Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Sunday, May 24, 2026

دسبتان شبلی کے نمائندہ شاعر سردار شفیق :ایک تنقیدی محاکمہ

 پروفیسر عالم اعظمی

الناس علیٰ دین ملوکہم کا اطلاقی افق کافی وسیع و عریض ہے۔ فاتح اقوام کی حکمرانی و فرمانروائی کے نقوش مفتوحہ سلطنتوں پر بہت دور تک اور بہت دیر تک مرتسم رہتے ہیں۔ یہ اجارہ داری صرف جغفرافیائی اور سیاسی حد تک محدود نہیں رہتی بلکہ تہذیب و ثقافت اور تمدن و معاشرت بھی اس کے زیرنگیں آجاتے ہین۔ اردو کا خمیر حالانکہ مشترکہ، متنوع اور رنگارنگ تہذیبی عناصر سے تیار ہوا لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس نے پانی تشکیل سے لے کر تکمیل تک کا سارا سفر مسلم حکمرانوں کے سایۂ عاطفت میں طے کیا جس کا فطری اور منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحیں اس زبان کا جزو لاینفک بن گئیںَ چنانچہ اردو کا غیر مسلم شاعر بھی شریعت و طریقت اور حقیقت و معرفت کے مضامین پر مشتمل ایسے مقدس و مطہر اشعار کہتا ہے جس کو سن کر فقیہان حرم پر وجد طاری ہوجائے۔ اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ مشترکہ تہذی کے حامل معاشرے میں غالب یا حاوی فرقے کی مذہبی اصطلاحیں دیگر فرقوں کے لئے تہذیبی اصطلاح کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں اور اس کے خلاف ان کی مذہبی روح احتجاج بھی نہیں کرتی۔ ایک ہندو شاعر بارگاہ نبوی میں نعت شریف کے نذرانے پیش کرنے کے باوجود ہندو رہتا ہے اور ایک مسلمان شاعر رام اور کرشن کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہوئے بھی اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ دراصل تہذیب و تمدن کے میخانے میں کفر و اسلام ہم آغوش ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لسانی تمول مذہب سے زیادہ تہذیب و تمدن سے عبارت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے غالب و حاوی ہونے کے باوجود کمالِ وسیع المشربی کا ثبوت دیا۔ چنانچہ جس کفر کی سرکوبی و بیخ کنی کے لئے سوا لاکھ پیغمر مبعوث کئے گئے وہی کفر اردو شاعری میں محبوب ترین موضوع کی حیثیت اختیار کرگیا۔ پائے صنم پر سجدوں کا جشن منانا، طوافِ کعبہ کو کیفیت مئے کا مرہون منت قرار دینا، بوئے صنم کدہ کی شمولیت سے کیفیت نماز میں جان پڑجانا، گفتگوئے واعظ کی اثرانگیزی کے لئے قلقل مینا مستعار لینا، مشاہدۂ حق کی گفتگو کے لئے بادہ و ساغر کا سہارا لینا اور شمع حرم اور چراغ دیر دونوں کو ایک ہی نور سے مستنیر قرار دینا جیسے موضوعات شاعری میں ایمان کی حیثیت اختیار کرگئے اور اس رنگ سے اجتناب یا سرکشی کفر قرار پائی۔ حتیٰ کہ مذہبی صداقتیں ان شعری صداقتوں کے بغیر پند و موعظت اور وعظ و نصیحت کے علاوہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ مذہبی صداقتوں اور اکہرے موضوعات و واقعات کو شعری صداقت کا درجہ حاصل کرنے کے لئے جس عمل تقلیب کی ضرورت ہے وہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں لیکن اگر یہ دولت ہاتھ آجائے تو بقول ولیم بلیک شاعری اور پیغمبری متحدالاصل ہوجاتی ہیں۔ اسی کو اقبالؔ نے بھی ’’شاعری نزویست از پیغمبری‘‘ کا نام دیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ کسی حد تک بلکہ بڑی حد تک سردار شفیق بھی اسی صلاحیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے مذہبی اور اخلاقی موضوعات کو اس طرح تمام تر شعری تلازمات کے ساتھ پیش کیا کہ شاعری پر ملائیت کی چھاپ نہیں پڑنے دی اور ایسے ماحول میں جہاں ساقی کی چشم مست کے اسیر ہوکر مصلیان حرم میخانہ آباد کرنے لگتے ہیں اور گفتگوئے واعظ پر قلقل مینا اثرانداز ہوجاتی ہے، اپنے الفاظ و اسلوب کی طہارت اور پاکیزگی سے بچھڑے ہوئے آہو کو سوئے حرم لوٹنے، حسن بے حجاب کو پردہ نشین ہونے اور برہمنِ ناقوس نواز کو ترانۂ نوحیہ گانے پر مائل کردیا اور لطف یہ کہ عروس فن کی جبیں پر کوئی شکن نہیں آنے دی۔ سردار شفیق کے مجموعۂ کلام ’’غبار صدا‘‘ میں قابلِ ذکر تعداد میں ایسے اشعار مل جائیں گے جن کی راوت اور واضح ترسیل کے لئے نظم کی ہیئت درکار ہے لیکن ان کی قادر الکلامی نے تشریح و توضیح کو ایجاز و اجمال میں اس چابکدستی سے سمیٹا کہ ترسیل کو لبِ فریاد وا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے خیال میں اشاروں اور کنایوں کی تعبیر و تفسیر کا کام شاعر کا نہیں بلکہ سامع کا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فن میں وہ بڑی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ اردو غزل میں یہ تعمیر پسندانہ انداز بیان ان کے ہمعصروں میں ماہر القادری، انور صدیقی اور حفیظ میرٹھی کے علاوہ کسی اور کے پاس نظر نہیں آتا۔ سردار شفیق کے لفظی در و بست کا پاکیزہ جادو اور بندشوں کا سحر حلال کافر موضوعات کو بھی حلقہ بگوش اسلام کردیتا ہے۔ اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ ہوں    ؎
ہزاروں غم لئے قلب و نگاہ میں کوئی
ہے سر بسجدہ تری بارگاہ میں کوئی
نکل پڑا ہوں بصیرت کی روشنی کے لئے
نشانِ پا نہیں دشتِ سیاہ میں کوئی
وجدان و ہنر شعر و نوا نور بصیرت
کیا کیا نہ مجھے اس درِ دولت سے ملے ہیں
ہر وقت نیک لوگوں کا کرنا ہے تذکرہ
اس کو بھی فکرِ نامۂ عمال تو ہوئی
قومی جمود تجھ سے نہ ٹوٹا مگر شفیقؔ
کچھ پیرویٔ حضرت اقبالؔ تو ہوئی
صرف آزاد روی زیست کا مقصد تو نہیں
کچھ تعلق تو رہے منبر و محراب سے بھی
کفر کی ہوا آکر اپنا زور دکھلائے
ہم چراغِ ایماں ہیں رات کے اندھیرے میں
زنگ آلود ہے میرے دل کا آئینہ
اس پر اپنا رنگ چڑھادے یا اللہ
شعرِ آخر دیکھئے اور پروفیسر کرامت علی کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے    ؎
ہے زنگ خوردہ میرے دل کا آئینہ ایسا
خرد کی تیغ سے تھوڑی سے آب مانگے ہے
جب یہ بات جزوِ ایمان ٹھہری کہ اللہ کے رنگ سے بہتر کوئی رنگ نہیں تو دل کی آب و تاب کے لئے درِ خرد کی دریوزہ گری چہ معنی دارد۔ افسوس تو یہ ہے کہ سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنے والے اور مہ و مریخ پر کمندیں ڈالنے والے حضرتِ انسان نے تمام تر خودپسندیوں اور خود ستائیوں کے باوجود خود کو اپنے مقام و مرتبہ سے کم تر تصور کیا ہے۔ خالق کائنات نے انسان کو اپنی بارگاہ میں ناصیہ فرسائی کا حکم دے کر اسے ساری کائنات کا مخدوم بنادیا ہے لیکن اس منصب عالیہ سے محروم ہوکر انسان جب اپنا مقام خود بنانے سعیٔ لاحاصل میں مبتلا ہوگا تو آئینۂ دل جو خدا کا مسکن ہے کی آب و تاب کے لئے خرد جیسی کم تر شے کا مرہون و مقروض ہوگا۔ سردار شفیقؔ نے عظمت آدم کے لئے اللہ کا رنگ طلب کرکے شیلے کے اس قول پر کہ ’’اخلاقیات کی بنیادیں واعظوں کے ہاتھوں میں نہیں شاعروں کے ہاتھوں میں رکھی جاتی ہیں‘‘ مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ ان کی چشم بصیرت نے یہ نکتہ پالیا ہے کہ قصۂ جدید و قدیم دلیل کم نظری کے سوا کچھ نہیں لہذا انھوں نے ماضی کی شاندار روایات اور صالح اقدار کو عصری تقاضوں میں مدغم کرکے اس رنگ و آہنگ کے ساتھ اپنی غزلوں میں پیش کیا کہ اس کی موسیقیت اور نغمگی کے زیر و بم میں نبض کائنات کی دھڑکن شامل ہوگئی ہے۔ درج ذیل اشعار:-
نہ صرف میں نے روایت کی پاسداری کی
جدید عہد کی عظمت کا ترجماں بھی ہوا
زندہ روایتوں سے تعلق کے باوجود
شعروں میں جان جدت افکار ہی سے ہے
اور اس طرح کے دیگر اشعار اسی وقت منصہ شہود پر آتے ہیں جب شاعر اس حقیقت کا راز آشنا ہوجاتا ہے کہ شہود اپنے وجود کے لئے غیب کا مرہون منت ہوا کرتا ہے اور کوتاہ نظر جسے صریر خامہ کہتے ہیں وہ دراصل نوائے سروش ہوتی ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ وجود (حال) اپنی نمود کے لئے غیب (ماضی) کا ممنون کرم ہے۔ گویا سردار شفیق کا یہ شعر ٹی ایس ایلیٹ کے اس خیال کا کہ ’’جدید ترقیات کی جڑیں ماضی کی روایات میں پوشیدہ ہوتی ہیں‘‘ تتمہ و تکملہ ہے۔ ڈاکٹر جانسنؔ نے گرےؔ کی شعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
Gray is a romantic surpent grazing in classical grasses.
انگریزی ادب کی تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ رومانی تحریک کلاسیکی تحریک کی ضد میں وجود پذیر ہوئی۔ تاہم سموئل جانسن اس حقیقت کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا کہ رومانی تحریک اگر کلاسیکی تحریک سے غذا حاصل کرنا بند کردے تو اپنی بقا کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ دراصل سابقہ رجحانات اور تحریکیں کھاد کی طرح جذب ہوکر کشت ادب کو زرخیر بناتی ہیں اور نئی تحریکات و رجحانات کے پودے انھیں سے غذا حاصل کرکے تناور درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جس طرح آفتاب عالمتاب غروب ہونے کے بعد لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ جاتا ہے اور ماہ و انجم اپنی نمود کے لئے خورشیدِ نادیدہ کے احسان سے سبکدوش نہیں ہوسکتے اسی طرح حال کا آئینہ ادراک ماضی کے زنگار عرفان سے جلا پاتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ سردار شفیقؔ نے اردو شاعری کی متمول روایات سے انشراح قلب کے ساتھ استفادہ کیا ہے لیکن فیضان ماضی میں ذاتی عرفان کی آمیزش کرکے اپنی انفرادی شان برقرار رکھی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہر شعر پر ان کے اپنے دستخط ثبت ہیں۔
رشید احمد صدیقی نے کہا ہے کہ غزلوں کی فضا اتنی مقطر ہوچکی ہے کہ اب اس میں مزید کشید کی گنجائش کم ہے۔ رشید احمد صدیقی جیسے قدآور ادیب کے حضور ہمارا سر تسلیم خم ہے لیکن بہ صد معذورت یہ معروضۂ ادب پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ یہ وہی تفریط ہے جو ’’غزل اردو شاعری کی آبرو ہے‘‘ جیسی افراط کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم رشید احمد صدیقی کے قائم کردہ بلند و بالا معیار و میزان سے چند زینے نیچے اتر کر موجودہ غزل کا جائزہ لیں تو ہم یہ فیصلہ کرنے میں حق بہ جانب ہوں گے کہ صورت حال اتنی مایوس کن نہیں ہے اور غزل کے تل میں ابھی بھی تیل باقی ہے۔ ہماری جدید غزل اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جس نے اپنے وسیع و عریض دامن میں زندگی کے تمام گوشوں اور پہلوؤں کو اس طرح سمیٹ لیا ہے کہ تغزل کے بانکپن پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ اس روشنی میں ہم جب سردار شفیقؔ کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یک گونہ مسرت کا احساس ہوتا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی واقعی بڑی زرخیز ہے۔ بلکہ بعض اشعار میں آمد کا اس قدر زور و جوش و خروش اور تموج و تلون اور ان میں ایسا فطری بہاؤ اور فنی رچاؤ ہے جو انگریزی کے مشہور رومانی شاعر جان کیٹس (John Keets) کے درج ذیل معیار نقد پر پورا اترتا ہے:
If poetry comes not as naturally as the leaves to a tree it had better not come at all.
سردار شفیقؔ کایہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
کوئی سمجھ نہ سکا میری بات کا مفہوم
ہوا کے دوش پر الفاظ نے سفر تو کیا
ترسیل کے المیہ کی شکایت ہر شاعر کو ہوتی ہے اور یہ تقاضا فطری ہے۔ اگر شنیدہ نافہمیدہ رہ جائے تو کہی ان کہی سے عبارت ہوجاتی ہے۔ لیکن یہاں شاعر کو شکایت اس لئے نہیں ہے کہ اس نے درون ذات کے نہاں خانے سے کوئی دقیق و عمیق نکتہ ابہام کے دبیز پردے میں پیش کیا ہے اور دست نقد و نظر اس کے روئے معنی سے نقاب کشائی نہ کر سکا بلکہ اسے تکلیف اس بات کی ہے کہ اس کی بات کے لئے گوش التفات وا نہ رکھا گیا۔ پس ثابت ہوا کہ ترسیل کا المیہ اس لئے نہیں درپیش ہوا کہ شاعر کا مدعا عنقا تھا بلکہ یہ صورت حال اس واسطے پیش آئی کہ آگہی نے دامِ شنیدن نہیں بچھائے تھے۔ ایک شعر اور دیکھیں:
آئینے کی سخت کرچیں برہنہ پائی مری
دو حریفوں میں سدا وابستگی زندہ رہے
خار مغیلاں سے آبلہ پائی کے علاج کی روایت تو اردو اور فارسی شاعری میں عام ہے۔ آبلوں سے تنگ آنے والے غالبؔ راہ کو پُرخار دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور علاج درد میں درد کی لذت پر پر مرنے والے اقبالؔ چھالوں کے کانٹوں کو نوکِ سوزن سے نکالتے ہیں لیکن آئینے کی سخت کرچوں اور برہنہ پائی میں وابستگی کی تمنا کا حوصلہ کسے؟
درج ذیل شعر پر بھی ایک اجمالی نظر ڈالتے چلیں:
اپنے گھر کو دیکھ کر کیوں دل شکستہ ہوگئے
جتنی تم کو چاہئے تھی اتنی ویرانی تو ہے
غضب کا شعر کہا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس شعر میں مومنؔ کا مکر شاعرانہ اور غالبؔ کی وحشت پسندی دونوں کا پرتو موجود ہے۔ اپنے گھر کی ویرانی دیکھ کر دل شکستہ ہونے سے بادی النظر میں یہ گمان گذرتا ہے کہ صاحب مکاں کو اپنا گھر سلامت دیکھنے کی آرزو تھی لہذا خانہ ویرانی دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا لیکن دوسرے مصرعے میں مکر شاعرانہ کے فنکارانہ استعمال نے قاری کی غلط فہمی دور کردی کہ صاحب مکاں کو ویرانی کی تمنا تھی لیکن وہ بقدر ظرف نہیں ملی اس لئے وہ مکان کو دیکھ کر دل شکستہ ہوگیا۔ شاعر موضوع کے اعتبار سے غالبؔ اور انداز بیان کے اعتبار سے مومنؔ کے قریب پہنچ گیا ہے۔
یہ شعر بھی دیکھیں:
دیکھ کے زخموں کی لمبائی گہرائی
قاتل کی تصویر بنائی جاسکتی ہے
بہت خوبصورت شعر کہا ہے۔ اردو شاعری میں مقتول کی بے گناہی سے قاتل کا سراغ لگانے کا تصور تو کہیں کہیں ملتا ہے۔ مثلاً امیرؔ مینائی کے یہاں کہ اگر خنجر قاتل کی زبان خاموش ہے تو آستین کا لہو صدائے احتجاج بلند کرے گا لیکن زخم کی ہیئت کی مدد سے قاتل کی تصویر بناکر اس کا سراغ نکالنا یقیناً ایک اچھوتا خیال ہے۔ ایسی مثال قدما میں صرف غالب کے ایک شعر میں ملتی ہے۔ غالب کا معرکۃ الآرا شعر ہے:
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
سردار شفیقؔ اپنے لب و لہجہ کی انفرادی شناخت کے ساتھ غالبؔ کی بزم میں داخل ہوئے ہیں۔ یعنی یہ قطرہ (شفیقؔ) واصل دریا (غالبؔ) ہوکر اس میں ضم نہیں ہوا بلکہ اس نے بہ شکل گوہر اپنے وجود اور شناخت کو باقی رکھا۔
اب کوئی آئے نہ آئے بالمقابل اے شفیقؔ
میرا سر پتھر سے ٹکرانے پہ آمادہ تو ہے
اخترالایمان کہتے ہیں:
اب ارادہ ہے کہ پتھر کے صنم پوجوں گا
تاکہ گھبراؤں تو ٹکرا بھی سکوں مر بھی سکوں
دیکھا آپ نے؟ دونوں اشعار میں الفاظ و علامات کے اشتراک کے باوجود بغایت پست و بغایت بلند کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ اخترالایمان کے یہاں رجعت و فرار اور حزن و یاس کا یہ عالم ہے کہ زندگی جیسی نعمت عظمیٰ اور امانتِ خداوندگی کو بار خاطر سمجھ کر اس سے نجات حاصل کرلی جائے-اور-
آسماں بار امانت نتوانست کشید
قرعۂ فال بنامِ منِ دیوانہ زدند
کے رتبۂ بلند سے گر کر خود کے ظلوماً جہولاً ہونے کا اعلان کردیا جائے۔ لیکن سردار شفیقؔ کا یہ عالم ہے کہ جذبۂ بے اختیار شوق نے ان کے لئے عریانیٔ شمشیر کو عید نظارہ اور تابناکیٔ شمشیر کو منظر دلکشا میں تبدیل کردیا ہے۔ دونوں شعرا موت کو لبیک کہنا چاہتے ہیں لکن ایک مبتلائے حزن و ملال ہوکر خود کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے اور دوسرا عمر فانی سے اس لئے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کہ وہ اسے حیات جاودانی میں تبدیل کرسکے۔ اس طرح اختر الایمان کا محور و مستقر یاسیت کے امام فانیؔ ہیں تو دوسرے کا ملجا و ماویٰ غالبؔ و اقبالؔ۔
چند دلکش و دلآویز اشعار اور ملاحظہ فرمائیں:
بات کا رخ تھا میری طرف
آپ کیوں مشتعل ہوگئے
نکل پڑا ہوں بصیرت کی روشنی لے کر
نشان پا نہیں دشت سیاہ میں کوئی
ہے اس کی دسترس میں ماہ و انجم کی مسافت بھی
ہزاروں سال آگے بھی سخنور دیکھ لیتا ہے
اتری نہ تیرے گھر میں کبھی چاند کی کرن
آنگن میں روشنی ترے رخسار ہی سے ہے
جس سے بھی ملا کسب ہنر کرلیا میں نے
اپنے کو حصار ہمہ دانی میں نہ رکھا
اس سے دیرینہ رفاقت ٹوٹنے کے باوجود
جانے کیوں میں مدتوں اس کے اسیروں میں رہا
بات سچی ہو تو کہنے میں کوئی حرج نہیں
یہی نکتہ تھا کہ اقبالؔ خدا سے الجھے
پھر بھی ہاتھ آئی نہ اس لالہ بدن کی خوشبو
ناخن عقدہ کشا بند قبا سے الجھے
اللہ ترے گھر کبھی وہ رات نہ لائے
خوابوں کا لہو جاگتی آنکھوں سے رواں ہو
فن کا تعلق خواہ زندگی کے کسی گوشے سے ہو اس کی فطرت ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے یعنی یہ اپنے کمال و معراج کے لئے غایت درجہ کی مشق و مزاولت اور محنت و ریاضت کا مطالبہ کرتا ہے۔ خانۂ فرہاد شرر تیشہ سے روشن ہوتا ہے۔ میخانۂ حافظ ہو یا بت خانۂ بہزاد ان کی تعمیر و تشکیل خونِ رگ معمار کی گرمی کی مرہون منت ہوتی ہے۔ سردار شفیقؔ نے بھی محنت پیہم اور سعیٔ مسلسل سے اپنے تیشۂ فن کو چمکایا ہے۔ عروس فن کی سرخیٔ لب و رخسار کے لئے انھوں نے اپنے خون جگر کی قربانی دی ہے۔ اس زمین سنگلاخ اور وادیٔ پُرخار میں وہ بعض مقامات پر آبلہ پا بھی ہوئے اور دامن دریدہ بھی لیکن فن کی حریم ناز میں وہ سرخرو داخل ہوئے ہیں۔ لہذا ہم جب ان کے کلام کا بالاستیعاب مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے قلم کے کھلائے ہوئے ہر پھول کو بیتابانہ چوم لینے کو جی چاہتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات شوق گلبوسی میں کانٹوں پر زبان پڑجانے کا احتمال رہتا ہے۔ اس قبیل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ہوا کی کاٹ سے یہ آج پر شکستہ ہے
مرا پرندہ بھی اونچی اڑان والا تھا
خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیے۔ یہاں کاٹ یعنی کٹنے اور کاٹنے کا تعلق ٹوٹنے اور توڑنے سے نہیں ہے۔ دونوں مختلف کیفیات کے افعال ہیں۔ کاٹ کی مناسبت سے بریدہ یا شکستہ کی مناسبت سے زور کا محل تھا یعنی مصرع اس طرح درست ہوسکتا تھا    ؎
ہوا کی کاٹ سے یہ آج پر بریدہ ہے
یا
ہوا کے زور سے یہ آج پر شکستہ ہے
ایک شعر اور ملاحظہ ہو   ؎
یہ بات تھی خوددار طبیعت کے منافی
دوبارہ کہیں حرف تقاضا نہیں رکھا
اگر خودداریٔ طبیعت دوبارہ کسی کے سامنے کوئی التجا کرنے سے مانع ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ سوال کرنے سے باز کیوں نہیں رکھا؟ دوسری بات یہ کہ ردیف رکھا کی مناسبت سے لفظ کہیں از روئے قواعد ظرف مکاں کی تعریف میں آتا ہے جو مادی اور مرئی ہے جبکہ حرف تقاضا غیرمادی اور غیر مرئی۔ لہذا دونوں میں علاقہ نہیں ہے۔ ذرا سی تبدیلی کے بعد مصرع اگر اس طرح کردیا جاتا تو سقم دور ہوجاتا   ؎
ہونٹوں پہ کبھی حرف تقاضا نہیں رکھا
درج ذیل مطلع پر بھی ایک نظر ڈالیں   ؎
کتنا اچھا ہے بند و بست یہاں
ہیں برابر بلند و پست یہاں
شاعر نے اس مطلع میں حرف ’’س‘‘ کو روی بناکر غیرشعوری طور پر خود کو پابند کرلیا۔ اب فن شعر کا تقاضا یہ ہے کہ غزل کے تمام قوافی میں حرف ’س‘ حرف روی کی شکل میں آئے لیکن دوسرے، تیسرے، چھٹے اور مقطعے کے اشعار میں حرف روی ’س‘ کی جگہ حرف ’خ‘ آگیا ہے اور ساتویں شعر میں حرف روی کی جگہ ’ش‘ آگیا ہے۔ لہذا مطلع میں ایطائے جلی کا سقم در آیا۔ اگر شاعر نے مطلع کے دونوں قوافی بست اور پست میں سے کسی ایک میں ’س‘ کی جگہ ’خ‘ رکھ دیا ہوتا تو ’س‘ کی بجائے ’ت‘ کو حرف روی کا درجہ حاصل ہوجاتا اور اس طرح غزل کے تمام قوافی بغیر کسی تبدیلی کے درست قرار پاتے۔
درج ذیل دونوں اشعار پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں   ؎
مدت کے بعد آیا ہوں لیکن تمھارا گھر
کمرہ وہی آنگن وہی دالان ہے وہی
بچا ہوں میں ابھی آشوبِ کم نگاہی سے
فضا میں کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ہے چاروں طرف
شاعر کا یہ منفی رنگ اسے مقام فرشتگی سے اٹھاکر منصب بشریت پر فائز کرتا ہے۔ وہ باطل ہے جس کا وجود تمیز حق کے لئے لازم ہے۔ شاعر کے کلام میں یہ اسقام عروس فن کے رخِ روشن کے لئے نظربد کے ٹیکہ سے تعبیر کئے جاسکتے ہیں۔ باشندگان طورسینا اپنی تجلی سے بے خبر اپنے سینۂ سرد کی حرارت کے لئے مغرب کے آتشکدوں کی دریوزہ گری کرتے ہیں۔ چراغ مصطفوی کے امین جہالت و بطالت کے اندھیروں میں شرارِ بولہبی پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں۔ اگر ہمارے محققین و منتقدین کو یورپ کی کورانہ تقلید سے فراغت نصیب ہوتی اور ان کا دست تجسس سردار شفیقؔ کے حرارت افروز ذخیرہ سے بے اعتنائی اور ناقدری کی راکھ ہٹانے کا حوصلہ رکھتا تو زبان نقد بے اختیار پکار اٹھتی :  ع
ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی۔
---
Professor Fakhre Alam
Department of Urdu
Khwaja Moinuddin Chishti Language 
University Lucknow
Contact No.- 09621656726
Email:alamazmi@yahoo.co.in  ...

جلد(1)  شمارہ (8)   مئی 2026

***
Sardar Shafiq, the representative poet of the Shibli dynasty: A critical examination

Sardar Shafiq poetry
Urdu literary criticism
Professor Alam Azmi
Urdu ghazal analysis
Shibli school poetry
Modern Urdu criticism

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...