Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Wednesday, October 28, 2026

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ



علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں سادگی، دل کشی، اخلاقی تربیت اور بلند حوصلگی کا پیغام بھی ملتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں بشریٰ رحمن نے اقبال کی بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کے موضوعات، فنی خصوصیات اور تعلیمی و تربیتی اہمیت کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ مطالعہ بچوں کی شاعری کے حوالے سے اقبال کی ادبی خدمات کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 بشریٰ رحمن(ریسرچ اسکالر،حیدرآباد)

علامہ محمد اقبال کی بچوں کے لیے شاعری اردو ادبِ اطفال کا اہم حصہ ہے۔ ان نظموں پر اخلاقی تربیت، بچوں کی نفسیات، اقدار، ترجمہ و اخذ، فطرت اور ماحول جیسے مختلف زاویوں سے قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ ان پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے یہ جائزہ لیتا ہے کہ اقبال کی منتخب نظمیں بچے کی اخلاقی سمجھ، زبان، ذخیرۂ الفاظ، مشاہدے اور اپنے گرد موجود دنیا سے واقفیت میں کس طرح مدد دے سکتی ہیں۔ تحقیق کے لیے بانگ ِ درا کی سات نظموں: ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘، ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’ایک گائے اور بکری‘‘، ’’بچے کی دعا‘‘، ’’ہمدردی‘‘، ’’پرندے کی فریاد‘‘ اور ’’ماں کا خواب‘‘ کا متنی مطالعہ کیا گیا ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کردار، مکالمہ، جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کے ذریعے اخلاقی بات کو محض نصیحت کی صورت میں نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک واقعے اور تجربے سے جوڑتے ہیں۔ یہ نظمیں اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے، آزادی اور قید، غرور اور خودداری، ہمدردی اور بے حسی جیسے بنیادی فرق بھی واضح کرتی ہیں۔ مقالے میں ان نظموں کی نصابی اہمیت کے ساتھ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کو اصل متن کے متبادل کے بجائے اس کی تفہیم میں مددگار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Monday, October 26, 2026

سینما کے پردے پر اردوکا سفر


اردو زبان اور ہندوستانی سنیما کا رشتہ تاریخی، ادبی اور تہذیبی اہمیت رکھتا ہے۔ فلمی مکالموں، کہانیوں، اسکرین پلے اور نغموں میں اردو نے اپنی شیرینی، شائستگی اور جذباتی تاثیر سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ زیرِ نظر مضمون میں سعدیہ فاطمہ نے ہندوستانی سنیما میں اردو کے سفر، بولتی فلموں کے آغاز، اردو ادیبوں، شاعروں اور نغمہ نگاروں کی خدمات اور فلمی ادب کے تہذیبی اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحریر اردو زبان اور فلمی دنیا کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک دل چسپ کوشش ہے۔

 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

اردوزبان ایک ایسی زبان ہے جو ہر زبان کے ساتھ اپنی جگہ بنالیتی ہے یہ دل اور دماغ دونوں میں اپنا لوہا منوا لیتی ہے، اردوبولنے میں جتنی خوب صورت لگتی ہے پڑھنے لکھنے اور سننے میں اس سے بھی زیادہ بھلی لگتی ہے اردوزبان کی شیرینی نے ہر جگہ اپنا منفرد مقام بنایا ہے ، جہاں جہاں بھی اردوزبان کو رکھا گیا وہاں وہاں اردونے اپنا دائرہ بہت وسیع کیا ہے اردوجب فلمی دنیا کے آنگن پہنچی اسے بہت زیادہ رنگ ڈھنگ دے کر سنوارا گیا تاکہ لوگ متوجہ ہوسکے اس توجہ میں سب سے زیادہ ضروری دل بہلائی ہونے لگی ہر کسی نے دل جوئی کے لیے  استعمال کر کے صنعت و حرفت کے لیے  ثبت کیا، جب فلمی دنیا میں فائدہ ہی فائدہ رہا تب اردوکو ہر کسی نے گلے لگایا۔

گلے لگانے کا مقصد ایک اور یہ بھی تھا کہ لوگ آسانی سے سمجھ بھی رہے تھے اور لطف اٹھا رہے تھے، پھر اس کی تاریخ شروع ہوگئی ۔اردوادب ہر دور میں ہمیشہ سے فلمی دنیا پر حاوی رہا۔ فلمی دنیا اور اردوادب کا تعلق نہایت گہرا، مضبوط اور تاریخی ہے ، جب ہندوستان میں بولتی فلموں (Talkies) کا آغاز ہوا تو مکالموں، گیتوں اور کہانیوں کی زبان کے طور پر اردوکو نمایاں مقام حاصل ہوا، اردوزبان کی شیرینی، شائستگی، جذبات نگاری اور ادبی حسن نے فلمی صنعت کو ایسی زبان عطا کی جس نے کروڑوں ناظرین کے دلوں میں گھر کر لیا ، فلمی گیت، مکالمے، کہانیاں اور اسکرین پلے سبھی میں اردوادب کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی سنیما کی ترقی میں اردوادیبوں، شاعروں اور نغمہ نگاروں کا کردار ناقابلِ   فراموش ہے۔

Sunday, October 25, 2026

مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر: ایک تجزیاتی مطالعہ


مولانا ابوالکلام آزاد اردو ادب کی ان ہمہ گیر شخصیات میں شامل ہیں جن کی نثر میں علم و دانش، فکری گہرائی اور اسلوب کی دل نشینی یکجا نظر آتی ہے۔ ان کی تصنیف غبارِ خاطر بظاہر خطوط کا مجموعہ ہے، لیکن اس میں زندگی، فلسفے، تاریخ، فطرت، موسیقی اور انسانی احساسات سے متعلق متنوع موضوعات پر دل چسپ گفتگو ملتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں طاہرہ خاتون نے غبارِ خاطر کے اہم موضوعات، فکری جہات اور ادبی خصوصیات کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا ہے۔
 طاہرہ خاتون(ریسرچ اسکالر)

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ تاریخی نام فیروز بخت، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ مولانا آزاد  ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز،تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔وہ اردو ادب میں ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ شاعر، ادیب، صحافی، عربی و فارسی کے جید عالم، مفکر ِ اسلام، مفسر  ِ قرآن، دانش ور اور سیاست دان کے طور پر ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی ان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

اردو ادب میں مولانا آزاد کے نمایاں کارناموں میں ان کی سیاسی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedomاور خطوط کے مجموعے غبارِ خاطر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غبارِ خاطر قلعہ احمد نگر میں قید کے دوران ان کے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ ۴۲ خطوط پر مشتمل ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے مضامین انشائیے کی شکل میں موجود ہیں۔ مولانا آزاد نے اس کتاب کا نام امیر عظمت اللہ   بے خبر بلگرامی کے مختصر رسالے غبارِ خاطر سے مستعار لیا۔غبارِ خاطر کے تمام خطوط کئی لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ ان میں مولانا آزاد کی ابتدائی زندگی، تعلیم، عادات و نفسیات، کردار اور ان کے شخصی ارتقا کے عوامل کی تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ خطوط اس نیت سے نہیں لکھے گئے تھے کہ انہیں شائع کیا جائے، لیکن رہائی کے بعد مولوی محمد اجمل خان کے اصرار پر ان خطوط کو مجموعے کی شکل میں۱۹۴۶ء میں شائع کیا گیا۔ بعد میں مالک رام نے مزید تحقیق کے ساتھ۱۹۶۷ء میں اسے دوبارہ شائع کیا۔

Saturday, October 24, 2026

ستیش بترا کی تصانیف پر ایک نظر


زیرِ نظر مضمون میں نور احمد ترمذی نے ستیش بترا کی ادبی زندگی، افسانہ نگاری اور مختلف تصانیف کا جائزہ پیش کیا ہے۔ مضمون میں ان کے اردو، ہندی اور انگریزی افسانوی مجموعوں، ناول اور سفرناموں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے فن کے نمایاں موضوعات، مثلاً تقسیمِ ہند کے اثرات، سماجی مسائل، انسانی رشتوں اور زندگی کے تلخ تجربات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ تحریر ستیش بترا کی ادبی خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

 نور احمد ترمذی(کالم نگار)

ادب کی تخلیق کے محرکات بھانت بھانت کے ہوتے ہیں۔ کسی کو شہرت چاہیے ، کسی کو ملازمت چاہیے  ، کسی کو پروموشن چاہیے ، کہیں مالی منفعت کا معاملہ ہوتا ہے تو کہیں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ شاد عظیم آبادی کا بیان ہے کہ ان کی شاعری کی وجہ سے بہت لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ مرزا غالب کو صفائی دینی پڑی کہ:   

سوپشت سے پیشہ  ٔ  آبا سپہ گری،

 کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے۔

 میرتقی میر ؔ کو  تا  عمر شکایت رہی : پرداخت میری ہو نہ سکی اک امیر سے ۔ مشتاق احمد یوسفی کا بیان ہے کہ ان کی قلم کاری ان کے لیے  مالی نقصان کا سبب بنی ۔ فیض احمد فیض اپنی شاعری کی وجہ سے مدتوں جیل میں بند رہے، کچھ ویسا ہی حال حبیب جالب کا بھی ہوا ۔ فہمیدہ ریاض کو اپنی تحریروں کی وجہ سے پاکستانی صدر ضیاء الحق کے عہد حکومت میں ہندوستان میں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ ضیاء الحق کے سفرِ آخرت کے بعد وہ پاکستان واپس گئیں۔ کلیم عاجز کی شاعری کا محرک  1946 ء  کا فرقہ وارانہ فساد ہے، ان کا پہلا مجموعہ  ٔ  کلام ’’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘‘ اسی جانکاہ حادثہ کی یادگار ہے۔ ان کی پوری شاعری اس درد کو بیان کرتی ہے۔ اور پہلے کی بات یاد کریں تو دکھ کے ساتھ بتانا پڑتا ہے کہ فرانسیسی قلم کار  والٹیئر  VOLTAIRE   کو  ان کی کتاب کینڈیڈ   CANDIDE  کی وجہ سے قید با مشقت کی سزا ہوئی۔ اسے ملک چھوڑنا پڑا، وہ پچیس سال کے بعد اپنے آبائی وطن فرانس کی زیارت کو پہنچا ، جہاں  1778ء  میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ کیو ں اور کیسے ؟ پتہ نہیں۔

Friday, October 23, 2026

ذکر کلیم، فکر کلیم


کلیم عاجز اردو غزل کے ان منفرد شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری ذاتی تجربات، انسانی کرب اور عہد کے المیوں سے جنم لیتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں غزالہ ہاشمی نے کلیم عاجز کی زندگی، ان کے شعری محرکات، مخصوص طرزِ اظہار، غنائیت اور فکری جہات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحریر قاری کو کلیم عاجز کی شاعری کے پس منظر اور اس کے اثرات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

غزالہ ہاشمی 

 شعرا کی بھیڑ میں اپنی مخصوص پہچان رکھنے والے شاعر کلیم عاجز کی تاریخ ولادت خود ان کے قول کے مطابق ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء ہے، سرٹیفکٹ میں دو سال قبل کی تاریخ لکھی ہے ۔ زندگی کے ابتدائی ایام صوبہ بہار کے موضع تلہاڑا ضلع پٹنہ ( اب ضلع نالندا ) میں گزرے ۔ یہ وہی تلہاڑا ہے جس کا ذکر بڑے کرب کے ساتھ شکیلہ اختر اپنے افسانوں میں کرتی ہیں ۔ شکیلہ کا افسانہ ’’آخری سہارا ‘‘ اسی موضع کو پیش کرتا ہے ۔ افسانہ آخری سہارا کی مرکزی کردار یاسمین فسادیوں سے اپنی عزت محفوظ رکھنے کی خاطر کنویں میں کود پڑتی ہے ۔ انسانیت کو رحم نہیں آیا۔ بھالا، برچھی ، اینٹ اور پتھر سے کنویں میں اس کی مدارات ہوئی ۔ انتہائی زخمی حالت میں اسے ریلیف کیمپ پہنچا دیا جاتا ہے لیکن کلیم کی امی جان بی بی امت الفاطمہ اورچھوٹی بہن رشیدہ بائولی میں پھینکی گئیں۔ وہی بائولی ان دونوں کی اور ان جیسے دیگر کئی لوگوں کی آخری آرام گاہ بن گئی ۔ یہی واقعہ وہ محرک یا   Stimulive  ہے جس نے کلیم کے فن کو خون سے سینچا ہے ۔ 

Thursday, October 22, 2026

The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives


The research article entitled “The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives” by Musheer Khan, Research Scholar, presents a comparative study of idiomatic expressions in Urdu, Hindi and English. It examines how cultural traditions, religious beliefs, geographical environments and political histories shape idioms and influence their meanings. The article also discusses the significance of idioms in translation, literary interpretation and intercultural communication.

 Musheer Khan, 

Research Scholar

Idioms are an integral part of every language because they represent the thoughts, beliefs, traditions, experiences and collective wisdom of a particular society. An idiom is a phrase whose meaning cannot always be understood from the literal meanings of its individual words. Idiomatic expressions make language more effective, expressive and culturally meaningful. They are commonly used in everyday communication, literature, media and social interaction to express emotions, ideas, humour and social attitudes in a concise and memorable manner.

Urdu, Hindi and English are three important languages with rich idiomatic traditions. Their idioms have developed under different historical, cultural, religious, geographical and political circumstances. Urdu idioms have been influenced by Persian and Arabic literary traditions as well as Indo-Islamic culture. They frequently contain elements of politeness, spirituality, emotion and poetic expression. Hindi idioms, on the other hand, are closely associated with Indian folk culture, rural life, agriculture, mythology, family relationships and traditional social values. English idioms have been influenced by Biblical traditions, maritime activities, industrialisation, commerce, sports, colonial history and modern urban life.

The purpose of this study is to examine similarities and differences among Urdu, Hindi and English idioms from cultural, religious, geographical and political perspectives. It explores how traditions, beliefs, environment, occupations, historical experiences and political circumstances have contributed to the formation and development of idiomatic expressions in the three languages. It also considers how idioms express cultural identity, social values and human experience.

Monday, October 19, 2026

ٖٖفراق گورکھپوری: ایک تعارف


زیرِ نظر مضمون میں ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری نے اردو کے ممتاز شاعر فراق گورکھپوری کی حیات، شخصیت اور ادبی خدمات کا تعارف پیش کیا ہے۔ مضمون میں فراق کی غزل گوئی، تحریکِ آزادی میں شرکت، ادبی اساتذہ، شعری مجموعوں، تنقیدی نظریات اور ادبی اعزازات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحریر فراق گورکھپوری کی شاعری اور اردو ادب میں ان کے مقام کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری ( اردو لکچرر)

؎شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

(فراقؔ)

اردو شاعری کی آبرو اگر غزل ہے تو غزل کے شعرا پر ہمیں ناز ہونا چاہیے۔خصوصاً جنھوں نے اردو غزل کو نیا انداز، نیا لب و لہجہ اور نئی قدروں سے رو شناس کرایاان میں ایک فراق گورکھپوری ہیںجن کی مقبولیت ان کی کتابوں کی اشاعت سے قبل ہو چکی تھی۔

فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ 28 اگست 1896 ء کو گورکھپور کے بانس گاوں میں پیدا ہوئے۔والد کا نام گورکھ پرشاد اور والدہ کا نام دلاری دیوی تھا۔والد گورکھ پرشاد پیشے سے ایک وکیل تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ فراق کے والدگورکھ پرشاد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔

Saturday, October 17, 2026

لوک گیتوں میںاردو:مارواڑ کے خصوصی حوالے سے


’’لوک گیتوں میں اردو: مارواڑ کے خصوصی حوالے سے‘‘
ڈاکٹر فخرالنساء بانو (صدر شعبۂ اردو، گورنمنٹ ڈونگر کالج، بیکانیر، راجستھان) کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں مارواڑ کے لوک گیتوں کی روایت، ان کی ادبی و ثقافتی اہمیت، عوامی جذبات، رسم و رواج، تہواروں اور راجستھانی معاشرت سے ان کے تعلق کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون لوک گیتوں کو تہذیبی ورثے اور اجتماعی زندگی کی ترجمانی کرنے والے اہم وسیلے کے طور پر دیکھتا ہے۔


 ڈاکٹر فخرالنساء بانو (صدر شعبہ اردو)

مارواڑی لوک گیتوں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اردو میں انہیں عوامی گیت کہا جاتا ہے۔ کونسا گیت کب وجود میں آیا، کونسا گیت کس نے لکھا اس کے شاعر کا نام کیا ہے۔ یہ علم کس کونہیں اور شاید کسی نے اس کی تلاش بھی نہیں کی ہیں حال ہندوستان کے تمام لوک گیتوں کا ہے۔ یہ گیت حالات اور ماحول کی کوکھ سے اپنے آپ ہی پیدا ہوئے اور عوامی دل وذہن کو متاثر کرنے کے بعد خود ہی پرورش پانے لگے۔ اور سینہ بہ سینہ ان کا سفر جاری رہا۔ ہمارے یہ لوک گیت صدیوں پرانی ہندوستانی تہذیب کے سچے محافظ ہیں۔حبیب خان گوران لوک گیتوں سے متعلق رقم طراز ہیں۔

’’مارواڑ ی لوک گیتوں کی تصوراتی دنیا بہت وسیع ہے۔ زندگی کا کونسا ایسا پہلو اور کونسا ایسا گوشہ ہے جس کا ذکر مارواڑ لوک گیتوں میں نہیں ملتا۔ انسان کی اپنی ذاتی زندگی اور اس کی مذہبی سوچ مارواڑ لوک گیتوں کے توسط سے نمایاں ہوتی ہے ۔ فطرت کا انسانی زندگی سے ناقابلِ تقسیم تعلق رہا ہے۔ انسان کی گودمیں پلا، کھیلا، رویا اور پنپا ہے۔ فطرت کی تلخیاں اور شیرینی خوبصورتی اور بدصورتی دونوں کا اثر انسان کی زندگی پر پڑتا ہے اس لیے فطرت اور انسان ایک دوسرے میںمدغم ہوچکے ہیں۔‘‘  ۱؎

Friday, October 16, 2026

شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ



’’شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ‘‘
ڈاکٹر صفیہ فاطمی (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں شاکر خلیق کی ادبی شخصیت اور ان کے شعری و نثری کارناموں کے مطالعے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ موضوع اردو ادب میں تخلیقی اظہار اور ادبی سرمایے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔

 ڈاکٹر صفیہ فاطمی(اسسٹنٹ پروفیسر )

 شاکر احمد یحییٰ کا سالِ پیدائش 1945 ہے ۔آبائی وطن دربھنگا ہے۔ امی جان کا نام صفیہ خاتون اور ابا محترم کا نام عبدالخالق خلیق ہے۔ اسی مناسبت سے شاکر احمد نے شاکر خلیق کے قلمی نام کو اختیار کیا۔ تعلیمی سند کے اعتبار سے وہ ڈبل ایم اے، بی ایل اور پی ایچ ڈی ہیں۔ کچھ دنوں تک پٹنہ ہائی کورٹ میں وکالت کی۔ سال 1971 ء میں سی ایم کالج دربھنگا میں تقرری ہوئی۔ متھلا یونیورسٹی دربھنگا کے صدر شعبہ اردو بنے۔ مورخہ 31/05/2005کو ریٹائرمنٹ ہوا۔ ان کی درج ذیل کتابیں میری نگاہ سے گزری ہیں۔

Thursday, October 15, 2026

ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب


’’ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب‘‘
ڈاکٹر محمد عابد کریم (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں ہندوستانی معاشرت میں مسلم تہذیب کی اہمیت اور اس کے سماجی و ثقافتی پہلوؤں کے مطالعے کی گنجائش پیش کی گئی ہے۔ یہ موضوع ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت اور مختلف ثقافتوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں معاون ہے۔

ڈاکٹر محمد عابد کریم (اسسٹنٹ پروفیسر )  
  ابتدائی چند صدیوں میں جو مسلمان باہر سے ہندستان آئے ۔ وہ چار طرح کے لوگ تھے۔ عرب تاجر، عرب فاتح، مبلغین اسلام اور ترک فاتح۔ مسلمان ہونے کے باوجود یہ چاروں گروہ الگ الگ خصوصیات اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ چناں چہ اپنی مخصوص صلاحیتوں کے اعتبار سے انھوں نے اس ملک کی مذہبی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی زندگی پر اثر ڈالا۔ اسلام میں مذہب کا دائرہ عقائدو عبادات میں محدود نہیں، وہ باہمی تعلقات، حقوق و فرائض اور معاشرت و تمدن پر حاوی ہے اور اس لیے  بھی کہ مذہب کو اگر تمدن و معاشرت سے، اور تمدن و معاشرت کو مذہب سے الگ کردیا جائے تو مذہب بے اثر، محدود اور کم زور اور تمدن و معاشرت شتر بے مہار اور خواہشات و مفادات کا آلہء کار بن جاتے ہیں۔

Wednesday, October 14, 2026

ملا وجہی بحیثیت فارسی شاعر


’’ملا وجہی بحیثیت فارسی شاعر‘‘
پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ملا وجہی کی ادبی شخصیت اور فارسی شاعری کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ان کے شعری رجحانات، فنی خصوصیات اور فارسی ادب سے وابستگی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

ہندوستان میںسرزمین دکن اپنی علمی ادبی اور تہذیبی شناخت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہورو معروف ہے۔ یہاں کے ا دباء شعراء ،  ناقدین اور محققین کی ایک طویل فہرست ہے جن میں میراں جی شمس العشاق، برہان الدین جانم، امین الدین علی اعلیٰ ، احمد گجراتی، ملااسداللہ وجہی،غواصی، ابن نشاطی، ہاشمی، نصرتی،اور خود شہنشاہ قلی قطب شاہ قابل ذکر ہیں ۔قلی قطب شاہ کو پہلا صاحب دیوان شاعرہونے کا شرف حاصل ہے ملا وجہی اس دربار کا ملک الشعراء تھا۔ملا اسداللہ وجہی کی پیدائش کے تعلق سے حتمی تاریخ کے بارے میں بتانا ممکن نہیں تا ہم بعض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ان کی تاریخ پیدائش کا سراغ ملتا ہے ان کی وفات کو بھی محققین نے سنہ کے ساتھ نہیں بتایا ہے مگر قرینے سے امکان کے قریب پہنچنے کی کوشش کی ہے اور بیشتر محققین نے اس کی ولادت ۹۷۳ھ بمطابق ۱۵۶۵ کو تسلیم کیا ہے ۔ملا وجہی کی ابتدائی تعلیم وتربیت میں روایتی تقاضوں کا پورا خیال رکھا گیا ۔علمی ذوق و شوق کی وجہ سے انہوں نے اپنی تعلیم پر خاص توجہ دی۔گھریلو ماحول اور اس وقت کی علمی وادبی فضا نے اس کے حصول علم کے لئے سونے پہ سہاگے کا کام کیا۔ان کی تصانیف سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں فارسی، عربی، اردو اور دکنی پر مکمل عبور حاصل تھا۔وجہی روح الامین کی سرپرستی میں گولکنڈہ دربارسے وابستہ ہوئے ملا وجہی کے فارسی دیوان میں روح الامین کا نام وہ انتہائی محبت و عقیدت سے لیتا ہے اور اس وقت کے بادشاہ محمد قلی قطب شاہ سے بھی اس کے تعلقات خوش گوار ہوتے چلے گئے۔یہ دوروجہی کی زندگی کا سب سے سنہرا دور تھااور اس زمانے میں سلطان وقت کے توجہ دلانے پر ہی انہوں نے دکنی اردو شاعری کی طرف توجہ کی۔یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ وجہی نے دربار سے وابستگی کے بعد سلطان محمد قلی قطب شاہ کی ترغیب پر دکنی شاعری کی شروعات کی اور اگر وجہی سطان قلی قطب شاہ کے قریب نہ ہوتا تو اس کو یہ شہرت میسرنہ ہوتی اور اس کا یہ دیوان، قطب مشتری اور سب رس کا وجود بھی عمل میں نہ آتا۔دکنی ادب میںجن شعراء و ادباء نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے ان میں ملا وجہی کا نام سر فہرست ہے اس کے فارسی اشعار کے مطالعے سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کی ولادت ہندوستان میں ہوئی البتہ اس کا آبائی وطن خراسان تھا۔ وجہی نے گولکنڈہ سلطنت کے چار بادشاہوں  ابراہیم قطب شاہ، محمد قلی قطب شاہ، محمد قطب شاہ اور عبداللہ قطب شاہ کا عہد دیکھا جن میں وہ محمد قلی قطب شاہ کا منظور نظر تھا رفتہ رفتہ ملا وجہی کی قدرو منزلت ملک الشعراء کے عہدے تک پہنچی۔ اس نے بھی اپنے سر پرست و مربی محمد قلی قطب شاہ کی طرح متعدد تخلص کا استعمال کیا ہے۔ڈاکٹر مہتاب جہاں اپنے مقالے’’ غالب دکن : ملا وجہی‘ ‘ میں ملا وجہی کا تعارف ان الفاظ میں کرتی ہیں ۔

اداریہ غرض رہی نہ کبھی منزلوں سے کوئی ہمیں

 اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جب قادرالکلام کا سفر شروع ہوا تو پیشِ نظر ایک ہی مقصد تھا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ، علمی و ادبی مباحث کے تسلسل اور اہلِ قلم و اہلِ ذوق کے درمیان ایک بامعنی ربط کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں ادب کی روایت بھی محفوظ رہے اور عہدِ حاضر کے فکری تقاضوں سے بھی مکالمہ قائم ہو۔ الحمدللہ، اس سفر کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے اور اب قادرالکلام جلد ۲، شمارہ ۱ کے ساتھ اپنے دوسرے سال میں داخل ہو رہا ہے۔آئی ایس ایس این نمبر کے ساتھ بین الاقوامی پیرریوڈ جنرل بن چکا ہے۔ 

 ایک سال کا یہ سفر ہمارے لیے محض اشاعت کے بارہ مراحل نہیں، بلکہ مسلسل سیکھنے، سوچنے، مشاورت کرنے اور بہتر سے بہتر پیش کرنے کی کوشش کا سفر ہے۔ اس دوران قلم کاروں، قارئین، مشاورتی بورڈ کے معزز ارکان اور تمام معاونین کی محبت، اعتماد اور رہنمائی ہمارے لیے حوصلے کا باعث رہی۔ ہم مشاورتی بورڈ کے تمام ارکان کے قیمتی مشوروں اور علمی تعاون کے تہہ دل سے ممنون ہیں، جنہوں نے قادرالکلام کے سفر کو فکری سمت دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔اس موقع پر ہم اپنے فارین ایڈیٹوریل بورڈ کے رکن، معروف اردو شاعر، ادیب اور صحافی مہتاب قدر (سید سرفراز علی)، سعودی عرب، کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جو جنوری ۲۰۲۶ء سے ہمارے بورڈ کا حصہ رہے اور جن کے قیمتی مشورے ہمارے لیے ہمیشہ مفید رہے۔ ان کا انتقال ۲۵ ستمبر ۲۰۲۶ء کو حیدرآباد، تلنگانہ میں ہوا۔ ہم ان کی ادبی خدمات اور وابستگی کو قدر و احترام سے یاد کرتے ہیں۔

 زیرِ نظر شمارہ اسی ایک سالہ سفر کا تسلسل اور نئے سال کا آغاز ہے۔ اس میں اردو و فارسی ادب، تہذیب، لوک ادب، جدید ادبی رجحانات، شخصیات، خطوط، سینما اور بچوں کے ادب جیسے متنوع موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔ پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی نے ملا وجہی کی فارسی شاعری، ڈاکٹر محمد عابد کریم نے ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب، ڈاکٹر صفیہ فاطمی نے شاکر خلیق کے شعری و نثری سرمایے اور ڈاکٹر فخرالنساء بانو نے مارواڑ کے لوک گیتوں میں اردو کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ شمارے میں ڈاکٹر واجدہ بیگم کا آن لائن ادب، ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری کا فراق گورکھپوری، غزالہ ہاشمی کا ذکر کلیم، فکر کلیم، نور احمد ترمذی کا ستیش بترا کی تصانیف پر جائزہ، طاہرہ خاتون کا غبارِ خاطر، سعدیہ فاطمہ کا سینما کے پردے پر اردو کا سفر، بشریٰ رحمن کا اقبال کی بچوں کے لیے نظموں کا جائزہ اور حامیم علی قادری کا کیف عظیم آبادی کے فلسفۂ زیست پر مضمون شامل ہے۔ اردو کے ساتھ دیگر زبانوں اور تہذیبوں کے باہمی رشتے کو سامنے لاتے ہوئے Musheer Khan کا انگریزی مضمون “The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives” بھی اس شمارے کا حصہ ہے۔ یوں یہ شمارہ موضوعات اور زاویۂ نظر کے اعتبار سے ایک متنوع ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ قادرالکلام کا سفر صرف مطبوعہ صفحات تک محدود نہیں۔ ہماری ویب سائٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز سے وابستہ تمام احباب، معاونین، قارئین اور خیر خواہوں کا بھی ہم خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ 

 اس ایک سال کی تکمیل کے موقع پر ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ قادرالکلام جنوری ۲۰۲۷ء میں ایک خصوصی بین الاقوامی شمارہ شائع کرنے جا رہا ہے، جس کا موضوع ہے: ’’معاصر عالمی افسانہ: مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے تناظر میں افسانوی ادب کا مطالعہ‘‘  “Contemporary World Fiction: A Study of Fiction Across Languages and Cultures”۔ اس خصوصی شمارے کے لیے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحقیقی و تنقیدی مقالات مطلوب ہیں۔ ہندوستان اور بیرونِ ملک کے ریسرچ اسکالرز، پروفیسرز، اساتذہ، اکادمکین اور ادبی محققین سے خصوصی گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس علمی کاوش کا حصہ بنیں اور اپنے معیاری تحقیقی و تنقیدی مقالات ارسال کرکے قادرالکلام کے اس خصوصی بین الاقوامی شمارے کو کامیاب بنائیں۔

 ایک سال مکمل ہوا ہے، مگر سفر جاری ہے۔ شاید اسی لیے ظفر اقبال کا یہ شعر ہمارے اس مرحلے کی بہترین ترجمانی کرتا ہے:

                 غرض رہی نہ کبھی منزلوں سے کوئی ہمیں

                    ہمیشہ اپنے ہی اندر سفر ہمارا ہوا

ڈاکٹر محمد کلیم محی الدین 

(مدیر اعزازی)


Wednesday, October 7, 2026

قادر الکلام کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


 

📢 تازہ شمارہ | قادرالکلام

ماہنامہ قادرالکلام کا اکتوبر ۲۰۲۶ء کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔
یہ شمارہ اردو و فارسی ادب، تہذیب، لوک ادب، جدید ادبی رجحانات، شخصیات، خطوط، سینما اور بچوں کے ادب جیسے متنوع موضوعات پر معیاری تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل ہے۔

📖 تازہ شمارہ آن لائن ملاحظہ کریں:
Qadar ul kalam Ocotber 2026

✍️ مضامین ارسال کریں

آپ کے تحقیقی، تنقیدی، ادبی اور تخلیقی مضامین کا خیرمقدم ہے۔
اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں معیاری مقالات ارسال کیے جا سکتے ہیں۔

📝 مضمون ارسال کرنے کے لیے:
Submit Your Article – Google Form

قادرالکلام — ادب، تحقیق اور علمی شعور کا معتبر پلیٹ فارم
ISSN: 3139-1028 | Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...