"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
ماہنامہ قادرالکلام (Qadar ul Kalam)
ISSN: 3139-1028
Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal
قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔ اس شمارے میں اردو ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، فکشن، کلاسیکی ادبی روایت اور عصرِ حاضر کے اہم علمی و ادبی موضوعات پر معیاری اور تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
اس شمارے میں ’’کلاسیکی روایت اور جدید ادبی شعور‘‘ میں پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا مقالہ ’’شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)‘‘ شامل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا مضمون ’’نسائی آواز اور اردو شاعری‘‘، فہیم خاتون مسرت کا ’’نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ‘‘ اور طاہرہ خاتون کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر‘‘ اس شمارے کی علمی و تحقیقی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔اسی طرح زینت پروین کا ’’اردو فکشن میں نسائی فکر کی ابتدا‘‘، غزالہ ہاشمی کا ’’جانے کتنے موڑ: موضوع و اسلوب‘‘ اور ڈاکٹر فریدہ تبسم کا ’’ڈپٹی نذیر احمد اور توبۃ النصوح‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔ جدید عہد کے اہم علمی موضوعات کی نمائندگی سعدیہ فاطمہ کے مضمون ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا بدلتا ہوا کردار‘‘ سے ہوتی ہے۔ وغیرہ شامل ہے۔
یہ شمارہ اردو ادب کے کلاسیکی ورثے سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک متنوع علمی و ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ محققین، اساتذہ، طلبہ، ریسرچ اسکالرز، ادباء اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ شمارہ خصوصی مطالعے کا حامل ہے۔
📖 ستمبر کے تازہ شمارے کے مکمل مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے قادرالکلام کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں۔
نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)
اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے
دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے
قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے
کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے
تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک
ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک
ڈاکٹرفریدہ تبسم
1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔
1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔
ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی)
برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔
بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔
ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو ؎
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی
دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔
جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:
’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘
یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘
الحمدللہ! ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ماہنامہ قادرالکلام، حیدرآباد (انڈیا) کے خصوصی شمارے کے متعلق سرٹیفکیٹس اور کتابیں بذریعہ اسپیڈ پوسٹ روانہ کر دی گئی ہیں۔ 📚📜
ان شاء اللہ، تمام معزز قلم کاروں اور محققین کو ان کی کتابیں اور سرٹیفکیٹس عنقریب موصول ہو جائیں گے۔
تمام متعلقہ احباب سے گزارش ہے کہ وصولی کے لیے چند دن انتظار فرمائیں۔
🌐 مزید تفصیلات اور تازہ معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:
www.qadirulkalam.com
📱 مزید معلومات اور رابطے کے لیے واٹس ایپ:
8885303386
آپ کے علمی و ادبی تعاون اور اعتماد کے لیے تہہ دل سے شکریہ۔
قادرالکلام
علم، تحقیق اور ادب کے فروغ کا سفر ✨
پروفیسر مجید بیدار
جمہوریت میں صحافت کو تیسری آنکھ کا درجہ حاصل ہے۔ تحریک ِآزادی ہی نہیں بلکہ جدوجہد ِآزادی میں ہندوستان کی صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس قدر انقلابی نعرے اور وطن پرستی کے جذبات کو ابھارنے میں اردو زبان نے حق ادا کیا ہے‘ اس کی مثال ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ملنی مشکل ہے۔ 1857ء کے بعد سے لے کر 1947ء تک ہندوستان میں اردو اخبارات ‘ رسائل اور جرائد نکالنے والے مدیران یا ان سے وابستہ افراد نے صحافت کو تجارت پیشہ یا پھر ایک وسیلۂ اظہار کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے اخبارات سے وابستہ ہوکر جدوجہد آزادی کو تیزتر کرنے میں اردو صحافت کو ایک تحریک کا درجہ دے دیا اور اپنے کالموں‘ اداریوں اور خبروں کے ذریعہ ہندوستانیوں میں اتحاد اور میل جول کا ماحول پیدا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ غدر سے لے کر ہندوستان کی آزادی تک کے تمام اردو اخبارات کا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اردو صحافت نے کبھی عصبیت ‘ فرقہ واریت‘ علاقہ واریت یا پھر مذہب کی فضا استوار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ صاف طور پر ظاہر ہوجاتا ہے کہ شمالی اور جنوبی ہند سے اردو میں شائع ہونے والے تمام اخبارات نے صرف ایک مقصد کے لیے اپنی صحافت کے جوہر دکھائے اور وہ مقصد تھا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروایا جائے اور ہندوستانیوں میں حب الوطنی کے جذبے کو پروان چڑھاکر انھیں سچے دیش بھکت بنایا جائے۔ یہی وجہ رہی کہ تحریک آزادی میں تیزی اور انگریزی سامراج کے خلاف غم و غصہ کی لہر نے عوام میں اس قدر شدت اختیار کرلی کہ 100 سالہ علمی جدوجہد میں ہندوستانیوں کو وہ کامیابی حاصل نہ ہوئی جو 40 سالہ اردو صحافت نے انجام دی۔ بلاشبہ تحریک آزادی میں ہندوستان کی کامیابی کو ہم صحافت کی دین قرار دے سکتے ہیں۔ ہندوستانی سیاسی رہنماؤں اور مختلف مذہبی سربراہوں کے بیانات اخبارات میں شائع نہ ہوئے اور صحافت کے توسط سے عوام تک نہیں پہنچے اور ان کے توسط سے انگریز بربریت کا کچا چھٹا عوام کے سامنے نہ آتا تو آزادی کا حصول حد درجہ دشوار ہوجاتا۔ اخبارات نے جب انگریز ظلم و زیادتی کی رپورٹنگ شروع کی تو ساری دنیا پر حقیقت آشکار ہوگئی کہ ہندوستان کو اپنے زیر نگیں رکھ کر سامراجیت کس طرح مفادات حاصل کررہی ہے۔ انگریزی رویہ کو اردو اخبارات نے صحافت کے ذریعہ طشت از بام کیا جس کی وجہ سے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔
ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM)
ISSN: 3139-1028
Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal
الحمدللہ، قادرالکلام کا یومِ آزادی خصوصی شمارہ (اگست 2026) شائع ہو چکا ہے۔
یہ خصوصی شمارہ تحریکِ آزادی ہند اور اردو ادب کے موضوع پر مبنی ہے، جس میں ممتاز اساتذہ، محققین اور اہلِ قلم کے تحقیقی و تنقیدی مقالات شامل ہیں۔
اس شمارے میں تحریکِ آزادی، اردو صحافت، الہلال، برج نرائن چکبستؔ، مولانا ابوالکلام آزاد، بہادر شاہ ظفر، حسرت موہانی، بیگم حضرت محل، مزاحمتی ادب، اردو شاعری، اردو ناول نگاری، خواتین کا کردار اور دیگر اہم موضوعات پر مستند مقالات شامل کیے گئے ہیں۔
اس شمارے میں ایک اہم انگریزی تحقیقی مقالہ بھی شامل ہے:
The Literary Representation of Colonial Resistance in India and Australia
Dr. Mohammed Kalim Mohiuddin
📖 مطالعہ کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:
🌐 www.qadirulkalam.com
📧 qadarulkalam@gmail.com
📧 qadirulkalam5@gmail.com
📱 WhatsApp: +91 8885303386
#قادرالکلام #اردو_ادب #تحریک_آزادی #آزادی_ہند #اردو_تحقیقی_جریدہ #اردو_صحافت #مولانا_آزاد #بہادر_شاہ_ظفر #حسرت_موہانی #ادبی_تحقیق #PeerReviewed #ResearchJournal
ISSN: 3139-1028
الحمدللہ! قادرالکلام ماہنامہ کا خصوصی شمارہ "آزادیِ ہند اور اردو ادب" اشاعت کے آخری مرحلے میں ہے۔ ملک کی مختلف جامعات، کالجوں اور تحقیقی اداروں سے وابستہ ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے معیاری، تحقیقی اور غیر مطبوعہ مقالات اس خصوصی شمارے میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ — پروفیسر مجید بیدار، حیدرآباد
تحریکِ آزادی اور الہلال — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، حیدرآباد
پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری — نغمہ فردوس، اورنگ آباد
مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات — شہینہ ناز، جمشیدپور
آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری — عامر خان، رام پور
احمد علی: جنگِ آزادی کا گمنام قلم کار — ڈاکٹر صفیہ فاطمی، اسسٹنٹ پروفیسر، دربھنگہ
اردو شاعری اور تحریکِ آزادی — ڈاکٹر ناظم حسین خان، صدر شعبۂ اردو، لکھنؤ
بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد — ڈاکٹر فریدہ تبسم، حیدرآباد
اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری — ڈاکٹر واجدہ بیگم، حیدرآباد
اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار — گل رعنا علی، اسسٹنٹ پروفیسر، آکولہ (مہاراشٹر، انڈیا)
اگر آپ نے اس خصوصی شمارے کے لیے اپنا مقالہ ارسال کیا تھا لیکن کسی وجہ سے آپ کا نام یا مضمون مذکورہ فہرست میں شامل نہیں ہو سکا، تو براہِ کرم فوری طور پر ادارۂ قادرالکلام سے رابطہ کریں تاکہ اشاعت سے قبل آپ کے مقالے کو شامل کیا جا سکے۔
📧 Email:
qadarulkalam@gmail.com
qadirulkalam5@gmail.com
📱 WhatsApp: +91 8885303386
جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں، اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حیرت بدایونی معروف شاعر تھے، اس لیے انہیں بچپن ہی سے ادبی اور علمی ماحول میسر آیا۔ ابتدائی عمر میں ہی شعر و ادب سے شغف پیدا ہوا اور یہی ماحول ان کی تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ بعد ازاں ان کا خاندان حیدرآباد دکن منتقل ہوگیا، جہاں اس خطے کی تہذیبی رنگا رنگی، ادبی روایت اور سماجی تنوع نے ان کے فکر و فن کو مزید وسعت عطا کی۔ انہوں نے کم عمری میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور 1952ء میں ان کا پہلا افسانہ ’’ایک نظر اِدھر بھی‘‘ شائع ہوا، جس نے ادبی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ بعد ازاں افسانہ ’’موم کی مریم‘‘ نے انہیں اردو افسانے کی صفِ اول کی تخلیق کاروں میں شامل کر دیا اور ان کی ادبی شناخت کو مستحکم کیا۔
"پریم چند کی ناول نگاری: ناول ’’نرملا‘‘ کے حوالے سے ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" فریدہ تبسم (کالم نگار) کا ایک اہم تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں منشی پریم چند کے شہرۂ آفاق ناول ’’نرملا‘‘ کا ادبی، فنی اور سماجی تناظر میں تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں جہیز، کم عمری کی شادی، عورت کی سماجی حیثیت، خاندانی رشتوں کی پیچیدگی اور اصلاحِ معاشرہ جیسے اہم موضوعات کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ کیا گیا ہے۔ نیز یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’’نرملا‘‘ صرف ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ اپنے عہد کے سماجی مسائل کی بھرپور عکاسی کرنے والا ایک اہم ناول ہے۔
ڈاکٹر فریدہ تبسم (کالم نگار)
پریم چند کی ناول نگاری کا بنیادی وصف حقیقت نگاری ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں زندگی کے ان پہلوؤں کو موضوع بنایا جن سے عام انسان روزانہ گزرتا ہے۔ ان کے کردار خیالی دنیا کے باشندے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے حقیقی افراد محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے دکھ، محرومیاں، خواہشات، کمزوریاں اور جدوجہد انسانی زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔ پریم چند نے ادب کو سماجی شعور سے وابستہ کیا اور ناول کو معاشرتی مسائل کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بنایا۔
ناول ’’نرملا‘‘ پریم چند کی اہم ترین تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ناول بیسویں صدی کے ابتدائی ہندوستانی معاشرے میں عورت کی حالت، جہیز کی لعنت، ناموافق ازدواجی رشتوں، شک و شبہ کی تباہ کن نفسیات اور خاندانی نظام کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں محض ایک عورت کی داستان بیان نہیں کی بلکہ اس پورے سماجی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو عورت کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ’’نرملا‘‘ ایک سماجی، نفسیاتی اور اصلاحی ناول کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں مصنف نے انسانی جذبات اور معاشرتی ناانصافیوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔
QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)
ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal
📢 *قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)*
*ISSN: 3139-1028*
*خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"*
قادرالکلام ماہنامہ کے خصوصی شمارہ *"آزادیِ ہند اور اردو ادب"* کے لیے ملک کی مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں سے ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے مقالات موصول ہو رہے ہیں۔
*اب تک موصول ہونے والے بعض اہم مقالات:*
🔹 *تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ* — پروفیسر مجید بیدار، *حیدرآباد*
🔹 *تحریکِ آزادی اور الہلال* — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، *حیدرآباد*
🔹 *اردو صحافت کا معمارِ اول: مولوی محمد باقر مجتہد* — ڈاکٹر عبدالعزیز عرفانؔ، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*
🔹 *پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری* — نغمہ فردوس، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*
🔹 *آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری* — (مضمون نگار)، *رامپور، اتر پردیش*
🔹 *مولانا آزاد کی ادبی خدمات* — شہنا ناز، *رانچی*
🔹 *حسرت موہانی کی انقلابی شاعری* — اسما جبین
🔹 *اردو شاعری اور تحریکِ آزادی* — ڈاکٹر ناظم حسین خان، *لکھنو، اتر پردیش*
🔹 *بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد* — ڈاکٹر فریدہ تبسم، *حیدرآباد*
🔹 *اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری* — ڈاکٹر واجدہ بیگم، *حیدرآباد*
🔹 *اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار* — گل رعنا علی، *آکولہ، مہاراشٹر*
✍️ *اگر آپ نے ابھی تک اپنا مقالہ ارسال نہیں کیا تو جلد از جلد روانہ کریں۔*
⏳ *مقالہ ارسال کرنے کی آخری تاریخ: 25 جولائی*
📧 *ای میل:*
qadarulkalam@gmail.com
qadirulkalam5@gmail.com
📱 *WhatsApp:* +91 8885303386
*QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)*
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal
*ISSN: 3139-1028*
مزید مقالات موصول ہونے کے ساتھ یہ فہرست مسلسل اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
The article presents a comprehensive critical study of D. H. Lawrence's celebrated novel Lady Chatterley's Lover, examining its historical background, literary significance, major themes, characterization, symbolism, narrative technique, and critical reception. Readers are invited to explore this insightful research article below.
***
Mohammed Nadeem Mohiuddin
Collomist,
Lady Chatterley's Lover (1928) is one of the most controversial and critically acclaimed novels in twentieth-century English literature. Written by D. H. Lawrence during the final years of his life, the novel explores the intricate relationship between love, sexuality, industrialization, class consciousness, and human identity. While its explicit treatment of sexual intimacy resulted in censorship and legal prosecution for several decades, modern literary criticism recognizes it as a profound philosophical and psychological work rather than merely an "obscene" novel.
The purpose of this study is to present a critical survey of Lady Chatterley's Lover by examining its historical background, thematic concerns, narrative technique, characterization, symbolism, and literary significance. It also investigates the controversy surrounding the novel and its contribution to the evolution of modern English fiction. Through textual analysis and critical interpretation, the study argues that Lawrence's novel is fundamentally a defense of human dignity, emotional fulfillment, and natural relationships against the dehumanizing effects of industrial civilization.
Keywords: D. H. Lawrence, Lady Chatterley's Lover, Modern English Novel, Sexuality, Industrialization, Class Conflict, Censorship, Literary Criticism.
جنوبی ہند (دکن) کی سرزمین تاریخِ عالم میں نہ صرف اپنی جغرافیائی انفرادیت، کہساروں، اور شاداب وادیوں کے لیے معروف ہے، بلکہ یہ خطہ قدیم زمانے سے ہی تہذیب و تمدن، علم و دانش اور اعلیٰ انسانی قدروں کا گہوارہ رہا ہے۔ دکن کی مٹی سے جو ادب پھوٹا، اس کی خوشبو میں صرف فنکارانہ مہارت ہی نہیں بلکہ وہ اخلاقی پیغام بھی شامل رہا ہے جس نے صدیوں تک برصغیر کے سماجی ڈھانچے کو استحکام بخشا۔ جنوبی ہند کے ادب کا مطالعہ کرتے وقت یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہاں کے ادبا، شعرا اور دانشوروں نے قلم کو محض جمالیاتی تسکین یا تخیلاتی پرواز کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اسے معاشرے کی فکری آبیاری اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔
لسانی تنوع اور اخلاقی ہم آہنگی جنوبی ہند کی پانچ بڑی زبانوں یعنی تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور قدیم اردو (دکنی) کے ادبی سرمائے میں ایک قدرِ مشترک اخلاقیات ہے۔ تمل ادب کی بات کی جائے تو 'تروکول (Thirukkural) جیسی عظیم کتاب آج بھی پوری دنیا کے لیے اخلاقیات کا ایک ضابطہ حیات مانی جاتی ہے۔ اسی طرح کنڑ اور تیلگو کے کلاسیکی ادب میں بھی مذہب اور اخلاق کو اس طرح سمویا گیا ہے کہ وہ ایک عام انسان کے کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان زبانوں کے تخلیق کاروں نے ہمیشہ سچائی، دیانتداری، رواداری اور انسانی ہمدردی کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔
’’قیصر روم نے خط پاکر حکم دیا کہ اگر اس کے حدود سلطنت میں عرب کا کوئی شخص مل جائے تو اسے حاضر کیا جائے،اتفاق سے اس وقت ابوسفیان جو تجارت کے سلسلے میں شام آئے ہوئے تھے ،موجودتھے۔ چنانچہ انھیںلے جاکر پیش کیا گیا۔ قیصر نے ان سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق چند سوالات کیے ۔ ان میں جھوٹ بولنے کی گنجائش نہ تھی اس لیے ابو سفیان نے صحیح جوابات دیے۔یہ جوابات سن کر قیصر کو آنحضرت صلعم کی صداقت کا یقین ہوگیا۔ اس نے ابوسفیان سے کہاکہ ’’اگر تمھارے جوابات صحیح ہیں تو میرے قدم گاہ تک اس شخص (آنحضرت صلعم ) کا قبضہ ہوجائے گا، مجھ کو معلوم تھا کہ ایک پیغمبر آنے والاہے ، لیکن یہ خیال نہ تھاکہ وہ عرب میں ظاہر ہوگا۔ اگر میں اس تک پہنچ سکتا توان کے قدم دھوتا‘‘۔ قیصرکے ان خیالات کو سن کراس کے بطارقہ سخت برہم ہوئے لیکن اس اعتراف کے باوجود وہ تخت و تاج کی طمع میں اسلام کی دعوت سے محروم رہ گیا‘‘۔
We are pleased to announce that the latest issue of Qadir-ul-Kalam International Peer-Reviewed Research Journal is now available online.
This issue features original research articles on:
• Literary Criticism and Poetics
• Arabic Literary Traditions
• Abu al-Hasan Ali Nadwi: A Critical Study
• Educational Contributions of South Indian Madrasas
• Fictional Art of Jahan Akbar
• Premchand's Narrative Technique
• History of Urdu Prose and Fiction
• English Research Paper: A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence
🔗 Read the complete issue:
https://www.qadirulkalam.com/
We welcome researchers, academicians, teachers, and research scholars to explore the latest issue and share it within their academic networks.
#Research #Urdu #Literature #PeerReviewed #ISSN #AcademicPublishing #Humanities #QadirulKalam #ResearchJournal
📚 ماہ نامہ قادرالکلام (بین الاقوامی، تحقیقی و ریفریڈ جرنل) – تازہ شمارہ جولائی 2026
ISSN: 3139-1028
خوشخبری!
ماہ نامہ قادرالکلام کا تازہ شمارہ اب ہماری ویب سائٹ پر مطالعہ کے لیے دستیاب ہے۔
اس شمارے میں شامل چند اہم تحقیقی مضامین:
🔹 ادب میں تحقیق و تنقید اور شعریات کی روشنی میں شعر
🔹 عربی تاثرات میں کالج کی روایات
🔹 سید ابو الحسن علی ندویؒ کی شخصیت پر ایک فکری و ادبی مطالعہ
🔹 جنوبی ہند کے مدارس اور اضافات میں منظر
🔹 جہانِ اکبر کے افسانوی فن کا تحقیقی مطالعہ
🔹 پریم چند کی کہانی نگاری: "ناول، افسانہ، ڈراما" کے حوالے سے
🔹 اردو نثر و افسانہ نگاری کی تاریخ میں گلستانِ سخن کا مقام
🔹 English Research Article: A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence
📖 مکمل شمارہ ملاحظہ کریں:
https://www.qadirulkalam.com/
علمی و تحقیقی حلقوں سے گزارش ہے کہ اس شمارے کا مطالعہ کریں، اپنی آراء سے نوازیں اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
#QadirulKalam #UrduResearch #ResearchJournal #ISSN #PeerReviewed #UrduLiterature #AcademicJournal #ResearchScholars
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں خطہ مارواڑ میںآزادی سے قبل اردو شعر وادب کا ایک شاندار ماحول رہا ہے۔ حمید الدین ریحانی، قاضی حمید الدین اور صوفی حمید الدین کی آمدِناگور کے بعدفارسی وعربی ادب کی تخلیق کاجو سلسلہ شروع ہوا تھا،اس سے اردو کے لئے ایک سازگار ماحول تیار ہوگیا۔ علامہ فیضیوابو الفضل نے نہ صرف فارسی ادب کوعروج پر پہنچایابلکہ اس خطہ ریگزار کو بھی عظمت ووقار بخشا۔
غالب ؔوداغؔکے تلامذہ کواس علاقے نے اس قدر متاثر کیا کہ وہ یہاںآگئے اور اردو تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کیا۔اس علاقے کے مہاراجگان بھی علم دوست اورادب پرور تھے۔ بلکہ کئی والیانِ ریاست تو خود شاعر وادیب (مارواڑی زبان کے) گزرے ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے بعد اردو یہاں پررائج ہونے لگی تھی۔نیز سرکاری دفاتر اور عدالتوں میںاردو میںکام کاج ہونے لگا تھا۔ قوانین وتواریخ کی کتابیںاور گزٹس بھی اردو میں چھپنے لگے تھے۔ اسی طرح متعدد شعراء وادباء کے دواوین، مجموعے اور نثری کتابیں بھی شائع ہونے لگی تھیں۔ سرکاری اسکولوں اورمدرسوں میں اردو پڑھائی جانے لگی تھی۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں کا بھی آغاز ہوچکا تھا اور اردو میںرسالے بھی جاری ہونے شروع ہوچکے تھے۔یہ تمام کام جو اردو میں ہوا کرتے تھے ، مارواڑی کا اثر لیے ہوئے تھے۔
سیماب اکبرآبادی کی زبان سادہ، دل نشین اور عام فہم ہے، جبکہ ان کے خیالات میں گہرائی اور وسعت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار آج بھی عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف جذبات کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ قاری کو غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
سیماب اکبرآبادی کا تعارف اور حالاتِ زندگی
سیماب اکبرآبادی کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ آپ 5 جون 1880ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے، جو قدیم زمانے میں اکبرآباد کہلاتا تھا، اسی نسبت سے آپ نے "سیماب اکبرآبادی" تخلص اختیار کیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور کم عمری ہی سے شعر و ادب سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔
آپ نے اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں مہارت حاصل کی اور بعد ازاں مشہور استادِ سخن داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔ داغ دہلوی کی تربیت نے آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور آپ جلد ہی اردو کے معروف شعراء میں شمار ہونے لگے۔
سیماب اکبرآبادی نہایت زرخیز طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور بے شمار شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ان کے ہزاروں شاگرد برصغیر کے مختلف علاقوں میں موجود تھے۔
اردو زبان برصغیر کی ایک اہم تہذیبی اور لسانی روایت کی حامل زبان ہے، جس نے بھارت میں قومی ترقی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ National Education Policy 2020 (NEP-2020) کے نفاذ نے مادری اور علاقائی زبانوں کی اہمیت کو ازسرنو اجاگر کیا ہے، جس کے تناظر میں اردو زبان کے کردار کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس مقالے کا مقصد اردو زبان کے تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور معاشی کردار کو NEP-2020 کی روشنی میں تنقیدی انداز میں پیش کرنا ہے۔
تحقیقی مطالعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم طلبہ کی فہم و ادراک کو بہتر بناتی ہے اور سیکھنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتی ہے (Mohanty, 2019)۔ اردو زبان بھارت کے کئی علاقوں میں اسی کردار کو ادا کرتی ہے، جہاں یہ طلبہ کو پیچیدہ تصورات سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ مزید برآں، NEP-2020 کثیر لسانی تعلیم پر زور دیتی ہے، جو اردو جیسی زبانوں کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔سماجی سطح پر اردو زبان مختلف ثقافتی اور مذہبی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ اردو ادب، شاعری اور فلمی صنعت نے بھارت میں مشترکہ تہذیب کو مضبوط کیا ہے۔ معاشی لحاظ سے اردو زبان میڈیا، اشاعتی صنعت اور تخلیقی معیشت میں مواقع فراہم کرتی ہے۔
تبصرہ بر کتاب: گلدستہ ٔ حیات (تالیف منتخب آیاتِ قرآنیہ)
(Guldasta e Hayat (The Vase of the Life
مرتب: سید عبد الواجِد ہاشمی
ناشر: شادان پبلیشنگ ہاؤس، گولکنڈہ فورٹ، حیدرآباد
صفحات: 148
قیمت: 100 روپے
بہ زبان: اردو و انگریزی
ISBN : 978-81-981132-21
قرآنِ کریم وہ آسمانی کتاب ہے جس نے انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم، اخلاق، عدل اور ہدایت کی روشنی بخشی۔ ہر دور میں اہلِ علم نے قرآن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے۔ کسی نے تفسیر لکھی، کسی نے ترجمہ، کسی نے قصص القرآن کے ذریعے، تو کسی نے اخلاقی و اصلاحی پہلوؤں کو نمایاں کر کے قرآن کی تعلیمات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔
ریسرچ اسکالر،شعبہ ترجمہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
مولانا سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کی ولادت 3رجب المرجب 1321 ھ بمطابق25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد (دکن ) میں ہوئی۔ والد ماجد نے آپ کا نام ابو الا علیٰ رکھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا تعلق سادات اہل بیت کے معروف شاخ سلسلہء مودودیہ سے تھا ان کے جد امجد خواجہ قطب الدین مودود چشتیؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ(اجمیری) کے پر دادا پیر تھے۔ بادشاہ شاہ عالم کے زمانے میں ان کا خاندان دہلی آکر آباد ہوا اور چھٹی پشت تک وہیں آباد رہا۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے والد ’’سید احمد حسن ‘‘ (1920ء۔1855ء) دہلی میں پیداہوئے۔ علی گڑھ میں کچھ تعلیم حاصل کی پھر الہ آباد سے وکالت کاامتحان پاس کیا اور اورنگ آباد ،حیدرآباد دکن جا کر وکالت شروع کردی۔ سید احمد حسن ’’سر سید احمدخان ‘‘ کے بھانجے تھے۔ مولانا مودودیؒ کی والدہ ’’محترمہ رقیہ بیگم ‘‘ کاتعلق دہلی سے تھا۔ سید احمدحسن کے چار بیٹے ابوالقاسم،ابو محمد، ابوالخیر، ابوالاعلیٰ تھے۔ سید مودودیؒ کی تربیت ان کے والدنے خاص توجہ سے کی۔ وہ انہیں مذہبی تعلیم خود دیتے تھے۔ اردو، فارسی اور عربی کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث کی تعلیم بھی اتالیق کے ذریعے گھر پر دی جاتی تھی۔ تعلیم کے ساتھ اخلا قی اصلاح کا بھی وہ خاص خیال رکھتے تھے۔ سید احمد حسن رات کو سونے سے قبل اپنے دونوں بچوں ( ابوالخیر مودودی ؒاور ابوالاعلیٰ مودودی) کو پیغمبروں کے قصے ، تاریخ ِ اسلام ، تاریخ ِہندوستان اور سبق آموزکہانیاں سناتے تھے ۔وہ رسمی تعلیم و تلقین سے زیادہ حقیقی شعورو ادراک پر یقین رکھتے تھے ۔ انہوں نے بچوں کی اردو تعلیم کے لیے حالی کے " شکوہء ہند"کو منتخب کیا تھا۔سید احمد حسن زبان کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے۔ انہوں نےخود 20 سال دکن میں اپنے قیام کے دوران اپنی زبان کو دکنی اثرات سے محفوظ رکھا۔اگر کبھی بچوں کی زبان سے کوئی مقامی لفظ یا محاورہ غلط سن لیتے تو بروقت اس کی اصلاح کردیتے تھے۔۔ آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ مولانا مودودی ؒ کہا کرتے تھے ۔’’ میرے والد مرحوم میری تربیت پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔ وہ میری زبان اوراخلاق کو معیاری،سُتھرائی اور پاکیزہ بنانے کی انتہائی کوشش کرتے تھے۔ وہ راتوں کو مجھے پیغمبروں کے قصے،، تاریخِ اسلام اور تاریخ ہند کے واقعات اور سبق آموز کہانیاں سنایاکرتے تھے۔ وہ میری عادات پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی ملازمہ کے ایک بچے کو مارا تو انھوں نے اس بچے کو بلاکر کہا کہ" تو بھی اسے مار"
ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal
قادرالکلام ماہنامہ اپنے خصوصی شمارہ "آزادیِ ہند اور اردو ادب" کے لیے تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی مضامین طلب کرتا ہے۔ اس خصوصی شمارے کا مقصد تحریکِ آزادیِ ہند میں اردو زبان و ادب کے کردار، مجاہدینِ آزادی کی ادبی خدمات، قومی شعور کی تشکیل، اردو صحافت کی جدوجہد، اور آزادی کے تصور کی ادبی و فکری جہات کو اجاگر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اساتذہ، محققین، ریسرچ اسکالرز، ادبا اور اہلِ قلم سے درخواست ہے کہ وہ درج ذیل موضوعات یا ان سے متعلق کسی مناسب عنوان پر اپنے مقالات ارسال فرمائیں۔
آزادیِ ہند اور اردو نظم
آزادیِ ہند اور اردو غزل
تحریکِ آزادی میں انقلابی شاعری کا کردار
قومی شعور کی بیداری میں اردو شاعری کا حصہ
اردو شاعری میں حب الوطنی کا تصور
آزادیِ ہند اور قومی ترانے
اردو شاعری میں شہادت اور قربانی کا تصور
اردو شاعری میں آزادی کی علامتیں اور استعارے
آزادیِ ہند اور مزاحمتی شاعری
آزادیِ ہند کے موضوع پر معاصر اردو شاعری
آزادیِ ہند اور اردو ناول
آزادیِ ہند اور اردو افسانہ
آزادیِ ہند اور اردو ڈراما
آزادیِ ہند اور اردو خاکہ نگاری
آزادیِ ہند اور اردو سفرنامہ
اردو نثر میں قومی بیداری
تحریکِ آزادی کے موضوع پر اردو افسانوی ادب
آزادیِ ہند اور اردو تنقید
آزادیِ ہند اور اردو انشائیہ
اردو ادب میں قومی تشخص کا مسئلہ
تحریکِ آزادی میں اردو اخبارات کا کردار
اردو جرائد اور قومی شعور
آزادیِ ہند اور صحافتی تحریکیں
اردو صحافت اور برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد
مولانا محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات
مولانا ابوالکلام آزاد اور اردو صحافت
روزنامہ "الہلال" اور تحریکِ آزادی
اردو اخبارات میں قومی تحریک کی عکاسی
آزادیِ ہند اور صحافتی مزاحمت
اردو صحافت اور عوامی بیداری
اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری
رام پرساد بسمل اور اردو ادب
مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی خدمات
حسرت موہانی کی انقلابی شاعری
جوش ملیح آبادی اور جذبۂ آزادی
بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں آزادی کا تصور
مولانا محمد علی جوہر کی قومی خدمات
خان عبدالغفار خان اور قومی بیداری
ٹیپو سلطان اور اردو ادبی روایت
مجاہدینِ آزادی کے ادبی افکار
علامہ اقبال اور تصورِ آزادی
اکبر الہ آبادی کے سیاسی و سماجی افکار
فراق گورکھپوری اور حب الوطنی
چکبست کی قومی شاعری
سرسید احمد خان اور قومی شعور
شبلی نعمانی اور فکری بیداری
مولانا ظفر علی خان کی ادبی و صحافتی خدمات
ساغر نظامی کی قومی شاعری
جگن ناتھ آزاد اور قومی ہم آہنگی
آزادی کے موضوع پر اردو ادبا کا فکری سرمایہ
تحریکِ آزادی میں خواتین کا کردار
اردو ادب میں خواتین مجاہدینِ آزادی
بیگم حضرت محل کی خدمات
آزادی کے ادب میں خواتین کی نمائندگی
خواتین قلم کار اور قومی بیداری
اردو شاعرات اور تحریکِ آزادی
خواتین کے قومی و ادبی تصورات
اردو ادب میں نسائی نقطۂ نظر اور آزادی
خواتین اور آزادی کی ادبی تحریک
اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار
دکن اور تحریکِ آزادی
حیدرآباد کی تحریکِ آزادی اور اردو ادب
جنوبی ہند کے اردو ادبا اور قومی تحریک
شمالی ہند کے اردو ادبا اور آزادیِ ہند
بنگال اور اردو ادب میں قومی شعور
کشمیر اور تحریکِ آزادی کے ادبی اثرات
علاقائی اردو صحافت اور قومی تحریک
ہندوستان کے مختلف خطوں میں اردو کی خدمات
آزادیِ ہند اور دکنی ادب
علاقائی ادب اور قومی یکجہتی
اردو ادب میں قومیت کا تصور
اردو ادب اور گاندھی جی
اردو ادب اور عدم تشدد
آزادی اور جمہوری اقدار
آزادیِ ہند اور بین المذاہب ہم آہنگی
اردو ادب اور سیکولر اقدار
آزادی اور انسانی حقوق کا تصور
اردو ادب میں قومی یکجہتی
تحریکِ آزادی کے فکری مباحث
آزادیِ ہند اور اردو تنقیدی روایت
تقسیمِ ہند اور اردو ادب
تقسیم کے بعد اردو شاعری کے رجحانات
تقسیمِ ہند اور اردو افسانہ
تقسیمِ ہند اور اردو ناول
مہاجرت کا ادبی بیانیہ
اردو ادب میں المیۂ تقسیم
تقسیمِ ہند اور تہذیبی شناخت
تقسیمِ ہند کے سماجی اثرات
اردو ادب میں سرحد اور شناخت کا مسئلہ
تقسیمِ ہند کے موضوع پر معاصر مطالعے
آزادیِ ہند اور بچوں کا اردو ادب
آزادیِ ہند اور اردو گیت
آزادیِ ہند اور فلمی ادب
آزادیِ ہند اور عوامی ادب
معاصر اردو ادب میں آزادی کا تصور
ڈیجیٹل دور میں تحریکِ آزادی کی ادبی روایت
نئی نسل اور آزادیِ ہند کا ادبی شعور
آزادیِ ہند اور سوشل میڈیا میں اردو ادب
قومی موضوعات اور موجودہ اردو ادب
آزادیِ ہند: نئے تحقیقی زاویے
آزادیِ ہند پر نظم
آزادیِ ہند پر غزل
آزادیِ ہند پر افسانہ
آزادیِ ہند پر خاکہ
آزادیِ ہند پر مضمون
آزادیِ ہند پر سفرنامہ
آزادیِ ہند پر تاثراتی تحریر
آزادیِ ہند اور قومی یکجہتی پر شاعری
آزادیِ ہند اور انسانی اقدار پر تخلیقی تحریریں
آزادیِ ہند کے موضوع پر غیر مطبوعہ تخلیقات
نوٹ: مذکورہ عنوانات کے علاوہ بھی موضوعِ خاص سے متعلق معیاری تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی مضامین ارسال کیے جا سکتے ہیں۔
"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، اد...