پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی
یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘
مولانا آزاد کی فکرونظر، علم وعمل، اصول وضوابط، ایمان ویقین، افکار وعقائد کے مشاہدہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ وحدت، یک جہتی اور حب الوطنی ان کی زندگی کا مقصد تھا اور یہی حرمت ِ آدم تمام بنی نوع انسانی کا مقصد ِ حیات بھی ہے اور تمام مذاہب اسی امن وامان کے داعی بھی ہیں کیونکہ مذہب ملانے والی چیز ہے لڑانے والی نہیں۔ جوڑنے والی چیز ہے توڑنے والی نہیں ہے۔ آدمی کو انسان سے اور انسان کو خدا سے ملانے کا نام ہے۔ بے راہ رو کو راہ مستقیم پر ہی نہیں بلکہ منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ ان خیالات اور اعلیٰ اقدار پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر حسین، ابوالکلام آزاد کے نمبر کے پبلی کیشن ڈیویژن میں ایک ہمہ گیر شخصیت کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:
’’انھوں نے بتایا کہ مذہب کی روح ملانے والی روح ہے۔ مذہب کی روح ایک دوسرے کو پہچاننے والی روح ہے۔مذہب کی روح خدمت کی روح ہے۔مذہب کی روح دوسروں کے لیے اپنے کو مٹانے کی روح ہے۔مذہب کی روح وحدت کو ماننے کی روح ہے۔‘‘
مولانا آزاد مقلد نہیں محقق تھے۔ انھوں نے تقلید کی تو تحقیق کے ساتھ جبکہ علماء تحقیق کرتے ہیں تقلید کے ساتھ۔ انھوں نے مذہب ومسلک کو ایمان ویقین کی کسوٹی پر پرکھا۔ اصول وضوابط کے لوچ و لچک اور سختی وکرختگی کو سمجھا۔ اس کے راز و نیاز کامشاہدہ کیا۔ حقیقت کے میزان پر تولا۔ مذہب اورمذہبی تضاد کو سمجھا اورپھر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تمام مذاہب حق پر ہیں۔ خود انھیں کی زبان سے سنیے۔ الہلال میں اس کی وضاحت اس انداز میں کرتے ہیں:
’’دنیا کے تمام مذاہب حق پر ہیں لیکن دنیا کے پیروانِ مذاہب حق سے منحرف ہوگئے ہیں۔جس قدر بھی گمراہی ہے، جس قدر بھی اختلاف ہے، جس قدر دعوؤں کی لڑائی اور جماعت بندیوں کا تصادم ہے، پیروانـ مذاہب کے فعل وعمل پر ہے ،مذہب کی تعلیم میں نہیں۔ اگر پیروانِ مذہب کا یہ تصادم وانحراف دور ہوجائے جو حق نہیں ہے تو ہر جماعت کے پاس وہ چیز باقی رہے گی جو حق ہے۔یہی مذاہب عالم ’’مشترکہ۔ حق دنیا‘‘ کی عالمگیر روحانی صداقت ہے۔
مولانا آزاد نے جن باتوں کو ایمان ویقین کی حد تک اپنے پیش نظر رکھا وہ ہندومسلم اتحاد، مشترکہ تہذیب متحدہ قومیت اور خدمت انسانیت تھی جس میں اتحاد اور حب الوطنی کو قومیت، ثقافت اور آزادی پر فوقیت حاصل تھی کیوں کہ اتحاد ہر درد کا درماں اور ہر مرض کی دوا ہی نہیں بلکہ فتح کی بشارت بھی ہے۔ ۱۹۳۳ء میں کانگریس کے ایک خصوصی اجتماع میں انھوں نے ببانگ دہل کہا کہ آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیوں میں سے اتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑا ہوکر اعلان کردے کہ سوراج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندومسلم اتحاد سے دست بردار ہوجائے تو میں سوراج سے دست بردار ہوجاؤں گا مگر اس سے دست بردار نہ ہوں گا کیوں کہ اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا لیکن اگر ہمارا ارتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہوگا۔
مولانا آزاد اپنے خطبوں، تقریروں، ترجموں، تفسیروں اور تحریروں کے ذریعے مسلسل متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کے لیے کوشاں رہے۔ اس کے لیے انھوں نے فلسفیانہ رنگ بھی اختیار کیا، مکالمے کا انداز بھی اپنایا۔ قدیم و جدید کا موازنہ بھی کیا، تہذیب وثقافت کے فرق بھی واضح کیے، قرآن وحدیث سے دلائل بھی دئیے اور آیات کی تاثیر سے خون بھی گرمایا۔ انہوںنے قرآنی آئین اور اسلامی اصول کے آئینہ میں نیشنل ازم، وطنیت، اسلامیات، مذہب و سیاست کی حقیقت کو الہلال کی مدد سے پیش کیا۔ ان کا عقیدہ تھا ہندوستان میں ہندوستان کا مسلمان اپنے بہترین فرائض انجام نہیں دے سکتے جب تک کہ وہ احکام اسلامیہ کے ماتحت ہندوستان کے ہندوؤں سے سچائی کے ساتھ اتحاد واتفاق نہ کرلیں۔ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان ہندوستان کے بائیس کروڑ ہندوؤں کے ساتھ مل کر ایسے ہوجائیں کہ دونوں مل کر ہندوستان کی ایک قوم اور نیشن بن جائیں۔ ان الفاط کو وہ اس تاریخی واقعہ سے مربوط کرتے ہوئے مسلمانوں سے التماس کے انداز میں اپیل کرتے ہیں کہ:
’’اگر میں نے اپنی اپیل میں کہہ دیا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنا تہذیبی فرض اس وقت انجام دیں گے جب ہندوؤں کے ساتھ ایک ہوجائیں گے تو یہ وہ لفظ ہیں جو اللہ کے رسولؐ نے اس وقت لکھوایا تھاجب ہم سب مل کر قریش کے مقابل میں ایک نیشن بن جانا چاہتے تھے۔‘‘
مولاناآزاد نے الہلال کو فارسی شعروں، قرآنی آیتوں اور عربی عبارتوں سے اس طرح آراستہ وپیراستہ کردیا تھاکہ وہ دل کش ودل نشین ہی نہیں بلکہ مؤثر اور بلیغ بھی ہوگیا تھا۔ الفاظ کے شکوہ اور تحریر کے پرزور اور مرعوب کن انداز نے عوام میں بیداری اور آزادی کی روح پھونک دی۔ غلامی پر قانع، محکومی پر راضی، قفس میں جوش عبودیت کے خوگر اورمذہب حریت سے نا آشنا لوگوں کو الہلال ۱۹۱۳ء کے ذریعہ یوں آواز دے رہے ہیں:
’’ہندوستان کی خدمت مسلمانوں کا دینی فرض ہے جس کی بجا آوری لازم ہے۔ انھوں نے جس جوش وایثار سے جنگ طرابلس و بلقان اور مسجد کانپور کے معاملے میں حصہ لیا تھا۔ اس معاملے میں بھی اسی طرح حصہ لیں۔ مسلمانوں کا نصب العین خدمت عالم ہے۔وہ انسانیت کے خادم ہیں۔ ان کے لیے خدا کی زمین کا ہر ٹکڑا مقدس اور اس کے بندوں کا ہر گروہ محترم ہے۔‘‘
مولانا آزاد مسلسل یہ درس دیتے رہے کہ ہندوستان مسلمانوں کا وطن ہے۔انھیں یہاں عزت وآبرو سے رہنے،اپنے سیاسی، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اورمذہبی امور آزادی سے انجام دینے، مشترکہ اور جمہوری شہریت میں اپنا مقام پید اکرنے ، قوم وملک سے فرقہ پرستی وشدت پسندی کے زہر کو ختم کرنے، باہمی اتحاد، سیکولرازم، جمہوریت، انسانیت، خدمت ِ عام وفلاح عوام میں نہ صرف ہم وطنوں کے دوش بہ دوش لگ جانے کا حق ہے بلکہ چاہیے کہ وہ خود پوری ذمہ داری اپنے سر لے لیں جو لائق عبرت بھی ہو اور قابل نصیحت بھی جس سے علاقائیت، عصبیت اور محدود ذہنیت کے بت کو توڑ کر کشادہ ظرفی اور معارف پروری کاخِ بلند تعمیر کیاجاسکے۔ وہ محدود پارٹی اور مخصوص سوچ کے خلاف یوں گریہ کناں ہیں:
’’اب صاف دو ٹوک فیصلہ کرلیں کہ آئندہ کوئی مسلم مجلس، کوئی مسلم نظام سیاسی میدان میں فرقہ واری بنیادی پر قائم نہ کریں گے۔ کسی مجلس کے مقصد پر فرقہ واریت کی پرچھائی بھی نہ پڑنی چاہیے۔‘‘
(خطبۂ صدارت، اجتماع لکھنؤ، دسمبر ۱۹۴۷ء)
مولانا آزاد کو عالمی شہرت الہلال کی ہی وجہ سے حاصل ہوئی۔ الہلال کو عمر صرف تین سال ملی۔ پہلا پرچہ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ء کو نکلا اور آخری پرچہ ۱۸؍نومبر ۱۹۱۴ء کو شائع ہوا۔ دور ثانی میں ۱۰؍جون ۱۹۲۷ء کو منظر عام پر آیا اور پھر چھ (۶) ماہ بعد ۹؍ دسمبر ۱۹۲۷ء کو مستقل طور پر بند ہوگیا لیکن اس کی شعاعیں آج بھی ملک وملت کو منور کررہی ہیں۔ جس کا اعتراف خود مولانا آزاد قولِ فیصل میں اس طرح کرتے ہیں:
’’میں نے آج سے بارہ سال پہلے الہلال کے ذریعے مسلمانوں کو یاد دلایا تھاکہ آزدی کی راہ میں قربانی وجاں فروشی ان کا قدیم اسلامی ورثہ ہے۔ ان کا اسلامی فرض یہ ہے کہ ہندوستان کی تمام جماعتوں کو اس راہ میں پیچھے چھوڑدیں۔ میری صدائیں بے کار نہ گئیں۔مسلمانوں نے اب آخری فیصلہ کرلیا ہے کہ اپنے ہندو، سکھ، عیسائی اورپارسی بھائیوں کے ساتھ مل کر اپنے ملک کو غلامی سے نجات دلائیں۔‘‘
(قول فیصل، ص؍۱۰۰)
مولانا آزاد ہندوستانی مسلمانوں کو جہادِ حریت کے لیے متحد ومنظم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی خواہش تھی کہ جنگ آزادی میں مسلمان نہ صرف شامل ہوں بلکہ جہاد حریت کے داعی و قائد بنیں اور اگر وہ اس سے گریز کرتے ہیں تو مؤرخین ان کی بزدلی کے داغ سے کاغذ کے صفحات کو ایسے پر کردیں گے کہ ان کا حال ہی نہیں مستقبل بھی داغ دار ہوجائے گا۔ الہلال ۱۸؍دسمبر ۱۹۱۲ء میں اس کی وضاحت اس حوصلہ شکن الفاظ میں کرتے ہیں:
’’اگر تم کہو کہ تاریخ ہند میں ہمارے لیے بھی ایک شرف و عظمت کا باب ہوگا تو تم خاموش رہو اور مجھ سے کہو کہ میں اسے پڑھ دوں۔ بے شک ایک باب ہوگا مگر جانتے ہو اس میں کیا ہوگا۔ اس میں لکھا ہوگا کہ ہندوستان ملکی ترقی اورملکی آزادی کی راہ میں بڑھا۔ ہندوؤں نے اس کے لیے اپنے سروں کو ہتھیلی پر رکھا مگر مسلمان غاروں کے اندر چھپ گئے۔ انھوں نے پکارا مگر انھوںنے اپنے منھ اور زبان پر قفل چڑھا دئیے۔‘‘
مولانا آزد بیداری، آزادی، اتحاد اور انقلاب کے جس راہ پر کمربستہ تھے۔ا س کو حق سمجھتے تھے اور ان کو یقین تھاکہ اسے حق ضرور کامیاب ہوگا۔باطل چاہے کتنا ہی ظالم وجابرکیوں نہ ہو اسے شکست فاش ہوگی۔ چال فرنگ نے آزادی اور اتحاد کی تحریک کو دین و مذہب کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی تو الہلال نے اسے غلط بیانی کا مدلل اور مفصل جواب دیتے ہوئے لکھا کہ آزادی انسان کا فطری حق ہے۔کوئی بھی مذہب اپنے پیروؤں کو اس حق سے محروم نہیں کرسکتا اور مسلمانوں کے لیے جہاد حریت ایک دینی فریضہ ہے۔ اللہ نے انھیں مجاہد بنایا ہے اور مجاہد حق وصداقت کا پرچم بلند کرنے، انسانی بندواستبداد اور غلامی کو توڑنے کے لیے روئے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔جس نے غافلوں کو چوکنا ، سرمستوں کو ہوشیار اورنیند کے متوالوں کوبیدار کردیا۔ پرشور نعرے بلند ہونے لگے۔حریت و حرمت کی لہردوڑ گئی۔مغلوبوں اور مظلوموں نے لذت آزادی اور ذائقہ بیداری کا مزہ چکھا۔ اس کے باوجود بھی جن لوگوں نے بدبختی مجبوری، محکومی، غلامی اور پرستای کی طوق عبودیت نکال پھینکنے پر آمادہ نہیں ہوئے ان کی ذلت وسیہ کاری، بدنصیبی وبدبختی پر الہلال دسمبر ۱۹۱۲ء میں یوں نوحہ کناں ہیں:
’’جو ہونے والاہے اس کو کوئی قوم اپنی نحوست سے نہیں روک سکتی۔یقینا ایک دن آئے گا جب کہ ہندوستان کا آخری سیاسی انقلاب ہوچکا ہوگا۔ غلامی کی وہ بیڑیاں جو خود اس نے اپنے پاؤں میں ڈالی ہیں بیسویں صدی کی حریت کی تیغ سے کٹ چکی ہوں گی اوریہ سب ہوچکا ہوگا جس کا ہونا ضروری ہے۔ فرض کیجیے کہ اس وقت ہندوستان کی ملکی ترقی کی ایک تاریخ اس وقت لکھی گئی تو آپ کو معلوم ہے کہ اس میں ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی نسبت کیا لکھا جائے گا۔ اس میں لکھاجائے گاکہ ایک بدبخت اور زبوں طالع قوم جو ہمیشہ ملکی ترقی کے لیے ایک روگ، ملک کی فلاح کے لیے ایک بدقسمتی، راہِ آزادی میں سنگِ گراں، حاکمانہ طمع کا کھلونا، دستِ اجانب میں بازیچۂ لعب، ہندوستان کی پیشانی پر ایک گہرا زخم اور گورنمنٹ کے ہاتھ میں ملک کی امنگوں کو پامال کرنے کے لیے ایک بہترین پتھربنی رہی۔ پھر اس میں لکھا جائے گاکہ یہ حالت اس قوم کی تھی جو آہ ثم آہ کی مسلم تھی جو اپنے ساتھ انسانی شرف وجلالت کی ایک تاریخ رکھتی تھی، جس کو دنیاکی وراثت اور خلافت دی گئی تھی جو دنیامیں اس لیے بھیجی گئی تھی تاکہ انسانی استبداد واستعمال کی زنجیروں سے بندگانِ الٰہی کو آزاد کرائے۔‘‘
الہلال کی سحرطرازی اور جادو نگاری بے مثال تھی۔ اس میں خطابت، فصاحت، بلاغت اورشوخی بیان کی تمام خوبیاں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔ ہر لفظ جوش وخروش کا نقیب اور ہر فقرہ پیامبر طوفاں تھا۔ اسلوب میں تخیل، الفاظ میں شکوہ، فقرہ میں آب وتاب اورجملے کی رمق تھی۔ اس نے اسے الہامی بنادیا تھا۔الہلال نے دسمبر ۱۹۱۲ء میں الجہاد فی سبیل الحریۃ کے عنوان سے فریب خوردہ مسلمانوں کو اس طرح دعوت حریت اورنصیحت حرمت دیا:
’’وہ دنیا میں اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ ان زنجیروں کو جو خدا کی بندگی کے سوا انسانوں کی گردونوں میں نہیں ڈالی جاسکتی ہیں، ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔ وہ اس لیے نہیں پیدا کیے گئے ہیں کہ غلامی کی سب سے بھاری زانھوں نجیر کو خود اپنی گردن کا زیور بنالیں۔‘‘
انھوں نے متعدد طریقے اور حربے سے مسلمانوں کے ضمیر کو روشن کرنے کی کوشش کی اور ان سے یہ کہتے رہے کہ تم میری طرف دیکھو۔ میں ایک انسان تم میں موجود ہوں جو دس سال سے صرف ایک ہی صدائے دعوت بلند کرتا رہا اور لوٹ لوٹ کر پکار رہا ہوں ’’ولٰکن لا تحبون الناصحیں‘‘افسوس کہ تم سچی بات کہنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔تم نمائش کے پجاری، شور وہنگامہ کے سنہرے اور وقتی جذبات وانفجار پہچان کی مخلوق ہو۔ اپنی ایک تقریر میں وہ قوم سے یوں مخاطب ہیں:
’’سورج تو چمک رہا ہے۔ ان سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔میں کہتا ہوں جو اجلے نقش و نگارتمھیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا۔ انہیں بھلاؤ انہیں چھوڑو نہیں۔ ان کے وارث بن کر آؤ اور عہد کروکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس کے لیے ہیں۔‘‘ (۱۹۴۸ء، دہلی)
مولانا آزاد نے جب الہلال کے ذریعہ حریت حرمت اور حرکت کا صور پھونکا تو فرنگیوں کے تعمیر کردہ غلامی کے کاخِ بلند کی بنیادیں لرزگئیں۔ملت خواب غفلت سے بیدار ہوئی۔ ان کے لہو میں حرکت وحرارت آئی۔ آزادی کے پرشعور نعرے بلندہوئے جس کی گونج ہندکی سرحدوں کے باہر نہ سرف سنی گئی بلکہ اس کی پذیرائی بھی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں تمام اسلامی دنیا کی قیادت سنبھالنے کی انہیں دعوت ملی۔ ۱۹۱۴ء میں قسطنطنیہ سے شاکرآفندی نے ان کو لکھا کہ:
’’بلقان کی سرزمین پر طرابلس کے ریگستان پر شہدا کے خون سوکھنے سے پہلے معصوم بچوں کی ہڈیاں گلنے سے پہلے، بیوہ عورتوں کے ہلاکِ گریہ ہوجانے سے پہلے میری آنکھیں تیرے لیے فرشِ راہ ہوں گی۔ میرے لب قدم بوسی کا شرف حاصل کرنے کے آرزو مند ہیں۔‘‘
(الہلال۔ ۲۸؍جنوری ۱۹۱۴ء)
الہلال نے چند سال کے اندر ہی مسلمانانِ ہندکی سیاسی حالت میں بالکل نئی حرکت پیدا کردی۔ نفسیات عملی کا درس دیا۔ حرکت وعمل جوش و ولولہ کاپیغام پہنچایا۔ خونِ منصور کی شعلہ آہنگی اور دعوت دار و رسن دی۔ ’’کلمہ حق اور دعوائے برحق‘‘ کے ساتھ ساتھ نوید ِ سرفروشی و کفن بردوشی کا پیغام رساں ہوا۔ یہ رموز ونکات، خیر وبرکت اور درسِ مساوات کا سلسلہ ابھی چل ہی رہا تھا کہ خرد فرنگی نے امن وامان کا حیلہ اورپریس ایکٹ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے الہلال کو الحلال کردیا۔
***
یہ مضمون ’’تحریکِ آزادی اور الہلال‘‘ ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM)، جلد 1، شمارہ 11، اگست 2026ء میں شائع ہوا ہے۔ قادرالکلام ایک دو لسانی، تحقیقی و ریفریڈ ماہنامہ ہے، جس میں اردو و انگریزی زبان و ادب، تنقید، تحقیق، تہذیب و ثقافت اور انسانی علوم سے متعلق معیاری تحقیقی و ادبی مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔
Professor Shahid Naukhez Azmi
Former Faculty Member, Department of PersianMaulana Azad National Urdu University, Hyderabad

No comments:
Post a Comment