Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Monday, October 26, 2026

سینما کے پردے پر اردوکا سفر


اردو زبان اور ہندوستانی سنیما کا رشتہ تاریخی، ادبی اور تہذیبی اہمیت رکھتا ہے۔ فلمی مکالموں، کہانیوں، اسکرین پلے اور نغموں میں اردو نے اپنی شیرینی، شائستگی اور جذباتی تاثیر سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ زیرِ نظر مضمون میں سعدیہ فاطمہ نے ہندوستانی سنیما میں اردو کے سفر، بولتی فلموں کے آغاز، اردو ادیبوں، شاعروں اور نغمہ نگاروں کی خدمات اور فلمی ادب کے تہذیبی اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحریر اردو زبان اور فلمی دنیا کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک دل چسپ کوشش ہے۔

 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

اردوزبان ایک ایسی زبان ہے جو ہر زبان کے ساتھ اپنی جگہ بنالیتی ہے یہ دل اور دماغ دونوں میں اپنا لوہا منوا لیتی ہے، اردوبولنے میں جتنی خوب صورت لگتی ہے پڑھنے لکھنے اور سننے میں اس سے بھی زیادہ بھلی لگتی ہے اردوزبان کی شیرینی نے ہر جگہ اپنا منفرد مقام بنایا ہے ، جہاں جہاں بھی اردوزبان کو رکھا گیا وہاں وہاں اردونے اپنا دائرہ بہت وسیع کیا ہے اردوجب فلمی دنیا کے آنگن پہنچی اسے بہت زیادہ رنگ ڈھنگ دے کر سنوارا گیا تاکہ لوگ متوجہ ہوسکے اس توجہ میں سب سے زیادہ ضروری دل بہلائی ہونے لگی ہر کسی نے دل جوئی کے لیے  استعمال کر کے صنعت و حرفت کے لیے  ثبت کیا، جب فلمی دنیا میں فائدہ ہی فائدہ رہا تب اردوکو ہر کسی نے گلے لگایا۔

گلے لگانے کا مقصد ایک اور یہ بھی تھا کہ لوگ آسانی سے سمجھ بھی رہے تھے اور لطف اٹھا رہے تھے، پھر اس کی تاریخ شروع ہوگئی ۔اردوادب ہر دور میں ہمیشہ سے فلمی دنیا پر حاوی رہا۔ فلمی دنیا اور اردوادب کا تعلق نہایت گہرا، مضبوط اور تاریخی ہے ، جب ہندوستان میں بولتی فلموں (Talkies) کا آغاز ہوا تو مکالموں، گیتوں اور کہانیوں کی زبان کے طور پر اردوکو نمایاں مقام حاصل ہوا، اردوزبان کی شیرینی، شائستگی، جذبات نگاری اور ادبی حسن نے فلمی صنعت کو ایسی زبان عطا کی جس نے کروڑوں ناظرین کے دلوں میں گھر کر لیا ، فلمی گیت، مکالمے، کہانیاں اور اسکرین پلے سبھی میں اردوادب کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی سنیما کی ترقی میں اردوادیبوں، شاعروں اور نغمہ نگاروں کا کردار ناقابلِ   فراموش ہے۔

ہندوستانی سنیما میں بولتی فلموں کا باقاعدہ آغاز 14 مارچ 1931ء کو اردشیر ایرانی کی فلم عالم آرا کی نمائش سے ہوا۔ اسے ہندوستان کی پہلی بولتی فلم (Talkie) قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ہندوستانی فلمی دنیا میں خاموش فلموں کا دور تھا اور فلمی کہانی اور مکالموں کو تحریری تختیوں کے ذریعے سمجھایا جاتا تھا۔ عالم آرا نے آواز، مکالمے اور گیت کو فلمی اظہار کا مستقل حصہ بنا دیا۔ فلم کی کہانی جوزف ڈیوڈ کے ایک پارسی تھیٹر ڈرامے سے ماخوذ تھی اور اس میں ماسٹر وٹھل، زبیدہ اور پرتھوی راج کپور نے اہم کردار ادا کیے۔ اردشیر ایرانی نے فلم میں ہندی اور اردو کے امتزاج کو اختیار کیا، جس کا مقصد اسے وسیع تر ناظرین تک پہنچانا تھا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد ہندوستانی سنیما میں بولتی فلموں کا ایک نیا دور شروع ہوا اور 1931ء ہی میں متعدد دوسری ٹاکیز بھی منظرِ عام پر آئیں۔ افسوس کہ عالم آرا کا مکمل پرنٹ آج دستیاب نہیں، اس لیے یہ فلم ہندوستانی فلمی تاریخ کے ساتھ ساتھ فلمی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کی بھی ایک مثال بن چکی ہے۔ 

ابتدائی فلموں کی کہانیوں میں عشق، قربانی، سماجی انصاف، اخلاقی اقدار اور انسانی جذبات کو پیش کیا جاتا تھا، جو اردوادب کے بنیادی موضوعات بھی ہیں ، اس طرح فلم اور ادب ایک دوسرے کے معاون بن گئے ۔

فلمی صنعت میں کئی نام ور اردوادیبوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ، ان میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، گلشن نندہ ، سلیم جاوید اور دیگر شامل ہیں ، ان ادیبوں نے فلمی کہانی، اسکرین پلے اور مکالمہ نگاری میں حقیقت نگاری، سماجی شعور اور ادبی حسن کو فروغ دیا ،ان کی تحریروں نے فلموں کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہنے دیا  بل کہ انہیں معاشرتی اصلاح، قومی یک جہتی اور انسانی اقدار کے فروغ کا مؤثر وسیلہ بنا دیا ،  ہندوستانی فلمی موسیقی کی کامیابی میں اردوشاعری کا بنیادی کردار رہا، فلمی گیتوں نے اردوشاعری کو گھر گھر پہنچایا،  غزل، نظم اور کلاسیکی شاعری کی خوبصورتی فلمی گیتوں کے ذریعے عوام تک پہنچی۔

نام ور نغمہ نگاروں میں ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، مجروح سلطان پوری، کیفی اعظمی، جان نثار اختر، حسرت جے پوری، خمار بارہ بنکوی، گلزار، جاوید اختر اور بشر نواز نے اپنی شاعری سے فلمی موسیقی کو لازوال بنا دیا ،ان شاعروں نے محبت، وطن دوستی، انسانیت، امن، سماجی انصاف، امید اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ، ساحر لدھیانوی کے گیت  ۔۔۔ 

* کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے ۔۔۔

* میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل میری کہانی ہے پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل میری جوانی ہے ....

* ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں ....

ساحر لدھیانوی نے اپنے گانوں سے مسحور کردیا تھا ، اسی طرح کیفی اعظمی نے ہندی فلموں کے لیے  بے شمار گیت لکھے ۔

* وقت نے کیا ،کیا حسین ستم ، تم رہے نہ تم، ہم رہے نہ ہم ....

* کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیوں اب تمھارے حوالے وطن ساتھی .....

*  تم جو مل گئے ہو یہ جہاں مل گیا ، ایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا ....

 لاجواب اردوتھی ، 

بشر نواز نے بازار فلم کے لیے گیت لکھے ہیں ۔ 

* کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی گزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گی ۔

 یہ چاند بیتے زمانوں کا آئینہ ہوگا، بھٹکتے ابر میں چہرہ کوئی دھواں ہوگا ۔ ....

بہت خوب لکھا ہے 

 گلزار نے بھی ہندی فلموں کو لازوال نغمے دیئے ہیں 

* ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوش بو پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو۔۔۔ 

* تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں شکوہ نہیں ....

*  لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا گھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑا .... 

* تم آگئے ہو نور آگیا ہے نہیں تو چراغوں سے لو جارہی تھی  .... 

  اس شاعری نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا ، اس کے علاوہ ہندوستانی فلموں کے یادگار مکالموں میں اردوزبان کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے ، قدیم فلموں کے مکالمے آج بھی اپنی ادبی حیثیت کی وجہ سے پسند کئے جاتے ہیں ، شائستہ اندازِ گفتگو، محاورات، ضرب الامثال اور ادبی تشبیہات نے فلمی مکالموں کو دائمی حیثیت عطا کی ، مغلِ اعظم، پاکیزہ، امراؤ جان، گرم ہوا ، شعلے اور دیگر کئی فلموں میں اردوزبان کی بہترین مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں ، جیسے پاکیزہ فلم کا مشہور ڈائیلاگ ۔....

’’ آپ کے پاؤں بہت حسین ہے انھیں زمین پر مت رکھیےگا ‘‘ 

* فلم شان کا ڈائیلاگ ’’ بازی وہی جیتتا ہے جو آخری چال تک ہمت نہیں ہارتا ‘‘

* مغل اعظم کا مشہور ڈائیلاگ  ....

 ’’  انار کلی! سلیم تجھے مرنے نہیں دے گا اور ہم تجھے جینے نہیں دیں گے‘‘

*  مقدر کا سکندر کا ڈائیلاگ ’’سکندر کبھی جھکتا نہیں ، حالات سے لڑنا جانتا ہے ‘‘

* شعلے فلم کی تو بات ہی کچھ اور تھی ہر ڈائیلاگ اردوکی بے مثال عکاسی تھی ، 

کتنے آدمی تھے ، 

جو ڈر گیا سمجھو مر گیا ، ارے او سانبھا! کتنا انعام رکھے ہیں سرکار نے ہم پر ، یہ ہاتھ مجھے دے دے ٹھاکر ،

 تیرا کیا ہوگا کالیا 

یہ سب ایسے ڈائیلاگ لکھے گئے تھے کہ ہر انسان کی زبان پر دہرائے جاتے ، متعدد فلمیں اردوکے افسانوں، ناولوں اور ڈراموں پر مبنی ہیں ،اس کے نتیجے میں قارئین ادب کی طرف متوجہ ہوئے ، فلموں نے ادبی تخلیقات کو عوامی سطح پر متعارف کرایا اور ادب کو نئی وسعت بخشی ، گلشن نندہ کی ناولوں پر کئی فلمیں بنی ہیں ۔

فلمی دنیا کلاسیکی غزلوں اور شعری روایت سے بھی متاثر ہیں، جس سے اردوشاعری کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ،اردوادیبوں نے فلموں کے ذریعے معاشرے کے اہم مسائل کو اجاگر کیا ،غربت، طبقاتی فرق، خواتین کے حقوق، مذہبی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور انسانی مساوات جیسے موضوعات فلموں میں مؤثر انداز میں پیش کیے گئے۔

خواجہ احمد عباس، کیفی اعظمی اور ساحر لدھیانوی جیسے اہلِ قلم نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی آواز بلند کی ،فلمی دنیا میں خواتین ادیباوں نے بھی خوب محنت کی ، عصمت چغتائی سمیت کئی خواتین ادیباؤں نے بھی فلمی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دیں ، انھوں نے خواتین کے مسائل، سماجی ناانصافی اور انسانی حقوق کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ،ان کی کہانیوں نے فلمی دنیا میں حقیقت نگاری کو فروغ دیا، عصمت چغتائی نے فلموں میں محض تفریحی کہانیاں نہیں لکھیں بل کہ عورت، محبت، سماجی نابرابری، استحصال، طبقاتی فرق، خاندانی مسائل اور جیسے موضوعات کو بھی فلمی کہانی کا حصہ بنایا۔

فلموں کی مقبولیت میں اردوزبان کا کردار بہت گہرا ہے ،فلمی گیتوں اور مکالموں نے اردوزبان کو پوری دنیا میں مقبول بنایا ، برصغیر سے باہر بھی اردوالفاظ، اشعار اور فلمی نغمے پسند کئے جاتے ہیں ، فلموں کے ذریعے نئی نسل کو اردوزبان سے دل چسپی پیدا ہوئی ۔

آج بھی اگر چہ فلموں کی زبان میں تبدیلی آئی ہے، لیکن بہترین مکالموں، شاعری اور گیتوں میں اردوکی اہمیت برقرار ہے ، جدید فلموں میں گلزار اور جاوید اختر جیسے قلم کار اردوکی ادبی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ، ویب سیریز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی معیاری اردومکالمے اور شاعری اپنی جگہ بنا رہے ہیں ،فلمی دنیا اور اردوادب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ، اردوادب نے فلموں کو خوب صورت زبان، مؤثر مکالمے، لازوال گیت اور معیاری کہانیاں عطا کیں، جب کہ فلموں نے اردوادب کو عوامی سطح پر مقبولیت، وسعت اور دوام بخشا ، اگر اردوادب نہ ہوتا تو ہندوستانی سنیما کی ادبی اور تہذیبی شناخت اتنی مضبوط نہ ہوتی ، مستقبل میں بھی ضروری ہے کہ فلمی دنیا اردوزبان و ادب کی اس عظیم روایت کو برقرار رکھے تاکہ نئی نسل اپنی ادبی اور ثقافتی میراث سے وابستہ رہے اور اردوکو زندہ رکھے ۔

اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والے 

مجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والے

ہندوستانی سنیما کے سفر کا جائزہ لیا جائے تو اردو زبان اور اردو ادب نے فلمی اظہار کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اردو نے فلموں کو صرف مکالموں کی زبان ہی نہیں دی بلکہ کہانی، اسکرین پلے، گیت، غزل، منظر نگاری اور جذباتی اظہار کو بھی ایک مؤثر ادبی اسلوب عطا کیا۔ بولتی فلموں کے آغاز کے بعد اردو اور ہندی کے باہمی امتزاج نے ایسی فلمی زبان کو فروغ دیا جسے مختلف علاقوں کے ناظرین آسانی سے سمجھ سکتے تھے۔ بعد کے ادوار میں اردو کے ادیبوں، شاعروں، مکالمہ نگاروں اور نغمہ نگاروں نے فلمی دنیا کے ذریعے محبت، سماجی انصاف، انسانی اقدار، طبقاتی فرق، عورت کے مسائل اور قومی یک جہتی جیسے موضوعات کو عوام تک پہنچایا۔ اس طرح سنیما نے اردو ادب کو وسیع تر عوامی حلقوں تک پہنچانے میں مدد دی اور اردو ادب نے سنیما کو زبان، تہذیب، شاعری اور فکری گہرائی عطا کی۔ یہی باہمی رشتہ ہندوستانی سنیما کی ادبی اور تہذیبی روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔

***

Urdu on the Silver Screen: The Journey of Urdu in Indian Cinema

Sadiya fatema  Abdul  Khaleque 

Nackles Road Gulzar Bagh Galli No 06 

opposite Amber School 

NANDED 431604-Maharashtra 

sadiyafatemakhan@gmail.com 

 اردو ادب اور ہندوستانی سنیما کا باہمی تعلق زبان، شاعری، تہذیب اور انسانی جذبات کی ایک مشترکہ داستان ہے۔ اردو نے فلمی دنیا کو دل کش مکالمے، خوب صورت نغمے اور ادبی گہرائی عطا کی، جب کہ سنیما نے اردو زبان و ادب کو وسیع تر عوامی حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سعدیہ فاطمہ کا یہ مضمون اردو کے اسی تہذیبی اور ادبی سفر کو نمایاں کرتا ہے۔

📚 اردو زبان و ادب سے متعلق مزید علمی، ادبی اور تحقیقی مضامین پڑھنے کے لیے:

🌐 https://www.qadirulkalam.com/

قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)
ISSN: 3139-1028

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...