سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنماؤں، خواتین، انقلابی تحریک اور ادب و صحافت کے کردار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)
تحریکِ آزادی سے مراد وہ منظم جدوجہد ہے جو کسی قوم یا ملک کے لوگ غیر ملکی غلامی، استعماری حکومت یا جابرانہ اقتدار سے نجات حاصل کرنے اور آزادی، خودمختاری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے کرتے ہیں،ہندوستان کے تناظر میں تحریکِ آزادی سے مراد وہ طویل جدوجہد ہے جو ہندوستانی عوام نے تقریباً 1857ء سے 1947ء تک برطانوی حکومت کے خلاف کی اس تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا، جن کے نتیجے میں 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، یعنی
‘‘تحریکِ آزادی وہ اجتماعی جدوجہد ہے جس کے ذریعے کوئی قوم غیر ملکی یا جابرانہ حکومت سے نجات حاصل کر کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرتی ہے،،
ہندوستان کی تحریک آزادی دنیا کی عظیم ترین عوامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے، یہ صرف برطانوی استعمار سے نجات کی جدو جہد نہیں تھی بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قومی یکجہتی، باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی ایک بے مثال داستان بھی تھی، آزادی کی اس تحریک نے ہندوستانیوں میں یہ احساس مذہبی لسانی اور علاقائی اختلاف سے بالا تر ہو کر ایک متحد قوم کی حثیت سے ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے یہی قومی یکجہتی ہندوستان کی آزادی کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوئی، اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت قومی یکجہتی ہی تھی، جس نے مذہب، زبان، ذات، نسل اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہندوستانیوں کو ایک مشترکہ مقصد، یعنی آزادیِ وطن، کے لئے متحد کیا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکساں جوش و جذبے کے ساتھ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی،یہی اتحاد ہندوستان کی آزادی کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوا۔
