Breaking News

New Issue Published • Sepember 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • ستمبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Sunday, September 6, 2026

برطانوی سامراج اوراردوکامزاحمتی ادب


پروفیسر سید محمود کاظمی کا یہ اہم تحقیقی مضمون "برطانوی سامراج اور اردو کا مزاحمتی ادب" اردو ادب میں مزاحمت، قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف ادبی اظہار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں غالب، بہادر شاہ ظفر، چکبست، اقبال، جوش، پریم چند اور دیگر شعراء و ادباء کے حوالے سے برطانوی سامراج کے خلاف اردو ادب کے مزاحمتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

 پروفیسرسید محمود کاظمی

ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ  کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ  ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو  ؎ 

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی

دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 

 اردوکے سب سے بڑے اوردنیاکے عظیم شاعروںمیں شامل اسدللہ خاں غالب کے خطوط میںبھی ملک کی پہلی جنگ آزادی یعنی انقلاب اٹھارہ سوستاون کے فوراً بعد کے حالات کی عکاسی اور انگریزحکمرانوںکے ذریعے دہلی کے بے گناہ باشندوںاور مغل شاہی خاندان کے افراد پرڈھائے گئے بے پناہ مظالم پر دبی دبی ہی سہی صدائے احتجاج سنائی دیتی ہے۔ غالب نے کہیں راست توکہیں بین السطور یعنی (Between the lines)جن جذبات واحساسات کااظہار کیاہے وہ قابل غور بھی ہیں اور قابل ستائش بھی ۔میںصرف دو مثالیں دوںگا:

’’مبالغہ نہ جاننا امیرغریب سب نکل گئے۔جو رہ گئے تھے وہ نکالے گئے۔گھرکے گھر بے چراغ پڑے ہیں۔کم زوروبے بس بادشاہ پر مقدمہ چل رہا ہے۔‘‘  

(خط بنام:مرزاہرگوپالتفتہ)

’’تم یہاںہوتے اور بیگمات قلعہ کوچلتے پھرتے دیکھتے۔صورت ماہ دوہفتہ کی سی اور کپڑے میلے ۔پائنچے لپرلپر،جوتی ٹوٹی۔‘‘ 

  (خط بنام :ہرگوپال تفتہ)

غالب کے مندرجہ بالا الفاظ میں وہ کرب واضح طورپر موجود ہے جو دہلی کی تباہی وبربادی اور مغل شہزادیوںکی بے سروسامانی دیکھ کر ان کے دل میں پیدا ہواتھا۔ وہ انگریزوں کے ظلم وستم کے خوف سے کھل کر اپنے جذبات کااظہار بھلے نہ کرسکے ہوںلیکن اپنے خطوط میں انہوںنے جا بجاہمیں پہلی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد دہلی کی تباہی وبربادی اور بے گناہ انسانوںپر ہونے والے مظالم کی الم ناک تصویریں دکھانے کی کوشش کی ہے۔انگریزحکمرانوںکے ہاتھو ںدہلی کی تباہی کاکہیں راست اور کہیں اشاروں کنایوںمیں انہوںنے اپنے اشعار میں بھی ذکرکیاہے۔ ’’اک شمع رہ گئی ہے  سووہ بھی خموش ہے‘‘ سے غالب کس طرف اشارہ کررہے تھے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک استعاراتی زبان تھی لیکن درج ذیل دواشعار تو انتہائی صاف گوئی سے دہلی کی تباہی کی کہانی کہتے ہیں   ؎

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے 

گھربنا ہے نمونہ زنداں کا

کوئی واں سے نہ آسکے یاں تک 

آدمی واں نہ جاسکے یاں کا 

 غالب نے اپنی فارسی تصنیف’’ دستنبو ‘‘میںبادشاہ دہلی بہادرشاہ ظفرکوایک ایساچاند قراردیاہے جو گہن میں آگیا ہے۔ بظاہر یہ جملہ ایک سادہ سا جملہ ہے لیکن اگر ہندواساطیر میں موجود چاند گرہن کے حوالے سے راہواور کیتو کی روایت کوسامنے رکھاجائے تو چاند یعنی بہادرشاہ ظفراس بے بسی و مجبوری کااستعارہ قرارپاتے ہیں جو راہووکیتوجیسے راکشسوں کے ذریعے چاند کو نگل جانے کی کوشش کے نتیجے میںپیداہوئی ہے۔صاف ظاہر ہے کہ ان راکشسوںسے مراد وہ برطانوی سامراج ہے جس نے ہندوستانی قوت واقتدار کی سب سے بڑی علامت مغل بادشاہ کو اپنی گرفت میں اس طرح لے لیا تھا کہ وہ محض ایک مظلوم و مجبور شخص بن کر رہ گیا ۔غالب ہی کیوںمصحفی نے توراست انگریزوںکانام ہی لیا تھااوراس وقت یہ انتہائی جرأ ت وہمت کی بات تھی۔ مصحفی کاشعرملاحظ ہو :

ہندوستاں کی دولت وحشمت جو کچھ  کہ  تھی 

ظالم فرنگیوںنے بہ تدبیر کھینچ لی 

غالب ومصحفی کے علاوہ بہادرشاہ ظفر جوخودبھی شاعر تھے، انگریزی استعمار کے الم ناک نتائج بیان کرتے ہوئے گلشن ہند کواُجڑادیار اورخودکو ’’بلبل قیدقفس‘‘قراردیتے ہیں۔ان کے ذاتی وشخصی المیہ سے قطع نظر کہ جس کی گونج ان کی دومشہورزمانہ غزلوں’’لگتانہیں ہے دل مرااجڑے دیارمیں ‘‘ اور ’’نہ کسی کی آنکھ کانور ہوں نہ کسی کے دل کاقرارہوں‘‘ میں سنائی دیتی ہے ،کی ایک اورغزل کے درج ذیل دواشعار ملاحظہ ہوں   ؎

یہ رعایا ہند تباہ ہوئی کہوں کیا کیا ان پہ جفا ہوئی

جسے  دیکھا  حاکم  وقت نے ، کہا  یہ  بھی  قابل دار  ہے

نہ تھا شہردہلی ،یہ تھاایک چمن،کہوںکس طرح کاتھایاں امن

جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے

غالب و بہادرشاہ ظفرکے علاوہ اردو کے بے شمار شاعروںکے باغیانہ اشعار انگریز حکمرانوں اورایسٹ انڈیاکمپنی کے اہل کاروںکے ہاتھوں ضبط کر لیے جانے  کے سبب ہم تک نہیں پہنچ سکے ۔ امداد صابری اپنی تصنیف ’’اٹھارہ سوستاون کے مجاہدشعراء ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان کی اس پہلی جنگ آزادی میں پینتالیس شعراء کو سزائے موت دی گئی جن میں مولاناامام بخش صہبائی بھی شامل ہیں۔ان شعراء کے علاوہ قربان علی سالک نے ’’انقلاب دہلی‘‘ اور’’ بازار موت‘‘ جیسی نظمیں لکھ کر اس ظلم اور قتل وخون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جس کاشکار بے گناہ ہندوستانی عوا م ہورہے تھے۔ ظہیر دہلوی کی نظم ’’ہنگامہ ٔ داروگیر‘‘ ،محمدعلی تشنہ کی ’’دارورسن‘‘، محسن خان کی ’’مصیبت دہلی ،داغ دہلوی کی ’’انقلاب دہلی‘‘ اورحالی کی ’’دہلی مرحوم ‘‘جیسی نظموں کافکری کینوس بہت وسیع نہ سہی اوریہ آج حب الوطنی کے اس معیار پر بھلے ہی پوری نہ اترتی ہوںجوجدید نیشنل ازم کے مختلف تصورات کے حوالے سے ہم تک پہنچاہے لیکن وطن سے محبت اوراسے لوٹ کربربادکردینے والوںسے نفرت کاعنصر ہمیں ان شعراء کے کلام میں نظرآتا ہے۔ اسی موقع پر اودھ کے فرمانروا واجدعلی شاہ کی ایک طویل نظم کابھی ذکرکرناضروری ہے جوخود میں ایک پوری تاریخ کوسمیٹے ہوئے ہے۔مخمس کی ہئیت میں تحریرکی گئی اس نظم کوواجد علی شاہ نے اُس وقت لکھا تھاجب سقوط لکھنؤ کے بعد انہیں جلاوطن کرکے کلکتہ بھیجاجارہا تھا۔ اس نظم سے ایک شعرملاحظ ہو   ؎

در و دیوار پر حسرت سے نظر کرتے ہیں

رخصت اے اہل وطن ہم توسفر کرتے ہیں

یہی وہ زمانہ تھا کہ قومی و ملی شاعری انگریز حکومت کے خلاف ایک موثرصدائے احتجاج بن کرسامنے آئی۔منیرشکوہ آبادی ،صدرالدین آزردہ ،قربان علی بیگ سالک ،غلام دستگیر مبین وغیرہ نے بھی شہرآشوب لکھ کر عام لوگوں کی بدحالی اور سماجی و معاشی ابتری کاذکرکرتے ہوئے راست نہ سہی لیکن اشاروں اشاروں میں ہی انگریز ی حکومت کوہندوستانی قوم کی اس بدحالی اور بے سروسامانی کاسبب قرار دیا ہے۔غلام دستگیر مبین کے یہ دواشعار ملاحظہ ہوں   ؎

کہو کیوںکر ہو اپنی زندگی

کوئی جائے امن نہیں رہی

کہیں تیغ موت کھنچی ہوئی

کہیں پھانسی ہے کہیں دار ہے

یہ وہ دورتھا جب برطانوی اقتدار اپنے عروج پرتھا۔ ہندوستان انگریزوںکے قائم کردہ ایک ایسے نوآبادیاتی نظام کاحصہ بن چکا تھا جس کے سلسلے دوردورتک پھیلے ہوئے تھے۔برطانوی سامراج کے اس دورعروج میںاردو کی تین اہم شعری آوازیں منظرعام پرآئیںجنہوںنے ہندوستان کے قومی جذبات واحساسات کی بھرپورترجمانی کی ۔یہ آوازیںبرج نارائن چکبست (متوفی ۱۹۲۶ء) اقبال(متوفی ۱۹۳۸ء)اور جوش ملیح آبادی(متوفی ۱۹۸۲ء )کی تھیں ۔ ان تینوںشعرانے ہندوستان کی آزادی وخودمختاری کے تعلق سے  اپنے خیالات کااظہار کیاجن سے ملک میں پائے جانے والے قومی جذبات واحساسات کی عکاسی ہوتی ہے۔ چکبست کے قومی شعورکی تشکیل میں قدیم ہندوستان کی تاریخ کے ساتھ عصری سیاسی وسماجی تحریکات نے بھی اہم کرداراداکیاتھا۔اینی بیسنٹ کی ہوم رول تحریک سے وہ جذباتی وابستگی رکھتے تھے کیوںکہ اس وقت تک مکمل آزادی کانصب العین سامنے نہیں آیاتھا۔ چکبست کے سیاسی تصورات وخیالات عام طورپر اس وقت کے سیاسی قائدین تلک اور گوگھلے سے مستعارتھے لیکن ان کے اظہارمیں چکبست نے اپنے تاریخی شعور اور ہندوعقیدہ ومذہب کی اساطیری روایات سے بھی کام لیاہے۔ جہاںتک ان کی شاعری کے فنی پہلوئوں کاسوال ہے،ان کا معیارسخن لکھنٔو کی وہی ادبی وشعری روایت تھی جو میرانیس نے مرثیے کے حوالے سے قائم کی تھی۔ وہی زوربیان اوروہی سادگی و پرکاری چکبست کے یہاںبھی پائی جاتی ہے جس کی بناء پرانیس کو شہرت حاصل ہے۔ان کے عم عصرسرتیج بہادرسپرونے اپنے مضمون چکبست کی شاعری کی خصوصیات میں لکھاہے:

’’پنڈت برج نارائن چکبست کا ادبی مذاق خاص الخاص لکھنوی ہے اوروہ لکھنٔو کے ادبی رنگ میں ازسرتاپا ڈوبے ہوئے ہیں۔۔۔۔ان کے طرزبیان پر لکھنٔوکی ٹکسالی زبان کی مہرلگی ہوئی ہے۔ لیکن باایں ہمہ ان کودورجدید کے شاعر ہونے کاخاص طورپرامتیازحاصل ہے۔‘‘   ۲؎  

چکبست کے جذبۂ حب الوطنی کااظہاران کی اہم نظموںخاک ہند،وطن کاراگ،فریادقوم،پیام وفااورآوازۂ قوم وغیرہ میں ہواہے ان نظموں پرنظرڈالیے تو ایسالگتا ہے کہ چکبست نے صرف اپنے جذبات واحساسات کو ہی نظم نہیں کیاہے ہیں بلکہ آزادی وجذبۂ حریت کے تعلق سے اس وقت کے عام مزاج کی نمائندگی بھی کی ہے۔مثال ملاحظہ ہو   ؎

آج سے شوق وفا کا یہی جوہر ہوگا

فرش کانٹوں کا کہیں پھولوں کا بستر ہوگا

پھول ہوجائے گا چھاتی پہ جو قیصر ہوگا 

قیدخانہ جسے کہتے ہیں وہی گھر ہوگا 

سنتری دیکھ کے اس جوش کو شرمائیں گے

گیت زنجیر کی جھنکار پہ ہم گائیں گے

ان کایہ شعر تو ضرب المثل بن گیا   ؎

طلب فضول ہے کانٹوں کی پھول کے بدلے

نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے

اقبال کی وطنی وقومی شاعری ایک مخصوص فلسفیانہ طرزاظہار کی بناء پر قاری کواپنی طرف فوراً متوجہ کر لیتی ہے۔ چونکہ شاعر ہونے کے ساتھ ہی وہ ایک فلسفی بھی تھے اس لیے انہوںنے وطن اوروطنیت کے حوالے سے عام انسانی جذبات کی ترجمانی بھی کی لیکن غلامی ومحکومی  کے خراب نتائج اورانسانی زندگی میں آزادی وخودمختاری کی اہمیت وفوائد کے تعلق سے وہ جن فلسفیانہ افکار ونظریات کااظہار اپنی شاعری میں کرتے ہیں وہ ان امور کے بارے میں ان کے وسیع مطالعے کی دلیل ہیں ۔اقبال کی وہ نظمیں جن کاخاص موضوع حب وطن ہے ، اس وقت کے عام قومی جذبات کی صدائے بازگشت ضرورہیں لیکن بعدکی نظموں میں انہوں نے اس موضوع پر سنجیدگی سے لکھا ہے۔ اپنی ابتدائی نظموں ہمالیہ اورترانہ ٔ ہندی سے قطع نظرتصویردرد ،شعاع امید ،سیاست افرنگ اورخضرراہ وغیرہ میں انہوںنے جن خیالات کااظہار کیا ہے وہ غلامی وآزادی کوایک عالمی مسئلے کے طورپردیکھنے کی سنجیدہ کوشش قرار دی جاسکتی ہے۔چنداشعار ملاحظ ہوں   ؎

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب 

اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی

------

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر 

پھر سُلا دیتی ہے اُس کو حُکمراں کی ساحری

------

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

------

تری حریف ہے یا رب سیاست افرنگ 

مگر ہیں اُن کے پجاری فقط رئیس و امیر

اقبال کاجذبہ ٔ و طنیت بہت جلدایک واضح تصورانقلاب میں تبدیل ہوگیا۔یہ صحیح ہے کہ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ سب سے پہلے مجاہدآزادی بھگت سنگھ نے دیاتھا لیکن اس نعرے کی بنیاد میں جوتصورانقلاب ہے وہ اقبال کابخشاہوا ہے۔ اقبال کی شاعری سے ہی اردو کی قومی شاعری کو ایک فکری بنیاد فراہم ہوئی ہے   ؎

جس میںنہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی 

روح اُمم کی حیات کشمکش انقلاب

اقبال کے ساتھ ہی جوش ملیح آبادی کانام لیاجاناضروری ہے جنہیں شاعرانقلاب کہاجاتا ہے۔ جوش کاتصورانقلاب بھی رومانی زیادہ اورحقیقی کم ہے۔ انگریزحاکموںکے خلاف ان کے جذبات امنڈکرسامنے ضرورآتے ہیں لیکن ان میں زیادہ گہرائی نہیں پائی جاتی۔ ہاںیہ ضرورہے کہ ان کی نظموں سے ایک ایساجوش وولولہ پیداہوتا ہے جو انسان کو پیش قدمی کے لیے مجبورکردیتاہے۔جوش کے اس رویے کے لیے پروفیسراحتشام حسین نے ان کے دور کے اس سیاسی جمود کوذمہ دارقراردیا ہے جس نے ملک کی آزادی کے منتظر افراد کی قوت صبروقرار چھین لی تھی۔حقیقت جو بھی ہو جوش کاتصور بغاوت وانقلاب فکری گہرائی نہ رکھنے کے باوجود ان کے اپنے دور کی ضرورت تھا۔ ظاہر ہے کسی بھی انقلاب کے لیے طبیعت میںٹھہرائو اور قرار کی جگہ تحرک و بے چینی کا ہونالازمی ہے اور جوش اپنی ولولہ انگیز انقلابی نظموںسے وقت کی اس اہم ضرورت کوپوراکررہے تھے۔ اس ضمن میں پروفیسرشارب رودولوی کایہ خیال بالکل درست ہے کہ 

’’بغاوت کسی دلکش ودل آویز تصورکانام نہیںہے۔ وہ تورائج اقدارکی توڑپھوڑکانام ہی ہے اوراُس وقت جوش کے سامنے صرف ایک نقطۂ نظرتھا کہ کسی طرح بھی سامراجی حکومت کاخاتمہ ہو اورغلامی کی زنجیرٹوٹے۔‘‘  ۳؎

ہندوستان میںبرطانوی سامراج کی چیرہ دستیوں کے خلاف جوش نے جونظمیں لکھی ہیں ان میںبغاوت، ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوںسے خطاب، وطن،تلاشی،غلاموںسے خطاب،زنداںکاگیت وغیرہ اہمیت کی حامل ہیں۔ ان نظموںمیں خطابیہ اسلوب اظہار کی فراوانی ہے اور لہجہ انتہائی تندوترش اختیارکیاگیا ہے کہ یہ وقت کی ضرورت تھی۔ دراصل ہنگامی شاعری خواہ کتنی ہی اہم کیوںنہ ہوبہرحال اس کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ روسی زبان کے معروف شاعر ایلیااہرن برگ نے تو کہیں یہ کہابھی ہے کہ

’’ ادیب کوایسے ادب کی تخلیق پربھی قدرت ہونی چاہئے جوصرف ایک لمحے کے لیے ہو،اگراُس ایک لمحہ میں اس کی قوم کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہو۔‘‘   ۴؎

جوش کی انقلابی وباغیانہ شاعری پر اس مختصر گفتگو کے دوران آئیے ان کی مشہورنظم ’’زنداںکاگیت ‘‘ سے ایک بند بھی سن لیں   ؎

بھوکوںکی نظرمیں بجلی ہے توپوںکے دہانے ٹھنڈے ہیں

تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑرہی ہیں تدبیریں 

آنکھوںمیںگداکی سُرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاںکا

تخریب نے پرچم کھولاہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں

سنبھلو کہ وہ زنداں جھوم اُٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے

اُٹھوکہ وہ بیٹھی دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

جوش نے ظلم کے خلاف بغاوت کوعین ایمان قراردیاتھااور یہی سبب ہے کہ انہوں باطل کے خلاف حق کی سب سے بڑی اورعظیم الشان علامت حضرت امام حسین علیہ السلام کواپنی انقلابی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کا مشہور و معروف مرثیہ ’’حسین اورانقلاب‘‘ اردو میں مزاحمتی ادب کے ایک شاہکارکی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اردوکے رثائی ادب میں یہ مرثیہ اس لیے باعث انفرادیت ہے کہ اس میں حضرت امام حسین کو محض ایک مظلوم شخصیت کے بجائے معرکہ حق و باطل میں ایک ایسے ہیروکے طورپرپیش کیا تھا جو چند حق پرستوں کی ایک مختصر سی جماعت کے ساتھ اس وقت کی سب سے بڑی باطل قوت یزیدسے جاٹکرایاتھااورسرفروشی وقربانی کی ایک ایسی مثال قائم کی جو پھرکبھی دہرائی نہ جاسکی  ؎

دنیا تری نظیر شہادت لیے ہوئے 

اب تک کھڑی ہے شمع ہدایت لیے ہوئے

جوش اس دورکی ایک بڑی اورموثرانقلابی آواز کے طورپرسامنے آئے ۔دوسری عالمی جنگ کے دوران انہوں نے ’’ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب ‘‘جیسی انقلابی نظم لکھی جوشائع ہوتے ہی حکومت نے ضبط کرلی ۔اس نظم کے آخری دوشعر ملاحظہ ہوں  ؎

اک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کی 

جس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کی

وقت کا فرمان اپنارخ بدل سکتا نہیں

وقت ٹل سکتا ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں

اردوکی انقلابی شاعری کایہی وہ دورتھا جب دواشعار جدوجہدآزادی میں مصروف ہر ہندوستانی کے دل کوتڑپائے اورروح کو گرمائے ہوئے تھے۔ پہلاشعر بسمل عظیم آبادی کاہے جوعام طور پرپنڈت رام پرساد بسمل سے منسوب ہے اوردوسراوہ جس کے خالق اشفاق اللہ خاںقراردیے جاتے ہیں۔ یہ دونوں اشعار ملاحظہ ہوں   ؎

سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میںہے 

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بسمل عظیم آبادی

شہیدوں کی مزاروں پر لگیں گے ہر برس میلے

وطن پہ مٹنے والوں کا یہی باقی نشاں ہوگا

اشفاق اللہ خاں

سنجیدہ شاعری کے علاوہ اردوکامزاحیہ وطنزیہ شعری ادب بھی قومی جذبات واحساسات سے بے نیاز نہیں رہ سکا۔ سردار امرسنگھ،میلارام وفا،اسمعٰیل میرٹھی وغیرہ نے شگفتہ ومزاحیہ طرزاظہار کے ذریعے انگریزی حکومت کے خلاف اپنے جذبات دوسروں تک پہنچائے   ؎

اے فرنگی کبھی سوچاہے یہ دل میں تونے

اور پھر سوچ کے تجھ کوحیا بھی آئی

نامبارک تھا بہت ہند میں آنا تیرا

قحط آیا ترے ہمراہ وبا بھی آئی 

میلارام وفا                                                   

 واقعہ یہ ہے کہ اس طرز میں سب سے زیادہ شہرت جس شاعر کوحاصل ہوئی وہ اکبرالہ آبادی ہیں۔ اکبر نے ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت اوراس کی پیداکردہ خرابیوں کو ،جن میں مغربی تہذیب کاغلبہ سب سے اہم تھا،سخت تنقیدکانشانہ بنایا۔ صاحب،لیڈی،مرزا،جمن،بفاتی،لیڈر،کونسل،پائپ،ٹائپ وغیرہ جیسے ان گنت اردووانگریزی الفاظ کے استعمال سے اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانیوں کی انگریزپرستی، مغربی تہذیب کی اندھی نقل اور ہندوستانیوں کے ساتھ انگریزوں  کے امتیازی سلوک کوانہوں نے  طنزیہ ومزاحیہ اسلوب اظہاراور انگریزی الفاظ کے برمحل استعمال سے انتہائی دلچسپ پیرائے میں پیش کیا   ؎

کیوں نہ ہو ان سے مرے دل کو ملاپ

لاٹ صاحب ہیں ہمارے مائی باپ

۔۔۔۔

مرزا غریب چُپ ہیں ان کی کتاب ردی

بدھو اکڑ رہے ہیں کہ صاحب نے یہ کہاہے

۔۔۔۔

توپ کھسکی پروفیسر پہنچے

جب بسولہ ہٹا تو رندہ ہے

۔۔۔۔

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا

کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر

شاعری کے علاوہ جس نثری تخلیق میں سب سے پہلے پہلی جنگ آزادی کی جھلکیاںنظرآتی ہیںوہ ڈپٹی نذیراحمدکا ناول ’’ابن الوقت ‘‘ ہے۔ یہ ناول برطانوی معاشرت کے ہندوستانی تہذیب پراثرات اوراس کے تعلق سے ردوقبول کی دو مختلف صورتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ابن الوقت اور مولوی حجتہ الاسلام جدت وقدامت پرستی اور برطانوی طرز معاشرت سے اُنس و لگائو اور بے زاری و منافرت پرمبنی دو مختلف و متضاد رویوں کی نمائندگی کرتے نظرآتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ برطانوی استعمار کے اس دورمیں دوطرح کے ہندوستانی طبقے وجود میں آچکے تھے۔ ایک وہ جو برطانوی تہذیب اوراس کے بڑھتے اثرونفوذکو بہ نظر تحسین دیکھتا تھااور دوسرا وہ جواس بڑھتی ہوئی تہذیبی یلغار سے خوف زدہ تھا کیوں کہ اسے ہندوستانیوںکاقومی تشخص ختم ہوتانظر آرہاتھا۔ہندوئوںمیں را جہ رام موہن رائے(1772-1833)اور مسلمانوںمیں سرسیداحمدخاں(1817-1898)کی اصلاحی وتعلیمی تحریکات نے مغرب سے نفرت کی جگہ اس سے کچھ سیکھنے کے جذبے کوفروغ دیا ۔ ملک میں انگریزی تعلیم کے آغاز کا ایک بڑافائدہ یہ ہوا ہندوستانیوں کواس نظریہ ٔ وطنیت کوسمجھنے اور اختیار کرنے کا موقع ملا جواپنے اندرون وطن پرستی کی نئی تعبیرات رکھتاتھا۔ ابتداء میں جوناول اردومیں لکھے گئے ان میں سماجی اورمعاشرتی اصلاح کاجذبہ عام تھا ۔لیکن آگے چل کر یہ اصلاح پسندی ملک کی قومی تحریک کاحصہ بن گئی۔ مہاتماگاندھی نے صرف انگریزوں کے خلاف ایک ملک گیرقومی تحریک کی ہی نمائندگی نہیںکی بلکہ سماجی برائیوں مثلاً چھوت چھات، عدم مساوات، گندگی ، تشدد اور ہندوئوںاور مسلمانوںکے درمیان باہمی منافرت وتصادم کو ختم کرنے کے لیے بھی مہم چلائی۔ یہ سماجی وسیاسی تبدیلیاں ادبی وتخلیقی رویوںکوبھی متاثر کررہی تھیں۔بقول پروفیسرقمررئیس :

’’بیسویںصدی میں عالمی سطح اوراعلیٰ معیار کاایساادب بھی پیداہوا جونوآبادیاتی محکومی ،نسلی تفریق،سیاسی جبر،طبقاتی استحصال،جنسی نابرابری یاطبقۂ نسواںپرزبردستی کے خلاف تحریکوںیاپھر قومی آزادی کی اجتماعی تحریکوںسے جڑاہواتھااوریہ ساراادب ظلم وبیداد کی طاقتوںکے خلاف مقادمت اوراحتجاج کاعمل کہاجاسکتاہے۔‘‘   ۱؎

قمررئیس کے بیان کردہ ادبی رویے کی پہلی جھلک ہمیں سب سے پہلے پریم چند کے ابتدائی افسانوی مجموعہ ’’سوزوطن‘‘ میں نظرآتی ہے جسے۱۹۰۷ء میں شائع ہوتے ہی برطانوی سرکار نے ضبط کرلیاجس کی وجہ یہ تھی کہ پریم چند نے ’’دنیا کاسب سے انمول رتن‘‘ اس قطرۂ خون کوقرار دیاتھاجو مادروطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے سپاہی کے جسم سے زمین پرگرتاہے۔پریم چند کے اس افسانے کاآخری حصہ ملاحظہ ہو:

’’دل فریب کھڑی ہوگئی اوردست بستہ ہوکر دل فگارسے بولی۔’’اے عاشق جا نثار دل فگار! میری دعائیں تیر بہدف ہوئیں اورخدانے میری سن لی۔ اورتجھے کامیاب وسرخ روکیا۔آج سے تو میراآقاہے اور میں تیری کنیز ناچیز۔‘‘ یہ کہہ کراس نے ایک مرصع صندوقچہ منگایا اوراس میں سے ایک لوح نکالا جس پرآب زرسے لکھاہواتھا۔’’وہ آخری قطرۂ خون جو وطن کی حفاظت میں گرے ،دنیاکی سب سے بیش قیمت شئے ہے۔‘‘

(افسانہ: دنیاکاسب سے انمول رتن )

      اسی موقع پر سعادت حسن منٹو کاافسانہ’’نیاقانون‘‘ بھی ذہن میں آتا ہے کہ جس کاپس منظر بھی برطانوی سامراج کی ظالمانہ حکومت اوراسی حکومت کے ذریعے ہندوستانیوں کو بے وقوف بنانے کے لیے ایک نئے قانون کے نفاذکااعلان کیاجاناہے جس کے وجودمیں آنے سے ہندوستانیوںکو محدود ہی سہی لیکن کچھ اختیارات مل جائیں گے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ نیاقانون یکم اپریل کو نافذکیاجاناتھاجو اہل یورپ کے نزدیک لوگو ں کو بیوقوف بنانے کادن ہوتاہے۔ افسانے کا مرکزی کردار سادہ لوح منگوکوچوان اس نئے قانون کی آمدکاشدت سے انتظار کرتا ہے کیونکہ اسے اس انگریز سے بدلہ لیناتھا جواس کے تانگے پرزبردستی سوار ہوجایاکرتا تھااور کبھی کرایہ ادا نہیں کرتا تھا۔یکم اپریل کی صبح وہ نئے قانون پریقین کرکے اس انگریز سے ہاتھاپائی کے نتیجے میں جیل پہنچادیا جاتا ہے۔ افسانے کاآخری منظرملاحظہ ہو:

’’لوگ جمع ہوگئے اور پولیس کے دوسپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کواستاد منگوکی گرفت سے چھڑایا۔ستادمنگوان دوسپاہیوں کے درمیان کھڑاتھا۔اس کی چوڑی چھاتی پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے اوپرنیچے ہورہی تھی۔منہ سے جھاگ بہہ رہاتھااوراپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کروہ ہانپتی ہوئی آوازمیں کہہ رہاتھا۔

’’وہ دن گزرگئے جب خلیل خا ں فاختہ اڑایاکرتے تھے۔اب نیاقانون ہے میاں نیاقانون!‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔استادمنگو کوپولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے ۔راستے میں اورتھانے کے اندرکمرے میں وہ’’نیاقانون‘‘،’’نیاقانون‘‘ چلاتارہامگرکسی نے ایک نہ سنی ۔

’’نیاقانون، نیاقانون کیابک رہے ہو؟۔۔قانون وہی ہے پرانا!‘‘ اوراس کوحوالات میں بند کردیاگیا۔‘‘(افسانہ: نیاقانون)

برطانوی سامراج کے خلاف قومی جذبات اور باغیانہ خیالات اردو شعروادب کی روایت کاابتداسے ہی حصہ رہے ہیں۔کہیں ان کااظہار انگریزوں کے ظلم واستبداد کی وجہ سے اشاروں کنایوںاور استعاراتی اسلوب اظہار کے تحت کیاگیا اور کہیں شعراء وادباء نے خاصی برہنہ گفتاری سے بھی کام لیاہے۔شعری ادب ہویافسانوی ادب تحریک آزادی  اوراس کے جملہ مقاصد سے مکمل وابستگی اردوکے بیشتر ادیبوں اورشاعروں کے یہاں پائی جاتی ہے۔ حیات اللہ انصاری کاپانچ جلدوں پر مشتمل طویل ترین ناول’’لہوکے پھول‘‘، خواجہ احمدعباس کاناول ’’انقلاب‘‘اگرچہ ہندوستان کی آزادی کے بعد لکھے گئے ہیں لیکن ان کے موضوعات برطانوی سامراج ،ہندوستان کی سیاسی غلامی،سفیدفام آقائوں کے ذریعے ملک کے وسائل پرقبضہ اورہندوستانیوں کامعاشی استحصال وغیرہ رہے ہیں۔ 

اردومیں مزاحمتی ادب کی ان مختلف صورتوں کایہ مختصرساجائزہ اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ برطانوی دور حکومت میں جو عام جذبات ہندوستانیوں کے انگریزوں کے خلاف تھے،ان کی عکاسی اردومیں بھی اسی طرح اوراسی شدت سے ہوئی ہے جس طرح ملک کی دوسری زبانوں میں۔ اصناف نثروشعرکی تمام صورتوں پرگرنظرڈالیے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اردوکے شعراء وادباء نے ملک میں نگریزوں کے خلاف جاری قومی تحریک سے نہ صرف یہ کہ فکری وجذباتی وابستگی رکھی بلکہ شعری و نثری ادب کے ذریعے اس کا فنکارانہ اظہاربھی کیا۔ خاص طور پراردو شاعری تو قومی جذبات اور آزادی کی تحریک نیزاس کے نصب العین کا شناخت نامہ قراردی جاسکتی ہے۔اور بالکل آخر میں وہ شعر جو برسوں قیدخانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر فضائے بسیط میں گونجتا رہا   ؎

غازیوں میں بو رہے گی جب تلک ایمان کی

تخت لندن تک چلے گی تیغ ہندوستان کی

۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات 

 ۱؎  ادب میںاختلاف،انحراف اور احتجاج کی معنویت ازپروفیسر قمررئیس مشمولہ اردوادب :احتجاج اور مزاحمت کے رویے مرتب ڈاکٹرارتضیٰ کریم ،ص ۲۴، ناشردہلی اردواکادمی،سنہ اشاعت ۲۰۰۴ء 

۲؎  چکبست کی شاعری کی خصوصیات از تیج بہادرسپرو،ص ۱۰۴،مشمولہ پنڈت برج نارائن چکبست :شخصیت اورفن،مرتب وناشرعزیز نبیل،سنہ اشاعت ۲۰۱۸ء 

۳؎  احتجاج کی منفردآواز: جوش ملیح آبادی ،مشمولہ  مشمولہ اردوادب :احتجاج اقر مزاحمت کے رویے مرتب ڈاکٹرارتضیٰ کریم ،ص۱۳۶، ناشردہلی اردواکادمی،سنہ اشاعت ۲۰۰۴ء 

 ۴؎  بحوالہ انقلاب ،آزادی اورجوش از علی احمدفاطمی مشمولہ جس کو جوش کہتے ہیں ،مصنف و مرتب علی احمدفاطمی،ص ۶۱،ناشر ایم آر پبلی کیشنز دہلی،سنہ اشاعت ۲۰۲۲ء

***

Professor Syed Mahmood Kazmi

Department of Translation,Maulana Azad National Urdu University (MANUU)Hyderabad, India

یہ مضمون قادرالکلام ماہنامہ کے اگست 2026ء، جلد 1، شمارہ 11 میں شامل ہے۔ مزید تحقیقی و ادبی مضامین کے لیے قادرالکلام کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔

No comments:

Post a Comment

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )

"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، اد...