ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ (صدر شعبۂ اردو)
تمہید: تاریخی پس منظر
ہندوستان میں جنمی، پلی بڑھی اور مقبولیت کی معراج کو چھونے والی اُردو زبان جب سرزمینِ بنگال میں قدم رکھتی ہے، تو اپنی شیرینی اور حلاوت کے سبب یہاں کے مقامی باشندوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بنگال میں متعدد شعرا و ادبا پیدا ہوتے ہیں اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان تخلیق کاروں نے بلا امتیازِ مذہب و ملت اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اُردو زبان کا رشتہ بنگال سے صدیوں پرانا رہاہے۔ مغلیہ دور سے لے کر برطانوی عہد حکومت تک، بنگال (خاص طور پر کولکاتا اورمرشد آباد) اُردو زبان و ادب کا ایک بڑا اور اہم مرکز رہا ہے۔ مارکوٹس آف ویلزلی کے ہاتھوں فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو نثر کی تاریخ میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے کولکاتا کو اُردو زبان کی جنم بھومیوں کے برابر لا کھڑا کیا۔ میر امن دہلوی کی ’’باغ و بہار‘‘ ہو یا حیدر بخش حیدری کی تصانیف، ان کی خوشبو اسی بنگال کی فضاؤں سے اٹھی تھی۔ اس کے بعد کے ادوار میں بھی بنگال نے علامہ رضا علی وحشت اور پرویز شاہدی جیسے بلند پایہ شعراء اور ادباء پیدا کیے۔
ابتدائی دور میں اردو زبان کو رواج دینے اور اسے فروغ دینے میں بنگال کے جن علاقوں کو اولیت حاصل رہی، ان میں پنڈوہ (مالدہ)، مرشد آباد، کولکاتا اور اس کے مضافات انتہائی اہم ہیں۔ بنگال کے ان مراکز میں ایسے بے شمار اردو شعرا و ادبا پیدا ہوئے جن میں ہندو دھرم کے پیروکار بھی شامل تھے اور اسلام کے شیدائی بھی۔
بنگال میں اُردو زبان کے آغاز و ارتقا ء کا رشتہ سیدھے طور پر مسلم حکمرانوں اور صوفیائے کرام کی آمد اور ان کے یہاں سکونت پذیری سے جوڑا جاسکتا ہے۔اس حقیقت سے انکار مُحال ہے کہ بنگال میں اُردو زبان کا عمل و دخل تیرہویں صدی مسیحی کی پہلی دہائی میں شروع ہوتا ہے۔جب بختیار الدین بختیار خلجی نے بنگال کا ایک وسیع علاقہ فتح کرلیا۔جس باعث صوفیائے کرام کی بنگال میں آمد کا سلسلہ تیزی سے بنگال میں شروع ہوگیا۔مشرقی و مغربی بنگال میں اُردو زبان و ادب کے آغاز و ارتقاء کا رشتہ بالواسطہ طور پر صوفیائے کرام سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ شاہ سُلطان رومی متوفی 575 ہجری پہلے صوفی ہیں جن کے قدم بنگال کی زمین پر پڑے۔اُردو زبان میں آپ سے منسوب کسی بھی اقوال و کلمات کا سراغ نہیں ملتا ہے۔ اس عہد اور بعد کے دیگر صوفیائے کرام میں اہم نام شاہ مخدوم روپوش، بابا آدم شاہد،حضرت شاہ جلال تبریزی، اسمعٰیل خاں غازی، شیخ علاء الحق، شاہ جلال یمنی،ظفر خان، شیخ اخی سراج الدیں اور شیخ شرف الدین کا ہے،لیکن افسوس ان بزرگوں کے بھی کسی اُردو اقوال و کلمات کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ جن صوفیائے کرام و شعرا و ادبا نے بنگال میں قیام کیا یا سکونت اختیار کی اور جن کا تعلق اُردو زبان سے رہا ہے ان میں اہم نام مخدوم جہاں حضرت شیخ شرف الدین احمد یحٰیی منیری، حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی، قطبن اور بحرام بخاری سقا کے نام اہم ہیں۔
جہاں تک بنگال میں اُردو زبان کی موجودہ صورتحال کا تعلق ہے، تو یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ جن علاقوں نے کبھی سیکڑوں اہل قلم کو جنم دیا تھا، ان میں سے کولکاتا اور مضافات کو چھوڑ کر پنڈوہ اور مرشد آباد میں اُردو زبان اب تقریباً دم توڑ چکی ہے۔ تاہم، ان پرانے مراکز کی جگہ اب دو نئے اہم لسانی خطے ابھر کر سامنے آئے ہیں؛ جن میں شمالی بنگال کا مشہور شہر اسلام پور و نواحِ اسلام پور اور پچھم بردوان کا صنعتی شہر آسنسول شامل ہیں۔ اب ان علاقوں میں اُردو بولنے، لکھنے اور سمجھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اس زبان کی بقا و ترقی کے لیے کوشاں ہے۔
کولکاتا اور اس کے مضافات میں اُردو زبان کی موجودہ صورتحال
کولکاتا اور اس کے مضافات میں اُردو زبان و ادب کی موجودہ صورتحال دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کافی بہتر اور مستحکم کہی جا سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ سرکاری اور تعلیمی سطح پر ایک فعال زبان کے طور پر موجود ہے۔کولکاتا میں اُردو زبان کی موجودہ صورتحال کے کلیدی پہلو ؤںمیں کثیر تعداد میں اُردو میڈیم اسکولوں،کالجوں اور مدارس کی موجودگی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
اسکول اور کالج: شہر میں درجنوں اردو میڈیم اسکول قائم ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا آزاد کالج، کلکتہ گرلز کالج، اور مٹیا برج کالج جیسے اداروں میں اردو کے شعبہ جات فعال ہیں۔
اعلیٰ تعلیم: عالیہ یونیورسٹی اور کلکتہ یونیورسٹی میں اردو کے پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پروگرامز جدید تقاضوں کے مطابق چل رہے ہیں۔ عالیہ یونیورسٹی میں خاص طور پر صحافت اور مواد نویسی (Content Writing) پر توجہ دی جا رہی ہے۔
صحافت اور ادب
کولکاتا اُردو صحافت کا ایک قدیم مرکز رہا ہے اور آج بھی یہاں سے کئی اہم اخبارات شائع ہو رہے ہیں:
اخبارات: 'اخبارِ مشرق'، 'آزاد ہند' اور 'سلامِ دنیا' جیسے روزنامے باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں۔
ادبی سرگرمیاں: شہر کے مختلف علاقوں جیسے مٹیا برج، راجہ بازار، اور پارک سرکس میں مشاعرے اور ادبی نشستیں تواتر سے ہوتی رہتی ہیں۔ جدید نسل میں بھی اُردو شاعری اور افسانہ نگاری کا شوق پایا جاتا ہے۔
. کولکاتا، آسنسول اور اسلام پور و نواح میں اُردو زبان کی ترویج و اشاعت میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کا کردار
حکومتِ مغربی بنگال کے تحت مغربی بنگال اُردو اکاڈمی زبان کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہی ہے:
مالی تعاون: اکاڈمی کے بجٹ کا تقریباً 40 فیصد حصہ طلبہ کے وظائف اور تعلیمی منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے۔
کتاب میلے اور سمینار: کولکاتا،آسنسول اور اسلام پور میں ہر سال ''کل ہند اردو کتاب میلہ'' منعقد ہوتا ہے، جو اردو قارئین اور ناشرین کے لیے ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ فروری 2025 میں بھی ایک بڑے عالمی کتاب میلے کا انعقاد کیا گیا ہے۔
شاخیں: کولکاتا کے علاوہ اسلام پور اور آسنسول میں بھی اکاڈمی کی شاخیں قائم کی گئی ہیں تاکہ مضافاتی علاقوں تک رسائی ممکن ہو۔
مشورہ: مغربی بنگال اردو اکاڈمی کو چاہئے کے وہ پیڑ کو پانی ضرور دیں لیکن ساتھ ساتھ نت نئے بیج کو بھی زمین میں بوئیں۔
اسلام پور سب ڈویژن میں اُردو زبان کی موجودہ صورتحال
اسلام پور سب ڈویژن بہار کی سرحد سے متصل ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی زبان اور ثقافت پر اردو اور ہندی کے گہرے اثرات ہیں۔ یہ علاقہ ''چکن نیک'' (Chicken's Neck) کہلانے والی پٹی کا حصہ ہے، جو اسے ایک تزویراتی (Strategic) اور تجارتی مرکز بناتا ہے۔ یہاں کی بڑی آبادی مادری زبان کے طور پر اُردو یا اُردو سے ملتی جلتی مقامی بولی سورجا پوری کا استعمال کرتی ہے۔اسلام پور سب ڈویژن کے پانچوں بلاکس (چوپڑا، اسلام پور، گوالپوکھر-1، گوالپوکھر-2، اور چکولیہ) میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ جبکہ اسلام پور ٹاؤن کے اندر تعلیمی اور تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے اردو ایک اہم رابطے کی زبان ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں کی مقامی آبادی کے لیے اُردو زبان محض ایک زبان نہیں بلکہ ان کی ثقافتی شناخت کا اٹوٹ حصہ ہے۔مغربی بنگال حکومت نے چند سال قبل اس علاقے میں اُردو زبان کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے رکھا ہے۔اسلام پور سب ڈویژن میں کثیر تعداد میں اُردو میڈیم پرائمری اور ہائی اسکولز موجود ہیں۔ اسلام پور کالج، چوپڑا کالج اور دیگر ڈگری کالجز میں بھی اردو بطور مضمون پڑھائی جاتی ہے۔ جبکہ اس سب ڈویژن میں سرکاری سطح پر اُردو میں درخواستیں قبول کرنے اور اہم اشتہارات اُردو میں شائع کرنے کی منظوری حکومت کی جانب سے دی گئی ہے۔ گرچہ اس پر عمل کی شروعات ابھی تک ممکن نہ ہوسکا ہے۔
شہر آسنسول و نواح آسنسول میں اُردو زبان کی موجودہ صورتحال
آسنسول میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ آسنسول (Asansol) مغربی بنگال کا دوسرا بڑا شہر اور ایک اہم صنعتی مرکز ہے۔ کلکتہ کے بعد اگر ریاست میں کہیں اُردو زبان اپنی پوری آب و تاب اور گھنی آبادی کے ساتھ موجود ہے، تو وہ آسنسول اور اس کے گرد و نواح (کُلٹی، برن پور، رانی گنج،انڈال) کا علاقہ ہے۔
آسنسول میونسپل کارپوریشن کے تحت آنے والے علاقوں میں اُردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ آسنسول شہر کے علاقے جیسے ریل پار، کچی باؤڑی، قاسم نگر، رحمت نگر، قمر پور،اسلام پور،نیگھا، چاندہ، سری پور،ڈیسر گڑھ،براکر،جموریہ، پانڈیشور اور نیامت پور وغیرہ اُردو زبان کے گڑھ مانے جاتے ہیں۔
آسنسول کو مغربی بنگال میں اردو تعلیم کا ''حب'' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔کالج اور یونیورسٹیاں: قاضی نذر ل یونیورسٹی (Kazi Nazrul University) میں اُردو کا ایک فعال شعبہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ بی بی کالج (BB College)، بی سی کالج(BC College) ، کلٹی کالج(Kulti College)، ٹی ڈی بیکالج(TDB College)اور گرلس کالج (GirlsCollege) میںاُردو زبان کی اعلیٰ تعلیم کے بہترین انتظامات ہیں۔ساتھ ہی آسنسول و گرد و نواح میں درجنوں سرکاری اور نیم سرکاری اردو میڈیم ہائی اسکولز موجود ہیں جن میں اہم عیدگاہ ہائی اسکول، رحمانیہ ہائی اسکول، حاجی قدم ہائی اسکول، دبانیہ ہائی اسکول، مسلم اکیڈمی اسکول، ملت اکیڈمی اسکول، دانش گا ہ اسکول کے علاوہ نواح آسنسول میں تیس 30 سے زائد اُردو میڈیم اسکول ہیں جو نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان گنت مدارس اُردو زبان کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔
شہر آسنسول کی مٹی نے بے شمار شعراء اور ادباء کو جنم دیا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کے یہاں آج بھی ان گنت شاعر و ادیب اپنی تخلیقات سے اُردو زبان و ادب کی خدمت کررہے ہیں۔یہاں شب و روز مشاعرے، ادبی نشستیں،کوئز اور سیمینار منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
مغربی بنگال میں اُردو کے فروغ میں حائل مسائل:
بہتر صورتحال کے باوجود کچھ مسائل بھی درپیش ہیں:
٭ روزگار کا مسئلہ: اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
٭ بنگالی اور اردو کا امتزاج: کولکاتا کے مضافات میں اردو بولنے والوں کی زبان پر مقامی بنگالی زبان کا اثر نمایاں ہے، جس سے ایک مخصوص ''کولکتوی اردو'' کا لہجہ پروان چڑھ رہا ہے۔
٭ سماجی سطح پر تبدیلی: نئی نسل میں انگریزی میڈیم اسکولوں کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے اردو کا استعمال گھروں تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔
٭ معیارِ تعلیم: اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور جدید نصابی کتب کی عدم دستیابی۔
٭ معاشی انحصار: زیادہ تر آبادی زراعت، ملازمت (چائے کے باغات اور کھیتی باڑی) سے وابستہ ہے، جس کی وجہ سے اعلیٰ اردو تعلیم اور ادب کی طرف رجحان کم ہو پاتا ہے۔
٭ لسانی اختلاط: مقامی بولیوں (سورجا پوری) کے غلبے کی وجہ سے خالص اردو (Standard Urdu) کا استعمال تحریر و تقریر میں کم ہوتا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال میں اردو زبان کے فروغ کے امکانات:
مسائل کے باوجود، بنگال میں اردو کا مستقبل تاریک نہیں ہے۔ یہاں امکانات کی کئی راہیں کھلی ہیں:
٭ عہد حاضر میں ہندوستان ومغربی بنگال میں اردو اینگلو اسکولوں کی ضرورت اور اہمیت :
اردو زبان اور اس کی تہذیب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طلباء کو مسابقتی عالمی ماحول کے لیے تیار کرنے کے لیے یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے کہ روایتی اردو میڈیم اسکولوں کو اردو اینگلو (دو لسانی) اسکولوں میں تبدیل کیا جائے اور کثیر تعداد میں ایسے نئے ادارے قائم کیے جائیں۔یہ تبدیلی نہ صرف زبان کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے بلکہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
اردو اینگلو اسکول: ایک جامع حل اردو اینگلو (Bilingual) اسکول وہ ادارے ہیں جہاں تعلیم کا ذریعہ کار (Medium of Instruction) دو زبانوں میں ہوتا ہے: اردو اور انگریزی۔خصوصیتاہمیت اور فائدہ دو لسانی نصاب اہم مضامین (ریاضی، سائنس) انگریزی میں پڑھائے جائیں جبکہ سماجی علوم، اسلامیات اور ادبی مضامین اردو میں۔ثقافتی جڑت طلباء اپنی مادری زبان (اردو) کے ذریعے اپنی ثقافت، ادب اور تاریخ سے جڑے رہتے ہیں۔عالمی تیاری انگریزی زبان میں مہارت حاصل کر کے طلباء قومی اور بین الاقوامی سطح کے امتحانات اور ملازمتوں کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بہتر سمجھ بوجھ بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ ابتدائی تصورات مادری زبان میں سمجھائے جائیں (اردو)، اور پھر آہستہ آہستہ انگریزی میں منتقلی کی جائے۔
اس ضرورت کو پورا کرنے کے فوائداردو اینگلو اسکولوں کی کثیر تعداد میں موجودگی اور روایتی اسکولوں کی تبدیلی سے درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے:
اردو کا تحفظ اور ترویج: جب اردو کو معاشی اعتبار سے فائدہ مند بنا دیا جائے گا (یعنی ذریعہ تعلیم جس سے اچھی ملازمت ملے)، تو والدین اسے اختیار کرنے سے ہچکچائیں گے نہیں۔ اس طرح اردو زبان جدید تقاضوں کے ساتھ زندہ رہے گی۔تعلیم کی شمولیت: یہ تبدیلی ان غریب اور متوسط طبقے کے طلباء کو بہترین مواقع فراہم کرے گی جو مہنگے پرائیویٹ انگریزی اسکولوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔
بہتر نتائج: دو زبانوں پر مضبوط گرفت طلباء کی ادراکی صلاحیت (Cognitive Abilities) کو بڑھاتی ہے اور ان کی تنقیدی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔
عملی اقدامات کی ضرورت اس تبدیلی کو مؤثر بنانے کے لیے حکومتوں، تعلیمی اداروں اور اردو دوست کمیونٹی کو درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
نصاب کی تشکیل نو: ایسے دو لسانی نصاب (Bilingual Curriculum) کی فوری تشکیل جو متوازن ہو اور دونوں زبانوں کے استعمال کو فروغ دے۔
اساتذہ کی تربیت: موجودہ اردو اساتذہ کو انگریزی میں مضامین پڑھانے کی جدید تربیت فراہم کرنا۔
وسائل کی فراہمی: اسکولوں میں انگریزی زبان کی تدریس کے لیے آڈیو ویژول وسائل، ڈیجیٹل کتب اور اچھی لائبریریاں قائم کرنا۔
نجی شعبے کی حوصلہ افزائی: نجی اداروں کو سستے اور معیاری اردو اینگلو اسکول کھولنے کے لیے مالی مراعات اور آسانیاں فراہم ک
٭ ثقافتی ہم آہنگی: بنگال کی عوام اردو شاعری اور غزل سے بے حد لگاؤ رکھتی ہے۔ اگر اردو ادب کو بنگالی زبان میں ترجمہ کیا جائے اور بنگالی شاہکاروں کو اردو میں لایا جائے، تو ایک وسیع تر قارئین کا طبقہ پیدا ہو سکتا ہے۔
٭ سرکاری سرپرستی: مغربی بنگال حکومت نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس کا صحیح فائدہ تب ہوگا جب سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر اردو کا استعمال عملی طور پر نظر آئے۔
٭ نئی نسل اور سوشل میڈیا: موجودہ دور میں اردو 'رسم الخط' (Script) کے حوالے سے تو مشکل میں ہے، لیکن 'تہذیب' اور 'بول چال' کے طور پر مقبول ہو رہی ہے۔ نوجوان شعراء سوشل میڈیا کے ذریعے اردو کو جدید رنگ میں پیش کر رہے ہیں۔
٭ تحقیق و تنقید: بنگال کی یونیورسٹیوں (جیسے کلکتہ یونیورسٹی، عالیہ یونیورسٹی، قاضی نذرل یونیورسٹی) میں اردو کے شعبے تحقیق کے نئے افق تلاش کر رہے ہیں۔ یہاں کے طلبہ اگر علاقائی مسائل کو اردو ادب کا موضوع بنائیں، تو یہ عالمی سطح پر بنگال کی اردو کو ایک نئی شناخت دے گا۔
المختصر بنگال میں اردو زبان و ادب کا فروغ محض جذباتی نعروں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں حکومت، ادبی ادارے اور عوام سب شامل ہوں۔ اردو اسکولوں کی حالت بہتر بنانا، اردو کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور اسے روزگار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بنگال کی مٹی میں وہ خوشبو آج بھی موجود ہے جو 'وحشت' اور 'پرویز شاہدی' کے کلام میں تھی۔ اگر آج کے دانشور اور نوجوان عزم کر لیں، تو وہ مسائل جو آج پہاڑ نظر آتے ہیں، کل امکانات کے نئے راستے بن کر ابھریں گے۔ اردو کو بطور ایک تہذیبی اور تعلیمی قوت باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے تقاضوں سے نہ کترائیں۔ اردو اینگلو اسکول دراصل اردو تہذیب اور عالمی تقاضوں کا بہترین امتزاج ہیں۔ ان اسکولوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارا آج کا طالب علم اپنی ثقافت سے جڑا رہے اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا اعتماد کے ساتھ کر سکے۔
حواشی
۱- بنگال میں اردو صفحہ نمبر۲۴۴ وفا راشدی مطبوعہ یونین پرنٹینگ پریس دہلی ۶ - ۱۹۵۴ء
۲۔ شمالی بنگال میں اردو، داکٹر محمد علیم الدین شاہ ، غیر مطبوعہ
Vol. 01 Issue 04 January 2026
Promotion of Urdu Language and Literature in Bengal: Challenges and Opportunities
✍️ Dr. Mohammad Alimuddin Shah
Head, Department of Urdu
Chopra Kamala Paul Smriti , Mahavidyalaya,Uttar Dinajpur,
West Bengal, INDIA
Email: alimuddin0311@gmail.com
Cont.: 8167588702
***

No comments:
Post a Comment