Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Saturday, July 25, 2026

اہم اعلان برائے اساتذہ و ریسرچ اسکالرس

 

📢 قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)

ISSN: 3139-1028


 خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"

الحمدللہ! قادرالکلام ماہنامہ کا خصوصی شمارہ "آزادیِ ہند اور اردو ادب" اشاعت کے آخری مرحلے میں ہے۔ ملک کی مختلف جامعات، کالجوں اور تحقیقی اداروں سے وابستہ ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے معیاری، تحقیقی اور غیر مطبوعہ مقالات اس خصوصی شمارے میں شامل کیے جا رہے ہیں۔

📚 اب تک شامل کیے گئے چند اہم مقالات

  1. تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ — پروفیسر مجید بیدار، حیدرآباد

  2. تحریکِ آزادی اور الہلال — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، حیدرآباد

  3. پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری — نغمہ فردوس، اورنگ آباد

  4. مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات — شہینہ ناز، جمشیدپور

  5. آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری — عامر خان، رام پور

  6. احمد علی: جنگِ آزادی کا گمنام قلم کار — ڈاکٹر صفیہ فاطمی، اسسٹنٹ پروفیسر، دربھنگہ

  7. اردو شاعری اور تحریکِ آزادی — ڈاکٹر ناظم حسین خان، صدر شعبۂ اردو، لکھنؤ

  8. بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد — ڈاکٹر فریدہ تبسم، حیدرآباد

  9. اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری — ڈاکٹر واجدہ بیگم، حیدرآباد

  10. اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار — گل رعنا علی، اسسٹنٹ پروفیسر، آکولہ (مہاراشٹر، انڈیا)

📌 اہم اطلاع

اگر آپ نے اس خصوصی شمارے کے لیے اپنا مقالہ ارسال کیا تھا لیکن کسی وجہ سے آپ کا نام یا مضمون مذکورہ فہرست میں شامل نہیں ہو سکا، تو براہِ کرم فوری طور پر ادارۂ قادرالکلام سے رابطہ کریں تاکہ اشاعت سے قبل آپ کے مقالے کو شامل کیا جا سکے۔

📧 Email:
qadarulkalam@gmail.com
qadirulkalam5@gmail.com

📱 WhatsApp: +91 8885303386

Wednesday, July 22, 2026

اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں آغا حسن امانت کا مقام


"اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں آغا حسن امانت کا مقام" شاذیہ بیگم (مدیر) کا ایک تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں اردو ڈراما نگاری کی ابتدا، ارتقا اور فروغ میں آغا حسن امانت کی ادبی خدمات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ بالخصوص ان کے شہرۂ آفاق ڈرامے "اندر سبھا" کی فنی و ادبی خصوصیات، اسلوب، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، شعری محاسن اور اردو تھیٹر کی تشکیل میں اس کے تاریخی کردار کو تحقیقی انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ اردو ڈرامے کی روایت، آغا حسن امانت کی تخلیقی عظمت اور برصغیر کی ڈرامائی روایت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

 شاذیہ بیگم   (مدیر)

اردو ادب کی تاریخ میں مختلف اصنافِ سخن نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں انسانی زندگی، جذبات، خیالات اور معاشرتی مسائل کی ترجمانی کی ہے۔ ان اصناف میں ڈراما ایک ایسی صنف ہے جو ادب اور فنونِ لطیفہ کے کئی شعبوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ڈراما محض تحریری اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی کے واقعات، انسانی کرداروں، جذباتی کشمکش اور سماجی مسائل کو مکالموں، حرکات و سکنات اور عملی پیش کش کے ذریعے زندہ صورت میں پیش کرتا ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر ڈراما کو ادب کی ایک ایسی صنف کہا جاتا ہے جو پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیکھنے اور سننے کا تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔
لفظ ’’ڈراما‘‘ یونانی زبان کے لفظ ’’Drama‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی عمل یا حرکت کے ہیں۔ دنیا کے قدیم ادب میں ڈراما کی روایت یونان سے شروع ہوئی، جہاں المیہ اور طربیہ ڈراموں نے ادبی اور فنی ترقی کی بنیاد رکھی۔ یونانی ڈراما نگاروں میں سوفوکلیز، یوری پیڈیز اور ایسکائلس نے اس صنف کو عروج بخشا۔ بعد ازاں مغربی ادب میں ڈراما مختلف ادوار سے گزرتا ہوا جدید شکلوں تک پہنچا، جس میں ولیم شیکسپیئر کا کردار نہایت اہم ہے۔ اردو ڈراما نگاری نے بھی عالمی ڈرامائی روایت سے اثرات قبول کیے، تاہم اس نے اپنی تہذیبی اور لسانی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک الگ شناخت قائم کی۔
برصغیر میں ڈرامے کی روایت قدیم ہندوستانی ادب میں بھی موجود تھی۔ سنسکرت ڈرامے، لوک کہانیاں، مذہبی رسومات اور عوامی تماشے اس روایت کے ابتدائی مظاہر تھے۔ بعد میں فارسی تہذیب اور درباری ماحول نے بھی یہاں کے فنونِ لطیفہ پر اثر ڈالا۔ مغلیہ اور بعد از مغلیہ دور میں داستان گوئی، قصہ خوانی، محفل آرائی اور موسیقی پر مبنی ثقافتی سرگرمیوں نے ایسے عناصر پیدا کیے جو آگے چل کر اردو ڈرامے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئے۔

Monday, July 20, 2026

جیلانی بانو کے افسانوی فن کا تنقیدی مطالعہ


 اس میں جیلانی بانو کے افسانوی فن  کے موضوع پر علمی، تحقیقی اور تنقیدی بحث پیش کی گئی ہے۔ مضمون نگار نے مستند حوالوں، تحقیقی دلائل اور ادبی تناظر کی روشنی میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا ہے، جو محققین، اساتذہ، طلبہ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

محمدعبدالرحمن    (کالم نگار)

 اردو افسانے کی روایت میں چند ایسی ادیبائیں بھی شامل ہیں جنہوں نے محض کہانیاں تخلیق نہیں کیں بلکہ اپنے عہد کی سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی پیچیدگیوں کو فنی شعور کے ساتھ ادب کا حصہ بنایا۔ ان ممتاز افسانہ نگاروں میں جیلانی بانو کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو افسانے کو عورت کے داخلی احساسات، انسانی نفسیات، معاشرتی ناہمواریوں اور تہذیبی اقدار کے ایسے زندہ تجربات سے روشناس کرایا جو نہ صرف اپنے عہد کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ہر دور کے قاری کے لیے معنویت رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں زندگی کی تلخ حقیقتیں، انسانی رشتوں کی نزاکت، سماجی جبر، طبقاتی تفاوت، عورت کی شناخت کی کشمکش اور باطنی کرب نہایت فنی مہارت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیلانی بانو کو ترقی پسند تحریک کے بعد اردو افسانے کی اہم ترین اور باوقار ادیباؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں، اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حیرت بدایونی معروف شاعر تھے، اس لیے انہیں بچپن ہی سے ادبی اور علمی ماحول میسر آیا۔ ابتدائی عمر میں ہی شعر و ادب سے شغف پیدا ہوا اور یہی ماحول ان کی تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ بعد ازاں ان کا خاندان حیدرآباد دکن منتقل ہوگیا، جہاں اس خطے کی تہذیبی رنگا رنگی، ادبی روایت اور سماجی تنوع نے ان کے فکر و فن کو مزید وسعت عطا کی۔ انہوں نے کم عمری میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور 1952ء میں ان کا پہلا افسانہ ’’ایک نظر اِدھر بھی‘‘ شائع ہوا، جس نے ادبی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ بعد ازاں افسانہ ’’موم کی مریم‘‘ نے انہیں اردو افسانے کی صفِ اول کی تخلیق کاروں میں شامل کر دیا اور ان کی ادبی شناخت کو مستحکم کیا۔

Sunday, July 19, 2026

پریم چند کی ناول نگاری: ناول ’’نرملا‘‘ کے حوالے سے ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ


"پریم چند کی ناول نگاری: ناول ’’نرملا‘‘ کے حوالے سے ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" فریدہ تبسم (کالم نگار) کا ایک اہم تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں منشی پریم چند کے شہرۂ آفاق ناول ’’نرملا‘‘ کا ادبی، فنی اور سماجی تناظر میں تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں جہیز، کم عمری کی شادی، عورت کی سماجی حیثیت، خاندانی رشتوں کی پیچیدگی اور اصلاحِ معاشرہ جیسے اہم موضوعات کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ کیا گیا ہے۔ نیز یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’’نرملا‘‘ صرف ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ اپنے عہد کے سماجی مسائل کی بھرپور عکاسی کرنے والا ایک اہم ناول ہے۔

ڈاکٹر فریدہ تبسم    (کالم نگار)

 اردو اور ہندی ادب کی تاریخ میں پریم چند کو ایک ایسے عظیم فکشن نگار کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے زندگی کی ترجمانی، سماجی اصلاح اور انسانی مسائل کے اظہار کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ انہوں نے اپنے عہد کے معاشرتی حالات، طبقاتی کشمکش، معاشی مسائل، دیہی زندگی، عورتوں کی مشکلات اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اردو اور ہندی کے صفِ اول کے ناول نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

پریم چند کی ناول نگاری کا بنیادی وصف حقیقت نگاری ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں زندگی کے ان پہلوؤں کو موضوع بنایا جن سے عام انسان روزانہ گزرتا ہے۔ ان کے کردار خیالی دنیا کے باشندے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے حقیقی افراد محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے دکھ، محرومیاں، خواہشات، کمزوریاں اور جدوجہد انسانی زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔ پریم چند نے ادب کو سماجی شعور سے وابستہ کیا اور ناول کو معاشرتی مسائل کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بنایا۔

ناول ’’نرملا‘‘ پریم چند کی اہم ترین تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ناول بیسویں صدی کے ابتدائی ہندوستانی معاشرے میں عورت کی حالت، جہیز کی لعنت، ناموافق ازدواجی رشتوں، شک و شبہ کی تباہ کن نفسیات اور خاندانی نظام کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں محض ایک عورت کی داستان بیان نہیں کی بلکہ اس پورے سماجی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو عورت کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ’’نرملا‘‘ ایک سماجی، نفسیاتی اور اصلاحی ناول کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں مصنف نے انسانی جذبات اور معاشرتی ناانصافیوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔

Friday, July 17, 2026

📢 فوری اعلان | Call for Papers

QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)

ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

📢 *قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)*

*ISSN: 3139-1028*

*خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"*

 قادرالکلام ماہنامہ کے خصوصی شمارہ *"آزادیِ ہند اور اردو ادب"* کے لیے ملک کی مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں سے ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے مقالات موصول ہو رہے ہیں۔

*اب تک موصول ہونے والے بعض اہم مقالات:*

🔹 *تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ* — پروفیسر مجید بیدار، *حیدرآباد*

🔹 *تحریکِ آزادی اور الہلال* — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، *حیدرآباد*

🔹 *اردو صحافت کا معمارِ اول: مولوی محمد باقر مجتہد* — ڈاکٹر عبدالعزیز عرفانؔ، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*

🔹 *پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری* — نغمہ فردوس، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*

🔹 *آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری* — (مضمون نگار)، *رامپور، اتر پردیش*

🔹 *مولانا آزاد کی ادبی خدمات* — شہنا ناز، *رانچی*

🔹 *حسرت موہانی کی انقلابی شاعری* — اسما جبین

🔹 *اردو شاعری اور تحریکِ آزادی* — ڈاکٹر ناظم حسین خان، *لکھنو، اتر پردیش*

🔹 *بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد* — ڈاکٹر فریدہ تبسم، *حیدرآباد*

🔹 *اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری* — ڈاکٹر واجدہ بیگم، *حیدرآباد*

🔹 *اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار* — گل رعنا علی، *آکولہ، مہاراشٹر*

✍️ *اگر آپ نے ابھی تک اپنا مقالہ ارسال نہیں کیا تو جلد از جلد روانہ کریں۔*


⏳ *مقالہ ارسال کرنے کی آخری تاریخ: 25 جولائی*


📧 *ای میل:*

qadarulkalam@gmail.com

qadirulkalam5@gmail.com 


📱 *WhatsApp:* +91 8885303386


*QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)*

A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

*ISSN: 3139-1028*

مزید مقالات موصول ہونے کے ساتھ یہ فہرست مسلسل اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence


 "A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence" is a research article authored by Mohammed Nadeem Mohiuddin (Columnist, Hyderabad, India). This scholarly paper was published in the July 2026 Issue of the Qadir-ul-Kalam International Monthly Journal (ISSN: 3139-1028).

The article presents a comprehensive critical study of D. H. Lawrence's celebrated novel Lady Chatterley's Lover, examining its historical background, literary significance, major themes, characterization, symbolism, narrative technique, and critical reception. Readers are invited to explore this insightful research article below.

***

 Mohammed Nadeem Mohiuddin

Collomist, 

Lady Chatterley's Lover (1928) is one of the most controversial and critically acclaimed novels in twentieth-century English literature. Written by D. H. Lawrence during the final years of his life, the novel explores the intricate relationship between love, sexuality, industrialization, class consciousness, and human identity. While its explicit treatment of sexual intimacy resulted in censorship and legal prosecution for several decades, modern literary criticism recognizes it as a profound philosophical and psychological work rather than merely an "obscene" novel.

The purpose of this study is to present a critical survey of Lady Chatterley's Lover by examining its historical background, thematic concerns, narrative technique, characterization, symbolism, and literary significance. It also investigates the controversy surrounding the novel and its contribution to the evolution of modern English fiction. Through textual analysis and critical interpretation, the study argues that Lawrence's novel is fundamentally a defense of human dignity, emotional fulfillment, and natural relationships against the dehumanizing effects of industrial civilization.

Keywords: D. H. Lawrence, Lady Chatterley's Lover, Modern English Novel, Sexuality, Industrialization, Class Conflict, Censorship, Literary Criticism.

Tuesday, July 14, 2026

بشیر بدر کی شاعری میں انسان دوستی کا تصور


 فیضان احمد کیفی  (ریسرچ اسکالر؛جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی)

فیضان احمد کیفی (ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) کا ایک تحقیقی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں معروف اردو شاعر بشیر بدر کی شاعری میں محبت، رواداری، امن، ہمدردی اور انسانی اقدار کے تصور کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں منتخب اشعار کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بشیر بدر کی شاعری انسان دوستی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی شعور کی مؤثر ترجمان ہے۔)

"وہ دلوں میں آگ لگائے گا، میں دلوں کی آگ بجھاوں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے، مجھے اپنے کام سے کام ہے"
مذکورہ شعر کے خالق جدید اردو غزل کے معتبر شاعر اور مشاعروں کی دنیا کے درخشندہ ستارہ بشیر بدرہیں۔ بشیر بدر نے اپنی شعری تخلیقات سے اردو ادب میں بیش قیمتی اضافہ کیا ہے اور اپنے دور کے مشاہیرِ ادب کو اپنی تخلیقات کی جانب التفات کرنے اور ان کے فکر و فن پررائے دینے پر مجبور کیا ہے۔ اسی لیے بشیر بدر کو محض "مشاعروں کا شاعر" کہہ کر یک قلم مسترد کر دینا اور ان کی تخلیقات کا سنجیدہ اور ناقدانہ مطالعہ نہ کرنا ادبی انصاف کے خلاف ہوگا۔
بشیر بدر کی شاعری میں محبت ،انسانی اقدار، مذہبی رواداری، امن و آشتی، رشتوں کی صداقت و اہمیت، انسانی حسیت، امید و حوصلہ جیسے عناصر نہایت خوبصورتی کے ساتھ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت کے خوش نما احساسات جس لطافت، فکری بالیدگی اور داخلی سچائی کے ساتھ جلوہ گرہیں، وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کیے بغیر نہیں رہتے۔ ان کے اشعار کو پڑھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے بہت سے شاعروں کی طرح صرف عشق، محبت، گل و بلبل اور روایتی رومانوی موضوعات کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا ہے، لیکن ان کے کلام کا گہرا مطالعہ اس تاثر کو بدل دیتا ہے۔ بشیر بدر نے محبت کے نازک اور لطیف جذبات کو جس وسعتِ فکر، بلند انسانی شعور اور کشادہ قلبی کے ساتھ اپنے اشعار میں برتا ہے وہ ان کا خاص امتیاز ہے۔انہوں نے محبت، انسیت، الفت، مروّت اور خلوص جیسے احساسات کو صرف عشق و عاشقی کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسانیت کی بقا، امن و سکون ،باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کا وسیلہ بنایا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور انسانی رویہ بن کر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے نفرت کے مقابل محبت کا پیغام دیاہے۔ بغض و عناداور سماج میں مروج منافقت کے ماحول میں خلوص، اپنائیت اور مفاہمت کو اہمیت دی ہے۔ مذہبی منافرت کے دور میں رواداری اور انسان دوستی کی ترغیب دلائی ہے۔ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کے درمیان صلہ رحمی، تعلقات اور انسانی احساس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح تصنع اورظاہری؎ شرافت کے برخلاف سچائی، سادگی اور خالص انسانی جذبات کی حمایت ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔

Monday, July 13, 2026

جنوبی ہند کا ادبی و اخلاقی پس منظر


 ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ    

                     جنوبی ہند (دکن) کی سرزمین تاریخِ عالم میں نہ صرف اپنی جغرافیائی انفرادیت، کہساروں، اور شاداب وادیوں کے لیے معروف ہے، بلکہ یہ خطہ قدیم زمانے سے ہی تہذیب و تمدن، علم و دانش اور اعلیٰ انسانی قدروں کا گہوارہ رہا ہے۔ دکن کی مٹی سے جو ادب پھوٹا، اس کی خوشبو میں صرف فنکارانہ مہارت ہی نہیں بلکہ وہ اخلاقی پیغام بھی شامل رہا ہے جس نے صدیوں تک برصغیر کے سماجی ڈھانچے کو استحکام بخشا۔ جنوبی ہند کے ادب کا مطالعہ کرتے وقت یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہاں کے ادبا، شعرا اور دانشوروں نے قلم کو محض جمالیاتی تسکین یا تخیلاتی پرواز کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اسے معاشرے کی فکری آبیاری اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔

لسانی تنوع اور اخلاقی ہم آہنگی جنوبی ہند کی پانچ بڑی زبانوں یعنی تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور قدیم اردو (دکنی) کے ادبی سرمائے میں ایک قدرِ مشترک  اخلاقیات  ہے۔ تمل ادب کی بات کی جائے تو 'تروکول (Thirukkural) جیسی عظیم کتاب آج بھی پوری دنیا کے لیے اخلاقیات کا ایک ضابطہ حیات مانی جاتی ہے۔ اسی طرح کنڑ اور تیلگو کے کلاسیکی ادب میں بھی مذہب اور اخلاق کو اس طرح سمویا گیا ہے کہ وہ ایک عام انسان کے کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان زبانوں کے تخلیق کاروں نے ہمیشہ سچائی، دیانتداری، رواداری اور انسانی ہمدردی کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔                                         

عربی مکتوب نگاری کی روایت


پروفیسر شاہد نوخیزاعظمی

 قدمت کے حوالے سے مکتوبات کی تاریخ انسانی تاریخ کے ہم مقابل ہے۔ افکار و خیالات کی جس صفت نے انسان کو اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز کیا ہے۔ وہی صفت اس فن کی موجد بھی ہے۔ انسان روز اول سے ہی اپنے افکار و خیالات، حرکات و سکنات اور احساسات و تجربات کا اظہار بذریعہ اشارات کرتا رہا ہے ۔ اسی وجہ سےحضرت مسیح سے ہزاروں سال قبل خط و کتابت کے نقوش ملتے ہیں۔ چین، ایران، عربستان اور ہندوستان کی قدیم تہذیبوں میں بھی خط و کتابت کا خوب معمول تھا۔ خط و کتابت کی اس روایت نے اپنی ابتدائی منزلیں گرچہ اسلام کی آمد سے قبل طے کی ہیں لیکن باالخصوص آمد اسلام کے بعد یہ فن اپنے اوج کمال کو پہنچا ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد مذہب ،دین اوراسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے اور قرآن کی تحریر و طباعت کے لیے اس کی اور زیادہ ضرورت محسوس کی گئی تھی اور یہ ذمہ داری چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سپر د کی گئی جو کاتب الوحی کے نام سے مشہور معروف ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی نشرو اشاعت اور دعوت و اصلاح کے لیے سلاطین کے نام خطوط رقم کیے تھے۔ اس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے۶ ھ میں قیصر روم، کجکلاہ ایران، عزیز مصر، نجاشی شاہ حبش، رؤسائے یمامہ ،والی حدود شام حارث غسانی، شرحبیل بن عمرو والی بصریٰ کے نام اسلام کی دعوت کے لیے خطوط ارسال فرمائے اور اس خدمت کی ذمہ داری بالترتیب حضرت دحیہ کلبی، عبداللہ بن حذافہ سہمی، عمروبن امیہ ضمری، سلیط بن عمرو،شجاع بن وہب اور حارث بن عمیر رضی اللہ عنہم اجمعین کوپیش کی گئی تھی۔ اس کی تفصیلات شاہ معین الدین ندوی نے تاریخ اسلام جلد اول کے صفحہ ۶۸ پریوں پیش کی ہے:

’’قیصر روم نے خط پاکر حکم دیا کہ اگر اس کے حدود سلطنت میں عرب کا کوئی شخص مل جائے تو اسے حاضر کیا جائے،اتفاق سے اس وقت ابوسفیان جو تجارت کے سلسلے میں شام آئے ہوئے تھے ،موجودتھے۔ چنانچہ انھیںلے جاکر پیش کیا گیا۔ قیصر نے ان سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق چند سوالات کیے ۔ ان میں جھوٹ بولنے کی گنجائش نہ تھی اس لیے ابو سفیان نے صحیح جوابات دیے۔یہ جوابات سن کر قیصر کو آنحضرت صلعم کی صداقت کا یقین ہوگیا۔ اس نے ابوسفیان سے کہاکہ ’’اگر تمھارے جوابات صحیح ہیں تو میرے قدم گاہ تک اس شخص (آنحضرت صلعم ) کا قبضہ ہوجائے گا، مجھ کو معلوم تھا کہ ایک پیغمبر آنے والاہے ، لیکن یہ خیال نہ تھاکہ وہ عرب میں ظاہر ہوگا۔ اگر میں اس تک پہنچ سکتا توان کے قدم دھوتا‘‘۔ قیصرکے ان خیالات کو سن کراس کے بطارقہ سخت برہم ہوئے لیکن اس اعتراف کے باوجود وہ تخت و تاج کی طمع میں اسلام کی دعوت سے محروم رہ گیا‘‘۔ 

Saturday, July 11, 2026

New Issue Released |


 Qadir-ul-Kalam International Research Journal (ISSN: 3139-1028)

We are pleased to announce that the latest issue of Qadir-ul-Kalam International Peer-Reviewed Research Journal is now available online.

This issue features original research articles on:

• Literary Criticism and Poetics
• Arabic Literary Traditions
• Abu al-Hasan Ali Nadwi: A Critical Study
• Educational Contributions of South Indian Madrasas
• Fictional Art of Jahan Akbar
• Premchand's Narrative Technique
• History of Urdu Prose and Fiction
• English Research Paper: A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence

🔗 Read the complete issue:
https://www.qadirulkalam.com/

We welcome researchers, academicians, teachers, and research scholars to explore the latest issue and share it within their academic networks.

#Research #Urdu #Literature #PeerReviewed #ISSN #AcademicPublishing #Humanities #QadirulKalam #ResearchJournal

تازہ شمارہ دستیاب ہے


 

📚 ماہ نامہ قادرالکلام (بین الاقوامی، تحقیقی و ریفریڈ جرنل) – تازہ شمارہ جولائی  2026

ISSN: 3139-1028

خوشخبری!
ماہ نامہ قادرالکلام کا تازہ شمارہ اب ہماری ویب سائٹ پر مطالعہ کے لیے دستیاب ہے۔

اس شمارے میں شامل چند اہم تحقیقی مضامین:

🔹 ادب میں تحقیق و تنقید اور شعریات کی روشنی میں شعر
🔹 عربی تاثرات میں کالج کی روایات
🔹 سید ابو الحسن علی ندویؒ کی شخصیت پر ایک فکری و ادبی مطالعہ
🔹 جنوبی ہند کے مدارس اور اضافات میں منظر
🔹 جہانِ اکبر کے افسانوی فن کا تحقیقی مطالعہ
🔹 پریم چند کی کہانی نگاری: "ناول، افسانہ، ڈراما" کے حوالے سے
🔹 اردو نثر و افسانہ نگاری کی تاریخ میں گلستانِ سخن کا مقام
🔹 English Research Article: A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence

📖 مکمل شمارہ ملاحظہ کریں:
https://www.qadirulkalam.com/

علمی و تحقیقی حلقوں سے گزارش ہے کہ اس شمارے کا مطالعہ کریں، اپنی آراء سے نوازیں اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔

#QadirulKalam #UrduResearch #ResearchJournal #ISSN #PeerReviewed #UrduLiterature #AcademicJournal #ResearchScholars

Saturday, July 4, 2026

جیسلمیر میںاردو کے نقوش


ڈاکٹر فخرانساء بانو   (اسسٹنٹ پروفیسر،راجستھان)

جیسلمیر میں ۱۸۵۷؁ء کے بعد ہی اردو کی شروعات ہوئی۔ کوہِ آبو میںانگریزریزیڈنسی قائم ہونے کے بعد اردو میںکام کاج بڑھا لیکن جودھپور،بیکانیر اور سروہی ریاستوں کی طرح اس ریاست میںاردوتصنیف وتالیف کے ثبوت نہیںملتے اور نہ ہی ہماری معلومات میں شاعر وادیب اس علاقے میںہوئے ہیں۔

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں خطہ مارواڑ میںآزادی سے قبل اردو شعر وادب کا ایک شاندار ماحول رہا ہے۔ حمید الدین ریحانی، قاضی حمید الدین اور صوفی حمید الدین کی آمدِناگور کے بعدفارسی وعربی ادب کی تخلیق کاجو سلسلہ شروع ہوا تھا،اس سے اردو کے لئے ایک سازگار ماحول تیار ہوگیا۔ علامہ فیضیوابو الفضل نے نہ صرف فارسی ادب کوعروج پر پہنچایابلکہ اس خطہ ریگزار کو بھی عظمت ووقار بخشا۔

غالب ؔوداغؔکے تلامذہ کواس علاقے نے اس قدر متاثر کیا کہ وہ یہاںآگئے اور اردو تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کیا۔اس علاقے کے مہاراجگان بھی علم دوست اورادب پرور تھے۔ بلکہ کئی والیانِ ریاست تو خود شاعر وادیب (مارواڑی زبان کے) گزرے ہیں۔ ۱۸۵۷؁ء کے بعد اردو یہاں پررائج ہونے لگی تھی۔نیز سرکاری دفاتر اور عدالتوں میںاردو میںکام کاج ہونے لگا تھا۔ قوانین وتواریخ کی کتابیںاور گزٹس بھی اردو میں چھپنے لگے تھے۔ اسی طرح متعدد شعراء وادباء کے دواوین، مجموعے اور نثری کتابیں بھی شائع ہونے لگی تھیں۔ سرکاری اسکولوں اورمدرسوں میں اردو پڑھائی جانے لگی تھی۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں کا بھی آغاز ہوچکا تھا اور اردو میںرسالے بھی جاری ہونے شروع ہوچکے تھے۔یہ تمام کام جو اردو میں ہوا کرتے تھے ، مارواڑی کا اثر لیے ہوئے تھے۔

Friday, July 3, 2026

مولانا آزاد کی طرز نگارش


 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

مولانا آزاد جامع الصفات و مجمع الکمالات اسلام کے عاشق، حق کے طرفدار، حریت کے پرستار، ملت کے خدمت گذار، اتحاد و  التفات کے خوا ستگار اور مسلم و آگہی کے تاجدار تھے۔ وہ علم کا اور علم ان کا تعاقب کرتا رہا، دونوں فاتح بھی ہوئے اور مفتوح بھی، انکے قلم نے علم کو اور علم نے ان کے قلم کو حیات جاوید بخشا، جب تک وہ باحیات تھے، علم کی صفات کا علم بلند رہایا یوں کہیئے کہ جب تک علم باقی رہے گا اچھے اصول اور وجود کا علم بلند رہے گا، مولانا کی شہرت کی بنیاد متاع درد، زور علم اور حسن رفتم ہے، سیاسی مسائل مذہبی رموز و نکات، شعری فسوں گرمی، ادبی عشوہ گری، تکرار کی رعد، اور خطابت کی کڑک کے ذریعے انکا  قلم اپنی چمک دمک اور مہک بکھر تا رہا، طلافت، فصاحت، بلاغت اور خطابت کے دریا میں جو علمی طغیانی نظر آرہی ہے وہ موصوف کے ذکر جمیل اور اسلوب جلیل کی مرہون منت ہے وہ بے مثال عالم پر گہر انشاء پرداز یگانی روزگار، بلند پایہ مدیر، مخلص سیاست دان اور ماہر قر آنیات تھے۔ ان کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا، جس کو صحیفہ صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا، کیونکہ صحافت کی شریعت میں واحد صحف ''الہلال'' ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جونہ  صرف موجودہ بلکہ آئیندہ  و  پائیندہ صحافت کے لئے بھی مشعل راہ ہے، اسکی زبان ، زمین و زمان کے لئے نوید سرفروشی تھی، جس کا نعرہ تیز ترک گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ تاریکی گمراہی لا علمی بے راہروی خود گریزی و نافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئی ہوئی عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ الجہاد فی سبیل  الحریہ۔   مولانا آزاد نے جن باتوں کو ایمان و یقین کی حد تک اپنے پیش نظر رکھاوہ ہندو و مسلم اتحاد مشتر کہ تہذیب متحدہ قومیت اور خدمت انسانیت تھی جس میں اتحاد اور حب الوطنی کو قومیت، ثقافت اور آزادی پر فوقیت حاصل تھی کیونکہ اتحاد ہر درد کا  درماں اور ہر مرض کی دوا ہی نہیں بلکہ فتح کی بشارت بھی ہے، ۱۹۳۳ء  میں کانگریس کے ایک خصوصی اجتماع میں انہوں نے ببانگ دہل کہا کہ آج  اگر ایک فر شتہ آسمان کی بلندیوں سے اتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑا ہو کر اعلان کر دے سوراج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان  ہند و مسلم اتحاد سے دستبردار ہو جائے تو میں سوراج سے دستبردار ہو جاؤں گا، مگر اس سے دستبردار نہ ہوں گا کیونکہ اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہوگا۔ مولانا آزاد اپنے خطبوں، تقریروں، تفسیروں اور تحریروں کے ذریعے مسلسل متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کے لئے کوشاں رہے، اسکے لئے انہوں نے فلسفیانہ رنگ بھی اختیار کیا، مکالمے کا انداز بھی اپنایا۔ قدیم و جدید کا موازنہ بھی کیا، تہذیب و ثقافت کے فرق بھی واضح کئے قرآن و حدیث سے دلائل بھی دئے آیات کی تاثیر سے خون بھی گرمایا اور قرآنی آئین و اصول کے آئینہ میں نیشنلزم، وطنیت، علاائیت اور مذہب و سیاست کی تحقیق کو صحافت کی مدد سے پیش کیا۔ مولانا بیداری، آزادی، اتحاد اور انقلاب کی جس راہ پر کمر بستہ تھے، اس کو حق سمجھتے تھے، اور انگو یقین مت کہ حق ضرور کامیاب ہوگا، باطل چاہے جتنا بھی ظالم اور جابر کیوں نہ ہو  اسے شکست فاش ہوگی، فریب فرنگ نے آزادی و اتحاد کی تحریک کو دین و مذہب کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی تو الہلال نے اس غلط بیانی کا مدلل و مفصل جواب دیتے ہوئے لکھا کہ آزادی انسان کا فطری حق ہے کوئی بھی مذہب اپنے پیرئوں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا، اور مسلمانوں کے لئے جہاد حریت ایک وینی فریضہ ہے، اللہ نے انہیں مجاہد بنایا ہے، اور مجاہد حق و صداقت کا پرچم بلند کرنے، انسانی بند و استبداد اور غلامی کو توڑنے کے لئے روئے زمین پر بھیجے گئے ہیں، جس نے غافلوں کو چوکنا سرمستوں کو ہشیار اور نیند کے متوالوں کو بیدار کر دیا، پر شور نعرے بلند ہونے لگے حریت و حرمت حریت کی لہر دوڑ گئی مغلوبوں اور مظلوموں نے لذت آزادی اور ذائقی بیداری کا مزہ بھی چکھا۔  

Thursday, July 2, 2026

قاضی عدیل عباسی کی قائدانہ صلاحیت کا محاکمہ


 محمد نسیم(ریسرچ اسکالر)

 قاضی عدیل عباسی اردو زبان و ادب ، صحافت اور قومی تحریک سے وابستہ ایک ہمہ جہت اور باقار شخصیت کا نام ہے ۔انھوں نے بیسویں صدی کے ہندوستان میں علمی، ادبی اور قومی سطح پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو جدوجہد، استقامت، دیانت داری اور مقصدیت کا آئینہ دار ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ  ایک مجاہد آزادی تھے بلکہ اردو زبان کے مخلص علم بردار اور بے باک صحافی بھی تھے۔ ان کا تعلق ضلع بستی کی تحصیل ڈمریا گنج کے’’بیارہ‘‘ نامی گاؤں  سے تھا، جو اب ضلع سدھارتھ نگر میں شامل ہے۔ ان کی پیدائش ۱۳ مارچ  ۱۸۹۸ء کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد قاضی بسم اللہ ایک خوش فکر شاعر تھے جن کا تخلص ’’عاصیؔ‘‘ تھا۔ ان کا شعری سرمایہ بعد میں ان کے فرزند قاضی محمد شکیل عباسی نے ’’نسخہ تواریخ‘‘ کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا۔ قاضی عدیل عباسی کی ابتدائی تربیت اسی علمی وادبی  ماحول میں ہوئی جہاں ادب، مذہب ، حب الوطنی  اور  سیکولریزم کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
تعلیم کی طرف ان کی رغبت بچپن ہی سے نمایاں تھی۔ ۱۹۰۹ء میں پرائمری اور ۱۹۱۱ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانے میں علاقے میں انگریزی تعلیم کا کوئی باقاعدہ  ادارہ موجود نہ تھا، اس لیے وہ میلوں  دور گھوڑے پر سوار ہو کر تعلیم حاصل کرنے  کے لیے جاتے تھے۔ یہ محض تعلیم کا حصول نہیں تھا بل کہ علم سے عشق کا عملی اظہار تھا۔ انھوں نے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ بستی کالج سے مکمل کیا، پھر گورکھ پور سے ۱۹۲۰ میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور۱۹۲۸ ء میں وہاں سے ایل ایل بی اور ایم اے کیا۔ اس زمانے میں دو کورس ایک ساتھ کرنے کی اجازت تھی۔

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...