تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • اگست 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Thursday, June 25, 2026

گلستاں حیات: قرآنی تعلیمات کا آئینہ


محمد فہیم محی الدین  

(کالم نگار، صحافی) 

 تبصرہ بر کتاب:   گلدستہ  ٔ  حیات  (تالیف منتخب آیاتِ قرآنیہ)

(Guldasta  e  Hayat (The  Vase  of  the  Life

مرتب:   سید عبد الواجِد ہاشمی

ناشر:        شادان پبلیشنگ ہاؤس، گولکنڈہ فورٹ، حیدرآباد

صفحات:      148 

قیمت:    100 روپے

بہ زبان:  اردو   و   انگریزی 

ISBN  :   978-81-981132-21

قرآنِ کریم وہ آسمانی کتاب ہے جس نے انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم، اخلاق، عدل اور ہدایت کی روشنی بخشی۔ ہر دور میں اہلِ علم نے قرآن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے۔ کسی نے تفسیر لکھی، کسی نے ترجمہ، کسی نے قصص القرآن کے ذریعے، تو کسی نے اخلاقی و اصلاحی پہلوؤں کو نمایاں کر کے قرآن کی تعلیمات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔

اسی قافلہ مخلصین میں سید عبد الواجِد ہاشمی صاحب کا نام بڑی عزت و توقیر کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ ان کی تصنیف ’’گلستۂ حیات‘‘ (The Vase of Life) دراصل قرآن فہمی کی ایک تازہ، منفرد اور فکر انگیز کوشش ہے۔ یہ کتاب قاری کو صرف آیاتِ قرآنی کا ترجمہ نہیں دیتی بلکہ قرآن کے روحانی و اخلاقی پیغام سے روشناس کراتی ہے۔

 موجودہ دور میں قرآن کو سمجھنے کی ضرورت:

آج کا انسان علم و ٹیکنالوجی کے باوجود فکری انتشار، اخلاقی زوال اور روحانی بے سمتی کا شکار ہے۔ قرآن وہ واحد سرچشمہ ہے جو انسان کو مقصدِ حیات، امن، انصاف، اور اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے۔

قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یعنی ‘‘یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور و فکر کریں۔’’

ہاشمی صاحب کی یہ کتاب اسی مقصد کو زندہ کرتی ہے—کہ قرآن کا فہم عام ہو، ہر طبقہ خصوصاً نئی نسل قرآن سے وابستہ ہو اور اسے اپنی زندگی کا رہنما بنائے۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ ’’گلستۂ حیات‘‘ خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک تربیتی آئینہ ہے۔ آج کا نوجوان جدیدیت کے ہنگاموں میں الجھا ہوا ہے، اس کے لیے قرآن کی طرف رجوع ازحد ضروری ہے۔

کتاب میں جن آیات کا انتخاب کیا گیا ہے، ان میں صبر، صدق، عدل، تقویٰ، امانت، شکر، حیا اور خدمتِ خلق جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔

یہ وہ اخلاقی ستون ہیں جن پر ایک صالح معاشرہ قائم ہوتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:

‘‘اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔’’

ہاشمی صاحب کی کوشش یہی ہے کہ نوجوان صرف قرآن کی تلاوت نہ کریں بلکہ اس کی روح کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اپنے کردار میں اس کی جھلک دکھائیں۔

آج کے تعلیمی اداروں، گھروں اور سوشل میڈیا کے ماحول میں جہاں لغویات عام ہو چکی ہیں، وہاں ایسی کتابیں ایک اخلاقی مشعلِ راہ بن سکتی ہیں۔

مصنف نے قرآن کی وہ آیات چنیں جو نوجوانوں کے کردار سازی میں رہنما ثابت ہو سکتی ہیں، مثلاً صبر، سچائی، احترامِ والدین، عدل، اور تقویٰ کی تعلیمات۔

یہ وہ اخلاقی اقدار ہیں جن کے بغیر کوئی معاشرہ پائیدار نہیں رہ سکتا۔

قرآن کہتا ہے:

‘‘بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔’’

نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی چمک دمک سے نکل کر قرآن کے حقیقی نور سے منور ہو۔ اس کتاب کے تراجم اور اقتباسات انہیں قرآن سے قریب کرتے ہیں اور عملی زندگی میں سچائی، بردباری، اور خدمتِ خلق کی راہ دکھاتے ہیں۔

کتاب کا انداز نہایت سادہ، بامعنی اور قاری کے دل پر اثر انداز ہونے والا ہے۔ عربی متن کے ساتھ انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے، جو بین الاقوامی قاری کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔مصنف نے پیغامِ قرآن کو مکتبی یا تفسیری انداز کے بجائے دعوتی اور اصلاحی انداز میں پیش کیا ہے، جس سے ہر قاری—خواہ وہ عالم ہو یا عام قاری—قرآن کے قریب آتا ہے۔

کتاب کے پیش لفظ میں پروفیسر محمد محمود صدیقی (سینئر پروفیسر آف ایجوکیشن، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) نے نہایت عالمانہ اور بصیرت افروز رائے دی ہے۔انہوں نے ہاشمی صاحب کی اس کوشش کو "عصرِ حاضر میں قرآن فہمی کی ایک مخلص اور فکر انگیز خدمت" قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:

"جناب ہاشمی صاحب نے قرآن کے پیغام کو نہ تفسیری پیچیدگی میں الجھایا ہے نہ فلسفیانہ موشگافیوں میں، بلکہ سادہ، رواں اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے تاکہ قاری اپنے ظرف کے مطابق فیضیاب ہو سکے۔ یہ کتاب ایمان، اخلاق اور کردار کی اصلاح کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔"

پروفیسر صاحب کے نزدیک گلدستۂ حیات نئی نسل کے لیے روشنی کا مینار ہے جو مادیت کے طوفان میں راہ گم کر چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان طبقہ قرآن کی تعلیمات کو اس کتاب کے توسط سے سمجھے تو معاشرے میں ایک فکری و اخلاقی انقلاب ممکن ہے۔

سید عبد الواجِد ہاشمی صاحب نے عرضِ مؤلف میں نہایت خلوص سے اس تصنیف کے مقاصد واضح کیے ہیں۔ان کے بقول، دینِ اسلام سے دوری دراصل قرآنی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔قرآن کو محض تلاوت کی کتاب سمجھنے والوں کے لیے یہ ایک دعوتِ تدبر ہے تاکہ وہ اس کے پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں۔مصنف کے نزدیک یہ کتاب نہ صرف اہلِ ایمان بلکہ غیر مسلم طبقات کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

چونکہ انگریزی زبان عالمی رابطے کا وسیلہ بن چکی ہے، لہٰذا کتاب کے انگریزی ترجمے کا مقصد قرآن کے پیغامِ آفاقی کو غیر مسلم برادرانِ وطن تک پہنچانا ہے تاکہ وہ اسلام کو تحقیق و فہم کے ذریعے سمجھ سکیں۔

ہاشمی صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’یہ کتاب قرآن فہمی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو مسلمانوں میں ایمانی بصیرت پیدا کرے گا اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی اصل روح کو پیش کرے گا۔ اگر یہ کتاب کسی ایک دل کو بھی قرآن کی طرف مائل کرے، تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘‘

قرآن مجید کو عربی شکل میں پیش کرنا شرعی نقطہ نظر سے مختلف نوعیت کا ہوتا ہے اس لیے اسے ترجمہ کی شکل میں پیش کرنے سے باوضو ہونے کی شرط اور پاکی کی شرط بھی نہیں ہوتی ہے۔ لہذا نوجوان لڑکے لڑکیاں اور غیر مسلم حضرات بھی اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ 

کتاب کے اغراض و مقاصد

R مسلم معاشرہ ؍ مسلم سماج  میں خاص طور پر نوجوانوں کو بنیادی عقائد سے روشناس کرواتے ہوئے ان میں دین کا شعور پیدا کرنا 

R مسلمانوں میں عقیدے کی درستگی ، ان میں اوہام پرستی کی خباثتوں کو دور کرنا، اس ذریعے سے ان میں رہن سہن اور زندگی گزارنے کے سادہ ترین طریقوں پر عمل آوری کی طرف  مائل کرنا ۔   

R قرآن کے کامل دستورِ حیات ہونے کا یقین پیدا کرنا اور ایمانیات و توحید کے قرآنی دلائل کے ذریعے حیاتِ ابدی کے تصور کو مستحکم کرنا

R پیغمبروں کے حالات ، بشارتوں اور تنبیہات کے ذریعے جواب دہی کا یقین پیدا کرنا 

R کتاب کے مطالعے کے بعد تلاوتِ قرآن کو معمول بنانے کا  داعیہ پیدا کرتے ہوئے کلام اللہ کی طرف مائل کرنا 

R داعی ِ دین  کے اوصاف پیدا کرتے ہوئے مکارم ِ اخلاق سے غیروں کو اسلام کی دعوت اس کتابچے کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ 

R غیر مسلم بھائیوں تک اسلام کا پیامِ ابدی پہنچانا، توحید کے دلائل اور بشارت پیش کرتے ہوئے قبول کرنے کی صورت میں خالق کائنات کی جانب سے دی گئی خوش خبری اور نہ قبول کرنے کی صورت میں خبردار ؍ تنبیہ سے آگاہ کرتے ہوئے  انھیں یہ موقع فراہم کرنا کہ کتاب کے مطالعے سے قرآن کے آفاقی پیام کو سمجھیں۔ 

R غیر مسلم برادرانِ وطن اپنے سماج اور اسلامی سماج ؍ معاشرے کا تقابل کریں اور کفر  و  شرک کی آلائشوں کے مد ِ مقابل اسلام کے صالح معاشرتی نظام کے فوائد دیکھیں اور تحقیقی طور پر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔ 

’’گلستۂ حیات‘‘ محض ایک ترجمہ نہیں بلکہ قرآن کے عملی پیغام کی یاد دہانی ہے۔یہ کتاب معاشرے کے ہر طبقے، خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے، جو انہیں بتاتی ہے کہ ترقی یافتہ دور میں بھی قرآن کی تعلیمات ہی انسانیت کے لیے نجات کا راستہ ہیں۔

ملنے کے پتے :  

۱۔ :   مو لف  ،   مکان نمبر   9-10-21/A/15   

: فرن کاٹیج، گولکنڈہ ، حیدرآباد۔  500008  ،    فون:  9177596041

۲۔ : ہدیٰ بک ڈسٹری بیوٹرس، پرانی حویلی ، حیدرآباد۔   500002

***
جلد (1)    شمارہ (2)   نومبر 2025

Mohammed Faheem Mohiuddin

Journalist - Writer - Critic

Narsingi, Rangareddy, Telangana, India

+91 72073 44298

***


No comments:

Post a Comment

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM) ISSN: 3139-1028 Peer-Reviewed | International Research & R...