Breaking News

New Issue Published • Sepember 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • ستمبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Thursday, September 17, 2026

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )


"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

 فارسی ادب کا  دامن علمی اعتبار  سے مالامال ہے۔ طاہری دور سے صفوی اور قاچاری دور کے علما ئے  ادب نے بے شمار نادر و نایاب کتابیں تصنیف کیں جن میں رودکی، دقیقی، اور فردوسی کا شاہ نامہ، رومی کی مثنوی معنوی، عطار کی منطق الطیر اور تذکرہ اولیاء، طوسی کا سیاست نامہ، غزالی کی کیمیائے سعادت، سمرقندی کا چار مقالہ اور سعدی کی گلستان و بوستان خصوصیات کے ساتھ قابل ذکر شاہ کار ہیں۔ انھیں کتابوں میں ایک معروف کتاب کلیلہ و دمنہ ہے، جسے سنسکرت، پہلوی، عربی اور فارسی ادبیات نے اپنے اپنے دامن میں سجا کر اپنے حسن کو حسین تر و وسیع کرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی پہلی کتاب ہے جو  تراجم کے مختلف مرحلوں سے گزری اور مختلف ناموں سے مشہور ہوئی، اس کے اصلی نام  وجہ تصنیف  اور مصنف و مؤلف کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، کلیلہ و دمنہ کے متعلق عوفی کی رائے مختلف ہے تو دولت شاہ سمرقندی کی رائے مختلف۔ براؤن کی تحقیق کچھ اور کہتی ہے تو رضا زادہ شفق اور ملک الشعرا بہار کی تحقیق کچھ اور۔ بہرحال بیش تر تذکرہ نگار اور محققین اس بات پر متفق ہیں اور خود کلیلہ و دمنہ کا مقدمہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس کی اصل سنسکرت ہے اور اس کا نام پنچ تنتر ہے اور اس کا مصنف و شنوشرما ہے۔ وجہ تصنیف کے متعلق ایک معتبر روایت یہ ملتی ہے کہ قدیم ہندوستان جہاں تہذیب و تمدن کا گہوارا تھا اور علم کی دیوی جہاںنواس کرتی تھی وہیں راجاؤں کے بیٹے علم سے گریزاں  رہتے تھے اور لاکھ کوشش و کاوش کے بعد بھی ان کا دل مائل بہ علم نہیں ہوتا تھا۔ وشنو شرما نے انھیں شہزادوں کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے سرلی اور پنچ تنتر تحریر کی۔

Sunday, September 13, 2026

📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


 📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


ماہنامہ قادرالکلام (Qadar ul Kalam)

ISSN: 3139-1028

Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal


قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔ اس شمارے میں اردو ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، فکشن، کلاسیکی ادبی روایت اور عصرِ حاضر کے اہم علمی و ادبی موضوعات پر معیاری اور تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔


اس شمارے میں ’’کلاسیکی روایت اور جدید ادبی شعور‘‘ میں  پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا مقالہ  ’’شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)‘‘ شامل کیا گیا ہے۔


ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا مضمون ’’نسائی آواز اور اردو شاعری‘‘، فہیم خاتون مسرت کا ’’نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ‘‘ اور طاہرہ خاتون کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر‘‘ اس شمارے کی علمی و تحقیقی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔اسی طرح زینت پروین کا ’’اردو فکشن میں نسائی فکر کی ابتدا‘‘، غزالہ ہاشمی کا ’’جانے کتنے موڑ: موضوع و اسلوب‘‘ اور ڈاکٹر فریدہ تبسم کا ’’ڈپٹی نذیر احمد اور توبۃ النصوح‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔ جدید عہد کے اہم علمی موضوعات کی نمائندگی سعدیہ فاطمہ کے مضمون ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا بدلتا ہوا کردار‘‘ سے ہوتی ہے۔ وغیرہ شامل ہے۔ 


یہ شمارہ اردو ادب کے کلاسیکی ورثے سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک متنوع علمی و ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ محققین، اساتذہ، طلبہ، ریسرچ اسکالرز، ادباء اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ شمارہ خصوصی مطالعے کا حامل ہے۔


📖 ستمبر کے تازہ شمارے کے مکمل مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے قادرالکلام کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں۔

Wednesday, September 9, 2026

پہلی جنگ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری


"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری"
معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)

 ’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے  ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے

کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے

تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک

ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک

Tuesday, September 8, 2026

بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد


ڈاکٹر فریدہ تبسم
کا یہ تحقیقی مضمون "بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد" 1857ء کی جنگِ آزادی میں بیگم حضرت محل کے سیاسی، عسکری اور سماجی کردار کا تاریخی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں ریاستِ اودھ کی قیادت، ہندو مسلم اتحاد، برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اور ان کی سیاسی بصیرت کو تاریخی تناظر میں واضح کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرفریدہ تبسم

1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔

1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔

Monday, September 7, 2026

کلام ظفر میں استعماری ظلم کے خلاف احتجاج


یہ مضمون ڈاکٹر محمد کاشف، اسسٹنٹ پروفیسر، الہٰ آباد یونیورسٹی، کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری کے ذریعے برطانوی استعمار کے ظلم، سیاسی غلامی، دہلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور آزادی کی آرزو کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون خاص طور پر ظفر کے شعری استعاروں اور علامتی احتجاج کو 1857ء کی جنگِ آزادی کے تاریخی پس منظر میں واضح کرتا ہے۔

 ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی) 

برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔

Sunday, September 6, 2026

برطانوی سامراج اوراردوکامزاحمتی ادب


پروفیسر سید محمود کاظمی کا یہ اہم تحقیقی مضمون "برطانوی سامراج اور اردو کا مزاحمتی ادب" اردو ادب میں مزاحمت، قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف ادبی اظہار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں غالب، بہادر شاہ ظفر، چکبست، اقبال، جوش، پریم چند اور دیگر شعراء و ادباء کے حوالے سے برطانوی سامراج کے خلاف اردو ادب کے مزاحمتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

 پروفیسرسید محمود کاظمی

ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ  کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ  ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو  ؎ 

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی

دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 

Saturday, September 5, 2026

تحریک آزادی اور برج نرائن چکبستؔ


پروفیسر زماں  آزردہ  (کشمیر)

یہ مضمون معروف قومی شاعر برج نرائن چکبستؔ کی شاعری اور تحریکِ آزادیِ ہند میں ان کے کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں چکبستؔ کی نظموں کے ذریعے حبِ وطن، قومی بیداری، خود اعتمادی، ہندو مسلم اتحاد اور آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے


 ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔

جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:

’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘ 

Friday, September 4, 2026

تحریک آزادی اور الہلال


 
 پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی

 یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

 مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ  صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے  ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو  ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘

Wednesday, September 2, 2026

اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار: ایک تجزیاتی مطالعہ



  رعنا تبسم(اسوسی ایٹ پروفیسر، آکولہ)
اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کی تعمیر و تشکیل میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ادب محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ یہ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں خواتین نے ہر دور میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ بیسویں صدی سے لے کر اکیسویں صدی تک، اردو خواتین ادیبات نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی اصلاح، سیاسی شعور اور قومی یکجہتی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ مقالہ اس بات کا احاطہ کرتا ہے کہ کس طرح خواتین نے گھر کی چار دیواری سے نکل کر ایوانِ ادب اور قومی تعمیر کے میدانوں تک اپنی پہنچ بنائی۔اردو ادب کی روایت میں خواتین نے صرف جذبات اور احساسات کی ترجمانی ہی نہیں کی بلکہ قومی زندگی کے ہر اہم موڑ پر اپنی فکری بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت بھی دیا۔ ان کی تحریریں معاشرتی شعور، اخلاقی اقدار، قومی یکجہتی اور تہذیبی شناخت کی امین رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کی تاریخ خواتین کی خدمات کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی ہے۔
تحریکِ آزادی اور خواتین کا قلمی جہاد
برصغیر میں جب آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، تو خواتین صرف تماشائی نہیں تھیں۔ سر سید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ نے خواتین کی تعلیم کے دروازے کھولے، جس کے نتیجے میں ایسی قلم کار پیدا ہوئیں جنہوں نے قوم کو بیدار کیا۔اس دور میں خواتین کے قلم نے گویا قوم کو یہ پیغام دیا کہ "قلم بھی ایک ہتھیار ہے۔" اگر مرد میدانِ جنگ میں تھے تو خواتین نے اپنے مضامین، نظموں اور تقریروں کے ذریعے قوم کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن رکھی۔ ان کی تحریروں میں حوصلہ، قربانی اور وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔

Friday, August 28, 2026

📢 اہم اعلان | قادرالکلام خصوصی شمارہ

الحمدللہ! ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ماہنامہ قادرالکلام، حیدرآباد (انڈیا) کے خصوصی شمارے کے متعلق سرٹیفکیٹس اور کتابیں بذریعہ اسپیڈ پوسٹ  روانہ کر دی گئی ہیں۔ 📚📜

ان شاء اللہ، تمام معزز قلم کاروں اور محققین کو ان کی کتابیں اور سرٹیفکیٹس عنقریب موصول ہو جائیں گے۔

تمام متعلقہ احباب سے گزارش ہے کہ وصولی کے لیے چند دن انتظار فرمائیں۔

🌐 مزید تفصیلات اور تازہ معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:
www.qadirulkalam.com

📱 مزید معلومات اور رابطے کے لیے واٹس ایپ:
8885303386

آپ کے علمی و ادبی تعاون اور اعتماد کے لیے تہہ دل سے شکریہ۔

قادرالکلام
علم، تحقیق اور ادب کے فروغ کا سفر

Wednesday, August 12, 2026

📚 تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ


یہ مضمون ’’تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر مجید بیدار کا ایک تحقیقی و تاریخی مطالعہ ہے۔ اس میں 1857ء سے 1947ء تک اردو صحافت، اخبارات و رسائل اور ممتاز صحافیوں کی جدوجہدِ آزادی میں خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون اردو صحافت کے ذریعے قومی شعور، حب الوطنی اور آزادی کی تحریک کو فروغ دینے کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔

پروفیسر مجید بیدار

  جمہوریت میں صحافت کو تیسری آنکھ کا درجہ حاصل ہے۔ تحریک ِآزادی ہی نہیں بلکہ جدوجہد ِآزادی میں ہندوستان کی صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس قدر انقلابی نعرے اور وطن پرستی کے جذبات کو ابھارنے میں اردو زبان نے حق ادا کیا ہے‘ اس کی مثال ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ملنی مشکل ہے۔ 1857ء کے بعد سے لے کر 1947ء تک ہندوستان میں اردو اخبارات ‘ رسائل اور جرائد نکالنے والے مدیران یا ان سے وابستہ افراد نے صحافت کو تجارت پیشہ یا پھر ایک وسیلۂ اظہار کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے اخبارات سے وابستہ ہوکر جدوجہد آزادی کو تیزتر کرنے میں اردو صحافت کو ایک تحریک کا درجہ دے دیا اور اپنے کالموں‘ اداریوں اور خبروں کے ذریعہ ہندوستانیوں میں اتحاد اور میل جول کا ماحول پیدا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ غدر سے لے کر ہندوستان کی آزادی تک کے تمام اردو اخبارات کا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اردو صحافت نے کبھی عصبیت ‘ فرقہ واریت‘ علاقہ واریت یا پھر مذہب کی فضا استوار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ صاف طور پر ظاہر ہوجاتا ہے کہ شمالی اور جنوبی ہند سے اردو میں شائع ہونے والے تمام اخبارات نے صرف ایک مقصد کے لیے اپنی صحافت کے جوہر دکھائے اور وہ مقصد تھا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروایا جائے اور ہندوستانیوں میں  حب الوطنی کے جذبے کو پروان چڑھاکر انھیں سچے دیش بھکت بنایا جائے۔ یہی وجہ رہی کہ تحریک آزادی میں تیزی اور انگریزی سامراج کے خلاف غم و غصہ کی لہر نے عوام میں اس قدر شدت اختیار کرلی کہ 100 سالہ علمی جدوجہد میں ہندوستانیوں کو وہ کامیابی حاصل نہ ہوئی جو 40 سالہ اردو صحافت نے انجام دی۔ بلاشبہ تحریک آزادی میں ہندوستان کی کامیابی کو ہم صحافت کی دین قرار دے سکتے ہیں۔ ہندوستانی سیاسی رہنماؤں اور مختلف مذہبی سربراہوں کے بیانات اخبارات میں شائع نہ ہوئے اور صحافت کے توسط سے عوام تک نہیں پہنچے اور ان کے توسط سے انگریز بربریت کا کچا چھٹا عوام کے سامنے نہ آتا تو آزادی کا حصول حد درجہ دشوار ہوجاتا۔ اخبارات نے جب انگریز ظلم و زیادتی کی رپورٹنگ شروع کی تو ساری دنیا پر حقیقت آشکار ہوگئی کہ ہندوستان کو اپنے زیر نگیں رکھ کر سامراجیت کس طرح مفادات حاصل کررہی ہے۔ انگریزی رویہ کو اردو اخبارات نے صحافت کے ذریعہ  طشت از بام کیا جس کی وجہ سے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

Wednesday, August 5, 2026

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا


📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا


ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM)

ISSN: 3139-1028

Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal


الحمدللہ، قادرالکلام کا یومِ آزادی خصوصی شمارہ (اگست 2026) شائع ہو چکا ہے۔


یہ خصوصی شمارہ تحریکِ آزادی ہند اور اردو ادب کے موضوع پر مبنی ہے، جس میں ممتاز اساتذہ، محققین اور اہلِ قلم کے تحقیقی و تنقیدی مقالات شامل ہیں۔


اس شمارے میں تحریکِ آزادی، اردو صحافت، الہلال، برج نرائن چکبستؔ، مولانا ابوالکلام آزاد، بہادر شاہ ظفر، حسرت موہانی، بیگم حضرت محل، مزاحمتی ادب، اردو شاعری، اردو ناول نگاری، خواتین کا کردار اور دیگر اہم موضوعات پر مستند مقالات شامل کیے گئے ہیں۔


اس شمارے میں ایک اہم انگریزی تحقیقی مقالہ بھی شامل ہے:


The Literary Representation of Colonial Resistance in India and Australia

Dr. Mohammed Kalim Mohiuddin


📖 مطالعہ کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:


🌐 www.qadirulkalam.com


📧 qadarulkalam@gmail.com


📧 qadirulkalam5@gmail.com


📱 WhatsApp: +91 8885303386

#قادرالکلام #اردو_ادب #تحریک_آزادی #آزادی_ہند #اردو_تحقیقی_جریدہ #اردو_صحافت #مولانا_آزاد #بہادر_شاہ_ظفر #حسرت_موہانی #ادبی_تحقیق #PeerReviewed #ResearchJournal 

Saturday, July 25, 2026

اہم اعلان برائے اساتذہ و ریسرچ اسکالرس

 

📢 قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)

ISSN: 3139-1028


 خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"

الحمدللہ! قادرالکلام ماہنامہ کا خصوصی شمارہ "آزادیِ ہند اور اردو ادب" اشاعت کے آخری مرحلے میں ہے۔ ملک کی مختلف جامعات، کالجوں اور تحقیقی اداروں سے وابستہ ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے معیاری، تحقیقی اور غیر مطبوعہ مقالات اس خصوصی شمارے میں شامل کیے جا رہے ہیں۔

📚 اب تک شامل کیے گئے چند اہم مقالات

  1. تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ — پروفیسر مجید بیدار، حیدرآباد

  2. تحریکِ آزادی اور الہلال — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، حیدرآباد

  3. پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری — نغمہ فردوس، اورنگ آباد

  4. مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات — شہینہ ناز، جمشیدپور

  5. آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری — عامر خان، رام پور

  6. احمد علی: جنگِ آزادی کا گمنام قلم کار — ڈاکٹر صفیہ فاطمی، اسسٹنٹ پروفیسر، دربھنگہ

  7. اردو شاعری اور تحریکِ آزادی — ڈاکٹر ناظم حسین خان، صدر شعبۂ اردو، لکھنؤ

  8. بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد — ڈاکٹر فریدہ تبسم، حیدرآباد

  9. اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری — ڈاکٹر واجدہ بیگم، حیدرآباد

  10. اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار — گل رعنا علی، اسسٹنٹ پروفیسر، آکولہ (مہاراشٹر، انڈیا)

📌 اہم اطلاع

اگر آپ نے اس خصوصی شمارے کے لیے اپنا مقالہ ارسال کیا تھا لیکن کسی وجہ سے آپ کا نام یا مضمون مذکورہ فہرست میں شامل نہیں ہو سکا، تو براہِ کرم فوری طور پر ادارۂ قادرالکلام سے رابطہ کریں تاکہ اشاعت سے قبل آپ کے مقالے کو شامل کیا جا سکے۔

📧 Email:
qadarulkalam@gmail.com
qadirulkalam5@gmail.com

📱 WhatsApp: +91 8885303386

Wednesday, July 22, 2026

اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں آغا حسن امانت کا مقام


"اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں آغا حسن امانت کا مقام" شاذیہ بیگم (مدیر) کا ایک تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں اردو ڈراما نگاری کی ابتدا، ارتقا اور فروغ میں آغا حسن امانت کی ادبی خدمات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ بالخصوص ان کے شہرۂ آفاق ڈرامے "اندر سبھا" کی فنی و ادبی خصوصیات، اسلوب، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، شعری محاسن اور اردو تھیٹر کی تشکیل میں اس کے تاریخی کردار کو تحقیقی انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ اردو ڈرامے کی روایت، آغا حسن امانت کی تخلیقی عظمت اور برصغیر کی ڈرامائی روایت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

 شاذیہ بیگم   (مدیر)

اردو ادب کی تاریخ میں مختلف اصنافِ سخن نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں انسانی زندگی، جذبات، خیالات اور معاشرتی مسائل کی ترجمانی کی ہے۔ ان اصناف میں ڈراما ایک ایسی صنف ہے جو ادب اور فنونِ لطیفہ کے کئی شعبوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ڈراما محض تحریری اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی کے واقعات، انسانی کرداروں، جذباتی کشمکش اور سماجی مسائل کو مکالموں، حرکات و سکنات اور عملی پیش کش کے ذریعے زندہ صورت میں پیش کرتا ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر ڈراما کو ادب کی ایک ایسی صنف کہا جاتا ہے جو پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیکھنے اور سننے کا تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔
لفظ ’’ڈراما‘‘ یونانی زبان کے لفظ ’’Drama‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی عمل یا حرکت کے ہیں۔ دنیا کے قدیم ادب میں ڈراما کی روایت یونان سے شروع ہوئی، جہاں المیہ اور طربیہ ڈراموں نے ادبی اور فنی ترقی کی بنیاد رکھی۔ یونانی ڈراما نگاروں میں سوفوکلیز، یوری پیڈیز اور ایسکائلس نے اس صنف کو عروج بخشا۔ بعد ازاں مغربی ادب میں ڈراما مختلف ادوار سے گزرتا ہوا جدید شکلوں تک پہنچا، جس میں ولیم شیکسپیئر کا کردار نہایت اہم ہے۔ اردو ڈراما نگاری نے بھی عالمی ڈرامائی روایت سے اثرات قبول کیے، تاہم اس نے اپنی تہذیبی اور لسانی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک الگ شناخت قائم کی۔
برصغیر میں ڈرامے کی روایت قدیم ہندوستانی ادب میں بھی موجود تھی۔ سنسکرت ڈرامے، لوک کہانیاں، مذہبی رسومات اور عوامی تماشے اس روایت کے ابتدائی مظاہر تھے۔ بعد میں فارسی تہذیب اور درباری ماحول نے بھی یہاں کے فنونِ لطیفہ پر اثر ڈالا۔ مغلیہ اور بعد از مغلیہ دور میں داستان گوئی، قصہ خوانی، محفل آرائی اور موسیقی پر مبنی ثقافتی سرگرمیوں نے ایسے عناصر پیدا کیے جو آگے چل کر اردو ڈرامے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئے۔

Monday, July 20, 2026

جیلانی بانو کے افسانوی فن کا تنقیدی مطالعہ


 اس میں جیلانی بانو کے افسانوی فن  کے موضوع پر علمی، تحقیقی اور تنقیدی بحث پیش کی گئی ہے۔ مضمون نگار نے مستند حوالوں، تحقیقی دلائل اور ادبی تناظر کی روشنی میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا ہے، جو محققین، اساتذہ، طلبہ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

محمدعبدالرحمن    (کالم نگار)

 اردو افسانے کی روایت میں چند ایسی ادیبائیں بھی شامل ہیں جنہوں نے محض کہانیاں تخلیق نہیں کیں بلکہ اپنے عہد کی سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی پیچیدگیوں کو فنی شعور کے ساتھ ادب کا حصہ بنایا۔ ان ممتاز افسانہ نگاروں میں جیلانی بانو کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو افسانے کو عورت کے داخلی احساسات، انسانی نفسیات، معاشرتی ناہمواریوں اور تہذیبی اقدار کے ایسے زندہ تجربات سے روشناس کرایا جو نہ صرف اپنے عہد کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ہر دور کے قاری کے لیے معنویت رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں زندگی کی تلخ حقیقتیں، انسانی رشتوں کی نزاکت، سماجی جبر، طبقاتی تفاوت، عورت کی شناخت کی کشمکش اور باطنی کرب نہایت فنی مہارت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیلانی بانو کو ترقی پسند تحریک کے بعد اردو افسانے کی اہم ترین اور باوقار ادیباؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں، اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حیرت بدایونی معروف شاعر تھے، اس لیے انہیں بچپن ہی سے ادبی اور علمی ماحول میسر آیا۔ ابتدائی عمر میں ہی شعر و ادب سے شغف پیدا ہوا اور یہی ماحول ان کی تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ بعد ازاں ان کا خاندان حیدرآباد دکن منتقل ہوگیا، جہاں اس خطے کی تہذیبی رنگا رنگی، ادبی روایت اور سماجی تنوع نے ان کے فکر و فن کو مزید وسعت عطا کی۔ انہوں نے کم عمری میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور 1952ء میں ان کا پہلا افسانہ ’’ایک نظر اِدھر بھی‘‘ شائع ہوا، جس نے ادبی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ بعد ازاں افسانہ ’’موم کی مریم‘‘ نے انہیں اردو افسانے کی صفِ اول کی تخلیق کاروں میں شامل کر دیا اور ان کی ادبی شناخت کو مستحکم کیا۔

Sunday, July 19, 2026

پریم چند کی ناول نگاری: ناول ’’نرملا‘‘ کے حوالے سے ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ


"پریم چند کی ناول نگاری: ناول ’’نرملا‘‘ کے حوالے سے ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" فریدہ تبسم (کالم نگار) کا ایک اہم تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں منشی پریم چند کے شہرۂ آفاق ناول ’’نرملا‘‘ کا ادبی، فنی اور سماجی تناظر میں تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں جہیز، کم عمری کی شادی، عورت کی سماجی حیثیت، خاندانی رشتوں کی پیچیدگی اور اصلاحِ معاشرہ جیسے اہم موضوعات کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ کیا گیا ہے۔ نیز یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’’نرملا‘‘ صرف ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ اپنے عہد کے سماجی مسائل کی بھرپور عکاسی کرنے والا ایک اہم ناول ہے۔

ڈاکٹر فریدہ تبسم    (کالم نگار)

 اردو اور ہندی ادب کی تاریخ میں پریم چند کو ایک ایسے عظیم فکشن نگار کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے زندگی کی ترجمانی، سماجی اصلاح اور انسانی مسائل کے اظہار کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ انہوں نے اپنے عہد کے معاشرتی حالات، طبقاتی کشمکش، معاشی مسائل، دیہی زندگی، عورتوں کی مشکلات اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اردو اور ہندی کے صفِ اول کے ناول نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

پریم چند کی ناول نگاری کا بنیادی وصف حقیقت نگاری ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں زندگی کے ان پہلوؤں کو موضوع بنایا جن سے عام انسان روزانہ گزرتا ہے۔ ان کے کردار خیالی دنیا کے باشندے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے حقیقی افراد محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے دکھ، محرومیاں، خواہشات، کمزوریاں اور جدوجہد انسانی زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔ پریم چند نے ادب کو سماجی شعور سے وابستہ کیا اور ناول کو معاشرتی مسائل کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بنایا۔

ناول ’’نرملا‘‘ پریم چند کی اہم ترین تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ناول بیسویں صدی کے ابتدائی ہندوستانی معاشرے میں عورت کی حالت، جہیز کی لعنت، ناموافق ازدواجی رشتوں، شک و شبہ کی تباہ کن نفسیات اور خاندانی نظام کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں محض ایک عورت کی داستان بیان نہیں کی بلکہ اس پورے سماجی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو عورت کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ’’نرملا‘‘ ایک سماجی، نفسیاتی اور اصلاحی ناول کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں مصنف نے انسانی جذبات اور معاشرتی ناانصافیوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔

Friday, July 17, 2026

📢 فوری اعلان | Call for Papers

QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)

ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

📢 *قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)*

*ISSN: 3139-1028*

*خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"*

 قادرالکلام ماہنامہ کے خصوصی شمارہ *"آزادیِ ہند اور اردو ادب"* کے لیے ملک کی مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں سے ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے مقالات موصول ہو رہے ہیں۔

*اب تک موصول ہونے والے بعض اہم مقالات:*

🔹 *تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ* — پروفیسر مجید بیدار، *حیدرآباد*

🔹 *تحریکِ آزادی اور الہلال* — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، *حیدرآباد*

🔹 *اردو صحافت کا معمارِ اول: مولوی محمد باقر مجتہد* — ڈاکٹر عبدالعزیز عرفانؔ، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*

🔹 *پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری* — نغمہ فردوس، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*

🔹 *آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری* — (مضمون نگار)، *رامپور، اتر پردیش*

🔹 *مولانا آزاد کی ادبی خدمات* — شہنا ناز، *رانچی*

🔹 *حسرت موہانی کی انقلابی شاعری* — اسما جبین

🔹 *اردو شاعری اور تحریکِ آزادی* — ڈاکٹر ناظم حسین خان، *لکھنو، اتر پردیش*

🔹 *بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد* — ڈاکٹر فریدہ تبسم، *حیدرآباد*

🔹 *اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری* — ڈاکٹر واجدہ بیگم، *حیدرآباد*

🔹 *اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار* — گل رعنا علی، *آکولہ، مہاراشٹر*

✍️ *اگر آپ نے ابھی تک اپنا مقالہ ارسال نہیں کیا تو جلد از جلد روانہ کریں۔*


⏳ *مقالہ ارسال کرنے کی آخری تاریخ: 25 جولائی*


📧 *ای میل:*

qadarulkalam@gmail.com

qadirulkalam5@gmail.com 


📱 *WhatsApp:* +91 8885303386


*QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)*

A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

*ISSN: 3139-1028*

مزید مقالات موصول ہونے کے ساتھ یہ فہرست مسلسل اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence


 "A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence" is a research article authored by Mohammed Nadeem Mohiuddin (Columnist, Hyderabad, India). This scholarly paper was published in the July 2026 Issue of the Qadir-ul-Kalam International Monthly Journal (ISSN: 3139-1028).

The article presents a comprehensive critical study of D. H. Lawrence's celebrated novel Lady Chatterley's Lover, examining its historical background, literary significance, major themes, characterization, symbolism, narrative technique, and critical reception. Readers are invited to explore this insightful research article below.

***

 Mohammed Nadeem Mohiuddin

Collomist, 

Lady Chatterley's Lover (1928) is one of the most controversial and critically acclaimed novels in twentieth-century English literature. Written by D. H. Lawrence during the final years of his life, the novel explores the intricate relationship between love, sexuality, industrialization, class consciousness, and human identity. While its explicit treatment of sexual intimacy resulted in censorship and legal prosecution for several decades, modern literary criticism recognizes it as a profound philosophical and psychological work rather than merely an "obscene" novel.

The purpose of this study is to present a critical survey of Lady Chatterley's Lover by examining its historical background, thematic concerns, narrative technique, characterization, symbolism, and literary significance. It also investigates the controversy surrounding the novel and its contribution to the evolution of modern English fiction. Through textual analysis and critical interpretation, the study argues that Lawrence's novel is fundamentally a defense of human dignity, emotional fulfillment, and natural relationships against the dehumanizing effects of industrial civilization.

Keywords: D. H. Lawrence, Lady Chatterley's Lover, Modern English Novel, Sexuality, Industrialization, Class Conflict, Censorship, Literary Criticism.

Tuesday, July 14, 2026

بشیر بدر کی شاعری میں انسان دوستی کا تصور


 فیضان احمد کیفی  (ریسرچ اسکالر؛جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی)

فیضان احمد کیفی (ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) کا ایک تحقیقی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں معروف اردو شاعر بشیر بدر کی شاعری میں محبت، رواداری، امن، ہمدردی اور انسانی اقدار کے تصور کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں منتخب اشعار کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بشیر بدر کی شاعری انسان دوستی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی شعور کی مؤثر ترجمان ہے۔)

"وہ دلوں میں آگ لگائے گا، میں دلوں کی آگ بجھاوں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے، مجھے اپنے کام سے کام ہے"
مذکورہ شعر کے خالق جدید اردو غزل کے معتبر شاعر اور مشاعروں کی دنیا کے درخشندہ ستارہ بشیر بدرہیں۔ بشیر بدر نے اپنی شعری تخلیقات سے اردو ادب میں بیش قیمتی اضافہ کیا ہے اور اپنے دور کے مشاہیرِ ادب کو اپنی تخلیقات کی جانب التفات کرنے اور ان کے فکر و فن پررائے دینے پر مجبور کیا ہے۔ اسی لیے بشیر بدر کو محض "مشاعروں کا شاعر" کہہ کر یک قلم مسترد کر دینا اور ان کی تخلیقات کا سنجیدہ اور ناقدانہ مطالعہ نہ کرنا ادبی انصاف کے خلاف ہوگا۔
بشیر بدر کی شاعری میں محبت ،انسانی اقدار، مذہبی رواداری، امن و آشتی، رشتوں کی صداقت و اہمیت، انسانی حسیت، امید و حوصلہ جیسے عناصر نہایت خوبصورتی کے ساتھ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت کے خوش نما احساسات جس لطافت، فکری بالیدگی اور داخلی سچائی کے ساتھ جلوہ گرہیں، وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کیے بغیر نہیں رہتے۔ ان کے اشعار کو پڑھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے بہت سے شاعروں کی طرح صرف عشق، محبت، گل و بلبل اور روایتی رومانوی موضوعات کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا ہے، لیکن ان کے کلام کا گہرا مطالعہ اس تاثر کو بدل دیتا ہے۔ بشیر بدر نے محبت کے نازک اور لطیف جذبات کو جس وسعتِ فکر، بلند انسانی شعور اور کشادہ قلبی کے ساتھ اپنے اشعار میں برتا ہے وہ ان کا خاص امتیاز ہے۔انہوں نے محبت، انسیت، الفت، مروّت اور خلوص جیسے احساسات کو صرف عشق و عاشقی کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسانیت کی بقا، امن و سکون ،باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کا وسیلہ بنایا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور انسانی رویہ بن کر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے نفرت کے مقابل محبت کا پیغام دیاہے۔ بغض و عناداور سماج میں مروج منافقت کے ماحول میں خلوص، اپنائیت اور مفاہمت کو اہمیت دی ہے۔ مذہبی منافرت کے دور میں رواداری اور انسان دوستی کی ترغیب دلائی ہے۔ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کے درمیان صلہ رحمی، تعلقات اور انسانی احساس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح تصنع اورظاہری؎ شرافت کے برخلاف سچائی، سادگی اور خالص انسانی جذبات کی حمایت ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔

Monday, July 13, 2026

جنوبی ہند کا ادبی و اخلاقی پس منظر


 ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ    

                     جنوبی ہند (دکن) کی سرزمین تاریخِ عالم میں نہ صرف اپنی جغرافیائی انفرادیت، کہساروں، اور شاداب وادیوں کے لیے معروف ہے، بلکہ یہ خطہ قدیم زمانے سے ہی تہذیب و تمدن، علم و دانش اور اعلیٰ انسانی قدروں کا گہوارہ رہا ہے۔ دکن کی مٹی سے جو ادب پھوٹا، اس کی خوشبو میں صرف فنکارانہ مہارت ہی نہیں بلکہ وہ اخلاقی پیغام بھی شامل رہا ہے جس نے صدیوں تک برصغیر کے سماجی ڈھانچے کو استحکام بخشا۔ جنوبی ہند کے ادب کا مطالعہ کرتے وقت یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہاں کے ادبا، شعرا اور دانشوروں نے قلم کو محض جمالیاتی تسکین یا تخیلاتی پرواز کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اسے معاشرے کی فکری آبیاری اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔

لسانی تنوع اور اخلاقی ہم آہنگی جنوبی ہند کی پانچ بڑی زبانوں یعنی تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور قدیم اردو (دکنی) کے ادبی سرمائے میں ایک قدرِ مشترک  اخلاقیات  ہے۔ تمل ادب کی بات کی جائے تو 'تروکول (Thirukkural) جیسی عظیم کتاب آج بھی پوری دنیا کے لیے اخلاقیات کا ایک ضابطہ حیات مانی جاتی ہے۔ اسی طرح کنڑ اور تیلگو کے کلاسیکی ادب میں بھی مذہب اور اخلاق کو اس طرح سمویا گیا ہے کہ وہ ایک عام انسان کے کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان زبانوں کے تخلیق کاروں نے ہمیشہ سچائی، دیانتداری، رواداری اور انسانی ہمدردی کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔                                         

عربی مکتوب نگاری کی روایت


پروفیسر شاہد نوخیزاعظمی

 قدمت کے حوالے سے مکتوبات کی تاریخ انسانی تاریخ کے ہم مقابل ہے۔ افکار و خیالات کی جس صفت نے انسان کو اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز کیا ہے۔ وہی صفت اس فن کی موجد بھی ہے۔ انسان روز اول سے ہی اپنے افکار و خیالات، حرکات و سکنات اور احساسات و تجربات کا اظہار بذریعہ اشارات کرتا رہا ہے ۔ اسی وجہ سےحضرت مسیح سے ہزاروں سال قبل خط و کتابت کے نقوش ملتے ہیں۔ چین، ایران، عربستان اور ہندوستان کی قدیم تہذیبوں میں بھی خط و کتابت کا خوب معمول تھا۔ خط و کتابت کی اس روایت نے اپنی ابتدائی منزلیں گرچہ اسلام کی آمد سے قبل طے کی ہیں لیکن باالخصوص آمد اسلام کے بعد یہ فن اپنے اوج کمال کو پہنچا ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد مذہب ،دین اوراسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے اور قرآن کی تحریر و طباعت کے لیے اس کی اور زیادہ ضرورت محسوس کی گئی تھی اور یہ ذمہ داری چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سپر د کی گئی جو کاتب الوحی کے نام سے مشہور معروف ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی نشرو اشاعت اور دعوت و اصلاح کے لیے سلاطین کے نام خطوط رقم کیے تھے۔ اس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے۶ ھ میں قیصر روم، کجکلاہ ایران، عزیز مصر، نجاشی شاہ حبش، رؤسائے یمامہ ،والی حدود شام حارث غسانی، شرحبیل بن عمرو والی بصریٰ کے نام اسلام کی دعوت کے لیے خطوط ارسال فرمائے اور اس خدمت کی ذمہ داری بالترتیب حضرت دحیہ کلبی، عبداللہ بن حذافہ سہمی، عمروبن امیہ ضمری، سلیط بن عمرو،شجاع بن وہب اور حارث بن عمیر رضی اللہ عنہم اجمعین کوپیش کی گئی تھی۔ اس کی تفصیلات شاہ معین الدین ندوی نے تاریخ اسلام جلد اول کے صفحہ ۶۸ پریوں پیش کی ہے:

’’قیصر روم نے خط پاکر حکم دیا کہ اگر اس کے حدود سلطنت میں عرب کا کوئی شخص مل جائے تو اسے حاضر کیا جائے،اتفاق سے اس وقت ابوسفیان جو تجارت کے سلسلے میں شام آئے ہوئے تھے ،موجودتھے۔ چنانچہ انھیںلے جاکر پیش کیا گیا۔ قیصر نے ان سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق چند سوالات کیے ۔ ان میں جھوٹ بولنے کی گنجائش نہ تھی اس لیے ابو سفیان نے صحیح جوابات دیے۔یہ جوابات سن کر قیصر کو آنحضرت صلعم کی صداقت کا یقین ہوگیا۔ اس نے ابوسفیان سے کہاکہ ’’اگر تمھارے جوابات صحیح ہیں تو میرے قدم گاہ تک اس شخص (آنحضرت صلعم ) کا قبضہ ہوجائے گا، مجھ کو معلوم تھا کہ ایک پیغمبر آنے والاہے ، لیکن یہ خیال نہ تھاکہ وہ عرب میں ظاہر ہوگا۔ اگر میں اس تک پہنچ سکتا توان کے قدم دھوتا‘‘۔ قیصرکے ان خیالات کو سن کراس کے بطارقہ سخت برہم ہوئے لیکن اس اعتراف کے باوجود وہ تخت و تاج کی طمع میں اسلام کی دعوت سے محروم رہ گیا‘‘۔ 

Saturday, July 11, 2026

New Issue Released |


 Qadir-ul-Kalam International Research Journal (ISSN: 3139-1028)

We are pleased to announce that the latest issue of Qadir-ul-Kalam International Peer-Reviewed Research Journal is now available online.

This issue features original research articles on:

• Literary Criticism and Poetics
• Arabic Literary Traditions
• Abu al-Hasan Ali Nadwi: A Critical Study
• Educational Contributions of South Indian Madrasas
• Fictional Art of Jahan Akbar
• Premchand's Narrative Technique
• History of Urdu Prose and Fiction
English Research Paper: A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence

🔗 Read the complete issue:
https://www.qadirulkalam.com/

We welcome researchers, academicians, teachers, and research scholars to explore the latest issue and share it within their academic networks.

#Research #Urdu #Literature #PeerReviewed #ISSN #AcademicPublishing #Humanities #QadirulKalam #ResearchJournal

تازہ شمارہ دستیاب ہے


 

📚 ماہ نامہ قادرالکلام (بین الاقوامی، تحقیقی و ریفریڈ جرنل) – تازہ شمارہ جولائی  2026

ISSN: 3139-1028

خوشخبری!
ماہ نامہ قادرالکلام کا تازہ شمارہ اب ہماری ویب سائٹ پر مطالعہ کے لیے دستیاب ہے۔

اس شمارے میں شامل چند اہم تحقیقی مضامین:

🔹 ادب میں تحقیق و تنقید اور شعریات کی روشنی میں شعر
🔹 عربی تاثرات میں کالج کی روایات
🔹 سید ابو الحسن علی ندویؒ کی شخصیت پر ایک فکری و ادبی مطالعہ
🔹 جنوبی ہند کے مدارس اور اضافات میں منظر
🔹 جہانِ اکبر کے افسانوی فن کا تحقیقی مطالعہ
🔹 پریم چند کی کہانی نگاری: "ناول، افسانہ، ڈراما" کے حوالے سے
🔹 اردو نثر و افسانہ نگاری کی تاریخ میں گلستانِ سخن کا مقام
🔹 English Research Article: A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence

📖 مکمل شمارہ ملاحظہ کریں:
https://www.qadirulkalam.com/

علمی و تحقیقی حلقوں سے گزارش ہے کہ اس شمارے کا مطالعہ کریں، اپنی آراء سے نوازیں اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔

#QadirulKalam #UrduResearch #ResearchJournal #ISSN #PeerReviewed #UrduLiterature #AcademicJournal #ResearchScholars

Saturday, July 4, 2026

جیسلمیر میںاردو کے نقوش


ڈاکٹر فخرانساء بانو   (اسسٹنٹ پروفیسر،راجستھان)

جیسلمیر میں ۱۸۵۷؁ء کے بعد ہی اردو کی شروعات ہوئی۔ کوہِ آبو میںانگریزریزیڈنسی قائم ہونے کے بعد اردو میںکام کاج بڑھا لیکن جودھپور،بیکانیر اور سروہی ریاستوں کی طرح اس ریاست میںاردوتصنیف وتالیف کے ثبوت نہیںملتے اور نہ ہی ہماری معلومات میں شاعر وادیب اس علاقے میںہوئے ہیں۔

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں خطہ مارواڑ میںآزادی سے قبل اردو شعر وادب کا ایک شاندار ماحول رہا ہے۔ حمید الدین ریحانی، قاضی حمید الدین اور صوفی حمید الدین کی آمدِناگور کے بعدفارسی وعربی ادب کی تخلیق کاجو سلسلہ شروع ہوا تھا،اس سے اردو کے لئے ایک سازگار ماحول تیار ہوگیا۔ علامہ فیضیوابو الفضل نے نہ صرف فارسی ادب کوعروج پر پہنچایابلکہ اس خطہ ریگزار کو بھی عظمت ووقار بخشا۔

غالب ؔوداغؔکے تلامذہ کواس علاقے نے اس قدر متاثر کیا کہ وہ یہاںآگئے اور اردو تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کیا۔اس علاقے کے مہاراجگان بھی علم دوست اورادب پرور تھے۔ بلکہ کئی والیانِ ریاست تو خود شاعر وادیب (مارواڑی زبان کے) گزرے ہیں۔ ۱۸۵۷؁ء کے بعد اردو یہاں پررائج ہونے لگی تھی۔نیز سرکاری دفاتر اور عدالتوں میںاردو میںکام کاج ہونے لگا تھا۔ قوانین وتواریخ کی کتابیںاور گزٹس بھی اردو میں چھپنے لگے تھے۔ اسی طرح متعدد شعراء وادباء کے دواوین، مجموعے اور نثری کتابیں بھی شائع ہونے لگی تھیں۔ سرکاری اسکولوں اورمدرسوں میں اردو پڑھائی جانے لگی تھی۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں کا بھی آغاز ہوچکا تھا اور اردو میںرسالے بھی جاری ہونے شروع ہوچکے تھے۔یہ تمام کام جو اردو میں ہوا کرتے تھے ، مارواڑی کا اثر لیے ہوئے تھے۔

Friday, July 3, 2026

مولانا آزاد کی طرز نگارش


 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

مولانا آزاد جامع الصفات و مجمع الکمالات اسلام کے عاشق، حق کے طرفدار، حریت کے پرستار، ملت کے خدمت گذار، اتحاد و  التفات کے خوا ستگار اور مسلم و آگہی کے تاجدار تھے۔ وہ علم کا اور علم ان کا تعاقب کرتا رہا، دونوں فاتح بھی ہوئے اور مفتوح بھی، انکے قلم نے علم کو اور علم نے ان کے قلم کو حیات جاوید بخشا، جب تک وہ باحیات تھے، علم کی صفات کا علم بلند رہایا یوں کہیئے کہ جب تک علم باقی رہے گا اچھے اصول اور وجود کا علم بلند رہے گا، مولانا کی شہرت کی بنیاد متاع درد، زور علم اور حسن رفتم ہے، سیاسی مسائل مذہبی رموز و نکات، شعری فسوں گرمی، ادبی عشوہ گری، تکرار کی رعد، اور خطابت کی کڑک کے ذریعے انکا  قلم اپنی چمک دمک اور مہک بکھر تا رہا، طلافت، فصاحت، بلاغت اور خطابت کے دریا میں جو علمی طغیانی نظر آرہی ہے وہ موصوف کے ذکر جمیل اور اسلوب جلیل کی مرہون منت ہے وہ بے مثال عالم پر گہر انشاء پرداز یگانی روزگار، بلند پایہ مدیر، مخلص سیاست دان اور ماہر قر آنیات تھے۔ ان کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا، جس کو صحیفہ صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا، کیونکہ صحافت کی شریعت میں واحد صحف ''الہلال'' ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جونہ  صرف موجودہ بلکہ آئیندہ  و  پائیندہ صحافت کے لئے بھی مشعل راہ ہے، اسکی زبان ، زمین و زمان کے لئے نوید سرفروشی تھی، جس کا نعرہ تیز ترک گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ تاریکی گمراہی لا علمی بے راہروی خود گریزی و نافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئی ہوئی عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ الجہاد فی سبیل  الحریہ۔   مولانا آزاد نے جن باتوں کو ایمان و یقین کی حد تک اپنے پیش نظر رکھاوہ ہندو و مسلم اتحاد مشتر کہ تہذیب متحدہ قومیت اور خدمت انسانیت تھی جس میں اتحاد اور حب الوطنی کو قومیت، ثقافت اور آزادی پر فوقیت حاصل تھی کیونکہ اتحاد ہر درد کا  درماں اور ہر مرض کی دوا ہی نہیں بلکہ فتح کی بشارت بھی ہے، ۱۹۳۳ء  میں کانگریس کے ایک خصوصی اجتماع میں انہوں نے ببانگ دہل کہا کہ آج  اگر ایک فر شتہ آسمان کی بلندیوں سے اتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑا ہو کر اعلان کر دے سوراج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان  ہند و مسلم اتحاد سے دستبردار ہو جائے تو میں سوراج سے دستبردار ہو جاؤں گا، مگر اس سے دستبردار نہ ہوں گا کیونکہ اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہوگا۔ مولانا آزاد اپنے خطبوں، تقریروں، تفسیروں اور تحریروں کے ذریعے مسلسل متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کے لئے کوشاں رہے، اسکے لئے انہوں نے فلسفیانہ رنگ بھی اختیار کیا، مکالمے کا انداز بھی اپنایا۔ قدیم و جدید کا موازنہ بھی کیا، تہذیب و ثقافت کے فرق بھی واضح کئے قرآن و حدیث سے دلائل بھی دئے آیات کی تاثیر سے خون بھی گرمایا اور قرآنی آئین و اصول کے آئینہ میں نیشنلزم، وطنیت، علاائیت اور مذہب و سیاست کی تحقیق کو صحافت کی مدد سے پیش کیا۔ مولانا بیداری، آزادی، اتحاد اور انقلاب کی جس راہ پر کمر بستہ تھے، اس کو حق سمجھتے تھے، اور انگو یقین مت کہ حق ضرور کامیاب ہوگا، باطل چاہے جتنا بھی ظالم اور جابر کیوں نہ ہو  اسے شکست فاش ہوگی، فریب فرنگ نے آزادی و اتحاد کی تحریک کو دین و مذہب کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی تو الہلال نے اس غلط بیانی کا مدلل و مفصل جواب دیتے ہوئے لکھا کہ آزادی انسان کا فطری حق ہے کوئی بھی مذہب اپنے پیرئوں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا، اور مسلمانوں کے لئے جہاد حریت ایک وینی فریضہ ہے، اللہ نے انہیں مجاہد بنایا ہے، اور مجاہد حق و صداقت کا پرچم بلند کرنے، انسانی بند و استبداد اور غلامی کو توڑنے کے لئے روئے زمین پر بھیجے گئے ہیں، جس نے غافلوں کو چوکنا سرمستوں کو ہشیار اور نیند کے متوالوں کو بیدار کر دیا، پر شور نعرے بلند ہونے لگے حریت و حرمت حریت کی لہر دوڑ گئی مغلوبوں اور مظلوموں نے لذت آزادی اور ذائقی بیداری کا مزہ بھی چکھا۔  

Thursday, July 2, 2026

قاضی عدیل عباسی کی قائدانہ صلاحیت کا محاکمہ


 محمد نسیم(ریسرچ اسکالر)

 قاضی عدیل عباسی اردو زبان و ادب ، صحافت اور قومی تحریک سے وابستہ ایک ہمہ جہت اور باقار شخصیت کا نام ہے ۔انھوں نے بیسویں صدی کے ہندوستان میں علمی، ادبی اور قومی سطح پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو جدوجہد، استقامت، دیانت داری اور مقصدیت کا آئینہ دار ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ  ایک مجاہد آزادی تھے بلکہ اردو زبان کے مخلص علم بردار اور بے باک صحافی بھی تھے۔ ان کا تعلق ضلع بستی کی تحصیل ڈمریا گنج کے’’بیارہ‘‘ نامی گاؤں  سے تھا، جو اب ضلع سدھارتھ نگر میں شامل ہے۔ ان کی پیدائش ۱۳ مارچ  ۱۸۹۸ء کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد قاضی بسم اللہ ایک خوش فکر شاعر تھے جن کا تخلص ’’عاصیؔ‘‘ تھا۔ ان کا شعری سرمایہ بعد میں ان کے فرزند قاضی محمد شکیل عباسی نے ’’نسخہ تواریخ‘‘ کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا۔ قاضی عدیل عباسی کی ابتدائی تربیت اسی علمی وادبی  ماحول میں ہوئی جہاں ادب، مذہب ، حب الوطنی  اور  سیکولریزم کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
تعلیم کی طرف ان کی رغبت بچپن ہی سے نمایاں تھی۔ ۱۹۰۹ء میں پرائمری اور ۱۹۱۱ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانے میں علاقے میں انگریزی تعلیم کا کوئی باقاعدہ  ادارہ موجود نہ تھا، اس لیے وہ میلوں  دور گھوڑے پر سوار ہو کر تعلیم حاصل کرنے  کے لیے جاتے تھے۔ یہ محض تعلیم کا حصول نہیں تھا بل کہ علم سے عشق کا عملی اظہار تھا۔ انھوں نے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ بستی کالج سے مکمل کیا، پھر گورکھ پور سے ۱۹۲۰ میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور۱۹۲۸ ء میں وہاں سے ایل ایل بی اور ایم اے کیا۔ اس زمانے میں دو کورس ایک ساتھ کرنے کی اجازت تھی۔

Tuesday, June 30, 2026

سیماب اکبرآبادی: حیات، فن اور شاعری


ڈاکٹرفریدہ تبسم (اسسٹنٹ پروفیسر)

 اردو شاعری کی تاریخ میں بعض شعراء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، فنی مہارت اور تخلیقی وسعت کے ذریعے ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ سیماب اکبرآبادی ان ہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شمار بیسویں صدی کے ان اہم شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل، نظم، رباعی، نعت اور دیگر اصنافِ سخن میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت، انسانی جذبات، روحانیت، اخلاقیات اور فلسفۂ حیات کے مختلف پہلو نہایت خوبصورتی سے نمایاں ہوتے ہیں۔

سیماب اکبرآبادی کی زبان سادہ، دل نشین اور عام فہم ہے، جبکہ ان کے خیالات میں گہرائی اور وسعت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار آج بھی عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف جذبات کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ قاری کو غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

 سیماب اکبرآبادی کا تعارف اور حالاتِ زندگی

سیماب اکبرآبادی کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ آپ 5 جون 1880ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے، جو قدیم زمانے میں اکبرآباد کہلاتا تھا، اسی نسبت سے آپ نے "سیماب اکبرآبادی" تخلص اختیار کیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور کم عمری ہی سے شعر و ادب سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔

آپ نے اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں مہارت حاصل کی اور بعد ازاں مشہور استادِ سخن داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔ داغ دہلوی کی تربیت نے آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور آپ جلد ہی اردو کے معروف شعراء میں شمار ہونے لگے۔

سیماب اکبرآبادی نہایت زرخیز طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور بے شمار شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ان کے ہزاروں شاگرد برصغیر کے مختلف علاقوں میں موجود تھے۔

Friday, June 26, 2026

قومی ترقی میں اردو زبان کا کردار: NEP-2020 کے تناظر میں


 ڈاکٹر سید حیات باشاہ  (اسسٹنٹ پروفیسر،کیرالا)

قومی ترقی میں اردو زبان کا کردار: NEP-2020 کے تناظر میں ڈاکٹر سید حیات باشاہ (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ تعلیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ملاپورم سینٹر، کیرالا) کا ایک تحقیقی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 (NEP-2020) کی روشنی میں اردو زبان کے تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور معاشی کردار کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت، کثیر لسانی تعلیم، اردو زبان کے فروغ کے امکانات اور موجودہ چیلنجز کو مستند حوالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔)

اردو زبان برصغیر کی ایک اہم تہذیبی اور لسانی روایت کی حامل زبان ہے، جس نے بھارت میں قومی ترقی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ National Education Policy 2020 (NEP-2020) کے نفاذ نے مادری اور علاقائی زبانوں کی اہمیت کو ازسرنو اجاگر کیا ہے، جس کے تناظر میں اردو زبان کے کردار کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس مقالے کا مقصد اردو زبان کے تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور معاشی کردار کو NEP-2020 کی روشنی میں تنقیدی انداز میں پیش کرنا ہے۔

تحقیقی مطالعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم طلبہ کی فہم و ادراک کو بہتر بناتی ہے اور سیکھنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتی ہے (Mohanty, 2019)۔ اردو زبان بھارت کے کئی علاقوں میں اسی کردار کو ادا کرتی ہے، جہاں یہ طلبہ کو پیچیدہ تصورات سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ مزید برآں، NEP-2020 کثیر لسانی تعلیم پر زور دیتی ہے، جو اردو جیسی زبانوں کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔سماجی سطح پر اردو زبان مختلف ثقافتی اور مذہبی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ اردو ادب، شاعری اور فلمی صنعت نے بھارت میں مشترکہ تہذیب کو مضبوط کیا ہے۔ معاشی لحاظ سے اردو زبان میڈیا، اشاعتی صنعت اور تخلیقی معیشت میں مواقع فراہم کرتی ہے۔

Thursday, June 25, 2026

گلستاں حیات: قرآنی تعلیمات کا آئینہ


محمد فہیم محی الدین  

(کالم نگار، صحافی) 

 تبصرہ بر کتاب:   گلدستہ  ٔ  حیات  (تالیف منتخب آیاتِ قرآنیہ)

(Guldasta  e  Hayat (The  Vase  of  the  Life

مرتب:   سید عبد الواجِد ہاشمی

ناشر:        شادان پبلیشنگ ہاؤس، گولکنڈہ فورٹ، حیدرآباد

صفحات:      148 

قیمت:    100 روپے

بہ زبان:  اردو   و   انگریزی 

ISBN  :   978-81-981132-21

قرآنِ کریم وہ آسمانی کتاب ہے جس نے انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم، اخلاق، عدل اور ہدایت کی روشنی بخشی۔ ہر دور میں اہلِ علم نے قرآن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے۔ کسی نے تفسیر لکھی، کسی نے ترجمہ، کسی نے قصص القرآن کے ذریعے، تو کسی نے اخلاقی و اصلاحی پہلوؤں کو نمایاں کر کے قرآن کی تعلیمات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔

Wednesday, June 24, 2026

بنگال میں اُردو زبان و ادب کا فروغ: مسائل و امکانات


 ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ  (صدر شعبۂ اردو)

تمہید: تاریخی پس منظر
 ہندوستان میں جنمی، پلی بڑھی اور مقبولیت کی معراج کو چھونے والی اُردو زبان جب سرزمینِ بنگال میں قدم رکھتی ہے، تو اپنی شیرینی اور حلاوت کے سبب یہاں کے مقامی باشندوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بنگال میں متعدد شعرا و ادبا پیدا ہوتے ہیں اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان تخلیق کاروں نے بلا امتیازِ مذہب و ملت اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اُردو  زبان کا رشتہ بنگال سے صدیوں پرانا  رہاہے۔ مغلیہ دور سے لے کر برطانوی عہد حکومت تک، بنگال (خاص طور پر کولکاتا اورمرشد آباد) اُردو زبان و ادب کا ایک بڑا  اور اہم مرکز رہا ہے۔ مارکوٹس آف ویلزلی کے ہاتھوں  فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو نثر کی تاریخ میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے کولکاتا کو اُردو  زبان کی جنم بھومیوں کے برابر لا کھڑا کیا۔  میر امن دہلوی کی ’’باغ و بہار‘‘ ہو یا حیدر بخش حیدری کی تصانیف، ان کی خوشبو اسی بنگال کی فضاؤں سے اٹھی تھی۔ اس کے بعد کے ادوار میں بھی بنگال نے علامہ رضا علی وحشت اور پرویز شاہدی جیسے بلند پایہ شعراء اور ادباء پیدا کیے۔
ابتدائی دور میں اردو زبان کو رواج دینے اور اسے فروغ دینے میں بنگال کے جن علاقوں کو اولیت حاصل رہی، ان میں پنڈوہ (مالدہ)، مرشد آباد، کولکاتا اور اس کے مضافات انتہائی اہم ہیں۔ بنگال کے ان مراکز میں ایسے بے شمار اردو شعرا و ادبا پیدا ہوئے جن میں ہندو دھرم کے پیروکار بھی شامل تھے اور اسلام کے شیدائی بھی۔     

Tuesday, June 23, 2026

مصر میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس: ایک تحقیقی مطالعہ


  ڈاکٹر مر وہ لطفی ہیکل  (اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو)

مصر میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ کئی دہائیوں سے بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تصنیفی اور تحقیقی سرگرمیاں بھی تسلسل کے ساتھ انجام پا رہی ہیں۔ مصر کی متعدد یونیورسٹیوں میں اردو زبان میں تصنیف و تحقیق کے ذریعے علمی خدمات انجام دی ہیں۔ ان علمی کاوشوں کے نتیجے میں اردو زبان کی تدریس اور تحقیق کے میدان میں اہلِ علم نے برصغیر اور مصر کے درمیان تہذیبی، فکری اور علمی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں مصر میں اردو کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی تعداد خاصی قابلِ توجہ ہے۔
مصر کی جن یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی تدریس کا باقاعدہ انتظام موجود ہے، ان میں قاہرہ یونیورسٹی، جامعہ ازہر، عین شمس یونیورسٹی، اسکندریہ یونیورسٹی، طنطا یونیورسٹی، منصورہ یونیورسٹی اور قنا یونیورسٹی قابلِ ذکر ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اردو زبان و ادب کے مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے تحریر کیے جا رہے ہیں، جو اردو تحقیق کے فروغ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو سنہ 1930ء میں برصغیر کے کئی اردو داں افراد مصر تشریف لائے، جو اردو زبان پر عبور رکھتے تھے۔ انہی میں ابو سعید العربی کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے قاہرہ سے پہلی مرتبہ اردو زبان کا رسالہ ’’جہانِ اسلامی‘‘ شائع کیا۔ اسی زمانے میں اردو کا ایک ہفتہ وار اخبار بھی عمل میں آیا، جس سے مصر میں اردو صحافت کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
مصری یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی تدریس گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری ہے۔

Monday, June 22, 2026

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ:بحیثیت دانشور،مصنف اور ادیب


 سید سلطان پاشاہ

ریسرچ اسکالر،شعبہ ترجمہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی  

مولانا  سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کی ولادت  3رجب المرجب 1321 ھ بمطابق25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد (دکن ) میں ہوئی۔ والد ماجد نے آپ کا نام ابو الا علیٰ رکھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا تعلق سادات اہل بیت کے معروف شاخ سلسلہء مودودیہ سے تھا ان کے جد امجد خواجہ قطب الدین مودود چشتیؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ(اجمیری) کے پر دادا پیر تھے۔ بادشاہ شاہ عالم کے زمانے میں ان کا خاندان دہلی آکر آباد ہوا اور چھٹی پشت تک وہیں آباد رہا۔  مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے والد ’’سید احمد حسن ‘‘ (1920ء۔1855ء) دہلی میں پیداہوئے۔ علی گڑھ میں کچھ تعلیم حاصل کی پھر الہ آباد سے وکالت کاامتحان پاس کیا  اور      اورنگ آباد ،حیدرآباد دکن جا کر وکالت شروع کردی۔ سید احمد حسن ’’سر سید احمدخان ‘‘ کے بھانجے تھے۔ مولانا مودودیؒ کی والدہ ’’محترمہ رقیہ بیگم ‘‘ کاتعلق دہلی سے تھا۔ سید احمدحسن کے چار بیٹے ابوالقاسم،ابو محمد، ابوالخیر، ابوالاعلیٰ تھے۔ سید مودودیؒ کی تربیت  ان کے والدنے خاص توجہ سے کی۔ وہ انہیں مذہبی تعلیم خود دیتے تھے۔ اردو، فارسی اور عربی کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث کی تعلیم بھی اتالیق کے ذریعے گھر پر دی جاتی تھی۔ تعلیم کے ساتھ اخلا قی اصلاح کا بھی وہ خاص خیال رکھتے تھے۔ سید احمد حسن رات کو سونے سے قبل اپنے دونوں بچوں ( ابوالخیر مودودی ؒاور ابوالاعلیٰ مودودی) کو پیغمبروں کے قصے ، تاریخ ِ اسلام ، تاریخ ِہندوستان اور سبق آموزکہانیاں سناتے تھے ۔وہ رسمی تعلیم و تلقین  سے زیادہ حقیقی شعورو ادراک پر یقین رکھتے تھے ۔ انہوں نے بچوں کی اردو تعلیم کے لیے حالی کے " شکوہء ہند"کو منتخب کیا تھا۔سید احمد حسن زبان کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے۔ انہوں نےخود 20 سال دکن میں اپنے قیام کے  دوران   اپنی زبان کو دکنی اثرات سے محفوظ رکھا۔اگر کبھی بچوں کی زبان سے کوئی مقامی لفظ  یا محاورہ غلط سن لیتے تو بروقت اس کی اصلاح کردیتے تھے۔۔ آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ مولانا مودودی ؒ کہا کرتے تھے ۔’’  میرے والد مرحوم میری تربیت پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔ وہ میری زبان اوراخلاق کو معیاری،سُتھرائی اور پاکیزہ بنانے کی انتہائی کوشش کرتے تھے۔ وہ راتوں کو مجھے پیغمبروں کے قصے،، تاریخِ اسلام اور تاریخ ہند کے واقعات اور سبق آموز کہانیاں سنایاکرتے تھے۔ وہ میری عادات پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی ملازمہ کے ایک بچے کو مارا تو انھوں نے اس بچے کو بلاکر کہا کہ" تو بھی اسے مار"

Sunday, June 21, 2026

خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"


QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)

ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

قادرالکلام ماہنامہ اپنے خصوصی شمارہ "آزادیِ ہند اور اردو ادب" کے لیے تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی مضامین طلب کرتا ہے۔ اس خصوصی شمارے کا مقصد تحریکِ آزادیِ ہند میں اردو زبان و ادب کے کردار، مجاہدینِ آزادی کی ادبی خدمات، قومی شعور کی تشکیل، اردو صحافت کی جدوجہد، اور آزادی کے تصور کی ادبی و فکری جہات کو اجاگر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اساتذہ، محققین، ریسرچ اسکالرز، ادبا اور اہلِ قلم سے درخواست ہے کہ وہ درج ذیل موضوعات یا ان سے متعلق کسی مناسب عنوان پر اپنے مقالات ارسال فرمائیں۔

مجوزہ موضوعات

اردو شاعری اور تحریکِ آزادی

  1. آزادیِ ہند اور اردو نظم

  2. آزادیِ ہند اور اردو غزل

  3. تحریکِ آزادی میں انقلابی شاعری کا کردار

  4. قومی شعور کی بیداری میں اردو شاعری کا حصہ

  5. اردو شاعری میں حب الوطنی کا تصور

  6. آزادیِ ہند اور قومی ترانے

  7. اردو شاعری میں شہادت اور قربانی کا تصور

  8. اردو شاعری میں آزادی کی علامتیں اور استعارے

  9. آزادیِ ہند اور مزاحمتی شاعری

  10. آزادیِ ہند کے موضوع پر معاصر اردو شاعری

اردو نثر اور تحریکِ آزادی

  1. آزادیِ ہند اور اردو ناول

  2. آزادیِ ہند اور اردو افسانہ

  3. آزادیِ ہند اور اردو ڈراما

  4. آزادیِ ہند اور اردو خاکہ نگاری

  5. آزادیِ ہند اور اردو سفرنامہ

  6. اردو نثر میں قومی بیداری

  7. تحریکِ آزادی کے موضوع پر اردو افسانوی ادب

  8. آزادیِ ہند اور اردو تنقید

  9. آزادیِ ہند اور اردو انشائیہ

  10. اردو ادب میں قومی تشخص کا مسئلہ

اردو صحافت اور تحریکِ آزادی

  1. تحریکِ آزادی میں اردو اخبارات کا کردار

  2. اردو جرائد اور قومی شعور

  3. آزادیِ ہند اور صحافتی تحریکیں

  4. اردو صحافت اور برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد

  5. مولانا محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات

  6. مولانا ابوالکلام آزاد اور اردو صحافت

  7. روزنامہ "الہلال" اور تحریکِ آزادی

  8. اردو اخبارات میں قومی تحریک کی عکاسی

  9. آزادیِ ہند اور صحافتی مزاحمت

  10. اردو صحافت اور عوامی بیداری

مجاہدینِ آزادی اور اردو ادب

  1. اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری

  2. رام پرساد بسمل اور اردو ادب

  3. مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی خدمات

  4. حسرت موہانی کی انقلابی شاعری

  5. جوش ملیح آبادی اور جذبۂ آزادی

  6. بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں آزادی کا تصور

  7. مولانا محمد علی جوہر کی قومی خدمات

  8. خان عبدالغفار خان اور قومی بیداری

  9. ٹیپو سلطان اور اردو ادبی روایت

  10. مجاہدینِ آزادی کے ادبی افکار

شخصیات کے خصوصی مطالعات

  1. علامہ اقبال اور تصورِ آزادی

  2. اکبر الہ آبادی کے سیاسی و سماجی افکار

  3. فراق گورکھپوری اور حب الوطنی

  4. چکبست کی قومی شاعری

  5. سرسید احمد خان اور قومی شعور

  6. شبلی نعمانی اور فکری بیداری

  7. مولانا ظفر علی خان کی ادبی و صحافتی خدمات

  8. ساغر نظامی کی قومی شاعری

  9. جگن ناتھ آزاد اور قومی ہم آہنگی

  10. آزادی کے موضوع پر اردو ادبا کا فکری سرمایہ

خواتین اور تحریکِ آزادی

  1. تحریکِ آزادی میں خواتین کا کردار

  2. اردو ادب میں خواتین مجاہدینِ آزادی

  3. بیگم حضرت محل کی خدمات

  4. آزادی کے ادب میں خواتین کی نمائندگی

  5. خواتین قلم کار اور قومی بیداری

  6. اردو شاعرات اور تحریکِ آزادی

  7. خواتین کے قومی و ادبی تصورات

  8. اردو ادب میں نسائی نقطۂ نظر اور آزادی

  9. خواتین اور آزادی کی ادبی تحریک

  10. اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار

علاقائی مطالعات

  1. دکن اور تحریکِ آزادی

  2. حیدرآباد کی تحریکِ آزادی اور اردو ادب

  3. جنوبی ہند کے اردو ادبا اور قومی تحریک

  4. شمالی ہند کے اردو ادبا اور آزادیِ ہند

  5. بنگال اور اردو ادب میں قومی شعور

  6. کشمیر اور تحریکِ آزادی کے ادبی اثرات

  7. علاقائی اردو صحافت اور قومی تحریک

  8. ہندوستان کے مختلف خطوں میں اردو کی خدمات

  9. آزادیِ ہند اور دکنی ادب

  10. علاقائی ادب اور قومی یکجہتی

فکری، تہذیبی اور تنقیدی مباحث

  1. اردو ادب میں قومیت کا تصور

  2. اردو ادب اور گاندھی جی

  3. اردو ادب اور عدم تشدد

  4. آزادی اور جمہوری اقدار

  5. آزادیِ ہند اور بین المذاہب ہم آہنگی

  6. اردو ادب اور سیکولر اقدار

  7. آزادی اور انسانی حقوق کا تصور

  8. اردو ادب میں قومی یکجہتی

  9. تحریکِ آزادی کے فکری مباحث

  10. آزادیِ ہند اور اردو تنقیدی روایت

تقسیمِ ہند اور اس کے اثرات

  1. تقسیمِ ہند اور اردو ادب

  2. تقسیم کے بعد اردو شاعری کے رجحانات

  3. تقسیمِ ہند اور اردو افسانہ

  4. تقسیمِ ہند اور اردو ناول

  5. مہاجرت کا ادبی بیانیہ

  6. اردو ادب میں المیۂ تقسیم

  7. تقسیمِ ہند اور تہذیبی شناخت

  8. تقسیمِ ہند کے سماجی اثرات

  9. اردو ادب میں سرحد اور شناخت کا مسئلہ

  10. تقسیمِ ہند کے موضوع پر معاصر مطالعے

جدید و معاصر تناظر

  1. آزادیِ ہند اور بچوں کا اردو ادب

  2. آزادیِ ہند اور اردو گیت

  3. آزادیِ ہند اور فلمی ادب

  4. آزادیِ ہند اور عوامی ادب

  5. معاصر اردو ادب میں آزادی کا تصور

  6. ڈیجیٹل دور میں تحریکِ آزادی کی ادبی روایت

  7. نئی نسل اور آزادیِ ہند کا ادبی شعور

  8. آزادیِ ہند اور سوشل میڈیا میں اردو ادب

  9. قومی موضوعات اور موجودہ اردو ادب

  10. آزادیِ ہند: نئے تحقیقی زاویے

تخلیقی گوشہ

  1. آزادیِ ہند پر نظم

  2. آزادیِ ہند پر غزل

  3. آزادیِ ہند پر افسانہ

  4. آزادیِ ہند پر خاکہ

  5. آزادیِ ہند پر مضمون

  6. آزادیِ ہند پر سفرنامہ

  7. آزادیِ ہند پر تاثراتی تحریر

  8. آزادیِ ہند اور قومی یکجہتی پر شاعری

  9. آزادیِ ہند اور انسانی اقدار پر تخلیقی تحریریں

  10. آزادیِ ہند کے موضوع پر غیر مطبوعہ تخلیقات

نوٹ: مذکورہ عنوانات کے علاوہ بھی موضوعِ خاص سے متعلق معیاری تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی مضامین ارسال کیے جا سکتے ہیں۔


شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )

"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، اد...