پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
دکن کے سلاطین علم و فضل کے شیدا ہنر و کمال کے قدر دان تھے۔ ان میں سے خود بھی کئی ایک صاحب قلم و سخن تھے۔ بہمنی حکمرانوں کی شان و شوکت، داد و دہش اور قدر دانی فضل و کمال کا شہرہ دور دور تک تھا اور ایران، توران، شیراز، استرآباد، گیلان، سمرقند، قزوین، ہرات اور اصفہان وغیرہ سے ارباب فکر و دانش اور اہل علم و ادب سینکڑوں کی تعداد میں دکن چلے آئے جہاں ان کی بڑی قدر و منزلت ہوئی یہی وجہ ہے کہ دکن فارسی ادب میں ایرانیوں کا حصہ بہ نسبت مقامی لوگوں کے زیادہ ہے۔ بہمنی دربار میں شعر و سخن کی محفلیں گرم رہتیں شعراء قصائد سناتے اور منہ مانگی مراد پاتے۔ فرشتہ کے بیان کے مطابق فارسی کے پیغمبر سخن حافظ شیرازی کو بھی محمود شاہ بہمنی کی فیاضی اور علم دوستی نے دکن آنے کی دعوت دی تھی لیکن وہ کسی وجہ سے نہیں آسکے۔ بہمنیوں نے فارسی زبان کی ترویج و اشاعت میں بہت اہم حصہ ادا کیا اس عہد میں فارسی زبان کو نہ صرف درباری و سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا بلکہ اس کے تمدنی روایات نے دکن کی حیات اجتماعی پر گہرا اثر ڈالا اس کی بدولت دکن میں ایک خاص علمی و ادبی ماحول بھی پیدا ہوا اور دکن کے معاشرہ کو نیا رنگ و آہنگ عطا ہوا۔ فارسی کے تمدنی روایات نے مقامی روایات سے ہم آہنگ ہوکر ایک مخلوط معاشرہ اور بین قومی تہذیب کو جنم دیا جو ہمارا بیش قیمتی ثقافتی ورثہ ہے۔ بہمنوں کے تقریباً دو سو سالہ شاندار دور حکمرانی میں علم و ادب اور تہذیب و تمدن کو جو فروغ حاصل ہوا اس کی شاندار روایات بہمنی سلطنت کی جانشین سلطنتوں کو گویا ورثہ میں ملی تھیں۔ چاہے وہ نظام شاہی ہو، عادل شاہی ہو یا قطب شاہی یہ ساری سلطنتیں علم و فضل کی قدر دان معارف پرور، سلاطین بھی ذی علم، علم دوست اور فضل و کمال کے قدر دان و پرستار تھے اس سبب سے ان کے پایہ تخت ہمیشہ اہل کمال کا مرجع و مرکز بنے رہے۔ مذکور ہ بالا سلطنتوں کی جانشین سلطنت آصفیہ تھی جو ہر اعتبار سے سب سے آگے تھی۔ سلطنت آصفیہ دکن پر تقریباً ڈھائی سو برس بر سر اقتدار رہی اس مدت میں سات فرمانراواں نے حکمرانی کی۔ شاہان آصفیہ کی علم دوستی و علم پروری اپنی مثال آپ ہے۔ بانی سلطنت آصفیہ نواب قمر الدین علی خاں بہادر آصفجاہ اول علم و فضل سے خاص شغف رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ آصفجاہ اول کا تعلق ترکستان کے ایک خاندان سے تھا جس نے بڑے بڑے عالم اور صاحب کمال صوفی پیدا کئے اور دوسری طرف خود آصفجاہ اول کی ذات ستودہ صفات تھی۔ ان میں اپنے خاندانی علم و فضل اور وجاہت ذاتی کے جوہر بدرجہ اتم موجود تھے۔ اہل کمال کے دل سے قدر دان تھے۔ خود بھی شعر کہتے تھے چنانچہ فارسی کے دو دیوان ان کی یادگار ہیں۔ ایک میں آصفؔ اور دوسرے میں شاکرؔ تخلص فرماتے ہیں۔ آصف جاہ اول نے غزلوں کے علاوہ ایک مثنوی شیرین خسرو بھی لکھی تھی جو کافی مشہور ہوئی۔ فارسی کے علاوہ اردو میں بھی شعر کہتے تھے۔
سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد برصغیر میں قائم ہونے والی خود مختار ریاستوں میں سب سے بڑی اور طاقتورریاست حیدر آباد دکن کی مملکت آصفیہ تھی۔ اس مملکت کے بانی نظام الملک آصف جاہ اول تھے اِ ن کے بہت سے خطاب تھے جن میں سب سے مشہور خطاب’’ آصف جاہ ‘‘ تھا جو محمد شاہ کے دور حکومت میں عطا ہوا ، اسی نسبت سے سلطنت آصفیہ کا قیام عمل میں آیا۔ ’’ آصف جاہ ثانی ‘‘ کے مصنف میر محمود علی مستند کتابوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ نواب نظام الملک آصف جاہ اول کا سلسلہ نسب حضرت شیخ شہاب الدین سہر وردیؔ سے لے کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ان کے جد امجد شاہ جہاں کے عہد میں سمر قند ، بخارہ اور ترکستان سے ہندوستان آئے اور دربار مغلیہ سے وابستہ ہوئے۔ آصف جاہ اول کے جد اعلی عابد خان شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں ’’منصب پنچ ہزاری ‘‘اور ’’صدارت کل ‘‘ کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کے فرزند میر شہاب الدین خاں عالمگیر کے مشہور امراء میں شامل تھے ، جنہیں منصب ’’ ہفت ہزاری ‘‘ اور غازی الدین خاں بہادر فیروز جنگ کا خطاب عطا کیا گیا تھا۔ ان ہی کے مایہ ناز سپوت نظام الملک آصف جاہ اول تھے۔ ان کے والد غازی الدین خاں فیروز جنگ کا نکاح شہنشاہ شاہ جہاں کے وزیر اعظم سعد اللہ خاں کی صاحب زادی سعید النساء بیگم کے ساتھ ہواان ہی کے بطن سے۱۴؍ ربیع الاخر۱۰۸۲ ھ۔ ۱۱ ؍ اگست ۱۶۷۱ء کو نظام الملک آصف جاہ اول تولد ہوئے۔ اس وقت کا قاعدہ تھا کہ اعلی درجے کے امراء میں سے جب کسی امیر کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو بادشاہ وقت خود اس بچے کا نام تجویز کرتا اسی رسم کے مطابق عالمگیر نے آصف جاہ اول کا نام میر قمر الدین رکھا۔ بچپن ہی سے میر قمر الدین کی ذہانت و فطانت سے بادشاہ اس قدر متآثر تھا کہ انہیں نو عمری ہی میں ’’منصب چار صدی پنجاہ سوار ‘‘ عطا کیا۔ آصف جاہ اول نے چار شادیاں کی تھیں جن سے چھ لڑکے اور چھ لڑکیاں تولد ہوئیں۔ آصف جاہی سلاطین کی تعداد 10تھی لیکن عام طور پر 7ہی کو شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے دوسرے فرزند ناصر جنگ اور نواسے مظفر جنگ کرنول اور کڑپہ کے نوابوں کے ہاتھوں شہیدہوئے۔ آصف جاہ اول کے عہد سے شروع ہوئی خانہ جنگی کا سلسلہ ان کی شہادت پر ختم ہوا۔ اس خانہ جنگی کے سبب سلطنت آصفیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ بانی آصفیہ کے دوسرے فرزند صلابت جنگ نے ۱۱ برس تک حکومت کی لیکن مؤرخین نے ان تینوں حکمرانوں کو شمار نہیں کیا اور سلطنت دہلی کے مغل بادشاہوں نے بھی انہیں صرف دکن کے صو بیدار کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ اسی لئے یہ آصف جاہ کے خاندانی خطاب سے محروم رہے۔ آصف جاہ اول کو فرخ سیر کے عہد میں دکن کی صوبہ داری عطا کی گئی تھی۔محمد شاہ کے عہد میں ۱۷۲۲ء میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ آصف جاہ اول نے مسائل میں گھری سلطنت کے تحفظ کے لیے ضروری اصلاحات و اقدامات کی کوشش کررہے تھے لیکن بادشاہ کے نا اہل مصاحبین نے رکاوٹیں حائل کرنی شروع کی تو آصف جاہ نے دکن کی طرف کوچ کیا جہاں انہیں چھ صوبوں کاصوبے دار مقرر کیا گیا۔ دکن میں انہوں نے ایک خود مختار حکمران کی حیثیت سے حکومت کی۔آصف جاہ اول کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے سلطنت مغلیہ کے بڑے بڑے صوبوں کو مرہٹوں کی سورشوں اور تباہ کاریوںسے بچایا اور ایک ایسے وقت میں جب برصغیر میں بدامنی اور انتشار کا دور دورہ تھا دکن میں امن و امان کی فضا قائم کی۔ تاریخ عالم میں برصغیر میں عالمگیر کے بعد بحیثیت عظیم حکمران کے صف اول میں حیدر علی ، ٹیپو سلطان اور نظام الملک آصف جاہ اول کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعدآصف جاہ اول نے۱۷۲۴ء میں دکن میں اپنی خود مختار حکومت قائم کی۔ان کی مملکت کا رقبہ تین لاکھ مربع میل سے کم نہ تھا۔ان کی سلطنت دریائے نربدا سے راس کماری تک پھیلی ہوئی تھی۔ مہاراشٹرا کے مغربی علاقوں اور شمال مشرقی حصوں کے علاوہ موجودہ کیرالا کا بیشتر علاقہ ان ہی کے قبضے میں تھا۔ حیدر آباد ، اورنگ آباد، احمد نگر ، بیجا پور ترچنا پلی ، تنجور اور مدورائی آصف جاہی حکومت کے مشہور شہر تھے۔ آصف جاہ نے شہر نظام آباد کو آباد کیا اس شہر کو آباد کرنے کا کام۱۴۱۱ھ سے شروع ہو کر عرصے دراز تک جاری رہا۔ اس شہر میں مساجد ، پْل ، سرائیں دولت خانے ، اور عمارتیں تعمیر کروائیں۔گلزار آصفیہ کے قلمی نسخہ صفحہ نمبر ۳۸ پر اس کا ذکر یوں ملتا ہے۔
’’ دو آباد فردا پور ، حصار شہر پناہ حیدر آباد کہ عماد الملک مبارز خاں شروع کردہ بود ھر قد ر کہ بہ کنکرہ طرف دروازہ دبیر پورہ است نباری عماد الملک است وھمہ کنکرہ دار نواب مو صوف با حداث آوردہ اندو خلوت مبارک و خواب گاہ دیوان عام و جلو خانہ وغیرہ دولت خانۂ حیدر آباد مع بنگلہ دروازہ ء مذکور کہ بفضلہ و تعالیٰ خانہ بدولت و اقبال جلوسگاہ حضور پر نور است ھمہ تیاری انحضرت است۔‘‘ (1)
نہر سولی کی مرمت اور شہر اورنگ آباد میں نو کھنڈہ اور دوسری عمارتیں بنوائیں۔ خلوت مبارک خواب گاہ دیوان عام ، جلو خانہ و دو لت خانہء حیدر آباد کے علاوہ برہان پور کی شاہ پناہ بھی تعمیر کروائی۔ آصف جاہ اول شعر فہمی کا بھی اعلی ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف شعراء و ادباکی سرپرستی کی بلکہ اپنے دو دیوان سے سرمایہ ادب میں اضافہ بھی کیا۔ آپ کے دو ضخیم دیوان دستیاب ہیں۔ دیوان اول۱۹۳۶ء میں مطبوعات دار الطبع سے شائع ہوا جس سے پتہ چلتا ہے کہ آصف اورشاکر تخلص کرتے تھے۔ اس دیوان میں چند رباعیات کے علاوہ تمام غزلیات ہیں۔ آصف جاہ کی شاعری اخلاقی اور صوفیانہ ہے۔ ان کا کلام واردات قلبی اور ذہنی کیفیات کا مرقع ہے۔ دیوان اول اور دیوان دوم سے قطعہ اور رباعی کے اشعار نمونہ کے طور پر ملاحظہ فرمائیں:
اشتیاق دیدن آن بی وفاداریم ما گو کدورت در دلش باشد صفاداریم ما
از پناہ دیگران باشد پناہِ ماقوی ھرکس این جاگیر کسی دارد خدادریما
از تصور کردن روی چمن پیرای او در نظر ’’ آصف‘‘ چہ باغ دلکشاداریم ما (2)
بہ خوبی نیست چون رویش دیگر گل کجا این رنگ و بو باشد بہ ھر گل
درین گلزار بی آن مھر تابان جمال آب و رنگی نیست درگل
بہ دینا بسر کہ دل بستند یاران شکفتہ نیست یک خاطر مگر گل
چو ’’ شاکرؔ ‘‘ گشت تسلیم رضا یش
بہ رنگ شاخ گل شد سربہ سر گل (3)
قطعہ
اگر نیکم دگر بد دانم او را
آزوھستم دراینجاھرچہ ھستم
چہ می پرسی کرا آصفؔ پرستی بتی دارم کہ او رامی پرستم (4)
ھمر ہان راچوں نفا بگذاشتی پردہ از رو بعد ازان برداشتی
اے بر آصفؔ چون نکردی اعتماد
برطریق دیگران پنداشتی (5)
رباعی
زنھار دل بہ نزش و نگار جھاں بند
رنگے کہ دیدۂ برخ گل پر ید نست
شاکرؔ برنگ برق درین عرصہ خیال
دامن زخویش برزدہ یک رودید نست (6)
انہوںنے ۵۲ برس طویل حکومت کے بعد۱۷۴۸ء میںسرزمین برہان پور مدھیہ پردیش میں انتقال کیا۔ناصر جنگ شہید اپنے والد کے اوصاف حمیدہ اور ان کی خصوصیات کا ذکر اس سوز انداز میں کرتے ہیں:
دل ز الطاف بھرہ ور گردید غنچہ بشگفت تازہ تر گردید
نالہ و اہ طایر دل راہ دررہ شوق بال و پر گردید
سایۂ حفظ و دست رفتہ شاہ دستگیر من و سپر گردید
از نگاہی کہ کمیا اثر است این مس قلب ہمچوزر گردید
پر قدر شاپ بندہ رابنواخت بند گیہاش پیشتر گر دید
در ادبگاہ دست من بر سر ای خوشافخر تاج زر گردید
ناصر از فیض ِ اثر آصف جاہ نقل امید بارور گردید
بادشاہ زمانہ آصفجاہ در جہان دایما سلامت باد
سینہ ات صافتر ز آئینہ باد دواز خاطر ت کدورت باد
بر سرت باد سائیہ یزدان برسرم سایہ ات سلامت باد
ہمعنان تو باد لطف خدا ہمنشین تو فتح و نصرت باد
شش جہت حکم تو روان باشد چار رکن جہان مطیعت باد
میکند دایم این دعا ناصر دولت و عمر جاودانت باد
حوالہ جات:
.1 گلزار آصفیہ ، قلمی نسخہ، صفحہ ۳۸
.2 دیوان اول،نظام الملک آصفجاہ اول،مطبوعات دارالطبع سرکار عالی،حیدرآباد دکن،1354ھ،صفحہ 2،3،4
.3 دیوان دوم،صفحہ 306
.4 دیوان اول،صفحہ 374
.5 دیوان اول،صفحہ 779
.6 دیوان دوم،صفحہ50
Professor Shahid Naukhez Azmi
Director, Centre for Studies of Urdu Culture
Maulana Azad National Urdu University (MANUU)Hyderabad – 500032, Telangana, India Mobile: 9966790046
***
جلد (1) شمارہ (8) مئی 2026
جلد (1) شمارہ (8) مئی 2026
New Scholarly Article
Founder of the Asaf Jahi State: Asaf Jah I
By Prof. Shahid Naukhez Azmi
This insightful article examines the life, political vision, literary contributions, and cultural legacy of Asaf Jah I, the founder of the Asaf Jahi dynasty in the Deccan.
The article highlights his role as a statesman, patron of learning, Persian poet, and architect of a
#AsafJah #DeccanHistory #UrduStudies #AcademicResearch #Hyderabad #QadirulKalam

No comments:
Post a Comment