Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label آزادی ہند. Show all posts
Showing posts with label آزادی ہند. Show all posts

Wednesday, September 23, 2026

مجاہد آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات


📖 زیرِ نظر تحقیقی مضمون ’’مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات‘‘ شہینا ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور) نے تحریر کیا ہے، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی و فکری خدمات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 شہینہ ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور)

   مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے لیے کثیر الجہات اور جامع صفات جیسے الفاظ  عموماً  استعمال کر دئیے جاتے ہیں۔ در اصل مولانا آزاد جیسی شخصیتوں کے لیے بنے ہی نہیں ہیں ان کی شخصی اور دانش ورانہ توانائیاں اتنی شدید اور وسعت آشنا ہوتی ہیں کہ وہ کسی ایک شناخت، راہ اور سمت میں محدود نہیں رہ سکتیں۔ ایسی شخصیتیں در اصل شخصیتوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہیں اور وہ ہر لمحہ خود اپنے آپ کو اور اپنے اطراف کی دنیا کو تراشیدم، پرستیدم، شکستم کی رو میں بناتی، توڑتی اور پھر بناتی رہتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں خارج کی بجائے خود اپنے آپ میں مرکوز ہوتی ہیں اور ان کی تخلیقی انفرادیت اس مرکز سے شعور و ادراک اور باہری دنیا کے زمین و آسمان پر تصورات و خیالات کے حملے کر کے انہیں اپنازیر نگیں کرتی رہتی ہے۔مولانا آزاد بہ یک وقت ایک بے پناہ عالم دین، دیدہ ور اور نکتہ رس مفسر قرآن، انسان شناس مفکر، سماجی و سیاسی ادراک کے منتہی، نہایت جری و بے باک صحافی، عربی و فارسی شعر و ادب کے پارکھ، اردو کے منفر دانشا پرداز، سحر طر از خطیب، سیاست دان، مدیر، منتظم، ادارہ ساز اور سب سے بڑھ کر نفیس ترین انسانی و اخلاقی اقدار کی حامل ایک ایسی تہذیبی شخصیت تھے جسے قدرت کی طرف سے اشیا اور افکار وحالات کی ماہیت کی گہرائیوں تک نہایت برق رفتاری سے پہنچ سکنے والی نورانی ذہانت اور بصیرت بخشی گئی تھی۔ ان کی عبقری شخصیت کے ان تمام پہلوؤں پر الگ الگ اور مجموعی اعتبار سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد اس پوری وسعت کا احاطہ کرنا نہیں ہے۔ ہماری دل چسپی یہاں مولانا آزاد کی تخلیقی انفرادیت اور حرکی توانائی کے اس وفور سے ہے جو بہت کم عمری میں ہی ان کی ذات کے آئینے میں منعکس ہونے لگی تھی اور جس نے ان کے زمیں گیر اور آسماں پیما  تخیل اور دانش کو فکر و عمل کے ان سانچوں میں ڈھالا جن کی یک جائی کو آج ہم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے جانتے ہیں۔

Tuesday, September 22, 2026

آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری


 پیشِ خدمت ہے عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور) کا تحقیقی مضمون ’’آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری‘‘، جس میں اردو ناول کے ذریعے تحریکِ آزادی، قومی شعور اور عہد کے سماجی و تہذیبی حالات کی عکاسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور)

  لفظ ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ناویلا سے مشتق ہے۔ ناول کے معنی نئی چیز کے ہیں۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ صنف ِ ناول ایک طویل نثری قصہ ہے جس میں انسانی زندگی کو کرداروں، واقعات اور معاشرتی حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ 

ای،ایم فوریسٹر (E.M. Forester)کے مطابق ناول ایک ایسا نثری بیانیہ ہے جس میں کردار ، واقعات اور انسانی زندگی کا تسلسل فن کارانہ اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناول نثری صنف ادب ہے۔ 

ادب اور سماج کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اسی لیے ادب کسی بھی قوم کی تہذیبی، سماجی اور سیاسی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو اردو ادب کی تمام اصناف اس سے متاثر ہوئیں۔ اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو ناول نے بھی قومی شعور، سیاسی بیداری، سماجی اصلاح اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدائی اردو ناولوں کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناول نگاروں نے قومی غلامی، سامراجی استحصال، فرقہ واریت، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل اور آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ اس طرح اردو ناول محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ قومی بیداری اور فکری مزاحمت کا مؤثر وسیلہ بھی بن گیا۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر اٹھی تھی ۔اس میں اگرچہ بنیادی طور پر یہاں کے سیاسی و اقتصادی حالات اور برطانوی سرمایہ داری کی سخت گیریوں کو خاصہ دخل تھا لیکن قومیت کے جدید تصور کے ساتھ ہی بین الاقوامی مسائل کا شعور بھی آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ ہندوستان کے فکشن نگاروں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اب سیاسی و سماجی مسائل کی سطح ملکی اور علاقائی حدود سے نکل کر ایک وسیع تر سرحد میں داخل ہو رہی ہیں۔

Monday, September 21, 2026

تحریک آزادی میں خواتین کا کردار ۔۔۔ عزم، قربانی اور حریت کی ناقابل فراموش داستان


"تحریکِ آزادی میں خواتین کا کردار"
ثناء الرحمن، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، لکھنؤ یونیورسٹی کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور قومی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 
 ثنا ءرحمن
 (ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو لکھنو یونیورسٹی)

تاریخ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے، ظلم کے اندھیروں سے نکلنے اور آزادی کی روشن صبح کا استقبال کرنے کا عزم کیا، اس جدوجہد میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، بے مثال قربانیوں اور ناقابل فراموش خدمات کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اگرچہ تاریخ کی بیشتر کتابوں میں مرد مجاہدین، سپہ سالاروں اور سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ نسبتاً زیادہ ملتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی تحریک کی کامیابی میں خواتین کی شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ برصغیر کی خواتین نے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے، سماجی پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے اور ہر قسم کے خطرات کو قبول کرتے ہوئے آزادی کی اس جدوجہد میں ایسا کردار ادا کیا جسے فراموش کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

تحریک آزادی محض سیاسی اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی قومی بیداری، فکری انقلاب اور تہذیبی خودمختاری کی جدوجہد تھی جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس جدوجہد میں خواتین نے صرف جلسوں، جلوسوں یا احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ ہی نہیں لیا بلکہ قومی شعور پیدا کرنے، نئی نسل کی ذہنی تربیت، مالی تعاون، خفیہ اطلاعات کی ترسیل، انقلابی کارکنوں کی پناہ گاہیں فراہم کرنے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بعض مواقع پر میدانِ جنگ میں عملی قیادت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ آزادی کی قیمت صرف مردوں نے نہیں بلکہ خواتین نے بھی اپنے لہو، آنسوؤں اور قربانیوں سے ادا کی ہے۔

Saturday, September 19, 2026

جدوجہد آزادی اور اردو صحافت

"جدوجہدِ آزادی اور اردو صحافت" عبداللہ، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی، لکھنؤ کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران اردو صحافت کے فکری، سیاسی اور عوامی کردار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 عبداللہ(ریسرچ اسکالر،لکھنو)

 صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری، سماجی اور سیاسی زندگی کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ یہ محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی شعور کی تشکیل، افکار و نظریات کی اشاعت، سماجی اصلاح، سیاسی رہنمائی اور قومی بیداری کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم نے آزادی، انصاف یا بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی، صحافت نے اس تحریک کو سمت دینے، عوام کو باخبر رکھنے اور ظلم و استبداد کے خلاف رائے عامہ ہم وار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو کسی بھی قوم کا ضمیر اور عوامی احساسات کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے۔برصغیر میں صحافت کا آغاز اگرچہ انگریزی اور فارسی اخبارات سے ہوا، لیکن بہت جلد اردو نے بھی عوامی رابطے کی زبان کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کرلی،اور صحافت کے میدان میں قدم جمالیا۔ چوں کہ اردو مختلف مذہبی اور لسانی طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھی، اس لیے اخبارات کے لیے بھی یہی زبان زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔اردو صحافت کی باقاعدہ تاریخ 27 مارچ 1822ء سے شروع ہوتی ہے، جب کلکتہ سے "جامِ جہاں نما" جاری ہوا۔ اس کے بانی منشی ہری ہر دت تھے جب کہ اس کی ادارت منشی سدا سکھ لال کے سپرد تھی۔ اس سلسلے میں نادر علی خاں لکھتے ہیں:

"اردو اردو زبان کا پہلا اخبار جامِ جہاں نماہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتے سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ منشی سدا سکھ مرزا پوری کی ادارت میں مطبع مشن پریس میں طبع ہوکر ہری ہر دت کے اہتمام سے شائع ہوا تھا"

(نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ص: 33)

Friday, September 18, 2026

تحریک ِ آزادی ٔ ہند میں قومی یکجہتی


سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنماؤں، خواتین، انقلابی تحریک اور ادب و صحافت کے کردار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

تحریکِ آزادی سے مراد وہ منظم جدوجہد ہے جو کسی قوم یا ملک کے لوگ غیر ملکی غلامی، استعماری حکومت یا جابرانہ اقتدار سے نجات حاصل کرنے اور آزادی، خودمختاری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے کرتے ہیں،ہندوستان کے تناظر میں تحریکِ آزادی سے مراد وہ طویل جدوجہد ہے جو ہندوستانی عوام نے تقریباً 1857ء سے 1947ء تک برطانوی حکومت کے خلاف کی اس تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا، جن کے نتیجے میں 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، یعنی 

‘‘تحریکِ آزادی وہ اجتماعی جدوجہد ہے جس کے ذریعے کوئی قوم غیر ملکی یا جابرانہ حکومت سے نجات حاصل کر کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرتی ہے،،
ہندوستان کی تحریک آزادی دنیا کی عظیم ترین عوامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے، یہ صرف برطانوی استعمار سے نجات کی جدو جہد نہیں تھی بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قومی یکجہتی، باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی ایک بے مثال داستان بھی تھی، آزادی کی اس تحریک نے ہندوستانیوں میں یہ احساس مذہبی لسانی اور علاقائی اختلاف سے بالا تر ہو کر ایک متحد قوم کی حثیت سے ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے یہی قومی یکجہتی ہندوستان کی آزادی کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوئی، اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت قومی یکجہتی ہی تھی، جس نے مذہب، زبان، ذات، نسل اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہندوستانیوں کو ایک مشترکہ مقصد، یعنی آزادیِ وطن، کے لئے متحد کیا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکساں جوش و جذبے کے ساتھ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی،یہی اتحاد ہندوستان کی آزادی کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوا۔

Wednesday, September 9, 2026

پہلی جنگ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری


"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری"
معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)

 ’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے  ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے

کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے

تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک

ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک

Tuesday, September 8, 2026

بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد


ڈاکٹر فریدہ تبسم
کا یہ تحقیقی مضمون "بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد" 1857ء کی جنگِ آزادی میں بیگم حضرت محل کے سیاسی، عسکری اور سماجی کردار کا تاریخی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں ریاستِ اودھ کی قیادت، ہندو مسلم اتحاد، برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اور ان کی سیاسی بصیرت کو تاریخی تناظر میں واضح کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرفریدہ تبسم

1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔

1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔

Monday, September 7, 2026

کلام ظفر میں استعماری ظلم کے خلاف احتجاج


یہ مضمون ڈاکٹر محمد کاشف، اسسٹنٹ پروفیسر، الہٰ آباد یونیورسٹی، کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری کے ذریعے برطانوی استعمار کے ظلم، سیاسی غلامی، دہلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور آزادی کی آرزو کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون خاص طور پر ظفر کے شعری استعاروں اور علامتی احتجاج کو 1857ء کی جنگِ آزادی کے تاریخی پس منظر میں واضح کرتا ہے۔

 ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی) 

برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...