Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts
Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts

Friday, October 23, 2026

ذکر کلیم، فکر کلیم


کلیم عاجز اردو غزل کے ان منفرد شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری ذاتی تجربات، انسانی کرب اور عہد کے المیوں سے جنم لیتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں غزالہ ہاشمی نے کلیم عاجز کی زندگی، ان کے شعری محرکات، مخصوص طرزِ اظہار، غنائیت اور فکری جہات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحریر قاری کو کلیم عاجز کی شاعری کے پس منظر اور اس کے اثرات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

غزالہ ہاشمی 

 شعرا کی بھیڑ میں اپنی مخصوص پہچان رکھنے والے شاعر کلیم عاجز کی تاریخ ولادت خود ان کے قول کے مطابق ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء ہے، سرٹیفکٹ میں دو سال قبل کی تاریخ لکھی ہے ۔ زندگی کے ابتدائی ایام صوبہ بہار کے موضع تلہاڑا ضلع پٹنہ ( اب ضلع نالندا ) میں گزرے ۔ یہ وہی تلہاڑا ہے جس کا ذکر بڑے کرب کے ساتھ شکیلہ اختر اپنے افسانوں میں کرتی ہیں ۔ شکیلہ کا افسانہ ’’آخری سہارا ‘‘ اسی موضع کو پیش کرتا ہے ۔ افسانہ آخری سہارا کی مرکزی کردار یاسمین فسادیوں سے اپنی عزت محفوظ رکھنے کی خاطر کنویں میں کود پڑتی ہے ۔ انسانیت کو رحم نہیں آیا۔ بھالا، برچھی ، اینٹ اور پتھر سے کنویں میں اس کی مدارات ہوئی ۔ انتہائی زخمی حالت میں اسے ریلیف کیمپ پہنچا دیا جاتا ہے لیکن کلیم کی امی جان بی بی امت الفاطمہ اورچھوٹی بہن رشیدہ بائولی میں پھینکی گئیں۔ وہی بائولی ان دونوں کی اور ان جیسے دیگر کئی لوگوں کی آخری آرام گاہ بن گئی ۔ یہی واقعہ وہ محرک یا   Stimulive  ہے جس نے کلیم کے فن کو خون سے سینچا ہے ۔ 

Monday, October 19, 2026

ٖٖفراق گورکھپوری: ایک تعارف


زیرِ نظر مضمون میں ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری نے اردو کے ممتاز شاعر فراق گورکھپوری کی حیات، شخصیت اور ادبی خدمات کا تعارف پیش کیا ہے۔ مضمون میں فراق کی غزل گوئی، تحریکِ آزادی میں شرکت، ادبی اساتذہ، شعری مجموعوں، تنقیدی نظریات اور ادبی اعزازات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحریر فراق گورکھپوری کی شاعری اور اردو ادب میں ان کے مقام کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری ( اردو لکچرر)

؎شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

(فراقؔ)

اردو شاعری کی آبرو اگر غزل ہے تو غزل کے شعرا پر ہمیں ناز ہونا چاہیے۔خصوصاً جنھوں نے اردو غزل کو نیا انداز، نیا لب و لہجہ اور نئی قدروں سے رو شناس کرایاان میں ایک فراق گورکھپوری ہیںجن کی مقبولیت ان کی کتابوں کی اشاعت سے قبل ہو چکی تھی۔

فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ 28 اگست 1896 ء کو گورکھپور کے بانس گاوں میں پیدا ہوئے۔والد کا نام گورکھ پرشاد اور والدہ کا نام دلاری دیوی تھا۔والد گورکھ پرشاد پیشے سے ایک وکیل تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ فراق کے والدگورکھ پرشاد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔

Friday, October 16, 2026

شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ



’’شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ‘‘
ڈاکٹر صفیہ فاطمی (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں شاکر خلیق کی ادبی شخصیت اور ان کے شعری و نثری کارناموں کے مطالعے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ موضوع اردو ادب میں تخلیقی اظہار اور ادبی سرمایے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔

 ڈاکٹر صفیہ فاطمی(اسسٹنٹ پروفیسر )

 شاکر احمد یحییٰ کا سالِ پیدائش 1945 ہے ۔آبائی وطن دربھنگا ہے۔ امی جان کا نام صفیہ خاتون اور ابا محترم کا نام عبدالخالق خلیق ہے۔ اسی مناسبت سے شاکر احمد نے شاکر خلیق کے قلمی نام کو اختیار کیا۔ تعلیمی سند کے اعتبار سے وہ ڈبل ایم اے، بی ایل اور پی ایچ ڈی ہیں۔ کچھ دنوں تک پٹنہ ہائی کورٹ میں وکالت کی۔ سال 1971 ء میں سی ایم کالج دربھنگا میں تقرری ہوئی۔ متھلا یونیورسٹی دربھنگا کے صدر شعبہ اردو بنے۔ مورخہ 31/05/2005کو ریٹائرمنٹ ہوا۔ ان کی درج ذیل کتابیں میری نگاہ سے گزری ہیں۔

Tuesday, September 29, 2026

نسائی آواز اور اردو شاعری


یہ مضمون معروف ادیب و محقق ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا ہے، جسے قارئین کے ادبی و تحقیقی مطالعے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

 ڈاکٹرصفیہ فاطمی

 معاشیات میں ایک باب ہے محنت کی تقسیم جس کے مطابق ذمے داری دیتے وقت کام کرنے والے کی صلاحیت ، ضرورت اور حدود کاخیال رکھنا ہوتاہے۔ اسے درجہ بندی یافرق مراتب بھی کہہ سکتے ہیں، بھید بھاؤ نہیںکہہ سکتے ۔ مشہور کہاوت ہے کہ مضبوط پیٹھ پرہی زیادہ بوجھ ڈالا جاسکتاہے۔ موڈرن مینیجمنٹ کایہ طریقۂ کار فطری قوانین کی بنیاد پرہے۔خالق کائنات نے اپنی مخلوق کومختلف صلاحیتوں سے نوازاہے۔ کسی کو بھی اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیںدیا ۔اس کی ایک بنیادی وجہ درجہ بندی ہے، جہاں صنفی مساوات کاخیال رکھا گیا ہے۔ وخلقناکم ازواجا ۔ سورۃالنباا ٓیت ۸
زوج کایہ تصورصرف انسان ہی میں نہیں بلکہ دیگرحیوانات میں اورنباتات میں بھی ہے، شاید جمادات میں بھی ہے ۔ 
خلق الازواج کلھامما تنبت الارض ۔ سورہ یسٓ ۔آیت ۳۶
ومن کل شیء خلقنا زوجین ۔ سورۃ الذاریات۔آیت ۴۹
صلاحیت کے اسی فرق کے تحت  بچے کی پیدائش سے لے کر تربیت کی ذمہ داری خواتین کے سپرد کی گئی ۔ اس سلسلے کے بیش تر الفاظ مونث یعنی استری لنگ یعنی  Feminine Gender   سے تعلق رکھتے ہیں۔پیدائش ، پرورش،تربیت ، تعلیم ،  ترقی ، بولی ، زبان ، بھاشا، خواندگی ، پڑھائی ، لکھائی ، بھوک، روشنی ، خوراک، توانائی، کھیتی ، روئیدگی ، خوشی ، امید ، بناوٹ ، سجاوٹ ، کتاب، روح، زندگی، ولایت ، کرامت ، فضیلت ، عزت ، دولت، شہرت،  صلاحیت، مہارت، موت، قبر وغیرہ وغیرہ یعنی ابتدا سے انتہا تک مونث ہی ہے۔ بچے نے ماں کے شکم میںپرورش پائی تھی، اس تصور نے مادر وطن یعنی ماتری بھومی یعنی    Mother Land  کاتصور مستحکم کیا۔ دنیامیںکہیں بھی پدر وطن کاتصور نہںملتا۔ ماں نے بچے کے منھ میںاپنی زبان ڈال دی ۔ اسی زبان کومادری زبان  یعنی ماتری بھاشا یعنی Mother tongueکہتے ہیں، کہیںبھی پدری زبان کاتصور موجود نہیںہے۔ ایک مالک کے دو چار کاروبار یا دوچار کارخانے ہوں تو سب کو  Sister Concern کہا جاتاہے Brother Concern  نہیں کہا جاتا۔

Sunday, September 20, 2026

مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری


"مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری"
اسماء جبین، ریسرچ اسکالر، SGBAU، اکولا، مہاراشٹرا کا تحقیقی مقالہ ہے، جس میں مولانا حسرت موہانی کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور ان کی انقلابی شاعری کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اسماء جبین(ریسرچ اسکالر،مہاراشٹرا)

 اردو کے ممتاز شاعر، سیاسی رہنما اور صحافی مولانا فضل الحسن حسرت موہانی (۱۸۷۵–۱۹۵۱) ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے ایک ایسے استعارے ہیں جنھوں نے شاعری کو بھی انقلاب کا ہتھیار بنایا۔ ان کا تخلیقی سفر کلاسیکی غزل کی نزاکتوں سے شروع ہو کر انقلابی نظموں اور نعروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مقالہ حسرت کی انقلابی شاعری کے موضوعاتی، فکری اور فنی پہلوؤں کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں مکمل آزادی کا مطالبہ، سامراج دشمنی، سوشلزم، طبقاتی جدوجہد، سیکولرازم اور انسانی مساوات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ مقالے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح حسرت نے روایتی غزل کے قالب میں سیاسی شعور بھر کر اردو شاعری کی روایت کو ایک نئی جہت بخشی اور "انقلاب زندہ باد" جیسے نعرے کو عوامی شعور کا حصہ بنایا۔ آخر میں حوالہ جات کی ایک جامع فہرست پیش کی گئی ہے۔

Wednesday, September 9, 2026

پہلی جنگ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری


"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری"
معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)

 ’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے  ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے

کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے

تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک

ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک

Monday, September 7, 2026

کلام ظفر میں استعماری ظلم کے خلاف احتجاج


یہ مضمون ڈاکٹر محمد کاشف، اسسٹنٹ پروفیسر، الہٰ آباد یونیورسٹی، کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری کے ذریعے برطانوی استعمار کے ظلم، سیاسی غلامی، دہلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور آزادی کی آرزو کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون خاص طور پر ظفر کے شعری استعاروں اور علامتی احتجاج کو 1857ء کی جنگِ آزادی کے تاریخی پس منظر میں واضح کرتا ہے۔

 ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی) 

برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔

Saturday, September 5, 2026

تحریک آزادی اور برج نرائن چکبستؔ


پروفیسر زماں  آزردہ  (کشمیر)

یہ مضمون معروف قومی شاعر برج نرائن چکبستؔ کی شاعری اور تحریکِ آزادیِ ہند میں ان کے کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں چکبستؔ کی نظموں کے ذریعے حبِ وطن، قومی بیداری، خود اعتمادی، ہندو مسلم اتحاد اور آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے


 ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔

جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:

’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘ 

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...