مولانا ابوالکلام آزاد اردو ادب کی ان ہمہ گیر شخصیات میں شامل ہیں جن کی نثر میں علم و دانش، فکری گہرائی اور اسلوب کی دل نشینی یکجا نظر آتی ہے۔ ان کی تصنیف غبارِ خاطر بظاہر خطوط کا مجموعہ ہے، لیکن اس میں زندگی، فلسفے، تاریخ، فطرت، موسیقی اور انسانی احساسات سے متعلق متنوع موضوعات پر دل چسپ گفتگو ملتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں طاہرہ خاتون نے غبارِ خاطر کے اہم موضوعات، فکری جہات اور ادبی خصوصیات کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا ہے۔
طاہرہ خاتون(ریسرچ اسکالر)
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ تاریخی نام فیروز بخت، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ مولانا آزاد ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز،تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔وہ اردو ادب میں ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ شاعر، ادیب، صحافی، عربی و فارسی کے جید عالم، مفکر ِ اسلام، مفسر ِ قرآن، دانش ور اور سیاست دان کے طور پر ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی ان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
اردو ادب میں مولانا آزاد کے نمایاں کارناموں میں ان کی سیاسی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedomاور خطوط کے مجموعے غبارِ خاطر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غبارِ خاطر قلعہ احمد نگر میں قید کے دوران ان کے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ ۴۲ خطوط پر مشتمل ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے مضامین انشائیے کی شکل میں موجود ہیں۔ مولانا آزاد نے اس کتاب کا نام امیر عظمت اللہ بے خبر بلگرامی کے مختصر رسالے غبارِ خاطر سے مستعار لیا۔غبارِ خاطر کے تمام خطوط کئی لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ ان میں مولانا آزاد کی ابتدائی زندگی، تعلیم، عادات و نفسیات، کردار اور ان کے شخصی ارتقا کے عوامل کی تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ خطوط اس نیت سے نہیں لکھے گئے تھے کہ انہیں شائع کیا جائے، لیکن رہائی کے بعد مولوی محمد اجمل خان کے اصرار پر ان خطوط کو مجموعے کی شکل میں۱۹۴۶ء میں شائع کیا گیا۔ بعد میں مالک رام نے مزید تحقیق کے ساتھ۱۹۶۷ء میں اسے دوبارہ شائع کیا۔
مولانا آزاد نے سیاست میں بھی اہم خدمات انجام دیا۔ ۸ اگست ۱۹۴۲ء کو انڈین نیشنل کانگریس کے ایک خاص اجلاس میں ’’ہندوستان چھوڑو تحریک‘‘کی قرارداد منظور کی گئی، جس کے بعد انگریزوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن جدوجہد شروع ہوئی۔ اس وقت مولانا آزاد کانگریس کے صدر تھے۔ ۹ اگست۱۹۴۲ء کی صبح انگریز حکومت نے کانگریس کے تمام بڑے لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔ مولانا آزاد اور ان کے کچھ ساتھیوں کو احمد نگر کے قلعے میں قید رکھا گیا اور یہ قید تقریباً تین سال تک جاری رہی۔۱ اپریل۱۹۴۵ ء میں انہیں احمد نگر سے بانکوڑا جیل بھیج دیا گیا، جہاں سے۱۵ جون۱۹۴۵ء کو انہیں رہا کر دیا گیا۔ غبارِ خاطر کے زیادہ تر خط اسی قید کے زمانے میں لکھے گئے، جب کہ اس کتاب کے پہلے تین خط رہائی کے بعد تحریر کیے گئے۔ غبارِ خاطر مولانا آزاد کی وہ آخری کتاب ہے جو ان کی زندگی میں شائع ہوئی۔ یوں تو یہ خطوط کا مجموعہ ہے، لیکن حقیقت میں اس میں اصل خط کم اور الگ الگ موضوعات پر لکھے گئے مضامین زیادہ ہیں، جنھیں خط کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ ان تحریروں کے پیچھے مولانا کے ذاتی جذبات اور خیالات کا الگ، خوبصورت رنگ نظر آتا ہے، جو اردو ادب کا بہت قیمتی سرمایہ ہے۔
غبارِ خاطر میں موجود پہلے خط کی تاریخ۲۷ جون۱۹۴۵ء ہے۔ اس کے علاوہ رہائی کے بعد بعض مکاتیب نواب صدریار جنگ حبیب الرحمن خان شیروانی کے نام لکھے گئے تھے۔ دوسرا خط ۲۴ اگست۱۹۴۵ء کا ہے، جس میں سری نگر میں ہاؤس بوٹ پر گزارے گئے وقت کا ذکر ہے۔ مولانا آزاد نے یہ سفر اپنی صحت کی خرابی کی وجہ سے کیا تھا، تاکہ کچھ سکون حاصل کر سکیں۔ وہ اپنی صحت کی کمزوری اور اس کی بحالی کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’زندگی کے بازار میں جنسِ مقاصد کی بہت سی جستجوئیں کی تھیں۔ لیکن اب ایک نئی متاع کی جستجو میں مبتلا ہو گیا ہوں، یعنی اپنی کھوئی ہوئی تندرستی ڈھونڈھ رہا ہوں۔‘‘(غبارِ خاطر، صفحہ۳۸)
تیسرا خط (۳ ستمبر۱۹۴۵ء: نسیم باغ سری نگر)
مولانا آزاد نے اس خط میں اپنے ابتدائی قید و بند کی داستان بیان کی ہے۔ وہ انسانی زندگی میں وقت کی عارضی حیثیت اور اس کے گزرنے کی کیفیت پر غور کرتے ہیں۔ قید کے تین سال ہوں یا تین دن، دونوں کو وہ ایک خاص نظر سے دیکھتے ہیں۔ انسان جب کسی مشکل وقت سے گزر رہا ہوتا ہے تو اس کی شدت پہاڑ جیسی لگتی ہے، لیکن وقت گزر جانے کے بعد وہ ایک لمحہ بھر کی یاد معلوم ہوتی ہے۔ مولانا کے الفاظ میں وقت کی بے ثباتی اور انسانی صبر و برداشت کا فلسفہ جھلکتا ہے۔
’’غور کیجیے تو انسان کی زندگی اور اس کے احساسات کا بھی عجیب حال ہے۔ تین برس کی مدت ہوں یا تین دن کی، مگر جب گزرنے پر آتی ہے تو گزر ہی جاتی ہے۔ گزرنے سے پہلے سوچتے تو حیرانی ہوتی ہے کہ یہ پہاڑ سی مدت کیوں کر کٹے گی؟ گزرنے کے بعد سوچتے تو تعجب ہوتا کہ جو کچھ گزر چکا وہ چند لمحوں سے زیادہ نہ تھا۔‘‘(ایضاً صفحہ نمبر۴۲)
غبارِ خاطر کا چوتھا خط ۳ اگست۲۹۴۲ء (بمبئی میل) کے گرفتاری سے پہلے کا ہے جو ۹ ۔ اگست کی گرفتاری کی وجہ سے بھیجا نہ جا سکا، جس کا ذکر پہلے مکتوب میں اشارہ کیا گیا ہے۔
پانچواں خط( ۱۰ اگست۱۹۴۲ء: داستانِ ستون و کوہ کن)
اس خط میں مولانا آزاد نے احمد نگر قلعے کی تعمیر کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ دکن کی بہمنی حکومت کے زوال کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح ملک احمد نظام الملک بھیری نے آزادی کا علم بلند کیا اور احمد نگر کو اپنی حکومت کا مرکز بنایا۔ یہ خط تاریخ کے گہرے مطالعے اور قلعوں کی سیاسی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ مولانا تاریخ کو صرف ماضی کا ذکر نہیں سمجھتے بلکہ اسے حال کی تعمیر اور مستقبل کی رہنمائی کا ذریعہ گردانتے ہیں۔
’’پندرہویں صدی مسیحی کے اواخر میں جب دکن کی بہمنی حکومت کمزور پڑ گئی تو ملک احمد نظام الملک بھیری نے علم استقلال بلند کیا اور بھینگر کے قریب احمد نگر قلعہ کی بنیاد ڈال کر جنیر کی جگہ اسے حاکم نشین شہر بنایا۔ اُس وقت سے نظام شاہی مملکت کا دارالحکومت یہی مقام بن گیا۔‘‘(ایضاً صفحہ نمبر ۵۷)
نواں خط (۲۷ اگست۱۹۴۲ء: حکایت بادہ تریاک)
مولانا نے اس خط میں زندگی کی اصل حقیقت کو نہایت گہرائی سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق لوگ زندگی کو بڑے کاموں کے لیے استعمال کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں، لیکن زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہنسی خوش سے گزار دینا ہے۔ وہ یہ فلسفہ پیش کرتے ہیں کہ موت کو گلے لگانا آسان ہے، لیکن زندگی گزارنا مشکل ترین کام ہے۔ جو اس مشکل کو حل کر لیتا ہے، وہی زندگی کے حقیقی مقصد کو پا لیتا ہے۔
’’'لوگ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں کے لیے کام میں لائیں، لیکن نہیں جانتے کہ یہاں ایک سب سے بڑا کام خود زندگی ہوئی،یعنی زندگی ہنسی خوشی کاٹ دینا۔ یہاں اس سے زیادہ سہل کام کوئی نہ ہوا کہ مر جائیے، اور اس سے زیادہ مشکل کام کوئی نہ ہوا کہ زندہ رہیے۔ جس نے یہ مشکل حل کر لی اُس نے زندگی کا سب سے بڑا کام انجام دے دیا۔‘‘ (ایضاً صفحہ نمبر ۹۸)
بارہواں اور تیرہواں خط: خدا کی ہستی اور کارخانہ ہستی پر مبنی ہے ان خطوط میں مولانا آزاد نے خدا کی موجودگی اور کائنات کی حقیقت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق، خدا کی ذات کو صرف عقل و استدلال سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے کشف و مشاہدہ ضروری ہے۔ وہ کائنات کے مختلف مظاہر کو خدا کی ہستی کا عکس قرار دیتے ہیں۔ اگر انسان غور کرے تو اس کی اپنی ہستی ہی خدا کی نشان دہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
’’یہ سچ ہے کہ یہ راہ محض استدلالی ذریعہ علم سے طے نہیں کی جا سکتی۔ یہاں کی اصلی روشنی کشف و مشاہدہ کے عالم کی خبر نہیں رکھنی چاہیے۔ جب بھی حقیقت کی نشانیاں اپنے چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں اور اگر غور کریں تو خود ہماری ہستی ہی سرتا سر نشانِ راہ ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ نمبر ۱۴۵)
غبارِ خاطر کا چودھواں خط: ۵ ستمبر۱۹۴۲ء کو لکھا گیا تھا، جس میں پانچویں صلیبی جنگ کی سرگزشت کا ذکر ہے۔ یہ سرگزشت ایک فرانسیسی مجاہد نے بہ طور یادداشت قلم بند کی تھی۔ اس کے کئی انگریزی ترجمے شائع ہو چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ مستند نسخہ ’’ایوری مینس لائبریری‘‘کا ہے۔
غبارِ خاطرکا پندرہواں خط:۱۷ دسمبر۱۹۴۲ء کو تحریر کیا گیا، جس میں مولانا آزاد نے چائے کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اگرچہ دیگر خطوط میں بھی چائے کا حوالہ ملتا ہے، لیکن اس مکتوب میں انھوں نے خاص طور پر اس کی اقسام اور خوبیوں کو نمایاں کیا ہے اور نہایت دل چسپ انداز میں اس کے ذائقے اور اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔
سترہواں خط: ۹ جنوری۱۹۴۳ء کا ہے، جو انا اور اس سے متعلق ادبی نظریات پر مبنی ہے۔ اس میں مولانا آزاد نے انسانی انا کے تصور پر اپنی رائے پیش کی ہے اور اس کے فلسفیانہ پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔
غبارِ خاطرکا اٹھارہواں خط: ’’حکایتِ زاغ و بلبل ‘‘کے عنوان سے ۲ مارچ ۱۹۴۲ء کو لکھا گیا تھا۔ اس مکتوب میں مولانا آزاد نے باغات، پرندوں اور ان کی دنیا کی دل چسپ داستان نہایت خوب صورت انداز میں بیان کی ہے۔ وہ ہندوستانی پرندوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے مخصوص ذوق اور فطری ماحول پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس میں وہ پرندوں کی آوازوں اور ہندوستانی فضا کے درمیان تعلق کو بیان کرتے ہیں اور وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں بلبل کی آواز کو وہ اہمیت نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی، جب کہ طوطا اور مینا کی شہرت اور حسن کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ وہ اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اصل یہ ہے کہ ہر ملک کی فضا طبیعتوں میں ایک خاص طرح کا طبعی ذوق پیدا کر دیا کرتی ہے۔ ہندوستان کا عام طبعی ذوق بلبل کی نواؤںسے آشنا نہیں ہو سکتا تھا، کیوں کہ ملک کی فضا دوسری طرح کی صداؤں سے بھری ہوئی تھی۔ یہاں کے پرندوں کی شہرت طوطا اور مینا کے پروں سے اور دنیا کے عجائب میں شمار کی گئی۔‘‘(ایضاً صفحہ ۲۰۸)
غبارِ خاطر کا انیسواں خط: چڑیا چڑے کی کہانی کے عنوان سے۱۷ مارچ۱۹۴۳ء کو لکھا گیا تھا۔ اس خط میں مولانا آزاد نے چڑیا اور اس کے ننھے بچوں کی ہمت اور حوصلے کی روداد نہایت خوش اسلوبی سے بیان کی ہے۔ وہ چھوٹے سے پرندے کے جرات مندانہ رویے سے نہ صرف متاثر نظر آتے ہیں بلکہ اس کی ہمت کو ایک بڑے فلسفیانہ اصول سے جوڑ کر انسانی خود شناسی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ اس نظریے پر روشنی ڈالتے ہیں کہ جب تک انسان اپنے اندر کی خودی کو نہیں پہچانتا، بیرونی حالات اسے بیدار نہیں کر سکتے، لیکن ایک بار اندرونی شعور جاگ جائے تو پھر زندگی میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے ،وہ لکھتے ہیں:
’’انسان کی اندر کی خود شناسی بھی جب تک سوئی رہتی ہے، باہر کا کوئی ہنگامہ سعی اسے بیدار نہیں کر سکتا۔ لیکن جونہی اس کے اندر کا عرفان جاگ اٹھا اور اسے معلوم ہو گیا کہ اس کی چھپی ہوئی حقیقت کیا ہے، تو پھر چشم زدن کے اندر انقلابِ حال انجام پا جاتا ہے، اور ایک ہی جست میں حضیض خاک سے اُڑ کر رفعت افلاک تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘(غبارِ خاطر، چڑیا چڑے کی کہانی، خط۲۰،۱۸ مارچ۱۹۴۳ء)
غبار خاطر کے اکیسواں خط: اس میں مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی قید کے دوران اپنے اہلیہ کی شدید علالت اور بالاخر ان کے انتقال کے واقعہ کو بڑی غم گین اور متاثر کن انداز میں بیان کیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ۲۳ مارچ کو سپرنٹنڈنٹ نے ان کو ان کی بیوی کی خطرناک بیماری کی خبر دی اور کہا کہ اگر وہ حکومت سے کچھ کہنا چاہیں تو وہ فوراً بمبئی بھیج دے گا، مگر مولانا نے حکومت سے کوئی درخواست نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، حتیٰ کہ جواہر لال نہرو نے بھی دیر تک سمجھانے کی کوشش کی مگر مولانا کا یہی جواب تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بات حکومت بمبئی کے حکم سے کہی گئی تھی۔ پھر ۹ اپریل کو ان کی اہلیہ کے انتقال کی خبر موصول ہوئی۔ مولانا نے اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا:
’’دو بجے سپرنٹنڈنٹ نے گورنمنٹ بمبئی کا ایک تار حوالہ کیا۔ جس میں حادثہ کی خبر دی گئی تھی۔ بعد کو معلوم ہوا کہ سپر نٹنڈنٹ کو یہ خبر ریڈیو کے ذریعہ صبح ہی معلوم ہو گئی تھی اور اس نے یہاں بعض رفقا سے اس کا ذکر بھی کر دیا تھا لیکن مجھے اطلاع نہیں دی گئی۔ اس تمام عرصہ میں یہاں کے رفقاء کا جو طرز عمل رہا اس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ابتداء میں جب علالت کی خبریں آنا شروع ہو ئیں تو قدرتی طور پر انہیں پریشانی ہوئی۔ وہ چاہتے تھے کہ اس کے بارے میں جو کچھ کر سکتے ہیں کریں، لیکن جونہی معلوم ہو گیا کہ میں نے اپنے طرز عمل کا ایک فیصلہ کر لیا ہے اور میں حکومت سے کوئی درخواست کرنا پسند نہیں کرتا، تو پھر سب نے خاموشی اختیار کر لی اور اس طرح میرے طریق کار میں کسی طرح کی مداخلت نہیں ہوئی۔‘‘(غبار خاطر،ص ۲۴۰)
اس طرح وہ اپنی ازدواجی زندگی کے گہری اداسی اور کرب کو بیان کرتے ہوئے اسی خط میں ایک جگہ لکھا ہے کہ:
''اس طرح ہماری چھتیس برس کی ازدواجی زندگی ختم ہو گئی اور موت کی دیوار ہم دونوں میں حائل ہو گئی۔ ہم اب بھی ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں، مگر اسی دیوار کی آڑ سے۔''(غبارِ خاطر، صفحہ۲۴۰)
غبارِ خاطرکا آخری خط:۱۶ ستمبر۱۹۴۳ء کو تحریر کیا گیا، جس میں مولانا آزاد نے موسیقی سے اپنی خاص دلچسپی کا اظہار کیا ہے:
’’میں نے بارہا اپنی طبیعت کو ٹٹولا ہے۔ میں زندگی کی احتیاجوں میں ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں مگر موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔آواز خوش میرے لئے زندگی کا سہارا، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔‘‘(غبارِ خاطر صفحہ۲۵۵)
غبارِ خاطر اپنی اس ساری خوبیاں کے باوجود خطوط نگاری کی اصولوں پر مکمل نہیں اترتا ہے۔ آل احمد سرور اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ۔ کئی ناقدین اس کو خطوط کو خط ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ بقول آل احمد سرور:
’’غبار خاطر میں مولانا جیل کی تنہاء میں سنہری یادوں کی ایک بزم سجاتے ہیں, یہاں مکتوب الیہ کے یو نہیں کی غرض ہے -کاتب اپنے دل کے داغوں کی بہار دیکھنا چاہتا ہے۔ غبارِ خاطر خطوط کا مجموعہ نہیں مضامین کا مجموعہ ہے اور مضمون نگاری کے لحاظ سے ان کا اسلوب بھی ہے۔‘‘(اردو ادب آزاد نمبر، صفحہ ۱۲)
اس طرح غبارِ خاطر کے تمام خطوط انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہر خط کا مضمون اپنے عنوان کے مطابق مکمل ترین زندگی کا حقیقی عکس پیش کرتا ہے۔ اس میں زندگی کے نشیب و فراز، مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنے کے طور طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ مولانا آزاد نے قید کی سختیوں کے باوجود، زندگی کو خوش گوار بنانے کے دلچسپ پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔مولانا آزاد نے غبارِ خاطر میں جیل کی تنہائی کو سنہری یادوں کی ایک محفل میں تبدیل کر دیا ہے اور اپنے خیالات و احساسات کے اظہار کے لیے متعدد اشعار کا سہارا لیا ہے۔ غبارِ خاطر کا اسلوب مولانا آزاد کی دیگر تحریروں سے منفرد ہے۔ ان کی نثر میں بے تکلفی، شگفتگی، دلنشینی، پرلطف اندازِ بیان، مزاحیہ مزاج اور زبان و بیان پر قدرت نے ایک خوبصورت اور دل کش نثری روایت قائم کی ہے۔مختصریہ کہ غبارِ خاطرکے خطوط اردو نثر کا ایک بیش بہا خزانہ ہیں۔ مولانا آزاد کی انشاء پردازی کا کمال یہ ہے کہ ان کا اسلوب یکساں نہیں بلکہ متنوع ہے۔ وہ مختلف اندازِ نثر پر مکمل قدرت رکھتے ہیں اور انہیں ضرورت کے مطابق نہایت مہارت سے برتتے ہیں۔
معاون کتب
۱۔مولانا ابوالکلام آزاد، ''غبار خاطر''،۲۰۰۶، گنج شکر پرنٹرز،لاہور
۲۔محمودالٰہی،اکادمی،رسالہ ،۱۹۹۴،اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنؤ
۳۔آل احمد سرور،اردو ادب آزاد نمبر،،۱۹۶۰،سرفرازقومی پریس،لکھنؤ
۴۔مولانا غلام رسول مہر،''مولانا ابوالکلام آزاد ایک نادر روزگار شخصیت''،۱۹۹۴، نقوش پریس،لاہور
Tahira Khatoon( Research Scholar)
Department of Urdu,Khwaja Moinuddin Chishti Language University Lucknow
Email Add: tahibook96@gmail.com
***
غبارِ خاطر مولانا ابوالکلام آزاد کی فکری بصیرت، علمی وسعت اور انشا پردازی کا ایک اہم نمونہ ہے۔ اس کی تحریروں میں زندگی کے تجربات، فلسفیانہ غور و فکر، فطرت سے وابستگی اور انسانی جذبات کی دل نشیں ترجمانی ملتی ہے۔ طاہرہ خاتون کا یہ مضمون اس ادبی شاہکار کے موضوعاتی تنوع اور منفرد اسلوب کو سمجھنے کی ایک تحقیقی کوشش ہے۔
📚 مزید علمی، ادبی اور تحقیقی مضامین کے مطالعے کے لیے قادرالکلام ماہنامہ کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
🌐 https://www.qadirulkalam.com/
قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)
ISSN: 3139-1028

No comments:
Post a Comment