Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label ادبی تحقیق. Show all posts
Showing posts with label ادبی تحقیق. Show all posts

Wednesday, September 30, 2026

مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر: ایک تجزیاتی مطالعہ


’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ طاہرہ خاتون کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی معروف کتاب ’’غبارِ خاطر‘‘ کے ادبی، فکری اور اسلوبی پہلوؤں کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

طاہرہ خاتون

  مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ تاریخی نام فیروز بخت، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ مولانا آزاد  ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز، تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ وہ اردو ادب میں ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ شاعر، ادیب، صحافی، عربی و فارسی کے جید عالم، مفکر ِ اسلام، مفسرِ قرآن، دانش ور اور سیاست دان کے طور پر ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی ان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

اردو ادب میں مولانا آزاد کے نمایاں کارناموں میں ان کی سیاسی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedom اور خطوط کے مجموعے غبارِ خاطر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غبارِ خاطر قلعہ احمد نگر میں قید کے دوران ان کے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ ۴۲ خطوط پر مشتمل ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے مضامین انشائیوں کی شکل میں موجود ہیں۔ مولانا آزاد نے اس کتاب کا نام امیر عظمت اللہ بے خبر بلگرامی کے مختصر رسالے غبارِ خاطر سے مستعار لیا۔ غبارِ خاطر کے تمام خطوط کئی لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ ان میں مولانا آزاد کی ابتدائی زندگی، تعلیم، عادات و نفسیات، کردار اور ان کے شخصی ارتقا کے عوامل کی تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ خطوط اس نیت سے نہیں لکھے گئے تھے کہ انھیں شائع کیا جائے، لیکن رہائی کے بعد مولوی محمد اجمل خان کے اصرار پر ان خطوط کو مجموعے کی شکل میں۱۹۴۶ء میں شائع کیا گیا۔ بعد میں مالک رام نے مزید تحقیق کے ساتھ۱۹۶۷ء میں اسے دوبارہ شائع کیا۔

Tuesday, September 29, 2026

نسائی آواز اور اردو شاعری


یہ مضمون معروف ادیب و محقق ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا ہے، جسے قارئین کے ادبی و تحقیقی مطالعے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

 ڈاکٹرصفیہ فاطمی

 معاشیات میں ایک باب ہے محنت کی تقسیم جس کے مطابق ذمے داری دیتے وقت کام کرنے والے کی صلاحیت ، ضرورت اور حدود کاخیال رکھنا ہوتاہے۔ اسے درجہ بندی یافرق مراتب بھی کہہ سکتے ہیں، بھید بھاؤ نہیںکہہ سکتے ۔ مشہور کہاوت ہے کہ مضبوط پیٹھ پرہی زیادہ بوجھ ڈالا جاسکتاہے۔ موڈرن مینیجمنٹ کایہ طریقۂ کار فطری قوانین کی بنیاد پرہے۔خالق کائنات نے اپنی مخلوق کومختلف صلاحیتوں سے نوازاہے۔ کسی کو بھی اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیںدیا ۔اس کی ایک بنیادی وجہ درجہ بندی ہے، جہاں صنفی مساوات کاخیال رکھا گیا ہے۔ وخلقناکم ازواجا ۔ سورۃالنباا ٓیت ۸
زوج کایہ تصورصرف انسان ہی میں نہیں بلکہ دیگرحیوانات میں اورنباتات میں بھی ہے، شاید جمادات میں بھی ہے ۔ 
خلق الازواج کلھامما تنبت الارض ۔ سورہ یسٓ ۔آیت ۳۶
ومن کل شیء خلقنا زوجین ۔ سورۃ الذاریات۔آیت ۴۹
صلاحیت کے اسی فرق کے تحت  بچے کی پیدائش سے لے کر تربیت کی ذمہ داری خواتین کے سپرد کی گئی ۔ اس سلسلے کے بیش تر الفاظ مونث یعنی استری لنگ یعنی  Feminine Gender   سے تعلق رکھتے ہیں۔پیدائش ، پرورش،تربیت ، تعلیم ،  ترقی ، بولی ، زبان ، بھاشا، خواندگی ، پڑھائی ، لکھائی ، بھوک، روشنی ، خوراک، توانائی، کھیتی ، روئیدگی ، خوشی ، امید ، بناوٹ ، سجاوٹ ، کتاب، روح، زندگی، ولایت ، کرامت ، فضیلت ، عزت ، دولت، شہرت،  صلاحیت، مہارت، موت، قبر وغیرہ وغیرہ یعنی ابتدا سے انتہا تک مونث ہی ہے۔ بچے نے ماں کے شکم میںپرورش پائی تھی، اس تصور نے مادر وطن یعنی ماتری بھومی یعنی    Mother Land  کاتصور مستحکم کیا۔ دنیامیںکہیں بھی پدر وطن کاتصور نہںملتا۔ ماں نے بچے کے منھ میںاپنی زبان ڈال دی ۔ اسی زبان کومادری زبان  یعنی ماتری بھاشا یعنی Mother tongueکہتے ہیں، کہیںبھی پدری زبان کاتصور موجود نہیںہے۔ ایک مالک کے دو چار کاروبار یا دوچار کارخانے ہوں تو سب کو  Sister Concern کہا جاتاہے Brother Concern  نہیں کہا جاتا۔

Thursday, September 17, 2026

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )


"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

 فارسی ادب کا  دامن علمی اعتبار  سے مالامال ہے۔ طاہری دور سے صفوی اور قاچاری دور کے علما ئے  ادب نے بے شمار نادر و نایاب کتابیں تصنیف کیں جن میں رودکی، دقیقی، اور فردوسی کا شاہ نامہ، رومی کی مثنوی معنوی، عطار کی منطق الطیر اور تذکرہ اولیاء، طوسی کا سیاست نامہ، غزالی کی کیمیائے سعادت، سمرقندی کا چار مقالہ اور سعدی کی گلستان و بوستان خصوصیات کے ساتھ قابل ذکر شاہ کار ہیں۔ انھیں کتابوں میں ایک معروف کتاب کلیلہ و دمنہ ہے، جسے سنسکرت، پہلوی، عربی اور فارسی ادبیات نے اپنے اپنے دامن میں سجا کر اپنے حسن کو حسین تر و وسیع کرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی پہلی کتاب ہے جو  تراجم کے مختلف مرحلوں سے گزری اور مختلف ناموں سے مشہور ہوئی، اس کے اصلی نام  وجہ تصنیف  اور مصنف و مؤلف کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، کلیلہ و دمنہ کے متعلق عوفی کی رائے مختلف ہے تو دولت شاہ سمرقندی کی رائے مختلف۔ براؤن کی تحقیق کچھ اور کہتی ہے تو رضا زادہ شفق اور ملک الشعرا بہار کی تحقیق کچھ اور۔ بہرحال بیش تر تذکرہ نگار اور محققین اس بات پر متفق ہیں اور خود کلیلہ و دمنہ کا مقدمہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس کی اصل سنسکرت ہے اور اس کا نام پنچ تنتر ہے اور اس کا مصنف و شنوشرما ہے۔ وجہ تصنیف کے متعلق ایک معتبر روایت یہ ملتی ہے کہ قدیم ہندوستان جہاں تہذیب و تمدن کا گہوارا تھا اور علم کی دیوی جہاںنواس کرتی تھی وہیں راجاؤں کے بیٹے علم سے گریزاں  رہتے تھے اور لاکھ کوشش و کاوش کے بعد بھی ان کا دل مائل بہ علم نہیں ہوتا تھا۔ وشنو شرما نے انھیں شہزادوں کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے سرلی اور پنچ تنتر تحریر کی۔

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...