Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label تحریک آزادی. Show all posts
Showing posts with label تحریک آزادی. Show all posts

Wednesday, September 23, 2026

مجاہد آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات


📖 زیرِ نظر تحقیقی مضمون ’’مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات‘‘ شہینا ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور) نے تحریر کیا ہے، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی و فکری خدمات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 شہینہ ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور)

   مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے لیے کثیر الجہات اور جامع صفات جیسے الفاظ  عموماً  استعمال کر دئیے جاتے ہیں۔ در اصل مولانا آزاد جیسی شخصیتوں کے لیے بنے ہی نہیں ہیں ان کی شخصی اور دانش ورانہ توانائیاں اتنی شدید اور وسعت آشنا ہوتی ہیں کہ وہ کسی ایک شناخت، راہ اور سمت میں محدود نہیں رہ سکتیں۔ ایسی شخصیتیں در اصل شخصیتوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہیں اور وہ ہر لمحہ خود اپنے آپ کو اور اپنے اطراف کی دنیا کو تراشیدم، پرستیدم، شکستم کی رو میں بناتی، توڑتی اور پھر بناتی رہتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں خارج کی بجائے خود اپنے آپ میں مرکوز ہوتی ہیں اور ان کی تخلیقی انفرادیت اس مرکز سے شعور و ادراک اور باہری دنیا کے زمین و آسمان پر تصورات و خیالات کے حملے کر کے انہیں اپنازیر نگیں کرتی رہتی ہے۔مولانا آزاد بہ یک وقت ایک بے پناہ عالم دین، دیدہ ور اور نکتہ رس مفسر قرآن، انسان شناس مفکر، سماجی و سیاسی ادراک کے منتہی، نہایت جری و بے باک صحافی، عربی و فارسی شعر و ادب کے پارکھ، اردو کے منفر دانشا پرداز، سحر طر از خطیب، سیاست دان، مدیر، منتظم، ادارہ ساز اور سب سے بڑھ کر نفیس ترین انسانی و اخلاقی اقدار کی حامل ایک ایسی تہذیبی شخصیت تھے جسے قدرت کی طرف سے اشیا اور افکار وحالات کی ماہیت کی گہرائیوں تک نہایت برق رفتاری سے پہنچ سکنے والی نورانی ذہانت اور بصیرت بخشی گئی تھی۔ ان کی عبقری شخصیت کے ان تمام پہلوؤں پر الگ الگ اور مجموعی اعتبار سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد اس پوری وسعت کا احاطہ کرنا نہیں ہے۔ ہماری دل چسپی یہاں مولانا آزاد کی تخلیقی انفرادیت اور حرکی توانائی کے اس وفور سے ہے جو بہت کم عمری میں ہی ان کی ذات کے آئینے میں منعکس ہونے لگی تھی اور جس نے ان کے زمیں گیر اور آسماں پیما  تخیل اور دانش کو فکر و عمل کے ان سانچوں میں ڈھالا جن کی یک جائی کو آج ہم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے جانتے ہیں۔

Tuesday, September 22, 2026

آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری


 پیشِ خدمت ہے عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور) کا تحقیقی مضمون ’’آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری‘‘، جس میں اردو ناول کے ذریعے تحریکِ آزادی، قومی شعور اور عہد کے سماجی و تہذیبی حالات کی عکاسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور)

  لفظ ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ناویلا سے مشتق ہے۔ ناول کے معنی نئی چیز کے ہیں۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ صنف ِ ناول ایک طویل نثری قصہ ہے جس میں انسانی زندگی کو کرداروں، واقعات اور معاشرتی حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ 

ای،ایم فوریسٹر (E.M. Forester)کے مطابق ناول ایک ایسا نثری بیانیہ ہے جس میں کردار ، واقعات اور انسانی زندگی کا تسلسل فن کارانہ اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناول نثری صنف ادب ہے۔ 

ادب اور سماج کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اسی لیے ادب کسی بھی قوم کی تہذیبی، سماجی اور سیاسی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو اردو ادب کی تمام اصناف اس سے متاثر ہوئیں۔ اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو ناول نے بھی قومی شعور، سیاسی بیداری، سماجی اصلاح اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدائی اردو ناولوں کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناول نگاروں نے قومی غلامی، سامراجی استحصال، فرقہ واریت، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل اور آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ اس طرح اردو ناول محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ قومی بیداری اور فکری مزاحمت کا مؤثر وسیلہ بھی بن گیا۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر اٹھی تھی ۔اس میں اگرچہ بنیادی طور پر یہاں کے سیاسی و اقتصادی حالات اور برطانوی سرمایہ داری کی سخت گیریوں کو خاصہ دخل تھا لیکن قومیت کے جدید تصور کے ساتھ ہی بین الاقوامی مسائل کا شعور بھی آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ ہندوستان کے فکشن نگاروں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اب سیاسی و سماجی مسائل کی سطح ملکی اور علاقائی حدود سے نکل کر ایک وسیع تر سرحد میں داخل ہو رہی ہیں۔

Monday, September 21, 2026

تحریک آزادی میں خواتین کا کردار ۔۔۔ عزم، قربانی اور حریت کی ناقابل فراموش داستان


"تحریکِ آزادی میں خواتین کا کردار"
ثناء الرحمن، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، لکھنؤ یونیورسٹی کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور قومی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 
 ثنا ءرحمن
 (ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو لکھنو یونیورسٹی)

تاریخ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے، ظلم کے اندھیروں سے نکلنے اور آزادی کی روشن صبح کا استقبال کرنے کا عزم کیا، اس جدوجہد میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، بے مثال قربانیوں اور ناقابل فراموش خدمات کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اگرچہ تاریخ کی بیشتر کتابوں میں مرد مجاہدین، سپہ سالاروں اور سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ نسبتاً زیادہ ملتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی تحریک کی کامیابی میں خواتین کی شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ برصغیر کی خواتین نے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے، سماجی پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے اور ہر قسم کے خطرات کو قبول کرتے ہوئے آزادی کی اس جدوجہد میں ایسا کردار ادا کیا جسے فراموش کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

تحریک آزادی محض سیاسی اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی قومی بیداری، فکری انقلاب اور تہذیبی خودمختاری کی جدوجہد تھی جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس جدوجہد میں خواتین نے صرف جلسوں، جلوسوں یا احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ ہی نہیں لیا بلکہ قومی شعور پیدا کرنے، نئی نسل کی ذہنی تربیت، مالی تعاون، خفیہ اطلاعات کی ترسیل، انقلابی کارکنوں کی پناہ گاہیں فراہم کرنے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بعض مواقع پر میدانِ جنگ میں عملی قیادت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ آزادی کی قیمت صرف مردوں نے نہیں بلکہ خواتین نے بھی اپنے لہو، آنسوؤں اور قربانیوں سے ادا کی ہے۔

Sunday, September 20, 2026

مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری


"مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری"
اسماء جبین، ریسرچ اسکالر، SGBAU، اکولا، مہاراشٹرا کا تحقیقی مقالہ ہے، جس میں مولانا حسرت موہانی کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور ان کی انقلابی شاعری کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اسماء جبین(ریسرچ اسکالر،مہاراشٹرا)

 اردو کے ممتاز شاعر، سیاسی رہنما اور صحافی مولانا فضل الحسن حسرت موہانی (۱۸۷۵–۱۹۵۱) ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے ایک ایسے استعارے ہیں جنھوں نے شاعری کو بھی انقلاب کا ہتھیار بنایا۔ ان کا تخلیقی سفر کلاسیکی غزل کی نزاکتوں سے شروع ہو کر انقلابی نظموں اور نعروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مقالہ حسرت کی انقلابی شاعری کے موضوعاتی، فکری اور فنی پہلوؤں کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں مکمل آزادی کا مطالبہ، سامراج دشمنی، سوشلزم، طبقاتی جدوجہد، سیکولرازم اور انسانی مساوات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ مقالے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح حسرت نے روایتی غزل کے قالب میں سیاسی شعور بھر کر اردو شاعری کی روایت کو ایک نئی جہت بخشی اور "انقلاب زندہ باد" جیسے نعرے کو عوامی شعور کا حصہ بنایا۔ آخر میں حوالہ جات کی ایک جامع فہرست پیش کی گئی ہے۔

Friday, September 18, 2026

تحریک ِ آزادی ٔ ہند میں قومی یکجہتی


سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنماؤں، خواتین، انقلابی تحریک اور ادب و صحافت کے کردار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

تحریکِ آزادی سے مراد وہ منظم جدوجہد ہے جو کسی قوم یا ملک کے لوگ غیر ملکی غلامی، استعماری حکومت یا جابرانہ اقتدار سے نجات حاصل کرنے اور آزادی، خودمختاری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے کرتے ہیں،ہندوستان کے تناظر میں تحریکِ آزادی سے مراد وہ طویل جدوجہد ہے جو ہندوستانی عوام نے تقریباً 1857ء سے 1947ء تک برطانوی حکومت کے خلاف کی اس تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا، جن کے نتیجے میں 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، یعنی 

‘‘تحریکِ آزادی وہ اجتماعی جدوجہد ہے جس کے ذریعے کوئی قوم غیر ملکی یا جابرانہ حکومت سے نجات حاصل کر کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرتی ہے،،
ہندوستان کی تحریک آزادی دنیا کی عظیم ترین عوامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے، یہ صرف برطانوی استعمار سے نجات کی جدو جہد نہیں تھی بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قومی یکجہتی، باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی ایک بے مثال داستان بھی تھی، آزادی کی اس تحریک نے ہندوستانیوں میں یہ احساس مذہبی لسانی اور علاقائی اختلاف سے بالا تر ہو کر ایک متحد قوم کی حثیت سے ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے یہی قومی یکجہتی ہندوستان کی آزادی کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوئی، اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت قومی یکجہتی ہی تھی، جس نے مذہب، زبان، ذات، نسل اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہندوستانیوں کو ایک مشترکہ مقصد، یعنی آزادیِ وطن، کے لئے متحد کیا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکساں جوش و جذبے کے ساتھ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی،یہی اتحاد ہندوستان کی آزادی کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوا۔

Tuesday, September 8, 2026

بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد


ڈاکٹر فریدہ تبسم
کا یہ تحقیقی مضمون "بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد" 1857ء کی جنگِ آزادی میں بیگم حضرت محل کے سیاسی، عسکری اور سماجی کردار کا تاریخی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں ریاستِ اودھ کی قیادت، ہندو مسلم اتحاد، برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اور ان کی سیاسی بصیرت کو تاریخی تناظر میں واضح کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرفریدہ تبسم

1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔

1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔

Saturday, September 5, 2026

تحریک آزادی اور برج نرائن چکبستؔ


پروفیسر زماں  آزردہ  (کشمیر)

یہ مضمون معروف قومی شاعر برج نرائن چکبستؔ کی شاعری اور تحریکِ آزادیِ ہند میں ان کے کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں چکبستؔ کی نظموں کے ذریعے حبِ وطن، قومی بیداری، خود اعتمادی، ہندو مسلم اتحاد اور آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے


 ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔

جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:

’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘ 

Friday, September 4, 2026

تحریک آزادی اور الہلال


 
 پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی

 یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

 مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ  صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے  ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو  ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...