Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Friday, October 16, 2026

شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ



’’شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ‘‘
ڈاکٹر صفیہ فاطمی (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں شاکر خلیق کی ادبی شخصیت اور ان کے شعری و نثری کارناموں کے مطالعے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ موضوع اردو ادب میں تخلیقی اظہار اور ادبی سرمایے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔

 ڈاکٹر صفیہ فاطمی(اسسٹنٹ پروفیسر )

 شاکر احمد یحییٰ کا سالِ پیدائش 1945 ہے ۔آبائی وطن دربھنگا ہے۔ امی جان کا نام صفیہ خاتون اور ابا محترم کا نام عبدالخالق خلیق ہے۔ اسی مناسبت سے شاکر احمد نے شاکر خلیق کے قلمی نام کو اختیار کیا۔ تعلیمی سند کے اعتبار سے وہ ڈبل ایم اے، بی ایل اور پی ایچ ڈی ہیں۔ کچھ دنوں تک پٹنہ ہائی کورٹ میں وکالت کی۔ سال 1971 ء میں سی ایم کالج دربھنگا میں تقرری ہوئی۔ متھلا یونیورسٹی دربھنگا کے صدر شعبہ اردو بنے۔ مورخہ 31/05/2005کو ریٹائرمنٹ ہوا۔ ان کی درج ذیل کتابیں میری نگاہ سے گزری ہیں۔

حسین نوشہ توحید بلخی: حیات اور کارنامے 1993 ، ناشر ڈاکٹر شاکر خلیق 

احتسابِ جنوں ۔ شاعری 2021 ,ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 

اور اقِ پریشان۔ مضامین, 2020 ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 

احتساب جنوں کے پیش لفظ میں شاکر خلیق نے غزلوں کا انتخاب’’ اعترافِ جنوں‘‘ کی اشاعت 1994 کا ذکر کیا ہے ۔

اس شاعر کو جنون کی اہمیت معلوم ہے۔ انھوں  نے خود ہی ایسے اشعار کا جواز پیش کیا ہے ۔

جنوں ہے اپنی پونجی اور خرد ان کا خزانہ ہے 

جنوں کے راستے ہی چل کے منزل ہے ٹھکانہ ہے 

کبھی ہے اعتراف اس کا کبھی ہے احتساب اس کا 

جنوں کے حوصلے کا معترف دیکھو زمانہ ہے 

اساسِ فکر و فن پیوستہ در دشتِ جنونِ من 

یہی ہے خاندان اپنا یہی اپنا گھرانہ ہے

صحیفہ ہے جنوں کا ، ہولے ہولے سے ورق کھولو

اگر اشعار کے پردے میں کچھ لذت اٹھانا ہے

’’احتساب جنوں‘‘ میں پیش لفظ کے بعد حمد اور نعت پاک پر مشتمل اشعار تیرہ صفحات میں ہیں۔ شاعر نے اس حصے کو ’’توشہ آخرت‘‘ کا نام دیا ہے۔ عالمی فارسی شاعری میں حمد، مناجات اور دعا کے لیے الگ الگ طرز بیان ہے۔ حمد میں خالق کائنات کی تعریف ہوتی ہے۔ اس کا ذاتی نام ایک اور صفاتی نام انیک ہے۔ ان ہی ناموں سے وحدہ لا شریک لہ کی توصیف بیان کی جاتی ہے۔ مناجات میں اپنی خامیوں اور خطاؤں کا اعتراف ہوتا ہے۔ اپنی نا رسائی بھی اسی زمرہ میں شامل ہے۔ دعا میں کچھ یا بہت کچھ مانگا جاتا ہے۔ اردو میں تینوں خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ یعنی حمد، مناجات اور دعا کی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے اور تینوں کی ایک اجتماعی کیفیت بن جاتی ہے۔ شاکر خلیق کی اس کتاب میں پہلی نظم’’ مناجات‘‘ کے عنوان سے ہے۔

تو رحیم و کریم ہے مولا

تو قدیم و حلیم ہے مولا

تو ہمیں بامراد کر مولا

اپنے بندوں کو شاد کر مولا

روز محشر مرا حساب نہ کر

اور گناہوں کا احتساب نہ کر

کردے شاکر پہ رحمتوں کا نزول 

یہ مناجات ہو مری مقبول 

حمد کی صنف میں ایک اور نظم ہے جس کا عنوان ہے ’’یا اللہ ‘‘

سب تیرا ہے یا اللہ 

کیا میرا ہے یا اللہ

پھولوں کی خوش بو میں تو

رنگوں کے جادو میں تو

  اس کے بعد دس کی تعداد میں حمدیہ دوہے ہیں جس میں اردو، ہندی، میتھلی، انگیکا، بجّیکا اور مقامی بولی کی آمیزش ہے۔ پھر نعت پر مشتمل پانچ نظمیں ہیں۔

مدینے کی گلیوں میں جانے کی خواہش 

مراد اپنی اپنی بر آنے کی خواہش 

سو بات سے افضل ہے اک بات محمدؐ کی

کونین کی دولت ہے خیرات محمدؐ کی

صبح ازل جو نور خدا تھا آپ کے اوپر جلوہ نما تھا 

آپ تھے بس اور عرش عُلا تھا صلی اللہ علیہ وسلم 

شعری مجموعہ احتساب جنوں میں’’ احتساب جنوں‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کیا گیا ہے جس میں طویل یا مختصر سنتاون نظمیں ہیں۔ پہلی نظم کا نام’’ الوداع‘‘ ہے جس میں شاعر نے دنیا، علائقِ دنیا اور بہت کچھ کو الوداع کہنا چاہا ہے :

جب محبت کی تھیں کار فرمائیاں 

ہر قدم پہ ہمیشہ تھیں رسوائیاں 

تھیں بہت جاں گسل اس کی تنہائیاں 

لے کے کشتی چلا تب کوئی ناخدا 

الوداع الوداع الوداع الوداع 

ایک نظم ہے’’ مشورہ‘‘ جس میں سابقہ محبوبہ سے ملاقات اور چند شکوہ شکایتیں ہیں۔

تو مری محبت تھی تو مری تمنا تھی

میں بھی ان دنوں تیری خواہشوں کا مرکز تھا

زندگی کی الجھن سے یعنی دونوں بے پروا

خواب دیکھتے تھے ہم اپنی ایک منزل کا

آج ایک مدت پر سامنے جو آئی ہے

تجھ کو کچھ شکایت ہے مجھ کو کچھ شکایت ہے 

بزدلی تمھاری تھی بے بسی ہماری تھی

فرض و عشق کے اندر کش مکش ہی جاری تھی 

تشنہ لبی، درد ،ماضی کا افسوس اور مستقبل کا پروگرام نظم کے آخری بند میں پیش ہوا ہے۔

صرف اک یہی وعدہ آؤ آج ہم کرلیں 

ایک دوسرے کو ہم اب کبھی نہ بھولیں گے

ایک دوسرے کو ہم بس دلوں میں پوجیں گے

شاعر نے لاکھوں افراد کی نمائندگی اس نظم میں کر دی ہے۔ وقت کا پہیہ پیچھے نہیں گھومتا، جو گزر گیا اسے واپس لانا ممکن نہیں، پھر بھی ماضی کی محبت کو برقرار رکھنا اگر ہے تو صرف دل میں پوجنا ہے، محبوب کو، اس کے تصور کو… اور شاید اس سے آگے کچھ بھی نہیں  کیوں کہ وقت کا پہیہ پیچھے نہیں گھومتا۔

ملک کی تقسیم 1947 ء کے بعد پڑوسی ممالک سے ہمارا تنازعہ ہوا۔ انڈو چائنا  وار 1962 ء کی یاد اب تک باقی ہے۔ اسلحہ کے علاوہ نظریات کی بھی جنگ ہوئی جس میں اردو شعرا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جمیل مظہری کی نظم’’ بڑھے چلو‘‘ کافی  اثر انگیز ہے۔ شاکر خلیق کی نظم’’ خطاب بہ جوانانِ ہند‘‘ اسی زمانہ کی ہے۔

بڑھے چلو بہادرو چلے چلو بہادرو

ہے وقت امتحان کا 

ہمالیہ کی آن کو

قطب کی اس اڑان کو

بس ایک ہی خیال ہے

کہ بھارتی نشان کو

ہوا میں لہلہائیں گے

خوشی کے گیت گائیں گے 

چلے چلو بہادرو بڑھے چلو بہادرو

ہے وقت امتحان کا 

حبِّ وطن سے سرشار ایسی نظمیں دلوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔ولولہ اور تدبیر کے باوجود ہم جنگ ہار گئے اور قوم کا مرثیہ شنکرشیلیندر  نے لکھا ۔

اے میرے وطن کے لوگو

اس قبیل کی نظمیں ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ اردو شاعری میں ایسی نظموں کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کڑی میں شاکر خلیق کا تعاون قابل قدر ہے۔ احتساب جنوں کے اسی باب میں کئی کامیاب نظم موجود ہیں۔ ترانہ ملّی، پاسبان وطن، گرونانک کی یاد، پیام مشرق، ایکتا کا سبق اور ان جیسی نظمیں اردو شاعری کا بیش بہا سرمایہ ہیں۔

آزاد نظمیں کے باب میں دس نظمیں ہیں۔ پابند نظم اور آزاد نظم میں فرق ہوتا ہے۔ پابند نظم غزل کے ڈھانچے میں یا مثنوی کی شکل میں یا مثلث ،مربع، مخمس، مسدس، ترکیب بند یا ترجیع بند کے روپ میں پیش ہوتی ہے۔ آزاد نظم کی ساخت مختلف قسم کی ہوتی ہے۔ وزن اور بحر کی پابندی یہاں بھی ہوتی ہے پھر بھی ارکان کی تعداد برابر نہیں ہوتی۔ انگریزی میں اسے  Free Verse کہتے ہیں جو  Blank Verse سے مختلف ہے۔ اردو میں سردار جعفری، مخدوم محی الدین، پروین شاکر، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی اور ان کی طرح کئی شعرا نے آزاد نظم پیش کی ہے۔ اس کڑی میں شاکر خلیق کا سرمایہ بہت تھوڑا ہے پھر بھی ان نظموں میں موسیقیت کو برقرار رکھنے کا دھیان شاعر نے رکھا ہے۔ ان آزاد نظموں کے عنوانات ہیں  :

آواز جرس، سوال، عکس، مشورہ، یاد، گریز، ایک نظم، احتساب جنوں، لمحوں کی صلیب اور اے مری جان غزل۔

 نظم’’ اے مری جان غزل‘‘ میں رومان اور ترنم دونوں موجود ہے یہاں خطاب صرف اور صرف محبوب سے ہے۔ گلہ شکوہ ہے تو وہ بھی وہیں ہے۔

اے مری جان غزل 

رس بھرے ہونٹ ہیں تیرے کہ ہے شہتوت کا پھل 

جھیل میں جیسے کنول 

اے مری جان غزل

 پیار کے سانچے میں ڈھل

 آ ذرا سیر کو چل

 سج گئے دشت و جبل

 اے مری جان غزل

 فیصلہ ہے یہ اٹل 

یعنی پیغام اجل

 کیوں ہو پیشانی بہ بل

 اس نے جب یاد کیا 

مسکراتے ہوئے چل

 اے مری جان غزل 

نظم کی ابتدا اور انتہا دونوں کا انداز حسین ہے۔ دنیاوی زندگی، دنیاوی محبوب اور حقیقی محبوب کا پرکشش جلوہ اس نظم میں موجود ہے۔ اپنی پسند کے مطابق جس جلوہ کا یا جس کے جلوہ کا چاہیں، انتخاب کرلیں۔ بہتر ہے کہ اپنی سوچ کو وسیع سے وسیع تر رکھیں ۔

احتسابِ جنوں میں’’ گلدستہ تبریک ‘‘کے نام سے ایک باب ہے جس میں پینتالیس نظمیں ہیں۔ یہ ساری نظمیں مختلف مواقع کے لیے کہی گئیں۔ تعلیم، شادی، رخصتی، نئے مکان میں سکونت اور اسی طرح کی دیگر تقریبات کے موقع پر یہ نظمیں کہی گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان ساری نظموں میں مقصدیت نمایاں ہے پھر بھی شاعر نے مقصد کو فن کے زیر نگیں رکھا ہے۔ ’’گلدستۂ تبریک‘‘ میں ایک نظم’’ سمدھن نامہ‘‘ بھی ہے۔ اس قبیل کی نظم اردو شاعری کے ذخیرہ میں کم یاب ہے۔ شاعر نے سمدھن کا سراپا خوب صورت انداز میں لکھا ہے   ؎

شکر ہے مجھ کو ملی اب کے نرالی سمدھن

تھیں کبھی خود ہی بڑے ناز کی پالی سمدھن

شاخ نازک سے ہوئیں آم کی ڈالی سمدھن

بھینس کی طرح سے کرتی ہیں جگالی سمدھن

پیار کی ہانڈی میں رشتوں کی پکی ہے کھچڑی

پہلے بھابھی تھیں تو اب ہو گئیں سالی سمدھن 

اپ کے ہاتھوں ملے ہم کو بھی شربت کا گلاس

 اس میں زحمت ہو تو پھر چائے کی پیالی سمدھن 

ماں، بہن، بیوی، بیٹی، معشوقہ وغیرہ پر تو نظمیں مل جاتی ہیں، بے چاری سمدھن ہی محروم رہتی ہے۔ ان کی محرومی دور کرنے کی پہلی کوشش شاید نظیر اکبر آبادی نے کی، شاکر خلیق نے اس سلسلہ میں ایک کڑی کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ نظم بھی قابل تعریف اور سمدھن کی طرح پرکشش ہے۔

وفیات کے زمرے میں سات جوڑ اٹھارا  یعنی پچیس نظمیں ہیں۔جواہر لال نہرو، راجیو گاندھی، پروفیسر مطیع الرحمن، مجاہد الاسلام قاسمی، عطا کاکوی اور دیگر کئی لوگوں کی یاد میں نظم پیش کی گئی ہے۔مجاہد الاسلام کی شان میں لکھتے ہیں   ؎

ایک منور چراغ تھا ، نہ رہا 

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا 

علم و عرفان و آگہی کا وہ 

ایک ابلتا ایاغ تھا ، نہ رہا 

عطا کاکوی کے چہلم کے موقع پر لکھے گئے اشعار   ؎

یہ وہ در ہے جہاں سے علم کا سرچشمہ ابلا ہے 

ادب کا پیل تن بھی گر یہاں  آیا تو دبلا ہے

ہزاروں تشنگانِ علم یاں سیراب ہوتے تھے 

ادب کے غوطہ زن آ کر یہاں پایاب ہوتے تھے

دیارِ خلد میں استاد کی محفل سجی ہوگی

اور ان پر رحمتِ معبود کی چادر تنی ہوگی

ایسا نہیں کہ شاکر خلیق نے تعزیت کی صرف رسم نبھا دی ہو بل کہ یہاں بھی وہ اپنی شاعرانہ اہمیت کے ساتھ موجود ہیں جو کچھ لکھا، حقیقت سمجھ کر لکھا۔ قاری پر یہ نظمیں دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔

دنیا میں لوگ آتے رہتے ہیں تو جاتے بھی رہتے ہیں۔ جانے والوں کی یاد اکثر آتی رہتی ہے۔ صنعت توشیح کی قید والی تعزیتی نظمیں 18 کی تعداد میں ہیں۔ جناب محمود الرحمن، اظہار احمد، منصور عمر، کلیم عاجز، شمیم فاروقی، عثمان علی خان، پروفیسر فاراں شکوہ یزدانی، طارق جمیلی، نظام الدین امیر شریعت، ارشد جمیل، اویس احمد دوراں، جگن ناتھ مشرا، شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر ضیاء الرحمن، ولی رحمانی، ریاض عظیم آبادی، مناظر عاشق ہرگانوی اور سلطان اختر کے سانحۂ ارتحال پر لکھی گئی نظمیں درد میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

ریاض عظیم آبادی کا سفرِ آخرت مورخہ ۱۶؍اپریل۲۰۲۱ء کو ہوا۔ شاکر خلیق نے ان کی یاد میں جو نظم لکھی ہے اس میں صنعت تو شیح کا استعمال ہوا ہے ۔ہر شعر کے ابتدائی حروف کے جوڑنے سے  ر ی ا ض ع ظ ی م ا ب ا د ی   یعنی ریاض عظیم آبادی بن جاتا ہے۔ حالانکہ اس طرح کی صنعت مفید نہیں ہوتی۔ غیر واجب کو واجب قرار دینے سے غیر ضروری حد بندی ہو جاتی ہے جس وجہ سے تخیل کی پرواز میں کوتاہی ہو سکتی ہے۔

مورخہ ۲۵؍دسمبر۲۰۲۰ء کو شمس الرحمن فاروقی رخصت ہو گئے۔ ان کے سانحۂ ارتحال پر لکھی گئی نظم بھی صنعت توشیح میں ہے۔ سولہ اشعار کی اس نظم کے ہر شعر کے پہلے حرف ش م س ا ل ر ح م ا ن ف ا ر و ق ی کو جوڑنے سے شمس الرحمن فاروقی بنتا ہے۔توشیح کی خاطر سید ضیاء الرحمن کو سید ضیا و رحمن کرنا پڑا۔ اس غیر ضروری زحمت یعنی توشیح کی وجہ سے زور بیان کم ہو جانے کا خدشہ بنا رہتا ہے۔ متوفی کے نام میں جتنے حروف ہوتے ہیں اتنے اشعار لکھنے کی مجبوری ہو جاتی ہے۔ اکبر کے نو رتن میں ایک فیضی بھی تھا۔ علم و شعور و دانش و سیاست اور بہت ساری خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کو ایک سنک سوار ہوئی اور اس نے سواطع الالہام نام کی کتاب لکھ ڈالی۔ جو بے نقط تفسیر ہے قرآن پاک کی۔ فیضی کی اس کتاب سے کسی نے بھی فیض حاصل نہیں کیا۔ اگر فیضی نے لزوم مالا یلزم کو ترک کر دیا ہوتا تو یقینی طور پر سواطع الا لہام کی بھی افادیت رہتی۔ وہی حال شاکر خلیق کا بھی ہے۔ لزوم مالا یلزم کی وجہ سے ان کی نظموں کی قدر و قیمت کم ہو گئی ہے۔

کتاب کے نصف آخر میں غزلیات ہیں۔ جن کی تعداد 39 ہے۔’’ امریکہ کی غزلیں‘‘ نام کا ایک الگ باب ہے، جس میں 23   غزلیں ہیں۔ یعنی غزلیات کی مجموعی تعداد 62   ہو جاتی ہے۔ ان غزلوں میں عصری حسیت موجود ہے۔ نو سٹلجیا نہیں، مستقبلیت بھی نہیں، عمر خیام کی طرح’’ حال خوش باش و عمر برباد مکن‘‘ کے فارمولا کو شاکر خلیق نے اپنایا ہے۔ شکوہ، مشورہ، احتجاج یا اس طرح کا دوسرا انداز بھی غزل میں موجود ہے پھر بھی تغزل کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

حصار ذات سے باہر نکل کے بھی دیکھو 

کھلی فضاؤں میں کچھ دور چل کے بھی دیکھو

زمانہ دیکھ چکا تیری نفرتوں کا عروج 

کبھی تو پیار کے سانچے میں ڈھل کے بھی دیکھو 

جو اس کی رحمت کے ہو سوالی تو مانگنے کا سلیقہ سیکھو

 خزانۂ رب سے جیسے شاکر نے بے حساب و کتاب مانگا 

لطف کیا جینے کا پھر دشت جنوں میں ہوگا 

گھات میں بیٹھا اگر کوئی شکاری نہ رہے

وقت کی رفتار گرچہ تیز ہے 

حوصلے سے دل مرا لبریز ہے 

خیالات اچھے ہیں، قابل غور ہیں، سیدھے سادے ہیں، پھر بھی کبھی کبھی اتنے بلند ہو جاتے ہیں جہاں تک اردو کے اوسط معلم یا ناقد کی رسائی نہیں ہو پاتی ۔

ہم اپنی عقل پہ جتنا بھی آج ناز کریں 

ہمارا پہلا معلم رہا ہے ادنیٰ زاغ

اس معمولی نظر آنے والے شعر میں تلمیح بھی ہے، ایہام بھی ہے اور قرآنی علوم کی جانب حوالہ بھی۔ ہابیل کو قابیل نے قتل کیا تو دفن کا طریقہ زاغ نے سکھایا۔ ایک اور مفہوم ہو سکتا ہے۔

فکان قاب قوسین او ادنیٰ …… مازاغ البصر و ما طغیٰ (سورۃ النجم)

 شاکر خلیق کی غزلیں اتنی خوبیوں سے معمور ہیں پھر بھی ان کی غزلوں کی بہ نسبت ان کی نظموں کا مرتبہ بلند تر ہے ۔

شاکر صاحب کا فارسی کلام بھی قابل قدر ہے۔ زبان وہی کلاسیکل فارسی ہے جس کا استعمال سو دو سال سے لے کر ہزار سال قبل ہوتا تھا۔ ہم ہندوستانیوں کو موڈرن فارسی نہیں آتی ۔

زخم خوردن غم نہ کردن خوئے ماست 

منتشر ہرسو بہ بیں خوشبوئے ماست

کوہکن شو تا بر آید جوئے شیر

تازگیٔ برگ گل از جوئے ماست

نغمۂ نورستہ سازد سازِ دل

ایں سعادت دہر را از کوئے ماست

شاکرِ آشفتہ سر غوغا کند

ایں ہمہ رونق ز ہا و ہوئے ماست

وزن وہی ہے جو مثنوی معنوی مولوی یا مثنویات عطار میں یا اقبال کی کئی مثنویوں میں ہے۔ اس غزل سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاکر خلیق میں فارسی گوئی کی اچھی صلاحیت موجود تھی (لیکن قاری کو کہاں تلاش کریں گے)۔کتاب کے بالکل آخری حصے میں قطعات و رباعیات ہیں پھر شاعر نے انگریزی، ہندی اور میتھلی کلام پیش کیا ہے۔ جن کی تعداد نو ہے۔ جن میں کچھ تو شاعر کی اپنی تخلیق یا ترجمہ ہے۔ پانچ غزلوں کے انگریزی مترجم کا نام M.A. KARIMI لکھا ہوا ہے۔

شاکر صاحب کی شاعری کا سرمایہ مقدار میں زیادہ نہیں پھر بھی اہمیت میں زیادہ ہے۔ ان کا صرف ایک شعری مجموعہ  ’’احتساب جنوں‘‘ مجھ ناچیز کی نگاہوں سے گزرا۔ یہ مجموعہ اپنے عہد کی نمائندگی کرتا ہے۔ غزل، قطعہ، پابند نظم اور آزاد نظم میں اس شاعر نے طبع آزمائی ہے۔ معریٰ نظم بھی ہے۔ ان کی معریٰ اور آزاد نظموں سے زیادہ پراثر ان کی پابند نظمیں ہیں۔ مستقبل میں اردو ادب کا مورخ شاکر خلیق کو ایک شاعر کی حیثیت سے یاد رکھے گا۔

نثری کتاب’’ اور اقِ پریشاں ‘‘میں پیش لفظ کے بعد 39 مضامین اور سات شذرات ہیں۔ طویل یا مختصر مضامین میں ملت کالج، سرسید احمد، لسانی پالیسی، قومی یکجہتی، شعبہ اردو، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ، بہار کے تین قاسم، امیر شریعت، اجتبی ٰ رضوی، شفیع داؤدی، حیات اللہ انصاری، سہیل عظیم آبادی، وہاب اشرفی، محمدسالم، لطف الرحمن، تعلیم نسواں، غبار خاطر، شائق احمد یحییٰ، فلم انڈسٹری میں اردو، علی محمود کی افسانہ نگاری، طالب دربھنگوی، مولانا شمس الہدی، ڈاکٹر عبدالوہاب، ظہیر ناشاد، سید غلام ربانی، ابوالکلام آزاد اور MAITHIL MUSLIMSکا ذکر خصوصیت سے کیا گیا ہے۔ یہ کتاب چند یادداشت پر مشتمل ہے یا چند علمی اور اخلاقی بحث اس کتاب میں آگئی ہے۔ چند مضامین ادبی شخصیات پر بھی ہیں پھر بھی ان میں ادبیات کی بہ نسبت اخلاقیات کا ذکرزیادہ آگیا ہے۔ اجتبیٰ رضوی کے ذکر میں شاکر صاحب نے نظیری نیشاپوری کا ایک شعر نقل کیا ہے۔

چہ خوش است از دو یک دل سرِ حرف باز کردن 

سخنِ گزشتہ گفتن گلۂ دراز کردن

شاکر خلیق نے کچھ ایسی فضا بندی کر دی ہے کہ شعر ہی متحرک اور تہہ د ار محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کتاب یعنی ’’اوراقِ پریشاں‘‘ کو ادبی تنقید کا درجہ دینا مشکل ہے پھر بھی علم و ادب کی تعبیر، تفہیم اور تشریح کی راہیں اس کی کتاب سے کھلتی ہیں۔

Dr. Sufia Fatimee

Asst. Professor,M.R.M College 

Darbhanga, 846004, Bihar

Mob. 7763051364

***

اردو ادب کی ترقی میں شعری اور نثری تخلیقات کا مطالعہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شاکر خلیق کے ادبی سرمایے سے متعلق یہ مضمون قارئین کو ایک اہم ادبی موضوع کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جلد(۲) شمارہ (۱) اکتوبر2026

📚 مزید تحقیقی، تنقیدی اور ادبی مضامین کے لیے قادرالکلام ماہنامہ کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

🌐 https://www.qadirulkalam.com/

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...