یہ مضمون ڈاکٹر محمد کاشف، اسسٹنٹ پروفیسر، الہٰ آباد یونیورسٹی، کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری کے ذریعے برطانوی استعمار کے ظلم، سیاسی غلامی، دہلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور آزادی کی آرزو کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون خاص طور پر ظفر کے شعری استعاروں اور علامتی احتجاج کو 1857ء کی جنگِ آزادی کے تاریخی پس منظر میں واضح کرتا ہے۔
ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی)
برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔
بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔
بہادر شاہ ظفر ایسے دور کےشاعر تھےجب مغلیہ سلطنت اپنی آخری منزل پر پہنچ چکی تھی اور ایسٹ انڈیاکمپنی ہندوستان کے سیاسی اورمعاشی نظام پرمکمل غلبہ حاصل کررہی تھی۔1857ء کی جنگِ آزادی نےاس زوال کوایک المناک انجام تک پہنچا دیا۔اس ماحول میں کھل کرسیاسی مخالفت کا اظہارکرنا ممکن نہیں تھا،اس لیےظفر نےکلاسیکی اردو غزل کی علامتی زبان کو اپنے عہد کےسیاسی تجربات کےاظہار کا وسیلہ بنایا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاںصیاد،قفس،باغباں،گلچیں،چمن ،اآشیانہ اور گل و بلبل جیسے الفاظ محض روایتی عشقیہ استعارےنہیں رہتےبلکہ استعمار،غلامی،وطن کی بربادی اورقومی محرومی کی علامت بن جاتےہیں۔چند اشعار قابل ذکر ہیں:
صبا نےآتش گل کو خوب بھڑکایا
کہیں ایسا نہ ہووےآشیاں جل جائےبلبل کا
کوئی دیوانہ کیا پھر سلسلہ جنبان وحشت ہے
سبب کیا ہےالہی خانہ زنجیر میں غل کا
(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص48)
ہم پھڑک کر دام کے صیاد دیں ٹکڑےاڑا
پرذراہم کو ہےاپنےبال و پرکی احتیاط
(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص178)
نے گل کو یاں ثبات نہ شبنم کو ہے قرار
کیا روئےاس چمن میں کوئی اور کیا ہنسے
(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص19)
قفس میں مجھ کو نہ چین آیاپر فغاں سےمری
تمام رات نہ صیاد کو بھی خواب آیا(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص51)
ان کی شاعری میں صیاد اس استعماری قوت کی علامت ہےجو بظاہر اصلاح، امن اور نظم کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حقیقت میں ظلم، جبر اور استحصال کو فروغ دیتی ہے۔قفس غلام ہندوستان اور محکوم انسان کی بےبسی کی علامت ہےجب کہ چمن اور آشیانہ اس وطن کی نمائندگی کرتےہیں جو سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کا شکار ہو چکا تھا۔اس علامتی اسلوب نےظفر کویہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنےعہد کے سیاسی حقائق کو براہ راست بیان کیے بغیر نہایت مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔اس پس منظر میں ان کا یہ شعر خاص طور پر قابل توجہ ہے
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنےخبررہےدیکھتےاوروں کےعیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پرجونظرتو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص51)
اس شعر کا ظاہری مفہوم خود احتسابی اور اخلاقی اصلاح سےمتعلق ہےلیکن اگر اسےتاریخی تناظرمیں دیکھا جائےتو اس کےمعنی مزید وسیع ہو جاتےہیں۔شاعراس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ قومیں اس وقت زوال کا شکارہوتی ہیں جب وہ اپنی کمزوریوں سےغافل رہ کردوسروں کے عیب تلاش کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔جب انسان یا قوم اپنی ذات کا بےلاگ جائزہ لیتی ہےتو اسےاحساس ہوتا ہےکہ اصلاح کا آغازاپنےاندرسےہونا چاہیے۔اس طرح یہ شعر صرف اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ اجتماعی بیداری اورقومی خود شناسی کا پیغام بھی بن جاتا ہے۔
بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں خاموشی،آہ،قید،ویرانی اور جدائی جیسے مضامین بار بار سامنےآتےہیں۔یہ مضامین بظاہر ذاتی دکھ کی ترجمانی کرتےہیں لیکن ان کےپس منظرمیں ایک محکوم قوم کا اجتماعی دردبھی پوشیدہ ہے۔ان کی خاموشی دراصل بےبسی کی نہیں بلکہ اس عہد کی سیاسی مجبوریوں میں اختیار کی گئی ایک علامتی مزاحمت ہےاسی لیےان کی شاعری میں احتجاج کی آواز بلند ہونے کے بجائے دل کی گہرائیوں سےابھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہےجو قاری کے ذہن پرزیادہ دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔
اس بنا پر بہادر شاہ ظفر کی شاعری کو محض یاس،محرومی اور شکست کی شاعری قرار دینا ان کے ادبی اور تاریخی مقام کو محدود کرنےکےمترادف ہےحقیقت یہ ہےکہ ان کا کلام ایک ایسےحساس شاعر اورباشعورحکمران کی آوازہےجس نے سیاسی شکست کے باوجود اپنی تہذیبی شناخت،قومی وقار اورآزادی کےاحساس کو زندہ رکھا۔ان کی شاعری میں موجود علامتی مزاحمت،فکری گہرائی اورتاریخی شعور انہیں اردو ادب میں تحریکِ آزادی کےابتدائی اور اہم شعری نمائندوں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔بہادر شاہ ظفر کےکلام پر اظہارخیال کرتےہوئےپروفیسرخواجہ تہورحسین یوں رقمطراز ہیں: "ظفر کے اشعار میں در ماندگی و افسردگی کی کیفیت ان سیاسی حالات کا ردعمل ہےجس میں ظفر گھرا ہوا تھا ان سیاسی تعلقات کی طرف رمز و کنایہ میں اس نے اشارہ کیا ہے"
(بہادر شاہ ظفر فن اور شخصیت از پروفیسر خواجہ تہور حسین ص134 مکتبہ نعیمیہ دریا گنج دہلی1967)
ایسٹ انڈیا کمپنی نے بتدریج مغلیہ سلطنت کےتمام سیاسی اختیارات اپنےقبضےمیں لےلیےتھے۔شاہِ عالم ثانی کےزمانےسے شروع ہونےوالا یہ عمل بہادرشاہ ظفرکےعہد تک پہنچتےپہنچتےاس حد تک بڑھ گیا کہ مغل بادشاہ صرف تخت کےرسمی وارث رہ گئے۔ان کےپاس نہ حکومت کرنےکا اختیار تھا نہ فیصلےکرنےکی آزادی اور نہ ہی ریاستی معاملات پر کوئی حقیقی گرفت۔اگرچہ وہ قلعۂ معلّیٰ میں شاہی شان و شوکت کےساتھ رہتےتھےلیکن حقیقت میں ان کی حیثیت ایک وظیفہ خوار اور بے اختیار حکمران سے زیادہ نہ تھی۔بہادر شاہ ظفر نےاس سیاسی حقیقت کو نہایت سادہ،پراثر اوربےلاگ اندازمیں اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے کہ:
یا مجھےافسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا مراتاج گدایانہ بنایا ہوتا
خاکساری کےلئےگرچہ بنا نا تھا مجھے
کاش خاک درجاناں نہ بنایا ہوتا
(نوائےظفر مرتبہ خلیل الرحمٰن اعظمی ص53)
مذکورہ اشعار بہادر شاہ ظفر کےسیاسی شعور اور اس عہد کی تلخ حقیقت کا آئینہ دارہیں۔ شاعر نہایت درداورخود آگاہی کےساتھ اس حقیقت کو بیان کرتا ہےکہ بادشاہت کا تاج اگرچہ اس کے سر پر ہے،لیکن اقتدار اس کے ہاتھ سےنکل چکا ہے۔اس کی حکومت صرف نام کی رہ گئی ہے،جب کہ اصل اختیارانگریزوں کے قبضےمیں ہے۔یہ محض ایک بادشاہ کی بےبسی کا اظہارنہیں بلکہ برطانوی استعمارکی اس سیاسی چال پرگہرا طنز بھی ہےجس کےذریعے مغل بادشاہوں کو بظاہرعزت واحترام دیا گیا،مگر انکے تمام اختیارات خاموشی سےسلب کرلیےگئے۔ظفر اس حقیقت کو کسی جذباتی نعرےکےبجائےنہایت باوقاراورفکرانگیزاندازمیں پیش کرتے ہیں جس سےشعر کی تاثیر اور بڑھ جاتی ہے۔ادبی نقطۂنظرسےدیکھا جائےتو اس شعرمیں ذاتی دکھ اور قومی المیہ ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ شاعر کی آوازصرف اس کی اپنی نہیں رہتی،بلکہ ایک زوال پذیرسلطنت اورمحکوم قوم کی اجتماعی آواز بن جاتی ہے۔یہی خصوصیت بہادر شاہ ظفر کی شاعری کو تاریخی اہمیت عطا کرتی ہےاور اسےمحض شخصی غم کی شاعری سےبلندکرکےسیاسی اور تہذیبی مزاحمت کی شاعری بنا دیتی ہے۔اس سلسلہ میں سید ضمیر حسن دہلوی کے خیالات توجہ طلب ہیں:
عہد ظفر میں جو انقلابات آ رہے تھے اور ان سے ان کی ذات سب سے زیادہ متاثر ہو رہی تھی ان کو ظفر نے اپنے کلام میں سمونے کی کوشش کی۔ (بہادر شاہ ظفر کی دہلی از سید ضمیر حسن ص 23 دہلوی ایم آر پبلی کیشنز نئی دہلی 2009
برطانوی سامراج نےہندوستان پر اپنےتسلط کو دوام دینےکےلیےقانونی اصلاحات اورمنصفانہ نظامِ عدل کا شاندارنعرہ لگایا۔ لیکن ظفر کی باریک بین اور حساس نظروں نے اس نام نہادرول آف لاء' کے پیچھےچھپےجبر و استبداد کو فوراً پہچان لیا۔ان کے نزدیک یہ نیا انگریزی قانونی ڈھانچاعوام کوانصاف فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں،بلکہ استعماری تسلط کو قانونی تحفظ دینےکا ایک نیا ہتھیار تھا۔ان کے کلام کا یہ شعر اسی نوآبادیاتی انصاف کی قلعی کھولتا ہے:
دیکھ اس بت کافر کے ستم
اےظفر مجھ کو خدا یاد آیا(کلیات ظفر ہر چہار جلد کامل ص14- مطبع نامی منشی نول کشور لکھنئوص15)
یہ محض کوئی جذبات میں کہا گیا شاعرانہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ یہ برطانوی عدالتوں اور ان کے وضوع کردہ قوانین کے خلاف ایک کھلی چارج شیٹ ہےجس وقت انگریز حاکم خود کو عادل،منصف اور اصلاح کار ثابت کرنے کی ہرممکن کوشش کررہےتھےظفر نےیہ حقیقت کھلم کھلا بیان کر دی کہ جس حکومت کی بنیادیں ہی غیر ملکی غصب اور ستم پر رکھی گئی ہوں،اس کے ترازو میں کبھی سچا انصاف نہیں تولا جا سکتا۔
1857ء کا سورج دلی کے لیے جو تاریکی لےکرطلوع ہوا،اس نےصرف ایک شہرکو ہی نہیں بدلا بلکہ ایک پوری زندہ اور سانس لیتی تہذیب کا گلا گھونٹ دیا۔لال قلعہ کی رونقیں بجھ گئیں،جامع مسجد جیسےمقدس مقام کو فوج کی چھاؤنی اور بارود خانہ بنا دیا گیا، اور علم وادب کی جن محفلوں سےشہر مہکتا تھا،وہاں ویرانی چھا گئی۔ اس تاریک دورمیں ظفرکی غزل دلی کی اس دلخراش بربادی کاایک بےساختہ،دردناک اورحقیقت پسندانہ نوحہ بن کر سامنےآتی ہے۔اس تباہی کا منظر دیکھ کر ان کا دل تڑپ اٹھتا ہے
اے وائے انقلاب زمانہ کے جور سے
دہلی ظفر کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی (نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص218)
نہ تھا شہر دہلی،تھا اک چمن کہوں کس طرح کا تھا یاں امن
جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص214)
جہاں ویرانہ ہے پہلے کبھی آباد گھریاں تھے
شغال اب ہیں جہاں بستےکبھی بستےبشریاں تھے
جہاں چٹیل ہے میداں اور سراسر ایک خارستان
کبھی یاں قصر وایواں تھےچمن تھےاور شجریاں تھے
ظفر احوال عالم کا کبھی کچھ ہےکبھی کچھ ہے
کہ کیا کیا رنگ اب ہیں کیا کیا پیشتریاں تھے (نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص134)
جی لگےکیوں کرمرا تجھ بن کہ نظروں میں مری
گھر ہے ویرانہ سا بھی اور شہر اک جنگل سا ہے(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص134)
نہ تھا شہر دہلی،تھا اک چمن کہوںکس طرح کا تھا یاں امن
جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے(نوائے ظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص213-214)
ان اشعار کی گہرائی میں اتریں تو اندازہ ہوتا ہےکہ ظفر کے نزدیک دلی محض اینٹ، پتھر اور عمارتوں کا نام نہیں تھا،بلکہ یہ ان کےلیےایک جیتا جاگتا تہذیبی مرکزتھاجہاںنسلوں کی محنتیں،ادب اور روایتیں پروان چڑھی تھیں۔جب وہ اس چمکتےہوئے شہرکو"ویرانہ اورجنگل"کہتے ہیں،تویہ صرف بزدلانہ ماتم یا بےبس آنسو نہیں ہیں بلکہ یہ فاتحین کی اس سنگدلانہ اور وحشیانہ ذہنیت کا کھلا محاکمہ ہےجس نےایک ہنستےبستےاورمہذب شہر کو قبرستان بنا دیا۔
انگریز دنیا بھر میں خود کو "تہذیب کا علمبردار" اور "اصلاح کار" بنا کر پیش کرتے تھے، لیکن ظفر کےاشعار ان کےاس جھوٹے اور خود ساختہ ادعاکی قلعی کھول دیتا ہے۔یہ اشعار استعماری حاکموں کےمنہ پر ایک تازیانہ ہےجو تاریخ کےسامنےیہ سوال کھڑا کرتا ہےکہ جو لوگ ایک آباد اور شائستہ شہرکوجنگل بنا دیں وہ آخر کس منہ سے خودکو مہذب کہہ سکتے ہیں؟
ظفر کے احتجاج کی سب سے بڑی معنوی طاقت یہ ہےکہ وہ زوال اورناکامی کےگھنےاندھیروںمیں بھی کبھی مطلق مایوسی کا شکار نہیں ہوئےبلکہ ان کے فکر و شعور میں مکافاتِ عمل اور تاریخ کے بے رحم انتقام پر ایک ایسا اٹل ایقان پایا جاتا ہے جو انہیں ٹوٹنےنہیں دیتا۔وہ اس تاریخی اورآفاقی سچائی سےبہ خوبی واقف تھےکہ جبر چاہے کتنا ہی قاہرانہ اور بھیانک کیوں نہ ہو،اس کی عمربہرحال عارضی ہوتی ہےاورغرورکاسروربالآخرتاریخ کےدھارےمیں بہہ جاتا ہے۔ اسی لئے بہادر شاہ ظفر کی شاعری محض ذاتی غم کا اظہار نہیں بلکہ احتجاج اور آزادی کی آرزو کا مؤثر ترجمان بن جاتی ہے۔بطور مثال چند اشعار قابل ذکر ہیں:
قفس میں ہےکیا فائدہ شور وغل سے
اسیرو کرو کچھ رہائی کی باتیں (نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص155)
پڑا جو خانہ زنداں میں غل خدا جانے
کہ میرے پاوں کی زنجیرہل گئی تھی کیوں
(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص155)
شاعر کہتا ہےکہ جب زندان میں اچانک شور و غوغا برپا ہوا تو اس کے پاؤں کی زنجیر بھی بےاختیارحرکت کرنےلگی گویا دل میں یہ امیدپیدا ہوئی کہ شاید رہائی کاوقت قریب آ پہنچا ہےاسی طرح دوسرے شعر میں قید و بند کی زندگی اور آزادی کی آرزو کو نہایت مؤثر علامتی انداز میں پیش کیا ہےشاعر کہتا ہےکہ جب قید خانےمیں اچانک شور و ہنگامہ برپا ہوا تو اس کے پاؤں میں پڑی زنجیر بھی جیسے حرکت کرنے لگی۔اس کیفیت سےمحسوس ہوتا ہے کہ شاعر کےدل میں رہائی کی ایک مدھم سی امیدنےجنم لیا ہے۔شاعر نےان علامتوں کےذریعے یہ حقیقت بیان کی ہےکہ جب ظلم کےماحول میں تبدیلی کی کوئی خبر سنائی دیتی ہےتو قید و بند میں گرفتار انسان کےدل میں بھی آزادی کی خواہش پہلےسےزیادہ شدت اختیارکر لیتی ہےیہ شعر آزادی کے جذبے،امید اور مزاحمتی فکر کی نہایت خوب صورت اور بامعنی ترجمانی کرتا ہے۔
جنگِ آزادی 1857ء کا المیہ صرف برطانوی فوج کی عسکری برتری کا نتیجہ نہیں تھا،بلکہ اس کے پسِ پردہ وہ سیاہ خیانت بھی تھی جس نےاندرسےپوری تحریک کو کھوکھلا کر دیا۔ظفر کا بیدار سیاسی شعوراس دردناک سچائی سےغافل نہیں تھا۔ان کا تیرِ احتجاج صرف غیر ملکی غاصبوں ہی پر نہیں چلا،بلکہ انہوں نے ان دیسی مخبروں،مفاد پرست امراء اور آستین کے سانپوں کا بھی بےباکی سےمحاکمہ کیا جنہوں نےچندمراعات اورذاتی مفادات کی خاطر اپنے ملک،اپنی مٹی اوراپنے حاکم کے ساتھ دغا کیا۔
کسی بھی قوم کےلیےبیرونی دشمن کا وارجتنابھی سنگین ہواسےبرداشت کیا جا سکتا ہے،لیکن جب اپنی ہی صفوں کےلوگ آستین چڑھائیں تو وہ زخم روح کو گھائل کر دیتا ہے۔ظفر نے اسی الم ناک سچائی کو شعر کی صورت میں ڈھالا ہے:
دعوا کبھی نہ کرتے محبت کا بو الہواس
ہوتی وفا کی تجھ کو گر اےبےوفا شناخت (نوائے ظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص144)
تری اس بےوفائی پرفدا ہوتی ہےجان اپنی
خداجانےاگر تجھ میں وفا ہوتی تو کیا ہوتا (نوائے ظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص147)
بےوفائی پہ مرگئےتری
بےوفا یہ وفا،ہمیں سےہوئی(نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص193)
ظفر کی سیر اس گلشن میں ہم نےپر کسی گل نے
نہ کچھ الفت کی بو پائی نہ کچھ رنگ وفا دیکھا (نوائےظفر از خلیل الرحمٰن اعظمی ص176)
یہ اشعارمحض ایک بےبس حاکم کی زبانی شکایت نہیں،بلکہ تاریخ کےاس سیاہ موڑ کی گواہی ہےجہاں سےمنافقت کا نقاب نوچ لیا گیا ہے۔ظفر ان تمام چہروںکو بےنقاب کرتے ہیں جو کل تک دربارِ شاہی کی چھاؤں میں وفاداری اور محبت کےقصیدے پڑھتےتھےمگر حالات کا رخ بدلتےہی انگریزوں کےآستانےپرسجدہ ریز ہوکراپنوںہی کی جڑیں کاٹنےلگے۔اسی لیے ڈاکٹر اسلم پرویز بہادر شاہ ظفر کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’قلعے میں نہ صرف یہ کہ انگریزوں کا حکم چلتا تھا بلکہ انگریزوں کے جاسوسوں کا جال بچھا ہوا تھاجو بادشاہ کے معاملات کی پل پل کی خبر انگریزوں کو پہچاتے تھے‘‘(بہادر شاہ ظفر از ڈاکٹر اسلم پرویز ص 406انجمن ترقی اردو (ہند)نئی دہلی2013)
اس طرح یہ بات کھل کرسامنےآتی ہےکہ ظفر کی نظر میں استعماراپنےبل بوتےپرکبھی اتنا مضبوط نہیں ہو سکتا تھا اگر اسےیہ داخلی سہولت کارمیسر نہ ہوتےچنانچہ انہوں نے اپنے کلام میں بیرونی دشمن کے ساتھ ساتھ ان دیسی غداروں کے اخلاقی افلاس کو بھی بےنقاب کرکےتاریخ کی عدالت میں پیش کر دیا۔
اخیر میں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ برطانوی استعمار نے ہندوستان پرصرف عسکری اور سیاسی غلبہ ہی حاصل نہیں کیا،بلکہ فکر و نظر اور زبان و بیان کی آزادی پر بھی سخت پہرے بٹھا دیے۔قلعہِ معلیٰ کی چہار دیواری اور دلی کی سیاسی فضا میں ایک ایسی ناگوار گھٹن پیدا کر دی گئی تھی جہاں سچ بولنا،اپنےجذبات کا اظہارکرنایااستعماری پالیسیوں پر حرفِ تنقید لانا جرم قرار پا چکا تھا۔ اس ماحول میں جہاں خوف کے سائے ہر گفتگو پر منڈلا رہے تھے،ظفر نے غزل کے نازک اور رمزیاتی پیرائے کو اپنے احتجاج کا وسیلہ بنایا۔بہادر شاہ ظفر کا احتجاج خاموش،غم زدہ لیکن بے حد گہرا ہے،جس نے اردو شاعری میں"حریتِ فکر"اور"مقاومتی ادب" (Resistance Literature) کی ایک مضبوط بنیاد رکھی۔
**
Dr.Mohammad Kashif
Department of Urdu University of Allahabad Prayagraj U.P. 211002
kashifau2013@gmail.com
یہ مضمون "قادرالکلام" کے جلد 1، شمارہ 11، اگست 2026ء میں شائع کیا گیا ہے۔ اس شمارے میں تحریکِ آزادیِ ہند، برطانوی استعمار اور اردو ادب کے مزاحمتی و قومی شعور سے متعلق اہم تحقیقی مضامین شامل ہیں۔
📖 مزید تحقیقی و ادبی مضامین کے لیے قادرالکلام وزٹ کریں:
www.qadirulkalam.com

No comments:
Post a Comment