ڈاکٹر فخرانساء بانو (اسسٹنٹ پروفیسر،راجستھان)
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں خطہ مارواڑ میںآزادی سے قبل اردو شعر وادب کا ایک شاندار ماحول رہا ہے۔ حمید الدین ریحانی، قاضی حمید الدین اور صوفی حمید الدین کی آمدِناگور کے بعدفارسی وعربی ادب کی تخلیق کاجو سلسلہ شروع ہوا تھا،اس سے اردو کے لئے ایک سازگار ماحول تیار ہوگیا۔ علامہ فیضیوابو الفضل نے نہ صرف فارسی ادب کوعروج پر پہنچایابلکہ اس خطہ ریگزار کو بھی عظمت ووقار بخشا۔
غالب ؔوداغؔکے تلامذہ کواس علاقے نے اس قدر متاثر کیا کہ وہ یہاںآگئے اور اردو تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کیا۔اس علاقے کے مہاراجگان بھی علم دوست اورادب پرور تھے۔ بلکہ کئی والیانِ ریاست تو خود شاعر وادیب (مارواڑی زبان کے) گزرے ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے بعد اردو یہاں پررائج ہونے لگی تھی۔نیز سرکاری دفاتر اور عدالتوں میںاردو میںکام کاج ہونے لگا تھا۔ قوانین وتواریخ کی کتابیںاور گزٹس بھی اردو میں چھپنے لگے تھے۔ اسی طرح متعدد شعراء وادباء کے دواوین، مجموعے اور نثری کتابیں بھی شائع ہونے لگی تھیں۔ سرکاری اسکولوں اورمدرسوں میں اردو پڑھائی جانے لگی تھی۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں کا بھی آغاز ہوچکا تھا اور اردو میںرسالے بھی جاری ہونے شروع ہوچکے تھے۔یہ تمام کام جو اردو میں ہوا کرتے تھے ، مارواڑی کا اثر لیے ہوئے تھے۔
۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء ہندوستان کے لئے مبارک دن تھا جب ہندوستان کوانگریزوں کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اب ملک آزاد تھا اور ہر طرف سے ایک ہی آواز آرہی تھی۔
یہ زمیںآزاد ہے یہ آسماںآزاد ہے
لیکن اس کے ساتھ ہی ایک منحوس واقعہ بھی رونماہوا اور وہ تھا تقسیمِ ہند، تقسیم ِہندنے تمام برِصغیر کوہلا کررکھ دیا۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی لاکھوں کروڑوں لوگوں کو اپنا گھر بار اوروطن چھوڑ کرمنتقل ہوناپڑا۔ نہ جانے کتنے لوگ اِدھرسے اُدھر گئے اور اُدھر سے اِدھر آئے۔
ہنگامۂ تقسیم سے متاثر ہونے والوں میںمدرس، ڈاکٹر ،انجینئیر ،تاجر، مزدور، کسان گوہرطبقے اورسماج کے لوگ شامل تھے۔ شعراء وادباء بھی ان حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیںرہ سکے۔ بابائے اردومولوی عبد الحق،حفیظ جالندھری ، سعادت حسن منٹواورجوشؔ ملیح آبادی جیسی بڑی ادبی شخصیتوں کوبھی ہجرت کرنی پڑی۔ ایسی افراتفری اور بدامنی کے ماحول سے خطہ مارواڑ بھی کیسے اچھوتا رہ سکتا تھا ۔ لہٰذا اس علاقے سے بھی کئی شعراء وادباء ہجرت کرگئے حالانکہ ان کی تعداد بہت زیادہ بھی نہیں تھی کیونکہ خطہ مارواڑ کے مہاراجگان نے نہایت خوش اسلوبی اورایمانداری کے ساتھ ریاست میں امن وامان قائم رکھا اور اپنی رعایاکوبلاتفریق مذہب وملت تحفظ بخشا پھر بھی ان حضرات کی ہجرت سے ،ایک بار توشمع شعر وسخن ،مانند پڑتی نظر آنے لگی۔ محفلِ ادب سردپڑتی دکھائی دی۔ یہ حالت زیادہ دن تک قائم نہیں رہ سکے ،کیونکہ اس خطہ ریگزار میںاب بھی ایسے حضرات موجود تھے جن کے دم پر مارواڑ میںاردو شعر وادب کا ڈنکا بجتارہا۔ شعر وسخن کی محفلیں پھر سے آباد ہونے لگیں اور اردو کی شمع دوبارہ جھلملانے لگی ۔ ان حضرات نے مارواڑ اورراجستھان کے اردو شعر وادب میںایک نئی روح پھونک دی ۔ مردان علی خاںرعناؔ ،بیخودؔ و بیدلؔ اورابراہیم آزادؔ وبیدلؔ کے شروع کردہ سلسلے کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اسے نئی آب وتاب کے ساتھ پروان چڑھانے میں بھی اہم رول اداکیا۔ آزادی کے بعد مارواڑ میں اردو نثر ونظم کی دنیا میںبہت ہی شاندار اورمعیاری کام ہوئے۔
راجستھان کی قدیم ریاستوں میںریاست جودھپور ّجسے شہرجو جودھپور کی آبادی سے قبل ریاست مارواڑ کہاجاتاتھا۔ ریاستِ جودھپور جو اپنی تاریخی اہمیت سے قطع نظرراجستھان کی ادبی تاریخ میںایک اہم حیثیت کی حامل رہی ہے۔ اسی ریاست کے قبضے ناگور کو سلطان التارکین صوفی حمید الدین فاروقیؒ (متوفی۶۷۷ھ)مطابق ۱۲۷۸ء نے اپنا مسکن بنایا اور اپنی تصانیف کے ذریعہ وہاں فارسی علم وادب کی تخم ریزی کی۔ ناگور کی ایک بستی رُحیل میں قاضی حمید الدین ناگوریؒ کے صاحبزادے قاضی احمد ظہیر الدین ایک زبردست عالم تھے جن کی تصنیف ’’رفتہ الصوفیہ‘‘ کو مصنف تذکرہ بہار سخن نے مارواڑ کی اولین فارسی تصنیف بتایا ہے۔ قاضی حمید الدینؒ کے خاندان میںاور بھی بہت سے علماء وفضلا پیدا ہوئے جن کی تصانیف کا حوالہ مصنف بہار سخن نے دیا ہے۔ اسی طرح صوفی حمید الدین فاروقیؒ کی اولاد میں خواجہ حسین ناگوری مصنف تفہیم القرآن الموسوم نور النبی وسوانح امام غزالی اورخواجہ نجم الدین نجم وپروانہ جیسے عالم وفاضل وشاعر پیدا ہوئے۔
۱۲۹۹ء میں بعہد علاء الدین خلجی مارواڑ میںفارسی کے ایک شاعر حبیب اﷲتنہا کی فائزی کاسُراغ ملتا ہے جو ایک سپہ سالار کی حیثیت سے مارواڑ آئے تھے اوروہیں شہید ہوئے ۔ منڈور (جودھپور) میں ان کامزارموجودہے اوروہاں تنہا پیر کے نام سے ہر سال ان کاعرس کیاجاتا ہے۔
مارواڑ میںفارسی زبان وادب کے زیرِاثر وہاں کی مقامی مارواڑی بولی میں بھی فارسی عربی کے الفاظ آہستہ آہستہ شامل ہونے لگے چنانچہ والیٔ جودھپور راؤ جودھا کے پوتے رتن سنگھ کی بیٹی بھکتی کی شاعری میں میر ا بائی کے بھجنوں کے الفاظ موجود ہیں۔ شین ۔کاف ۔نظامؔ نے تذکرہ معاصر شعرائے جودھپور میںمیرا کے حسبِ ذیل مصرعوں کاحوالہ دیتے ہوئے جودھپور کی مقامی زبان میںمتعمل فارسی کے بہت سے الفاظ کی نشاندہی کی ہے۔
ریاست جودھپور کے ریگستانی خطہ میںفارسی زبان و ادب کا جو چراغ صوفیائے کرام نے روشن کیااس کی روشنی سلاطین مغلیہ کے عہد میں تیز تر ہوتی گئی۔ خصوصاًوالیانِ ریاست اور سلاطین مغلیہ کے باہمی روابط نے اس کوتقویت پہنچائی۔ اور اکبر اعظم کے زمانے میںشیخ مبارک کے بیٹے ابوالفیض فیضیؔ، ابو الفضل، ابو الخیر اور ابوالبرکات نے علمی وادبی دنیا میںاپنے وطن ناگور کا نام روشن کیا۔
خاص طور سے ناگور میں بکثرت صوفیائے کرام آئے اور یہاں بودوباش اختیار کی۔ درس وتدریس کے ساتھ تصنیف وتالیف کا بھی کام کیا۔ ضیاء ا لدین دیسائی نے اپنی مرتب کردہ رپورٹ ’’نسکرپشن آف راجستھان ، ۱۹۷۱ء بیسویں صدی کے نصف اول میں ریاست جودھپور میں اردو نثر اور نظم کا اچھا دور رہا۔ گولڈن حویلی بک آف جسونت کالج، ۱۹۴۶ء کا مطالعہ کرنے سے اس کی تائید ہوجاتی ہے۔ اس کالج کے جشن کے موقع پر مشاعرہ بھی ہوا۔ ساتھ ہی مقالات بھی پڑھے گئے اور بحث ومباحثہ کا مقابلہ بھی ہوا۔ یہ جشن ۱۹؍فروری ۱۹۴۶ء سے ۲۴؍فروری ۱۹۴۶ء تک منایا گیا ۔ اس جشن میں اردو کے جو مقالات پڑھے گئے وہ آج ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر بھی اس زمانے میں تحقیق وتنقید کے ساتھ ساتھ افسانوی ادب، جدید شاعری اور دیگر موضوعات پر کام ہو رہا تھا۔ مثال کے طور پر جو مقالا ت گولڈن بک میں شامل کئے گئے ہیں ان کے عنوانات یہ ہیں؛
۱۔ نئی اردو شاعری: (نواب مرزا)
۲۔ اردو افسانہ کا ارتقاء (محمد رضا)
۳۔ پیغام جوش (محمد صدیق ونمبر)
اس حویلی پروگرام میں اردو ڈرامے بھی اسٹیج کئے گئے تھے۔ جیسے شاہجہاں اور عمر خیام کا خواب: ریاست جودھپور کے بارے میں مولانا شرف الدین یکتاؔ صاحب تذکرہ بہار سخن (شعرائے جودھپور) نے جوتحریر لکھی ہے وہ مختصر بھی ہے اورجامع بھی۔ اس لئے طوالت سے گریز کرتے ہوئے ان کے تذکرے سے کچھ اقتباسات نقل کر رہی ہوں۔ فرماتے ہیں۔
’’جودھپور میں علم وادب کی تاریخ کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب سے مسلمانوں نے سرزمین میں قدم رکھا۔‘‘ ۱؎
۱؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۹ (۲۰۱۶)
’’یہ ریاست بائیس پرگنوں پر مشتمل تھی جن میں ڈیڈوانہ ،ناگور، مٹرتہ ،جالور اور سانبھر، علماء ،فضلاء کے مرکز رہے ہیں۔ ڈیڈوانہ اور ناگور، عہد مغلیہ میںمرکزی حکومت سے وابستہ رہے۔ شیخ مبارک ناگوری اور ان کے مرکزی، حکومت سے وابستہ رہے۔ شیخ مبارک ناگوری اور ان کے شہرہ آفاق فرزند ابو الفضل وفیضی کی زاد یوم ناگور ہی کی سرزمین تھی۔ اور یہیں کیی علماء سے انہوں نے اکتساب فیض کیا تھا۔ ناگور کی رونواحی بستیوں رحل اور کھاٹو میں اب تک قدیم قاضیوںاور خانووادہ تصورف کے قبیلے آباد ہیں۔ جن میں اچھے اچھے صاحبانِ علم وفن اور بزرگان رشدوہدایت پیدا ہوئے۔‘‘ ۲؎
۲؎؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری: ڈاکٹر شاہد احمد جمالی۔ ص ۹ (۲۰۱۶ء)
’’مہاراجگان راٹھوڑ کی عمل داری سے قبل اس ریاست کو مارواڑ کہتے تھے۔ اور منڈور اس کی راجدھانی تھا۔ راؤ سیہاراٹھوڑ جو راجہ جیجند کا پوتاتھا۔ سب سے پہلے ا س ریاست میں تقریباً ۱۲۲۶ھ میں آیا۔ اور ایک حصہ ملک پر قبضہ کرکے راٹھوڑوں کے راج کی بنیاد رکھی۔ راؤ سیہا کی اولاد میں راؤ دودھاہوا، جس نے ۱۴۵۳ء سے ۱۴۸۸ء تک حکومت کی۔ ۱۴۵۹ء میں شہر جودھپور کی بنیاد رکھی۔ جو ریاست کا صدر مقام ہوا اور اسی کے پیچھے ریاست کا نام جودھپور پڑا۔‘‘ ۳؎
۳؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۹ (۲۰۱۶)
’’مذکورالصدر راجاؤں کی اولاد میںمہاراجہ مان سنگھ (۱۸۰۳ء۔۱۸۴۳ء) مہاراجہ تخت سنگھ (۱۸۴۳ء۔ ۱۸۷۳ء) اور مہاراجہ جسونت سنگھ دوم (۱۸۷۳ء۔۱۸۹۵ء) بڑے علم دوست راجہ گزرے ہیں۔ جن کے عہد میں فارسی اور اردو کوکافی عروج حاصل ہوا۔ دفاتر کا کام فارسی اور اردو میںہوتاتھا۔ جس کی وجہ سے شمالی ہند اور دیگر مقامات سے اہلِ علم حضرات آآکر جودھپور میں بودوباش اختیار کررہے تھے۔‘‘ ۴؎
۴؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۹ (۲۰۱۶)
’’مہاراجہ مان سنگھ خود ہندی اور مارواڑی کے اچھے اور بلند پایہ شاعر تھے جہاںانہوںنے ہولی اور بسنت کے گیت گائے ہیں وہیں شہادت امام حسن ؓ پر بھی متعدد مرثیے مارواڑی زبان میں لکھ کر اشکباری کی ہے۔ یہ مرثیہ آج تک قدیم ہندو گویوں اور طوائفوں کی زبان پر جاری ہیں۔ اور عشرہ محرم میںعقیدت کے ساتھ گائے جاتے ہیں۔ ان مرثیوں میں بہت سے فارسی اور عربی کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔‘‘۵؎
۵؎ ؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۱۰(۲۰۱۶)
’’قاضی حمید الدین ناگوری جو ۵۶۰ھ یا ۶۱ھ میں ناگور میںواردہوئے اور یہیں سکونت اختیار کی۔ یہ بعد ازاں دہلی چلے گئے لیکن ان کی اولاد امجاد یہیں پھلی پھولی۔ قاضی حمید الدین کے صاحبزادے قاضی احمد ظہیر تھے جن کے تصنیف ’’روضہ الصوفیہ‘‘ ، (فارسی قلمی) درگاہ رحل میں موجود ہے۔ یہ پہلی فارسی تصنیف ہے جس کا وجود مارواڑ میں بارھویں صدی عیسوی میں پایاجاتا ہے۔ اس خاندان کے کئی دیگر فضلاء کی تصانیف کے قلمی نسخے ہی رحل میں موجود ہیں۔ جن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ برہان الجاہلین (قاضی برہان الدین) مناقب حمید یو(قاضی محاد نجیب) رسالہ (قاضی رحمت اﷲخاں )۔‘‘ ۶؎
۶؎مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۱۰(۲۰۱۶)
’’ناگور کی دوسری اہم شخصیت سلطان التارکین حمید الدین صوفی فاروقی (متوفی ۱۲۷۳ء ) کی ہے جن کے وجود سے ناگور میں علم وادب کو کافی عروج ہوا۔ آپ خواجہ غریب نوازؒ کے خلفاء میں سے تھے۔ ان کی اولاد میں خواجہ حسین ناگوری ہوئے ہیں۔ جو علم علوم ظاہری وباطنی میںبگانہ روزگاراور صاحب تصنیف تھے۔ ان کی تصانیف میں ایک تفسیر القرآن موسوم بہ نور النبی ، سوانح امام غزالی، اور رسائل ومکتوبات ہیں۔‘‘ ۷؎
۷؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۱۰ (۲۰۱۶)
حوالہ کتب
مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۹ ،۲۰۱۶)
۲؎؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری: ڈاکٹر شاہد احمد جمالی۔ ص ۹ (۲۰۱۶ء)
۳؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۹ (۲۰۱۶)
۴؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۹ (۲۰۱۶)
۵؎ ؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۱۰(۲۰۱۶)
۶؎مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۱۰(۲۰۱۶)
۷؎ مارواڑ کا دبستانِ شاعری، ڈاکٹر شاہد احمد جمالی، ص نمبر ۱۰ (۲۰۱۶)
***
جلد (1) شمارہ (9) جون 2026
Dr. Fakharunnisha Bano
Government Dungar College,
Sagar Road in Bikaner,
Rajasthan, India
PIN: 334001
fakharunnisa.udr@gmail.com
***

No comments:
Post a Comment