس گوگل فارم کے ذریعے ارسال کریں:
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSeIWcxtcZF32OZg1uiXb2tMEPcUDxQQNG3HxLUPo81lZkN0Iw/viewform

Saturday, June 13, 2026

📚 Call for Papers



QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)
ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

QADIR-UL-KALAM invites researchers, faculty members, research scholars, academicians, writers, and students to contribute original research papers, critical essays, and scholarly articles for its forthcoming Special Issue on:

“Indian Independence and Urdu Literature”

The special issue aims to explore the role of Urdu literature, Urdu journalism, and literary personalities in shaping intellectual, cultural, and nationalist discourses during the Indian freedom movement. Contributions focusing on historical, literary, cultural, and critical perspectives are welcome.

Research scholars, college and university teachers, and emerging researchers are especially encouraged to take advantage of this opportunity and share their scholarly work with a wider academic audience.

Selected papers will be published in an ISSN-listed International Refereed Research Journal.

📝 Submit your paper through the Google Form:
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSeIWcxtcZF32OZg1uiXb2tMEPcUDxQQNG3HxLUPo81lZkN0Iw/viewform

📅 Submission Deadline: 20 July 2026

📧 Email: qadirulkalam5@gmail.com
📱 WhatsApp: +91 8885303386

Scholars may also submit papers on other relevant themes related to the central topic.

Please share this call with colleagues, faculty members, researchers, and students in your academic network.

#CallForPapers #UrduLiterature #IndianIndependence #ResearchJournal #Academia #ResearchScholars #HigherEducation #UrduStudies #LiteraryStudies #QadirulKalam

 

اختر حسین رائے پوری کی خود نوشت ’’گردِ راہ‘‘ کا مطالعہ


 محمد کاشف  ( اسسٹنٹ پروفیسر)

  اختر حسین رائے پوری ادیب،ناقد،عالم اور معلم کی حیثیت سے ادبی دنیا میں ایک معتبر نام ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان میںانہیں صرف’’ ادب و انقلاب‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے یا پھر ترقی پسند تحریک کے ایک رکن کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔
اختر حسین رائے پوری نے ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دنوں میں اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔ اور اس تحریک سے آخر دم تک منسلک رہے۔ آزادی کے بعد یونیسکو کے عہدے دار کی حیثیت سے مختلف ممالک میں تعلیمی امور کے انتظام میں خدمت انجام دیں۔ کئی ممالک میں کام اور دیس بدیس کے ادبی مشاہیر سے دوستانہ مراسم نے ان کے ذہنی افق کو جس طرح سے وسیع کیا ہے ہم ان کی خود نوشت’’ گرد ِراہ ‘‘کو پڑھ کر اندازہ کرسکتے ہیں۔
گردِ راہ قسط وار افکار کے مختلف شماروں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ 1984میں کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس کے بارے میں مجنوں گورکھپوری کے خیالات ملاحظہ کریں:
’’ آپ بیتی کے پیرائے ہیں دراصل یہ پچھلی پچاس ساٹھ برسوں کی ادبی ، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی زندہ دستاویز ہے اور ڈاکٹر اختر حسین رائے پری کا نام ہی اس کے مستند اور معتبر ہونے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ وہ راہی بھی ہیں اور راہبر بھی۔ ان کی یہ کتاب ادب اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے سنجیدہ حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔‘‘

Thursday, June 11, 2026

سید عباس متقی ؔ ۔علم و حکمت کا درخشاں آفتاب


 ڈاکٹر محمد انور الدین  (اسسٹنٹ پروفیسروصدر شعبۂ اردو)

    رمضان المبارک میںسیدعباس متقی کی پہلی برسی کے موقع پر مضمون پیش خدمت ہے۔ اردو زبان و ادب، دینی فہم، تہذیبی وقار اور علمی شائستگی کے ایک درخشاں چراغ، سید عباس متقیؒ کے انتقال کی خبر نے اہلِ علم و ادب، شاگردوں، احباب اور تمام محبانِ علم و دین کو ایک گہرے صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔
26مارچ 2025ء مطابق۱۴۴۶ھ ماہِ رمضان المبارک کی ۲۹ ویں سحر ابھی ابھی ختم ہوئی تھی اور ہم آذانِ فجرکے منتظر تھے کہ اچانک فون میں میسج کی گھنٹی بجی اور۲۹:۵ منٹ پرمیسج آیا،دیکھاتو ڈاکٹر عبدالنعیم فیضی ؔنے لکھا کہ ـ’’بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ڈاکٹر سید عباس متقی کا وصال ہوگیا ہے۔اللہ پاک خوب خوب مغفرت فرمائے۔آمین‘‘۔ہم نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھی اورچپ سادھ لیا۔فجرکی نماز پڑھی خوب دعا کی اور جانب ِمتقی رواںدواں ہوئے۔
         ڈاکٹر سید عباس متقیؒ نہایت باوقار، خوش گفتار، خوش اخلاق اور متواضع شخصیت کے حامل انسان  واقع ہوئے تھے۔ ان کی علمی لیاقت محض اردو زبان تک محدود نہ تھی بلکہ عربی و فارسی زبانوں پر بھی انھیں کامل دست رس تھا۔ ان کے خطبات، تحریریں اور دروس علم و عرفان سے لبریز ہوتے، جن میں دینی بصیرت اور ادبی شگفتگی کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔مرحوم کی ذات میں دین و دنیا کا خوب صورت امتزاج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ اور رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گہری محبت ،گفتگو، طرزِ عمل اور طرزِ فکر سے جھلکتی تھی۔ وہ اخلاص و للہیت کے پیکر تھے؛ان کی نثر، ان کے اشعار، ان کی طنزومزاح نگاری پر مشتمل مجالس اور تربیتی نشستیں آج بھی دلوں میں روشنی کی شمعیں جلا رہی ہیں۔ مرحوم کا طرزِ تدریس محض رسمی نہ تھا بلکہ وہ قلوب کی تربیت اور ذہنوں کی آبیاری پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے شاگرد آج بھی ان کی باتوں؛ ان کے اندازِ بیاں اور ان کے علمی و اخلاقی ورثے کو یاد کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ 

محی الدین قادری زورؔ: استاد، محقق اور معمارِ اردو


 ڈاکٹر جہانگیر احساس (اسسٹنٹ پروفیسر)

ڈاکٹرمحی الدین قادری زورؔ 1904ء میں حیدرآباد دکن کے محلہ شاہ گنج میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر غلام محمد شاہ قادری الرفاعی ایک دینی اور روحانی مزاج رکھنے والے شخص تھے اور ان کا سلسلۂ نسب سید احمد رفاعی تک جا پہنچتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ دارالعلوم میں حاصل کی، بعد ازاں سٹی ہائی اسکول اور عثمانیہ کالج میں تعلیم پائی۔ 1925ء میں بی اے اور 1927ء میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن روانہ ہوئے۔ وہاں لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 1930ء میں پیرس جا کر صوتیات کے موضوع پر تحقیقی کام کیا اور ڈگری حاصل کی، اس دوران جنیوا اور روم کے علمی مراکز سے بھی استفادہ کیا۔یورپ سے واپسی کے بعد 1930ء میں ان کا تقرر عثمانیہ یونیورسٹی میں بحیثیت ریڈر ہوا۔ اردو اور دکنی ادب کے فروغ کے لیے انہوں نے اپنے رفقا کے تعاون سے ادارۂ ادبیاتِ اردو قائم کیا جو تحقیق و اشاعت کا ایک اہم مرکز ثابت ہوا۔ 1950ء میں دارالعلوم اور چادر گھاٹ کالج کے انضمام کے بعد انہیں پرنسپل مقرر کیا گیا اور وہ 1960ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ڈاکٹر زورؔ نے ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ حکومتِ ہند نے ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں ساہتیہ اکادمی کا رکن نامزد کیا۔ وہ رسالہ ’’آج کل‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ بعد ازاں انہوں نے کشمیر یونیورسٹی میں صدرِ شعبۂ اردو اور ڈین کے عہدے سنبھالے۔ اس طرح محی الدین قادری زورؔ کی زندگی علم، تحقیق، تدریس اور اردو زبان کی ہمہ جہت خدمت سے عبارت نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور ؔاور اردو زبان آپس میں اس طرح تعلق خاطر رکھتے ہیں کہ انہیں اگر جدا کردیا جائے تو یہ دولخت ہو کر رہ جائیں گے ۔ یہاں ’’ دولخت ‘‘ کا اس تناظر میں استعمال ہوا کہ دکن اور دکنیات کا راست تعلق بھی اسی زبان سے منسلک ہے ۔ 

A Comprehensive Study of English Spy Fiction


 Mohammed Gulam Rasool

English spy fiction occupies a significant place in modern literature, blending political intrigue, psychological depth, historical context, and thrilling narratives. Emerging prominently in the late 19th and early 20th centuries, it reflects the anxieties of imperial competition, world wars, and the Cold War era. Over time, it evolved from sensational adventure stories into a sophisticated literary genre that explores morality, loyalty, deception, and the hidden operations of states.

Origins and Early Development 

The origins of English spy fiction are deeply connected to the political anxieties, imperial rivalries, and rapid technological changes of the late nineteenth and early twentieth centuries. During the Victorian era, Britain was at the height of its imperial power, but it was also increasingly aware of threats from rising European powers such as Germany, Russia, and France. This atmosphere of suspicion and geopolitical competition created fertile ground for literature that explored secrecy, intelligence gathering, and covert operations. Early spy narratives were not initially a separate genre; they emerged as part of adventure fiction, imperial romance, and political thrillers, gradually evolving into a distinct literary tradition.

Wednesday, June 10, 2026

صادقہ نواب سحر کی افسانہ نگاری کا جائزہ (’’پیج ندی کا مچھیرا‘‘ کے حوالے سے)


ڈاکٹر واجدہ بیگم ( اسوسی ایٹ پروفیسر)

 یہ تحقیقی مضمون اردو کی ممتاز افسانہ نگار صادقہ نواب سحر کے افسانے ’’پیج ندی کا مچھیرا‘‘ کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں مصنفہ کے فن، حقیقت نگاری، علامتی جہات اور سماجی شعور کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی ایک مچھیرے اور اس کے گھرانے کی روزمرہ زندگی کو پیش کرتی ہے، جو دراصل غربت، طبقاتی ناانصافی اور انسانی جدوجہد کا استعارہ ہے۔ اس تجزیے میں کردار نگاری، منظر نگاری، مکالمہ، سماجی اور وجودی پہلوؤں کو تفصیل سے دیکھا گیا ہے۔ مضمون یہ ثابت کرتا ہے کہ صادقہ نواب سحر کا افسانہ حقیقت نگاری اور علامتی جمالیات کا حسین امتزاج ہے جو نہ صرف عورت اور محنت کش طبقے کی آواز بنتا ہے بلکہ اردو افسانوی روایت کو نئی جہت بھی عطا کرتا ہے۔

اردو افسانہ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی سماجی، ثقافتی اور انسانی زندگی کی عکاسی کا آئینہ رہا ہے۔ پریم چند نے اردو فکشن کو حقیقت نگاری کی سمت موڑ دیا اور عام انسان کی زندگی کو ادب کا مرکزی موضوع بنایا۔ ترقی پسند تحریک (1936ء) کے بعد افسانہ نگاری نے نئی جہت اختیار کی اور محنت کش طبقے، غربت، بھوک، استحصال اور طبقاتی کشمکش کو بنیادی موضوع بنایا۔ اس تحریک کے تحت لکھنے والے افسانہ نگاروں نے قاری کے شعور کو جھنجھوڑنے اور سماج میں تبدیلی کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی۔

Tuesday, June 9, 2026

ادبی تحقیق کے بدلتے رجحانات


نورمحمد پیرمحمد، (ریسرچ اسکالر)
  ادبی تحقیق کا مرکزی ہدف یہ ہے کہ زبان و ادب سے جڑے کسی سوال یا کسی پیچیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنے اور اصل سچائیوں کو دوبارہ منظر عام پر لانے کے لیے ایک منظم طریقہ کار کی پیروی کی جائے۔ یہ علم دراصل کسی بھی الجھن کو سلجھانے کی غرض سے اپنایا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کا مقصد کسی موجودہ نظریے، عام طور پر مانی جانے والی روایت، یا مقبول تصور کی بنیاد کو جاننا اور اس کی حقیقت سے آگاہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ تحقیق کا مفہوم ہی تسلیم شدہ حقائق اور اصولوں کو نئے سرے سے تقویت دینا اور انہیں ایک نئے انداز میں پیش کرنا ہے۔ لفظ تحقیق کے لغوی معنی سچائی کی کھوج یا تلاش کے ہیں، اور ادبی تحقیق کا مقصد بھی اسی سچائی کو دوبارہ دریافت کرنا ہے، جہاں پوری ایمانداری کے ساتھ حقائق کی تصدیق کی جائے اور اس عمل سے جو نتیجہ برآمد ہو، وہی اصل علمی تحقیق ہے۔یہ ساری کائنات اور اس کی ہر چھوٹی بڑی چیز انسان سے علمی جستجو (تحقیق) کا مطالبہ کرتی ہے۔ تحقیقی جذبہ ایک ایسی مقدس قوت ہے جو انسان کو محض معلومات فراہم نہیں کرتی، بلکہ اسے عقل و فہم، گہری بصیرت، اور بہترین تہذیب و شائستگی سے بھی روشناس کراتی ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ دنیا کی تمام بڑی اور حیران کن ایجادات دراصل اسی تحقیقی لگن کا نتیجہ ہیں۔ قدرتی مظاہر میں چھپی ہوئی تمام پوشیدہ طاقتوں کو جاننے، ان سے فائدہ اٹھانے اور ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش کا فطری رجحان انسان کی سرشت میں بنیادی طور پر شامل ہے۔ یہی جبلی طاقت ہے جس نے ہر دور میں انسان کو اپنے تہذیبی، تمدنی اور سائنسی سفر کو جاری رکھنے پر مجبور کیا ہے۔جہاں تک اردو ادبی تحقیق کی تاریخ کا معاملہ ہے، یہ تقریباً دو سو سال پر محیط ہے۔ اس کے باوجود، اسے جن ممتاز محققین نے سخت محنت، گہری لگن اور ایماندارانہ خلوص کے ساتھ مضبوط بنیادوں پر قائم کیا اور "حق تو یہ ہے کہ حق ادا کر دیا" کے قول کو سچ کر دکھایا، ان میں سر سید احمد خان، شبلی نعمانی، الطاف حسین حالی، محمود شیرانی، سید سلیمان ندوی، اور مولوی عبد الحق جیسے نام شامل ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد آنے والوں میں مسعود حسن خان رضوی ادیب، مولانا امتیاز علی خاں عرشی، قاضی عبدالودود، گیان چند جین، پروفیسر گوپی چند نارنگ، رشید حسن خاں، مالک رام، اسلم فرخی، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار، ڈاکٹر عندلیب شادانی، ڈاکٹر جمیل جالبی، مشفق راجہ، محمود الہی، نور الحسن ہاشمی، سیدہ جعفر اور وحید قریشی اردو تحقیق کے ایسے قابل اعتماد نام ہیں جنہوں نے اصول و طریقۂ کار وضع کر کے اسے باقاعدہ ایک سائنسی علم کی شکل دی ہے۔

ان عظیم محققین کے بعد بھی، کئی دیگر شخصیات نے اردو تحقیق کے شعبے میں شہرت اور مقام حاصل کیا۔ ان میں نور الحسن نقوی، نذیر احمد، قمر رئیس، خلیق انجم، عبدالستار دلوی، کالی داس گپتا رضا، تنویر احمد علوی، منظر اعظمی، حامدی کشمیری، برج پریمی، اکبر حیدری، محمد یوسف ٹینگ، اور عبدالغنی شیخ لداخی جیسے نام خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، جنہوں نے اردو تحقیق کو نئے زاویے دیے اور اس کی اعتباریت و عزت میں اضافہ کیا۔تحقیق ایک انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ادبی تحقیق کے دائرے میں، موضوع کے چناؤ سے لے کر مواد جمع کرنے، حوالوں کی صداقت پرکھنے، اور دقیق چھان بین کے بعد درست معلومات اخذ کرنے کے بعد مقالہ مکمل کرنے تک کے مراحل انتہائی مشکل ہوتے ہیں۔ ان پیچیدہ مراحل کو تحقیق کے مقررہ اصولوں کی پابندی کیے بغیر کامیابی سے طے کرنا ناممکن ہے۔ تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ تحقیقی کام بلا شبہ ایک سخت، حوصلہ طلب اور مشقت بھرا فریضہ ہے۔

Monday, June 8, 2026

THE RELEVANCE OF QURAT- UL- AIN HYDER IN MODERN ERA


 Sheikh Nelofar Shafi

Research Scholar 

ABSTRACT:

This research paper entitled “RELEVANCE OF QURAT-UL-AIN HYDER IN MODERN ERA” introduces the re-owned novelist and short story writer, explores the significance of her fiction with the glimpse of culture and craftmanship in literature. Delving into the historical background, Qurat-ul-Ain’s literature remains prominently relevant in the current epoch, offering profound insights into the human relations, identity and culture. Her work challenges divisive politics and ideologies, promoting a more inclusive and spacious understanding of identity and exploring the themes of syncretism, nationalism, displacement and exile in her novels and short stories.

KEY WORDS: The following keywords will be discussed in this paper

QURAT-UL-AIN HYDER

RELEVANCE OF HER LITERATURE IN MODERN ERA

OVERVIEW OF TRANSLATION OF “AAG OF DARIYA”

INTRODUCTION

Qurratulain Hyder, affectionately known as "Aini Apa" was a revolutionary Indian Urdu novelist, short story writer, academic, and journalist. Born on January 20, 1927, in Aligarh, Uttar Pradesh, she was named after the Iranian poetess Qurrat-ul-Ain Tahira, meaning "solace of the eyes". Hyder's literary journey began at age 11 and spanned over six decades, during which she penned 12 novels, four collections of short stories, and numerous translations. Her writing has inspired generations of writers and readers, cementing her position as one of the most influential Indian writers of the 20th century

Sunday, June 7, 2026

متھلا کے اردو افسانوں میں میتھلی زبان اور متھلا کلچر کے اثرات


 ڈاکٹر جاوید اختر( اسسٹنٹ پروفیسر)

متھلا کے اردو افسانوں پر روشنی ڈالنے سے پہلے اس کی ادبی، علمی اور ثقافتی سرگرمیوں پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اس خطے میں اردو افسانے کی ابتدا و ارتقا اور رفتار کا تعین کیا جاسکے۔
متھلا پہلے ایک دیش تھا اور راجہ جنک اس کے حکمراں تھے۔ ہندو مذہب کے قدیم کتب و رسائل کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مشرق میں کوسی ندی، مغرب میں گنڈک، شمال میں کوہ ہمالیہ اور جنوب میں دریائے گنگا اس کے حدود اربع ہیں۔ منشی بہاری لال فطرت کی لکھی ہوئی کتاب ''آئینہ ترہت'' کے مطابق یہ علاقہ رشیوں اور منیوں کی آماجگاہ تھا۔ اسی میں متھلا راج قائم ہوا۔ لیکن ترہت اور متھلا راج کی تاریخی ٹھوس کڑیاں ہنوز نہیں ملتیں۔ 1095 عیسوی سے ترہت کا تاریخی تسلسل ملتا ہے۔ سب سے پہلے کرناٹک سے آکر نانب دیو جو پنوار خاندان کے راجا تھے، نے ترہت ریاست قائم کی۔ اس کے بعد کئی راجا آئے، مختلف جگہوں پر ڈیورھیاں بنیں، راجدھانیاں بھی بدلتی رہیں۔ پھر پٹھانوں نے یہاں پورا اقتدار حاصل کر لیا۔ محمد تغلق کے عہد حکومت سے ترہت کی حیثیت ایک صوبہ جیسی ہو گئی۔
بعد میں اکبر بادشاہ نے اسے بہار میں ملحق کر کے اسے صوبہ دار کے ماتحت کر دیا۔ 1557 عیسوی میں اکبر بادشاہ نے رگھو نندن رائے موضع رام پور انچل پنڈول، ضلع مدھوبنی کو اس کے علم و کمال سے متاثر ہو کر ترہت کی جاگیر عطا کی۔ انہوں نے اسے گرو دکشنا کے نام پر اپنے گرو مہیش ٹھاکر موضع بھور انچل پنڈول، ضلع دربھنگہ (حال ضلع مدھوبنی) کے قدموں میں ڈال دیا جو سلسلہ وار مہاراجہ دھیراج کامیشور سنگھ بہادر تک یعنی انگریزوں کے دور حکومت تک قائم رہا۔ انگریزوں کے دور حکومت میں دربھنگی خان کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے دربھنگہ کو نئی تہذیب و تمدن عطا کیا۔ انگریزوں ہی کے دور حکومت میں دربھنگہ ضلع بنا اور ترہت کمشنری بنی۔

Saturday, June 6, 2026

اردو زبان کی ابتدا ءکے متعلق نظریات


محمد عبدالرحمن(کالم نگار،مہاراشٹر)

  اردو زبان برصغیر کی ایک اہم، ہمہ گیر اور تہذیبی و لسانی وراثت کی حامل زبان ہے۔ اس کی پیدائش اور ارتقا کے بارے میں ماہرینِ لسانیات، محققین اور ادبا کے درمیان طویل عرصے سے اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ کسی نے اردو کا ماخذ برج بھاشا کو قرار دیا، کسی نے پنجابی، کسی نے سندھی، دکنی یا کھڑی بولی کو اس کی بنیاد کہا۔ تاہم ان تمام اختلافات کے باوجود اس حقیقت پر تقریباً سبھی کا اتفاق ہے کہ اردو زبان کسی ایک زبان کی پیداوار نہیں بلکہ مختلف زبانوں، بولیوں اور تہذیبوں کے باہمی میل جول کا نتیجہ ہے۔

اردو زبان دراصل برصغیر میں باہر سے آنے والی قوموں—خصوصاً عرب، ترک اور ایرانی مسلمانوں—اور مقامی باشندوں کے سماجی، معاشرتی، سیاسی اور تجارتی روابط کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس میل جول کے نتیجے میں جو مخلوط زبان پیدا ہوئی وہ ابتدا میں ہندی، ہندوی، دہلوی، گجری، دکنی، ریختہ اور اردوئے معلیٰ جیسے مختلف ناموں سے جانی گئی اور بعد میں یہی زبان “اردو” کے نام سے معروف ہوئی۔

اردو کے آغاز کے سلسلے میں ماہرینِ لسانیات نے مختلف بنیادوں پر اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ بعض نے تاریخی حالات اور سیاسی واقعات کو بنیاد بنایا، بعض نے لسانی خصوصیات اور قواعدی مماثلتوں کو دلیل بنایا، جبکہ کچھ محققین نے ضمنی طور پر اپنی تصانیف میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ چند محققین ایسے بھی ہیں جنہوں نے باقاعدہ کتابیں تصنیف کر کے اپنے نظریے کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

Friday, June 5, 2026

حرف کی حرمت کا پاسبان :مشفق خواجہ



 سبزارسکندر(ریسرچ اسکالر)

مشفق خواجہ اردو ادب کے ایک ممتازمحقق، نقاد،مدیر ،نادرالاسلوب اور کالم نویس کی حیثیت سے پاک و ہندمیں ایک بلند مقام رکھتے ہیں ۔ ان کا اصل نام خواجہ عبدالحئی تھا ۔ ۱۹۳۵ ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور ۲۰۰۵ ء میںان کا انتقال ہوا ۔ بچپن میں مشفق خواجہ کو جو ماحول میسر آیا اس میں شعر وادب سے لگا ؤ پیدا ہونا فطری امر تھا۔ جس گھر میں انہوں نے آنکھیں کھولیں اس میں چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں ۔اسی لئے زبان و ادب کے مسائل اور ادبی تاریخوں سے گہری دلچسپی پیدا ہو گئی ۔ زمانہ طالب علمی سے ہی نہ صرف سخن فہم ہو گئے بلکہ شعر گوئی سے بھی دلچسپی پیدا ہو گئی ۔کم عمری میں مطالعہ کتب کا ایسا شوق بہت ہی کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت میں بچپن سے ہی ادبی ذوق اس طرح سرائیت کر چکا تھا کہ انہیں زندگی کے دیگر معاملات میں کوئی دلچسپی ہی نہ رہی ۔ تحقیقی موضوعات سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ کم عمری میں ہی انہوں نے تحقیق کی بڑی بڑی اور معتبر کتب کا مطالعہ کیا ۔ 
مشفق خواجہ اردو ادب کی ایک جامع الحیثیات شخصیت تھے ۔وہ نقاد تھے ، شاعر، کالم نویس اور طنز و مزاح نگار بھی تھے ۔ادب کے اعلیٰ اصناف شناس ہونے کے علاوہ ملک کے متعدد ادبی اداروں کے مشیر اور ادبیوں کے تحقیقی و تنقیدی کام میں ان کے معاون تھے لیکن ان کا فطری رجحان تحقیق کی طرف تھا ۔زمانہ طالب علمی میں ہی انہوںنے ’’انجمن ترقی اردو‘‘ کراچی کے کتب خانے سے استفادہ شروع کر دیا تھا اور اسی زمانے میںمولوی عبدالحق سے ان کی شناسائی ہوئی۔ کتابوں سے اس قدر دلچسپی دیکھ کر مولوی عبدالحق ان سے بے حد متاثر ہوئے ۔تحقیق کا کام چوں کہ بنیادی طور پر حقیقت کے انکشاف و دریافت کا کام ہے اس لئے اس میں دستاویزی شہادت اور سندی ثبوت بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مشفق خواجہ نے اردو کے قدیم سرمائے کی تحقیق جس دیدہ ریزی اور دیانت داری کے ساتھ کی ہے وہ ذرے میں آفتاب کا جلوہ

Thursday, June 4, 2026

ازبیکستان میں اردو زبان و ادب کی تعلیم و ترویج


 ✍️ ڈاکٹر محیا عبدالرحمانووا
(اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو، ازبیکستان)
1947ء میں ہندوستان کو آزادی حاصل ہونے کے بعد ہی تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کا باقاعدگی سے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ۱۹۹۱ء کومتذکرہ یونیورسٹی کی شرقیاتی فیکلٹی انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز میں تبدیل ہو گئی ، اس کا ایک حصہ جنوب ایشیائی زبانوں کا ڈیپارٹمنٹ ہے جہاں اردو پڑھائی جاتی ہے۔

یہاں اردو کے متعلق جو کام ہوتا آ رہا ہے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک درس و تدریس کا تعلق ہے تو شروع میں جب ۱۹۴۷ء میں شعبہ قائم ہوا تو اس کے اولین استاد روسی اور ہندوستانی اشخاص تھے۔ ازبیکستان میں اردو کی ترقی و ترویج میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔ شروع شروع میں اردو پڑھانے کی نصابی کتابیں نہ ہونے کے سبب ان ہی حضرات کی طرف سے روسی اردو لغت، اردو ریڈر مرتب کئے گئے تھے۔

ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں بی اے کے طلبا کو ثانوی زبان کے طور ہندی پڑھائی جاتی ہے۔ لازمی مضامین میں انگریزی، ہندوستان کی تاریخ، جغرافیہ، ادب، فلسفہ، صحافت وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن بنیادی توجہ اردو کی گرامر پر ہوتی ہے۔ دوسرے کورس سے لے کر طلبا ہر سال کسی موضوع پر تحقیقی کام کرتے ہیں۔ بی اے فائنل میں طالب علم ڈگری ورک تیار کر کے اسے پیش کرتے ہیں جو عموماً اردو صرف و نحو یا ادب سے متعلق ہوتا ہے۔

آج کل اردو زبان کئی دوسری ا علی تعلیمی اداروں میں بھی پڑھا ئی جاتی ہے۔ یونیور سٹی آف ورلڈ لینگوجز ، یونیورسٹی اف ڈپلومسی ، ادارۂ موسیقی ، اسلامک یو نیو ر سٹی جیسے تعلیمی اداروں میں طالب علم اردو تین سال کے دوران پڑھتے ہیں۔تاشقند کے دو اسکولوں میں اردو کی تدریس ہورہی ہے، ایک عام اسکول ہے دوسرا لیسی ہے۔ ان میں سے بعض آگے چل کر اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیتے ہیں۔

Wednesday, June 3, 2026

اردو تحقیق میں جدید ذرائع ابلاغ کا کردار


سعدیہ فاطمہ، (ریسرچ اسکالر)  

تحقیق کسی بھی علمی روایت کی بنیاد ہوتی ہے اور زبان و ادب میں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ اردو تحقیق نے بھی وقت کے ساتھ ارتقا کے مختلف مراحل طے کیے ہیں۔ جہاں ماضی میں تحقیق کا انحصار کتب خانوں، مخطوطات اور ذاتی مشاہدات پر تھا، وہیں آج جدید ذرائع ابلاغ نے تحقیق کے طریقۂ کار کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ، ڈیجیٹل لائبریریاں، سافٹ ویئرز اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع نے اردو تحقیق کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔

اردو تحقیق کا آغاز ایک ایسے دور میں ہوا جب علمی وسائل محدود اور رسائی کے ذرائع نہایت مشکل تھے۔ ابتدائی محققین کو اپنی تحقیقات کے لیے ذاتی محنت، مطالعہ اور سفر پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ کتب خانوں میں دستیاب مواد بھی محدود ہوتا تھا اور نایاب مخطوطات تک رسائی صرف مخصوص اداروں یا افراد تک ہی ممکن تھی۔ اس وجہ سے تحقیق ایک طویل اور صبر آزما عمل شمار ہوتی تھی۔

روایتی دور میں تحقیق کا بڑا ذریعہ مطبوعہ کتب، رسائل اور قلمی نسخے (مخطوطات) تھے۔ محققین مختلف کتب خانوں کا رخ کرتے، وہاں گھنٹوں بلکہ دنوں بیٹھ کر مطلوبہ مواد تلاش کرتے اور ہاتھ سے نوٹس تیار کرتے تھے۔ اس عمل میں نہ صرف وقت صرف ہوتا تھا بلکہ بعض اوقات مواد کی عدم دستیابی تحقیق کو ادھورا بھی چھوڑ دیتی تھی۔ اسی لیے اس دور کی تحقیق میں صبر، استقامت اور ذاتی لگن بنیادی اوصاف سمجھے جاتے تھے۔

Tuesday, June 2, 2026

مولانا رومی — شخصیت، شاعری اور فکری وراثت


 محمد ندیم محی الدین

مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت اسلامی تہذیب، تصوف اور عالمی ادب کا ایک درخشاں باب ہے۔ آپ 1207ء میں بلخ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ بہاؤالدین ولد سے حاصل کی، جو اپنے وقت کے جید عالم اور صوفی تھے۔ حالات کے جبر، خصوصاً منگول یلغار کے خطرات کے باعث، آپ کا خاندان ہجرت کرتا ہوا مختلف علمی مراکز سے گزرا اور بالآخر قونیہ میں قیام پذیر ہوا۔ یہی شہر آپ کی علمی و روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنا اور یہیں 1273ء میں آپ کا وصال ہوا۔

رومی کی زندگی کا ایک اہم موڑ شمس تبریزی سے ملاقات ہے، جس نے ان کی فکر کو یکسر بدل دیا۔ اس سے پہلے وہ ایک جید عالم اور مدرس تھے، مگر شمس تبریز کی صحبت نے انہیں عشقِ الٰہی کی ایسی راہ پر ڈال دیا جہاں علم محض ذریعہ رہ گیا اور اصل منزل معرفتِ حق قرار پائی۔ شمس کی جدائی نے رومی کے دل میں ایک ایسا سوز پیدا کیا جس نے ان کی شاعری کو لازوال بنا دیا۔

رومی کی شاعری کا مرکزی موضوع ’’عشق‘‘ ہے، جو ان کے نزدیک کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کے مطابق کائنات کا ہر ذرہ عشق کی کشش سے متحرک ہے۔ یہی تصور ان کے کلام میں بار بار مختلف تمثیلات اور حکایات کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ ان کی مشہور تصنیف مثنوی معنوی تقریباً چھبیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے، جس میں انہوں نے تصوف، اخلاق، معرفت اور انسانی نفسیات کے پیچیدہ مسائل کو نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں قرآنی آیات اور احادیث سے استدلال بھی نمایاں ہے، جس سے ان کی فکر کی دینی بنیاد واضح ہوتی ہے۔

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM) ISSN: 3139-1028 Peer-Reviewed | International Research & R...