Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label قومی شعور. Show all posts
Showing posts with label قومی شعور. Show all posts

Tuesday, September 22, 2026

آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری


 پیشِ خدمت ہے عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور) کا تحقیقی مضمون ’’آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری‘‘، جس میں اردو ناول کے ذریعے تحریکِ آزادی، قومی شعور اور عہد کے سماجی و تہذیبی حالات کی عکاسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور)

  لفظ ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ناویلا سے مشتق ہے۔ ناول کے معنی نئی چیز کے ہیں۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ صنف ِ ناول ایک طویل نثری قصہ ہے جس میں انسانی زندگی کو کرداروں، واقعات اور معاشرتی حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ 

ای،ایم فوریسٹر (E.M. Forester)کے مطابق ناول ایک ایسا نثری بیانیہ ہے جس میں کردار ، واقعات اور انسانی زندگی کا تسلسل فن کارانہ اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناول نثری صنف ادب ہے۔ 

ادب اور سماج کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اسی لیے ادب کسی بھی قوم کی تہذیبی، سماجی اور سیاسی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو اردو ادب کی تمام اصناف اس سے متاثر ہوئیں۔ اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو ناول نے بھی قومی شعور، سیاسی بیداری، سماجی اصلاح اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدائی اردو ناولوں کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناول نگاروں نے قومی غلامی، سامراجی استحصال، فرقہ واریت، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل اور آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ اس طرح اردو ناول محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ قومی بیداری اور فکری مزاحمت کا مؤثر وسیلہ بھی بن گیا۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر اٹھی تھی ۔اس میں اگرچہ بنیادی طور پر یہاں کے سیاسی و اقتصادی حالات اور برطانوی سرمایہ داری کی سخت گیریوں کو خاصہ دخل تھا لیکن قومیت کے جدید تصور کے ساتھ ہی بین الاقوامی مسائل کا شعور بھی آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ ہندوستان کے فکشن نگاروں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اب سیاسی و سماجی مسائل کی سطح ملکی اور علاقائی حدود سے نکل کر ایک وسیع تر سرحد میں داخل ہو رہی ہیں۔

Wednesday, September 9, 2026

پہلی جنگ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری


"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری"
معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)

 ’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے  ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے

کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے

تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک

ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...