پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
مولانا آزاد جامع الصفات و مجمع الکمالات اسلام کے عاشق، حق کے طرفدار، حریت کے پرستار، ملت کے خدمت گذار، اتحاد و التفات کے خوا ستگار اور مسلم و آگہی کے تاجدار تھے۔ وہ علم کا اور علم ان کا تعاقب کرتا رہا، دونوں فاتح بھی ہوئے اور مفتوح بھی، انکے قلم نے علم کو اور علم نے ان کے قلم کو حیات جاوید بخشا، جب تک وہ باحیات تھے، علم کی صفات کا علم بلند رہایا یوں کہیئے کہ جب تک علم باقی رہے گا اچھے اصول اور وجود کا علم بلند رہے گا، مولانا کی شہرت کی بنیاد متاع درد، زور علم اور حسن رفتم ہے، سیاسی مسائل مذہبی رموز و نکات، شعری فسوں گرمی، ادبی عشوہ گری، تکرار کی رعد، اور خطابت کی کڑک کے ذریعے انکا قلم اپنی چمک دمک اور مہک بکھر تا رہا، طلافت، فصاحت، بلاغت اور خطابت کے دریا میں جو علمی طغیانی نظر آرہی ہے وہ موصوف کے ذکر جمیل اور اسلوب جلیل کی مرہون منت ہے وہ بے مثال عالم پر گہر انشاء پرداز یگانی روزگار، بلند پایہ مدیر، مخلص سیاست دان اور ماہر قر آنیات تھے۔ ان کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا، جس کو صحیفہ صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا، کیونکہ صحافت کی شریعت میں واحد صحف ''الہلال'' ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جونہ صرف موجودہ بلکہ آئیندہ و پائیندہ صحافت کے لئے بھی مشعل راہ ہے، اسکی زبان ، زمین و زمان کے لئے نوید سرفروشی تھی، جس کا نعرہ تیز ترک گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ تاریکی گمراہی لا علمی بے راہروی خود گریزی و نافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئی ہوئی عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ الجہاد فی سبیل الحریہ۔ مولانا آزاد نے جن باتوں کو ایمان و یقین کی حد تک اپنے پیش نظر رکھاوہ ہندو و مسلم اتحاد مشتر کہ تہذیب متحدہ قومیت اور خدمت انسانیت تھی جس میں اتحاد اور حب الوطنی کو قومیت، ثقافت اور آزادی پر فوقیت حاصل تھی کیونکہ اتحاد ہر درد کا درماں اور ہر مرض کی دوا ہی نہیں بلکہ فتح کی بشارت بھی ہے، ۱۹۳۳ء میں کانگریس کے ایک خصوصی اجتماع میں انہوں نے ببانگ دہل کہا کہ آج اگر ایک فر شتہ آسمان کی بلندیوں سے اتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑا ہو کر اعلان کر دے سوراج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہند و مسلم اتحاد سے دستبردار ہو جائے تو میں سوراج سے دستبردار ہو جاؤں گا، مگر اس سے دستبردار نہ ہوں گا کیونکہ اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہوگا۔ مولانا آزاد اپنے خطبوں، تقریروں، تفسیروں اور تحریروں کے ذریعے مسلسل متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کے لئے کوشاں رہے، اسکے لئے انہوں نے فلسفیانہ رنگ بھی اختیار کیا، مکالمے کا انداز بھی اپنایا۔ قدیم و جدید کا موازنہ بھی کیا، تہذیب و ثقافت کے فرق بھی واضح کئے قرآن و حدیث سے دلائل بھی دئے آیات کی تاثیر سے خون بھی گرمایا اور قرآنی آئین و اصول کے آئینہ میں نیشنلزم، وطنیت، علاائیت اور مذہب و سیاست کی تحقیق کو صحافت کی مدد سے پیش کیا۔ مولانا بیداری، آزادی، اتحاد اور انقلاب کی جس راہ پر کمر بستہ تھے، اس کو حق سمجھتے تھے، اور انگو یقین مت کہ حق ضرور کامیاب ہوگا، باطل چاہے جتنا بھی ظالم اور جابر کیوں نہ ہو اسے شکست فاش ہوگی، فریب فرنگ نے آزادی و اتحاد کی تحریک کو دین و مذہب کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی تو الہلال نے اس غلط بیانی کا مدلل و مفصل جواب دیتے ہوئے لکھا کہ آزادی انسان کا فطری حق ہے کوئی بھی مذہب اپنے پیرئوں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا، اور مسلمانوں کے لئے جہاد حریت ایک وینی فریضہ ہے، اللہ نے انہیں مجاہد بنایا ہے، اور مجاہد حق و صداقت کا پرچم بلند کرنے، انسانی بند و استبداد اور غلامی کو توڑنے کے لئے روئے زمین پر بھیجے گئے ہیں، جس نے غافلوں کو چوکنا سرمستوں کو ہشیار اور نیند کے متوالوں کو بیدار کر دیا، پر شور نعرے بلند ہونے لگے حریت و حرمت حریت کی لہر دوڑ گئی مغلوبوں اور مظلوموں نے لذت آزادی اور ذائقی بیداری کا مزہ بھی چکھا۔
مولانا آزاد تقریبا نصف صدی تک اپنے انفاس گرم سے مردہ دلوں میں زندگی پھو کتے رہے، انہوں نے اپنے نور بصیرت سے تاریک تر دماغوں کو منور بھی کیا اپنی ہدایت و رہنمائی سے گم کردہ راہوں کو راہ راست دکھلایا علم کی روشنی سے معرفت کے ہر گوشے منور کئے، موصوف میںفطری عظمت، فلسفیانہ فکر، مجاہدانہ دماغ، مجاہد انہ جوش اور گوناگوں کمالات یکجا تھے، وہ دانائے راز، حکیم، مفکر، مدیر، سحر طر از ادیب جادو بیان خطیب، ذہانت و ذکاوت کا پیکر، فہم وفر است کا مجسمہ، مفکر و تقدیر کا دریائے بے کراں اور دیدہ وری و نکتہ سنجی میں اپنی مثال آپ تھے۔ انہوں نے جس راہ میں بھی قدم رکھا اپنا راستہ خود چنا اور ہر میدان میں اپنا الگ مقام اور امتیازی شان رکھی کیونکہ وہ حق و صداقت کی آواز اور عزم و استقلال کا پہاڑ تھے ایسی جلیل القدر اور عہد آفریں شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے جو افکار و تصور ات کی دنیا اور قوم و ملت کی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیتی ہے، مولانا کی شخصیت میں دین، سیاست، مذہب وطنیت، جدت اور قدامت کا نہایت دلکش امتزاج تھا۔ ماہرین آزاد نے موصوف کی صحافت، خطابت، فصاحت، بلاغت، تفسیر، تراجم، جغرافیہ اور سائنسی بصیرت پر تو بہت کچھ لکھا لیکن شاعری پر وہ تو جہ نہیں دی جسکے وہ مستحق تھے، موصوف ان تمام علوم و فنون کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ شاعر بھی تھے اگر چہ انہوں نے شاعر ی کم سنی میں ہی شروع کی اور بہت جلد ہی اس وادی کو خیر آباد بھی کہہ دیا لیکن انکی شاعری یہ شہادت دے رہی ہے کہ وہ اس میدان کے بھی باوقار شہسوار تھے۔ گلزار زشتی دہلوی نے ڈاکٹر راجندر پرساد، سردار بلبھ بھائی پٹیل آچاریہ جے بی کر پلانی اور راج شری پروشوتم واس ٹنڈن سے مولانا آزاد کا مقابلہ و موازنہ میں انگلی علیت و فضیلت کا اعتراف کرتے ہوئے مولانا ابو الکلام آزاد شخصیت اور کارنا ہے '' کے صفحہ ۱۶۷ پر رقم طراز ہیں:
وہ ہمارے ملک کے ایک ایسے عظیم انسان تھے جو دنیا میں صدیوں بعد جنم لیتے ہیں، وہ پیغمبر نہ تھے مگر بہت سا وقت پیغمبری انداز میں گزارا، وہ ولی تونہ تھے مگر معاملات دنیا میں اپنی شان قلندری و فیض رسانی میں قطب دوران تھے، وہ سقراط و بقراط اور ارسطو تو نہ تھے مگر بیسویں صدی میں اتنا بڑا ارسطوے زمان، عالم انسانیت، عالم اسلام اور ہندوستان میں دوسرا بدل بھی نہ تھا، تقوی و تورع میں وہ خواہ شیخ الہند اور مفتی کفایت اللہ کے ہم پلہ ہوں یانہ ہوں مگر میدان ورع و عرصہ صبر و رضا و توکل اور استغراق قر آن اور قال اللہ قال رسول اللہ کی پیروی، ترجمہ اور تفسیر کے میدان میں انکا ثانی دنیا میں الا ماشاء اللہ شاذ شاذ ہی کوئی ملیگا جسمیں یہ تمکنت یہ نظریہ، یہ خلوت نشینی، و اعتکاف کی راہ نصیب ہو وہ کروڑوں انسانوں کے رہنما تھے یا نہ تھے مگر ہندوستان کے جملہ گرانڈیل رہبروں، رہنماؤں، علما و اکابر اور مجاہدین کے قافلہ سالار اور میر کارواں ضرور تھے، ۱۲۔۱۹۱۰ء سے ۱۹۵۸ء تک انکے اس منصب کو کوئی نہ چھو سکا، گاندھی اور نہرو نے بھی اس منصب پر کبھی آنچ نہ آنے دی راجگوپال آچاریہ، ڈاکٹر راجیندر پرشاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل، اور پروشوتم واس ٹنڈن کوشش اور خواہش کے باوجود اس راج سنگھاسن پرنہ بیٹھ سکے، جس پر اقبال وقت نے اس کوہ وقار، کوہ جلال، کوہ علم اور کوہ فضیات کو متمکن کیا تھا۔
مولانا آزاد تحقیق و جستجو خلوت پسندی، سحر خیزی، چائے نوشی، پھولوں اور پرندوں سے لگاؤ، مناظر فطرت سے عشق وقت کی اہمیت و افادیت نشست و برخاست، طور و طریقہ افکار و گفتار، ذاتی واردات و تاثرات اور مشاہدات و تجربات کا اظہار ایسے فنکارانہ اسلوب کے ذریعہ کیا ہے جس میں ان کی فطری انانیت کسی طرح چھپائے نہیں چھپتی بلکہ ان کا آہنگ و رنگ شعر منثور کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں جس میں بلبل کی نغمہ سنجیاں اور موسم بہار کی گل کاریاں جیل کی ویران فضا کو بھی پر رونق و پر نور کر دیتی ہیں گل افشانی گفتار کا یہ سبک غبار خاطر کے صفحہ ۱۹۷ پر اس طرح افشان ہے
ـ’’کوئی پھول یا قوت کا کٹورا تھا، کوئی نیل کی پیالی تھی، کسی پھول پر گنگا جمنی کی قلم کاری کی گئی تھی، کسی پر چھینٹ کی طرح رنگ برنگ کی قلم کاری کی گئی تھی۔ بعض پھولوں پر رنگ کی بوندیں اس طرح پڑ گئی تھیں کہ خیال ہوتا تھا صناع قدرت کے مو قلم میں رنگ زیادہ بھر گیا تھا، صاف کرنے کے لئے جھٹکنا پڑا اور اس کی چھینٹیں قبائے گل کے دامن پر پر گئیں۔''
مولانا آزاد نے مخزن لاہور، اگست ۱۹۰۲ میں اپنے مضمون حکیم خاقانی شروانی میں تبصرہ کرتے ہوئے اس کا ذکر انتہائی افسوس سے کیا ہے۔
’’شعرائے پارس کے تذکرے اگر چہ فارسی زبان میں بہت سے لکھے گئے اور اکثر مشہور شعراء کے حالات ہر ایک تذکرہ نویس نے قلمبند کئے مگر سچ پوچھو تو جامعیت کا اطلاق ایک تذکرے پر بھی نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان میں آزاد بلگرامی نے خزانہ عامرہ بڑی محنت سے لکھا تھا اور دعوی کیا تھا کہ کم و بیش تمام خوش گو شعرائے فارس کے حالات اسمیں جمع کئے گئے ہیں مگر جب دیکھنے والوں نے دیکھا تو سوائے مشہور شاعروں کے حالات کے کچھ نہ پایا۔ اور سب کچھ الزام آزاد ہی پر نہیں ہے بلکہ تمام تذکروں کی یہی کیفیت ہے، حال میں علامہ ہدایت نے ایک ضخیم تذکرہ مجمع الفصحا کے نام سے ایران میں لکھا ہے اور وہیں چھپا بھی ہے، ہم نے اسے بھی اول سے آخر تک چھان ڈالا، بہت سے شاعروں کے حالات نظرنہ آئے خیر ہے تو حال فارسی تذکروں کا ہے، اردوئے معلی تو اپنے شاعروں کے تذکروں سے محروم تھی یہ تو پروفیسر محمد حسین آزاد کی عنایت ہے کہ انہوں نے آب حیات لکھ کر کلنک کا ٹیکہ مٹایا، ہم نے یہ حال دیکھ کر ایک تذکرۃ الشعراء کی بنا ڈالی، اور کوشش کی گئی ہے کہ اسمیں جامعیت کا لطف پیدا کیا جائے، ساتھ ہی پرانی طرز کو ترک کر کے سوانح عمری کے طور پر حالات لکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے اور مختلف مقامات سے تذکرے جمع کرکے پہلی جلد تالیف کی گئی ہے جس میں سے نمونہ کے طور پر حکیم افضل الدین خاقاانی کی لائف ناظرین محزن کی دلچسپی کیلئے پیش کی جاتی ہے۔ (ابو الکلام آزاد دہلوی از کلکتہ)''
مولانا آزاد کے یہ دو اشعار خدا بخش لائبریری پٹنہ کے جرنل نمبر۷۴ صفحہ ۱۵پر درج ہیں مولانا آزاد نے یہ شعر مولانا محمد یوسف جعفری رنجور کے نام ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں لکھتے ہیں ک’’ہ ساقی نامہ کی ابتداء کر دی ہے یہ دو اشعار لکھ چکا ہوں‘‘ اسکے بعد دونوں اشعار تحریر کئے ہیں ان اشعار کو شاہجہاں پوری نے ساقی نامہ کے دو شعر کے عنوان سے ارمغان آزاد کے صفح ۷۶ پر درج کیا ہے اور اسکی وضاحت بھی کی ہے جو لفظ بہ لفظ ملاحظہ ہو۔’’ مولانا آزاد نے یہ دو شعر مولانا محمد یوسف جعفری رنجور مرحوم کے نام ایک خط میں تحریر فرمائے ہیں، لکھا ہے کہ ساقی نامہ کی ابتداء کر دی ہے دو شعر لکھ چکا ہوں اس کے بعد یہ دونوں شعر تحریر کئے ہیں اور دریافت کیا ہے: کیا یہ بحر مناسب ہے؟'' خط میں ساقی نامہ کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں شاید ہے وہ ساقی نامہ نہ ہو جو تہنیت جشن تاجپوشی ملک معظم کی تقریب سے لکھی جانے والی مثنوی میں شامل ہے۔ اس خط پر تو کوئی تاریخ درج نہیں جس سے یہ دونوں شعر نقل ہوئے ہیں البتہ جشن تاج پوشی کے سلسلے کا مشاعرہ ۲۵، جون ۱۹۰۲ء کو کلکتہ میں ہوا تھا اور مثنوی اور قطعات تاریخ اسی موقعے کے لئے لکھے گئے تھے۔ ممکن ہے ساقی نامہ کے ان اشعار سے تذکر صادقہ پر تقریظ میں مثنوی کا آغاز کیا ہو۔ ان اشعار کے ارکان یہ ہیں: فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلن، یا فاعلان اور بحر کا نام یہ ہے۔ بحر رمل مسدس محذوف پہلے شعر میں شیخ اور کرم جبکہ دوسرے شعر میں بندہ نواز اور راز و نیاز قوافی ہیں۔ ساقی ماہ لقاء محزون زکرم، اور جام دادہ زمئے راز و نیاز کی تراکیب جاذب نظر ہیں۔
ساقی ماہ لقا نیک شیخ یک نگہ بر من محزوں زکرم
ائے خد ا ئے تو شوم بندہ نواز جام دادہ ز مئے راز و نیاز
مولانا آزاد کا یہ فارسی شعر ایک قصیدہ کی تشبیب میں ہے۔ اہل علم اس قصیدہ کی تحقیق و تلاش و جستجو میں لگے ہوئے ہیں اسکے ارکان یہ ہیں: مفعول، مفاعیل، مفاعیل فعولان یا فعولن۔ بحر کا نام، بحر ہزج مثمن اخرب مکفوف مقصور محذوف ہے۔ مولانا آزاد کے تشبیب کے اس شعر میں قافیہ عناں، اور رویف’ را ‘ہے۔ اس ایک شعر میں ہی مولانا آزاد نے تین تین تراکیب استعمال کی ہیں جو کچھ اس طرح ہیں، موج معانی، جیحون دلم، اور ساحل لب۔
اس شعر کے بارے میں شاہجہاں پوری ارمغان آزاد کے صفی ۸۷ پر لکھتے ہیں کہ: مولانا آزاد کا یہ شعر ارمغان آزاد'' میں شامل نہیں، محترم حکیم نصیر الدین اجمیری (کراچی) کے حافظے میں محفوظ تھا۔’’ ارمغان آزاد‘‘ آن موصوف کی نظر سے گزری تو انہوں نے یہ شعر سید محمود احمد برکاتی کو سنایا۔ برکاتی صاحب نے خاکسار کو تحریر فرما دیا۔ بعد میں یہ شعر خود مولانا کے قلم سے البلاغ میں شمارہ (۱) صفحہ (۱۵) پر چھپا ہوا نظر آگیا، مولانا نے البلاغ ۱۲ نومبر ۱۹۱۵ء کے شمارے میں دارالارشاد کے تحت لکھا تھا۔’’ اب سے آٹھ سال پہلے میں نے ایک قصیدے کی تشبیب میں کہاتھا‘‘ اور پھر یہ شعر نقل کیا، یہ قصیدہ ابھی تک دستیاب نہیں ہوا، معلوم نہیں موضوع کہ کوئی شخصیت تھی یا علم و فن۔ مذکورہ شعر پیش خدمت ہے۔
ہر موج معانی کہ ز جیحون دلم خاست
تا ساحل لب آمدہ بر تافت عناں را
حوالہ کتب
مولانا ابو الکلام آزاد شخصیت اور کارنامے ناشر :اردو اکادمی، دہلی صفحہ ۱۶۷
مولانا آزاد نے مخزن لاہور، اگست ۱۹۰۲
جلد (1) شمارہ (9) جون 2026
جلد (1) شمارہ (9) جون 2026
Professor Shahid Naukhez Azmi
Director, Centre for Studies of Urdu Culture
Maulana Azad National Urdu University (MANUU)Hyderabad – 500032, Telangana, India Mobile: 9966790046
***

No comments:
Post a Comment