تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • اگست 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Sunday, May 31, 2026

بانی مملکت آصفیہ آصف جاہ اول


 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی 

دکن کے سلاطین علم و فضل کے شیدا ہنر و کمال کے قدر دان تھے۔ ان میں سے خود بھی کئی ایک صاحب قلم و سخن تھے۔ بہمنی حکمرانوں کی شان و شوکت، داد و دہش اور قدر دانی فضل و کمال کا شہرہ دور دور تک تھا اور ایران، توران، شیراز، استرآباد، گیلان، سمرقند، قزوین، ہرات اور اصفہان وغیرہ سے ارباب فکر و دانش اور اہل علم و ادب سینکڑوں کی تعداد میں دکن چلے آئے جہاں ان کی بڑی قدر و منزلت ہوئی یہی وجہ ہے کہ دکن فارسی ادب میں ایرانیوں کا حصہ بہ نسبت مقامی لوگوں کے زیادہ ہے۔ بہمنی دربار میں شعر و سخن کی محفلیں گرم رہتیں شعراء قصائد سناتے اور منہ مانگی مراد پاتے۔ فرشتہ کے بیان کے مطابق فارسی کے پیغمبر سخن حافظ شیرازی کو بھی محمود شاہ بہمنی کی فیاضی اور علم دوستی نے دکن آنے کی دعوت دی تھی لیکن وہ کسی وجہ سے نہیں آسکے۔ بہمنیوں نے فارسی زبان کی ترویج و اشاعت میں بہت اہم حصہ ادا کیا اس عہد میں فارسی زبان کو نہ صرف درباری و سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا بلکہ اس کے تمدنی روایات نے دکن کی حیات اجتماعی پر گہرا اثر ڈالا اس کی بدولت دکن میں ایک خاص علمی و ادبی ماحول بھی پیدا ہوا اور دکن کے معاشرہ کو نیا رنگ و آہنگ عطا ہوا۔ فارسی کے تمدنی روایات نے مقامی روایات سے ہم آہنگ ہوکر ایک مخلوط معاشرہ اور بین قومی تہذیب کو جنم دیا جو ہمارا بیش قیمتی ثقافتی ورثہ ہے۔ بہمنوں کے تقریباً دو سو سالہ شاندار دور حکمرانی میں علم و ادب اور تہذیب و تمدن کو جو فروغ حاصل ہوا اس کی شاندار روایات بہمنی سلطنت کی جانشین سلطنتوں کو گویا ورثہ میں ملی تھیں۔ چاہے وہ نظام شاہی ہو، عادل شاہی ہو یا قطب شاہی یہ ساری سلطنتیں علم و فضل کی قدر دان معارف پرور، سلاطین بھی ذی علم، علم دوست اور فضل و کمال کے قدر دان و پرستار تھے اس سبب سے ان کے پایہ تخت ہمیشہ اہل کمال کا مرجع و مرکز بنے رہے۔ مذکور ہ بالا سلطنتوں کی جانشین سلطنت آصفیہ تھی جو ہر اعتبار سے سب سے آگے تھی۔ سلطنت آصفیہ دکن پر تقریباً ڈھائی سو برس بر سر اقتدار رہی اس مدت میں سات فرمانراواں نے حکمرانی کی۔ شاہان آصفیہ کی علم دوستی و علم پروری اپنی مثال آپ ہے۔ بانی سلطنت آصفیہ نواب قمر الدین علی خاں بہادر آصفجاہ اول علم و فضل سے خاص شغف رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ آصفجاہ اول کا تعلق ترکستان کے ایک خاندان سے تھا جس نے بڑے بڑے عالم اور صاحب کمال صوفی پیدا کئے اور دوسری طرف خود آصفجاہ اول کی ذات ستودہ صفات تھی۔ ان میں اپنے خاندانی علم و فضل اور وجاہت ذاتی کے جوہر بدرجہ اتم موجود تھے۔ اہل کمال کے دل سے قدر دان تھے۔ خود بھی شعر کہتے تھے چنانچہ فارسی کے دو دیوان ان کی یادگار ہیں۔ ایک میں آصفؔ اور دوسرے میں شاکرؔ تخلص فرماتے ہیں۔ آصف جاہ اول نے غزلوں کے علاوہ ایک مثنوی شیرین خسرو بھی لکھی تھی جو کافی مشہور ہوئی۔ فارسی کے علاوہ اردو میں بھی شعر کہتے تھے۔

Friday, May 29, 2026

عیدالاضحی کے موقع پر ’’قربان‘‘کے موضوع پر منتخب اشعار



 شاذیہ بیگم، (مدیر) 

 عید الاضحی مسلمانوں کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے جو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ ایثار، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کے جذبے کو تازہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

قربانی کا اصل مفہوم محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا اور دنیاوی لالچ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا، جو انسانی تاریخ میں اطاعت اور ایمان کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمایا اور اسماعیلؑ کی جگہ ایک دنبہ عطا فرمایا۔

عید الاضحی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات کو مقدم رکھنا چاہیے، چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ یہ تہوار ہمیں صبر، شکر اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ قربانی کے گوشت کو غرباء اور مستحقین میں تقسیم کرنا ہمیں سماجی مساوات اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔

آج کے دور میں قربانی کے اصل پیغام کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر ہم صرف رسم ادا کریں اور اس کے روحانی پہلو کو نظر انداز کر دیں تو ہم اس عظیم عبادت کے مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر عاجزی، محبت اور انسانیت کے جذبات کو فروغ دیں۔

منتخب اشعار

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں

وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا

انشا اللہ خاں انشا

عشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے

عید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا

شاد لکھنوی

Thursday, May 28, 2026

عید الاضحیٰ

 🌙✨

ماہ نامہ قادرالکلام کی جانب سے
تمام اہلِ اسلام کو عید الاضحیٰ کی دلی مبارکباد

اللہ تعالیٰ اس بابرکت عید کے صدقے ہماری عبادات، قربانیاں اور دعائیں قبول فرمائے،
اور ہماری زندگیوں کو امن، خوشی، محبت اور رحمت سے بھر دے۔

عید الاضحیٰ ہمیں ایثار، قربانی، اخوت اور انسانیت کا درس دیتی ہے۔
آئیے اس مبارک موقع پر محبتیں بانٹیں، رشتوں کو مضبوط کریں اور ضرورت مندوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔

🌸 عید مبارک 🌸
📚
قادرالکلام بلاگ



Wednesday, May 27, 2026

جدوجہد آزادی اورمولانا ابوالکلام آزاد کی صحافتی خدمات

 پروفیسر عرشیہ جبین

جدوجہدآزادی کے رہنمائوں میںاردو کے جن ادیبوں کا خصوصی حصہ رہاہے، ان میںمولانا آزادکا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ان کا نام اس لیے خاص ہے کہ انھوں نے کم سنی ہی میں لسان ا لصدق اور ۲۴؍ سال کی عمر میں الہلال جیسا اخبار نکالا۔ وہ ایک ذہین ، نڈر اور جرأت مند صحافی ہی نہیں تھے بلکہ اپنے وقت کے بے باک سیاسی رہبر، جادو بیان مقرر، معروف مفسرقرآن، رنگین بیان نثر نگار ،بلند پایہ فلسفی اور جہد آزادی کے اہم ستون تھے ۔ان کی شخصیت ہر پہلو سے منفردوممتاز تھی۔ان کا مطالعہ کافی وسیع تھا۔مذہب ،منطق و فلسفہ ،تاریخ و جغرافیہ اور معاشیات و ادبیات، غرض تما م علوم پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ وہ اپنے وقت کے مغربی ممالک کے حالات سے با خبر ہونے کے علاوہ مشرقی مسلم ممالک کے حالات سے باخبر تھے۔ بیسویں صدی کے عالمی تمدن کی پیچیدگیوں اور تہذیبی حالات پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ آزادکی ذہانت اور قابیلیت کا یہ عالم تھا کہ محض گیارہ برس کی عمر میں انھوں نے شاعری کے شوق کی بنا پر ایک گلدستہ نکالنے کا خیال کیا اور 1899ء میں ’’نیرنگ خیال ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا ۔حالاں کہ یہ رسالہ آٹھ مہینے کی مختصر سی مدت کے بعد بند ہوگیا لیکن اس طرح  انھوںنے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور بہ حیثیت صحافی لگا تار کئی اخبارات و رسائل سے وابستہ ہوئے۔1900 ء میںبارہ برس کی عمر میں انھوں نے ایک اخبار ’’المصباح ‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی۔1901 ء میں مولانا آزاد ہفتہ وار اخبار ’’احسن الاخبار ‘‘ سے وابستہ ہوئے ۔کچھ دنوں بعد یہ اخبار بند ہوگیا ۔مولوی احمد حسین نے تحفہ احمدیہ ‘‘ کے عنوان سے کلکتہ سے ایک اخبار جاری کیا، جس کی ترتیب اور تحریر کی ذمہ داری مولانا آزاد کو د ی،جسے انھوں نے بہ خوبی نبھایا۔اسی دوران ایک گلدستہ’ ’خدنگ نظر‘‘منشی نوبت رائے نظر لکھنؤ سے نکالتے تھے، اس کے حصۂ نثر کی ادارت کی ذمہ داری مولانا آزاد کے حصے میں آئی ،جسے انھوں نے حسن خوبی سے پورا کیا ۔
20؍ مئی1903ء کو محض پندرہ برس کی عمر میں باقاعدہ طور پر کوچہ ٔ صحافت میں قدم رکھا اور کلکتہ سے ماہنامہ’ لسان الصدق‘ جاری کیا۔اگرچہ کہ یہ اخبار بھی زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہا لیکن مولانا آزاد کی طرز تحریر کا جادو ایسا تھا کہ علمی حلقوں میں اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔1904 میں جب شبلی نے رسالہ ’’الندوہ‘‘ جاری کیا تو مولانا کی علمیت اور قابلیت کو دیکھ کر اس کی ادارت کی ذمہ داری انھیں سونپ دی۔1906 ء میں شیخ غلام محمد کے اصرار پر ’امرتسر سے نکلنے والے اخبار ’وکیل ‘‘ کی ذمہ داری بھی قبول کی۔اسی دوران ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا والد کے اصرار پر کلکتہ چلے گئے اور یہاںمولوی عبدالباری کے ہفتہ وار اخبار’’دارالسطنت‘‘ کی ادارت سنبھالی لیکن یہاںاخبار کے مالکان کی اخبار کی پالیسی اور وقت کے مسائل سے متعلق دخل اندازی مولانا کو پسند نہ آئی۔ بالآخر وہ اس اخبار سے علاحدہ ہوگئے۔
1907ء میں مولانا غلام محمد کے اصرار پر دوبارہ امرت سر گئے اور ’’وکیل‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری بہ خوبی نبھائی۔

Sunday, May 24, 2026

دسبتان شبلی کے نمائندہ شاعر سردار شفیق :ایک تنقیدی محاکمہ

 پروفیسر عالم اعظمی

الناس علیٰ دین ملوکہم کا اطلاقی افق کافی وسیع و عریض ہے۔ فاتح اقوام کی حکمرانی و فرمانروائی کے نقوش مفتوحہ سلطنتوں پر بہت دور تک اور بہت دیر تک مرتسم رہتے ہیں۔ یہ اجارہ داری صرف جغفرافیائی اور سیاسی حد تک محدود نہیں رہتی بلکہ تہذیب و ثقافت اور تمدن و معاشرت بھی اس کے زیرنگیں آجاتے ہین۔ اردو کا خمیر حالانکہ مشترکہ، متنوع اور رنگارنگ تہذیبی عناصر سے تیار ہوا لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس نے پانی تشکیل سے لے کر تکمیل تک کا سارا سفر مسلم حکمرانوں کے سایۂ عاطفت میں طے کیا جس کا فطری اور منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحیں اس زبان کا جزو لاینفک بن گئیںَ چنانچہ اردو کا غیر مسلم شاعر بھی شریعت و طریقت اور حقیقت و معرفت کے مضامین پر مشتمل ایسے مقدس و مطہر اشعار کہتا ہے جس کو سن کر فقیہان حرم پر وجد طاری ہوجائے۔ اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ مشترکہ تہذی کے حامل معاشرے میں غالب یا حاوی فرقے کی مذہبی اصطلاحیں دیگر فرقوں کے لئے تہذیبی اصطلاح کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں اور اس کے خلاف ان کی مذہبی روح احتجاج بھی نہیں کرتی۔ ایک ہندو شاعر بارگاہ نبوی میں نعت شریف کے نذرانے پیش کرنے کے باوجود ہندو رہتا ہے اور ایک مسلمان شاعر رام اور کرشن کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہوئے بھی اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ دراصل تہذیب و تمدن کے میخانے میں کفر و اسلام ہم آغوش ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لسانی تمول مذہب سے زیادہ تہذیب و تمدن سے عبارت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے غالب و حاوی ہونے کے باوجود کمالِ وسیع المشربی کا ثبوت دیا۔ چنانچہ جس کفر کی سرکوبی و بیخ کنی کے لئے سوا لاکھ پیغمر مبعوث کئے گئے وہی کفر اردو شاعری میں محبوب ترین موضوع کی حیثیت اختیار کرگیا۔ پائے صنم پر سجدوں کا جشن منانا، طوافِ کعبہ کو کیفیت مئے کا مرہون منت قرار دینا، بوئے صنم کدہ کی شمولیت سے کیفیت نماز میں جان پڑجانا، گفتگوئے واعظ کی اثرانگیزی کے لئے قلقل مینا مستعار لینا، مشاہدۂ حق کی گفتگو کے لئے بادہ و ساغر کا سہارا لینا اور شمع حرم اور چراغ دیر دونوں کو ایک ہی نور سے مستنیر قرار دینا جیسے موضوعات شاعری میں ایمان کی حیثیت اختیار کرگئے اور اس رنگ سے اجتناب یا سرکشی کفر قرار پائی۔ حتیٰ کہ مذہبی صداقتیں ان شعری صداقتوں کے بغیر پند و موعظت اور وعظ و نصیحت کے علاوہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ مذہبی صداقتوں اور اکہرے موضوعات و واقعات کو شعری صداقت کا درجہ حاصل کرنے کے لئے جس عمل تقلیب کی ضرورت ہے وہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں لیکن اگر یہ دولت ہاتھ آجائے تو بقول ولیم بلیک شاعری اور پیغمبری متحدالاصل ہوجاتی ہیں۔ اسی کو اقبالؔ نے بھی ’’شاعری نزویست از پیغمبری‘‘ کا نام دیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ کسی حد تک بلکہ بڑی حد تک سردار شفیق بھی اسی صلاحیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے مذہبی اور اخلاقی موضوعات کو اس طرح تمام تر شعری تلازمات کے ساتھ پیش کیا کہ شاعری پر ملائیت کی چھاپ نہیں پڑنے دی اور ایسے ماحول میں جہاں ساقی کی چشم مست کے اسیر ہوکر مصلیان حرم میخانہ آباد کرنے لگتے ہیں اور گفتگوئے واعظ پر قلقل مینا اثرانداز ہوجاتی ہے، اپنے الفاظ و اسلوب کی طہارت اور پاکیزگی سے بچھڑے ہوئے آہو کو سوئے حرم لوٹنے، حسن بے حجاب کو پردہ نشین ہونے اور برہمنِ ناقوس نواز کو ترانۂ نوحیہ گانے پر مائل کردیا اور لطف یہ کہ عروس فن کی جبیں پر کوئی شکن نہیں آنے دی۔ سردار شفیق کے مجموعۂ کلام ’’غبار صدا‘‘ میں قابلِ ذکر تعداد میں ایسے اشعار مل جائیں گے جن کی راوت اور واضح ترسیل کے لئے نظم کی ہیئت درکار ہے لیکن ان کی قادر الکلامی نے تشریح و توضیح کو ایجاز و اجمال میں اس چابکدستی سے سمیٹا کہ ترسیل کو لبِ فریاد وا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے خیال میں اشاروں اور کنایوں کی تعبیر و تفسیر کا کام شاعر کا نہیں بلکہ سامع کا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فن میں وہ بڑی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ اردو غزل میں یہ تعمیر پسندانہ انداز بیان ان کے ہمعصروں میں ماہر القادری، انور صدیقی اور حفیظ میرٹھی کے علاوہ کسی اور کے پاس نظر نہیں آتا۔ سردار شفیق کے لفظی در و بست کا پاکیزہ جادو اور بندشوں کا سحر حلال کافر موضوعات کو بھی حلقہ بگوش اسلام کردیتا ہے۔ اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ ہوں    ؎
ہزاروں غم لئے قلب و نگاہ میں کوئی
ہے سر بسجدہ تری بارگاہ میں کوئی
نکل پڑا ہوں بصیرت کی روشنی کے لئے
نشانِ پا نہیں دشتِ سیاہ میں کوئی
وجدان و ہنر شعر و نوا نور بصیرت
کیا کیا نہ مجھے اس درِ دولت سے ملے ہیں
ہر وقت نیک لوگوں کا کرنا ہے تذکرہ
اس کو بھی فکرِ نامۂ عمال تو ہوئی
قومی جمود تجھ سے نہ ٹوٹا مگر شفیقؔ
کچھ پیرویٔ حضرت اقبالؔ تو ہوئی
صرف آزاد روی زیست کا مقصد تو نہیں
کچھ تعلق تو رہے منبر و محراب سے بھی
کفر کی ہوا آکر اپنا زور دکھلائے
ہم چراغِ ایماں ہیں رات کے اندھیرے میں
زنگ آلود ہے میرے دل کا آئینہ
اس پر اپنا رنگ چڑھادے یا اللہ
شعرِ آخر دیکھئے اور پروفیسر کرامت علی کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے    ؎
ہے زنگ خوردہ میرے دل کا آئینہ ایسا
خرد کی تیغ سے تھوڑی سے آب مانگے ہے
جب یہ بات جزوِ ایمان ٹھہری کہ اللہ کے رنگ سے بہتر کوئی رنگ نہیں تو دل کی آب و تاب کے لئے درِ خرد کی دریوزہ گری چہ معنی دارد۔ افسوس تو یہ ہے کہ سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنے والے اور مہ و مریخ پر کمندیں ڈالنے والے حضرتِ انسان نے تمام تر خودپسندیوں اور خود ستائیوں کے باوجود خود کو اپنے مقام و مرتبہ سے کم تر تصور کیا ہے۔ خالق کائنات نے انسان کو اپنی بارگاہ میں ناصیہ فرسائی کا حکم دے کر اسے ساری کائنات کا مخدوم بنادیا ہے لیکن اس منصب عالیہ سے محروم ہوکر انسان جب اپنا مقام خود بنانے سعیٔ لاحاصل میں مبتلا ہوگا تو آئینۂ دل جو خدا کا مسکن ہے کی آب و تاب کے لئے خرد جیسی کم تر شے کا مرہون و مقروض ہوگا۔ سردار شفیقؔ نے عظمت آدم کے لئے اللہ کا رنگ طلب کرکے شیلے کے اس قول پر کہ ’’اخلاقیات کی بنیادیں واعظوں کے ہاتھوں میں نہیں شاعروں کے ہاتھوں میں رکھی جاتی ہیں‘‘ مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ ان کی چشم بصیرت نے یہ نکتہ پالیا ہے کہ قصۂ جدید و قدیم دلیل کم نظری کے سوا کچھ نہیں لہذا انھوں نے ماضی کی شاندار روایات اور صالح اقدار کو عصری تقاضوں میں مدغم کرکے اس رنگ و آہنگ کے ساتھ اپنی غزلوں میں پیش کیا کہ اس کی موسیقیت اور نغمگی کے زیر و بم میں نبض کائنات کی دھڑکن شامل ہوگئی ہے۔ درج ذیل اشعار:-
نہ صرف میں نے روایت کی پاسداری کی
جدید عہد کی عظمت کا ترجماں بھی ہوا
زندہ روایتوں سے تعلق کے باوجود
شعروں میں جان جدت افکار ہی سے ہے
اور اس طرح کے دیگر اشعار اسی وقت منصہ شہود پر آتے ہیں جب شاعر اس حقیقت کا راز آشنا ہوجاتا ہے کہ شہود اپنے وجود کے لئے غیب کا مرہون منت ہوا کرتا ہے اور کوتاہ نظر جسے صریر خامہ کہتے ہیں وہ دراصل نوائے سروش ہوتی ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ وجود (حال) اپنی نمود کے لئے غیب (ماضی) کا ممنون کرم ہے۔ گویا سردار شفیق کا یہ شعر ٹی ایس ایلیٹ کے اس خیال کا کہ ’’جدید ترقیات کی جڑیں ماضی کی روایات میں پوشیدہ ہوتی ہیں‘‘ تتمہ و تکملہ ہے۔ ڈاکٹر جانسنؔ نے گرےؔ کی شعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
Gray is a romantic surpent grazing in classical grasses.
انگریزی ادب کی تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ رومانی تحریک کلاسیکی تحریک کی ضد میں وجود پذیر ہوئی۔ تاہم سموئل جانسن اس حقیقت کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا کہ رومانی تحریک اگر کلاسیکی تحریک سے غذا حاصل کرنا بند کردے تو اپنی بقا کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ دراصل سابقہ رجحانات اور تحریکیں کھاد کی طرح جذب ہوکر کشت ادب کو زرخیر بناتی ہیں اور نئی تحریکات و رجحانات کے پودے انھیں سے غذا حاصل کرکے تناور درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جس طرح آفتاب عالمتاب غروب ہونے کے بعد لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ جاتا ہے اور ماہ و انجم اپنی نمود کے لئے خورشیدِ نادیدہ کے احسان سے سبکدوش نہیں ہوسکتے اسی طرح حال کا آئینہ ادراک ماضی کے زنگار عرفان سے جلا پاتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ سردار شفیقؔ نے اردو شاعری کی متمول روایات سے انشراح قلب کے ساتھ استفادہ کیا ہے لیکن فیضان ماضی میں ذاتی عرفان کی آمیزش کرکے اپنی انفرادی شان برقرار رکھی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہر شعر پر ان کے اپنے دستخط ثبت ہیں۔
رشید احمد صدیقی نے کہا ہے کہ غزلوں کی فضا اتنی مقطر ہوچکی ہے کہ اب اس میں مزید کشید کی گنجائش کم ہے۔ رشید احمد صدیقی جیسے قدآور ادیب کے حضور ہمارا سر تسلیم خم ہے لیکن بہ صد معذورت یہ معروضۂ ادب پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ یہ وہی تفریط ہے جو ’’غزل اردو شاعری کی آبرو ہے‘‘ جیسی افراط کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم رشید احمد صدیقی کے قائم کردہ بلند و بالا معیار و میزان سے چند زینے نیچے اتر کر موجودہ غزل کا جائزہ لیں تو ہم یہ فیصلہ کرنے میں حق بہ جانب ہوں گے کہ صورت حال اتنی مایوس کن نہیں ہے اور غزل کے تل میں ابھی بھی تیل باقی ہے۔ ہماری جدید غزل اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جس نے اپنے وسیع و عریض دامن میں زندگی کے تمام گوشوں اور پہلوؤں کو اس طرح سمیٹ لیا ہے کہ تغزل کے بانکپن پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ اس روشنی میں ہم جب سردار شفیقؔ کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یک گونہ مسرت کا احساس ہوتا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی واقعی بڑی زرخیز ہے۔ بلکہ بعض اشعار میں آمد کا اس قدر زور و جوش و خروش اور تموج و تلون اور ان میں ایسا فطری بہاؤ اور فنی رچاؤ ہے جو انگریزی کے مشہور رومانی شاعر جان کیٹس (John Keets) کے درج ذیل معیار نقد پر پورا اترتا ہے:
If poetry comes not as naturally as the leaves to a tree it had better not come at all.
سردار شفیقؔ کایہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
کوئی سمجھ نہ سکا میری بات کا مفہوم
ہوا کے دوش پر الفاظ نے سفر تو کیا
ترسیل کے المیہ کی شکایت ہر شاعر کو ہوتی ہے اور یہ تقاضا فطری ہے۔ اگر شنیدہ نافہمیدہ رہ جائے تو کہی ان کہی سے عبارت ہوجاتی ہے۔ لیکن یہاں شاعر کو شکایت اس لئے نہیں ہے کہ اس نے درون ذات کے نہاں خانے سے کوئی دقیق و عمیق نکتہ ابہام کے دبیز پردے میں پیش کیا ہے اور دست نقد و نظر اس کے روئے معنی سے نقاب کشائی نہ کر سکا بلکہ اسے تکلیف اس بات کی ہے کہ اس کی بات کے لئے گوش التفات وا نہ رکھا گیا۔ پس ثابت ہوا کہ ترسیل کا المیہ اس لئے نہیں درپیش ہوا کہ شاعر کا مدعا عنقا تھا بلکہ یہ صورت حال اس واسطے پیش آئی کہ آگہی نے دامِ شنیدن نہیں بچھائے تھے۔ ایک شعر اور دیکھیں:
آئینے کی سخت کرچیں برہنہ پائی مری
دو حریفوں میں سدا وابستگی زندہ رہے
خار مغیلاں سے آبلہ پائی کے علاج کی روایت تو اردو اور فارسی شاعری میں عام ہے۔ آبلوں سے تنگ آنے والے غالبؔ راہ کو پُرخار دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور علاج درد میں درد کی لذت پر پر مرنے والے اقبالؔ چھالوں کے کانٹوں کو نوکِ سوزن سے نکالتے ہیں لیکن آئینے کی سخت کرچوں اور برہنہ پائی میں وابستگی کی تمنا کا حوصلہ کسے؟
درج ذیل شعر پر بھی ایک اجمالی نظر ڈالتے چلیں:
اپنے گھر کو دیکھ کر کیوں دل شکستہ ہوگئے
جتنی تم کو چاہئے تھی اتنی ویرانی تو ہے
غضب کا شعر کہا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس شعر میں مومنؔ کا مکر شاعرانہ اور غالبؔ کی وحشت پسندی دونوں کا پرتو موجود ہے۔ اپنے گھر کی ویرانی دیکھ کر دل شکستہ ہونے سے بادی النظر میں یہ گمان گذرتا ہے کہ صاحب مکاں کو اپنا گھر سلامت دیکھنے کی آرزو تھی لہذا خانہ ویرانی دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا لیکن دوسرے مصرعے میں مکر شاعرانہ کے فنکارانہ استعمال نے قاری کی غلط فہمی دور کردی کہ صاحب مکاں کو ویرانی کی تمنا تھی لیکن وہ بقدر ظرف نہیں ملی اس لئے وہ مکان کو دیکھ کر دل شکستہ ہوگیا۔ شاعر موضوع کے اعتبار سے غالبؔ اور انداز بیان کے اعتبار سے مومنؔ کے قریب پہنچ گیا ہے۔
یہ شعر بھی دیکھیں:
دیکھ کے زخموں کی لمبائی گہرائی
قاتل کی تصویر بنائی جاسکتی ہے
بہت خوبصورت شعر کہا ہے۔ اردو شاعری میں مقتول کی بے گناہی سے قاتل کا سراغ لگانے کا تصور تو کہیں کہیں ملتا ہے۔ مثلاً امیرؔ مینائی کے یہاں کہ اگر خنجر قاتل کی زبان خاموش ہے تو آستین کا لہو صدائے احتجاج بلند کرے گا لیکن زخم کی ہیئت کی مدد سے قاتل کی تصویر بناکر اس کا سراغ نکالنا یقیناً ایک اچھوتا خیال ہے۔ ایسی مثال قدما میں صرف غالب کے ایک شعر میں ملتی ہے۔ غالب کا معرکۃ الآرا شعر ہے:
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
سردار شفیقؔ اپنے لب و لہجہ کی انفرادی شناخت کے ساتھ غالبؔ کی بزم میں داخل ہوئے ہیں۔ یعنی یہ قطرہ (شفیقؔ) واصل دریا (غالبؔ) ہوکر اس میں ضم نہیں ہوا بلکہ اس نے بہ شکل گوہر اپنے وجود اور شناخت کو باقی رکھا۔
اب کوئی آئے نہ آئے بالمقابل اے شفیقؔ
میرا سر پتھر سے ٹکرانے پہ آمادہ تو ہے
اخترالایمان کہتے ہیں:
اب ارادہ ہے کہ پتھر کے صنم پوجوں گا
تاکہ گھبراؤں تو ٹکرا بھی سکوں مر بھی سکوں
دیکھا آپ نے؟ دونوں اشعار میں الفاظ و علامات کے اشتراک کے باوجود بغایت پست و بغایت بلند کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ اخترالایمان کے یہاں رجعت و فرار اور حزن و یاس کا یہ عالم ہے کہ زندگی جیسی نعمت عظمیٰ اور امانتِ خداوندگی کو بار خاطر سمجھ کر اس سے نجات حاصل کرلی جائے-اور-
آسماں بار امانت نتوانست کشید
قرعۂ فال بنامِ منِ دیوانہ زدند
کے رتبۂ بلند سے گر کر خود کے ظلوماً جہولاً ہونے کا اعلان کردیا جائے۔ لیکن سردار شفیقؔ کا یہ عالم ہے کہ جذبۂ بے اختیار شوق نے ان کے لئے عریانیٔ شمشیر کو عید نظارہ اور تابناکیٔ شمشیر کو منظر دلکشا میں تبدیل کردیا ہے۔ دونوں شعرا موت کو لبیک کہنا چاہتے ہیں لکن ایک مبتلائے حزن و ملال ہوکر خود کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے اور دوسرا عمر فانی سے اس لئے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کہ وہ اسے حیات جاودانی میں تبدیل کرسکے۔ اس طرح اختر الایمان کا محور و مستقر یاسیت کے امام فانیؔ ہیں تو دوسرے کا ملجا و ماویٰ غالبؔ و اقبالؔ۔
چند دلکش و دلآویز اشعار اور ملاحظہ فرمائیں:
بات کا رخ تھا میری طرف
آپ کیوں مشتعل ہوگئے
نکل پڑا ہوں بصیرت کی روشنی لے کر
نشان پا نہیں دشت سیاہ میں کوئی
ہے اس کی دسترس میں ماہ و انجم کی مسافت بھی
ہزاروں سال آگے بھی سخنور دیکھ لیتا ہے
اتری نہ تیرے گھر میں کبھی چاند کی کرن
آنگن میں روشنی ترے رخسار ہی سے ہے
جس سے بھی ملا کسب ہنر کرلیا میں نے
اپنے کو حصار ہمہ دانی میں نہ رکھا
اس سے دیرینہ رفاقت ٹوٹنے کے باوجود
جانے کیوں میں مدتوں اس کے اسیروں میں رہا
بات سچی ہو تو کہنے میں کوئی حرج نہیں
یہی نکتہ تھا کہ اقبالؔ خدا سے الجھے
پھر بھی ہاتھ آئی نہ اس لالہ بدن کی خوشبو
ناخن عقدہ کشا بند قبا سے الجھے
اللہ ترے گھر کبھی وہ رات نہ لائے
خوابوں کا لہو جاگتی آنکھوں سے رواں ہو
فن کا تعلق خواہ زندگی کے کسی گوشے سے ہو اس کی فطرت ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے یعنی یہ اپنے کمال و معراج کے لئے غایت درجہ کی مشق و مزاولت اور محنت و ریاضت کا مطالبہ کرتا ہے۔ خانۂ فرہاد شرر تیشہ سے روشن ہوتا ہے۔ میخانۂ حافظ ہو یا بت خانۂ بہزاد ان کی تعمیر و تشکیل خونِ رگ معمار کی گرمی کی مرہون منت ہوتی ہے۔ سردار شفیقؔ نے بھی محنت پیہم اور سعیٔ مسلسل سے اپنے تیشۂ فن کو چمکایا ہے۔ عروس فن کی سرخیٔ لب و رخسار کے لئے انھوں نے اپنے خون جگر کی قربانی دی ہے۔ اس زمین سنگلاخ اور وادیٔ پُرخار میں وہ بعض مقامات پر آبلہ پا بھی ہوئے اور دامن دریدہ بھی لیکن فن کی حریم ناز میں وہ سرخرو داخل ہوئے ہیں۔ لہذا ہم جب ان کے کلام کا بالاستیعاب مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے قلم کے کھلائے ہوئے ہر پھول کو بیتابانہ چوم لینے کو جی چاہتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات شوق گلبوسی میں کانٹوں پر زبان پڑجانے کا احتمال رہتا ہے۔ اس قبیل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ہوا کی کاٹ سے یہ آج پر شکستہ ہے
مرا پرندہ بھی اونچی اڑان والا تھا
خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیے۔ یہاں کاٹ یعنی کٹنے اور کاٹنے کا تعلق ٹوٹنے اور توڑنے سے نہیں ہے۔ دونوں مختلف کیفیات کے افعال ہیں۔ کاٹ کی مناسبت سے بریدہ یا شکستہ کی مناسبت سے زور کا محل تھا یعنی مصرع اس طرح درست ہوسکتا تھا    ؎
ہوا کی کاٹ سے یہ آج پر بریدہ ہے
یا
ہوا کے زور سے یہ آج پر شکستہ ہے
ایک شعر اور ملاحظہ ہو   ؎
یہ بات تھی خوددار طبیعت کے منافی
دوبارہ کہیں حرف تقاضا نہیں رکھا
اگر خودداریٔ طبیعت دوبارہ کسی کے سامنے کوئی التجا کرنے سے مانع ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ سوال کرنے سے باز کیوں نہیں رکھا؟ دوسری بات یہ کہ ردیف رکھا کی مناسبت سے لفظ کہیں از روئے قواعد ظرف مکاں کی تعریف میں آتا ہے جو مادی اور مرئی ہے جبکہ حرف تقاضا غیرمادی اور غیر مرئی۔ لہذا دونوں میں علاقہ نہیں ہے۔ ذرا سی تبدیلی کے بعد مصرع اگر اس طرح کردیا جاتا تو سقم دور ہوجاتا   ؎
ہونٹوں پہ کبھی حرف تقاضا نہیں رکھا
درج ذیل مطلع پر بھی ایک نظر ڈالیں   ؎
کتنا اچھا ہے بند و بست یہاں
ہیں برابر بلند و پست یہاں
شاعر نے اس مطلع میں حرف ’’س‘‘ کو روی بناکر غیرشعوری طور پر خود کو پابند کرلیا۔ اب فن شعر کا تقاضا یہ ہے کہ غزل کے تمام قوافی میں حرف ’س‘ حرف روی کی شکل میں آئے لیکن دوسرے، تیسرے، چھٹے اور مقطعے کے اشعار میں حرف روی ’س‘ کی جگہ حرف ’خ‘ آگیا ہے اور ساتویں شعر میں حرف روی کی جگہ ’ش‘ آگیا ہے۔ لہذا مطلع میں ایطائے جلی کا سقم در آیا۔ اگر شاعر نے مطلع کے دونوں قوافی بست اور پست میں سے کسی ایک میں ’س‘ کی جگہ ’خ‘ رکھ دیا ہوتا تو ’س‘ کی بجائے ’ت‘ کو حرف روی کا درجہ حاصل ہوجاتا اور اس طرح غزل کے تمام قوافی بغیر کسی تبدیلی کے درست قرار پاتے۔
درج ذیل دونوں اشعار پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں   ؎
مدت کے بعد آیا ہوں لیکن تمھارا گھر
کمرہ وہی آنگن وہی دالان ہے وہی
بچا ہوں میں ابھی آشوبِ کم نگاہی سے
فضا میں کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ہے چاروں طرف
شاعر کا یہ منفی رنگ اسے مقام فرشتگی سے اٹھاکر منصب بشریت پر فائز کرتا ہے۔ وہ باطل ہے جس کا وجود تمیز حق کے لئے لازم ہے۔ شاعر کے کلام میں یہ اسقام عروس فن کے رخِ روشن کے لئے نظربد کے ٹیکہ سے تعبیر کئے جاسکتے ہیں۔ باشندگان طورسینا اپنی تجلی سے بے خبر اپنے سینۂ سرد کی حرارت کے لئے مغرب کے آتشکدوں کی دریوزہ گری کرتے ہیں۔ چراغ مصطفوی کے امین جہالت و بطالت کے اندھیروں میں شرارِ بولہبی پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں۔ اگر ہمارے محققین و منتقدین کو یورپ کی کورانہ تقلید سے فراغت نصیب ہوتی اور ان کا دست تجسس سردار شفیقؔ کے حرارت افروز ذخیرہ سے بے اعتنائی اور ناقدری کی راکھ ہٹانے کا حوصلہ رکھتا تو زبان نقد بے اختیار پکار اٹھتی :  ع
ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی۔
---
Professor Fakhre Alam
Department of Urdu
Khwaja Moinuddin Chishti Language 
University Lucknow
Contact No.- 09621656726
Email:alamazmi@yahoo.co.in  ...

جلد(1)  شمارہ (8)   مئی 2026

***
Sardar Shafiq, the representative poet of the Shibli dynasty: A critical examination

Sardar Shafiq poetry
Urdu literary criticism
Professor Alam Azmi
Urdu ghazal analysis
Shibli school poetry
Modern Urdu criticism

Friday, May 22, 2026

محمد زماں آزردہ کے انشائیوں کاتحقیقی و تنقیدی مطالعہ

ڈاکٹرفریدہ تبسم (اسسٹنٹ پروفیسر، حیدرآباد انڈیا) 

 زماں آزردہ نے یوں تو افسانے بھی لکھے ،تحقیق و تنقید کے کام بھی کئے ترجمہ نگاری کی جانب توجہ بھی کی بچوں کا ادب بھی لکھا ہے۔ لیکن اردو ادب میں ایک انشائیہ نگاری  کی حیثیت سے ہی زیادہ شہرت رکھتے ہیں۔ 

ان کے اردو انشائیوں کے اب تک پانچ مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں وہ یہ ہیں:

(۱) غبار کاروان۔ (۲) شیریں کے خطوط۔ (۳) غبار کارواں۔  (۴) سن تو سہی ، اور (۵) کانٹے ۔

زماں آزردوہ کے انشائیوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں انشائیہ نگاری کی تقریباً تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں، ان کے انشائیوں کی خاص خصوصیت یہی ہے کہ وہ ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ ساتھ اپنی بات کو لطیف اور شگفتہ پیرائے میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے یہاں بات سے بات پیدا کرنے کی خصوصیت بھی ملتی ہے، اور یہی خصوصیت ان کے انشائیوں کا خاص وصف ہے ۔اس کے علاوہ شخصیت کا اظہار ، بے تکلف گفتگو کا انداز، غور و فکر کی دعوت کے علاوہ زبان و بیان کی بے شمار خوبیاں بھی ان کے یہاں نظر آتی ہیں۔ مثلاً تشبیہات و استعارات، محاورے کہاوتیں وغیرہ کا عمدہ استعمال ان کے اسلوب کا خاص وصف ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی بڑی خوب لگتی ہے کہ وہ انگریزی زبان کے الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں۔ محمد زماں آزردو کے یہاں موضوعات کا تنوع ہیں، انہوں نے بڑیہی انوکھے اور اچھوتے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ کامیاب انشائیہ نگار کیلئے ضروری خیال کیا جات اہے کہ وہ ان موضوعات پر قلم اٹھائے جن پر کسی کی نظرنہ گئی ہو یا یہ کہ ان موضوعات کو کسی نے اب تک چھوا نہ ہو۔ 

زماں آزردہ کے انشائیوں کے موضوعات نہ صرف دلچسپ اور نئے ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ جان کر بہت ہی حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے بالکل انوکھے اور اچھوتے موضوعات کے بارے میں سوچا ہے۔ 

مثلاً بیل ، کانکڑی ، گدوہ، دیمک اور عالم بالا وغیرہ۔ 

انشائیے کی ایک اہم خصوصیت اس کا اختصار اور جامعیت ہے۔ زماں آزردہ کے انشائیوں میں بھاگتے شجر، کرسی، گدوہ، سیڑھی، کانغری ، تحریر، مماکھی، بڑا فائدہ ہے۔ شادی نہ کرنے میں عالم بالا کامیاب ازدواجی زندگی، تعارف خبر ساز سے، اتوار کا دن اور بیعی ، بڑے پھسنے ، ٹیلی فون حاصل کر کے، چلئے تو ذرا گھر سے باہر، بھر پائیے خضاب لگانے سے، حادثہ وغیرہ اختصار کی عمدہ مثالیں ہیں۔ 

ڈاکٹر جانسن نے ایسے کو Loose selly of he minel  کہا ہے ۔ یعنی انشائیہ دماغ کی ایک آزاد ترنک کا نام ہے۔ کیونکہ انشائیہ خوش گوار موڈ کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس لئے انشائیہ نگار اسی خوش گوار موڈ کے تحت بات سے بات پیدا کرتا ہے۔ وہ ایسے خیالات کے بیان میں تیرتیب و تنظیم کا خیال نہیں رکھتا۔ اور بارباراپنے موضوع سے بھٹکتا رہتا ہے۔ 

جب ہم زماں آزردہ کے نشائیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ تو ان کے یہاں یہ خصوصیت بڑی عمدگی سے ملتی ہے۔ وہ انشائیہ لکھتے وقت بار بار اپنے خیالات کی رو میں بہتے جاتے ہیں، اور موضوع سے بھٹکنے لگتے ہیں۔ مثلاًاقتباس دیکھئے :

’’مسجدوںمیں جاڑوں میں خوب گرمی ہوتی ہے حمام میں گرم پانی بھی ملتا ہے، اور بیٹھنے کو گرم جگہ اکثر لوگ اپنے ٹائیم ٹیبل میں مسجد میں کچھ وقت گزارنے کی گنجائش نکال ہی لیتے ہیں، نماز چاہے وہ ایکسپرس ہی کیوں نہ پڑھائی، مگر حمام میں بیٹھنا ضروری ہے۔ اس سے ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ محلے والے ایک دوسرے سے واقف ہوجاتے ہیں، جن پر نئے سرے سے دوسے موسم سرما میں غور و فکر کیا جاتا ہے۔ 

کشمیر کے لوگ بڑے خوش خوراک ہیں مگر ان کی عادات ’وازہ دان‘ کے سامنے گھٹنیء ٹیکتی ہیں اس کے آگے کچھ سوجھتا بھی نہیں‘‘۔

جاڑوں کے مشغلے ، خبار کارواں میں ۳۸

شگفتہ بیانی سے مراد موضوع اور نقطہ کا انوکھا پن ہے جو ہمیں زندگی کی یکسانیت اور ٹھہراؤ سے اوپر اٹھا کر ماحول کا دوبارہ جائزہ لینے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ 

زماں آزدہ کے انشائیوں میں بھی یہ وصٓف دکھائی دیتا ہے ، وہ ایک سمع کے لئے روک کر زندگی کے عام مظاہرے کے ایسے تازہ پہلو دکھاتے ہیں جنہیں ہماری نظروں نے اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا۔ یا پھر یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ زندگی کے عام مظاہرہ کے ان تازہ اور انوکھے پہلوؤں کی سیر کراتے ہیں جو سطحی دلچسپی کی وجہ یس عام انسان کی نظروں سیء اوجھ رہے ہیں، مثلاً زماں آزردہ نے اپنے انشایئے ’’ کانگڑی ‘‘ میں کشمیر کے علاقے کی ایک مشہور شئے جیسے اکثر سردیوں میں لوگ اپنے بدن کو گرم رکھنے کے لئے اپنے ساتھ رکھتے ہیں اس کا تعارف کرواتے ہوئے اُسے ایک نئے اور انوکھے زاویئے سے یوں دیکھتے ہیں:

’’صرف چہرے سے پھوٹنے والی گرمی کا احساس ہوتا ہے، اور چہرہ نظر نہیں آتا۔ پتلی اور خوبصورت ناک جو اسکی مانگ میں سیندور کا احساس بھی دلاتی ہے اور اس کے نظر نہ آنے والے چہرے کی جبیں کا کام بھی دیتی ہے، ایک من بھاون شئے ہے کانگڑی پھونکتے وقت انسان اس کوآنکھوں سے نہیں تو نگاہوں سے ضرور چومتا رہتا ہے‘‘۔

غبار کارواں، ص:۷۲

انشائیہ کی ایک اہم خصوصیت شخصیت کا اظہار ہے۔ انشائیہ ایک ایسا فن ہے جس میں سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ فنکار کی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ 

محمد زماں آزردہ  کے انشائیوں کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوتا ہے  ان کی شخصیت کے کئی ایک پہلو ہمارے سامنیآتے ہیں۔ ان کی پسند ناپسند ، مشاغل، طور طریقہ ، رہن سہن وغیرہ جیسی کئی ایک چیزوں کا علم ہوتاہے۔ 

زماں آزردہ زندہ دل شخصیت کے مالک ہیں، ان کی نظر میں زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور چوں کہ انسان کی زندگی میں طرح طرح کی پریشانیوں اور دکھوں سے عبارت ہے ۔ ایسے میں جولمحے میسر آئیں انہیں ہنسی خوشی گذارنا چاہئے۔ ان کا یہ نظریہ ہمیں ان کے انشائیہ ’’ زندگی مزاح سے بتی ہے‘‘ میں واضح طور پر نظر آتا ہے:

اصل میں زندگی نام ہے زندہ دلی رونا نہیں ہنسنا ہے، زندگی کا تو دستور یہ ہے کہ: ’شادیا یدزسیٹن ناشنا دبایزز سیتن‘ اس لئے جب تک ہو سکے ہم کو اس بات کی کوشش کرنا چاہئے کہ شاد ہوک ہی جئیں نہ کہ ناشاد ہوکے ، زندگی کے سب سے بڑی آزمائش تو زندہ رہنا ہے، اس پر آپ اور پریشانیاں مول لیجئے تو کیا ہوگا‘‘ 

 زندگی مزاح سے بنتی ہے۔ سن سہی ، ص:۷۸

اس اقتباس میں زماں آزردہ کی شخصیت کے کس طرح کا ان کا نظریہ ہے اور زندہ دلی سے زندگی گذارنے کا کس قدر ہنر انہیں معلوم ہے۔ 

بے تکلف گفتگو بھی انشائیہ کی ایک خصوصیات ہے۔ یہی وہ اہم خصوصیات ہے جو انشائیہ کو دوسری اصناف ناول، افسانہ وغیرہ سے الگ کرتی ہے۔ زماں آزردہ اپنے قاری سے بہت جلد بے تکلف ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے مشاہدات تجربات کو بے تکلفی سے قاری کے زامنے بیان کرتے جاتے ہیں۔ ان کا یہی انداز بیان ان کانشائیوں میں جان پیدا کردیتا ہے۔ 

ان کے ایک انشائیہ ’’ پیشے کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے‘‘ سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ آپ شاید یقین نہ کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایک اچھے ڈاکٹر سیء کہا کہ دوسری دوا جو آپ نے تجویز فرمائی ہے۔ ہم ضرور خریدیں گے ، لیکن جو دوا کل خریدی ہے اس کا کیا کریں… ارے آپ تو ٹیچر ہیں۔ آپ کیسے برداشت کریں گے ۔ آپ فی الحال وہی دوا استعمال کیجئے ختم ہوجائے تو نئی دوا خرید لیجئے‘‘

پیشے کے انتخاب نے رسوا کیامجھے ، غبار کاروان، ص: ۵۶

انشائیہ کی ایک خصوصیت دعوت غور و فکر بتائی جاتی ہے جس میں انشائیہ نگار خصوصاً اپنے تجربات و مشاہدات سے بڑی کار آمد و پتے کی باتیں لطیف انداز میں بتاتے ہیں کہ قاری ان کے تجربات میں شریک ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ قاری کو اعتماد میں لیتے ہیں۔

زماں آزردہ کے انشائیوں میں بھی یہ خوبی نظر آتی ہے ، وہ بھی اپنے قاری کو صرف اپنی تحریر کے ذریعہ سیرت و استباط کی کیفیت سے دوچار نہیں کرتے بلکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ اور مشکلات میں اس کا حل تلاش کرنے کے لئے دعوت غور و فکر دیتے ہیں ان کی یہ خصوصیت ان کے بیشتر انشائیوںمیں نظر آتی ہے۔ مثلاً ایئک مثال دیکھئے:

’’ اگر انسان اپنے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے پیش آئے ، تو اس کی زندگی کامیاب ہو سکتی ہے۔ معمولی بات کبھی کبھی بڑے واقعے میں بدل جاتی ہے جس میں انشائیہ نگار خصوصاً اپنے تجربات و مشاہدات سے بڑی کارآمد و پتے کیباتیں لطیف انداز میں بتاتے ہیں۔ کہ قاری ان کے تجربات میں شریک ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ قاری کو اعتماد میں لیتے ہیں۔

زماں آزردہ کے انشائیوں میں بھی یہ خوبی نظر آتی ہے وہ بھی اپنے قاری کو صرف اپنی تحریر کے ذریعے سیرت و استباط کی کیفیت سے دوچار نہیں کرتے بلکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ اور مشکلات میں اس کا حل تلاش کرنے کے لئے دعوت غور و فکر دیتے ہیں۔ ان کی یہ خصوصیت ان کے بیشتر انشائیوں میں نظر آتی ہے مثلاً ایک مثال دیکھئے:

اگر انگسان اپنے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے پیش آئے، تو اس کی زندگی کامیاب ہو سکتی ہے۔ معمولی بات کبھی کبھی بڑے واقعے میں بدل جاتی ہے۔ ہنسی انسان کو فرحت بخشتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے انسان تمام پریشانیوں کو بھول جاتا ہے، اور اس لمحے کی زندگی بڑی قیمتی ہوتی ہے۔ زندگی میں ایسے نشیب و فراز آتے ہیں۔ کہ اگر آدمی مزاج کے سہارے اپنے آپ کو سنبھالے تو پوری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ بہر حال واقعے میں سنجیدگی اور مزاح کا پہلو بیک وقت موجود رہتا ہے۔ بشرطیکہ انسان نگاہ رکھتا ہو‘‘۔

)سن تو سہی، ص: ۷۹(

مزاح انشائے کے لئے لازمی جز نہیں ہے۔ مگر انشائیہ نگار اسے اپنی تحریروں کو دلچسپ بنانے کے لئے سہارے کے طور پر استعمال کرتاہے۔ انشائیہ نگار کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ قاری کو لطف و انسباط بہم پہنچائے۔ طنز و مزاح کی خصوصیات ان کے دیگر انشائیوں مثلاً ، ایکم ، ذکر ممبئی کا، حافظہ، بھرپائے خضاب لگانے سے وغیرہ میں بخوبی ملتی ہے۔انشائیہ میں اسلوب کی خاصی اہمیت ہوتی ہے اسی لئے زماں آزردہ کے اسلوب کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے، انہوں نے انگریزی الفاظ کی آمیزش سے اپنے اسلوب میں جان ڈالنے کی کوشش کی ہے، ان کے اسلوب کی خاص بات یہی ہے کہ وہ مشہور کہاوتوں محاوروں اور تشبیہات کے ذریعہ اختصار کے ساتھ بڑے سلیقے سے اپنی بات پیش کرتے ہیں، انوکے اور حسین تشبیہات کے استعمال سے بھی ان کے اسلوب میں حسن پیدا ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اختیار اور جامعیت کے اساھت ساتھ دلکش اور پر لطف انداز بیان بھی ان کے اسلوب کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ 

غرض زماں آزردہ کے انشائیوں میں انشایئے کے تمام خصوصیات بڑی عمدگی سے ملتی ہے، لیکن ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے انشائیوں میں غالبؔ کے اشعار کے حوالے سے بھی اپنے مقاصد کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غالبؔ سے بے حد متاثر ہیں۔

اس کے علاوہ محمد زماں آزردہ کے یہاں ہمیں طنز  بھی خوب ملتا ہے۔ وہ طنز کے تیکھے تیکھے جملوں سے سماج کی ناہمواریوں پروار کرتے ہیں۔ وہ سماج کے معتبر ہستیوں کوبھی اپنے طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ مثلا سیاسی لیڈر ہوکہ شاعر، ادیب ہو کہ ناقد، افسر ہوکہ بیوی غرض سبھی کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ 

زماں آزردہ طنز کے ذریعہ اصلاح کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

محمدآزردہ نے بعض سماجی مسائل پر بھی طنز کیا ہے۔ خاص کر جہیز کی لعنت پر انھوں نے خوب طنز کی اہے جہاں سسرال والے محض جھوٹی عزت کی خاطر جہیز کی مانگ کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہمیں آزردہ کے ایک انشائیے شیریں کے خطوط میں ملتی ہے۔ 

’’لڑکے کاباپ معلوم ہے کیا کہتاہے کہ میرے لڑکے کی بے عزتی ہوگئی۔ اس کے دوستوں کو سسرال سے ریڈیو سیٹ ، موٹر ، کشمیری قالین، فارن رسٹ واچ اور نہ جانے کیا کیا چیزیں مل گئیں۔ اب وہ کیسے ان میں اپنے آپ کو ذلیل کرے گا‘‘۔ 

(شیریں کے خطوط، ص 10-11)

زماں آزردہ کے انشائیوں کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ وہ سماج کی ان برائیوںپر طنز کرتے ہوئے حکومت کو اپنا فرض یاد دلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اس رسم و رواج پر پابندی عائد کرے۔ 

شیریں کے خطوط سے ایک مثال ملاحظہ ہو۔ 

’’سلمیٰ کاش ہماری حکومت میں اتنی طاقت ہوتی کہ وہ ان رسوم کو بڑھاوادینے والوں کو قابو میں کرسکتی۔ کاش وہ ایسے رسوم پر پابندی لگاسکتی ہے۔ مگر کیا ہوسکتا۔ حکومت بھی ہم ہی ہیں۔ بھئی لوگوں پر تو فضول خرچی جنون کی حد تک سوار ہوگئی ہے۔ ان کے پاس مال مفت Easy Money اس قدر ہے کہ ایسے خرچ کرنے کے لیے مختلف بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ بھلا خون پسینے کی کمائی کو کوئی ہاتھ سے یوں جانے دیتاہے؟ یہ سب کالی کمائی کے کھلائے ہوئے گل ہیں۔ جو اپنی اس رو میں غریب کی محنت کی کمائی کو بھی بہا لے جاتی ہے۔ ‘‘

(شیریں کے خطوط، ص   )

اس کے ساتھ ہی زماں آزردہ نے اپنے طنز کا ہتھیار آفسروں ،چمچہ گری کرنے والوں پر برجستہ آزمایا ہے۔ اس کے مثالیں ہمیں آزردہ کے ان انشائیوں میں ملتے ہیں۔ مثلاً  شیریں کے خطوط ، چمچہ گری، ون و ے ٹریفک، حافظہ، وغیرہ۔ 

اس سلسلے میں انھوںنے نقاد اور ادیب کو بھی نہیں بخشا ہے۔ آزردہ کے انشائیے، ادیب، چوری اور سینہ زوری، جوانی، شرافت، خود ستائی وغیرہ میں بخوبی ملتی ہے۔ زماں آزردہ سماج کے مختلف کرداروں کو اپنی طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ مگر ان کا لہجہ ایسا ہوتاہے کہ طنز کا تیر دریا کی زیرآب لہروں کی طرح کام کرتاہے۔ انھوں نے سماج کے مختلف رسوم اور بدعملی کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا ہے لیکن آزردہ ہر جگہ اپنے ہمدردانہ لہجہ کے ذریعہ ہی بتانے کی کوشش کی ہے۔ 

غرض محمدزماں آزردہ کے انشائیوں کا مطالعہ کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے انشائیہ کی تمام خصوصیات کا بخوبی احاطہ کیا ہے اور کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ۔ ان کے یہاں انشائیہ نگاری کی تمام خصوصیات ملتی ہیں اور ان کے انشائیوں کی ان ہی خصوصیات کی بدولت ہم بلاشبہ انھیں ایک کامیاب انشائیہ نگار قرار دے سکتے ہیں۔ 


٭٭٭

حوالہ: مرزا محمد زماں آزردہ، گل دستہ (حصہ اوّل): تنقیدی و تحقیقی مطالعہ، مرزا پبلیکیشنز، کشمیر، 1990، ص 33، ادبِ اطفال، معاون ادارہ: ادارہ ادبیاتِ اردو، حیدرآباد۔

Dr.Fareeda Tabasum, 

Associate Professor ,

 Anwarul uloom College, Degree college , Hyderabad .  

جلد(1)  شمارہ (8)     مئی 2026

Tuesday, May 19, 2026

IoT Awareness Perspective انٹرنیٹ آف تھنگز سے آگاہی

 Ms Nusrath Afreen

Lecturer-Hyd. 

ABSTRACT

The Internet of Things (IoT) refers to a network of interconnected physical devices Embedded with sensors, software, processors, and communication technologies that enable them to collect, exchange, and analyse data over the internet.

The concept of IoT evolved gradually. During the period 1970–1990, basic Machine-to-Machine (M2M) communication was developed with the introduction of embedded systems and early networking technologies. In 1999, Kevin Ashton introduced the term “Internet of Things.” Between 2000–2010, wireless technologies such as Wi-Fi and Bluetooth expanded rapidly, and cloud computing along with IPv6 enabled more devices to connect to the internet. From 2010 onwards, IoT experienced rapid growth due to smartphones, affordable sensors, and cloud platforms. In recent years, IoT has become more advanced with Artificial Intelligence (AI), Machine Learning (ML), edge computing, and 5G technology, leading to developments in smart homes, wearable devices, smart cities, and industrial automation.

INTRODUCTION

IoT plays a significant role in bridging the gap between the physical and digital worlds. By enabling seamless communication between devices, cloud platforms, and users, IoT supports intelligent decision-making and automation. This connectivity allows systems to operate more efficiently with minimal human intervention. 

For example, IoT is widely used in smart homes to automate lighting and temperature control, in healthcare for patient monitoring, and in industries for improving productivity and operational efficiency.

IoT systems generally consist of Four Major Components:

Sensors/Devices – Collect real-time data such as temperature, motion, humidity, or heart rate.

Connectivity – Technologies like Wi-Fi, Bluetooth, and 5G transmit data.

Data Processing – Data is processed through cloud platforms or edge computing systems using analytics and AI.

User Interface – Information is delivered through dashboards, mobile applications, or automated control systems.

Sustainable Development through Internet of things

Sustainable development in the Internet of Things (IoT) refers to the use of interconnected devices, sensors, and intelligent systems to support economic growth, environmental protection, and social well-being while ensuring efficient use of resources for present and future generations. IoT enables real-time monitoring, automation, and data-driven decision-making, which helps reduce resource wastage, improve efficiency, and promote sustainable practices across various sectors.

IoT plays a significant role in Environmental sustainability by monitoring natural resources such as air, water, and soil quality. Smart sensors can detect pollution levels, temperature changes, and environmental hazards, enabling timely action to prevent environmental damage. IoT also supports smart energy systems by optimizing energy consumption, integrating renewable energy sources, and reducing carbon emissions through intelligent energy management.

In Sustainable agriculture, IoT enables smart farming techniques such as automated irrigation, soil moisture monitoring, and crop health analysis. These systems help farmers use water, fertilizers, and other resources efficiently, improving crop yield while minimizing environmental impact. This contributes to food security and sustainable agricultural development.

IoT also supports Sustainable Healthcare through remote patient monitoring, wearable health devices, and smart medical systems. These technologies improve healthcare access, reduce hospital visits, and enable early disease detection, leading to better health outcomes and efficient healthcare management.

In Smart cities, IoT enables intelligent transportation systems, smart waste management, and smart infrastructure. These systems help reduce traffic congestion, fuel consumption, and pollution while improving public safety and urban resource management. Smart buildings use IoT to control lighting, heating, and cooling systems, reducing energy consumption and operational costs.

In Industrial sectors, IoT supports sustainable development by improving operational efficiency, enabling predictive maintenance, and reducing resource wastage. Industrial IoT systems monitor machine performance, optimize production processes, and reduce downtime, contributing to sustainable industrial growth.

CONCLUSION

The Internet of Things (IoT) is an important technology that connects smart devices and systems through the Internet. It helps improve efficiency, convenience, and decision-making in both daily life and industrial activities. 

In addition, IoT contributes to sustainable development by promoting efficient use of resources such as energy and water through smart monitoring and management systems. It also enhances safety, security, and reliability in different sectors. With the rapid advancement of communication technologies, cloud computing, and data analytics, IoT continues to expand its applications in smart cities, agriculture, transportation, and industrial automation. As a result, IoT has become a key technology in building intelligent, connected, and sustainable digital environments.

***

Ms Nusrath Afreen

Lecturer in Computers

Government Degree college, Falaknuma

Hyderabad.

Email:nusratafreen466@gmail.com

***

From . Vol-01- Issue 06   March 2026

Monday, May 18, 2026

فیض احمد فیضؔ کی شاعری: جمالیات، رومان اور انقلابی شعور

 غلام مرتضیٰ (ریسرچ اسکالر)

فیض احمد فیضؔ اردو ادب کے اُن عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف حسن و محبت کے جذبات کو مہمیز دی بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کو بھی بیدار کیا۔ ان کی پیدائش 13 فروری 1911ء کو سیالکوٹ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے عربی اور انگریزی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔

فیضؔ کی شاعری کا آغاز رومانوی فضا میں ہوا، جہاں عشق، ہجر، وصال اور محبوب کی دلکشی بنیادی موضوعات رہے۔ ان کی ابتدائی غزلوں میں کلاسیکی رنگ، لطافت، نغمگی اور دلفریبی نمایاں نظر آتی ہے۔ زبان کی سادگی اور اظہار کی دلکشی ان کی غزلوں کو عام قاری کے لیے بھی پرکشش بناتی ہے۔فیض احمد فیضؔ کے یہ دو شعر ملاحظہ فرمائیں: ؎

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

ویراں  ہے میکدہ خم و ساغر اداس ہیں

تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

تاہم ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے بعد ان کی شاعری میں ایک نمایاں فکری تبدیلی رونما ہوئی۔ انہوں نے شاعری کو محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی ناانصافی، استحصال، غلامی اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس دور میں ان کی نظموں میں انقلابی جوش، احتجاج اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے۔آل احمد سرور فیض احمد فیضؔ کے رمزیہ انداز کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فیض کی شاعری Direct سے زیادہ Oblique ہے۔ وہ صراحت کے نہیں، رمز کے شاعر ہیں، ان کا ماننا ہے کہ فیضؔ نے سیاسی موضوعات کو بھی تغزل کی سرمستی اور سحر کاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی شاعری دلکش اور مسحور کن بن گئی ہے۔‘‘

فیضؔ کی مشہور نظم ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ آزادیٔ اظہار اور انسانی وقار کی علامت ہے، جبکہ ’’مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘‘ میں ذاتی عشق سے اجتماعی دکھ کی طرف واضح فکری ارتقا دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح وہ رومان سے حقیقت کی طرف ایک بامعنی سفر طے کرتے ہیں۔ان کی شاعری کو عموماً دو ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:

پہلا دور رومانوی ہے جس میں عشقیہ جذبات غالب ہیں، جبکہ دوسرا دور انقلابی ہے جس میں سماجی اور سیاسی شعور نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس دوسرے دور میں فیضؔ نے مزدوروں، کسانوں اور محکوم طبقات کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔

فیضؔ کی غزلوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عشق کے روایتی تصور کو وسعت دے کر اسے اجتماعی زندگی سے جوڑ دیا۔ ان کے ہاں عشق محض محبوب تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی ہمدردی اور انقلاب کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے ان کے بہت سے اشعار بظاہر عشقیہ ہوتے ہیں لیکن ان کے پس منظر میں گہرا سیاسی اور سماجی شعور کارفرما ہوتا ہے۔فیض کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام

موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

دوستو اس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر

گلستاں کی بات رنگیں ہے نہ مے خانے کا نام

پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں

پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

اگرچہ فیض احمد فیضؔ کے یہ اشعار بظاہر تو رومانی انداز میں ہیں مگر ان کی باطنی کیفیت کچھ اور انداز بیان کرتی ہے۔شاعر اپنے وطن سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے میرے وطن تیری آزادی کے دن بہت قریب ہیں ایک نہ ایک دن ضرور ان غلامی کی زنجیروں سے آزادی ملے گی اور ہمیں بھی سکون کی سانس میسر ہوگی۔

فنی اعتبار سے بھی فیضؔ کی شاعری بے مثال ہے۔ ان کے کلام میں سوز و گداز، شدتِ احساس، رمزیت، علامت نگاری اور تہذیبی شعور نمایاں ہے۔ انہوں نے سیاسی موضوعات کو بھی تغزل کے حسین پیرائے میں پیش کیا، جس سے ان کی شاعری میں دلکشی اور اثر انگیزی مزید بڑھ گئی۔  ان کے کلام میں سوز و گداز، نغمگی، سادگی اور تاثیر کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کی زبان نہایت شستہ اور رواں ہے، جو قاری کے دل میں براہِ راست اترتی ہے۔ ان کے ہاں فارسی اور عربی الفاظ کا استعمال بھی نہایت سلیقے سے کیا گیا ہے، جو ان کی شاعری کو ایک کلاسیکی وقار عطا کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جدیدیت کو بھی اپنی شاعری میں جگہ دی، جس سے ان کا کلام ایک ہمہ جہت ادبی تجربہ بن جاتا ہے۔

فیض احمد فیضؔ کی شاعری جمالیات، رومان اور انقلاب کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو نہ صرف فکری وسعت عطا کی بلکہ اسے عوامی شعور اور بیداری کا مؤثر ذریعہ بھی بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی زندہ اور معنویت سے بھرپور محسوس ہوتا ہے۔ فیضؔ کی شاعری میں تہذیبی شعور بھی نمایاں ہے۔ وہ اپنی شاعری میں مشرقی تہذیب، اسلامی روایات اور انسانی اقدار کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ وہ آفاقی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ ان کے ہاں محبت، امن، آزادی اور انصاف جیسے موضوعات محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کے استعارے بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف ادب تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک سماجی و سیاسی تحریک کا حصہ بن جاتی ہے۔

فیضؔ کی شاعری کے اثرات نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی اور ان کا شمار اُن شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو انسانی آزادی اور انصاف کی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ ان کا کلام آج بھی مختلف تحریکوں، جلسوں اور ادبی محفلوں میں اسی جوش و جذبے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی شاعری وقت کی قید سے آزاد ہے۔

فیض احمد فیض کی شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی اور انسانی شعور کی عکاسی ہے۔ ان کے کلام میں محبت، انقلاب اور انسان دوستی کے عناصر اس انداز سے یکجا ہو جاتے ہیں کہ وہ قاری کو اپنے عہد اور معاشرے کے ساتھ ایک نئے رشتے میں باندھ دیتے ہیں۔ فیض کی فکر میں جہاں جمالیاتی لطافت ہے وہیں ایک وسیع انسانی ہمدردی بھی کارفرما ہے، جو ان کی شاعری کو آفاقی بنا دیتی ہے۔ اسی تناظر میں ناقدین نے ان کے فن کو برصغیر کی تہذیبی روایت اور انسانی اقدار کا تسلسل قرار دیا ہے:

’’فیض احمد فیضؔ برصغیر کی تہذیب کی جمالیات سے رشتہ رکھتے ہیں جس کی جڑیں اس زمین کی گہرائیوں میں پیوست اور دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ فیضؔ کی شخصیت کا ارتقا اسی تہذیب میں ہوا ہے۔ ان کی شاعری اسی تہذیب کی جمالیات کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرتی ہے۔ ان پہلوؤں اور جہتوں کو ’’ہیومنزم‘‘ کے جمالیاتی مظاہر سے تعبیر کرنا مناسب ہوگا۔‘‘2؎

اگر ہم فیضؔ کی شاعری کا مجموعی جائزہ لیں تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے رومان کو انقلاب سے، اور جمالیات کو شعور سے اس طرح ہم آہنگ کیا کہ ان کی شاعری ایک مکمل انسانی تجربہ بن گئی۔ ان کے ہاں حسن محض ظاہری نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی قدر بھی ہے اور عشق محض جذباتی نہیں بلکہ ایک انقلابی قوت بھی ہے۔مختصراً فیض احمد فیضؔ کی شاعری ایک ایسا حسین امتزاج ہے جس میں جمالیات، رومان اور انقلابی شعور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو گئے ہیں کہ انہیں الگ کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کلام نہ صرف ادبی لحاظ سے اہم ہے بلکہ انسانی شعور کی بیداری اور سماجی تبدیلی کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیضؔ آج بھی زندہ ہیں اپنے اشعار میں، اپنے نظریات میں، اور ان دلوں میں جو انصاف، آزادی اور محبت کے خواب دیکھتے ہیں۔ 

حوالہ جات:

1؎۔ آل احمد سرور، مضامین ’’نئی اور پرانی قدریں‘‘

2؎۔ شاہد ماہلی، مرتب، ’’فیض احمد فیضؔ: عکس اور جہتیں‘‘، 1987، ص 141

Ghulam Murtaza

Department of Urdu,University of Hyderabad

Phone: +91 9906069036, +91 7889791472

Email:rtazarahi32@gmail.com

چکبستؔ کا زمانہ ہندوستان میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی بیداری کا زمانہ تھا۔ یہ ملک کی تاریخ کا ایک اہم دور تھا جب ہندوستان کے لوگ انگریزی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے طریقے تلاش کر رہے تھے۔ ۱۸۵۷ء میں آزادی کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھامگر انگریزوں نے اسے سختی سے دبا دیا۔ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر ایک مدت تک مایوسی اور شکست کا احساس پیدا ہو گیا اور ملک کو شدید بے چینی اور ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔اسی پس منظر میں چکبست ؔکے معاصر شعرا ء کی شاعری میں بھی اس زمانے کے سیاسی اور سماجی حالات، واقعات اور مختلف مسائل کی جھلک ملتی ہے لیکن چکبستؔ کو اس میدان میں جو نمایاں مقام حاصل ہے وہ دوسروں کو کم ہی نصیب ہوا۔ انہوں نے اپنے دور کے سیاسی حالات، تحریکِ آزادی کے خیالات، قومی شعور، حبِ وطن کے جذبات اور تعلیمِ نسواں کی اہمیت کو نہایت مؤثر اور خوبصورت شاعرانہ انداز میں پیش کیا جو ان کی فنی مہارت اور انفرادیت کی واضح علامت ہے۔بلاشبہ چکبست ؔنے زیادہ شاعری نہیں کی لیکن جو کچھ بھی انہوں نے کہا وہ اثر انگیز اور معنی خیز ہے۔ غزلوں، مرثیوں اورنظموں پر مشتمل شعری مجموعہ’’صبحِ وطن‘‘نے انہیں اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم شاعر کے طور پر پہچان دلائی۔ چکبستؔ اپنے زمانے کے صرف جدید رجحانات کے حامل شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کی نمائندگی کرنے والے شاعر بھی تھے اپنے معاصر شعرا ء کے درمیان ان کا مقام نہایت بلند سمجھا جاتا تھا۔

اگرچہ وہ مرزا غالبؔ، خواجہ حیدر علی آتشؔ اور میر انیسؔ سے متاثر تھے لیکن ان کی شاعری میں بالخصوص میر انیس ؔاور آتشؔ کے اسلوب کی جھلک زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ میر انیس ؔکے اثر کے تحت انہوں نے رامائن کے ایک واقعے کو مسدس کی شکل میںاپنی نظم’’رامائن کا ایک سین‘‘میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظم اردو شاعری میں منظر نگاری کا ایک نہایت خوبصورت نمونہ سمجھی جاتی ہے اس کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں میر انیس ؔکے اندازِ بیان کی جھلک محسوس ہوتی ہے وہیں انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی اور مختلف مناظر کی مؤثر تصویر کشی بھی سامنے آتی ہے۔درحقیقت یہ نظم رام چندر اور ان کی ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے نظم کی ابتدا رام چندر کی رخصتی کے منظر سے ہوتی ہے۔ اس حصّے کے اشعار قاری کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیںجو چکبستؔ کی ذہانت اور ان کی گہری فکر کا ثبوت ہے۔ ابتدائی بندوں میں ماں اور بیٹے کی ملاقات اور جدائی کے منظر کو نہایت مؤثر اور دلگداز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام

راہِ وفا کی منزل اوّل ہوئی تمام

منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام

دامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلام

دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نو نہال

خاموش ماں کے پاس گیا وہ صورتِ خیال

کیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ نے گناہ

نورِ نظر پہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہ

جنبش ہوئی لبوں کو بھری اک سرد آہ

لی گوشۂ چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ

چکبست ؔکا ادبی ذوق بنیادی طور پر لکھنوی روایت سے وابستہ تھا اور ان کی شخصیت و شاعری میں اس رنگ کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے انہیں اردو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان پر بھی اچھی دسترس حاصل تھی۔ ادبی اعتبار سے وہ اس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے جسے عموماً لکھنؤ اسکول کہا جاتا ہے۔ یہ دبستان اپنے مخصوص طرزِ بیان، نرم و نازک لب و لہجے، تکلف آمیز انداز اور ظاہری نزاکت کے لیے معروف رہا ہے۔ اس مکتب سے وابستہ ادیب زیادہ تر لفظی خوبصورتی، ظاہری آرائش اور معنی کی لطافت کو اہمیت دیتے تھے مگر چکبستؔ نے اس روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اپنی شاعری میں نئے پہلو پیدا کیے۔انہوں نے محض لفظی سجاوٹ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خیال کی گہرائی اور معنی کی وسعت کو بھی اہمیت دی۔ان کی شاعری میں فنی نزاکت کے ساتھ ساتھ فکر کی تازگی بھی ملتی ہے۔ چونکہ وہ نہایت حساس طبیعت کے مالک تھے اس لیے انہوں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی صرف محبوب کے حسن اور روایتی عشقیہ موضوعات تک محدود نہیںبلکہ اس کے دامن میں معاشرتی اور انسانی مسائل کی ایک وسیع دنیا بھی موجود ہے۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے لکھنوی دبستان کی ظاہریت کے بجائے باطنی کیفیت اور داخلی احساسات کو زیادہ اہمیت دی۔

چکبستؔ کے کلام میں اپنے ہم عصر شعرا ء کی طرح روایتی حسن و عشق کے مضامین زیادہ نمایاں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ان کی شاعری میں اپنے عہد کے انسان کے دکھ، اضطراب اور فکری کشمکش کی گہری جھلک ملتی ہے۔ ان کی نظموں میں زندگی اور کائنات کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے وطن، سماج، سیاست، معاشرت اور اقتصادی حالات جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا حصّہ بنایا اور ہندوستانی عوام کی مشکلات اور محرومیوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔حب الوطنی کے جذبے کے اظہار میں بھی ان کا مقام نمایاں ہے اس حوالے سے ان کے کلام میں فطرت کے دلکش مناظر اور وطن سے محبت کے جذبات بڑی شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی خصوصیات ان کی شاعری کو ایک وسیع فکری پس منظر عطا کرتی ہیں اور انہیں اردو شاعری کی روایت میں ایک منفرد اور اہم شاعر کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔چکبست ؔکو ہندوستان کی غلامی پر گہرا افسوس تھا لیکن ان کی دل گرفتگی صرف سیاسی محکومی تک محدود نہیں تھی۔ دراصل انہیں اس بات کا زیادہ دکھ تھا کہ ہندوستانی قوم کے اندر غلامی کی ذہنیت پیدا ہو گئی تھی اور لوگ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرنے لگے تھے۔ ان کے نزدیک یہ صورتِ حال دراصل قوم کی جہالت اور باہمی اختلافات کا نتیجہ تھی جس نے معاشرے کو کمزور اور منتشر کر دیا تھا۔

کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی

پر اب عروج وہ علم وکمال فن میں نہیں

غرور و جہل نے ہندوستاں کو لوٹ لیا

بجز نفاق کے اب خاک بھی وطن میں نہیں

پرانی کاوشیں دیر وحرم کی مٹتی جاتی ہیں

نئی تہذیب کے جھگڑے ہیں اب شیخ و برہمن  میں

چکبستؔ کی شاعری کا ایک نمایاں رخ قومی شاعری بھی ہے انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے ہندوستانی عوام خاص طور پر نوجوان نسل کے اندر قومی شعور بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ان کی خواہش تھی کہ لوگ وطن کی قدر کریں اور قومی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے اپنی شاعری میں حبِ وطن کے جذبات کو ابھارا اور قوم کو بیداری کا پیغام دیا۔ان کو ہندوستان کے شاندار ماضی اور اس کی قدیم تہذیبی روایتوں سے گہری عقیدت تھی وہ اپنے ملک کی تاریخ اور ثقافتی اقدار کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے اپنی نظم’’خاکِ ہند‘‘میں ہندوستان کے عظیم اور درخشاں ماضی کا بڑے فخر اور محبت کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اسی سلسلے میں وہ کہتے ہیں:

اے خاکِ ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہیں

دریائے فیض قدرت تیرے لیے رواں ہے

اس خاکِ دل نشین سے چشمے ہوئے وہ جاری

چین و عرب میں جن سے ہوتی تھی آب یاری

برسوں سے ہو رہا ہے برہم سماں ہمارا

دنیا سے مٹ رہا ہے نام و نشاں ہمارا

کچھ کم نہیں اجل سے خواب گراں ہمارا

اک لاش بے کفن ہے ہندوستاں ہمارا

اے صورِ قومیِ اس خواب سے جگا دے 

بھولا ہوا فسانہ کانوں کو پھر سنا دے

غنچے ہمارے دل کے اس باغ میں کھلیں گے 

اس خاک سے اٹھے ہیں اس خاک میں ملیں گے

چکبست ؔکو فطرت اور قدرتی مناظر سے گہری دلچسپی تھی اسی وجہ سے ان کی بہت سی نظموں میں منظر نگاری نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ قدرتی حسن کی تصویر کشی ان کے فن کا اہم حصّہ بن گئی تھی۔ وہ اپنے اشعار کے ذریعے فطرت کے مختلف رنگوں اور دلکش مناظر کو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کرتے ہیںان کی نظم’’کشمیر‘‘اس کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اس نظم میں انہوں نے کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کو بڑی دلکشی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بلند پہاڑ، سرسبز و شاداب مرغزار، بل کھاتی ہوئی پگڈنڈیاں، پیچ و خم کے ساتھ بہتی ندیاں، ٹھنڈے اور شیریں چشمے، جھیل ڈل میں تیرتی کشتیاں، نغمے گاتے ملاحسب کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کشمیر کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

محتاج نہیں وصف کا یہ خطۂ دل گیر

ہے رو کشِ گلزارِ جناں گلشن کشمیر

وہ موج ہوا کا حرکت ابر کو دینا

چشموں سے پہاڑوں کے اڑتا ہوا پھینا

گاتے ہوئے ،لاحوں کا وہ کشتیاں کھینا 

ڈل کا وہ سرِشام ادھر کروٹیں لینا

وہ صبح کو کہسار کے پھولوں کا مہکنا

وہ جحاڑیوں کی آڑ میں چڑ یوں کا چہکنا

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ چکبست ؔکی شاعری کا بنیادی محور حبِ وطن کا جذبہ ہے۔ ان کے کلام کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے فلسفیانہ بحثوں یا روایتی حسن و عشق کے مضامین کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنی شاعری کو ملک کی اصلاح، سیاسی شعور اور قومی بیداری کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔ان کی بیشتر شاعری میں وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ ان کا مقصد ہندوستانی عوام کو بیدار کرنا اور انہیں اپنے حالات کا شعور دلانا تھا۔ اسی لیے انہوں نے نصیحت آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے قوم کو اپنے شاندار ماضی اور مشرقی تہذیب و تمدن سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔چکبست کے کلام کی ایک اہم خوبی اس کی سادہ اور رواں زبان ہے ان کی شاعری میں دلکش منظر نگاری اور جذبات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ ساتھ ہی ان کا کلام قومی شعور، ملک و قوم کی محبت اور عوام کے درد و احساس کا مؤثر اظہار بھی پیش کرتا ہے۔

حوالہ جات:

۱؎  صبح وطن،نامی پریس لکھنؤ،ایڈیشن چوتھا،دسمبر ۱۹۸۵ء

۲؎  روح چکبست،رام نرائن لال ارن کمار،کڑہ،الاآباد،۱۹۸۸ء

۳؎  صبح وطن،نامی پریس لکھنؤ،ایڈیشن چوتھا،دسمبر ۱۹۸۵ء،

۴؎  منتخب نظمیں،نظم(کشمیر)،اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ،

Sabzar Sikandar Seh

Research Scholar,University of Hyderabad

Hyderabad – 500046,Phone: +91 7006234934

جلد - 1 - شماره 08 مئی 2026

Sunday, May 17, 2026

فطرت اور قومیت: چکبستؔ کے شعری افکار کا جائزہ

 سبزار سکندر سہہ (ریسرچ اسکالر)


چکبستؔ کا زمانہ ہندوستان میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی بیداری کا زمانہ تھا۔ یہ ملک کی تاریخ کا ایک اہم دور تھا جب ہندوستان کے لوگ انگریزی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے طریقے تلاش کر رہے تھے۔ ۱۸۵۷ء میں آزادی کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھامگر انگریزوں نے اسے سختی سے دبا دیا۔ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر ایک مدت تک مایوسی اور شکست کا احساس پیدا ہو گیا اور ملک کو شدید بے چینی اور ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔اسی پس منظر میں چکبست ؔکے معاصر شعرا ء کی شاعری میں بھی اس زمانے کے سیاسی اور سماجی حالات، واقعات اور مختلف مسائل کی جھلک ملتی ہے لیکن چکبستؔ کو اس میدان میں جو نمایاں مقام حاصل ہے وہ دوسروں کو کم ہی نصیب ہوا۔ انہوں نے اپنے دور کے سیاسی حالات، تحریکِ آزادی کے خیالات، قومی شعور، حبِ وطن کے جذبات اور تعلیمِ نسواں کی اہمیت کو نہایت مؤثر اور خوبصورت شاعرانہ انداز میں پیش کیا جو ان کی فنی مہارت اور انفرادیت کی واضح علامت ہے۔بلاشبہ چکبست ؔنے زیادہ شاعری نہیں کی لیکن جو کچھ بھی انہوں نے کہا وہ اثر انگیز اور معنی خیز ہے۔ غزلوں، مرثیوں اورنظموں پر مشتمل شعری مجموعہ’’صبحِ وطن‘‘نے انہیں اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم شاعر کے طور پر پہچان دلائی۔ چکبستؔ اپنے زمانے کے صرف جدید رجحانات کے حامل شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کی نمائندگی کرنے والے شاعر بھی تھے اپنے معاصر شعرا ء کے درمیان ان کا مقام نہایت بلند سمجھا جاتا تھا۔

اگرچہ وہ مرزا غالبؔ، خواجہ حیدر علی آتشؔ اور میر انیسؔ سے متاثر تھے لیکن ان کی شاعری میں بالخصوص میر انیس ؔاور آتشؔ کے اسلوب کی جھلک زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ میر انیس ؔکے اثر کے تحت انہوں نے رامائن کے ایک واقعے کو مسدس کی شکل میںاپنی نظم’’رامائن کا ایک سین‘‘میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظم اردو شاعری میں منظر نگاری کا ایک نہایت خوبصورت نمونہ سمجھی جاتی ہے اس کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں میر انیس ؔکے اندازِ بیان کی جھلک محسوس ہوتی ہے وہیں انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی اور مختلف مناظر کی مؤثر تصویر کشی بھی سامنے آتی ہے۔درحقیقت یہ نظم رام چندر اور ان کی ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے نظم کی ابتدا رام چندر کی رخصتی کے منظر سے ہوتی ہے۔ اس حصّے کے اشعار قاری کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیںجو چکبستؔ کی ذہانت اور ان کی گہری فکر کا ثبوت ہے۔ ابتدائی بندوں میں ماں اور بیٹے کی ملاقات اور جدائی کے منظر کو نہایت مؤثر اور دلگداز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام

راہِ وفا کی منزل اوّل ہوئی تمام

منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام

دامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلام

دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نو نہال

خاموش ماں کے پاس گیا وہ صورتِ خیال

کیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ نے گناہ

نورِ نظر پہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہ

جنبش ہوئی لبوں کو بھری اک سرد آہ

لی گوشۂ چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ

چکبست ؔکا ادبی ذوق بنیادی طور پر لکھنوی روایت سے وابستہ تھا اور ان کی شخصیت و شاعری میں اس رنگ کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے انہیں اردو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان پر بھی اچھی دسترس حاصل تھی۔ ادبی اعتبار سے وہ اس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے جسے عموماً لکھنؤ اسکول کہا جاتا ہے۔ یہ دبستان اپنے مخصوص طرزِ بیان، نرم و نازک لب و لہجے، تکلف آمیز انداز اور ظاہری نزاکت کے لیے معروف رہا ہے۔ اس مکتب سے وابستہ ادیب زیادہ تر لفظی خوبصورتی، ظاہری آرائش اور معنی کی لطافت کو اہمیت دیتے تھے مگر چکبستؔ نے اس روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اپنی شاعری میں نئے پہلو پیدا کیے۔انہوں نے محض لفظی سجاوٹ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خیال کی گہرائی اور معنی کی وسعت کو بھی اہمیت دی۔ان کی شاعری میں فنی نزاکت کے ساتھ ساتھ فکر کی تازگی بھی ملتی ہے۔ چونکہ وہ نہایت حساس طبیعت کے مالک تھے اس لیے انہوں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی صرف محبوب کے حسن اور روایتی عشقیہ موضوعات تک محدود نہیںبلکہ اس کے دامن میں معاشرتی اور انسانی مسائل کی ایک وسیع دنیا بھی موجود ہے۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے لکھنوی دبستان کی ظاہریت کے بجائے باطنی کیفیت اور داخلی احساسات کو زیادہ اہمیت دی۔

چکبستؔ کے کلام میں اپنے ہم عصر شعرا ء کی طرح روایتی حسن و عشق کے مضامین زیادہ نمایاں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ان کی شاعری میں اپنے عہد کے انسان کے دکھ، اضطراب اور فکری کشمکش کی گہری جھلک ملتی ہے۔ ان کی نظموں میں زندگی اور کائنات کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے وطن، سماج، سیاست، معاشرت اور اقتصادی حالات جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا حصّہ بنایا اور ہندوستانی عوام کی مشکلات اور محرومیوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔حب الوطنی کے جذبے کے اظہار میں بھی ان کا مقام نمایاں ہے اس حوالے سے ان کے کلام میں فطرت کے دلکش مناظر اور وطن سے محبت کے جذبات بڑی شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی خصوصیات ان کی شاعری کو ایک وسیع فکری پس منظر عطا کرتی ہیں اور انہیں اردو شاعری کی روایت میں ایک منفرد اور اہم شاعر کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔چکبست ؔکو ہندوستان کی غلامی پر گہرا افسوس تھا لیکن ان کی دل گرفتگی صرف سیاسی محکومی تک محدود نہیں تھی۔ دراصل انہیں اس بات کا زیادہ دکھ تھا کہ ہندوستانی قوم کے اندر غلامی کی ذہنیت پیدا ہو گئی تھی اور لوگ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرنے لگے تھے۔ ان کے نزدیک یہ صورتِ حال دراصل قوم کی جہالت اور باہمی اختلافات کا نتیجہ تھی جس نے معاشرے کو کمزور اور منتشر کر دیا تھا۔

کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی

پر اب عروج وہ علم وکمال فن میں نہیں

غرور و جہل نے ہندوستاں کو لوٹ لیا

بجز نفاق کے اب خاک بھی وطن میں نہیں

پرانی کاوشیں دیر وحرم کی مٹتی جاتی ہیں

نئی تہذیب کے جھگڑے ہیں اب شیخ و برہمن  میں

چکبستؔ کی شاعری کا ایک نمایاں رخ قومی شاعری بھی ہے انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے ہندوستانی عوام خاص طور پر نوجوان نسل کے اندر قومی شعور بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ان کی خواہش تھی کہ لوگ وطن کی قدر کریں اور قومی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے اپنی شاعری میں حبِ وطن کے جذبات کو ابھارا اور قوم کو بیداری کا پیغام دیا۔ان کو ہندوستان کے شاندار ماضی اور اس کی قدیم تہذیبی روایتوں سے گہری عقیدت تھی وہ اپنے ملک کی تاریخ اور ثقافتی اقدار کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے اپنی نظم’’خاکِ ہند‘‘میں ہندوستان کے عظیم اور درخشاں ماضی کا بڑے فخر اور محبت کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اسی سلسلے میں وہ کہتے ہیں:

اے خاکِ ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہیں

دریائے فیض قدرت تیرے لیے رواں ہے

اس خاکِ دل نشین سے چشمے ہوئے وہ جاری

چین و عرب میں جن سے ہوتی تھی آب یاری

برسوں سے ہو رہا ہے برہم سماں ہمارا

دنیا سے مٹ رہا ہے نام و نشاں ہمارا

کچھ کم نہیں اجل سے خواب گراں ہمارا

اک لاش بے کفن ہے ہندوستاں ہمارا

اے صورِ قومیِ اس خواب سے جگا دے 

بھولا ہوا فسانہ کانوں کو پھر سنا دے

غنچے ہمارے دل کے اس باغ میں کھلیں گے 

اس خاک سے اٹھے ہیں اس خاک میں ملیں گے

چکبست ؔکو فطرت اور قدرتی مناظر سے گہری دلچسپی تھی اسی وجہ سے ان کی بہت سی نظموں میں منظر نگاری نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ قدرتی حسن کی تصویر کشی ان کے فن کا اہم حصّہ بن گئی تھی۔ وہ اپنے اشعار کے ذریعے فطرت کے مختلف رنگوں اور دلکش مناظر کو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کرتے ہیںان کی نظم’’کشمیر‘‘اس کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اس نظم میں انہوں نے کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کو بڑی دلکشی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بلند پہاڑ، سرسبز و شاداب مرغزار، بل کھاتی ہوئی پگڈنڈیاں، پیچ و خم کے ساتھ بہتی ندیاں، ٹھنڈے اور شیریں چشمے، جھیل ڈل میں تیرتی کشتیاں، نغمے گاتے ملاحسب کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کشمیر کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

محتاج نہیں وصف کا یہ خطۂ دل گیر

ہے رو کشِ گلزارِ جناں گلشن کشمیر

وہ موج ہوا کا حرکت ابر کو دینا

چشموں سے پہاڑوں کے اڑتا ہوا پھینا

گاتے ہوئے ،لاحوں کا وہ کشتیاں کھینا 

ڈل کا وہ سرِشام ادھر کروٹیں لینا

وہ صبح کو کہسار کے پھولوں کا مہکنا

وہ جحاڑیوں کی آڑ میں چڑ یوں کا چہکنا

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ چکبست ؔکی شاعری کا بنیادی محور حبِ وطن کا جذبہ ہے۔ ان کے کلام کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے فلسفیانہ بحثوں یا روایتی حسن و عشق کے مضامین کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنی شاعری کو ملک کی اصلاح، سیاسی شعور اور قومی بیداری کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔ان کی بیشتر شاعری میں وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ ان کا مقصد ہندوستانی عوام کو بیدار کرنا اور انہیں اپنے حالات کا شعور دلانا تھا۔ اسی لیے انہوں نے نصیحت آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے قوم کو اپنے شاندار ماضی اور مشرقی تہذیب و تمدن سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔چکبست کے کلام کی ایک اہم خوبی اس کی سادہ اور رواں زبان ہے ان کی شاعری میں دلکش منظر نگاری اور جذبات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ ساتھ ہی ان کا کلام قومی شعور، ملک و قوم کی محبت اور عوام کے درد و احساس کا مؤثر اظہار بھی پیش کرتا ہے۔

حوالہ جات:

۱؎  صبح وطن،نامی پریس لکھنؤ،ایڈیشن چوتھا،دسمبر ۱۹۸۵ء

۲؎  روح چکبست،رام نرائن لال ارن کمار،کڑہ،الاآباد،۱۹۸۸ء

۳؎  صبح وطن،نامی پریس لکھنؤ،ایڈیشن چوتھا،دسمبر ۱۹۸۵ء،

۴؎  منتخب نظمیں،نظم(کشمیر)،اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ،

Sabzar Sikandar Seh

Research Scholar,University of Hyderabad

Hyderabad – 500046,Phone: +91 7006234934

جلد ۔ 1 ۔ شمارہ 08،   مئی2026

New issue

  

Qadar ul Kalam – A Peer-Reviewed Urdu Literary & Research Journal

Qadar ul Kalam is a peer-reviewed monthly literary and research journal published from Hyderabad, India. The journal is dedicated to the promotion of Urdu language and literature while providing a credible platform for high-quality academic, research-based, and creative writings.

All submissions are carefully selected based on scholarly merit, originality, research quality, and literary value. The journal maintains strict academic standards and ensures that every published work contributes meaningfully to literary and intellectual discourse.

ISSN: 3139-1028
Website: https://qadirulakalam.blogspot.com/   

Peer Review Policy

Every manuscript submitted to Qadar ul Kalam undergoes a rigorous peer-review process. Each paper is evaluated on the basis of:

  • Academic quality

  • Originality and innovation

  • Research depth

  • Literary significance

The editorial board holds full authority to accept, reject, or request revisions from authors when necessary.

Publication Schedule

  • Submission Deadline: 25th of every month

  • Peer Review Notification: 28th of every month

  • Final Publication: 3rd of every month

Academic Integrity

Plagiarism in any form is strictly prohibited. All submissions must be original, unpublished, and properly referenced. Ethical research standards and academic integrity are the core principles of this journal.

Submission Link

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLScEV_ktSKQCYZHFz9axxoDZJ8zuT4METtIT01NVAlLmEcOIfw/viewform



قادرالکلام – ایک پیر ریویڈ ادبی و تحقیقی جریدہ

قادرالکلام حیدرآباد، انڈیا سے شائع ہونے والا ایک ماہنامہ پیر ریویڈ ادبی و تحقیقی جریدہ ہے۔ اس جریدے کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ معیاری علمی، تحقیقی اور تخلیقی تحریروں کو ایک معتبر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

جریدے میں شائع ہونے والی تمام تحریریں علمی معیار، تحقیق کی گہرائی، جدت اور ادبی اہمیت کی بنیاد پر منتخب کی جاتی ہیں۔ ادارہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر شائع شدہ مقالہ علمی و ادبی دنیا میں مثبت اور بامقصد اضافہ کرے۔

ISSN: 3139-1028
ویب سائٹ: https://qadirulakalam.blogspot.com/

پالیسی برائے Peer Review

قادرالکلام میں موصول ہونے والے تمام مقالات باقاعدہ peer-review کے سخت مرحلے سے گزرتے ہیں۔ ہر مقالہ درج ذیل بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے:

  • علمی معیار

  • تحقیق کی جدت

  • مواد کی اصالت

  • ادبی اہمیت

ادارتی بورڈ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مقالے کو قبول کرے، مسترد کرے یا ترمیم کے لیے واپس بھیجے۔

اشاعت کا شیڈول

  • مقالہ جمع کروانے کی آخری تاریخ: ہر ماہ 25 تاریخ

  • Peer Review کی اطلاع: ہر ماہ 28 تاریخ

  • حتمی اشاعت: ہر ماہ 3 تاریخ

تحقیقی دیانت داری

سرقہ (Plagiarism) پر مبنی تحریریں سختی سے مسترد کی جاتی ہیں۔ تمام مقالات کا غیر مطبوعہ اور اصل ہونا ضروری ہے، اور حوالہ جات دینا لازمی ہے۔ علمی دیانت داری اس جریدے کی بنیادی شرط ہے۔

مقالہ ارسال کرنے کا لنک

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLScEV_ktSKQCYZHFz9axxoDZJ8zuT4METtIT01NVAlLmEcOIfw/viewform

اپنے مقالے جلد جمع کرائیں

  

Qadar ul Kalam – A Peer-Reviewed Urdu Literary & Research Journal

Qadar ul Kalam is a peer-reviewed monthly literary and research journal published from Hyderabad, India. The journal is dedicated to the promotion of Urdu language and literature while providing a credible platform for high-quality academic, research-based, and creative writings.

All submissions are carefully selected based on scholarly merit, originality, research quality, and literary value. The journal maintains strict academic standards and ensures that every published work contributes meaningfully to literary and intellectual discourse.

ISSN: 3139-1028
Website: https://qadarulkalamjournal.blogspot.com/

Peer Review Policy

Every manuscript submitted to Qadar ul Kalam undergoes a rigorous peer-review process. Each paper is evaluated on the basis of:

  • Academic quality

  • Originality and innovation

  • Research depth

  • Literary significance

The editorial board holds full authority to accept, reject, or request revisions from authors when necessary.

Publication Schedule

  • Submission Deadline: 25th of every month

  • Peer Review Notification: 28th of every month

  • Final Publication: 3rd of every month

Academic Integrity

Plagiarism in any form is strictly prohibited. All submissions must be original, unpublished, and properly referenced. Ethical research standards and academic integrity are the core principles of this journal.

Submission Link

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLScEV_ktSKQCYZHFz9axxoDZJ8zuT4METtIT01NVAlLmEcOIfw/viewform



قادرالکلام – ایک پیر ریویڈ ادبی و تحقیقی جریدہ

قادرالکلام حیدرآباد، انڈیا سے شائع ہونے والا ایک ماہنامہ پیر ریویڈ ادبی و تحقیقی جریدہ ہے۔ اس جریدے کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ معیاری علمی، تحقیقی اور تخلیقی تحریروں کو ایک معتبر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

جریدے میں شائع ہونے والی تمام تحریریں علمی معیار، تحقیق کی گہرائی، جدت اور ادبی اہمیت کی بنیاد پر منتخب کی جاتی ہیں۔ ادارہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر شائع شدہ مقالہ علمی و ادبی دنیا میں مثبت اور بامقصد اضافہ کرے۔

ISSN: 3139-1028
ویب سائٹ: https://qadarulkalamjournal.blogspot.com/

پالیسی برائے Peer Review

قادرالکلام میں موصول ہونے والے تمام مقالات باقاعدہ peer-review کے سخت مرحلے سے گزرتے ہیں۔ ہر مقالہ درج ذیل بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے:

  • علمی معیار

  • تحقیق کی جدت

  • مواد کی اصالت

  • ادبی اہمیت

ادارتی بورڈ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مقالے کو قبول کرے، مسترد کرے یا ترمیم کے لیے واپس بھیجے۔

اشاعت کا شیڈول

  • مقالہ جمع کروانے کی آخری تاریخ: ہر ماہ 25 تاریخ

  • Peer Review کی اطلاع: ہر ماہ 28 تاریخ

  • حتمی اشاعت: ہر ماہ 3 تاریخ

تحقیقی دیانت داری

سرقہ (Plagiarism) پر مبنی تحریریں سختی سے مسترد کی جاتی ہیں۔ تمام مقالات کا غیر مطبوعہ اور اصل ہونا ضروری ہے، اور حوالہ جات دینا لازمی ہے۔ علمی دیانت داری اس جریدے کی بنیادی شرط ہے۔

مقالہ ارسال کرنے کا لنک

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLScEV_ktSKQCYZHFz9axxoDZJ8zuT4METtIT01NVAlLmEcOIfw/viewform

Friday, May 15, 2026

قادرالکلام

 قادرالکلام (Qadar ul Kalam) ایک peer-reviewed ماہنامہ ادبی و تحقیقی جریدہ ہے جو حیدرآباد، انڈیا سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ معیاری تحقیقی اور تخلیقی تحریروں کو ایک مستند پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ جریدے میں شائع ہونے والے مضامین علمی معیار، تحقیق، اور ادبی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کیے جاتے ہیں۔

ISSN: 3139-1028
ویب سائٹ: https://qadarulkalamjournal.blogspot.com/

قادرالکلام میں موصول ہونے والی تمام تحریریں باقاعدہ peer-review عمل سے گزرتی ہیں۔ ہر مقالہ معیار، جدت اور تحقیق کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، اور ادارتی بورڈ کو قبول یا رد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مصنفین سے ترمیم بھی طلب کی جا سکتی ہے۔

مضامین کی وصولی، جائزہ اور اشاعت کا شیڈول درج ذیل ہے:
مقالہ داخل کرنے کی تاریخ: 25 ہر ماہ
پیرریویڈ کی اطلاع: 28 ہر ماہ
فائنل اشاعت: 3 ہر ماہ

جریدے میں سرقہ (Plagiarism) پر مبنی تحریریں ہرگز قبول نہیں کی جاتیں۔ تمام مضامین میں مستند حوالہ جات دینا لازمی ہے، اور تحریر کا اصل اور غیر مطبوعہ ہونا ضروری ہے۔ تحقیقی دیانت داری اور اخلاقی اصولوں کی پابندی اس جریدے کی بنیادی شرط ہے۔

مزید معلومات اور مقالہ ارسال کرنے کے لیے درج ذیل لنک استعمال کریں:
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLScEV_ktSKQCYZHFz9axxoDZJ8zuT4METtIT01NVAlLmEcOIfw/viewform

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM) ISSN: 3139-1028 Peer-Reviewed | International Research & R...