مولانا ابوالکلام آزاد اردو ادب کی ان ہمہ گیر شخصیات میں شامل ہیں جن کی نثر میں علم و دانش، فکری گہرائی اور اسلوب کی دل نشینی یکجا نظر آتی ہے۔ ان کی تصنیف غبارِ خاطر بظاہر خطوط کا مجموعہ ہے، لیکن اس میں زندگی، فلسفے، تاریخ، فطرت، موسیقی اور انسانی احساسات سے متعلق متنوع موضوعات پر دل چسپ گفتگو ملتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں طاہرہ خاتون نے غبارِ خاطر کے اہم موضوعات، فکری جہات اور ادبی خصوصیات کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا ہے۔
طاہرہ خاتون(ریسرچ اسکالر)
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ تاریخی نام فیروز بخت، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ مولانا آزاد ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز،تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔وہ اردو ادب میں ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ شاعر، ادیب، صحافی، عربی و فارسی کے جید عالم، مفکر ِ اسلام، مفسر ِ قرآن، دانش ور اور سیاست دان کے طور پر ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی ان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
اردو ادب میں مولانا آزاد کے نمایاں کارناموں میں ان کی سیاسی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedomاور خطوط کے مجموعے غبارِ خاطر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غبارِ خاطر قلعہ احمد نگر میں قید کے دوران ان کے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ ۴۲ خطوط پر مشتمل ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے مضامین انشائیے کی شکل میں موجود ہیں۔ مولانا آزاد نے اس کتاب کا نام امیر عظمت اللہ بے خبر بلگرامی کے مختصر رسالے غبارِ خاطر سے مستعار لیا۔غبارِ خاطر کے تمام خطوط کئی لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ ان میں مولانا آزاد کی ابتدائی زندگی، تعلیم، عادات و نفسیات، کردار اور ان کے شخصی ارتقا کے عوامل کی تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ خطوط اس نیت سے نہیں لکھے گئے تھے کہ انہیں شائع کیا جائے، لیکن رہائی کے بعد مولوی محمد اجمل خان کے اصرار پر ان خطوط کو مجموعے کی شکل میں۱۹۴۶ء میں شائع کیا گیا۔ بعد میں مالک رام نے مزید تحقیق کے ساتھ۱۹۶۷ء میں اسے دوبارہ شائع کیا۔



