سید سلطان پاشاہ
ریسرچ اسکالر،شعبہ ترجمہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
مولانا سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کی ولادت 3رجب المرجب 1321 ھ بمطابق25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد (دکن ) میں ہوئی۔ والد ماجد نے آپ کا نام ابو الا علیٰ رکھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا تعلق سادات اہل بیت کے معروف شاخ سلسلہء مودودیہ سے تھا ان کے جد امجد خواجہ قطب الدین مودود چشتیؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ(اجمیری) کے پر دادا پیر تھے۔ بادشاہ شاہ عالم کے زمانے میں ان کا خاندان دہلی آکر آباد ہوا اور چھٹی پشت تک وہیں آباد رہا۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے والد ’’سید احمد حسن ‘‘ (1920ء۔1855ء) دہلی میں پیداہوئے۔ علی گڑھ میں کچھ تعلیم حاصل کی پھر الہ آباد سے وکالت کاامتحان پاس کیا اور اورنگ آباد ،حیدرآباد دکن جا کر وکالت شروع کردی۔ سید احمد حسن ’’سر سید احمدخان ‘‘ کے بھانجے تھے۔ مولانا مودودیؒ کی والدہ ’’محترمہ رقیہ بیگم ‘‘ کاتعلق دہلی سے تھا۔ سید احمدحسن کے چار بیٹے ابوالقاسم،ابو محمد، ابوالخیر، ابوالاعلیٰ تھے۔ سید مودودیؒ کی تربیت ان کے والدنے خاص توجہ سے کی۔ وہ انہیں مذہبی تعلیم خود دیتے تھے۔ اردو، فارسی اور عربی کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث کی تعلیم بھی اتالیق کے ذریعے گھر پر دی جاتی تھی۔ تعلیم کے ساتھ اخلا قی اصلاح کا بھی وہ خاص خیال رکھتے تھے۔ سید احمد حسن رات کو سونے سے قبل اپنے دونوں بچوں ( ابوالخیر مودودی ؒاور ابوالاعلیٰ مودودی) کو پیغمبروں کے قصے ، تاریخ ِ اسلام ، تاریخ ِہندوستان اور سبق آموزکہانیاں سناتے تھے ۔وہ رسمی تعلیم و تلقین سے زیادہ حقیقی شعورو ادراک پر یقین رکھتے تھے ۔ انہوں نے بچوں کی اردو تعلیم کے لیے حالی کے " شکوہء ہند"کو منتخب کیا تھا۔سید احمد حسن زبان کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے۔ انہوں نےخود 20 سال دکن میں اپنے قیام کے دوران اپنی زبان کو دکنی اثرات سے محفوظ رکھا۔اگر کبھی بچوں کی زبان سے کوئی مقامی لفظ یا محاورہ غلط سن لیتے تو بروقت اس کی اصلاح کردیتے تھے۔۔ آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ مولانا مودودی ؒ کہا کرتے تھے ۔’’ میرے والد مرحوم میری تربیت پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔ وہ میری زبان اوراخلاق کو معیاری،سُتھرائی اور پاکیزہ بنانے کی انتہائی کوشش کرتے تھے۔ وہ راتوں کو مجھے پیغمبروں کے قصے،، تاریخِ اسلام اور تاریخ ہند کے واقعات اور سبق آموز کہانیاں سنایاکرتے تھے۔ وہ میری عادات پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی ملازمہ کے ایک بچے کو مارا تو انھوں نے اس بچے کو بلاکر کہا کہ" تو بھی اسے مار"
جب سیدمودودی ؒکے والدِ محترم کی مالی مشکلات بہت بڑھ گئی تھیں۔ وکالت سے اجتناب اور دینداری میں شدید انہماک کے باعث گھر کےتنگ مالی حالات میں وہ اورنگ آباد چھوڑ کر حیدرآباد تشریف لےآئے اور سید مودودی ؒکو مولوی عالم کی جماعت میں داخل کرا دیا۔ اس زمانے میں دار العلوم کے صدر مولاناحمید الدین فراہی تھے جومولانا امین احسن اصلاحی کے بھی استاد تھے۔ سیدمودودی ؒکے والد انہیں دارالعلوم میں داخل کراکے خود بھوپال تشریف لے گئے اورسید ابوالاعلیٰ دارالعلوم میں زیرِ تعلیم رہے لیکن تعلیم کا یہ سلسلہ چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکا، ایک روز بھوپال سے اطلاع آئی کہ سید ابوالاعلیٰ کے والد محترم پر فالج کا سخت حملہ ہوگیا ہے۔چنانچہ مدرسے کی رواجی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔والد کی بیماری کے سبب دارالعلوم میں مزید تعلیم حاصل نہ کرسکے اور 1915ء میں بھوپال اپنے بڑے بھائی ابو محمدکے پاس منتقل ہوگئے۔1920ء میں والد محترم کاانتقال ہوگیا ۔ والد کے انتقال تک عملاً بھوپال میں ہی گھر والوں کے ہمراہ مقیم رہے۔ قیام دہلی کے دوران انہوں نے ایک استاد مولوی محمد فاضل صاحب سے انگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا ابوالاعلی مودودی ؒ تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔وہ کسی ایک شعبے کے ماہر نہیں بلکہ ان کی شخصیت میں ہمہ رخی جامعیت اور گہرائی نظر آتی ہے۔ وہ جدید اور قدیم علوم پر گہری اور ناقدانہ نظر رکھتے تھے ۔ انہیں ہر دور کے بنیادی علوم پر عبور حاصل تھا ، ان علوم پر اپنی ناقدانہ نقطہء نظر سے پورے دلائل کے ساتھ عام قاری پر اس کوواضح بھی کیا ۔ان کے زیرِ مطالعہ کتب کے صفحات پر ان کے حاشیے گواہی دیتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی عام قاری نہیں بلکہ بہت وسیع اور بلند و بالا ذہنی و علمی افق کا حامل اور صاحب علم و قلم شخص ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قارئین بھی جب ان کے کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک ہی موضوع پر کئی علمی حوالے اور دلائل نظر آتے ہیں ۔ مولانا مودود ی ؒکی ہر کتاب اس بات کی غماز ہے کہ ان کا مطالعہ کتنا وسیع ہے۔ مولانا مودودی ؒکا وسیع لٹریچر کا مطالعہ ہر کسی کو حیران کردیتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے کے ہر مسئلے کو کسی ایک پہلو کی مختصر و محدود نظر سے غور نہیں کرتے بلکہ وہ جب کسی مسئلے پر بولتے یا قلم اٹھاتے ہیں تو اس کے تمام پہلو وؤں کو دلائل اور حوالوں سے زبان و بیان کی سلاست و متانت کے ساتھ ثابت کرجاتے ہیں۔ دراصل اس طرح کے کارنامے کے لیے ہمہ گیر نگاہ درکار ہوتی ہے ۔زندگی کی وسعتوں کا احاطہ کرنے والے ذہن کے ساتھ ساتھ آدمی کے اندر علم کا سمندر ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ان کا مطالعہ اس بات کا شاہد ہے کہ انہوں نے پچاس برس کی عمر تک اتنا ٹھوس، علمی اور معیاری لٹریچر اتنی ضخامت کے ساتھ مرتب کرڈالا ۔ یہ لٹریچر نہ صرف اسلام بلکہ اردو ادب کے تمام اسالیب کا انسائیکلوپیڈیانظر آتا ہے۔ انگریزی میں اخبارات ، رسائل اور کتب کا مطالعہ از خود کر تےتھے ۔ تاریخ ، فلسفہ ،سیاسیات،معاشیات، مذہبیات اور عمرانیات کی مشکل کتابیں پرھنے اور سمجھنے پر قادر ہوتھے۔ مولانا مودود ی ؒ کی ہر کتاب اس بات کی غماز ہے کہ ان کا مطالعہ کتنا وسیع ہے۔ وہ جدید علوم و افکار پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ان کی اصلی خوبی یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت پر گہری نظررکھتے ہیں۔ قرآن کا انہوں نے ایک اسکالر کی طرح مطالعہ کیا ہے اور برابر اس پر تدبر کرتے رہے ہیں۔ کسی بھی زمانے میں نئی فکری جہتوں کو بڑے پیمانے پر قبول نہیں کیا جاتا اور اس وقت تک پوری قوت کے ساتھ رد کردیا جاتا ہے جب تک کہ اس کو مضبوط عقلی دلائل کے ساتھ پیش نہ کیا گیا ہو ۔سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒاپنے زمانے میں ایک ممتاز کرشماتی اسکالر کے طور نمودار ہو ئے۔ جو فکر کے لحاظ سے بہت ہی روشن اور اعتدال ومتوازن سوچ رکھنے والے دانشور کے طور دنیا کے سامنے متعارف ہوئے ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒایک وقت میں مصنف، ایک ادیب، ایک عالم دین، ایک ماہر تعلیم، ماہر تنظیم، انقلاب پسند داعی اور ایک سیاسی لیڈر کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی مفکر ( Revolutionary Thinker) بھی تھے۔ مولانامودودیؒ ایک دلنشین مصنف، سحر انگیز انشاء پرداز، اسلامی اسکالر، مفکر اور مفسرقرآن کے ساتھ ساتھ معاصر احیاء و اقامت دین کے لیے سرگرم عظیم الشان تحریک جماعت اسلامی کے بانی بھی تھے۔ مولانا مودودی ؒ ؒاپنے ہم عصر علماء کے اندرایک جاندار اور عہدساز ا ٓواز تھے۔مولانا کے نظریۂ اسلام نے مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کئی اسلامی جماعتوں اور شخصیات کو متاثر کیا ہو ا ہے۔آپ کی توضیحی مطالعہ اسلام نے فکر احیاء دین کے اظہار و بیان پر گہرے نقوش ثبت کئے۔ اسلامی انقلاب کو معرض وجود میں لانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے مولانا مودودی ؒ بیک وقت دو طریقہ کار پر عمل پیرا ہوئے۔ ایک یہ کہ اُمت مسلمہ کے اندر ایک متبادل نظریاتی قیادت کی فراہمی کے لیے انہماک اور دوسری طرف سماجی تبدیلی کی جدوجہد میں ہمہ جہت انداز میں مصروف عمل ہوگئے۔ نعیم صدیقی کے بقول " سب سے بڑا کمال یہ کہ زندگی کے مختلف شعبوں ، پہلوؤں،موضوعات،اور مسئلوں پر ہزاروں صفحات کا یہ لٹریچر جس فکر کو سامنے لاتا ہےوہ ایک ہی نظریے کے سرچشمے سے ظہور پاتی ہیں ۔تمام کی تمام متفرق بحثیں ایک ہی جڑ سے پُھوٹتی ہیں ، ایک ہی مقصد ہر جگہ بول رہا ہے،ایک ہی آئیڈیا لوجی کی روشنی ہر جگہ پھیلتی نظر آتی ہے۔ اس دفتر کے دفتر کا شیرازہ ایک ہی طرز ِ فکر نے باندھ رکھا ہے۔ یہ ہے وہ وجہ عظمت جس نے مودودی ؒ کو ایک امتیازی درجے کا مفکر بنادیا ہے"مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒنے مغربی فکر و تہذیب سے مرعوبیت کو ختم کرکے مغربی دانش وروں کے اعتراضات کی تردید عقلی و منطقی دلائل سے کرتے ہوئے ان کا زبردست مقابلہ کیا ۔وہ ان چند اسلامی مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے استعماریت کے مذموم مقاصد اور مغربی فکر و فلسفہ کا بر وقت صحیح ادراک کرنے کے بعد اس کے تدارک کے لیے فکری جہاد بھی کیا ۔ ان کی فکر ابتداء ہی سے دفاعی نہیں بلکہ اقدامی نوعیت کی تھی ۔ ان کے افکار میں مرعوبیت اور معذرت پسندانہ لہجے کا شائبہ تک نہیں تھا ۔وہ امام غزالی، علامہ ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی طرح اپنے دور کے تمام سوالات کے جوابات اسلام کی روشنی میں دیتے رہے اور اپنی تحریروں کے ذریعے فکر اسلامی کی توضیح و تشریح کی ۔ وہ اس مغربی فکر و تہذیب کے طلسم کو توڑ کران کے دانش وروں پر بھی زبردست فکری حملہ کیا جو اسلام اور اس کی تہذیب کو ماضی کا قصہ اور فرسودہ تصور کرتے تھے۔ مولانا مودودی ؒبیسویں صدی کے وہ مفکر و دانشورتھے جنہوں نے اسلام کو نہایت پرزور اور مدلل انداز میں دنیائے انسانیت کے لیے متبادل قرار دیا اور اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں کے لیے قابل عمل ثابت کیا۔مولانا مودودی ؒنے قرآن اور حدیث اور اجتہاد میں ترتیب قائم کرکے ان کی اہمیت و افادیت بیان کی اور مسلمانوں میں اسلامی فکر کے احیاء کی تحریک پیدا کی۔اسی مؤثر نظریہ فکر و دانش کے بدولت اہل علم کے ایک وسیع طبقے کی توجہ کا مرکز بنے۔
مولانا مودودی ؒنے فکر اسلامی پر بے مثالی لٹریچر تخلیق کرتے ہوئے مفکرین اور مصنفین کی فکری نشوونما کے لیے کار ہائے نمایاں انجام دیا ۔بہ قول رائے جیکسن (Roy Jackson )” آج مولانا مودودی ؒکی فکر اور تحریریں نہ صرف عالم اسلام اور مغربی دنیا میں بھی مستقل طور پر پڑھی جارہی ہیں اور اسلامی احیاء کے جدید عنوانات پر مسلسل ان کی تحریروں سے استفادہ کیا جارہا ہے“ ۔ مرزا ادیب کے الفاظ میں،” انہوں نے کسی دقیق مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے ادبی لطافتوں کو نظرانداز نہیں کیا ۔ان کے یہاں دلائل کی منطقیت اور ادب کی چاشنی دونوں چیزیں اس انداز میں ہم آہنگ ہوتی ہیں کہ ان میں امتیاز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قوت استدلال پر ڈاکٹر خورشید احمد لکھتے ہیں : ” مولانا مودودی ؒکی تحریروں میں دلیل کی قوت اور منطقی ربط ہے۔ان کے دلائل محکم ہوتے ہیں اور پوری تحریر میں بلا کا نظم پایا جاتا ہے ۔اگر قاری ان کے ابتدائی مقدمہ (preface) سے اتفاق کرے تو پھر اس کے لیے آگے کے مباحث سے اختلاف نا ممکن ہوجاتا ہے۔وہ قاری کو قدم بہ قدم دلیل کی قوت سے اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں اور آخر میں پڑھنے والا محسوس کرتا ہے ’’میں نے جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘۔مولانا مودودیؒ نے سنجیدہ علمی، سیاسی اورتمدنی مسائل پر کلام کیا ہے اور اردو کو ہر قسم کے مسائل کیلئےذریعہ اظہار بنایا ہے۔ ان کو عربی اور انگریزی پر بھی اتنی قدرت حاصل تھی کہ وہ ان میں راست گفتگواور تحریر کرسکتے تھے ۔ مگر انہوں نے اُردو کو اپنی تحریری زبان بنایا اور اسکی سختی سےپابندی کی ۔ انکی زبان دلی کی ٹکسالی زبا ن تھی۔ ان کی تحریروں میں کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ انسان ماضی کے کسی دور میں سانس لے رہا ہے بلکہ مستقبل کے تصورات قائم ہونے لگتے ہیں ۔ ان کے اسلوب میں دونوں خصوصیات نمایاں نظر آتی ہیں ۔ ان کی تحریریں ابہام سے پاک ہوتی ہیں ۔ ان کا ابلاغ تمام اور اظہار کامل ہے اور یہ نتیجہ فکر کی پختگی اور صلابت اور زبان و ادب پرمکمل قدرت کا ہے۔ الفاظ کا انتخاب ، جملوں کی ترکیب، عبارت کی بندش وتقسیم اورمضامین کی ترتیب ملکر ان کی تحریر کو واضح اور محکم بناتے ہیں۔ ان کا ہرمقالہ ایک ایسی دلکش تصویر کے مانند ہوتا ہے جس کا ہر خط واضح اور موزوں اور ہر رنگ مناسب اور نمایاں ہوتا ہے ۔ ان کی دلیل سے اتفاق یا اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کی تحریر کو مبہم اورغیر واضح کبھی نہیں کہا جاسکتا۔ وہ الفاظ کو ایک ماہر صناع کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ اور ان کے خیالات کو ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں ۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے نثری کلام میں کہیں کہیں طنز و ظرافت کا رنگ بھی ملتا ہے ۔ مولانا کی ذہانت ان کی تحریروں میں بڑے لطیف طنز و ظرافت کے شگوفے پیدا کردیتی ہے ۔ ان کے طنز کا دائرہ مقامی، ملکی اور بین الاقوامی معاملات تک پھیلا ہوا ہے ۔مولانا مودودی ؒ کی مذکورہ خدمات بحیثیت دانشور،مصنف اور ادیب ایک زندہ حقیقت ہے جسے دانش ، فکر و ادب کے ایوانوں میں صدیوں تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔
***
کتابیات و حوالہ جات ۔
1۔("مولانا مودودیؒ کی نثر نگاری “؛ مرتب ڈاکٹر امتیاز احمد، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، جامعہ نگر، نئی دہلی، اشاعت جنوری 2010ء صفحہ نمبر 12)
2۔("مولانا مودودیؒ کی نثر نگاری “؛ مرتب ڈاکٹر امتیاز احمد، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، جامعہ نگر، نئی دہلی، اشاعت جنوری 2010ء صفحہ نمبر 15)
" مولانا مودودیؒ کے انٹرویوز میں وہ اپنے بچپن کے متعلق۔
3۔("مولانامودودی ؒکے انٹرویوز؛"مرتب: ابوطارق ایم اے، مرکزی مکتبہ اسلامی،چتلی قبر، نئی دہلی،اشاعت اکتوبر 1994ء صفحہ 103 تا 104 )
4۔("مولانامودودی ؒکے انٹرویوز"؛ مرتب: ابوطارق ایم اے، مرکزی مکتبہ اسلامی،چتلی قبر، نئی دہلی،اشاعت اکتوبر 1994ء صفحہ 104 تا 105)
5۔("مولانامودودی ؒکے انٹرویوز ؛مرتب: ابوطارق ایم اے، مرکزی مکتبہ اسلامی،چتلی قبر، نئی دہلی،اشاعت اکتوبر 1994ء صفحہ 105 )
6۔("مولانامودودی ؒکے خطوط" ؛ سیدامین الحسن رضوی، ناشر:مرکزی مکتبہ اسلامی، 1353 چتلی قبر،دہلی، اشاعت: 1993ء صفحہ 42تا44 )
7۔("مولانامودودی ؒکے خطوط، سیدامین الحسن رضوی، ناشر:مرکزی مکتبہ اسلامی، 1353 چتلی قبر، دہلی، اشاعت: 1993ء صفحہ 26تا27 )
Syed Sultan Pasha
Research Scholar, Department of Translation,
Maulana Azad National Urdu University
Hyderabad
***
📚 New Research Article Published
Maulana Syed Abul A‘la Maududi (RA): As a Scholar, Author and Literary Figure
✍️ Syed Sultan Pasha
Research Scholar, Department of Translation, MANUU, Hyderabad

No comments:
Post a Comment