Breaking News

New Issue Published • Sepember 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • ستمبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Friday, September 18, 2026

تحریک ِ آزادی ٔ ہند میں قومی یکجہتی


سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنماؤں، خواتین، انقلابی تحریک اور ادب و صحافت کے کردار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

تحریکِ آزادی سے مراد وہ منظم جدوجہد ہے جو کسی قوم یا ملک کے لوگ غیر ملکی غلامی، استعماری حکومت یا جابرانہ اقتدار سے نجات حاصل کرنے اور آزادی، خودمختاری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے کرتے ہیں،ہندوستان کے تناظر میں تحریکِ آزادی سے مراد وہ طویل جدوجہد ہے جو ہندوستانی عوام نے تقریباً 1857ء سے 1947ء تک برطانوی حکومت کے خلاف کی اس تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا، جن کے نتیجے میں 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، یعنی 

‘‘تحریکِ آزادی وہ اجتماعی جدوجہد ہے جس کے ذریعے کوئی قوم غیر ملکی یا جابرانہ حکومت سے نجات حاصل کر کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرتی ہے،،
ہندوستان کی تحریک آزادی دنیا کی عظیم ترین عوامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے، یہ صرف برطانوی استعمار سے نجات کی جدو جہد نہیں تھی بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قومی یکجہتی، باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی ایک بے مثال داستان بھی تھی، آزادی کی اس تحریک نے ہندوستانیوں میں یہ احساس مذہبی لسانی اور علاقائی اختلاف سے بالا تر ہو کر ایک متحد قوم کی حثیت سے ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے یہی قومی یکجہتی ہندوستان کی آزادی کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوئی، اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت قومی یکجہتی ہی تھی، جس نے مذہب، زبان، ذات، نسل اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہندوستانیوں کو ایک مشترکہ مقصد، یعنی آزادیِ وطن، کے لئے متحد کیا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکساں جوش و جذبے کے ساتھ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی،یہی اتحاد ہندوستان کی آزادی کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوا۔
قومی یکجہتی کا مفہوم 
قومی یکجہتی سے مراد ایک ایسی اجتماعی ہم آہنگی ہے جس میں مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ قومی مفاد کو ذاتی یا گروہی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں، ہندوستان کی آزادی کی تحریک نے اسی جذبے کو فروغ دیا اور عوام میں اتحاد و اخوت کی فضا قائم کی۔
1857ء کی جنگِ آزادی اور اتحاد
1857ء کی پہلی جنگِ آزادی کو قومی یکجہتی کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے اس جدوجہد میں ہندو اور مسلمان سپاہیوں نے مل کر انگریز حکومت کے خلاف بغاوت بلند کیا، بہادر شاہ ظفر کو مشترکہ طور پر ہندوستان کا بادشاہ تسلیم کیا گیا، جبکہ نانا صاحب، تاتیا ٹوپے، رانی لکشمی بائی، بیگم حضرت محل اور دیگر رہنماؤں نے متحد ہو کر انگریزوں کا مقابلہ کیا، اگر چہ یہ جنگ کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس نے قومی اتحاد کا شعور بیدار کیا۔
انڈین نیشنل کانگریس کا کردار
1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے قیام نے آزادی کی تحریک کو منظم شکل دی، کانگریس کے پلیٹ فارم سے ملک کیمختلف مذاہب اور طبقوں کے افراد متحد ہو کر شریک ہوئے، دادا بھائی نوروجی، گوپال کرشن گوکھلے، بال گنگا دھر تلک، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے رہنماؤں نے قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔
خلافت اور عدم تعاون تحریک
1920ء میں مہاتما گاندھی نے خلافت تحریک اور عدم تعاون تحریک کو ایک ساتھ چلایا، جس سے ہندو مسلم اتحاد کو نئی قوت ملی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، حکیم اجمل خان اور دیگر مسلم رہنماؤں نے گاندھی جی کے ساتھ مل کر آزادی کی تحریک کو عوامی تحریک بنا دیا۔
گاندھی جی کا نظریۂ اتحاد
1915ء میں مہاتما گاندھی کی ہندوستان واپسی کے بعد تحریک آزادی کو نئی سمت ملی۔ مہاتما گاندھی نے ہمیشہ مذہبی رواداری، عدم تشدد اور قومی اتحاد پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب تمام مذاہب کے لوگ باہمی احترام اور محبت کے ساتھ رہیں، ان کی قیادت میں لاکھوں افراد نے ذات پات اور مذہبی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، عدم تعاون تحریک، سول نافرمانی تحریک اور بھارت چھوڑو تحریک میں لاکھوں افراد نے مذہب و ذات پات کی تفریق کے بغیر حصہ لیا، گاندھی جی ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کو آزادی کی کامیابی کے لئے ضروری قرار دیتے تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات 
مولانا ابوالکلام آزاد قومی یکجہتی کے عظیم علمبردار تھے۔ انہوں نے اپنی تقاریر، تحریروں اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد کی بھرپور حمایت کی، ان کا یقین تھا کہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور ثقافت ہی اس کی اصل طاقت ہے، وہ تقسیمِ ہند کے مخالف تھے اور متحدہ ہندوستان کے حامی رہے۔
انقلابی تحریک اور قومی اتحاد
بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان، سکھ دیو اور راج گرو جیسے انقلابی نوجوانوں نے مذہبی امتیاز کے بغیر آزادی کی جدوجہد کی، اشفاق اللہ خان اور رام پرساد بسمل کی دوستی قومی یکجہتی کی ایک روشن مثال ہے۔
ادب اور صحافت کا کردار
اردو، ہندی، بنگالی اور دیگر زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں نے قومی اتحاد کا پیغام عام کیا،علامہ اقبال، محمد علی جوہر، حسرت موہانی، رابندر ناتھ ٹیگور، پریم چند اور دیگر اہلِ قلم نے اپنی تحریروں کے ذریعے آزادی اور اتحاد کا شعور بیدار کیا،اخبارات جیسے الہلال، کامریڈ، زمیندار اور ینگ انڈیا نے بھی عوام کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
خواتین کا کردار 
قومی یکجہتی کے فروغ میں خواتین نے بھی نمایاں خدمات انجام دیں، سروجنی نائیڈو، ارونا آصف علی، کستوربا گاندھی، بی اماں اور دیگر خواتین نے تحریکِ آزادی میں بھرپور حصہ لیا اور خواتین کو قومی جدوجہد میں شریک ہونے کی ترغیب دی۔
مسلمانوں کا کردار
تحریک آزادی میں مسلمانوں کی خدمات نہایت نمایاں ہیں، مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، خان عبد الغفار خان، مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی جیسے رہنماؤں نے آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔
 قومی یکجہتی کے ثمرات
قومی اتحاد کے نتیجے میں آزادی کی تحریک ایک عوامی تحریک بن گئی، انگریز حکومت کو احساس ہوا کہ ہندوستانی عوام متحد ہو چکے ہیں، جس کے باعث 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، اگرچہ تقسیمِ ہند نے اتحاد کو نقصان پہنچایا، لیکن آزادی کی جدوجہد میں قومی یکجہتی کی مثال آج بھی تاریخ کا روشن باب ہے۔
عصرِ حاضر میں قومی یکجہتی کی اہمیت
آج بھی ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں قومی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے، آزادی کی تحریک ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اتحاد، رواداری، اخوت اور باہمی احترام ہی قومی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہیں، نئی نسل کو چاہیے کہ وہ آزادی کے مجاہدین کے اتحاد اور قربانیوں سے سبق حاصل کرے،ہندوستان کی آزادی کی تحریک اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ قومی اتحاد ہر بڑی کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے،مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانیوں نے متحد ہو کر برطانوی استعمار کو شکست دی، آج بھی قومی یکجہتی ہی ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور آزادی کی تحریک کی یہی میراث ہمیں مستقبل میں بھی اتحاد، امن اور ترقی کی راہ دکھاتی رہے گی۔
حوالہ جات
(1 بپن چندر،Penguin Books، India's Struggle for Independence ،  نئی دہلی، 1989۔
(2 مولانا ابوالکلام آزاد،  Orient Longman، India Wins Freedom،  1959۔
SADIYA FATEMA BASIT ALI KHAN 
NANDED 431604 MAHARASHTRA 
Cell:  8485884176
Email:   sadiyafatemakhan@gmail.com
***

یہ تحقیقی مضمون تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی کی اہمیت اور مختلف طبقات کی مشترکہ جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسے مزید تحقیقی، ادبی اور تاریخی مضامین کے لیے قادرالکلام ماہنامہ سے جڑے رہیے۔یہ مضمون ماہ نامہ قادرالکلام جلد(1) شمارہ (11) اگست میں شائع ہوا۔ 

No comments:

Post a Comment

تحریک ِ آزادی ٔ ہند میں قومی یکجہتی

سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنم...