تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • اگست 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Tuesday, July 14, 2026

بشیر بدر کی شاعری میں انسان دوستی کا تصور


 فیضان احمد کیفی  (ریسرچ اسکالر؛جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی)

فیضان احمد کیفی (ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) کا ایک تحقیقی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں معروف اردو شاعر بشیر بدر کی شاعری میں محبت، رواداری، امن، ہمدردی اور انسانی اقدار کے تصور کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں منتخب اشعار کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بشیر بدر کی شاعری انسان دوستی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی شعور کی مؤثر ترجمان ہے۔)

"وہ دلوں میں آگ لگائے گا، میں دلوں کی آگ بجھاوں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے، مجھے اپنے کام سے کام ہے"
مذکورہ شعر کے خالق جدید اردو غزل کے معتبر شاعر اور مشاعروں کی دنیا کے درخشندہ ستارہ بشیر بدرہیں۔ بشیر بدر نے اپنی شعری تخلیقات سے اردو ادب میں بیش قیمتی اضافہ کیا ہے اور اپنے دور کے مشاہیرِ ادب کو اپنی تخلیقات کی جانب التفات کرنے اور ان کے فکر و فن پررائے دینے پر مجبور کیا ہے۔ اسی لیے بشیر بدر کو محض "مشاعروں کا شاعر" کہہ کر یک قلم مسترد کر دینا اور ان کی تخلیقات کا سنجیدہ اور ناقدانہ مطالعہ نہ کرنا ادبی انصاف کے خلاف ہوگا۔
بشیر بدر کی شاعری میں محبت ،انسانی اقدار، مذہبی رواداری، امن و آشتی، رشتوں کی صداقت و اہمیت، انسانی حسیت، امید و حوصلہ جیسے عناصر نہایت خوبصورتی کے ساتھ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت کے خوش نما احساسات جس لطافت، فکری بالیدگی اور داخلی سچائی کے ساتھ جلوہ گرہیں، وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کیے بغیر نہیں رہتے۔ ان کے اشعار کو پڑھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے بہت سے شاعروں کی طرح صرف عشق، محبت، گل و بلبل اور روایتی رومانوی موضوعات کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا ہے، لیکن ان کے کلام کا گہرا مطالعہ اس تاثر کو بدل دیتا ہے۔ بشیر بدر نے محبت کے نازک اور لطیف جذبات کو جس وسعتِ فکر، بلند انسانی شعور اور کشادہ قلبی کے ساتھ اپنے اشعار میں برتا ہے وہ ان کا خاص امتیاز ہے۔انہوں نے محبت، انسیت، الفت، مروّت اور خلوص جیسے احساسات کو صرف عشق و عاشقی کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسانیت کی بقا، امن و سکون ،باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کا وسیلہ بنایا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور انسانی رویہ بن کر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے نفرت کے مقابل محبت کا پیغام دیاہے۔ بغض و عناداور سماج میں مروج منافقت کے ماحول میں خلوص، اپنائیت اور مفاہمت کو اہمیت دی ہے۔ مذہبی منافرت کے دور میں رواداری اور انسان دوستی کی ترغیب دلائی ہے۔ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کے درمیان صلہ رحمی، تعلقات اور انسانی احساس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح تصنع اورظاہری؎ شرافت کے برخلاف سچائی، سادگی اور خالص انسانی جذبات کی حمایت ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔
بشیر بدر کی شاعری میں تنہائی، قربت اور جدائی کے احساسات بھی بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہ انسان کے داخلی کرب، معاشرتی بے حسی، طبقاتی احساس، غریب انسان کے دکھ اور انسانی شناخت کے بحران کو نہایت  موثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری قاری کو مایوسی کے سیاہ بادلوں کے بیچ امیدکی کرن عطا کرتی ہے۔ حوصلہ اور داخلی کیف و سرور کا احساس دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار صرف محبت کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ انسانیت، ہمدردی، خودداری اور اجتماعی شعور کا پیغام بھی دیتے ہیں۔
دراصل بشیر بدر کی انسانیت نوازی، احساساتی شعور اور جذبات نگاری کا سرا کافی حد تک ان کے ماضی سے جڑا ہوا ہے۔ زندگی کے مختلف ادوار میں جو بھی سانحات و حادثات پیش آئے، ان تمام حادثات و واقعات نے بشیر بدر کو ایک سنجیدہ اورمحبت کرنے والا انسان بنایا۔ آزادی کے فوراً بعد باپ کی علالت کے سبب محض 15 سال کی عمر میں تعلیم سے رشتہ منقطع کرکے گھر والوں کی محبت اور اپنے بھائی بہنوں کی تربیت کی خاطر کسب معاش میں لگ گئے۔نیز زندگی جب خوشحال اور خوش وخرم تھی تو ایسے وقت میں محبت کرنے والی بیوی دعوت اجل پر لبیک کہ کر داغ مفارقت دے گئیں۔ میرٹھ میں منتقل ہونے کے بعد شرپسندوں نے ان کے گھر کونذر آتش کر دیا، زندگی کا مکمل اثاثہ خاک کر کے کبھی نہ مٹنے والا زخم دے گئے۔ یہ سارے تجربات اور واقعات ایسے تھے جنہوں نے بشیر بدر کے دل کوصبر و حوصلہ کی بھٹی میں پکا کر انسانیت کے لیے دھڑکنے والا بنایا۔احساسات اور جذبات کو انسان سے محبت اور ہمدردی کرنے والا بنایا۔ انسانیت کے خلاف ہو رہے تصادم، ظلم و استحصال پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات اور انسان کے ذہنی و باطنی کیفیات پر روشنی ڈالنے والا شاعر بنایا۔
فاروق ارگلی لکھتے ہیں؛
"ڈاکٹر بشیر بدر نے اپنی غزل میں قدیم فرسودہ موضوعات اور رموز و علائم کے بجائے اپنے سامنے نظر آنے والے، محسوس کیے جانے والے اور عام انسانوں کے جیے جانے والے سچ کو موضوعِ سخن بنایا ہے۔ اس اعتبار سے وہ اس عہد کے مجتہد شاعر کہے جا سکتے ہیں۔"(۱)
 قمر رئیس نے بھی بشیر بدر کے اشعار میںانسان دوستی، انسانی زندگی کی حمایت اور امن و امان کی ؎ترویج و اشاعت کے حوالے سے لکھاہے:
"اس نوع کے اشعار میں جو حسن و درد ہے وہ ذاتی بھی ہے اور اس کا رشتہ اس عہد کے آشوب و ابتلا سے بھی گہرا ہے۔ ذاتی محرومیاں جب تک اجتماعی دکھ درد کے احساس سے ہم آہنگ ہو کر انسانی محرومیوں کے کرب میں نہ ڈھلیں، تاثر آفرین شعر کا قالب اختیار نہیں کرتیں۔ میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ بشیر بدر زندگی کے مہتم بالشان موضوعات یا جلتے ہوئے مسائل پر قلم نہیں اٹھاتے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ مسائل ان کی روح میں ہلچل نہ مچاتے ہوں۔ ظالمانہ اونچ نیچ، ہمہ گیر تشدد، عالمی جنگ کے بھیانک بادل اور صنعتی زندگی کے بھاری قدموں تلے انسانی جذبوں کی پامالی ایسے حقائق ہیں جو ان کا دل بھی لہو کرتے ہیں۔ اس دردمندانہ احساس کی گواہی بہت سے اشعار میں ملتی ہے۔"(۲)
انسان دوستی کے عناصر میں جو عنصر سب سے زیادہ اہم ہے، وہ مذہبی رواداری اور آپسی امن و آشتی ہے۔ کسی بھی مثالی سماج اور معاشرے کی فلاح و بہبودی اس کے امن و امان پر منحصر ہے۔ اور اس کی خوش حالی کی بنیاد باہمی رواداری، بھائی چارہ اور ایک دوسرے کے احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔بشیر بدر نے بھی اپنے متعدد اشعار میں انسانوں کو یہی یاد دہانی کرائی ہے کہ مذاہب کا مقصد انسانوں کے درمیان نفرت، رنجش اور خلش پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو پہچاننا، سمجھنا اور ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت سے استفادہ کرناہے۔وہ اس حقیقت کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اگر کبھی مذہب اور دھرم کے نام پر جنگ و جدال کی نوبت آ جائے تو انسان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ ہندو یا مسلم ہونے سے پہلے ایک انسان ہے، اور انسانیت کبھی کسی انسان کو دوسرے انسان سے نفرت یا اس کے قتل اور تباہی پر آمادہ نہیں کرتی۔ انسانیت تو ایک دوسرے کی بقا، مدد، محبت اور تحفظ کا درس دیتی ہے۔
"ہندو بنو تو متھرا ،مسلم بنو تو مکہ    انساں اگر رہو تو سارا جہاں تمہارا"
بشیر بدر کے نزدیک مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونا، عبادت گاہوں کو مسمار کرنا اور نفرت کی آگ بھڑکانا نہ مذہب کی تعلیم ہے اور نہ ہی انسانیت کا سبق۔ اسی احساس کو انہوں نے نہایت موثر انداز میں اپنے اس شعر میں پیش کیا ہے:
"کس کو گرا رہے ہو کس کو جلا رہے ہو
اے مذہبی درندوں ہر گھر خدا کا گھر ہے"
محبت کی وسعت، کشادگی اور اس کی انسانی زندگی میں اہمیت پر بشیر بدر نے جس انداز سے روشنی ڈالی ہے، وہ واقعی ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کے نزدیک محبت محض دو مخالف جنسوں کے درمیان پیدا ہونے والا ایک وقتی جذبہ نہیں جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آئے اور پھر کہانی وہیں ختم ہو جائے، بلکہ محبت انسانیت کی پہچان ہے، روحِ انسانی کی غذا اور اصل بنیاد ہے۔ اس احساس کے بغیر انسانیت کا تصور محال ہے۔سماجی اور معاشرتی زندگی کی سلامتی بھی اسی جذبہ محبت پر قائم ہے۔ ہر دور میں انسانوں کے لیے ایک دوسرے سے نفرت اور دشمنی کرنا نسبتاً آسان رہا ہے، لیکن ایک دوسرے کے لیے دل میں کشادگی پیدا کرنا، باہمی محبت کو قائم رکھنا اور تعلقات میں خلوص باقی رکھنا ہمیشہ ایک مشکل امر رہا ہے۔ بشیر بدر نے انہیں حالات کو سامنے رکھتے ہوئے محبت کو انسانیت کی نجات اور بقا کا پیغام قرار دیا ہے۔
"نفرت کو محبت کا ایک شعر سناتا ہوں
میں لال پسی مرچیں پلکوں سے اٹھاتا ہوں"
اس شعر میں محبت کی راہ کی دشواری کو نہایت موثر استعارے میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا نفرت کی کھیتی کو ختم کر کے محبت کا بیج بونا اتنا ہی مشکل اور صبر آزما عمل ہے جیسے نازک پلکوں سے لال پسی ہوئی مرچ اٹھانے کی کوشش ہے۔ یعنی محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ قربانی، برداشت، صبر اور ایثار کا نام بھی ہے۔
بشیر بدر نے اپنی مختلف غزلوں میں انسان دوستی،معاشرتی حساسیت، انسانی نفسیات اور جذبات پر گہری روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے انسان کی نفسیات اور اس کے جذبات کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک شاعر کسی ماہرِ نفسیات سے کم نہیں ہوتا۔ ماہرِ نفسیات جس طرح انسان کے ذہن اور اس کی فکر کے دریچوںسے واقف ہوتا ہے۔ بالکل ویسے ہی شاعر بھی انسان کے مختلف افکار، نظریات، خیالات، محسوسات اور جذبات سے باخبر ہوتا ہے اور گاہے بگاہ اپنے اشعار کے ذریعہ ان پرتوں کی گرہیں کھولتا چلا جاتا ہے۔ بشیر بدر نے بھی اپنی شاعری میں ایک ماہرِ نفسیات کا فرض ادا کیا ہے اور انسانوں کو مختلف انداز سے انسانیت کا سبق دیا ہے۔ ان کی یہ غزل کئی اعتبار سے انسان کے لیے سبق آموز ہے۔
عام طور پرانسان زندگی میں دوسروں کو پرکھنے، جانچنے اور آزمانے میں لگا رہتا ہے۔ وہ دوسروں کو اپنے معیار اور مزاج کے حوالے سے جانچتا ہے۔ اسی عادت کی سبب وہ اپنے آس پاس کے ان رشتوں اور لوگوںکو کھوتا چلا جاتا ہے جنہیں وہ اپنا کہا کرتا ہے۔ اسی حقیقت کی جانب بشیر بدرنے اشارہ کیا ہے:
"پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا"
یعنی یہ عادت تمہیں تمہارے رشتہ داروں اور اپنے لوگوں سے صرف دور کرتی جائے گی۔ اسی حقیقت کو اگلے مصرعے میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ:
’’کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا‘‘
یعنی ہمیں دوسروں کو اپنے معیار، مزاج اور عادتوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ آئینے میں بھی ہمارا چہرہ ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔ جب ہمارا عکس ہٹ جاتا ہے تو چہرہ بھی غائب ہو جاتا ہے، اس لیے ہر انسان کو اس کی اپنی حقیقت اور فطرت کے مطابق ہی دیکھنا چاہیے۔دوسروں کی ذات میں اپنا عکس تلاش کرنا کار عبث ہے۔
دوسرے شعر میں بشیر بدر نے زندگی کی ایک اور حقیقت سے نقاب کشائی کی ہے۔ عام طور پر طبقاتی کشمکش اور استحصال کا شکارانسان اپنے سے بڑے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند کرتا ہے تاکہ ان کی حیثیت اور وجود سے اس کی بھی پہچان بن سکے۔ اسی نفسیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا"
 بظاہر بڑے لوگوں سے مل کر وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے ساتھ لگاتار اٹھنا بیٹھنا انسان کو اس کی اصل شخصیت اور حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔گویا کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا۔
اسی غزل کا آخری شعر ایک اور اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس دنیا میں جس قدر نفرت، عداوت، بغض، حسد، کینہ اور عناد پھیل رہا ہے، اتنی ہی ضرورت محبت، الفت اور انسیت کے جذبوں کو عام کرنے کی بھی ہے۔ کیونکہ جب انسان ایک دوسرے کے لیے دل میں محبت رکھتا ہے تو وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔
"محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا"
اس شعر کو اگر عمومی معنی میں لیا جائے تب بھی یہ انسان کے لیے سکون اور بہتر ذہنی کیفیت کا پیغام دیتا ہے، اور اگر عشق و محبت کے معنی میں لیا جائے تو بھی انسان تنہائی میں بھی اپنے محبوب کے تصورات کے سبب تنہائی محسوس نہیں کرتا۔ یہی محبت انسان کے دل و دماغ کو کدورت، خلش اور رنجش سے پاک رکھتی ہے۔
اپنی ایک دوسری غزل میں بشیر بدر نے منافقت، دروغ گوئی، کینہ پروری اور رشتوں میں بڑھتے ہوئے تصنع پر روشنی ڈالتے ہوئے انسان کو خلوص، وفا اور سچی محبت کی جانب راغب کیا ہے۔ وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ محبت اور دوستی اگر دکھاوے، تکلف اور مصلحت پر قائم ہو تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔ اسی احساس کو انہوں نے نہایت سادگی سے اپنے شعر میں پرویا ہے:
"محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا"
گویا تعلقات میں خلوص سب سے اہم چیز ہے۔ بناوٹ اور ظاہری اپنائیت سے بہتر ہے کہ انسان اپنے جذبات میں سچائی اختیار کرے۔
اسی فکر پر احمد فراز کا مشہور زمانہ شعر بھی ہے
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز   دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
 بشیر بدر نے اس مادی دنیا کی ایک تلخ حقیقت کو بھی بیان کیا ہے کہ انسان جھوٹی شان و شوکت، نام اور عہدوں کی چمک میں اس قدر کھو گیا ہے کہ اس نے انسانیت کی روح کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اب لوگوں کی پہچان ان کے نام اور عہدوں سے تو ہوتی ہے، مگر انسانیت ناپید ہوتی جا رہی ہے:
"گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا"
رشتوں میں دکھاوے اور تکلف نے اس قدر جگہ بنا لی ہے کہ تعلقات صرف رسمی رہ گئے ہیں۔ خلوص، محبت اور اپنائیت کا احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لیے انسان اپنے ہی رشتوں کے درمیان رہ کر بھی اجنبیت محسوس کرتا ہے۔
تمام رشتوں کو میں گھر پہ چھوڑ آیا تھا   پھر اس کے بعد مجھے کوئی اجنبی نہ ملا
بشیر بدر نے زندگی کی ایک اٹل حقیقت کی جانب بھی نہایت خوبصورتی سے رہنمائی فرمائی ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کو سب کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بسا اوقات انسان پوری کائنات میں صرف ایک شخص کو چاہتا ہے، دعاوں میں مانگتا ہے، مگر قسمت اسے بھی اس سے دور رکھتی ہے۔
"خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے
بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا"
اسی غزل کے آخری شعر میں قربت اور دوری کے ایک عجیب انسانی احساس کو بیان کیا گیا ہے کہ بعض اوقات انسان کسی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اس تک نہیں پہنچ پاتا، جسمانی قربت کے باوجود دلوں میں فاصلے باقی رہتے ہیں۔
"بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی
وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا"
ایک اور غزل میں بشیر بدر نے زندگی کی مختلف حقیقتوں کو نہایت خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔
"ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے"
 پہلے شعر میں انہوں نے شہری زندگی کی تگ و دو، مصروفیت اور بے سکونی کو موضوع بنایا ہے۔ بظاہر شہر کی رونق، آرام و آسائش کے سامان اور وسائل و ذرائع کی فراوانی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور ہر شخص ایسی زندگی کا خواہش مند نظر آتا ہے، لیکن ان آسائشوں کے بدلے انسان کو اپنے سکون، راحت اور اطمینان کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ زندگی کی دوڑ بھاگ میں وہ اس قدر مصروف ہو جاتا ہے کہ نہ دوپہر کا آرام نصیب ہوتا ہے اور نہ شام کا سکون۔
’’کہاں اب دعاوں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں
یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے‘‘
یہ شعر ماضی اور حال کے درمیان تہذیب، مزاج اور تعلقات کے فرق کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ پہلے لوگوں کے درمیان محبت، اخوت، دعاوں، نصیحتوں اور اپنائیت کا رشتہ بے غرض ہوا کرتا تھا۔ بڑے چھوٹوں کو نصیحت کرنا اپنا فرض سمجھتے اور چھوٹے ادب و احترام سے اسے قبول کرتے تھے، لیکن آج کا دور مطلب اور ضرورت کا دور بن چکا ہے جہاں خلوص بھی اکثر کسی نہ کسی غرض کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔
"وہ دلوں میں آگ لگائے گا میں دلوں کی آگ بجھاوں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے"
اس شعر میں بشیر بدر نے عصرِ حاضر کے انسان کے مزاج اور رویّوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نفرت، فساد اور دوریاں پیدا کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو محبت، امن اور دلوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ شاعر نے نہایت سادگی سے یہ پیغام دیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت اور اپنے کردار کے مطابق عمل کرتا ہے۔
میرٹھ میں فسادیوں نے جب بشیر بدر کے گھر کو نذر آتش کر دیا تھا۔معاملہ اس قدر سنگین تھا کہ بیٹے کی جان ایک غیر مسلم محسن پڑوسی نے بچایا تھا۔اس آتش زنی میں زندگی بھر کی کمائی،شعر و سخن پر مشتمل کاغذات الغرض پورا سرمایہ نذر آتش ہو چکا تھا۔اس دردناک صورت حال میں بشیر بدر نے جو اشعار کہے وہ رہتی دنیا تک پوری انسانیت بالخصوس فساسدیوں کے لیے دل سوز پیغام ہے:
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
انتہائی عام اور سادہ فہم انداز میں بشیر بدر نے زندگی کی جس کرب ناک حقیقت پر روشنی ڈالی ہے وہ آپ کا ہی خاصہ ہے۔کسی انسان کی زندگی کی کل جمع پونجی کو محض چند لمحوں کی نفرت اور عنادکے سبب نذر آتش کردینا انسانیت پر داغ ہے۔بشیر بدر نے اس شعر کے ذریعہ انسانی بے حسی اور ظلم پر گہرا طنز کیا ہے۔ 
مزید اشعار جن میں بشیر بدر نے انسانی مزاج و حسیت کو نفسیاتی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
بشیر بدر نے انسانی تعلقات میں اعتدال و توازن کی بات کی ہے۔اختلاف ہونا انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن اس اختلاف کے وقت اپنی طبیعت میں شائستگی و شگفتگی کا جذبہ براقرار رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔ضروری نہیںکہ اختلاف تادم حیات قائم رہے۔قوی امکان ہے کہ فطرت دونوں کو کسی ایسے موڑ پر لے آئے جہاں اختلاف اتحاد و اتفاق کی صورت اختیار کرلے۔اس لئے دوران اختلاف اور دشمنی شائستگی و سنجیدگی کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔
مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
یہ شعر انسان کی بلند فکری و اعلی ظرفی پر روشنی ڈالتا ہے۔بشیر بدر نے انسانوں کو اپنے مخالفین و ناقدین کے احترام پر آمادہ کیا ہے۔کیونکہ ہماری اصل کمیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی ہمارے مخالفین اور ناقدین ہی کرتے ہیں۔اس لئے انہیں اپنا دشمن تصور کرنے کے بجائے انہیں مصلح سمجھنا چاہئے اور ان کی تنقید و مخالفت کو سنجیدگی سے لے کر اپنی ذات کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔
منجملہ بشیر بدر کی غزل محض عشق و محبت، حسن و جمال اور رومانوی احساسات تک محدود نہیں بلکہ ان کی سیکڑوںغزلوں اور ہزاروں اشعار میں انسان دوستی، انسانیت نوازی،جذباتی شعور، مذہبی رواداری، محبت، ہمدردی، اخلاقی شعور،داخلی کرب ،رشتوں کی سچائی اور نزاکت، انسانی نفسیات،باطنی کیفیات اور سماجی رویّوں پر گہری اور فکر انگیز روشنی ملتی ہے۔ انہوں نے انسان کے مثبت و منفی دونوں پہلووں کو نہایت سادگی، سچائی اور داخلی حس کے ساتھ اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بشیر بدر کی غزل کا صرف رومانوی، عروضی یا فنی مطالعہ کافی نہیں، بلکہ ان کی شاعری کا ایک مطالعہ انسان دوستی اور انسانیت نوازی کے حوالے سے بھی ہونا ضروری ہے تاکہ ان کی غزل کی اصل معنویت اور فکری وسعت پوری طرح قارئین کے سامنے آسکے۔
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
حوالہ جات؛
(۱)کلیات بشیر بدر،صفحہ ۲۵؛ترتیب و تزئین از فاروق ارگلی:۲۰۱۴
(۲)بشیر بدر فن و شخصیت،صفحہ ۱۳؛مرتبین،رفعت سلطان،ڈاکٹر رضیہ حامد؛۱۹۸۸

📚 The Concept of Humanism in the Poetry of Bashir Badr

✍️ Faizan Ahmad Kaifi
Research Scholar, Jamia Millia Islamia, New Delhi, India

 Mobile: +91 8678095576
***
اشاعتی نوٹ:
یہ تحقیقی مقالہ ماہنامہ قادرالکلام (Qadir-ul-Kalam International Monthly Journal) کے جلد 1، شمارہ 10 (جولائی 2026) میں شائع ہوا ہے۔ مکمل شمارہ PDF کی صورت میں www.qadirulkalam.com پر دستیاب ہے۔

No comments:

Post a Comment

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM) ISSN: 3139-1028 Peer-Reviewed | International Research & R...