’’ملا وجہی بحیثیت فارسی شاعر‘‘ پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ملا وجہی کی ادبی شخصیت اور فارسی شاعری کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ان کے شعری رجحانات، فنی خصوصیات اور فارسی ادب سے وابستگی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
ہندوستان میںسرزمین دکن اپنی علمی ادبی اور تہذیبی شناخت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہورو معروف ہے۔ یہاں کے ا دباء شعراء ، ناقدین اور محققین کی ایک طویل فہرست ہے جن میں میراں جی شمس العشاق، برہان الدین جانم، امین الدین علی اعلیٰ ، احمد گجراتی، ملااسداللہ وجہی،غواصی، ابن نشاطی، ہاشمی، نصرتی،اور خود شہنشاہ قلی قطب شاہ قابل ذکر ہیں ۔قلی قطب شاہ کو پہلا صاحب دیوان شاعرہونے کا شرف حاصل ہے ملا وجہی اس دربار کا ملک الشعراء تھا۔ملا اسداللہ وجہی کی پیدائش کے تعلق سے حتمی تاریخ کے بارے میں بتانا ممکن نہیں تا ہم بعض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ان کی تاریخ پیدائش کا سراغ ملتا ہے ان کی وفات کو بھی محققین نے سنہ کے ساتھ نہیں بتایا ہے مگر قرینے سے امکان کے قریب پہنچنے کی کوشش کی ہے اور بیشتر محققین نے اس کی ولادت ۹۷۳ھ بمطابق ۱۵۶۵ کو تسلیم کیا ہے ۔ملا وجہی کی ابتدائی تعلیم وتربیت میں روایتی تقاضوں کا پورا خیال رکھا گیا ۔علمی ذوق و شوق کی وجہ سے انہوں نے اپنی تعلیم پر خاص توجہ دی۔گھریلو ماحول اور اس وقت کی علمی وادبی فضا نے اس کے حصول علم کے لئے سونے پہ سہاگے کا کام کیا۔ان کی تصانیف سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں فارسی، عربی، اردو اور دکنی پر مکمل عبور حاصل تھا۔وجہی روح الامین کی سرپرستی میں گولکنڈہ دربارسے وابستہ ہوئے ملا وجہی کے فارسی دیوان میں روح الامین کا نام وہ انتہائی محبت و عقیدت سے لیتا ہے اور اس وقت کے بادشاہ محمد قلی قطب شاہ سے بھی اس کے تعلقات خوش گوار ہوتے چلے گئے۔یہ دوروجہی کی زندگی کا سب سے سنہرا دور تھااور اس زمانے میں سلطان وقت کے توجہ دلانے پر ہی انہوں نے دکنی اردو شاعری کی طرف توجہ کی۔یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ وجہی نے دربار سے وابستگی کے بعد سلطان محمد قلی قطب شاہ کی ترغیب پر دکنی شاعری کی شروعات کی اور اگر وجہی سطان قلی قطب شاہ کے قریب نہ ہوتا تو اس کو یہ شہرت میسرنہ ہوتی اور اس کا یہ دیوان، قطب مشتری اور سب رس کا وجود بھی عمل میں نہ آتا۔دکنی ادب میںجن شعراء و ادباء نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے ان میں ملا وجہی کا نام سر فہرست ہے اس کے فارسی اشعار کے مطالعے سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کی ولادت ہندوستان میں ہوئی البتہ اس کا آبائی وطن خراسان تھا۔ وجہی نے گولکنڈہ سلطنت کے چار بادشاہوں ابراہیم قطب شاہ، محمد قلی قطب شاہ، محمد قطب شاہ اور عبداللہ قطب شاہ کا عہد دیکھا جن میں وہ محمد قلی قطب شاہ کا منظور نظر تھا رفتہ رفتہ ملا وجہی کی قدرو منزلت ملک الشعراء کے عہدے تک پہنچی۔ اس نے بھی اپنے سر پرست و مربی محمد قلی قطب شاہ کی طرح متعدد تخلص کا استعمال کیا ہے۔ڈاکٹر مہتاب جہاں اپنے مقالے’’ غالب دکن : ملا وجہی‘ ‘ میں ملا وجہی کا تعارف ان الفاظ میں کرتی ہیں ۔
’’دربارہ این شاعر برجستہ اطلاعات زیادی از آثار وی در تذکرہ ھای آن دورہ بدست نمی رسد۔ ولی طبق آثار اردو وجھی وی در حدود ۵۲ا۔۱۵۵۱م چشم بہ جھان گشود و اسمش اسد اللہ و تخلص وجیہ بود۔ و این تخلص را بہ چندین نوع اختیار کردہ و در قطب مشتری مثنویست بہ زبان اردو جای رقم شدہ مثلا وجھی وجیھہ ،وجیھا، وجیھی، وجہ، در دیوان فارسی وی ھم بر نظر می آید۔ این شاعر گرانقدر در دنیای زبان و ادب اردو بہ نام ملا وجھی شھرہ دارد۔ ولی متاسفانہ در جھان فارسی معروف نیست‘‘۔
ملا اسداللہ وجہی نے بیک وقت نثر و نظم کو ادبی ، علمی حسن سے آراستہ و پیراستہ کیا ہے اردو و فارسی دیوان کے علاوہ اس کے دو ادبی شاہکاربہت معروف و مشہور ہیں جسے ادبی دنیا سب رس اور قطب مشتری کے نام سے جانتی ہے۔سب رس فارسی قصہ حسن و دل کا اردوترجمہ ہے اور قطب مشتری قدیم اردو زبان میں مثنوی کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتی ہے۔یہ مثنوی علمی و ادبی کارنامے کے ساتھ ایسی تاریخ بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو قطب شاہی دور کی تہذیب و ثقافت کے دریچے کو وا کرتی ہے قطب شاہی دور حکو مت کا آغازسلطان قلی قطب شاہ سے ہوا اور اس کا آخری تاجدار ابوالحسن تانا شاہ تھا جس نے ۱۰۹۸ ھ تک قطب شاہی دور کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔قطب شاہی دور کو اردو زبان وادب کے اعتبار سے ایک زرین عہدکہا جا سکتاہے جس کے روح رواں ملا وجہی ہیں۔ ان کی شاہ کار تصانیف سب رس اور قطب مشتری اسی دور کی یاد گار ہیں۔
قطب مشتری مختلف شخصیات کے ذریعے متعدد بارمرتب کی گئی ہے اس کا پہلا ایڈیشن بابائے اردو مولوی عبدالحق کے ذریعے ۱۹۳۹ء میں انجمن اردو ترقی ہند کی جانب سے منظر عام پر آیا، ایک عرصہ کے بعد پروفیسر وہاب اشرفی نے ۱۹۷۷ء میں اسے دوبارہ مرتب کیا۔ ڈاکٹر طیب انصاری نے ۱۹۸۹ء میں، محترمہ ڈاکٹر حمیرا جلیلی نے ۱۹۹۲ء میں اور م،ن سعید نے ۲۰۱۷ ء میں اس کتاب کو مرتب کیا ہے۔ قطب مشتری کے بر عکس وجہی کافارسی دیوان ابھی بھی صرف سالار جنگ لائبریری کی زینت ہے ۔ قطب مشتری کوبارہا شائع ہونے کا شرف حاصل ہے جس سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ملا وجہی نے نہ صرف اردو ، فارسی اور دکنی زبان میں شاعری کی ہے بلکہ شاعری کے اصول وضوابط اور شاعر کے اوصاف کی بھی نشاندہی کی ہے۔انھوںنے سب سے پہلے فارسی میں شعر گوئی کی جبکہ انہیں دکنی اور اردو زبان پر بھی مکمل عبور حاصل تھا ۔چوں کہ ان کے آباء واجداد کا تعلق خراسان سے تھا جہاں کی زبان فارسی تھی اور فارسی ہی میں بات چیت اور دفتری امور بھی انجام دیے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے فارسی کو ملا وجہی کی مادری زبان ہونے کا شرف حاصل ہے چنانچہ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز اسی زبان سے کیا۔ وجہی کے اردو دیوان کے علاوہ مثنوی سیما و پری رخ کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن یہ نادرالوجود ہیں۔ ملا وجہی کی جو تصانیف دستیاب ہیں ان پر تحقیقات بھی ہوئی ہیں۔ سب رس ان کا نثری شاہکار ہے جسے دکنی اردو نثر کا سب سے بڑا کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے۔یہ کتاب ۱۰۴۵ھ مطابق ۱۶۳۶ء میں سلطان عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر لکھی گئی جسے مولوی عبدالحق نے سب سے پہلے انجمن ترقی اردو اورنگ آباد سے شائع کیاتھا۔سب رس کی اہمیت مسلم ہے،جس میں سب سے پہلے دکنی اردو نثر کا اسلوب ملتا ہے۔اس کی تمثیلی اہمیت کو نقادوں، ادیبوں اور محققین نے تسلیم کیا ہے۔تاج الحقائق کے تعلق سے محققین کی آراء مختلف ہیں یہ کتاب ملاوجہی کی ہے یا نہیں یہ ابھی بھی تحقیق طلب ہے۔دکنی زبان میں ان کی شاہکار مثنوی قطب مشتری ہے جسے ۱۰۱۸ھ مطابق ۱۶۰۹ء میں تحریر کیا گیاتھا۔مثنوی کے اختتام پر مصنف نے اشعار کے ذریعے تاریخ تصنیف بھی بیان کردی ہے۔
تمام اس کیا دیس بارا منے سنہ یک ہزار ہور اٹھارا منے
قطب مشتری گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اس کتاب میںمصنف نے بادشاہ وقت کی فرضی داستان عشق قلم بند کی ہے۔ اس مثنوی کی خاص بات یہ ہے کہ درمیان میں ان کی اردو ، دکنی غزلیں اور رباعیات بھی ملتی ہیں ۔ انہوں نے جدت پیدا کرنے کی ایک خوبصورت کوشش کی ہے جس کی وجہ سے مثنوی کا حسن دوبالاہوگیا ہے۔ سب رس کا شمار نثری شاہکاروں میں ہوتا ہے جبکہ قطب مشتری کو دکنی شاعری میں خاص اہمیت حاصل ہے ۔اس کا ایک دیوان اردو زبان میں بھی ہے جو ابھی ناپیدہے، ڈاکٹرمحی الدین قادری زور نے اپنی تصنیف دکنی ادب کی تایخ صفحہ ۷۱ پر وجہی کے اردو دیوان کے نہ ملنے کا افسوس کرتے ہوئے اس کے فارسی دیوان کا ذکر کیا ہے۔ وہؔ لکھتے
’’افسوس ہے کہ وجہی کی اردو کلیات اب تک دستیاب نہیں ہوئی ہے البتہ فارسی دیوان موجود ہے‘‘۔
ملا وجہی کی فارسی شاعری کا دیوان اب تک کی معلومات اور تحقیقات کے مطابق پوری دنیا میں صرف ایک ہے جو سالار جنگ لائبریری میں موجود ہے ۔ پروفیسر م،ن سعید نے قطب مشتری،ــ’’ تحسین و تخمین‘‘ کے نام سے جو کتاب ترتیب دی ہے اس میں انہوں نے ملاوجہی کے دیوان فارسی کے بارے میں صفحہ ۴۱پر لکھا ہے کہ :
’’اب تک کی معلومات کے مطابق وجہی کے فارسی دیوان کا ایک ہی نسخہ دستیاب ہواہے جو کتب خانہء سالار جنگ حیدرآباد میں محفوظ ہے اور دیوان وجیہہ کے نام سے موسوم ہے۔۲۵۳ صفحات کا یہ دیوان ناقص الطرفین ہے۔اس میں قریب قریب چار ہزار اشعار ہیں۔ اس میں غزلیات کا حصہ بہت بڑاہے۔ اس کے علاوہ ۵۲ رباعیات چند قطعات و معمات اور ایک قصیدہ بھی ملتا ہے ۔وجہی کے فارسی دیوان کی ایک اہمیت یہ ہے کہ وہ واحد ماٰخذ ہے جس سے اس کی حیات کے اکثر واقعات پر روشنی پڑتی ہے۔ دکنی اردو کی طرح اس کی فارسی شعر گوئی بھی مسلم ہے ۔ اس کی دکنی اردو تصانیف میں جس اعتماد اور یقین کا اظہار ملتاہیـ‘فارسی دیوان بھی اس سے خالی نہیں ۔اختر حسین کہتے ہیں۔’’وجہی کے فارسی کلام کا انتخاب کیا جائے تو ندرت فکر اور طرز ادا کے کچھ ایسے انمول موتی بھی ہاتھ آسکتے ہیں جنہیں فارسی شاعری کا ایک بیش قیمت خزانہ کہا جاسکتا ہے ‘‘۔
یہ فارسی کا واحد دیوان ناقص الطرفین ہے جس کے بہت سے اشعار کرم خوردہ ہیں۔اس نسخہ وحید کا مختصر ومدلل تعارف پروفیسر چندر شیکھر’ آشوب دل ‘کے صفحہ ۱۰ پر اس طرح کرتے ہیں:
’’این دیوان بار اول توسط استاد اختر حسن در حیدرآباد معترفی گردید۔تنھانسخئہ خطی دیوان فارسی وجیھہ یا وجیھی کہ ضمن آن اشارہ ای بالا بتذکر رفتہ است درموزئہ سارلا جنگ حیدرآباد تحت شمارئہ ۵۱۱ A\NMمحفوظ و مضبوط است۔طبق فہرست نگار فہرست موزئہ سالار جنگ (ج ۵)، این نسخہء ناقص از آغازوآخر دارای غزلیات بہ ترتیب الف بایی ورباعیات و قطعات و قصاید می باشد این نسخہ بہ خط نستعلیق خوش مربوط سدئہ یازدھم ھجری است بعضی اوراق این نسخہ کرم خوردہ و بعضی جا کاغذ ش در رفتہ است و خو استار صحافت و باز سازی می باشد:اندازئہ ۲۴/۱۵×۱۳/۲۴سانتی متریا ء× ۵/۹اینچ و جمیع اوراق۱۷۱‘‘۔
دیوان وجہی یہ واحد مخطوطہ (نسخۂ وحید)ہے۔ اس فارسی دیوان میں تقریباً چار ہزار اشعار ہیں جس میں غزلیات کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔۵۲ رباعیات، چند قطعے اور ایک قصیدہ بھی ہے ۔ملااسداللہ وجہی کی فارسی دیوان کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ ان کی حیات و زندگی سے متعلق سب سے اہم ماٰخذ بھی ہے۔ اس فارسی دیوان کے مطالعہ و مشاہدہ سے وجہی کی زندگی کوبآسانی سمجھا جا سکتاہے۔وجہی کا اصلی نام اسداللہ تھا جبکہ اس نے تخلص کے طور پر وجہی، وجیہ اور وجیہی استعمال کیا ہے ۔ڈاکٹر محمد جمال شریف اپنی کتاب، ’’دکن میں اردو شاعری ولی سے پہلے‘‘ کے صفحہ ۲۳۳ پر رقم کرتے ہیں:
’’اسم اسداللہ وجیہہ است تخلص آرایش دکانچہ بازار کلام است‘‘
فارسی میں بھی وجہی نے متعدد بار مختلف وجہی۔وجیہہ۔وجیہی تخلص استعمال کیا ہے۔ وجہی کا نام اسداللہ تھا نہ کہ صرف ملا وجہی یا مولانا وجہی یا وجیہ الدین جیسا کہ محققین متفق ہیں۔آشوب دل کے صفحہ ۷ پر’’ این شاعر گرامی‘‘ کے عنوان سے پروفیسر چندر شیکھر وجہی کے نام اوراس کے تخلص کے متعلق وضاحت فرماتے ہیںکہ:
’’کہ در دنیای زبان وادب اردو بہ نام ملاًوجھی معروف است متأسفانہ در جھان فارسی در اغفال و چشم پوشی قرار دارد تخلص خود رابہ چندین نوع مرقوم کرد این عبارت است از وجھی،وجیھہ ، وجیھا، وجیھی و وجہ۔ھمہ این تخلص در دیوان فارسی وی و قطب مشتری کہ مثنویست بہ زبان اردو متذکر می باشد۔در این دیوان اغلب از تخلص وجیھہ استفادہ نمودہ است ، می گوید :
شرمندئہ بتانم ازین بی زردی وجیھہ کس حال من بہ شاہ دکن گفت یا نگفت
البتہ ذکر تخلص ھای دیگر ھم بچشم می خورد:
وجیھی سخن ھای دروغ چند را عزت چہ خواھد بود وجیھی شاعری مگزارو فکر کار دیگر کن وجہ
دھان وجہ پر از خونست جام می چہ خورم کجاست میل بعشرت خراب ماتم را
ملاوجہی کے آباء واجداد کی زبان فارسی تھی اور پہلے پہل انہوں نے فارسی میں ہی شاعری کی تھی۔ فارسی شاعری میں تکنیکی ، ہئیتی اور صنعتوں کے اعتبار سے بھی ان کی شاعری معیاری ہے ۔پروفیسر چندر شیکھر سابق صدر شعبئہ فارسی دہلی یونیورسٹی دہلی نے ۱۹۹۸ء میں آشوب دل کے عنوان سے دیوان وجہی کا انتخاب شائع کیا تھا جس میں چند غزلیں ، رباعیات ، قطعات اور ایک قصیدہ شامل ہے جس کے مقدمہ میں انہوں نے و جہی کی طرز شاعری اور سبک شعرکو شیوئہ شعر کے عنوان سے صفحہ پندرہ پر اس طرح بیان کیاہے:
’’وجھی حلقہ ای است بین سبک عراقی وسبک ھندی، سبک عراقی کہ یکی از ویژ گیھای آن یاس و غصہ و غم و جدائی و نامیدی می باشدوسبک ھندی کہ نماد و صال و خوشحالی و خوش سامانی است در شعر وجھی باھم بہ نظر می رسد۔شعروی بین سبک عراقی وسبک ہندی یک رشتئہ مترکب و مربوط است کہ حلقہ وار ھر دو رابہ یک زنجیرہ متوسل می کنند از این حلقہ ھائی گمگشتہ یکی دیوان ملاً وجھی است۔شعری وی درزمان خود صدای باز گشت خسرو وحافظ بود و این شیوہ وجھی را مقام بر جستہ در زمان خود دادہ بود۔ خودش می گوید:
وجیھی نادر است امروز در شعر بیارم گفتمش گفتار گفت آر
پروفیسر چندرشیکھر نے دیوان وجہی معروف بہ ملا وجہی کے انتخاب کو جو’ آشوب دل ‘کے نام سے شائع کیا ہے اس دیوان کے بارے میں ’ شایان ذکر‘کے عنوان سے صفحہ ۱۷ پرلکھتے ہیں:
’’شایان ذکر،واعتراف این حقیقت بسیار ضروری است کہ در کتابخانہ،شخصی آقائی سید محمد یونس جعفری، استاد اسبق دانشکدہ ذاکر حسین دانشگاہ دہلی، علاوہ بر کتاب ھائی نفیس و پرارزش نسخہء دستنویس دیوان فارسی ملاوجہی راھم زیارت کردم،این نسخہء دستنویس بہ قلم استاد ارجمند و سترگ شاد ر وان آقائی دکتر ستیا پرکاش(جاوید وششت)نگارش یافتہ بود۔ استاد شادر وان این نسخۂ مزبورم رابہ نام زندہ باد۔استاد باگوت سروپ، استادالاساتذہ فارسی دانشگاہ دہلی معنون کردہ است ۔
ملا وجہی نہ صرف دکن کابلکہ فارسی دنیا کا بھی ایک عظیم شاعر تھا جس کے آباء واجداد کی سرزمین خراسان تھی اور وہ خراسان کا ذکر اسی طرح کرتا ہے جس طرح حافظ وسعدی شیراز کا ذکر اپنی شاعری میں کرتے ہیں جیسا کہ وہ خود کہتا ہے:
من زہند آشکار گشتم لیک طبع پاک من از خراسان است
خراسان کا ذکر وہ اپنے اشعار میں انتہائی عقید ت و محبت سے کرتا ہے جیساکہ اس شعر میں وہ دکن اور خراسان دونوں کا احاطہ اس طرح کرتا ہے:
بیا دیوان پر فیض مرا سوئے خراساں بر
کہ از گلبانگ شعر خویش شہرت در دکن دارم
حافظ ہی کی طرح وجہی بھی اپنے آباء و اجداد کے ملک کوعزیز تر رکھتا ہے اور اپنے علم و فن کو اسی کی مرہون منت سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ندرت بھرے اشعار اگر شیراز و خراسان پہنچ جائیں تو ا س کی بھی دھوم مچ جائے گی:
دیدہ گرمی بود بر روئی تو حیران می شدم جمع گرمی داشتم خاطر پریشان میشدم
دست میکشم اگر بر شاخ غنچہ بشگفت گل اگر می یافتم در باغ دامان میشدم
فتنہ ام سر تابہ پاو دلبر بیایم مو بمو در جہان گر آدمی می بود شیطان میشدم
شعر نادر معنی ام می رفت در شیر از اگر
ہم چو حافظ شہرئہ ملک خراساں میشدم
ملا وجہی اسی طرح خراسان کا ذکر ایک غزل میںکرتا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
عاشق روی نگاری بگلستان چہ غرض
کافر عشق بیانم بسلمان چہ غرض
چو پری ھست چرایادرخ حور کنم من کہ در ھند نشستم بخراسان چہ غرض
دردلم درھمہ بزمگہ راست گشت منت این حکیمانہ چیست بدرمان چہ غرض
چوں پری ہست چر ا یاد رخ حور کنم؟
من کہ در ہند نشتم بخراساںچہ غرض
حافظ شیرازی کی طرح وہ اپنے اشعار کو انتہائی تقدس بھرا کہتا ہے جیسا کہ حافظ کہتے ہیں کہ
نہ دیدم خوشتر از شعر تو حافظ
بہ قرآنی کہ تو درسینہ داری
اسی طرح وجہی کہتا ہے کہ میرے اشعار قرآنی رموز و نکات سے مالامال ہیں ۔ ایک ایک حرف ہزاروں کتابوں کے مترادف ہے۔
گفتہ ام معنی ٔ ہمہ قرآن حرفم اسرار صد ہزار کتاب ملا اسد اللہ وجہی کے یہاں عرفی اور حافظ کی طرح سے عظمت کاا عتراف بھی ملتا ہے وہ نہ خود دیگر شعراء سے اپنا موازنہ کرتاہے بلکہ خود کودر پردہ ممتاز بھی گردانتا ہے ، چند شعر ملاحظہ ہو:
نے ہم حسن یافت وجیہی نے چو خسرو نقش غزل تازہ ٔ خود طرز دگر است
وجیہ جائے تو بالائے دست خاقانی ست کہ زیر حرف نوشتن خطا بود مدرا
پختگی ہائے شعر خاقانی ست در سخن ہائے نیم خام وجیہہ
ملا وجہی نے شاعری کے اصول و ضوابط اور رموز نکات کو بھی واضح کیا ہے ،جس میں سلاست ، روانی ، تشبیہ و استعارات ، ربط کلام ، لفظ و معانی کا باہمی تعلق تزئین کلا م اور جمالیاتی حس کو لازم قرار دیتا ہے۔اس کی نظر میں شعر کی اولین ربط کلام ہے، وہ شعر میں اسے اساسی اہمیت دیتا ہے وہ کہتا ہیکہ جس کلام میں معنوی ربط اور تسلسل خیال کا فقدان ہو وہ شعر معیاری نہیں ہوسکتا۔ شعر کی دوسری خوبی لفظ و معانی کی مکمل ہم آہنگی ہے ۔ شعر کی ایک خوبی میں انہوں نے کفایت لفظی کو بھی اہم کہا ہے۔وہ کہتا ہیکہ اچھے شعر کی پہچان یہ ہیکہ وہ قلیل لفظی اور کثیر معانی ہو۔اس طرح شاعری کی ان تمام اوصاف کو اپنے شعر میں برتتا ہوا خود کوممتاز کرتاہے کبھی وہ اپنے شعر کو ستاروں سے مثال دیتا ہے کبھی در سفتی کہتا ہے کبھی لب خوباں سے نازک تر گردانتا ہے۔مثال کے طورپر جیساکہ حافظ شیرازی کہتے ہیں:
غزل گفتی و در سفتی بیا و خوش بخوان حافظ کہ بر نظم تو افشاند فلک عقد سریا را
ملاوجہی کہتا ہے:
شعر گفتی بلکہ در سفتی ھمہ لیکن وجیہ
کار باید کرد کزوی سیم وزر پیداشود
اپنے شعر کی تعریف کرتے ہوئے وہ خود کہتا ہے :
بلند تر از سخن من سخن نمی باشد سکندر سخنم بستم از سخن صدرا
اپنی شاعری کو وہ دلکش اور بہتر کہتے ہوئے کہتا ہیکہ :
فسون شاعری و طبع دلکش تو بود
زیاد گر از کس وجہ کم ہم نیست
اپنی شاعری کی مزید تعریف کرتے ہوئے وہ صرف سخن دلکش ہی نہیں بلکہ گوہر بے بہا اور نایاب بھی سمجھتا ہے ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں:
سخن دلکش وجیھی ما گوہر بی بہا نایابست
وہ اپنے مضامین کو نو بنوع قرار دیتا ہے اور دوسروں سے موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے:
نہم چوں حس یافت وجیھی نہ چو خرد نقش غزل تازہ خود طرز دگریست
اسی عنوان کو ایک دوسرے شعر میں اس طرح کہتا ہے کہ:
شاعری کہ تازدی باید کہ در دل جا کند شاعران این زمان خوش کھنہ مضمون بستہ اند
اپنے شعر کی فصاحت و بلاغت اور نزاکت پر وہ اتنا نازاں ہیکہ اسے محبوب کے لب سے بھی نازک تر قراردیتا ہے:
وجیھہ شعر تو نازک تر از لب خوبان است ببرگ لالہ قسم شہ بسند خواھی شد
وہ اپنے شعر میں دلکشی اور دلنوازی کی بھی تعریف کرتا ہے :
آن دلنواز بیتی ما ناز خواندہ آمد از شعر تو وجیھی غزلی شنیدہ باشد
اپنے صاحب دیوان ہونے کا اعتراف ان الفاظ میں کرتا ہے:
کس نہ شد در عر صئہ ملک سخن ھمتای ما تادر وقت و سپہ سالار این میدان شدیم
از خیال روی موی آن پیکر وجیھہ شعر ھا گفتم و آخر صاحب دیوان شدیم
وہ اپنے شعر میں تاثیر مسیحائی کابھی دعویٰ کرتا ہے:
بمردہ گر کرم بازش وجہی زندگہ گردانم
من آں مارم کہ تاثیر مسیحا در دھن دارم
چندشعر اور ملاحظہ ہوں جس میں وہ اپنی عظمت اور شعری برتری کا دعویٰ کرتا ہے:
(۱) شعر خوش چون چراغ افروزد مضبئش شعلہ روغن است سخن
ھمہ کار از سخن بدست آید سر ھر علم ھر فن تر است سخن
(۲) لذت شعر تو بکام رسید ھم عجم وصف ھم عرب کردہ
(۳) جھان مغنی و ملک سخن وجود دلست وجیھہ جان کہ باشد کتاب یعنی چہ
(۴) بر زبان تو سخن شمع آلیست وجیھہ گہ چو خورشید فلک شھرہ عالم شدہ
ملا وجہی نے زندگی کے نشیب و فراز دیکھے بہت خوشحال زندگی گزاری تر دامنی اور تنگ دامنی کا شکار بھی ہوئے ۔جس کا ذکر اس کے فارسی دیوان کے غزلیات اور رباعیات میں جا بجا پا یا جاتا ہے جب اس کی شاہانہ زندگی تھی تب وہ کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا۔دبدئہ شہنشاہی اور شوکت شاہی ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کو ہیچ سمجھتا تھا اور کہتا تھا :
در کار جھان کو ش جانست ھمہ ھیچ
فارغ زجھان شوکہ ھمانست ھمہ ھیچ
از بہر بدونیک کم و بیش میندیش شادی و غم وسود و زیانست ھمہ ھیچ
دردست کس این رشتہ مقصود نیاید اندیشۂ آنموئی میانست ھمہ ھیچ
دیدیم جفا ھا و ندیدیم و فاشی
این آرزوئی وصل تباھست ھمہ ھیچ
در خدمت سلطان مفگن شحنہ دل را
کین دبدبہ و شوکت و شانست ھمہ ھیچ
لیکن بہت جلد حالات میں تبدیلی آئی اور اس کے سر پرست کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اس پر مصیبت آن پڑی اور آلام روزگارشکار ہوا اور اس کی مصیبت سننے والا کوئی نہ رہا، جس میں وہ اپنی بے چارگی ، مجبوری اور لاچارگی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
گو ش کس نداردبر فسانہ ما کہ شد از انصاف درزمانہ ما
دام افگندہ است صیادی از بر خواست ز آشیانہ ما
بی نیاز ست مرغ بازوی او بر نکند سیل اشک دانہ ما
در برم آفتاب می ندید آسمانی شدہ است خانہ ما
اور جب ملاوجہی کے حالات ابتر ہوئے ، کسمپرسی کا عالم ہو اتو انہوں نے صبر کی تلقین اپنی شاعری کے ذریعے کچھ یوں کی:
یار می آید ببر لیکن بہ صبر زھر خواھد شد شکر لیکن بہ صبر
در دل معدن زفیض آفتاب سنگ میگردد و گھر لیکن بہ صبر
خوار اگر گشتی بعزت میرسی خاک خواہد گشت زر لیکن بہ صبر
ای پسر در فض میگوشی بگوش میشوی ھمچوں پدر لیکن بہ صبر
صاحب این خانہ بندہ نواز میگشاید بر تو در لیکن بہ صبر
عیب داری سر بسر اماوجیہ
عیب تو گردد ہنر لیکن بہ صبر
ملاوجہی جب درباری سیاست اور سازش کا شکار ہو ا اور مالی بحران میں مبتلا ہوا تب اس نے شکایت کرنی شروع کی لوگوں نے بلاوجہ بادشاہ کو میرے مخالف کردیا اور میں آلام روزگار کا شکار ہوا ایک دن یہ سازش بے نقاب ہوگی اور میں بے گناہ ثابت ہوں گا۔اس کا ذکر انہوں نے اپنی ایک غزل میں یوں کیا ہے:
عبث از من جدا کردہ است دشمن بادشاھم را گنہ از اوست کوناحق بشہ گفت این گناھم را
بگوش شہ رسانیدہ است جرمی راکہ لایق نیست پناہ خویش می سازد باین حیلہ پناھم را
ملا وجہی کو جب ملک الشعراء سے ہٹایا گیا اور دربار میں بھی اس کی کوئی وقعت نہ رہی تو اس کے لئے ایک وظیفہ مقرر کردیا گیالیکن چوں کہ دربار سے علیحدہ ہوچکا تھا اس لئے دربار کے ذمہ داران اس کے وظیفے میں تاخیر اور ٹال مٹول کرتے تھے جس سے وہ سخت پریشان تھا اورکہتا تھا کہ اگر میں ہلاک ہوا تو اس کی ذمہ داری میر جملہ ، وزیر اعظم سوری رائو کے سر جائے گی ۔کیوں کہ نہ ہی مجھے وظیفہ دیا جارہاہے اور نا ہی کوئی جواب، وہ کہتا ہے:
خون من صرف گردن رائو است زیر چرم است استخواں باری
خواستم حق خود ، جواب نہ داد چہ بگوید کسے بہ دیوارے
سوری رائو سے وہ بہت ہی پریشان تھا ایک جگہ در مذمت سوری رائو کے عنوان سے لکھتا ہے:
وعدہ می دہد مرا ھر روز کہ بآن وعدہ ی سرست نہ پائو
باوجدی کہ داد پیش سوگنہ بہر جزوی خود بخون کارد
چیز ھایش دروغ می چاود من ھم اورا گزاشتم کہ بجائو
عہد قطب شاہی کی دکنی تہذیب ،تاریخ، معیشت، معاشرت، سیاست، نظم و نسق، دکن کی مختلف زبان اور ادبیات، اس دور میںفروغ پانے والی اعلیٰ اخلاقی روایات اور انسانی اقدار کے مختلف پہلوئوں پر وجہی نے روشنی ڈالی ہے۔ اور اس کی شاعری پورے دور کے معاصر دستاویزات ، تاریخ اور تاریخی اثرات کو منور کرتی ہے جس کا مطالعہ ومشاہدہ سے نئی نسل کو اس عہد کے بیش بہا ورثے سے آگہی اور بصیرت حاصل ہوسکے گی۔ ملا وجہی کی تمام تصنیفات میں فارسی دیوان کو جوتاریخی اہمیت حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔وجہی کا یہ فارسی دیوان اب تک محققین اور اسکالرس کی دسترس سے باہر ہونے کی وجہ سے تدوین واشاعت سے پرے تھا۔جسے اب منظر عام پہ لانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ یہ تاریخی دستاویزاور علمی سرمایہ نئی نسل تک پہنچ سکے۔چوں کہ یہ نسخئہ وحید ہے اور یہ دیوان انتہائی بوسیدہ اورکرم خوردہ ہے۔ جس کے مختلف اشعاراور متعدد اوراق ناقابل قرأت ہیں اس لئے نسخٔہ خطی کو پڑھنے اور سمجھنے کے لئے ماہرمخطوطہ شناس کی ضرورت پڑی جس کے لئے ماہر مخطوطات ڈاکٹر آزاد حسین کی خدمت لی گئی ہے۔
من مطاع در سرای اھل فن آوردہ ام غوطہ در دریای دل خوردہ سخن آوردہ ام
شعر را باصد ہنر شیرین ز شکر گفتہ ام طوطیان را آب حسرت در دھن آوردہ ام
٭٭٭
پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
سابق ڈائریکٹر،مرکزمطالعات اردو ثقافت،
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد
جلد(2) شمارہ (1) اکتوبر 2026 ملا وجہی کی فارسی شاعری کا مطالعہ ان کی ادبی شخصیت کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسے ہی تحقیقی، تنقیدی اور ادبی مضامین کے مطالعے کے لیے قادرالکلام ماہنامہ کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
🌐 https://www.qadirulkalam.com/
قادرالکلام ماہنامہ — اردو و فارسی ادب، تحقیق اور تنقید کے لیے ایک علمی پلیٹ فارم۔

No comments:
Post a Comment