Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Wednesday, October 28, 2026

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ



علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں سادگی، دل کشی، اخلاقی تربیت اور بلند حوصلگی کا پیغام بھی ملتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں بشریٰ رحمن نے اقبال کی بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کے موضوعات، فنی خصوصیات اور تعلیمی و تربیتی اہمیت کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ مطالعہ بچوں کی شاعری کے حوالے سے اقبال کی ادبی خدمات کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 بشریٰ رحمن(ریسرچ اسکالر،حیدرآباد)

علامہ محمد اقبال کی بچوں کے لیے شاعری اردو ادبِ اطفال کا اہم حصہ ہے۔ ان نظموں پر اخلاقی تربیت، بچوں کی نفسیات، اقدار، ترجمہ و اخذ، فطرت اور ماحول جیسے مختلف زاویوں سے قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ ان پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے یہ جائزہ لیتا ہے کہ اقبال کی منتخب نظمیں بچے کی اخلاقی سمجھ، زبان، ذخیرۂ الفاظ، مشاہدے اور اپنے گرد موجود دنیا سے واقفیت میں کس طرح مدد دے سکتی ہیں۔ تحقیق کے لیے بانگ ِ درا کی سات نظموں: ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘، ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’ایک گائے اور بکری‘‘، ’’بچے کی دعا‘‘، ’’ہمدردی‘‘، ’’پرندے کی فریاد‘‘ اور ’’ماں کا خواب‘‘ کا متنی مطالعہ کیا گیا ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کردار، مکالمہ، جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کے ذریعے اخلاقی بات کو محض نصیحت کی صورت میں نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک واقعے اور تجربے سے جوڑتے ہیں۔ یہ نظمیں اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے، آزادی اور قید، غرور اور خودداری، ہمدردی اور بے حسی جیسے بنیادی فرق بھی واضح کرتی ہیں۔ مقالے میں ان نظموں کی نصابی اہمیت کے ساتھ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کو اصل متن کے متبادل کے بجائے اس کی تفہیم میں مددگار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Monday, October 26, 2026

سینما کے پردے پر اردوکا سفر


اردو زبان اور ہندوستانی سنیما کا رشتہ تاریخی، ادبی اور تہذیبی اہمیت رکھتا ہے۔ فلمی مکالموں، کہانیوں، اسکرین پلے اور نغموں میں اردو نے اپنی شیرینی، شائستگی اور جذباتی تاثیر سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ زیرِ نظر مضمون میں سعدیہ فاطمہ نے ہندوستانی سنیما میں اردو کے سفر، بولتی فلموں کے آغاز، اردو ادیبوں، شاعروں اور نغمہ نگاروں کی خدمات اور فلمی ادب کے تہذیبی اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحریر اردو زبان اور فلمی دنیا کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک دل چسپ کوشش ہے۔

 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

اردوزبان ایک ایسی زبان ہے جو ہر زبان کے ساتھ اپنی جگہ بنالیتی ہے یہ دل اور دماغ دونوں میں اپنا لوہا منوا لیتی ہے، اردوبولنے میں جتنی خوب صورت لگتی ہے پڑھنے لکھنے اور سننے میں اس سے بھی زیادہ بھلی لگتی ہے اردوزبان کی شیرینی نے ہر جگہ اپنا منفرد مقام بنایا ہے ، جہاں جہاں بھی اردوزبان کو رکھا گیا وہاں وہاں اردونے اپنا دائرہ بہت وسیع کیا ہے اردوجب فلمی دنیا کے آنگن پہنچی اسے بہت زیادہ رنگ ڈھنگ دے کر سنوارا گیا تاکہ لوگ متوجہ ہوسکے اس توجہ میں سب سے زیادہ ضروری دل بہلائی ہونے لگی ہر کسی نے دل جوئی کے لیے  استعمال کر کے صنعت و حرفت کے لیے  ثبت کیا، جب فلمی دنیا میں فائدہ ہی فائدہ رہا تب اردوکو ہر کسی نے گلے لگایا۔

گلے لگانے کا مقصد ایک اور یہ بھی تھا کہ لوگ آسانی سے سمجھ بھی رہے تھے اور لطف اٹھا رہے تھے، پھر اس کی تاریخ شروع ہوگئی ۔اردوادب ہر دور میں ہمیشہ سے فلمی دنیا پر حاوی رہا۔ فلمی دنیا اور اردوادب کا تعلق نہایت گہرا، مضبوط اور تاریخی ہے ، جب ہندوستان میں بولتی فلموں (Talkies) کا آغاز ہوا تو مکالموں، گیتوں اور کہانیوں کی زبان کے طور پر اردوکو نمایاں مقام حاصل ہوا، اردوزبان کی شیرینی، شائستگی، جذبات نگاری اور ادبی حسن نے فلمی صنعت کو ایسی زبان عطا کی جس نے کروڑوں ناظرین کے دلوں میں گھر کر لیا ، فلمی گیت، مکالمے، کہانیاں اور اسکرین پلے سبھی میں اردوادب کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی سنیما کی ترقی میں اردوادیبوں، شاعروں اور نغمہ نگاروں کا کردار ناقابلِ   فراموش ہے۔

Sunday, October 25, 2026

مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر: ایک تجزیاتی مطالعہ


مولانا ابوالکلام آزاد اردو ادب کی ان ہمہ گیر شخصیات میں شامل ہیں جن کی نثر میں علم و دانش، فکری گہرائی اور اسلوب کی دل نشینی یکجا نظر آتی ہے۔ ان کی تصنیف غبارِ خاطر بظاہر خطوط کا مجموعہ ہے، لیکن اس میں زندگی، فلسفے، تاریخ، فطرت، موسیقی اور انسانی احساسات سے متعلق متنوع موضوعات پر دل چسپ گفتگو ملتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں طاہرہ خاتون نے غبارِ خاطر کے اہم موضوعات، فکری جہات اور ادبی خصوصیات کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا ہے۔
 طاہرہ خاتون(ریسرچ اسکالر)

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ تاریخی نام فیروز بخت، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ مولانا آزاد  ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز،تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔وہ اردو ادب میں ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ شاعر، ادیب، صحافی، عربی و فارسی کے جید عالم، مفکر ِ اسلام، مفسر  ِ قرآن، دانش ور اور سیاست دان کے طور پر ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی ان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

اردو ادب میں مولانا آزاد کے نمایاں کارناموں میں ان کی سیاسی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedomاور خطوط کے مجموعے غبارِ خاطر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غبارِ خاطر قلعہ احمد نگر میں قید کے دوران ان کے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ ۴۲ خطوط پر مشتمل ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے مضامین انشائیے کی شکل میں موجود ہیں۔ مولانا آزاد نے اس کتاب کا نام امیر عظمت اللہ   بے خبر بلگرامی کے مختصر رسالے غبارِ خاطر سے مستعار لیا۔غبارِ خاطر کے تمام خطوط کئی لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ ان میں مولانا آزاد کی ابتدائی زندگی، تعلیم، عادات و نفسیات، کردار اور ان کے شخصی ارتقا کے عوامل کی تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ خطوط اس نیت سے نہیں لکھے گئے تھے کہ انہیں شائع کیا جائے، لیکن رہائی کے بعد مولوی محمد اجمل خان کے اصرار پر ان خطوط کو مجموعے کی شکل میں۱۹۴۶ء میں شائع کیا گیا۔ بعد میں مالک رام نے مزید تحقیق کے ساتھ۱۹۶۷ء میں اسے دوبارہ شائع کیا۔

Saturday, October 24, 2026

ستیش بترا کی تصانیف پر ایک نظر


زیرِ نظر مضمون میں نور احمد ترمذی نے ستیش بترا کی ادبی زندگی، افسانہ نگاری اور مختلف تصانیف کا جائزہ پیش کیا ہے۔ مضمون میں ان کے اردو، ہندی اور انگریزی افسانوی مجموعوں، ناول اور سفرناموں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے فن کے نمایاں موضوعات، مثلاً تقسیمِ ہند کے اثرات، سماجی مسائل، انسانی رشتوں اور زندگی کے تلخ تجربات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ تحریر ستیش بترا کی ادبی خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

 نور احمد ترمذی(کالم نگار)

ادب کی تخلیق کے محرکات بھانت بھانت کے ہوتے ہیں۔ کسی کو شہرت چاہیے ، کسی کو ملازمت چاہیے  ، کسی کو پروموشن چاہیے ، کہیں مالی منفعت کا معاملہ ہوتا ہے تو کہیں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ شاد عظیم آبادی کا بیان ہے کہ ان کی شاعری کی وجہ سے بہت لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ مرزا غالب کو صفائی دینی پڑی کہ:   

سوپشت سے پیشہ  ٔ  آبا سپہ گری،

 کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے۔

 میرتقی میر ؔ کو  تا  عمر شکایت رہی : پرداخت میری ہو نہ سکی اک امیر سے ۔ مشتاق احمد یوسفی کا بیان ہے کہ ان کی قلم کاری ان کے لیے  مالی نقصان کا سبب بنی ۔ فیض احمد فیض اپنی شاعری کی وجہ سے مدتوں جیل میں بند رہے، کچھ ویسا ہی حال حبیب جالب کا بھی ہوا ۔ فہمیدہ ریاض کو اپنی تحریروں کی وجہ سے پاکستانی صدر ضیاء الحق کے عہد حکومت میں ہندوستان میں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ ضیاء الحق کے سفرِ آخرت کے بعد وہ پاکستان واپس گئیں۔ کلیم عاجز کی شاعری کا محرک  1946 ء  کا فرقہ وارانہ فساد ہے، ان کا پہلا مجموعہ  ٔ  کلام ’’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘‘ اسی جانکاہ حادثہ کی یادگار ہے۔ ان کی پوری شاعری اس درد کو بیان کرتی ہے۔ اور پہلے کی بات یاد کریں تو دکھ کے ساتھ بتانا پڑتا ہے کہ فرانسیسی قلم کار  والٹیئر  VOLTAIRE   کو  ان کی کتاب کینڈیڈ   CANDIDE  کی وجہ سے قید با مشقت کی سزا ہوئی۔ اسے ملک چھوڑنا پڑا، وہ پچیس سال کے بعد اپنے آبائی وطن فرانس کی زیارت کو پہنچا ، جہاں  1778ء  میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ کیو ں اور کیسے ؟ پتہ نہیں۔

Friday, October 23, 2026

ذکر کلیم، فکر کلیم


کلیم عاجز اردو غزل کے ان منفرد شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری ذاتی تجربات، انسانی کرب اور عہد کے المیوں سے جنم لیتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں غزالہ ہاشمی نے کلیم عاجز کی زندگی، ان کے شعری محرکات، مخصوص طرزِ اظہار، غنائیت اور فکری جہات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحریر قاری کو کلیم عاجز کی شاعری کے پس منظر اور اس کے اثرات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

غزالہ ہاشمی 

 شعرا کی بھیڑ میں اپنی مخصوص پہچان رکھنے والے شاعر کلیم عاجز کی تاریخ ولادت خود ان کے قول کے مطابق ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء ہے، سرٹیفکٹ میں دو سال قبل کی تاریخ لکھی ہے ۔ زندگی کے ابتدائی ایام صوبہ بہار کے موضع تلہاڑا ضلع پٹنہ ( اب ضلع نالندا ) میں گزرے ۔ یہ وہی تلہاڑا ہے جس کا ذکر بڑے کرب کے ساتھ شکیلہ اختر اپنے افسانوں میں کرتی ہیں ۔ شکیلہ کا افسانہ ’’آخری سہارا ‘‘ اسی موضع کو پیش کرتا ہے ۔ افسانہ آخری سہارا کی مرکزی کردار یاسمین فسادیوں سے اپنی عزت محفوظ رکھنے کی خاطر کنویں میں کود پڑتی ہے ۔ انسانیت کو رحم نہیں آیا۔ بھالا، برچھی ، اینٹ اور پتھر سے کنویں میں اس کی مدارات ہوئی ۔ انتہائی زخمی حالت میں اسے ریلیف کیمپ پہنچا دیا جاتا ہے لیکن کلیم کی امی جان بی بی امت الفاطمہ اورچھوٹی بہن رشیدہ بائولی میں پھینکی گئیں۔ وہی بائولی ان دونوں کی اور ان جیسے دیگر کئی لوگوں کی آخری آرام گاہ بن گئی ۔ یہی واقعہ وہ محرک یا   Stimulive  ہے جس نے کلیم کے فن کو خون سے سینچا ہے ۔ 

Thursday, October 22, 2026

The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives


The research article entitled “The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives” by Musheer Khan, Research Scholar, presents a comparative study of idiomatic expressions in Urdu, Hindi and English. It examines how cultural traditions, religious beliefs, geographical environments and political histories shape idioms and influence their meanings. The article also discusses the significance of idioms in translation, literary interpretation and intercultural communication.

 Musheer Khan, 

Research Scholar

Idioms are an integral part of every language because they represent the thoughts, beliefs, traditions, experiences and collective wisdom of a particular society. An idiom is a phrase whose meaning cannot always be understood from the literal meanings of its individual words. Idiomatic expressions make language more effective, expressive and culturally meaningful. They are commonly used in everyday communication, literature, media and social interaction to express emotions, ideas, humour and social attitudes in a concise and memorable manner.

Urdu, Hindi and English are three important languages with rich idiomatic traditions. Their idioms have developed under different historical, cultural, religious, geographical and political circumstances. Urdu idioms have been influenced by Persian and Arabic literary traditions as well as Indo-Islamic culture. They frequently contain elements of politeness, spirituality, emotion and poetic expression. Hindi idioms, on the other hand, are closely associated with Indian folk culture, rural life, agriculture, mythology, family relationships and traditional social values. English idioms have been influenced by Biblical traditions, maritime activities, industrialisation, commerce, sports, colonial history and modern urban life.

The purpose of this study is to examine similarities and differences among Urdu, Hindi and English idioms from cultural, religious, geographical and political perspectives. It explores how traditions, beliefs, environment, occupations, historical experiences and political circumstances have contributed to the formation and development of idiomatic expressions in the three languages. It also considers how idioms express cultural identity, social values and human experience.

Monday, October 19, 2026

ٖٖفراق گورکھپوری: ایک تعارف


زیرِ نظر مضمون میں ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری نے اردو کے ممتاز شاعر فراق گورکھپوری کی حیات، شخصیت اور ادبی خدمات کا تعارف پیش کیا ہے۔ مضمون میں فراق کی غزل گوئی، تحریکِ آزادی میں شرکت، ادبی اساتذہ، شعری مجموعوں، تنقیدی نظریات اور ادبی اعزازات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحریر فراق گورکھپوری کی شاعری اور اردو ادب میں ان کے مقام کو سمجھنے میں معاون ہے۔

 ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری ( اردو لکچرر)

؎شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

(فراقؔ)

اردو شاعری کی آبرو اگر غزل ہے تو غزل کے شعرا پر ہمیں ناز ہونا چاہیے۔خصوصاً جنھوں نے اردو غزل کو نیا انداز، نیا لب و لہجہ اور نئی قدروں سے رو شناس کرایاان میں ایک فراق گورکھپوری ہیںجن کی مقبولیت ان کی کتابوں کی اشاعت سے قبل ہو چکی تھی۔

فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ 28 اگست 1896 ء کو گورکھپور کے بانس گاوں میں پیدا ہوئے۔والد کا نام گورکھ پرشاد اور والدہ کا نام دلاری دیوی تھا۔والد گورکھ پرشاد پیشے سے ایک وکیل تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ فراق کے والدگورکھ پرشاد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔

Saturday, October 17, 2026

لوک گیتوں میںاردو:مارواڑ کے خصوصی حوالے سے


’’لوک گیتوں میں اردو: مارواڑ کے خصوصی حوالے سے‘‘
ڈاکٹر فخرالنساء بانو (صدر شعبۂ اردو، گورنمنٹ ڈونگر کالج، بیکانیر، راجستھان) کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں مارواڑ کے لوک گیتوں کی روایت، ان کی ادبی و ثقافتی اہمیت، عوامی جذبات، رسم و رواج، تہواروں اور راجستھانی معاشرت سے ان کے تعلق کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون لوک گیتوں کو تہذیبی ورثے اور اجتماعی زندگی کی ترجمانی کرنے والے اہم وسیلے کے طور پر دیکھتا ہے۔


 ڈاکٹر فخرالنساء بانو (صدر شعبہ اردو)

مارواڑی لوک گیتوں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اردو میں انہیں عوامی گیت کہا جاتا ہے۔ کونسا گیت کب وجود میں آیا، کونسا گیت کس نے لکھا اس کے شاعر کا نام کیا ہے۔ یہ علم کس کونہیں اور شاید کسی نے اس کی تلاش بھی نہیں کی ہیں حال ہندوستان کے تمام لوک گیتوں کا ہے۔ یہ گیت حالات اور ماحول کی کوکھ سے اپنے آپ ہی پیدا ہوئے اور عوامی دل وذہن کو متاثر کرنے کے بعد خود ہی پرورش پانے لگے۔ اور سینہ بہ سینہ ان کا سفر جاری رہا۔ ہمارے یہ لوک گیت صدیوں پرانی ہندوستانی تہذیب کے سچے محافظ ہیں۔حبیب خان گوران لوک گیتوں سے متعلق رقم طراز ہیں۔

’’مارواڑ ی لوک گیتوں کی تصوراتی دنیا بہت وسیع ہے۔ زندگی کا کونسا ایسا پہلو اور کونسا ایسا گوشہ ہے جس کا ذکر مارواڑ لوک گیتوں میں نہیں ملتا۔ انسان کی اپنی ذاتی زندگی اور اس کی مذہبی سوچ مارواڑ لوک گیتوں کے توسط سے نمایاں ہوتی ہے ۔ فطرت کا انسانی زندگی سے ناقابلِ تقسیم تعلق رہا ہے۔ انسان کی گودمیں پلا، کھیلا، رویا اور پنپا ہے۔ فطرت کی تلخیاں اور شیرینی خوبصورتی اور بدصورتی دونوں کا اثر انسان کی زندگی پر پڑتا ہے اس لیے فطرت اور انسان ایک دوسرے میںمدغم ہوچکے ہیں۔‘‘  ۱؎

Friday, October 16, 2026

شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ



’’شاکر خلیق کا شعری اور نثری سرمایہ‘‘
ڈاکٹر صفیہ فاطمی (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں شاکر خلیق کی ادبی شخصیت اور ان کے شعری و نثری کارناموں کے مطالعے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ موضوع اردو ادب میں تخلیقی اظہار اور ادبی سرمایے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔

 ڈاکٹر صفیہ فاطمی(اسسٹنٹ پروفیسر )

 شاکر احمد یحییٰ کا سالِ پیدائش 1945 ہے ۔آبائی وطن دربھنگا ہے۔ امی جان کا نام صفیہ خاتون اور ابا محترم کا نام عبدالخالق خلیق ہے۔ اسی مناسبت سے شاکر احمد نے شاکر خلیق کے قلمی نام کو اختیار کیا۔ تعلیمی سند کے اعتبار سے وہ ڈبل ایم اے، بی ایل اور پی ایچ ڈی ہیں۔ کچھ دنوں تک پٹنہ ہائی کورٹ میں وکالت کی۔ سال 1971 ء میں سی ایم کالج دربھنگا میں تقرری ہوئی۔ متھلا یونیورسٹی دربھنگا کے صدر شعبہ اردو بنے۔ مورخہ 31/05/2005کو ریٹائرمنٹ ہوا۔ ان کی درج ذیل کتابیں میری نگاہ سے گزری ہیں۔

Thursday, October 15, 2026

ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب


’’ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب‘‘
ڈاکٹر محمد عابد کریم (اسسٹنٹ پروفیسر) کا مضمون ہے، جس میں ہندوستانی معاشرت میں مسلم تہذیب کی اہمیت اور اس کے سماجی و ثقافتی پہلوؤں کے مطالعے کی گنجائش پیش کی گئی ہے۔ یہ موضوع ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت اور مختلف ثقافتوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں معاون ہے۔

ڈاکٹر محمد عابد کریم (اسسٹنٹ پروفیسر )  
  ابتدائی چند صدیوں میں جو مسلمان باہر سے ہندستان آئے ۔ وہ چار طرح کے لوگ تھے۔ عرب تاجر، عرب فاتح، مبلغین اسلام اور ترک فاتح۔ مسلمان ہونے کے باوجود یہ چاروں گروہ الگ الگ خصوصیات اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ چناں چہ اپنی مخصوص صلاحیتوں کے اعتبار سے انھوں نے اس ملک کی مذہبی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی زندگی پر اثر ڈالا۔ اسلام میں مذہب کا دائرہ عقائدو عبادات میں محدود نہیں، وہ باہمی تعلقات، حقوق و فرائض اور معاشرت و تمدن پر حاوی ہے اور اس لیے  بھی کہ مذہب کو اگر تمدن و معاشرت سے، اور تمدن و معاشرت کو مذہب سے الگ کردیا جائے تو مذہب بے اثر، محدود اور کم زور اور تمدن و معاشرت شتر بے مہار اور خواہشات و مفادات کا آلہء کار بن جاتے ہیں۔

Wednesday, October 14, 2026

ملا وجہی بحیثیت فارسی شاعر


’’ملا وجہی بحیثیت فارسی شاعر‘‘
پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ملا وجہی کی ادبی شخصیت اور فارسی شاعری کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ان کے شعری رجحانات، فنی خصوصیات اور فارسی ادب سے وابستگی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

ہندوستان میںسرزمین دکن اپنی علمی ادبی اور تہذیبی شناخت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہورو معروف ہے۔ یہاں کے ا دباء شعراء ،  ناقدین اور محققین کی ایک طویل فہرست ہے جن میں میراں جی شمس العشاق، برہان الدین جانم، امین الدین علی اعلیٰ ، احمد گجراتی، ملااسداللہ وجہی،غواصی، ابن نشاطی، ہاشمی، نصرتی،اور خود شہنشاہ قلی قطب شاہ قابل ذکر ہیں ۔قلی قطب شاہ کو پہلا صاحب دیوان شاعرہونے کا شرف حاصل ہے ملا وجہی اس دربار کا ملک الشعراء تھا۔ملا اسداللہ وجہی کی پیدائش کے تعلق سے حتمی تاریخ کے بارے میں بتانا ممکن نہیں تا ہم بعض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ان کی تاریخ پیدائش کا سراغ ملتا ہے ان کی وفات کو بھی محققین نے سنہ کے ساتھ نہیں بتایا ہے مگر قرینے سے امکان کے قریب پہنچنے کی کوشش کی ہے اور بیشتر محققین نے اس کی ولادت ۹۷۳ھ بمطابق ۱۵۶۵ کو تسلیم کیا ہے ۔ملا وجہی کی ابتدائی تعلیم وتربیت میں روایتی تقاضوں کا پورا خیال رکھا گیا ۔علمی ذوق و شوق کی وجہ سے انہوں نے اپنی تعلیم پر خاص توجہ دی۔گھریلو ماحول اور اس وقت کی علمی وادبی فضا نے اس کے حصول علم کے لئے سونے پہ سہاگے کا کام کیا۔ان کی تصانیف سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں فارسی، عربی، اردو اور دکنی پر مکمل عبور حاصل تھا۔وجہی روح الامین کی سرپرستی میں گولکنڈہ دربارسے وابستہ ہوئے ملا وجہی کے فارسی دیوان میں روح الامین کا نام وہ انتہائی محبت و عقیدت سے لیتا ہے اور اس وقت کے بادشاہ محمد قلی قطب شاہ سے بھی اس کے تعلقات خوش گوار ہوتے چلے گئے۔یہ دوروجہی کی زندگی کا سب سے سنہرا دور تھااور اس زمانے میں سلطان وقت کے توجہ دلانے پر ہی انہوں نے دکنی اردو شاعری کی طرف توجہ کی۔یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ وجہی نے دربار سے وابستگی کے بعد سلطان محمد قلی قطب شاہ کی ترغیب پر دکنی شاعری کی شروعات کی اور اگر وجہی سطان قلی قطب شاہ کے قریب نہ ہوتا تو اس کو یہ شہرت میسرنہ ہوتی اور اس کا یہ دیوان، قطب مشتری اور سب رس کا وجود بھی عمل میں نہ آتا۔دکنی ادب میںجن شعراء و ادباء نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے ان میں ملا وجہی کا نام سر فہرست ہے اس کے فارسی اشعار کے مطالعے سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کی ولادت ہندوستان میں ہوئی البتہ اس کا آبائی وطن خراسان تھا۔ وجہی نے گولکنڈہ سلطنت کے چار بادشاہوں  ابراہیم قطب شاہ، محمد قلی قطب شاہ، محمد قطب شاہ اور عبداللہ قطب شاہ کا عہد دیکھا جن میں وہ محمد قلی قطب شاہ کا منظور نظر تھا رفتہ رفتہ ملا وجہی کی قدرو منزلت ملک الشعراء کے عہدے تک پہنچی۔ اس نے بھی اپنے سر پرست و مربی محمد قلی قطب شاہ کی طرح متعدد تخلص کا استعمال کیا ہے۔ڈاکٹر مہتاب جہاں اپنے مقالے’’ غالب دکن : ملا وجہی‘ ‘ میں ملا وجہی کا تعارف ان الفاظ میں کرتی ہیں ۔

اداریہ غرض رہی نہ کبھی منزلوں سے کوئی ہمیں

 اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جب قادرالکلام کا سفر شروع ہوا تو پیشِ نظر ایک ہی مقصد تھا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ، علمی و ادبی مباحث کے تسلسل اور اہلِ قلم و اہلِ ذوق کے درمیان ایک بامعنی ربط کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں ادب کی روایت بھی محفوظ رہے اور عہدِ حاضر کے فکری تقاضوں سے بھی مکالمہ قائم ہو۔ الحمدللہ، اس سفر کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے اور اب قادرالکلام جلد ۲، شمارہ ۱ کے ساتھ اپنے دوسرے سال میں داخل ہو رہا ہے۔آئی ایس ایس این نمبر کے ساتھ بین الاقوامی پیرریوڈ جنرل بن چکا ہے۔ 

 ایک سال کا یہ سفر ہمارے لیے محض اشاعت کے بارہ مراحل نہیں، بلکہ مسلسل سیکھنے، سوچنے، مشاورت کرنے اور بہتر سے بہتر پیش کرنے کی کوشش کا سفر ہے۔ اس دوران قلم کاروں، قارئین، مشاورتی بورڈ کے معزز ارکان اور تمام معاونین کی محبت، اعتماد اور رہنمائی ہمارے لیے حوصلے کا باعث رہی۔ ہم مشاورتی بورڈ کے تمام ارکان کے قیمتی مشوروں اور علمی تعاون کے تہہ دل سے ممنون ہیں، جنہوں نے قادرالکلام کے سفر کو فکری سمت دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔اس موقع پر ہم اپنے فارین ایڈیٹوریل بورڈ کے رکن، معروف اردو شاعر، ادیب اور صحافی مہتاب قدر (سید سرفراز علی)، سعودی عرب، کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جو جنوری ۲۰۲۶ء سے ہمارے بورڈ کا حصہ رہے اور جن کے قیمتی مشورے ہمارے لیے ہمیشہ مفید رہے۔ ان کا انتقال ۲۵ ستمبر ۲۰۲۶ء کو حیدرآباد، تلنگانہ میں ہوا۔ ہم ان کی ادبی خدمات اور وابستگی کو قدر و احترام سے یاد کرتے ہیں۔

 زیرِ نظر شمارہ اسی ایک سالہ سفر کا تسلسل اور نئے سال کا آغاز ہے۔ اس میں اردو و فارسی ادب، تہذیب، لوک ادب، جدید ادبی رجحانات، شخصیات، خطوط، سینما اور بچوں کے ادب جیسے متنوع موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔ پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی نے ملا وجہی کی فارسی شاعری، ڈاکٹر محمد عابد کریم نے ہندوستانی سماج میں مسلم تہذیب، ڈاکٹر صفیہ فاطمی نے شاکر خلیق کے شعری و نثری سرمایے اور ڈاکٹر فخرالنساء بانو نے مارواڑ کے لوک گیتوں میں اردو کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ شمارے میں ڈاکٹر واجدہ بیگم کا آن لائن ادب، ڈاکٹر شیخ نیاز الدین صابری کا فراق گورکھپوری، غزالہ ہاشمی کا ذکر کلیم، فکر کلیم، نور احمد ترمذی کا ستیش بترا کی تصانیف پر جائزہ، طاہرہ خاتون کا غبارِ خاطر، سعدیہ فاطمہ کا سینما کے پردے پر اردو کا سفر، بشریٰ رحمن کا اقبال کی بچوں کے لیے نظموں کا جائزہ اور حامیم علی قادری کا کیف عظیم آبادی کے فلسفۂ زیست پر مضمون شامل ہے۔ اردو کے ساتھ دیگر زبانوں اور تہذیبوں کے باہمی رشتے کو سامنے لاتے ہوئے Musheer Khan کا انگریزی مضمون “The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives” بھی اس شمارے کا حصہ ہے۔ یوں یہ شمارہ موضوعات اور زاویۂ نظر کے اعتبار سے ایک متنوع ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ قادرالکلام کا سفر صرف مطبوعہ صفحات تک محدود نہیں۔ ہماری ویب سائٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز سے وابستہ تمام احباب، معاونین، قارئین اور خیر خواہوں کا بھی ہم خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ 

 اس ایک سال کی تکمیل کے موقع پر ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ قادرالکلام جنوری ۲۰۲۷ء میں ایک خصوصی بین الاقوامی شمارہ شائع کرنے جا رہا ہے، جس کا موضوع ہے: ’’معاصر عالمی افسانہ: مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے تناظر میں افسانوی ادب کا مطالعہ‘‘  “Contemporary World Fiction: A Study of Fiction Across Languages and Cultures”۔ اس خصوصی شمارے کے لیے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحقیقی و تنقیدی مقالات مطلوب ہیں۔ ہندوستان اور بیرونِ ملک کے ریسرچ اسکالرز، پروفیسرز، اساتذہ، اکادمکین اور ادبی محققین سے خصوصی گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس علمی کاوش کا حصہ بنیں اور اپنے معیاری تحقیقی و تنقیدی مقالات ارسال کرکے قادرالکلام کے اس خصوصی بین الاقوامی شمارے کو کامیاب بنائیں۔

 ایک سال مکمل ہوا ہے، مگر سفر جاری ہے۔ شاید اسی لیے ظفر اقبال کا یہ شعر ہمارے اس مرحلے کی بہترین ترجمانی کرتا ہے:

                 غرض رہی نہ کبھی منزلوں سے کوئی ہمیں

                    ہمیشہ اپنے ہی اندر سفر ہمارا ہوا

ڈاکٹر محمد کلیم محی الدین 

(مدیر اعزازی)


Wednesday, October 7, 2026

قادر الکلام کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


 

📢 تازہ شمارہ | قادرالکلام

ماہنامہ قادرالکلام کا اکتوبر ۲۰۲۶ء کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔
یہ شمارہ اردو و فارسی ادب، تہذیب، لوک ادب، جدید ادبی رجحانات، شخصیات، خطوط، سینما اور بچوں کے ادب جیسے متنوع موضوعات پر معیاری تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل ہے۔

📖 تازہ شمارہ آن لائن ملاحظہ کریں:
Qadar ul kalam Ocotber 2026

✍️ مضامین ارسال کریں

آپ کے تحقیقی، تنقیدی، ادبی اور تخلیقی مضامین کا خیرمقدم ہے۔
اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں معیاری مقالات ارسال کیے جا سکتے ہیں۔

📝 مضمون ارسال کرنے کے لیے:
Submit Your Article – Google Form

قادرالکلام — ادب، تحقیق اور علمی شعور کا معتبر پلیٹ فارم
ISSN: 3139-1028 | Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal

Wednesday, September 30, 2026

مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر: ایک تجزیاتی مطالعہ


’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ طاہرہ خاتون کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی معروف کتاب ’’غبارِ خاطر‘‘ کے ادبی، فکری اور اسلوبی پہلوؤں کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

طاہرہ خاتون

  مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ تاریخی نام فیروز بخت، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ مولانا آزاد  ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز، تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ وہ اردو ادب میں ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ شاعر، ادیب، صحافی، عربی و فارسی کے جید عالم، مفکر ِ اسلام، مفسرِ قرآن، دانش ور اور سیاست دان کے طور پر ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی ان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

اردو ادب میں مولانا آزاد کے نمایاں کارناموں میں ان کی سیاسی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedom اور خطوط کے مجموعے غبارِ خاطر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غبارِ خاطر قلعہ احمد نگر میں قید کے دوران ان کے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ ۴۲ خطوط پر مشتمل ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے مضامین انشائیوں کی شکل میں موجود ہیں۔ مولانا آزاد نے اس کتاب کا نام امیر عظمت اللہ بے خبر بلگرامی کے مختصر رسالے غبارِ خاطر سے مستعار لیا۔ غبارِ خاطر کے تمام خطوط کئی لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ ان میں مولانا آزاد کی ابتدائی زندگی، تعلیم، عادات و نفسیات، کردار اور ان کے شخصی ارتقا کے عوامل کی تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ خطوط اس نیت سے نہیں لکھے گئے تھے کہ انھیں شائع کیا جائے، لیکن رہائی کے بعد مولوی محمد اجمل خان کے اصرار پر ان خطوط کو مجموعے کی شکل میں۱۹۴۶ء میں شائع کیا گیا۔ بعد میں مالک رام نے مزید تحقیق کے ساتھ۱۹۶۷ء میں اسے دوبارہ شائع کیا۔

Tuesday, September 29, 2026

نسائی آواز اور اردو شاعری


یہ مضمون معروف ادیب و محقق ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا ہے، جسے قارئین کے ادبی و تحقیقی مطالعے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

 ڈاکٹرصفیہ فاطمی

 معاشیات میں ایک باب ہے محنت کی تقسیم جس کے مطابق ذمے داری دیتے وقت کام کرنے والے کی صلاحیت ، ضرورت اور حدود کاخیال رکھنا ہوتاہے۔ اسے درجہ بندی یافرق مراتب بھی کہہ سکتے ہیں، بھید بھاؤ نہیںکہہ سکتے ۔ مشہور کہاوت ہے کہ مضبوط پیٹھ پرہی زیادہ بوجھ ڈالا جاسکتاہے۔ موڈرن مینیجمنٹ کایہ طریقۂ کار فطری قوانین کی بنیاد پرہے۔خالق کائنات نے اپنی مخلوق کومختلف صلاحیتوں سے نوازاہے۔ کسی کو بھی اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیںدیا ۔اس کی ایک بنیادی وجہ درجہ بندی ہے، جہاں صنفی مساوات کاخیال رکھا گیا ہے۔ وخلقناکم ازواجا ۔ سورۃالنباا ٓیت ۸
زوج کایہ تصورصرف انسان ہی میں نہیں بلکہ دیگرحیوانات میں اورنباتات میں بھی ہے، شاید جمادات میں بھی ہے ۔ 
خلق الازواج کلھامما تنبت الارض ۔ سورہ یسٓ ۔آیت ۳۶
ومن کل شیء خلقنا زوجین ۔ سورۃ الذاریات۔آیت ۴۹
صلاحیت کے اسی فرق کے تحت  بچے کی پیدائش سے لے کر تربیت کی ذمہ داری خواتین کے سپرد کی گئی ۔ اس سلسلے کے بیش تر الفاظ مونث یعنی استری لنگ یعنی  Feminine Gender   سے تعلق رکھتے ہیں۔پیدائش ، پرورش،تربیت ، تعلیم ،  ترقی ، بولی ، زبان ، بھاشا، خواندگی ، پڑھائی ، لکھائی ، بھوک، روشنی ، خوراک، توانائی، کھیتی ، روئیدگی ، خوشی ، امید ، بناوٹ ، سجاوٹ ، کتاب، روح، زندگی، ولایت ، کرامت ، فضیلت ، عزت ، دولت، شہرت،  صلاحیت، مہارت، موت، قبر وغیرہ وغیرہ یعنی ابتدا سے انتہا تک مونث ہی ہے۔ بچے نے ماں کے شکم میںپرورش پائی تھی، اس تصور نے مادر وطن یعنی ماتری بھومی یعنی    Mother Land  کاتصور مستحکم کیا۔ دنیامیںکہیں بھی پدر وطن کاتصور نہںملتا۔ ماں نے بچے کے منھ میںاپنی زبان ڈال دی ۔ اسی زبان کومادری زبان  یعنی ماتری بھاشا یعنی Mother tongueکہتے ہیں، کہیںبھی پدری زبان کاتصور موجود نہیںہے۔ ایک مالک کے دو چار کاروبار یا دوچار کارخانے ہوں تو سب کو  Sister Concern کہا جاتاہے Brother Concern  نہیں کہا جاتا۔

Monday, September 28, 2026

مہتاب قدر کے انتقال پر قادرالکلام کی جانب سے اظہارِ تعزیت


انتہائی افسوس اور گہرے رنج و غم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ جناب مہتاب قدر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال کی خبر قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد کے لیے نہایت صدمہ انگیز اور دل گرفتہ کرنے والی ہے۔ ہم اس موقع پر مرحوم کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

جناب مہتاب قدر، سعودی عرب جنوری 2026ء سے قادرالکلام ماہنامہ کے Foreign Editorial Board Member کی حیثیت سے ادارے کے ساتھ وابستہ رہے۔ اس دوران ان کی علمی و ادبی دلچسپی، خلوص اور ادارے کے لیے نیک خواہشات ہمارے لیے ہمیشہ باعثِ حوصلہ رہیں۔ انہوں نے اپنے منصب کو محض رسمی وابستگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ادارے کے مختلف امور میں اپنی قیمتی آرا اور مشوروں سے نوازتے رہے۔

اگرچہ ان کی باضابطہ ادارتی وابستگی کا عرصہ زیادہ طویل نہیں تھا، لیکن اس مختصر مدت میں بھی ان کے ساتھ قائم ہونے والا علمی و ادبی رشتہ ہمارے لیے اہم اور قابلِ قدر رہا۔ بعد ازاں بھی وہ قادرالکلام کے لیے اپنے مشوروں، رہنمائی اور خیرخواہانہ آرا کے ذریعے ہمارے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے تھے۔ ان کی گفتگو میں ادارے کی ترقی اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے حوالے سے جو خلوص اور دلچسپی تھی، اسے ہم ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھیں گے۔

ان کا انتقال ہمارے لیے صرف ایک رکنِ ادارتی بورڈ کی جدائی نہیں بلکہ ایک مخلص علمی و ادبی رفیق اور خیرخواہ مشیر کی جدائی ہے۔ ان کی وفات سے قادرالکلام کے علمی و ادبی حلقے میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے محسوس کیا جائے گا۔ ان کی یادیں، ان کی گفتگو اور ان کے قیمتی مشورے ہمارے لیے ہمیشہ ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے رہیں گے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بعض شخصیات کا تعلق وقت کی مدت سے نہیں بلکہ ان کے خلوص، محبت اور تعاون سے پہچانا جاتا ہے۔ مہتاب قدر بھی ان ہی مخلص وابستگان میں شامل تھے جنہوں نے قادرالکلام کے سفر میں اپنی بساط کے مطابق حوصلہ افزائی اور رہنمائی فرمائی۔ ان کی خدمات اور وابستگی کو ادارہ ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھے گا۔

معروف شاعر و صحافی مہتاب قدر کا انتقال جمعہ، 25 ستمبر 2026 کی صبح حیدرآباد (تلنگانہ) میں ہوا۔ وہ طویل عرصے سے جدہ میں مقیم تھے اور مختصر مدت کے لیے اپنے وطن حیدرآباد آئے ہوئے تھے۔وہ حلقۂ اربابِ ذوق، جدہ کے بانی اور پندرہ روزہ ادبی جریدے ’’اردو گلبن‘‘ جدہ کے بانی مدیر بھی تھے۔

اس المناک موقع پر قادرالکلام ماہنامہ کی پوری ٹیم مرحوم کے اہلِ خانہ اور تمام سوگواران کے ساتھ برابر کی شریکِ غم ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔

اللہ رب العزت پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کی علمی و ادبی وابستگیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔

Sunday, September 27, 2026

جنوری 2027 میں شائع ہونے والے خصوصی شمارے کا اعلان



 🌍 CALL FOR PAPERS | SPECIAL INTERNATIONAL ISSUE — JANUARY 2027

📚 QADAR UL KALAM
A Monthly Bilingual International Peer-Reviewed Research Journal
ISSN: 3139-1028 | Hyderabad, India

🌐 Contemporary World Fiction

A Study of Fiction Across Languages and Cultures

قادرالکلام کے جنوری 2027 کے خصوصی بین الاقوامی شمارے کے لیے اردو اور انگریزی زبان میں تحقیقی و تنقیدی مقالات مطلوب ہیں۔

Saturday, September 26, 2026

نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ

 

اردو افسانے کے اہم فن کار نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی مطالعہ، فہیم خاتون مسرت کے قلم سے۔

  فہیم خاتوں مسرت ۔ناندیڑ ،مہاراشٹرا

  جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعہ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت چغتائی اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلیٰ پائے کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانے کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان کے مسائل کو موضوع بنایا وہیں ظالموں اور سرمایہ داروں کے ظلم وبربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ترقی پسند تحریک کا دوراردو افسانہ نگاری کا عہدزریں کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہندوستان مختلف مسائل سے دوچار تھا۔ عدم مساوات اور معاشی بحران کا مسئلہ ابھی حل بھی نہیں ہوا تھا کہ ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آیا۔ تقسیم ہند کے سانحے اور اس کے ردعمل کے طور پر رونما ہونے والے فسادات نے لوگوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کردیا۔

اس دوران انسانیت کو شرمسارکردینے والے حادثات اور ہجرت کے کرب نے لوگوں کو بے حس بنادیا جس نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو صلب کردیا۔ جہاں ان مسائل کی وجہ سے اردو افسانے کے موضوعات کو وسعت حاصل ہوئی، وہیں موضوعات کی یکسانیت نے اکتاہٹ پیدا کردی، اور مقلدین کی بھرمار نے ادب کو نعرہ بنادیا جس کی وجہ سے اس تحریک کا زور  روز بہ روز  ختم ہوتا چلاگیا۔  ۱۹۶۰ء کے بعداردو افسانے میں تجربات اور ردــوقبول کے دور کا آغاز ہوا۔ ان تجربات نے جہاں اردو افسانے کو مروجہ اسلوب سے باہر نکالا وہیں اردو افسانے کو نئے معنی و مفاہیم بھی عطا کیے۔ جدیدیت کی یہ تحریک ادب کے ساتھ ساتھ اسلوب اور موضوعات میں بھی شعوری طور پر تبدیلی کی خواہش مند تھی۔ چنان چہ اظہار خیال کے لیے  نئے  اسلوب کی تشکیل کا عمل شروع ہوا، اور یہیں سے اسلوب کی سطح پر تجربات کے دور کا آغاز ہوا۔ موضوعات میں انفرادیت اور نئے پن کی جستجو نے انھیں اجتماعی موضوعات سے دورکردیا۔ کبھی افسانے میں کردار کو، کبھی کہانی کو رد کیا گیا۔ افسانہ نگار اپنی بات اشاروں، کنایوں، تشبیہات و استعارات میں بیان کرنے لگا۔ حقیقت نگاری کا اسلوب علامتی اور تمثیلی پیرایہ بیان اختیار کرتا چلاگیا۔ اسی دور میں قاری تلازمہ خیال، خود کلامی، شعور کی روکی تکنیک اور آپ بیتی جیسے اسلوب سے متعارف ہوا۔۱۹۷۰ء کے بعد اردو افسانہ نگاری کا اہم مرکز مہاراشٹر رہا۔

Thursday, September 24, 2026

ٹھاکر پونچھی کی ناول نگاری


📖 قارئینِ کرام! قادرالکلام ماہنامہ کے خصوصی شمارہ ’’آزادیِ ہند اور اردو ادب‘‘ میں شامل ایک اہم تحقیقی مضمون پیشِ خدمت ہے۔

  غلام مرتضی (ریسرچ اسکالر)

(اگرچہ ٹھاکر پونچھی کے ناولوں کا مرکزی موضوع ہندوستان کی تحریکِ آزادی نہیں، تاہم ان کی تخلیقات میں آزادیِ فکر، سماجی شعور، استحصال کے خلاف مزاحمت، انسانی وقار اور معاشرتی تبدیلی جیسے عناصر نمایاں ہیں۔ اسی ادبی اور فکری نسبت کے پیشِ نظر آزادی کے خصوصی شمارے میں ان کی ناول نگاری پر یہ مقالہ شامل کیا جا رہا ہے۔    ادارہ  )
ٹھاکر پونچھی کا اصل نام موہن لال تھا۔ اپنے علاقے میں وہ جگن ناتھ ٹھاکر کے نام سے جانے جاتے تھے، تاہم ادبی حلقوں میں انہیں ’’ٹھاکر پونچھی‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ ٹھاکر پونچھی ضلع پونچھ کے ایک راجپوت خاندان میں 31 دسمبر 1922ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام بیم سنگھ تھا، جن کا شمار پونچھ کے ممتاز کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ وہ خصوصاً ورزشی کھیلوں، مثلاً پولو اور نیزہ بازی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ اپنی منفرد صلاحیتوں کے باعث وہ جلد ہی عوام و خواص میں مقبول ہو گئے۔ پونچھ کے راجہ جگت دیو سنگھ بھی ان سے خاص انسیت رکھتے تھے اور انہیں اپنی نجی محفلوں میں شرکت کی دعوت دیا کرتے تھے۔
ٹھاکر پونچھی اکثر اپنے والد کے ہمراہ محل میں آیا جایا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے شاہی ماحول سے وابستگی کے باعث ان کی تربیت نہایت عمدہ انداز میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی وکٹوریہ جوبلی اسکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پرنس آف ویلیز کالج میں داخلہ لیا، جو آج جموں میں گاندھی میموریل کالج کے نام سے معروف ہے۔ اسی ادارے سے انہوں نے بی۔اے کی ڈگری حاصل کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹھاکر پونچھی محکمۂ سپلائیز سے وابستہ ہوئے، لیکن اس ملازمت میں انہوں نے اپنے مزاج کے مطابق اطمینان محسوس نہ کیا، لہٰذا اسے ترک کر دیا۔ بعد ازاں انہوں نے آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کی، جہاں ڈوگری نیوز سروس میں بطور سب ایڈیٹر اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ 1971ء تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ بعد میں ان کا تبادلہ جموں ریڈیو اسٹیشن میں ہو گیا۔اگرچہ وہاں بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ڈوگری زبان سے متعلق تھی، تاہم انہوں نے اردو ادب کی جانب بھی خصوصی توجہ دی۔ زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے ’’اب میں وہاں نہیں رہتا‘‘ کے عنوان سے ایک ناول تحریر کیا۔ اس ناول کی تکمیل کے صرف دو روز بعد، 16 اگست 1974ء کو، وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔

Wednesday, September 23, 2026

مجاہد آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات


📖 زیرِ نظر تحقیقی مضمون ’’مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات‘‘ شہینا ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور) نے تحریر کیا ہے، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی و فکری خدمات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 شہینہ ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور)

   مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے لیے کثیر الجہات اور جامع صفات جیسے الفاظ  عموماً  استعمال کر دئیے جاتے ہیں۔ در اصل مولانا آزاد جیسی شخصیتوں کے لیے بنے ہی نہیں ہیں ان کی شخصی اور دانش ورانہ توانائیاں اتنی شدید اور وسعت آشنا ہوتی ہیں کہ وہ کسی ایک شناخت، راہ اور سمت میں محدود نہیں رہ سکتیں۔ ایسی شخصیتیں در اصل شخصیتوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہیں اور وہ ہر لمحہ خود اپنے آپ کو اور اپنے اطراف کی دنیا کو تراشیدم، پرستیدم، شکستم کی رو میں بناتی، توڑتی اور پھر بناتی رہتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں خارج کی بجائے خود اپنے آپ میں مرکوز ہوتی ہیں اور ان کی تخلیقی انفرادیت اس مرکز سے شعور و ادراک اور باہری دنیا کے زمین و آسمان پر تصورات و خیالات کے حملے کر کے انہیں اپنازیر نگیں کرتی رہتی ہے۔مولانا آزاد بہ یک وقت ایک بے پناہ عالم دین، دیدہ ور اور نکتہ رس مفسر قرآن، انسان شناس مفکر، سماجی و سیاسی ادراک کے منتہی، نہایت جری و بے باک صحافی، عربی و فارسی شعر و ادب کے پارکھ، اردو کے منفر دانشا پرداز، سحر طر از خطیب، سیاست دان، مدیر، منتظم، ادارہ ساز اور سب سے بڑھ کر نفیس ترین انسانی و اخلاقی اقدار کی حامل ایک ایسی تہذیبی شخصیت تھے جسے قدرت کی طرف سے اشیا اور افکار وحالات کی ماہیت کی گہرائیوں تک نہایت برق رفتاری سے پہنچ سکنے والی نورانی ذہانت اور بصیرت بخشی گئی تھی۔ ان کی عبقری شخصیت کے ان تمام پہلوؤں پر الگ الگ اور مجموعی اعتبار سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد اس پوری وسعت کا احاطہ کرنا نہیں ہے۔ ہماری دل چسپی یہاں مولانا آزاد کی تخلیقی انفرادیت اور حرکی توانائی کے اس وفور سے ہے جو بہت کم عمری میں ہی ان کی ذات کے آئینے میں منعکس ہونے لگی تھی اور جس نے ان کے زمیں گیر اور آسماں پیما  تخیل اور دانش کو فکر و عمل کے ان سانچوں میں ڈھالا جن کی یک جائی کو آج ہم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے جانتے ہیں۔

Tuesday, September 22, 2026

آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری


 پیشِ خدمت ہے عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور) کا تحقیقی مضمون ’’آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری‘‘، جس میں اردو ناول کے ذریعے تحریکِ آزادی، قومی شعور اور عہد کے سماجی و تہذیبی حالات کی عکاسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

عامر خان (ریسرچ اسکالر، رام پور)

  لفظ ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ناویلا سے مشتق ہے۔ ناول کے معنی نئی چیز کے ہیں۔ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ صنف ِ ناول ایک طویل نثری قصہ ہے جس میں انسانی زندگی کو کرداروں، واقعات اور معاشرتی حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ 

ای،ایم فوریسٹر (E.M. Forester)کے مطابق ناول ایک ایسا نثری بیانیہ ہے جس میں کردار ، واقعات اور انسانی زندگی کا تسلسل فن کارانہ اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناول نثری صنف ادب ہے۔ 

ادب اور سماج کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اسی لیے ادب کسی بھی قوم کی تہذیبی، سماجی اور سیاسی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو اردو ادب کی تمام اصناف اس سے متاثر ہوئیں۔ اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو ناول نے بھی قومی شعور، سیاسی بیداری، سماجی اصلاح اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدائی اردو ناولوں کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناول نگاروں نے قومی غلامی، سامراجی استحصال، فرقہ واریت، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل اور آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ اس طرح اردو ناول محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ قومی بیداری اور فکری مزاحمت کا مؤثر وسیلہ بھی بن گیا۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر اٹھی تھی ۔اس میں اگرچہ بنیادی طور پر یہاں کے سیاسی و اقتصادی حالات اور برطانوی سرمایہ داری کی سخت گیریوں کو خاصہ دخل تھا لیکن قومیت کے جدید تصور کے ساتھ ہی بین الاقوامی مسائل کا شعور بھی آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ ہندوستان کے فکشن نگاروں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اب سیاسی و سماجی مسائل کی سطح ملکی اور علاقائی حدود سے نکل کر ایک وسیع تر سرحد میں داخل ہو رہی ہیں۔

Monday, September 21, 2026

تحریک آزادی میں خواتین کا کردار ۔۔۔ عزم، قربانی اور حریت کی ناقابل فراموش داستان


"تحریکِ آزادی میں خواتین کا کردار"
ثناء الرحمن، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، لکھنؤ یونیورسٹی کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور قومی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 
 ثنا ءرحمن
 (ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو لکھنو یونیورسٹی)

تاریخ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے، ظلم کے اندھیروں سے نکلنے اور آزادی کی روشن صبح کا استقبال کرنے کا عزم کیا، اس جدوجہد میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، بے مثال قربانیوں اور ناقابل فراموش خدمات کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اگرچہ تاریخ کی بیشتر کتابوں میں مرد مجاہدین، سپہ سالاروں اور سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ نسبتاً زیادہ ملتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی تحریک کی کامیابی میں خواتین کی شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ برصغیر کی خواتین نے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے، سماجی پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے اور ہر قسم کے خطرات کو قبول کرتے ہوئے آزادی کی اس جدوجہد میں ایسا کردار ادا کیا جسے فراموش کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

تحریک آزادی محض سیاسی اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی قومی بیداری، فکری انقلاب اور تہذیبی خودمختاری کی جدوجہد تھی جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس جدوجہد میں خواتین نے صرف جلسوں، جلوسوں یا احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ ہی نہیں لیا بلکہ قومی شعور پیدا کرنے، نئی نسل کی ذہنی تربیت، مالی تعاون، خفیہ اطلاعات کی ترسیل، انقلابی کارکنوں کی پناہ گاہیں فراہم کرنے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بعض مواقع پر میدانِ جنگ میں عملی قیادت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ آزادی کی قیمت صرف مردوں نے نہیں بلکہ خواتین نے بھی اپنے لہو، آنسوؤں اور قربانیوں سے ادا کی ہے۔

Sunday, September 20, 2026

مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری


"مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری"
اسماء جبین، ریسرچ اسکالر، SGBAU، اکولا، مہاراشٹرا کا تحقیقی مقالہ ہے، جس میں مولانا حسرت موہانی کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور ان کی انقلابی شاعری کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اسماء جبین(ریسرچ اسکالر،مہاراشٹرا)

 اردو کے ممتاز شاعر، سیاسی رہنما اور صحافی مولانا فضل الحسن حسرت موہانی (۱۸۷۵–۱۹۵۱) ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے ایک ایسے استعارے ہیں جنھوں نے شاعری کو بھی انقلاب کا ہتھیار بنایا۔ ان کا تخلیقی سفر کلاسیکی غزل کی نزاکتوں سے شروع ہو کر انقلابی نظموں اور نعروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مقالہ حسرت کی انقلابی شاعری کے موضوعاتی، فکری اور فنی پہلوؤں کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں مکمل آزادی کا مطالبہ، سامراج دشمنی، سوشلزم، طبقاتی جدوجہد، سیکولرازم اور انسانی مساوات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ مقالے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح حسرت نے روایتی غزل کے قالب میں سیاسی شعور بھر کر اردو شاعری کی روایت کو ایک نئی جہت بخشی اور "انقلاب زندہ باد" جیسے نعرے کو عوامی شعور کا حصہ بنایا۔ آخر میں حوالہ جات کی ایک جامع فہرست پیش کی گئی ہے۔

Saturday, September 19, 2026

جدوجہد آزادی اور اردو صحافت

"جدوجہدِ آزادی اور اردو صحافت" عبداللہ، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی، لکھنؤ کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران اردو صحافت کے فکری، سیاسی اور عوامی کردار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 عبداللہ(ریسرچ اسکالر،لکھنو)

 صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری، سماجی اور سیاسی زندگی کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ یہ محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی شعور کی تشکیل، افکار و نظریات کی اشاعت، سماجی اصلاح، سیاسی رہنمائی اور قومی بیداری کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم نے آزادی، انصاف یا بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی، صحافت نے اس تحریک کو سمت دینے، عوام کو باخبر رکھنے اور ظلم و استبداد کے خلاف رائے عامہ ہم وار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو کسی بھی قوم کا ضمیر اور عوامی احساسات کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے۔برصغیر میں صحافت کا آغاز اگرچہ انگریزی اور فارسی اخبارات سے ہوا، لیکن بہت جلد اردو نے بھی عوامی رابطے کی زبان کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کرلی،اور صحافت کے میدان میں قدم جمالیا۔ چوں کہ اردو مختلف مذہبی اور لسانی طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھی، اس لیے اخبارات کے لیے بھی یہی زبان زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔اردو صحافت کی باقاعدہ تاریخ 27 مارچ 1822ء سے شروع ہوتی ہے، جب کلکتہ سے "جامِ جہاں نما" جاری ہوا۔ اس کے بانی منشی ہری ہر دت تھے جب کہ اس کی ادارت منشی سدا سکھ لال کے سپرد تھی۔ اس سلسلے میں نادر علی خاں لکھتے ہیں:

"اردو اردو زبان کا پہلا اخبار جامِ جہاں نماہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتے سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ منشی سدا سکھ مرزا پوری کی ادارت میں مطبع مشن پریس میں طبع ہوکر ہری ہر دت کے اہتمام سے شائع ہوا تھا"

(نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ص: 33)

Friday, September 18, 2026

تحریک ِ آزادی ٔ ہند میں قومی یکجہتی


سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنماؤں، خواتین، انقلابی تحریک اور ادب و صحافت کے کردار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

تحریکِ آزادی سے مراد وہ منظم جدوجہد ہے جو کسی قوم یا ملک کے لوگ غیر ملکی غلامی، استعماری حکومت یا جابرانہ اقتدار سے نجات حاصل کرنے اور آزادی، خودمختاری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے کرتے ہیں،ہندوستان کے تناظر میں تحریکِ آزادی سے مراد وہ طویل جدوجہد ہے جو ہندوستانی عوام نے تقریباً 1857ء سے 1947ء تک برطانوی حکومت کے خلاف کی اس تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا، جن کے نتیجے میں 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، یعنی 

‘‘تحریکِ آزادی وہ اجتماعی جدوجہد ہے جس کے ذریعے کوئی قوم غیر ملکی یا جابرانہ حکومت سے نجات حاصل کر کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرتی ہے،،
ہندوستان کی تحریک آزادی دنیا کی عظیم ترین عوامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے، یہ صرف برطانوی استعمار سے نجات کی جدو جہد نہیں تھی بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قومی یکجہتی، باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی ایک بے مثال داستان بھی تھی، آزادی کی اس تحریک نے ہندوستانیوں میں یہ احساس مذہبی لسانی اور علاقائی اختلاف سے بالا تر ہو کر ایک متحد قوم کی حثیت سے ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے یہی قومی یکجہتی ہندوستان کی آزادی کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوئی، اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت قومی یکجہتی ہی تھی، جس نے مذہب، زبان، ذات، نسل اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہندوستانیوں کو ایک مشترکہ مقصد، یعنی آزادیِ وطن، کے لئے متحد کیا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکساں جوش و جذبے کے ساتھ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی،یہی اتحاد ہندوستان کی آزادی کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوا۔

Thursday, September 17, 2026

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )


"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

 فارسی ادب کا  دامن علمی اعتبار  سے مالامال ہے۔ طاہری دور سے صفوی اور قاچاری دور کے علما ئے  ادب نے بے شمار نادر و نایاب کتابیں تصنیف کیں جن میں رودکی، دقیقی، اور فردوسی کا شاہ نامہ، رومی کی مثنوی معنوی، عطار کی منطق الطیر اور تذکرہ اولیاء، طوسی کا سیاست نامہ، غزالی کی کیمیائے سعادت، سمرقندی کا چار مقالہ اور سعدی کی گلستان و بوستان خصوصیات کے ساتھ قابل ذکر شاہ کار ہیں۔ انھیں کتابوں میں ایک معروف کتاب کلیلہ و دمنہ ہے، جسے سنسکرت، پہلوی، عربی اور فارسی ادبیات نے اپنے اپنے دامن میں سجا کر اپنے حسن کو حسین تر و وسیع کرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی پہلی کتاب ہے جو  تراجم کے مختلف مرحلوں سے گزری اور مختلف ناموں سے مشہور ہوئی، اس کے اصلی نام  وجہ تصنیف  اور مصنف و مؤلف کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، کلیلہ و دمنہ کے متعلق عوفی کی رائے مختلف ہے تو دولت شاہ سمرقندی کی رائے مختلف۔ براؤن کی تحقیق کچھ اور کہتی ہے تو رضا زادہ شفق اور ملک الشعرا بہار کی تحقیق کچھ اور۔ بہرحال بیش تر تذکرہ نگار اور محققین اس بات پر متفق ہیں اور خود کلیلہ و دمنہ کا مقدمہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس کی اصل سنسکرت ہے اور اس کا نام پنچ تنتر ہے اور اس کا مصنف و شنوشرما ہے۔ وجہ تصنیف کے متعلق ایک معتبر روایت یہ ملتی ہے کہ قدیم ہندوستان جہاں تہذیب و تمدن کا گہوارا تھا اور علم کی دیوی جہاںنواس کرتی تھی وہیں راجاؤں کے بیٹے علم سے گریزاں  رہتے تھے اور لاکھ کوشش و کاوش کے بعد بھی ان کا دل مائل بہ علم نہیں ہوتا تھا۔ وشنو شرما نے انھیں شہزادوں کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے سرلی اور پنچ تنتر تحریر کی۔

Sunday, September 13, 2026

📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


 📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


ماہنامہ قادرالکلام (Qadar ul Kalam)

ISSN: 3139-1028

Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal


قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔ اس شمارے میں اردو ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، فکشن، کلاسیکی ادبی روایت اور عصرِ حاضر کے اہم علمی و ادبی موضوعات پر معیاری اور تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔


اس شمارے میں ’’کلاسیکی روایت اور جدید ادبی شعور‘‘ میں  پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا مقالہ  ’’شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)‘‘ شامل کیا گیا ہے۔


ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا مضمون ’’نسائی آواز اور اردو شاعری‘‘، فہیم خاتون مسرت کا ’’نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ‘‘ اور طاہرہ خاتون کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر‘‘ اس شمارے کی علمی و تحقیقی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔اسی طرح زینت پروین کا ’’اردو فکشن میں نسائی فکر کی ابتدا‘‘، غزالہ ہاشمی کا ’’جانے کتنے موڑ: موضوع و اسلوب‘‘ اور ڈاکٹر فریدہ تبسم کا ’’ڈپٹی نذیر احمد اور توبۃ النصوح‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔ جدید عہد کے اہم علمی موضوعات کی نمائندگی سعدیہ فاطمہ کے مضمون ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا بدلتا ہوا کردار‘‘ سے ہوتی ہے۔ وغیرہ شامل ہے۔ 


یہ شمارہ اردو ادب کے کلاسیکی ورثے سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک متنوع علمی و ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ محققین، اساتذہ، طلبہ، ریسرچ اسکالرز، ادباء اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ شمارہ خصوصی مطالعے کا حامل ہے۔


📖 ستمبر کے تازہ شمارے کے مکمل مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے قادرالکلام کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں۔

Wednesday, September 9, 2026

پہلی جنگ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری


"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری"
معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)

 ’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے  ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے

کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے

تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک

ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک

Tuesday, September 8, 2026

بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد


ڈاکٹر فریدہ تبسم
کا یہ تحقیقی مضمون "بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد" 1857ء کی جنگِ آزادی میں بیگم حضرت محل کے سیاسی، عسکری اور سماجی کردار کا تاریخی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں ریاستِ اودھ کی قیادت، ہندو مسلم اتحاد، برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اور ان کی سیاسی بصیرت کو تاریخی تناظر میں واضح کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرفریدہ تبسم

1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔

1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔

Monday, September 7, 2026

کلام ظفر میں استعماری ظلم کے خلاف احتجاج


یہ مضمون ڈاکٹر محمد کاشف، اسسٹنٹ پروفیسر، الہٰ آباد یونیورسٹی، کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری کے ذریعے برطانوی استعمار کے ظلم، سیاسی غلامی، دہلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور آزادی کی آرزو کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون خاص طور پر ظفر کے شعری استعاروں اور علامتی احتجاج کو 1857ء کی جنگِ آزادی کے تاریخی پس منظر میں واضح کرتا ہے۔

 ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی) 

برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔

Sunday, September 6, 2026

برطانوی سامراج اوراردوکامزاحمتی ادب


پروفیسر سید محمود کاظمی کا یہ اہم تحقیقی مضمون "برطانوی سامراج اور اردو کا مزاحمتی ادب" اردو ادب میں مزاحمت، قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف ادبی اظہار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں غالب، بہادر شاہ ظفر، چکبست، اقبال، جوش، پریم چند اور دیگر شعراء و ادباء کے حوالے سے برطانوی سامراج کے خلاف اردو ادب کے مزاحمتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

 پروفیسرسید محمود کاظمی

ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ  کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ  ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو  ؎ 

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی

دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 

Saturday, September 5, 2026

تحریک آزادی اور برج نرائن چکبستؔ


پروفیسر زماں  آزردہ  (کشمیر)

یہ مضمون معروف قومی شاعر برج نرائن چکبستؔ کی شاعری اور تحریکِ آزادیِ ہند میں ان کے کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں چکبستؔ کی نظموں کے ذریعے حبِ وطن، قومی بیداری، خود اعتمادی، ہندو مسلم اتحاد اور آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے


 ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔

جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:

’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘ 

Friday, September 4, 2026

تحریک آزادی اور الہلال


 
 پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی

 یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

 مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ  صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے  ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو  ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...