📖 زیرِ نظر تحقیقی مضمون ’’مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات‘‘ شہینا ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور) نے تحریر کیا ہے، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی و فکری خدمات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
شہینہ ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور)
لفظ ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ناویلا سے مشتق ہے۔ ناول کے معنی نئی چیز کے ہیں۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ صنف ِ ناول ایک طویل نثری قصہ ہے جس میں انسانی زندگی کو کرداروں، واقعات اور معاشرتی حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ای،ایم فوریسٹر (E.M. Forester)کے مطابق ناول ایک ایسا نثری بیانیہ ہے جس میں کردار ، واقعات اور انسانی زندگی کا تسلسل فن کارانہ اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناول نثری صنف ادب ہے۔
ادب اور سماج کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اسی لیے ادب کسی بھی قوم کی تہذیبی، سماجی اور سیاسی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو اردو ادب کی تمام اصناف اس سے متاثر ہوئیں۔ اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو ناول نے بھی قومی شعور، سیاسی بیداری، سماجی اصلاح اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدائی اردو ناولوں کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناول نگاروں نے قومی غلامی، سامراجی استحصال، فرقہ واریت، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل اور آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ اس طرح اردو ناول محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ قومی بیداری اور فکری مزاحمت کا مؤثر وسیلہ بھی بن گیا۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر اٹھی تھی ۔اس میں اگرچہ بنیادی طور پر یہاں کے سیاسی و اقتصادی حالات اور برطانوی سرمایہ داری کی سخت گیریوں کو خاصہ دخل تھا لیکن قومیت کے جدید تصور کے ساتھ ہی بین الاقوامی مسائل کا شعور بھی آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ ہندوستان کے فکشن نگاروں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اب سیاسی و سماجی مسائل کی سطح ملکی اور علاقائی حدود سے نکل کر ایک وسیع تر سرحد میں داخل ہو رہی ہیں۔
تاریخ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے، ظلم کے اندھیروں سے نکلنے اور آزادی کی روشن صبح کا استقبال کرنے کا عزم کیا، اس جدوجہد میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، بے مثال قربانیوں اور ناقابل فراموش خدمات کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اگرچہ تاریخ کی بیشتر کتابوں میں مرد مجاہدین، سپہ سالاروں اور سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ نسبتاً زیادہ ملتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی تحریک کی کامیابی میں خواتین کی شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ برصغیر کی خواتین نے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے، سماجی پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے اور ہر قسم کے خطرات کو قبول کرتے ہوئے آزادی کی اس جدوجہد میں ایسا کردار ادا کیا جسے فراموش کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
تحریک آزادی محض سیاسی اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی قومی بیداری، فکری انقلاب اور تہذیبی خودمختاری کی جدوجہد تھی جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس جدوجہد میں خواتین نے صرف جلسوں، جلوسوں یا احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ ہی نہیں لیا بلکہ قومی شعور پیدا کرنے، نئی نسل کی ذہنی تربیت، مالی تعاون، خفیہ اطلاعات کی ترسیل، انقلابی کارکنوں کی پناہ گاہیں فراہم کرنے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بعض مواقع پر میدانِ جنگ میں عملی قیادت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ آزادی کی قیمت صرف مردوں نے نہیں بلکہ خواتین نے بھی اپنے لہو، آنسوؤں اور قربانیوں سے ادا کی ہے۔
"اردو اردو زبان کا پہلا اخبار جامِ جہاں نماہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتے سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ منشی سدا سکھ مرزا پوری کی ادارت میں مطبع مشن پریس میں طبع ہوکر ہری ہر دت کے اہتمام سے شائع ہوا تھا"
(نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ص: 33)
تحریکِ آزادی سے مراد وہ منظم جدوجہد ہے جو کسی قوم یا ملک کے لوگ غیر ملکی غلامی، استعماری حکومت یا جابرانہ اقتدار سے نجات حاصل کرنے اور آزادی، خودمختاری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے کرتے ہیں،ہندوستان کے تناظر میں تحریکِ آزادی سے مراد وہ طویل جدوجہد ہے جو ہندوستانی عوام نے تقریباً 1857ء سے 1947ء تک برطانوی حکومت کے خلاف کی اس تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا، جن کے نتیجے میں 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، یعنی
نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)
اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے
دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے
قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے
کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے
تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک
ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک
ڈاکٹرفریدہ تبسم
1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔
1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔
ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی)
برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔
بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔
علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...