Breaking News

New Issue Published • Sepember 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • ستمبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Thursday, September 17, 2026

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )


"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

 فارسی ادب کا  دامن علمی اعتبار  سے مالامال ہے۔ طاہری دور سے صفوی اور قاچاری دور کے علما ئے  ادب نے بے شمار نادر و نایاب کتابیں تصنیف کیں جن میں رودکی، دقیقی، اور فردوسی کا شاہ نامہ، رومی کی مثنوی معنوی، عطار کی منطق الطیر اور تذکرہ اولیاء، طوسی کا سیاست نامہ، غزالی کی کیمیائے سعادت، سمرقندی کا چار مقالہ اور سعدی کی گلستان و بوستان خصوصیات کے ساتھ قابل ذکر شاہ کار ہیں۔ انھیں کتابوں میں ایک معروف کتاب کلیلہ و دمنہ ہے، جسے سنسکرت، پہلوی، عربی اور فارسی ادبیات نے اپنے اپنے دامن میں سجا کر اپنے حسن کو حسین تر و وسیع کرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی پہلی کتاب ہے جو  تراجم کے مختلف مرحلوں سے گزری اور مختلف ناموں سے مشہور ہوئی، اس کے اصلی نام  وجہ تصنیف  اور مصنف و مؤلف کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، کلیلہ و دمنہ کے متعلق عوفی کی رائے مختلف ہے تو دولت شاہ سمرقندی کی رائے مختلف۔ براؤن کی تحقیق کچھ اور کہتی ہے تو رضا زادہ شفق اور ملک الشعرا بہار کی تحقیق کچھ اور۔ بہرحال بیش تر تذکرہ نگار اور محققین اس بات پر متفق ہیں اور خود کلیلہ و دمنہ کا مقدمہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس کی اصل سنسکرت ہے اور اس کا نام پنچ تنتر ہے اور اس کا مصنف و شنوشرما ہے۔ وجہ تصنیف کے متعلق ایک معتبر روایت یہ ملتی ہے کہ قدیم ہندوستان جہاں تہذیب و تمدن کا گہوارا تھا اور علم کی دیوی جہاںنواس کرتی تھی وہیں راجاؤں کے بیٹے علم سے گریزاں  رہتے تھے اور لاکھ کوشش و کاوش کے بعد بھی ان کا دل مائل بہ علم نہیں ہوتا تھا۔ وشنو شرما نے انھیں شہزادوں کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے سرلی اور پنچ تنتر تحریر کی۔
اس کتاب میں تمام سیاسی اور معاشرتی پہلو جانوروں کی زبان سے بیان ہوئے ہیں اور انداز ِ بیان انتہائی دل کش و دل فریب ہے۔ شہزادوں نے انتہائی دل چسپی سے اس کتاب کو پڑھا اور ان کی تعلیم و تربیت کا مسئلہ حل ہوا۔ عہد ساسانی یعنی نوشیرواں عادل کا زمانہ بھی علمی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نوشیرواں کی معارف پروری، زرپاشی و کشادہ ظرفی سے نہ صرف کشور کشائی ہوئی بلکہ علم کو بھی عروج حاصل ہوا اور بے شمار و نایاب کتابیں ہر فن پر تصنیف ہوئیں۔ نوشیرواں عادل کا ہی ایک طبیب (برزویہ) پنچ تنتر کا ایک نسخہ ہندوستان سے نقل کر کے ایران لے گیا اور اس کا ترجمہ پہلوی زبان میں کیا۔ اس کے بعد حکیم برزویہ کی درخواست پر ڈاکٹربرجمبر نے بابِ برزویہ کے نام سے ایک اور باب لکھ  کر اس کتاب میں شامل کر دیا ۔
پنچ تنتر کا جب پہلوی ترجمہ ہوا تو یہ کتاب ’’کلیلک ودمنک‘‘ نام سے موسوم ہوئی۔ مؤلف ادبیاتِ فارسی کہن، کے صفحے ۲۹۱  پر کلیلہ و دمنہ کے تراجم کا بیان ان الفاظ میں کرتا ہے۔
         ’’کتابـــ  ـ ’کلیلہ ودمنہ ‘  (کرتکا۔دمنکا) در دوران پادشاہی خسرو انوشیروان از زبان سانسکرت بہ پھلوی برگرداندہ شد و در دوران   منصور دوانقی، خلیفہ ٔ  عباسی توسط ابن مقفع از زبان پہلوی بہ عربی ترجمہ شد، رودکی شاعر نامی عہد سامانی نیز آن را بہ نظم آورد کہ چند بیتی 
        از آن در دست است، کلیلہ و دمنہ معروف بہ بہرامشاہی دو حدود سال ۵۳۸ ہجری توسط ابوالمعالی نصراللہ بن محمد بن عبدالحمید از متن عربی    یاد شدہ بہ فارسی برگرداندہ  شدہ است کہتی از آن آوردہ می شود۔‘‘
آں حضرت صلی للہ علیہ و سلم کی ہجرت سے اکیس (۲۱) سال بعد ایرانیوں اور عربوں میں نہاوند کے مقام پر ایک مشہور جنگ ہوئی، جس میں ایرانیوں کو شکست ہوئی اور عہد ساسانہ کا خاتمہ ہوا۔  عربوں نے اس مشہور جنگ کو فتح الفتوح کا نام دیا۔ اس جنگ کے بعد پورا ایران عربوں کی تاخت و تاج کا میدان بن گیا۔ ایران کی سلطنت خلافت کی تابع ہوگئی  اور دو سو سال تک عرب ایران پر حکومت کرتے رہے اور عربی زبان ایران کی زبان ہو گئی۔ اس زبان نے اتنا گہراپائیدار اور ہمہ گیر اثر ڈالا کہ بہت سے ایرانی عالموں نے اس زبان میں شعر کہے ، اس زبان میں خط و کتابت کی اور اس زبان کی ترویج وتعلیم میں کوشاں رہے۔
ایران کے بہت سے عالموں نے بعض پہلوی کتابوں کو عربی میں منتقل کر کے عربوں پر نئے علوم کے دروازے کھولے اور وہ قوم جس میں اسلام کی ابتدا کے وقت گنتی کے چند لوگ کے سوا پڑھنا لکھنا تک کسی کو نہ آتا تھا، اسی قوم نے ایران اور دوسری قدیم قوموں سے ادبیات، تاریخ اور دوسرے علوم میں استفادہ کر کے جاحظ بصری اور ابوالفرج جیسے مصنفوں کو پیدا کیا۔
عربوں کے دورِ حکومت کے ایرانی عربی نویس مشہور علماء میں ایک شخص عبداللہ بن مقفع ہے۔  یہ دوسری صدی ہجری کی ابتدا میں فارس میں پیدا ہوئے اور ان کا ایرانی نام روز بہ پسرا ذویہ تھا۔ انھوں نے بہت سی پہلوی کتابوں کو عربی میں منتقل کیا اور خود علم و ادب میں کئی کتابیں لکھیں۔ پہلوی زبان سے ان کے اہم ترین ترجموں میں ایک کلیلہ و دمنہ بھی جو عربی کی مشہور ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ پہلوی میں یہ کتاب کلیک و دمنک تھی لیکن جب اس کا عربی ترجمہ ہوا تو یہ کلیلہ و دمنہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ ابن مقفع نے ترجمے کے ساتھ چند عربی حکایات کا اضافہ بھی کیا اور قدیم سنسکرت و پہلوی حکایات کو ترک بھی کیا۔ یہ کتاب اس قدر مشہور ہوئی کہ ابن مقفع ہی کی ہو کر رہ گئی۔
عرب سے آزادی کے بعد عہدِ سامانی یعنی چھٹی صدی ہجری کو فارسی زبان اور فارسی ادبیات کی ترقی کا دور شمار کیا جاتا ہے۔ صاحب تذکرہ لباب الالباب نے ایسے  ۲۷  شاعروں کے نام لیے ہیں جو اس دور میں موجود تھے، سامانیوں کا پایہ تخت بخارا بڑے بڑے فقیہوں، ادیبوں اور مصنفوں کا مرکز تھا۔ بعد اسلام فارسی نظم و نثرکی  بنیاد اسی  دور میں رکھی  گئی اور اسی دور کے مشہور شاعر رودکی سمرقندی نے نصر بن احمد سامانی کے دور میں ابن مقفع کی کلیلہ و دمنہ کو فارسی نظم میں ترجمہ کیا۔ اندازِ بیان انتہائی سادہ، شیریں اور دل کش ہونے کے سبب کلیلہ و دمنہ کی شہرت اور مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہوا۔ اس کے بعد سلجوقی عہد میں جس میں سنائی، عطار، انوری، قطران تبریزی، اور ظہیر فارابی جیسے شاعر پیدا ہوئے وہیں نظام الملک طوسی، نظامی عروضی سمرقندی، امام غزالی اور شیخ ہجویری جیسے محققین و مصنفین بھی پیدا ہوئے۔ اسی دور کے ایک مشہور محقق و مصنف ابوالمعالی حمید اللہ محمد بن عبدالحمید غزنوی نے بہرام شاہ غزنوی کے دور میں ابن مقفع اور رودکی سمرقندی کی کلیلہ و دمنہ کو فارسی نثری جامہ عطا کیا۔ یہ کتاب ۵۳۹ میں ترجمہ ہوئی، اور ۵۵۵ میں اس کتاب کے مؤلف کا انتقال ہوا۔ ابوالمعالی کے بعد نویں صدی ہجری کے مشہور مصنف ملا حسین واعظ کاشفی نے کلیلہ و دمنہ کو بالکل نئے انداز میں ترجمہ کیا۔ حسین واعظ کاشفی اپنے عہد کا انتہائی کامیاب نثر نگار ہے۔ وہ اپنی عبارت میں ایسی رنگینی اور جابجا  ایسے موزوں اشعار چسپاں کرتا ہے کہ نظم کا لطف آ جاتا ہے۔ اس کی عبارت کے متعلق یہ تبصرہ بلکل درست ہے:
             ’’گلستاں کے سے بے تکلف اور سہل ممتنع فقرے ہیں اور نثر  ِ ظہوری   کے  پینچ در پینچ استعارات و ضائع ہیں۔       اور دہے مگر اعتدال کے ساتھ، مترادف الفاظ اور جملے ہیں مگر تکلف دہ نہیں۔‘‘
حسین واعظ کاشفی نے جب کلیلہ و دمنہ کا ترجمہ کیا تو اس کا نام انوار سہیلی رکھا۔ یہ کتاب امیر شیخ احمد سہیل کے نام منسوب ہے، حسین واعظ کاشفی کی یہ خواہش تھی کہ کلیلہ و دمنہ زبان انتہائی سادہ و شیریں بنا کر پیش کرے اور اس میں شامل عربی ارمسال و حکم کو خارج کر کے اور بہترین انداز میں فارسی حکایات اور مثالیں پیش کرے لیکن وہ اپنے مقصد میں ناکام رہا کیوں کہ انوارسہیلی میں بہت زیادہ تکلف اور تصنع پایا جاتا ہے، اور عربی الفاظ کی بھرمار بھی ہے۔ اس کے باوجود بھی انوار سہیلی کو فارسی کی مشہور ترین کتابوں کی صف میں رکھا جاتا ہے اور خصوصی طور پر ہندوستان میں یہ کتاب بہت ہی مشہور و مقبول ہے۔ کلیلہ و دمنہ پر بہرامشاہی کا اندازبھی دیکھیے۔
’’رائے گفت برہمن را کہ شنودم داستان آن کس کہ بے رویت و فکرت، خود را در دیائے حیرت و ندامت انداختہ،  و بستہ دامِ پیشمانی و غرامت گردانید، اکنون باز گوئی داستان آن کس کہ گردشمنان بسیار از چپ و راست پس وپیش      او در آئند، چنانکہ در چنگال ہلاک و قبضۂ تلف افتد، پس مخرج خویش در ملاطفت و موالات یکی از ایشان بیند،         و بسلامت بہ جہد، و اگر از این باب میسر نتواند شد، گردِ ملاطفت چگونہ بر آید،  و صلح بچہ طریق التماس ننماید؟ـ‘‘
کلیلہ و دمنہ میں رنگینی پیدا کرنے اور خارجی حسن بڑھانے کے لئے کثرت سے صنائع و بدائع کا استعمال ہوا ہے۔ شاعرانہ صنائع مثلاً تنسیق لصفات، سیاقۃ الاعداد، اضداد، جمع و تفریق اور قافیہ وسجع وغیرہ کلیلہ و دمنہ کے اوراق پر کثرت سے نظر نواز ہوتے ہیں لیکن ان صنائع کو اتنی لطافت اور مہارت سے استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی روانی، سادگی و سلاست اور موزونیت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا اور نہ ہی معانی میں کوئی الجھاو  پیدا ہوتا ہے۔
حسین واعظ کاشفی نے کلیلہ و دمنہ کے علاوہ مخزن الانشاء، روضۃ الشہداء، مواحب الہیہ، جواہر الاسرار، فتون نامۂ سلطان ، اختیارات، سبعہ ٔ کاشفیہ، اور لب لباب مثنوی بھی تحریر کی۔ علمِ قرآن اور حدیث کے علاوہ حکمت، ادب اور نجوم میں بھی اسے مہارت حاصل تھی۔عہدمغلیہ کی  تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام فنون لطیفہ خصوصاً علم و ادب کی ترقی کے اعتبار سے یہ عہد انتہائی ممتاز عہد ہے۔ یہ وہ زرّیں عہد ہے، جس میں فارسی شعر و ادب اور علوم و فنون اوج کمال پر پہنچے۔ اس زمانے میں ایران میں مغولوں کی حکومت تھی لیکن ان دونوں مملکتوں کے تقابلی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دورِ ہند کا فارسی ادب دورِ مغلیہ کے مقابلے میں ممتاز منفرد ہے، اس لحاظ سے ہندوستان کے دورِ مغلیہ کو صفویون پر  فوقیت حاصل ہے، مغلیہ عہد کے دربار دہلی کو  اہلِ ایران ’’دربار ثانی ایران ـ‘‘کے نام سے یاد کرتے ہیں، چنانچہ ملک الشعراء بہار رقم طراز ہیں کہ:
 ’’دہلی دربار میں فارسی زبان کے ساتھ ساتھ فارسی علوم و ادبیات کا رواج دربارِ اصفہان کی نسبت کہیں زیادہ تھا۔ 
اس عہد میں جو تاریخیں لکھی گئیں  اپنا جواب نہیں رکھتی ہیں۔‘‘
برزویہ نے کلیلہ و دمنہ میں طب، طبیب اور طب کی اہمیت و افادیت کا ذکر اس انداز سے کیا ہے، بابِ برزویہ طبیب کا یہ اسباق پیشِ خدمت ہے:
’’چنین گوید برزویہ، مقدم اطبای پارس، کہ پدر من از لشکریاں بود، و مادرمن از خانۂ  علمای دین زردشت بود، و اول نعمتی کہ ایزد،تعلی وتقدس ، بر من تازہ گردانیددوستی و پدر و مادر بود و شفقت ایشان بر حال من، چنانکہ از برادران و خواہران مستثنی شدم وبمز ید تربیت  و ترشح مخصوص گشت، و چون سال عمر بہفت رسید مرا برخواندن علم طب تحریض نمودند، و چندانکہ اندک و قونی افتادو فضیلت آن  بشنا ختم  برغبت  صادق و حریص غالب در تعلم آن می کو  شیدم ،  تا بدان صنعت شہرتی یافتم و در معرض معالجت  بیماران آمد، آنگاہ نفس خویش را میان چہار کار کہ تگاپوی  اہل دنیا از آن نتواند گذشت مخیر گردانیدم: وفورمال و،لذتِ حال و ،ذکرِ سایرو،  ثوابِ باقی، و پوشیدہ نماند کہ علمِ طب نزدیک  ھمہ خردمندان و در تمامی دینہا ستودہ ست،  و در کتبِ طب آوردہ اند کہ فاضل تر اطبا آنست کہ بر معالجت از جہتِ ذخیرتِ آخرت مواظبت  نماید، کہ بملا زمت این سیرت نصیب دنیا  ھر چہ کال  تر بیا بد و رستگاری عقبی مدخر گردد، چنانکہ غرض کشاورز در پراگندن تخم دانہ باشد کی  قوت اوست، اما کاہ کہ علفِ ستوران  بتبع آن  ھم  حاصل آید، در جملہ براین کار اقبال تمام کردم ہرکجا  بیماری نشان یافتم کہ دروی امید صحت بود معالت او بر وجہ حسبت بردست گرفتم، و  چون  بکچندی بگذشت و طایفہ ای را از امثالِ خورد و مال وجہ بر خویشتن سابق دیدم نفس بدان مائل گشت، و  تمنی مراتب این جہانی بر خاطر گذشتن گرفت، و نزدیک آمد پای از جای بشود، با خود گفتم۔‘‘
حسین واعظ کاشفی نے کلیلہ و دمنہ کا انوارسہیلی کے نام سے جو ترجمہ کیا تھا اس کی عبارت بہت ہی رواں دواں، سلیس اور شیریں تھی۔ انوارِ سہیلی باب دوم  ’’در  سزا یافتن بدکاران و شامت عاقبت ایشان‘‘کے عنوان سے جو حکایت آئین تحریر کی ہے اس کی بھی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے:
’’پلنگ گفت آوردہ اند کہ روباہی گرسنہ بطلب طمعہ از سوراخ بیرون آمدہ ہر جانبی سیر میکرد و بجہتِ لقمہ
  اطرافِ بیابان بقدمِ حر ص و شرہ می  پمیود نا گاہ رائجہ کی مدد فوت  روح  او تواند بود بمشامش رسید بر اثر
  آن توجہ نمودہ پوستِ پارہ تازہ و دید کہ یکی از سباع گوشتش خوردہ بود و پوست رہا کردہ چشم روباہ بر آن پوست
  پارہ افتاد  روشنا ئی یافت و بدان مقدار قوتِ قوی ہر چہ تمامتر در اجزای وی پدیدآمد۔‘‘
ترجمہ: چیتے نے کہا کہ لوگوں سے یہ روایت ہے کہ ایک بھوکی لومڑی غذا کی تلاش میں اپنے غار سے باہر آئی اور غذا کی تلاش میں اپنے قدموںسے جنگل کے کونے کونے ناپ رہی تھی، اچانک ایک مہک  جو اس کی روح کی قوت کے لیے مددگار ہو سکتی تھی، اس کی ناک تک پہنچی جس کے اثر سے اس نے تیزی دکھائی۔ اس نے ایک تازہ  کھال  کا ایک ٹکڑا دیکھا جس کو کسی درندے نے گوشت کھا کر چھوڑ دیا تھا،  لومڑی کی نظر اس  کھال  کے ٹکڑے پر پڑی اور آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی، اس قدر قوت کی مقدار حاصل کی کہ ایک قسم کی قوت اس کے تمام اعضا میں پوری طرح ظاہر ہو ئی۔
حسین واعظ کاشفی نے انوار سہیلی میں ایک گدھا کی کہانی کو شعری انداز میں اس طرح بیان کیا ہے۔ عبارت، نظم فارسی اور اس کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے:
بودہ است خری کہ دم نبودش  روزی دم بید می فزودش
د ر  دم طلبی قدم  ہمی زد      دم  می  طلبید و دم  نمی زد
نا گہ نہ  ز  راہ  اختیاری        بگذشت میان کشت زاری
دہقان  مگر ش  ز گو شہ دید      برجست ازو دو گوش  ببرید
مسکین  خرک آ رزوی دم کرد    نا یافتہ دم  دو گوش گم کرد  
آنکس کہ زحد  نہد برون گام    اینست سزای او بسر انجام 
ترجمہ: ایک گدھا تھا جسے دم نہیں تھی اور وہ دم کی خواہش میں نکلا اور اس خیال میں ایک کھیت سے گزرا اور کسان نے اس کو دیکھتے ہی اس پر حملہ کر کے اس کے دونوں کان کاٹ دیے۔ بیچارے کے گدھے نے دم کی آرزو کی، دم تو نہیں ملی، مزید برآن  اپنے دونوں کانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ جو کوئی حد سے زیادہ حرص کرتا ہے انجام کار اس کا نتیجہ ایسا ہی برا  ہوتا ہے۔
اس عہد کے علما ے ٔ  ادب نے جس فن پر بھی قلم اٹھایا اس کا حق ادا کیا۔ اس دور میں تاریخ نویسی کے ساتھ ساتھ شاعری اور تراجم کے فن کو بھی کافی ترقی نصیب ہوئی، سنسکرت، عربی، پہلوی، اور ہندی کی بیشمار مذہبی اور غیر مذہبی کتابیں فارسی نظم و نثر میں ترجمہ ہوئیں۔ کلیلہ و دمنہ کی شہرت و مقبولیت کو دیکھتے ہوئے مشہور مغل بادشاہ اکبر نے اپنے جدید انداز میں ترجمہ کرنے کا حکم دیا، ابوالفضل نے بالکل نئے انداز میں ترجمہ کیا۔ اس میں چند فارسی اشعار کا اضافہ کیا اور اس کتاب میں کچھ سیاسی الجھاو  بھی پیدا کیا  اور اس کے حل کا طریقہ بھی پیش کیا۔ ابوالفضل نے اپنی اس کتاب کا نام‘‘عیارِ دانش’’رکھا۔ دنیا ے ٔ  فارسی کی تاریخ میں کوئی بھی ایسی کتاب نہیں ہے جو مختلف زبانوں میں ترجمہ کے علاوہ ایک ہی زبان میں کئی صورتوں میں لکھی گئی ہو۔ یہ کتاب بادشاہوں کی مونس، علماء کی منظورِ نظر، اور عوام کی انیس رہی ہے اور کئی صدیان گزر جانے کے بعد بھی لا ثانی و لافانی ہے۔  
Prof. Shahid Naukhez Azmi
Former Director CUCS ,MANUU 
Hyderabad
****

یہ مضمون قادرالکلام ماہنامہ میں شائع کیا جا رہا ہے۔ مزید علمی، ادبی اور تحقیقی مضامین کے لیے قادرالکلام سے جڑے رہیے۔ یہ مضمون جلد (1) شمارہ (12)   ستمبر 2026 میں شائع کیا گیا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )

"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، اد...