Breaking News

New Issue Published • August 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • اگست 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Thursday, July 2, 2026

قاضی عدیل عباسی کی قائدانہ صلاحیت کا محاکمہ


 محمد نسیم(ریسرچ اسکالر)

 قاضی عدیل عباسی اردو زبان و ادب ، صحافت اور قومی تحریک سے وابستہ ایک ہمہ جہت اور باقار شخصیت کا نام ہے ۔انھوں نے بیسویں صدی کے ہندوستان میں علمی، ادبی اور قومی سطح پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو جدوجہد، استقامت، دیانت داری اور مقصدیت کا آئینہ دار ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ  ایک مجاہد آزادی تھے بلکہ اردو زبان کے مخلص علم بردار اور بے باک صحافی بھی تھے۔ ان کا تعلق ضلع بستی کی تحصیل ڈمریا گنج کے’’بیارہ‘‘ نامی گاؤں  سے تھا، جو اب ضلع سدھارتھ نگر میں شامل ہے۔ ان کی پیدائش ۱۳ مارچ  ۱۸۹۸ء کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد قاضی بسم اللہ ایک خوش فکر شاعر تھے جن کا تخلص ’’عاصیؔ‘‘ تھا۔ ان کا شعری سرمایہ بعد میں ان کے فرزند قاضی محمد شکیل عباسی نے ’’نسخہ تواریخ‘‘ کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا۔ قاضی عدیل عباسی کی ابتدائی تربیت اسی علمی وادبی  ماحول میں ہوئی جہاں ادب، مذہب ، حب الوطنی  اور  سیکولریزم کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
تعلیم کی طرف ان کی رغبت بچپن ہی سے نمایاں تھی۔ ۱۹۰۹ء میں پرائمری اور ۱۹۱۱ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانے میں علاقے میں انگریزی تعلیم کا کوئی باقاعدہ  ادارہ موجود نہ تھا، اس لیے وہ میلوں  دور گھوڑے پر سوار ہو کر تعلیم حاصل کرنے  کے لیے جاتے تھے۔ یہ محض تعلیم کا حصول نہیں تھا بل کہ علم سے عشق کا عملی اظہار تھا۔ انھوں نے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ بستی کالج سے مکمل کیا، پھر گورکھ پور سے ۱۹۲۰ میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور۱۹۲۸ ء میں وہاں سے ایل ایل بی اور ایم اے کیا۔ اس زمانے میں دو کورس ایک ساتھ کرنے کی اجازت تھی۔
صحافت ان کے عملی و ادبی میدان کا پہلا مرحلہ تھا۔ ۱۹۲۱ء میں انھوں نے روزنامہ ’’مدینہ‘‘ بجنور سے صحافت کا آغاز کیا مگر جلد ہی وہاں سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ۱۹۲۲ء میں وہ ممتاز اخبار ’’زمیندار‘‘ سے وابستہ ہوئے۔ اس کے علاوہ ندائے ملت ، صدائے مسلم  ، صدائے عام اور قومی آواز  وغیرہ کے علاوہ  انگریزی اخبارات   میں  ان کے  مضامین  پابندی سے شائع ہوتے رہے ، ان میں زیادہ تر مضامین  جنگ آزادی ، انگریزوں کے ظلم و ستم  ، اردو زبان کے حقوق کی بازیابی ، دینی تعلیمی کونسل کی تحریک و تنظیم، حکومت کی قابل اعتراض تعلیمی پالیسی  اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی پالیسی کے متعلق ہوتےتھے۔ یہ وہ دورتھا جب انگریزی حکومت کے خلاف قلم اٹھانا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ قاضی عدیل عباسی نے اس خطرے کو مول لیا اور انگریزوں کے خلاف بے باک انداز میں مضامین لکھ کرقوم و ملت کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ان کی تحریریں جذبہ حریت سے بھرپور ہوتی تھیں اور عوام میں جوش و ولولہ پیدا کرتی تھیں۔ اسی جراتِ تحریر کا نتیجہ تھا کہ انہیں بعد ازاں ان مضامین کی پاداش میں  گرفتار کر لیا گیا۔ اس جرم کی پاداش میں انھوں نے تقریبا ایک سال تک جیل کی صعوبتیں برداشت کیں جس سے ان کی صحت پر بھی منفی اثر پڑا۔
قید سے رہائی کے بعد بھی ان کے بے باک مزاج میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی، بل کہ اور زیادہ جوش اور ولولے کے ساتھ جدوجہد میں لگ گئے۔ رہائی کےبعد  نے سیاست میں عملی قدم رکھا اور وکالت کو ذریعہ معاش بنایا۔ ۱۹۲۶ میں ڈسٹرکٹ بورڈ کے رکن منتخب ہوئے اور ۱۹۴۶ تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس دوران انھوںنے عوامی بہبود کے متعدد منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ۱۹۳۷ میں انھوںنے مسلم لیگ کے رہنما نواب حسین کے خلاف اسمبلی کا انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے۔ اپنی سیاسی زندگی میں چار بار الیکشن لڑا۔  دو بار کامیابی حاصل کی۔ شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں :
  ’’ جب قومی سیاست میں منفعت کا دھندا زیادہ اور خدمت خلق کا گوشوارۂ عمل گھٹتے گھٹتے معدوم ہو گیا تو وہ سیاست سے الگ ہوگئے۔ ‘‘
(آئینہ شب و روز ، محمد ارشد عباسی ، ص ۷)
قاضی عدیل عباسی  نے سیاست سےضرور علیحدگی اختیار کرلی  مگر خدمت خلق اور قوم و ملت کی  فلاح و بہود کا جذبہ تادم مرگ قائم رہا۔ انھوں نے  اپنی توجہ اردو زبان کی خدمت اور قومی تہذیب کی ترویج پر مرکوز کر دی۔قاضی عدیل عباسی کی ادبی خدمات اردو زبان کی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف خود اچھے ادیب تھے بل کہ اردو زبان کے تحفظ اور اس کے سماجی و تعلیمی حق کے لیے مسلسل سرگرم عمل رہے۔انھوںنےاترپردیش کے سرکاری اسکولوں میں اردو کی جگہ سنسکرت لانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ ان کی مشہور کتابوں میں ’’اردو کا جنازہ‘‘،  ’’اردو کا استغاثہ‘‘، ’’تحریک خلافت‘‘،  ’’اقبال اور وطنیت‘‘، ’’سفر حج‘‘،  ’’جمیعۃ المسلمین‘‘ اور ’’آئینہ شب و روز‘‘ شامل ہیں۔ ’’آئینہ شب و  روز‘‘  ان کی ذاتی ڈائری ہے جس میں ان کی فکری گہرائی اور حساس طبیعت جھلکتی ہے۔ ان کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Aspects of Politics and Society: Memoirs of a Veteran Congress Man" ایک اہم تاریخی دستاویز ہے، جو ان کے سیاسی مشاہدات کا آئینہ  ہے۔قاضی عدیل عباسی نے محض تصنیف و تالیف پر اکتفا نہیں کیا بل کہ انھوںنے قومی تاریخ سے متعلق اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا تاکہ عام قاری تک قومی شعور پہنچ سکے۔ ان کی ترجمہ کی ہوئی کتابوں میں ’’تاریخ تحریک آزادی ہند‘‘ (جلد اول و سوم) اور ’’بم کا نسخہ‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اردو زبان کی بقا، مدارس کی تنظیم نو اور قومی تہذیب کی ترویج کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انھوںنے ابتدائی دینی تعلیم کےلئےضلعی سطح پرانجمن تعلیمات دین قائم کیا۔مختلف منتشر تعلیمی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے شب و روز کوششیں کیں اور اس مقصد میں کسی قسم کی ذاتی شہرت یا مفاد کو آڑے نہ آنے دیا۔
قاضی عدیل عباسی کی پوری حیات اخلاص،خدمت اور قربانی کی آئینہ دار تھی۔ان کےخلوص و وفا کا اعتراف نہ صرف یہ کہ علمی و ادبی حلقوں نے کیا بل کہ حکومت ِ ہند نے بھی ان کی گراں قدرخدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں ’’ تامر پتر‘‘ اور مجاہدی آزادی کو  ملنے والی پنشن سے سرفراز کیا۔ یہ اعزازات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انھوںنےاپنی جوانی کے قیمتی ایام قومی فلاح،بیداری اور ملک کی آزادی کی جدوجہد کے نام وقف کیا تھا۔انھوںنےآزادی کی تحریک میں اپنی عملی شرکت سے نہ صرف نوجوانوں کوحوصلہ بخشابلکہ اپنی سرگرمی سے یہ بھی ثابت کیاکہ وہ صرف نظریہ ساز نہیں بلکہ حقیقی مجاہد بھی ہیں۔ان کی زندگی کا ہر پہلو، چاہے وہ علمی ہو یا سیاسی، خدمت ِ خلق اور حب الوطنی سے معمور تھا۔ وہ نہ صرف تحریر و تقریر کے ذریعے بیداری کی شمع روشن کرتے رہے بلکہ زمینی سطح پر بھی عوامی شعور کو جگانے میں پیش پیش رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خدمات کو تاریخ  ِ ہند کے صفحات میں سنہری حروف سے محفوظ کیا گیا ہے۔ایک طویل عرصے تک علمی و ادبی خدمات اور قومی فلاح و بہبود کے لیے جدوجہدکےبعدآخرکار یہ روشن چراغ، جو علم،ادب، سیاست اور تہذیب کا جامع مظہر تھا، جمعہ کے روز، ۲۱ م مارچ ۱۹۸۰ء کو ہمیشہ کے لیے بجھ گیا،  لیکن ہر عظیم شخصیت کی طرح قاضی عدیل عباسی اہل علم و فن کے سینے میں زندہ ہیں اور ان کا فکری و اخلاقی ورثہ آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
قاضی محمد عدیل عباسی ایک ہمہ جہت اور باکمال شخصیت کے مالک تھے جن کی قائدانہ صلاحیتوں نے مختلف میدانوں میں اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔ تعلیم، سیاست، زبان و ثقافت، اور مذہب، ہر محاذ پر ان کی قیادت نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت محض نمائشی یا رسمی نہ تھی بل کہ عملی، نتیجہ خیز اور بصیرت افروز تھی۔ ان کی شخصیت میں جہاں اخلاص اور دیانت داری کی روشنی تھی، وہیں بے باکی، اصول پسندی، دوراندیشی اور عوام دوستی کے اجزائے ترکیبی بھی شامل تھے۔
قاضی محمد عدیل عباسی کی قیادت کا آغاز طالب علمی کے دور ہی سے ہوا، جب وہ گورکھ پور کے سینٹ اینڈریوز کالج میں زیر تعلیم تھے۔ انھوںنے طلبہ کی نمائندگی کا بیڑا اٹھایا اور ان کے مسائل کو حل کرانے میں فعال کردار ادا کیا۔ فرقہ پرستی کے سخت مخالف ہونے کے ناتے وہ ہندو یا مسلمان کی تفریق کیے بغیر سبھی طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے پیش پیش رہے۔ ان کی جرات مندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوںنے جہاں مسلم طلبہ کے لیے نمازِ جمعہ کے وقفے کا مطالبہ کیا، وہیں ہندو طلبہ کے لیے ہاسٹل میں ہولی منانے کی آزادی کے لیے بھی صدائے احتجاج بلند کیا۔یہ دونوں اقدام اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ان کی قیادت تعصب سے پاک، اصولوں پر مبنی اور ہمہ گیر تھی۔ اسی طرح طلبہ میں تعلیمی، اخلاقی اور تقریری صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے انھوںنے ’’انجمن ترقی العلوم‘‘ کی بنیاد رکھی اور اس کے سکریٹری منتخب ہوئے۔ یہ انجمن طلبہ کی تربیت، لائبریری کا قیام، اور غریب طلبہ کو وظائف مہیا کرانے جیسے اہم کام انجام دیتی تھی۔ ان کی قیادت میں نہ صرف یہ کہ  لائبریری قائم ہوئی بلکہ دس ہزار کتابوں کا ذخیرہ بھی جمع ہوا اور سینکڑوں طلبہ کو وظائف بھی ملنے لگے۔ یہ انجمن ان کی موجودگی میں تو ترقی کی جانب گامزن رہی، لیکن ان کی علیحدگی کے بعد زوال کا شکار ہو گئی، انجمن کی کامیابی میں ان کی قیادت کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔
’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ دینے والے مجاہد  ِ آزادی اور علم و ادب کے میدان میں سرگرمِ عمل مولانا حسرت موہانی کی صحبت نے قاضی عدیل عباسی کی فکری اور عملی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ لاہور میں قیام کے دوران انھیں علامہ اقبال کی مجلس سے فیض حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔  قاضی عدیل عباسی کے روابط مولانا غلام رسول مہر، عبدالمجید سالک، لالہ لاجپت رائے اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسی جلیل القدر شخصیات سے بھی استوار تھے، جن کی رفاقت نے ان کی فکری پختگی، سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کو مزید جلا بخشی۔  قاضی عدیل عباسی کی شخصیت میں سیاسی بصیرت، جرات مندی، اصول پسندی، عوامی وابستگی اور عملی جدوجہد کے وہ تمام عناصر موجود تھے جو ایک کامیاب اور بااثر سیاسی رہنما کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی سیاست محض اقتدار کے حصول کی دوڑ نہ تھی بلکہ یہ ایک نظریاتی تحریک کا حصہ تھی جو عوام کی خدمت، ان کے حقوق کا تحفظ  اور آزادی و جمہوریت کے  خواب کی تعبیر سے جڑی ہوئی تھی۔
قاضی عدیل عباسی نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز اس وقت کیا جب ملک غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور پورا ہندستان ایک نیا شعور حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا۔ وہ نوجوانی ہی سے اپنے اردگرد کی سماجی و سیاسی صورتحال سے واقف تھے، اور اس میں تبدیلی کے خواہاں بھی۔ ان کی تعلیم کے دوران ہی قائدانہ صلاحیتیں نمایاں ہونے لگیں اور یہی صفات آگے چل کر انہیں سیاست کے میدان میں ایک بااثر اور دلیر رہنما کے طور پر روشناس کراتی ہیں۔۱۹۲۰ء کا زمانہ ہندوستانی تاریخ کا ایک نازک مگر انقلابی موڑ تھا، جب بیش تر  نوجوان ملک کی آزادی کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے پر آمادہ تھے۔ قاضی عدیل عباسی بھی انھی مجاہدین  ِ حریت میں شامل تھے جنھوں  نے تعلیم، معاش اور سکونِ خانہ سب کچھ تج کر،  راہِ آزادی کو اختیار کیا۔ یہ راہ جیسا کہ ان کے عمل سے ظاہر ہے، مالی منفعت کی نہیں بلکہ مکمل ایثار و قربانی کی راہ تھی۔ جب انھوں نے تعلیم ترک کی اور تحریک آزادی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، تو اہل خانہ کی جانب سے سخت مخالفت اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر تحریکِ ترکِ موالات سے دور رہنے کے لیے زور دیا گیا، لیکن ان کا پائے استقامت کبھی نہیں ڈگمگایا۔یہ کیفیت محض ایک سیاسی کارکن کی نہیں بلکہ ایک بالغ نظر قائد کی ہے، جو وقتی جذبات سے نہیں بلکہ اصولی عزم اور فکری وابستگی سے اپنا راستہ چنتا ہے۔ وہ جذباتی دباؤ، گھریلو  رنجش اور مالی مجبوریوں کے باوجود اپنی راہ پر ڈٹے رہے۔ ان کی زندگی کا ایک اہم واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وہ مالی تنگی اور گھریلو پریشانیوں میں خود کو پھنسا ہوامحسوس کرنے لگے۔ وہ بھاگ کر جیل جانا چاہتے تھے تاکہ عملی طور پر تحریک آزادی کا حصہ بن سکیں، لیکن وسائل کی کمی آڑے آ رہی تھی۔ ایسے میں ان کی شریکِ حیات کا ردِ عمل نہ صرف حیران کن بلکہ قابلِ تقلید بھی تھا۔قاضی عدیل عباسی نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’تحریک خلافت ‘‘میں اس واقعہ کو نہایت دردمندی سے رقم کیا ہے:
’’ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا تم اتنے مغموم اور رنجیدہ کیوں رہتے ہو؟ میں نے کہا تم گھر کا رنگ  ڈھنگ دیکھ رہی ہو ۔ میں بھاگنا اور  جیل جانا چاہتا ہوںمیری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب اس نےبلا ایک لمحہ توقف کیے کہا ’’ تو پھر بھاگ جاؤ اور جیل جاؤ‘‘ اب میں نے کہا ’’ لیکن میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیںہے  بھاگ کر کہیں جاوں کیسے ‘‘ اس نے بڑٰی خندہ پیشانی سے فوراً کہا’’ کل مجھے ابا دس روپے دے گئے ہیں اس کو لو اور بھاگ جاؤ۔ ‘‘
(تحریک خلافت، قاضی عدیل عباسی،ص۱۴)
اس اقتباس سے نہ صرف قاضی عدیل عباسی کی تحریکِ آزادی کے تئیں سنجیدگی اور ذاتی کرب کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ان کی بیوی کے جذبۂ ایثار و قربانی اور حریت پسندی کی جھلک بھی واضح ہوتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ قاضی عدیل عباسی کی قیادت صرف جلسوں اور تحریروں تک محدود نہ تھی، بلکہ ان کی نجی زندگی بھی انہی اصولوں کی امین تھی جن کی بنیاد پر وہ قوم کی رہنمائی کے اہل بنے۔ ان کی قیادت کا سرچشمہ ان کی فکری استقلال، خاندانی تربیت اور قربانی کے جذبے سے لبریز مزاج تھا، جو ہر آزمائش میں کامیاب ہوا۔جب انھوں  نے ہندوستان کی سب سے بڑی قومی جماعت انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی، تو وہ محض رسمی رکن نہیں بنے بلکہ کانگریس کے نظریات اور مقاصد کو اپناتے ہوئے ایک فعال کارکن بن کر ابھرے۔ ان کی تقریری صلاحیت، عوامی رابطے کی قوت اور اصولوں پر ثابت قدمی نے انھیں بہت جلد قیادت کی اگلی صف میں لاکھڑا کیا۔ وہ گاؤں  گاؤں، بستی بستی، شہر شہر گھوم کر آزادی کی تحریک کو عوامی سطح پر مقبول بنانے میں پیش پیش رہے اوراس کا اثربھی عوام پرنمایاں تھا، ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ عوام کے دلوں پر اثر کرتا، اور ان کے حوصلوں کو بلند کرتا تھا۔ جب انگریز حکومت نے کانگریس کے رضاکاروں کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کیں، تو بہت سے لوگ پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن قاضی عدیل عباسی نے اس جابرانہ فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوںنے نہ صرف اس فیصلے کی مذمت کی بلکہ عملاً اس کے خلاف تحریک میں حصہ لیا۔ انھوںنے بیس پچیس افراد کی ٹولیوں میں رضاکارانہ گرفتاری کی مہم کا آغاز کیا ۔علی جواد  زیدی لکھتے ہیں  :
’’انھوں نے کانگریس کا ڈیلی گیٹ بن کر احمد آباد جانے کا فیصلہ کر لیا۔ انھوں نے کوئی ڈیڑھ سو والنٹیر اکٹھا کر لیے۔یہ جتھا پویس اسٹیشن کے سامنے سے یہ گاتا ہوا گزرا۔
اے پولس والو! ستانا ظلم کرنا چھوڑدو 
بھائیوں کے حلق پر خنجرچلانا چھوڑ دو
چار دن کی زندگی ہے چار دن کی چاندنی 
چار دن کے واسطے چاندی رچانا چھوڑدو
تو پولس والوں  کے ہوش گم ہوگئے اور کچھ نہیں کر پائے‘‘
(کردار کے غازی قاضی عدیل عباسی ، اختر بستوی ،ص ۵۳)
 یہ اقدام ان کی جرات اور اصول پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ۔ ان کی اس جرات مندانہ اقدام نے عوام میں سیاسی شعور اور بیداری کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔
قاضی عدیل عباسی کی سیاسی قیادت کا ایک اور قابل ذکر پہلو  ان کی انتخابی جدوجہد ہے۔ جب اسمبلی انتخابات کا انعقاد ہوا، اس وقت مسلم لیگ پورے ہندوستان میں ایک منظم اور طاقت ور جماعت کے طور پر ابھر رہی تھی۔ بستی میں اس جماعت کے امیدوار خان بہادر نواب حسین تھے، جو نہ صرف ایک بڑے زمین دار تھے بلکہ سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتے تھے۔ ان کے مقابلے میں قاضی عدیل عباسی ایک عام مگر عوام دوست، اصول پرست اور نظریاتی امیدوار کے طور پر میدان میں اترے۔ اس وقت  بہت لوگوں نے اس مقابلے کو نواب حسین کے حق میں یک طرفہ سمجھالیکن قاضی صاحب نے انتخابی مہم کو ایک نظریاتی تحریک میں بدل دیا۔انھوں نے عوام سے وعدے نہیں کیے بلکہ ان کے دکھ درد، مسائل اور ضرورتوں کو محسوس کرتے ہوئے ان کے ساتھ جڑ گئے۔ وہ گلیوں، بازاروں، کھیتوں اور چوپالوں میں جا کر عوام سے ملتے، ان کے مسائل سنتے اور ان کے سامنے اپنے نظریات اور سیاسی مؤقف کو رکھ کر ان کا دل جیتتے۔ ان کی سادگی، سچائی، خلوص اور عوامی وابستگی نے وہ کارنامہ انجام دیا جو بظاہر  ناممکن معلوم ہوتا تھا۔اپنی سادگی اور عوام دوستی کے نتیجےمیں انھوںنےایک طاقتور  زمین دار اور مسلم لیگ کے نمائندے کو شکست دے دی۔ یہ فتح صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں تھی، بلکہ عوامی شعور، جمہوری قوت اور اصولی سیاست کی جیت تھی۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر رہنما عوام کے دل میں اتر جائے، تو وہ بڑے سے بڑےصاحب  اثر و رسوخ کو شکست دے سکتا ہے۔ ان کی سیاست صرف نعرے بازی اور مظاہروں تک محدود نہ تھی، بلکہ اس میں فکری استقامت، سماجی شعور اور اصولی استحکام بھی شامل تھا۔ جب وہ بستی کے ڈسٹرکٹ بورڈ کے رکن اور تعلیمی کمیٹی کے چیئرمین بنے تو ان کا دائرہ کار محض تعلیمی پالیسیوں تک محدود نہ رہا۔ وہ ہر اس فیصلے کے خلاف کھڑے ہو گئے جو عوام کے مفاد کے خلاف ہو۔ جیسے بیل گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے اور ان کے سڑکوں پر چلنے پر پابندی کی تجاویز آئیں  تو  قاضی صاحب نے ان تجاویز کی صرف مخالفت ہی نہیں کی بلکہ اس کے خلاف سینہ سپر ہوگئے اور اسے نافذ ہونے نہیں دیا ، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اس کا اثر دیہی غریب کسانوں پر پڑے گا۔ ان کی یہی حساسیت اور عوامی مسائل سے قربت ان کی قیادت کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔
جب دوسری عالمی جنگ کے دوران حکومت نے اسکولوں میں جنگی مہم چلانے اور اس مقصد کے لیے اساتذہ کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا، تو قاضی عدیل عباسی نے تعلیمی کمیٹی کے چیئرمین ہونے کے ناطے اس حکم کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ جب کانگریس نے حکومت کو کسی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا ہے، تو تعلیمی اداروں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا غیر اخلاقی ہوگا۔ ان کے اس اصولی مؤقف کی وجہ سے انہیں اعلیٰ افسران کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر وہ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ ان کی یہ ثابت قدمی ان کی قیادت کی اخلاقی قوت کی مظہر ہے۔
قاضی محمد عدیل عباسی کی قائدانہ صلاحیت  کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سیاست سے سبکدوشی کے بعد بھی وہ عوامی فلاح اور قومی زبان اردو کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔ انھوںنے انجمن ترقی اردو (ہند) کی اترپردیش شاخ کا قیام عمل میں لایا اور اس کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ ، اور دستور ہند دفعہ ۳۴۷ کے تحت اترپردیش میں اردو زبان کو  علاقائی زبان بنانے کی مہم میں ان کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ وہ نہ صرف اس مہم کے ہر اجلاس میں پیش پیش رہے بلکہ سب سے زیادہ دستخط بھی انھوں نے جمع کیے، جو ڈاکٹر ذاکر حسین کی قیادت میں  صدر جمہوریہ کومیمورنڈم کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ان کی یہ سرگرمی دراصل سیاسی جدوجہد کا تسلسل ہی تھی، جو اقتدار سے دور رہ کر بھی جاری رہی۔
قاضی عدیل عباسی کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ صرف ان کی سیاسی، صحافتی اور ادبی سرگرمیوں سے ہی نہیں بلکہ دینی تعلیم کے فروغ میں ان کی گراں قدر خدمات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی قائدانہ بصیرت نے اس وقت رہنمائی کا فریضہ انجام دیا جب اترپردیش میں ابتدائی دینی تعلیم کا نظام زبوں حالی کا شکار تھا اور مکاتب و مدارس مالی و انتظامی بحران کا سامنا کر رہے تھے۔ ایسے حالات میں ۱۹۵۱ ء میں ان کی کوششوں سے ’’انجمن تعلیماتِ دین‘‘ کا قیام عمل میں آیا، جو ایک عملی و انقلابی اقدام تھا۔قاضی عدیل عباسی نے نہ صرف مسئلے کا  ادراک کیا بلکہ  مالی مسائل کے حل کے لیے ایک منفرد نظام تجویز کیا جسے  ’’چٹکی‘‘ اور ’’کھلیانی‘‘ کے نام سے جانا گیا۔  چٹکی ، گھروں میں کھانا پکاتے وقت اہل خانہ ایک مشت اناج مدرسے یا مکتب کے لیے الگ نکا ل دیا کرتے تھے ، جسے مدرسے کا محصل ماہ میں ایک مرتبہ تمام گھروں سے جمع کرلیا تھا ، اسی طرح کھلیانی ، جب کسانوں کی فصل تیار ہوجاتی اور کٹائی کا وقت آتا  تو وہ اپنی حاصل شدہ غلہ میں کچھ حصہ بہ طور تعاون مدرسے کے لیے مخصوص کر دیا کرتے تھے ۔یہ دونوں نظام ان کی ذہنی اختراع تھے، جن کی بنیاد مقامی سطح پر عوامی شمولیت اور خود کفالت کے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ ان طریقوں نے نہ صرف دینی تعلیمی اداروں کو مالی استحکام فراہم کیا بلکہ عوام میں تعلیم دینی کی اہمیت کا شعور بھی پیدا کیا۔ ان کا یہ ماڈل صرف ایک تجربہ نہیں رہا بلکہ اپنی کامیابی کی بنیاد پر صوبے بھر میں نافذ کیا گیا اور ’’دینی تعلیمی کونسل‘‘ کے قیام کی شکل میں ایک مستقل ادارتی صورت اختیار کر گیا، جس کے صدر مولانا ابولحسن علی حسنی ندوی  اور جنرل سکریڑی قاضی عدیل عباسی منتخب ہوئے۔شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں کہ : 
قاضی صاحب نے دینی تعلیمی کونسل کی بنیاد ڈالی ۔ یہ سراسر خدمت اور قربانی کا سودا تھا ، لیکن یو۔پی اور بہار کی پس ماندہ اردو آبادی کے لئے نسخۂ کیمیا کا حکم رکھتا تھا۔آج اگر یو۔پی میں اردو کا کچھ نام اور کام باقی ہے وہ تو وہ دینی تعلیمی کونسل کی بدولت ہے۔
( آئینۂ شب و روز  ، مرتبہ محمد ارشد عباسی  ص۸)
یہ ادارہ ان کی قیادت میں ایک ایسی تحریک میں تبدیل ہو گیا جس کے تحت سیکڑوں مکاتب و مدارس قائم کیے گئے۔ ان اداروں نے نہ صرف قرآن و سنت کی تعلیم عام کی بلکہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنا کر زبان کے فروغ کی راہ بھی ہموار کی۔ دیہی  و  پس ماندہ علاقوں میں اردو زبان کی بقا اور ارتقا میں ان مکاتب کا کردار ایک روشن باب ہے، جو  قاضی عدیل عباسی کی دور اندیشی، سماجی شعور اور قائدانہ حکمتِ عملی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔قاضی عدیل عباسی کا یہ اقدام محض انتظامی کارگزاری نہ تھا، بلکہ ایک فکری و تہذیبی مشن تھا۔ ان کی سوچ محض وقتی یا مقامی نہ تھی بلکہ ایک ہمہ گیر تعلیمی و لسانی تحریک کی صورت میں جلوہ گر ہوئی۔ ان کی قیادت میں دینی و لسانی شناخت کو جو توانائی ملی، وہ آج بھی ایک زندہ روایت کے طور پر برقرار ہے۔ ان کے قائم کردہ ادارے اور نظام آج بھی ان کی فکری بصیرت اور عملی تدبر کی شہادت دیتے ہیں۔شمس الرحمان فاروقی  لکھتے ہیں کہ 
’’ سیاست اور صحافت میں قاضی محمد عدیل عباسی کا ثانی ہوسکتا ہے ، لیکن اردو کے خدمت گاروں میں قاضی صاحب کا ثانی کوئی نہیں ہے ‘‘
( آئینۂ شب و روز  ، مرتبہ محمد ارشد عباسی  ص۸)
قاضی عدیل عباسی کی یہ خدمت نہ صرف دینی تعلیم کے استحکام کا باعث بنی بلکہ اردو زبان کے فروغ کی تحریک میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیت ایک ایسی جہت کی نمائندہ ہے جس نے علم، زبان، ثقافت اور قوم کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کا یہ کارنامہ  تاریخ  ِ اردو اور تعلیماتِ دین دونوں میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔
الغرض، قاضی محمد عدیل عباسی کی شخصیت قیادت کےہرمعیارپرپوری اترتی ہے۔انھوںنےتعلیم،ادب،صحافت اور تنظیمی میدان میں جوکارہائےنمایاں انجام دئے ہیں وہ آج بھی مشعل راہ ہیں۔قاضی محمدعدیل عباسی کیسیاسی قائدانہ صلاحیتیں اصول پرستی، عوامی شعور، اور نظریاتی استقامت کی اعلیٰ مثال تھیں۔ ان کی سیاست میں نہ ذاتی مفاد تھا، نہ عہدے کی لالچ، بلکہ یہ ایک مسلسل جہاد تھا، ایک تحریک تھی جو آزادی، انصاف، زبان، تعلیم اور عوامی حقوق کی بحالی کے لیے وقف تھی۔ ان کی قیادت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر نیت صاف ، ارادہ مضبوط  اور دل میں قوم کی سچی محبت ہو، تو ایک فرد بھی پورے نظام کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ان کی قائدانہ صلاحیتوں نے نہ صرف اردو زبان اور تعلیمات اسلامی کو فروغ دیابلکہ قوم میں بیداری،خوداعتمادی اورعملی شعور بھی پیدا کیا۔انھوںنے اپنی بصیرت اور محنت سےہزاروں بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔قاضی عدیل عباسی کا نام آج بھی زندہ ہے، کیونکہ ان کی قیادت محض وقتی کامیابیوں کا نہیں، بلکہ دیرپا اثرات کا استعارہ ہے۔
مراجع و مصادر
1. بستوی ،اختر۔ (۱۹۹۷ء)۔ ادب کے معمار قاضی محمد عدیل عباسی ، نئی دہلی :ساہتیہ اکادمی
2. بستوی، اختر۔(۱۹۸۴ء)۔کردارکے غازی قاضی محمد عدیل عباسی،فیض آباد :نشاط پریس
3. عباسی ، محمد ارشد۔ (۲۰۰۹ء) ۔آئینۂ شب و روز ( ذاتی ڈائری)، نئی دہلی : نئی کتاب پبلشرز
4. عثمانی، مسعود الحسن۔ (۲۰۱۷ء)۔تحریر بے عدیل ، اترپردیش : دینی تعلیمی کونسل
5. عباسی ،محمد عدیل۔(۲۰۱۳ء)۔تحریک خلافت  ، نئی دہلی :قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان 
6. عباسی ،محمد عدیل ۔(۲۰۰۳ء)۔جرأت رندانہ، مرتبہ  محبوب سعید ، گورکھپور:چیف کمپیوٹر ڈیزائنر اینڈ پرینٹر 
7. عندلیب ،ڈاکٹر عمران احمد۔(۲۰۰۷ء)۔سرگذشت عدیل،نئی دہلی :نئی کتاب پبلشرز
8. عباسی، قاضی جلیل۔(۱۹۸۵)۔کیا دن تھے،دہلی:جے کے آفسٹ پرنٹر
9. خان، س ۔ا ۔(۱۹۹۹)۔قاضی عدیل عباسی   حیات و خدمات (یادگار مجلہ)،نئی دہلی : یونائیٹڈ  مسلم آف انڈیا
جلد (1)   شمارہ (9)     جون 2026

📚 An Evaluation of the Leadership Qualities of Qazi Adeel Abbasi

✍️ Article by Mohammed Naseem
(Research Scholar)

Khwaja Moinuddin Chishti Language University, Lucknow
Email Add. a-0683 @ kmclu.ac.in
Mob.+91- 9616913429
***

No comments:

Post a Comment

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM) ISSN: 3139-1028 Peer-Reviewed | International Research & R...