پروفیسر زماں آزردہ (کشمیر)
ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔
جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:
’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘
چکبستؔ کا کام MANIFOLD تھا مگر ایک سمت کا دوسری سمت سے کسی طرح کا ٹکراؤ نہیں تھا۔ بل کہ ان سب کے پیچھے ایک ہی جذبہ کار فرما تھا ۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا کہ چکبستؔ نے ایک طرف تو اچھے ماضی ، زوال پذیر حال اور خوش آئند مستقبل کی نشان دہی کی اور دوسری طرف وطن کے گیت گا کے لوگوں کے دلوں میں اس سے محبت پیدا کرنے کی سعی کی۔ وطن پرست لوگوں پر نظمیں کہہ کر ان کے کارناموں کو سراہا اور تیسری طرف وطن کے دشمنوں کے غاصبانہ اادوں اور منافقانہ عمل کی مخالفت کر کے لوگوں کے دلوں میں ان سے نفرت پیدا کردی۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد کسی طرح سے یہ بات سامنے آگئی تھی کہ انگریز مسلمان کو باغی اور ہندو کو وفادار سمجھنے لگا تھا اور ہندوستانی من حيث قوم ہندو اور مسلمان میں بٹ گئی تھی۔ انگریز کا یہ divide and rule کا حربہ اس کے لیے فائدہ بخش ثابت ہو رہا تھا اور ہندوستانی خود اپنی ضرب سے پٹ رہا تھا۔چکبستؔ نے جگہ جگہ ہندو کو مخاطب کر کے اس کو صحیح بات سمجھانے کی کوشش کی اور جہاں موقع ملا وہاں خود مسلمانوں سے خطاب کیا کہ انھیں اس حیثیت کو سمجھ کے اپنی ہستی کو قائم رکھنا چاہیے۔ مرزا جعفر علی خاں اثر بجا لکھتے ہیں :
’’میرا عقیدہ ہے کہ صرف چکبستؔ ہی وہ قومی شاعر ہے جس نے کل ہندوستان کے جذبات اور ضروریات کی بلا امتیاز و تفریق مذہب ترجمانی کی ہے۔ وہ ہندو ہے اور اس کو ناز ہے کہ ہندو ہے۔ اس لیے کہ ہندو دھرم نے بڑے بڑے سور ویر پیدا کیے ، اسی طرح وہ مسلمانوں کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہے کیوں کہ ان میں قاتل کو جام شربت دینے والے اور حق کی راہ میں سب کچھ لٹا دینے والے بھی ہوئے ہیں۔ آپ اس کی ایک نظم بھی پیش نہیں کر سکتے جس سے ظاہر ہو کہ وہ ہندؤں یا ہندو مذہب کو مسلمانوں یا اسلام سے بہتر سمجھتا ہے، بیش تر نظمیں ایسی ہیں جن میں فدائے ملک ہندؤں کے ساتھ ان کے ہم سایہ مسلمانوں کا ذکر با التزام ہے۔ اس کے نزدیک دونوں ہند کی آنکھوں کے تارے ہیں۔ ‘‘
اپنی نظم ’’فریاد قوم‘‘ میں ہندو مسلمان دونوں کی افریقہ میں تباہی کا حال یوں بیان کرتے ہیں ۔
وطن سے دور بھی ہیں اور خانہ ویراں بھی
اسیر یاس بھی ہیں اور اسیر زنداں بھی
تباہ حال ہیں ہندو بھی اور مسلماں بھی
ہوئے ہیں نذر مصیبت کے دین و ایماں بھی
پڑھی نماز تو اجڑے گھروں کے صحرا میں
اگر نہائے تو اپنے لہو کی گنگا میں
اسی نظم میں ہندو اور مسلمان دونوں کے دلوں میں حرارت پیداکرنے کے لئے یوں مخاطب ہوتے ہیں ۔
بھنور میں قوم کا بیڑا ہے ہندو ہشیار
اندھیری رات ہے کالی گھٹا ہے اور منج دھار
اگر پڑے رہے غفلت کی نیند میں سرشار
تو زیرِ موج فنا ہوگا آبرو کا مزار
مٹے گی قوم یہ بیڑا تمام ڈوبے گا
جہاں میں بھیشم وار جن کا نام ڈوبے گا
جنھیں رلائے نہ اب بھی یہ قوم کی افتاد
سیاه قلب وہ ہندو ہیں کنسؔ کی اولاد
مگر وہ کیا ہیں کسی کی بھی گرنہ ہو امداد
اثر دکھائے گی جادو کا قوم کی فریاد
اٹھیں گے خاک کے تودے سے دستگیر اپنے
زمین ہند کی اگلے گی سور بیر اپنے
اب ملاحظہ فرمائیے مسلمانوں سے خطاب:
دکھا دو جوہر اسلام اے مسلمانو!
وقار قوم گیا قوم کے نگہبانو!
ستون ملک کے ہو قدرِ قومیت جانو!
جفا وطن پہ ہے فرضِ وفا تو پہچانو!
نبیؐ کے خلق و مروت کے ورثہ دار ہو تم
عرب کی شانِ حمیت کی یادگار ہو تم
کرو خیال کچھ اسلاف کی حمیت کا
دیا تھا دشمن ِ قاتل کو جام شربت کا
معاملہ ہے یہاں بھائیوں کی عزت کا
یہ فرض عین ہے سودا نہیں مروت کا
اگر نہ اب بھی ہو اسلام کا جگر پانی
ہزار خندهٔ کفر است بر مسلمانی
چکبستؔ نے اس نظم میں صرف مذہب کے نام پر درس نہیں دیا ہے بلکہ وہ آدمی کے دل کو موم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندو اور مسلمان دو بڑی قو میں تھیں ، اس لیے ان سے براہ راست خطاب بھی ہے مگر وہ آدمی کی آدمیت کو للکارنے میں پس و پیش نہیں کرتے۔ ان کی باتوں سے اس مشت خاک میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اس کا وجو دلر زاٹھتا ہے اور اس کی غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ وہ اپنی طرف سے قومیت کو سب سے اعلیٰ کسوٹی قرار دیتے ہیں۔ اسی نظم ” فریاد قوم‘‘کی آخری بیت ہے ۔
فدا وطن پہ جو ہو آدمی دلیر ہے وہ
جو یہ نہیں تو فقط ہڈیوں کا ڈھیر ہے وہ
چکبستؔ نے وطن کی محبت سے سرشار لوگوں کا مرثیہ کہہ کے غیرت قومی کو آواز دی۔ اس طرح عوام کو ان محبان وطن کے نقش قدم پر چلنے کی بالواسطہ تحریک ملی۔ ان میں گنگا پر شاد و رما، گوپال کرشن گوکھلے ، اقبال نرائن مسئلہ داد ، بال گنگا دھر تلک وغیرہ اہم ہیں۔ ان نظموں میں قومی ایکتا اور قومی وقار کی طرف بڑے لطیف اشارے ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر گو کھلے کی وفات پر کہی گئی نظم کا اےک شعر پیش کیاجاتا ہے۔
وطن کی خاک تری بارگاہ اعلیٰ ہے
ہمیں یہی نئی مسجد نیا شوالہ ہے
چکبستؔ نے کچھ نظمیں ایسی بھی کہیں جو اپنی سادگی اور خوبصورتی کی وجہ سے بچوں میں مقبول ہو گئیں، مثلاً :
وطن کو ہم وطن ہم کو مبارک باد
یا
ہمارا وطن دل سے پیارا وطن وغیرہ
یہ نظمیں اپنے اندر بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ بچپن میں ان نظموں کو پسند کرنے والے زبانییاد کر کے دہرانے والے آگے چل کے محاذ وطن پر لڑنے والے سپاہی ہوئے۔ ان نظموں نے اپنا اثر دکھایا اور کئی اور لوگوں نے اس راگ کو الاپ کر فضا کو وطن کے نغموں سے معمور کر دیا۔ غرض چکبستؔ کسی محاذ پر پیچھے نہیں رہے۔
چکبست کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انھوں نے اپنے قلمی رویے سے مصالحتیں کر لیں اور براہِ راست انگریز کے خلاف نہیں کہا۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ جب انگریز کی حکومت میں وہ وطن پرستوں کے گیت گاتے ہیں، انھیں سور بیر کہتے ہیں۔ ان کی موت پر یاقید ہونے پر اپنے غم کا اظہار کرتے ہیں وہ کیا انگریز کے خلاف بولنا نہیں تھا اور اس سے انگریز کے خلاف جذبۂ نفرت کا بھی اظہار ہوتا تھا۔ ان کی نظمیں ’’نوجوانوں سے خطاب‘‘ اور ’’پھول مالا‘‘ اس بات کی تردید کے لیے کافی ہیں۔ کہنے کو تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ہوم رول کو کافی سمجھتے تھے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ اس وقت کس کے ذہن میںیہ بات تھی کہ دو سو سال تک ہندوستان پر حکومت کرنے والا انگریز فوراً یہاں سے نکل جائے گا۔ اگر چکبستؔ نے ہوم رول والی نظم کہہ کر اس فیصلے کو سراہا مگر اسی نظم کے بندوں سے ان کے جذبۂ دروں کی غمازی بھی ہوتی ہے۔ وہ اپنے ملک ہندوستان کو کس قدر آزاد دیکھنا چاہتے تھے ۔ ہندوستانیوں کی خوش حالی اور خود مختاری کے کس قدر متمنی تھے وہ بالکل عیاں ہے۔ ہوم رول گھٹا ٹوپ تاریکی میں روشنی کی ایک کرن تھی ، اس کی طرف کون ذی شعور نہ لپکتا، چکبستؔ کی ان دونوں نظموں ” آوازۂ قوم“ اور’’ ہم ہوں گے عیش ہو گا اور ہوم رول ہوگا“ سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ وہ دور صبر و قناعت کا دور تھا ، اور اس ناامیدی کے عالم میں ایک امید کا پیدا ہو جانا بہت بڑی چیز تھی۔ ہوم رول کی حیثیت ڈوبتے کے لیے صرف تنکے کے سہارے کی نہیں تھی جس کو گرفت میں لے کر وہ اپنے بچاؤ کی صورت کرے بلکہ ایک ایسے پتھر کی سی تھی جس پر وہ ٹھہر سکتا تھااور اپنی قوت کو مجتمع کر سکتا تھا۔ اس جذبے کے پیش نظر وہ کہتے ہیں ۔؎
اہل وطن مبارک تم کو یہ بزم اعلیٰ
جس میں نئی امیدوں کا ہے نیا اجالا
دنیا کے مذہبوں سے یہ رنگ ہے نرالا
مسجد یہی ہے اپنی اور ہے یہی شوالا
ہو ہوم رول حاصل ارمان ہے تو یہ ہے
اب دین ہے تو یہ ہے ایمان ہے تو یہ ہے
چکبستؔ کی یہ نظم دسمبر ۱۹۱۶ء میں کانگریس کے اجلاس میں گائی گئی تھی۔
چکبستؔ نے مسز بسنت پر نظمیں لکھی ہیں جو اسی ہوم رول کی آواز بلند کرنے کے لیے نظر بند ہوئی تھیں۔ چکبستؔ نے ان کی جدوجہد ، صدائے التفات، معقولیت اور مقبولیت کا اعتراف اس طرح کیا ۔
قوم غافل نہیں ماتا تری غم خواری سے
زلزلہ ملک میں ہے تری گرفتاری سے
آگ بھڑ کی ہے تری آہ کی چنگاری سے
خاک حاصل نہ ہو اتری دل آزاری سے
دل ترا قوم کے دامن میں دئیے جاتے ہیں
ہڈیوں کو تری زنداں میں لیے جاتے ہیں
یہ بجائے خود چکبستؔ کا ایک کارنامہ ہے کہ وہ سچے وطن پرست لیڈروں کی تعریف و توصیف کرتے ہیں اور اونچی آواز میں کرتے ہیں۔ چکبستؔ کے لئے یہ سوچنا کہ ان تمام باتوں کے باوجود وہ انگریز کے سایۂ عاطفت میں رہنے کےلئے تیار تھے ، مناسب نہیں۔ احتشام حسین مرحوم نے بڑی عمدہ بات کہی کہ :
’’...۱۹۱۷ء کے پہلے کا ہندوستان اپنی حدود میں صرف اسی روشنی کو دیکھ سکتا تھا جو کہیں دور جگمگارہی تھی چکبست اُس نئی چیز کو دیکھ رہے ہیں۔‘‘
کئی موقعوں پر اس نئی روشنی ، بیداری اور حرکت اور قومی اتفاق کی طرف بڑے لطیف اشارے ملتے ہیں۔ اپنی نظم ’’آوازۂ قوم‘‘ میںیوں اشارہ کرتے ہیں۔
وطن کے عشق کا بت بے نقاب نکلا ہے
نئے افق پر نیا آفتاب نکلا ہے
جو ہوم رول پہیہ چشم شوق شیدا ہو
تمام رنگ میں ایک نور پیدا ہو
یہ جوشِ پاک زمانہ دبا نہیں سکتا
رگوں میں خوں کی حرارت مٹا نہیں سکتا
یہ آگ وہ ہے جو پانی بجھا نہیں سکتا
دلوں میں آکے یہ ارمان جا نہیں سکتا
طلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے
نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے
چکبستؔ کو نئے دور، نئے شوق، نئی شراب اور نئے ساقی کی ہر وقت تلاش ہے اور یہ تلاش ہمیشہ جاری ہے۔ اگر ان کی نظر کہیں پر رک جاتی ہے تو اس کا سبب بھی خود ہی بیان کیا ہے ۔
ہوائے شوق میں غنچے بکس نہیں سکتے
ہمارے پھول بھی چاہیں تو نہیں نہیں سکتے
چکبستؔ زنجیر و طوق کو ہندوستانیوں کا گہنہ سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اسی سے ان کی غیرتِ قومی جاگ اٹھے گی۔ وہ ان لیڈروں کی تعریف کرتے ہیں جو برطانوی عتاب کے شکار ہیں۔ مسز بسنت والی نظم میںیہاں تک کہتے ہیں۔
تو نے پودا جو لگایا تھا وہ پھل لایا ہے
آبرو قوم نے پائی ہے وہ دن آیا ہے
ہم نے بھولے ہوئے ورثے کا نشان پایا ہے
مرنے والوں کی وفا کا یہی سرمایہ ہے
دل تڑپتا ہے کہ سوراج کا پیغام ملے
کل ملے، آج ملے، صبح ملے، شام ملے
اسی طرح بال گنگادھر تلک والی نظم اور دوسری ایسی نظموں میں چکبستؔ نے اپنے هسورماؤں کو جو خراج پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قوم کے سورماؤں کے پیغام کو عام کرنا چاہتے ہیں،یہاں میں ایک ہی نظم سے مثالیں دے رہا ہوں تاکہ تصویر کے نقوش بھی واضح ہوتے جائیں۔ اسی نظم میں وہ کہتے ہیں ۔
ہوں خبردار جنہوں نے یہ اذیت دی ہے
کچھ تماشا یہ نہیں قوم نے کروٹ لی ہے
جدو جہد کا تصور بھی ان کے یہاں ایک اور ہی رنگ میں سامنے آجاتاہے۔
ہو چکی قوم کے ماتم میں بہت سینہ زنی
اب ہو اس رنگ کا سنیاسیہ ہے دل میں ٹھنی
مادرِ ہند کی تصویر ہو سینے پر بنی
بیڑیاں پیر میں ہوں اور گلے میں کفنی
ہو یہ صورت سے عیاں، عاشق آزادی ہیں
قفل ہے جن کی زباں پر یہ وہ فریادی ہیں
آج سے شوق وفا کا یہی جوہر ہوگا
فرش کانٹوں کا ہمیں پھولوں کا بستر ہو گا
پھول ہو جائے گا چھاتی پہ جو پتھر ہو گا
قید قید خانہ جسے کہتے ہیں وہی گھر ہو گا
سنتری دیکھ کے اس جوش کو شرمائیں گے
گیت زنجیر کی جھنکار پر ہم گائیں گے
چکبستؔ گاندھی جی کو قوم کا سپاہی اور بال گنگا دھر تلک کو قوم کی تلوار بتاتے ہیں اور اس کے برعکس برطانوی حکومت کے ان ہندوستانی نمک خواروں کی خدمت بھی کرتے ہیں جو وطن کے سینے پر پاؤں رکھ کر اپنا قد اونچا کرنے کی فکر میں ہیں۔ مثلاً :
فدائیان حکومت نے ہم کو رنج دیئے
مگر جو فرضِ وفا تھے ادا وہ ہم نے کئے
ایک اور جگہ یوں پردہ چاک کرتے ہیں۔؎
جو صاحب تہذیب ہیں اور صاحب جو ہر
ان میں بھی نہیں قوم کے ہمدرد میسر
ہے سرمیں ہوا حرص کی دل میں ہوسِ زر
نے ملک کے حامی ہیں نہ ہی قوم کے رہبر
بس زر کی پرستش انھیں فرض از لی ہے
بت ہے تو یہی ہے ، جو خدا ہے تو یہی ہے
غرض قومی تحریک آزادی کے جذبے کو بیدار رکھنے میں چکبستؔ کی نظموں کا بڑا دخل ہے ۔ چکبست کا زمانہ وہ ہے جب اردو کی نظمیں انجمنوں میں پڑھی جاتی تھیں اور اس کا اثر دور دور تک پہنچتا تھا۔ بیج کے یہ دانے جو چکبست اور اسی طرح کے اور شعرا نے زمین ہند اور ہندوستانیوں کے دلوں میں بوئے و ہی وقت آنے پر ایسے قدر آور درخت ہوئے، جنہوں نے ایک طرف قوم کو اپنے سایے میں رکھا اور دوسری طرف غاصبوں کے راستے کی رکاوٹ بھی بنے۔
**
یہ مضمون ’’تحریکِ آزادی اور برج نرائن چکبستؔ‘‘ ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM)، جلد 1، شمارہ 11، اگست 2026ء میں شائع ہوا ہے۔
مصنف: پروفیسر زماں آزردہ (کشمیر)
قادرالکلام ایک دو لسانی، تحقیقی و ریفریڈ ماہنامہ ہے، جس میں اردو و انگریزی زبان و ادب، تحقیق، تنقید، تہذیب و ثقافت اور انسانی علوم کے مختلف موضوعات پر معیاری تحقیقی و ادبی مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔
The Freedom Movement and Brij Narain Chakbast

No comments:
Post a Comment