Breaking News

New Issue Published • August 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • اگست 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Tuesday, June 9, 2026

ادبی تحقیق کے بدلتے رجحانات


نورمحمد پیرمحمد، (ریسرچ اسکالر)
  ادبی تحقیق کا مرکزی ہدف یہ ہے کہ زبان و ادب سے جڑے کسی سوال یا کسی پیچیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنے اور اصل سچائیوں کو دوبارہ منظر عام پر لانے کے لیے ایک منظم طریقہ کار کی پیروی کی جائے۔ یہ علم دراصل کسی بھی الجھن کو سلجھانے کی غرض سے اپنایا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کا مقصد کسی موجودہ نظریے، عام طور پر مانی جانے والی روایت، یا مقبول تصور کی بنیاد کو جاننا اور اس کی حقیقت سے آگاہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ تحقیق کا مفہوم ہی تسلیم شدہ حقائق اور اصولوں کو نئے سرے سے تقویت دینا اور انہیں ایک نئے انداز میں پیش کرنا ہے۔ لفظ تحقیق کے لغوی معنی سچائی کی کھوج یا تلاش کے ہیں، اور ادبی تحقیق کا مقصد بھی اسی سچائی کو دوبارہ دریافت کرنا ہے، جہاں پوری ایمانداری کے ساتھ حقائق کی تصدیق کی جائے اور اس عمل سے جو نتیجہ برآمد ہو، وہی اصل علمی تحقیق ہے۔یہ ساری کائنات اور اس کی ہر چھوٹی بڑی چیز انسان سے علمی جستجو (تحقیق) کا مطالبہ کرتی ہے۔ تحقیقی جذبہ ایک ایسی مقدس قوت ہے جو انسان کو محض معلومات فراہم نہیں کرتی، بلکہ اسے عقل و فہم، گہری بصیرت، اور بہترین تہذیب و شائستگی سے بھی روشناس کراتی ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ دنیا کی تمام بڑی اور حیران کن ایجادات دراصل اسی تحقیقی لگن کا نتیجہ ہیں۔ قدرتی مظاہر میں چھپی ہوئی تمام پوشیدہ طاقتوں کو جاننے، ان سے فائدہ اٹھانے اور ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش کا فطری رجحان انسان کی سرشت میں بنیادی طور پر شامل ہے۔ یہی جبلی طاقت ہے جس نے ہر دور میں انسان کو اپنے تہذیبی، تمدنی اور سائنسی سفر کو جاری رکھنے پر مجبور کیا ہے۔جہاں تک اردو ادبی تحقیق کی تاریخ کا معاملہ ہے، یہ تقریباً دو سو سال پر محیط ہے۔ اس کے باوجود، اسے جن ممتاز محققین نے سخت محنت، گہری لگن اور ایماندارانہ خلوص کے ساتھ مضبوط بنیادوں پر قائم کیا اور "حق تو یہ ہے کہ حق ادا کر دیا" کے قول کو سچ کر دکھایا، ان میں سر سید احمد خان، شبلی نعمانی، الطاف حسین حالی، محمود شیرانی، سید سلیمان ندوی، اور مولوی عبد الحق جیسے نام شامل ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد آنے والوں میں مسعود حسن خان رضوی ادیب، مولانا امتیاز علی خاں عرشی، قاضی عبدالودود، گیان چند جین، پروفیسر گوپی چند نارنگ، رشید حسن خاں، مالک رام، اسلم فرخی، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار، ڈاکٹر عندلیب شادانی، ڈاکٹر جمیل جالبی، مشفق راجہ، محمود الہی، نور الحسن ہاشمی، سیدہ جعفر اور وحید قریشی اردو تحقیق کے ایسے قابل اعتماد نام ہیں جنہوں نے اصول و طریقۂ کار وضع کر کے اسے باقاعدہ ایک سائنسی علم کی شکل دی ہے۔

ان عظیم محققین کے بعد بھی، کئی دیگر شخصیات نے اردو تحقیق کے شعبے میں شہرت اور مقام حاصل کیا۔ ان میں نور الحسن نقوی، نذیر احمد، قمر رئیس، خلیق انجم، عبدالستار دلوی، کالی داس گپتا رضا، تنویر احمد علوی، منظر اعظمی، حامدی کشمیری، برج پریمی، اکبر حیدری، محمد یوسف ٹینگ، اور عبدالغنی شیخ لداخی جیسے نام خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، جنہوں نے اردو تحقیق کو نئے زاویے دیے اور اس کی اعتباریت و عزت میں اضافہ کیا۔تحقیق ایک انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ادبی تحقیق کے دائرے میں، موضوع کے چناؤ سے لے کر مواد جمع کرنے، حوالوں کی صداقت پرکھنے، اور دقیق چھان بین کے بعد درست معلومات اخذ کرنے کے بعد مقالہ مکمل کرنے تک کے مراحل انتہائی مشکل ہوتے ہیں۔ ان پیچیدہ مراحل کو تحقیق کے مقررہ اصولوں کی پابندی کیے بغیر کامیابی سے طے کرنا ناممکن ہے۔ تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ تحقیقی کام بلا شبہ ایک سخت، حوصلہ طلب اور مشقت بھرا فریضہ ہے۔

اس حوالے سے نارائن دت کہتے ہیں:

 ’’درحقیقت ادبی و تحقیقی مقالہ لکھنا جانفشانی کا کام ہے ۔ سب سے پہلے موضوع کے مطابق مقالے کا خاکہ تیار کرنا ہوتا ہے اور پھر اس خاکے کے مطابق مواد اکٹھا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے بعد گہرے مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے پھر کہیں جاکے مقالے کو ترتیب دیا جاسکتا ہے ۔ یہ کام کافی محنت و لگن مانگتا ہے اس کام کو صرف اُردو زبان و ادب سے عشق کی حد تک محبت کرنے والے فنکار ہی انجام دے سکتے ہیں ‘‘ ۔  ۱؎

اردو تحقیق کی روایت انتہائی مالا مال اور مضبوط ہے۔ ہمارے قدیم شعراء نے نہ صرف اردو شاعری کی پائیدار بنیادیں رکھیں بلکہ ایک طرح سے علمی، لسانی (Linguistic) اور تحقیقی گہرائی کا بھی مظاہرہ کیا۔ اردو کے تحقیقی سفر میں خان آرزو کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب "دریائے لطافت" میں اردو زبان، اس کے قواعد، محاوروں اور روزمرہ کے استعمال پر مستند اور تحقیقی دلائل کی روشنی میں بحث کی۔ علمی اور فنی باریکیوں کو سمجھنے کے میدان میں شیفتہؔ، غالبؔ اور امام بخش صہبائی کی تحقیقی بصیرت بھی قابلِ اعتراف ہے۔ سرسید احمد خان کے علمی و تحقیقی شعور کی نشوونما میں ان بزرگوں کے کام سے حاصل ہونے والے فیض کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی رہنمائی کے نتیجے میں، انہوں نے "آئین اکبری" اور "تاریخ فیروز شاہی" جیسے متون کی تصحیح میں زبان اور املا کی درستی کو یقینی بنایا اور الفاظ کے ظاہری اور معنوی تعلقات کو مقابلے اور تجزیے کی بنیاد پر واضح کر کے معیاری متن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اسی طرح، "آثار الصنادید" کی ترتیب، جسے نتائج اخذ کرنے کی پہلی باقاعدہ کوشش مانا جاتا ہے، سرسید کی تحقیقی و علمی فہم کی ایک واضح مثال ہے۔ حالی، شبلی اور مولوی ذکاء اللہ کے کام میں بھی استقرائی تحقیق (Inductive Research) کے کچھ پہلو ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔تحقیق کی روایت کی جڑیں تلاش کرنے میں تذکروں کو بہت اہمیت دی گئی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تذکروں میں جو متضاد اور مختلف بیانات ملتے ہیں، اور جس طرح تذکرہ نگاروں نے بغیر کسی شک و شبہ کے ان بیانات کو جوں کا توں قبول کر لیا، اس کی وجہ سے تحقیقی نقطۂ نظر سے انہیں قابلِ اعتبار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان کی ترقی اور علمی معیار کا انحصار اس میں ہونے والی تحقیقات کی مضبوطی اور نتائج کے قابلِ بھروسہ ہونے پر ہوتا ہے۔ قدیم اور جدید متن (Text) کی قدر اس کے اصل اور معیاری ہونے میں پنہاں ہے۔ چاہے وہ کلاسیکی شاعری یا نثر ہو، جب تک کوئی بھی متن مصنف کی اصل منشا کے مطابق نہیں ہوتا، اسے صحیح اور مستند تسلیم کرنا علمی اور ادبی امانت کے خلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تصانیف اور متون پر مصنف کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، بلکہ یہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے علاوہ پورے ملک و قوم کا ورثہ ہوتے ہیں۔

دنیا کی کوئی بھی تحریر یہ یقینی دعویٰ نہیں کر سکتی کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تبدیلیاں اور ہیر پھیر واقع نہیں ہوا۔ البتہ، کسی بھی متن کو اس کی اصل شکل میں واپس لانے میں، اس زبان کے ماہرینِ تحقیق اور لسانیات کا کردار انتہائی اہم اور مرکزی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اور سائنسی علوم میں محققین کو ہمیشہ سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ادب و شاعری کے حوالے سے بھی اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ متون کی درستی، کھوئے ہوئے ادبی خزانوں کی دوبارہ دریافت، اور مختلف متون کو غلطیوں سے پاک کرنے جیسی سنگین ذمہ داریاں بنیادی طور پر محققین کی کاوشوں کی مرہونِ منت ہیں۔یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق کے شعبے پر کبھی بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، اور آج تک کوئی ایسا مربوط تحقیقی ادارہ عملی طور پر قائم نہیں ہو سکا جہاں جدید تربیت کا نظام ہو اور جو عصری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق اور تدوین کا کام سرانجام دیتا ہو۔ اگرچہ ماضی قریب میں کچھ اداروں کی خدمات کو سراہا جانا چاہیے، لیکن وہ بھی اجتماعی تحقیقی جذبہ (Collective Research Spirit) پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان میں سے بھی چند کا مقصد محض مالی فائدہ اٹھانا رہا ہے۔ حالانکہ تحقیق ایک نہایت دشوار مگر باقاعدہ فن ہے، جس کے اپنے خصوصی تقاضے، اصول اور طریقۂ کار ہوتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد سچائی اور حق کی ترویج اور موجودہ علم میں اضافہ کرنا ہے۔ تحقیق کو ادب کے بنیادی مقاصد، جیسے حق گوئی، درست اظہار، حقیقت کی جستجو، تنقیدی بصیرت، اور گہرے ادبی ذوق کی تکمیل کا آلہ کار سمجھنا چاہیے۔ مختصراً، تحقیق، سائنس، طب، سماجی علوم اور دنیا کی تمام زبانوں میں ہونے والی حیران کن ترقیوں کا اصل ماخذ ہے۔ نتیجتاً، آج مختلف علوم و فنون میں ترقی یافتہ قوموں اور ممالک کی پہچان ان کی تحقیقی خدمات کے معیار سے کی جاتی ہے۔ بقول رشید حسن خاں:

’’یہ موجودہ حالات کا اثر ہے کہ اردو میں ادبی تحقیق کی بیشتر سرگرمیوں کے لیے اب یونی ورسٹیوںکی فضائیں سازگار نظر آتی ہیں۔اگر یہ کہاجائے کہ ہماری یونی ورسٹیاں تحقیقی مقالوں کے کارخانوںکی حیثیت اختیارکرچکی ہیں، تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔ طلبہ کے علاوہ، دانش گاہوں کے اساتذہ بھی حسبِ توفیق، شمار میں اضافے کرتے رہتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اس کثرت اور تیز رفتاری نے پستیٔ معیار کو عام کردیاہے۔‘‘  ۲؎

حقیقت یہی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ہونے والی ہر ترقی اور انسان کو حاصل ہونے والی تمام سہولیات اور آسانیاں دراصل تحقیق کی مرہونِ منت ہیں۔ موجودہ دور میں، ہماری تمام توجہ اور ترجیحات کا محور سائنس اور ٹیکنالوجی ہیں۔ اس کا اثر زبان و ادب پر بھی پڑا ہے، جس سے زبانوں کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ آج کل تو لسانیات کے شعبے میں بھی سائنسی بنیادوں پر تجربہ گاہیں قائم ہو رہی ہیں، اور مختلف علوم کا آپس میں تقابلی اور تجزیاتی مطالعہ (Interdisciplinary Comparative Study) خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس بدلتے رجحان کے نتیجے میں تحقیق کا دائرہ بھی کافی وسیع ہوا ہے۔جہاں تک اردو تحقیق کے بنیادی اصولوں اور طریقۂ کار کا تعلق ہے، یہاں زیادہ اثر ان محققین کا رہا ہے جن کی ذہنی تربیت عربی اور فارسی زبانوں کے تحت ہوئی۔ اسی لیے انہوں نے اپنے تحقیقی نقطۂ نظر میں مشرقی اصولوں اور طریقوں کو زیادہ ترجیح دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی انہی اکابرین کے وضع کردہ اصولوں اور تصورِ تحقیق کو قابلِ احترام سمجھا جاتا ہے۔ ان بڑے ادیبوں کی عظمت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ اردو کے وہ نقاد اور محققین جن کی فکری پرداخت میں مغربی ادب اور اس کے اصول و نظریات کا کردار شامل رہا ہے، ان کے کام میں تحقیق کا ایک نیا اور روشن پہلو نمایاں ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اردو میں بڑے پیمانے پر تحقیق کا کام مغربی، یا زیادہ درست کہیں تو انگریزی تعلیم کا ثمر ہے۔ جن ادیبوں نے انگریزی علوم اور جرح و تعدیل (Criticism and Authentication) کے طریقوں میں مہارت حاصل کی، انہوں نے اپنی عملی تحقیق میں انہی اصولوں کو اپنایا۔ اس نئی روایت کے بنیادی معماروں میں حافظ محمود شیرانی، محمد شفیع اور قاضی عبدالودود جیسے ممتاز محققین شامل ہیں۔

ان محققین کے کام میں سماجی اور تہذیبی تبدیلیوں، رجحانات اور رجحانات کا ایک واضح ادراک ملتا ہے۔ ان قلمکاروں کے ہاں بدلتے ہوئے معاشرے کی ضروریات، موجودہ زمانے کے تقاضے اور بین الاقوامی سطح پر مروج اصولوں کی پاسداری صاف نظر آتی ہے۔ نئی فکری اقدار کی روشنی میں ادبی، تنقیدی اور تحقیقی معیارات کے تعین کے لیے ان کا سائنسی اور منطقی اندازِ فکر (Scientific Approach) نسبتاً زیادہ گہرا تھا۔اس بات کا دہرانا بھی اہم ہے کہ آزادی کے بعد جب جامعات کی سطح پر اردو کے شعبوں میں تحقیق و تدوین کی بنیاد رکھی گئی، تو ان کی نگرانی کی ذمہ داری ایسے باشعور ادیبوں اور اساتذہ کو دی گئی جنہوں نے اپنے تحقیقی طریقوں میں ایک طرف تو تحقیق کی اعلیٰ اور قدیم روایات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، اور دوسری طرف جدید نظریات اور عصری مطالبات کو بھی خوش آمدید کہا۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقی توجہ محض شاعروں اور ادیبوں کی شخصیات اور تصانیف کو دوبارہ دریافت کرنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ لسانی سطح پر تحقیق و تدریس نے علم لسانیات (Linguistics) کی اہمیت کو اجاگر کیا۔آزادی کے بعد لسانیات کو ایک مستقل فن کا درجہ حاصل ہوا۔ جدید سائنسی آلات کے ذریعے زبان کی قدامت کا اندازہ لگانے کے طریقے سامنے آئے۔ تحقیق میں نئی معلومات کو شامل کرنے یا مختلف ترجمانیوں کو اہمیت دی گئی۔ معروضی اندازِ فکر (Objective Mindset) کو اپنایا گیا اور متنازعہ مسائل میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنے کا طریقہ رائج ہوا۔مزید برآں، ادب میں تحقیق کے اس فروغ سے احتیاط پسندی کی عادت کو تقویت ملی اور علمی احتساب کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حقائق کی تفہیم اور تجزیہ کرتے وقت ادبی فن پارے کے جمالیاتی حسن کو برقرار رکھنے کی طرف بھی توجہ دی گئی۔اس ضمن میں، عبدالقادر سروری، اختر اورینوی، خواجہ احمد فاروقی، نور الحسن ہاشمی، نجیب اشرف ندوی، سید اعجاز حسین، مسعود حسن رضوی، مسعود حسین خان، نذیر احمد، گیان چند جین، تنویر علوی، نثار احمد فاروقی، عبدالستار دلوی، سیدہ جعفر، ڈاکٹر خلیق انجم اور حنیف نقوی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے بعض محققین کے کام میں مشرقی تحقیقی روایت کی پیروی کے ساتھ ساتھ تحقیق کے جدید اور عصری تقاضے بھی واضح طور پر موجود ہیں۔

اسی عہد میں، کچھ سخت اور غیر لچکدار مزاج کے حامل محققین اردو شعر و ادب کے افق پر ابھرے، جن میں قاضی عبدالودود، مالک رام، گیان چند جین، ڈاکٹر سیّد عبداللہ، جمیل جالبی، وہاب اشرفی، اور رشید حسن خاں کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور دیگر ممالک کی جامعات کے محقق اساتذہ بھی شامل تھے۔ ان سب نے اردو ادبی تحقیق کو معروضی (Objective) بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان میں قاضی عبدالودود کو نمایاں رہنما قرار دیا جا سکتا ہے، حالانکہ انہوں نے انگلینڈ سے معاشیات (Economics) میں گریجویشن کی تھی۔ اس کے باوجود، انہوں نے اردو شعر و ادب، بالخصوص تحقیق و تنقید کو اپنے فکری دائرے کا مرکز بنایا۔ چونکہ معاشیات میں ڈیٹا شیٹس (گوشوارہ) تیار کر کے ان کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور روایات یا سنی سنائی باتوں کے بجائے حتمی سچائی پر زور دیا جاتا ہے، اس لیے ان کا معاشیاتی طریقۂ کار یعنی دو ٹوک اور واضح نتائج پیش کرنے کا انداز قاضی عبدالودود کی تحقیق میں خاص طور پر نمایاں ہوا۔ یہ طرزِ عمل اردو ادب کی تحقیق کو ایک بالکل نیا زاویہ عطا کرتا ہے۔ اسی لیے:

’’رشید حسن خاں صاحب سب سے زیادہ قاضی عبد الودود مرحوم سے متاثر ہیں اور اس کا برابر اعتراف بھی کرتے رہتے ہیں۔ قاضی صاحب نے اس میدان میں جو طریقۂ تحقیق اختیار کیا تھا رشید صاحب اپنے آپ کو بڑی حد تک اس کا پابند بنائے ہوئے تھے۔‘‘  ۳؎

حالانکہ بدلتے ہوئے وقت اور حالات کے زیرِ اثر رشید حسن خاں نے قاضی عبد الودود کے نظریۂ تحقیق سے بعض امور میں اختلاف بھی کیاہے۔

خلاصہ یہ کہ شعور ایک پیدائشی عمل ہے، اور اس عمل کے آغاز کے ساتھ ہی انسان میں تجسس (Jigyasa) اور تحقیق کا شوق بیدار ہو جاتا ہے۔ تجسس جو زندگی کو جاننے اور سمجھنے کی چابی ہے، اور تحقیق جو سمجھی ہوئی حقیقت کے معیار اور اس کی گہرائی کا تعین کرتی ہے، یہ دونوں ہی انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں جیسے سماجی، تہذیبی، لسانی اور معاشرتی ساخت کو تشکیل دینے میں مددگار ہیں۔جس طرح جمود زندگی کے ارتقاء میں رکاوٹ بنتا ہے، بالکل اسی طرح تجسس اور تحقیق کے بغیر ادب کی تعمیر، تشکیل اور ترقی بھی ناممکن ہے۔ اسی تناظر میں، جب ہم اردو ادب کا بغور جائزہ لیتے ہیں، تو یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ آج اردو میں تحقیق کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ اندیشہ ہے کہ آنے والی صدی میں یہ محض تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ جائے گا۔یہاں جس تحقیق اور تجزیے کی بات ہو رہی ہے، وہ کسی سائنس، فلسفہ یا کسی دوسرے علم کے متعلق نہیں، بلکہ اردو زبان و ادب میں پیش کیے جانے والے موجودہ تحقیقی کام کے بارے میں ہے، جسے پڑھ کر اکثر وقت ضائع ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی طرح کی غیر معیاری چیزیں بار بار دیکھنے میں آ رہی ہیں اور ادبی فن پارے ان کے تکرار سے بھرے ہوئے ہیں۔ اگر مستقبل میں بھی اردو زبان و ادب کا یہی حال رہا تو ان محققین کے بارے میں کیا کہا جائے، جن کے تخلیقی سرچشمے گزشتہ کئی دہائیوں سے سوکھتے جا رہے ہیں۔ وہ کسی نئی چیز کو پیش کرنے کے بجائے پرانے اور فرسودہ طریقوں پر کاربند ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تحقیق کے حوالے سے اب تک درجنوں کتابیں منظر عام پر آئی ہیں، لیکن کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ان میں علمی طور پر نیا کیا ہے۔ شخصی مضامین کی زیادتی، تعریف و توصیف (مدح خوانی) اور محض نقل نویسی سے قارئین کا مطالعہ بے ذائقہ ہو رہا ہے۔ اردو کے یہ نامور مصنف اور مؤلف خود کو بھلے ہی ماہر غالبیات، ماہر اقبالیات یا میریات کہتے ہوں، لیکن جب ان کی تصانیف پر نظر ڈالی جاتی ہے، تو وہ چند دوسری کتابوں کے حوالہ جات اور کچھ گزرے ہوئے لوگوں کے اقوال پر مبنی ایک کثیر صفحات پر پھیلا ہوا مضمون یا ایک بے معنی اور سطحی مقولہ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں۔

٭٭٭

۱۔ محکمہ السنہ پنجاب سے لکھوائے گئے تحقیق مقالات بشمول ’’پروازادب‘‘ بھاشا و بھاگ پٹیالہ پنجاب ۔ شمارہ نومبر۔دسمبر ۱۹۹۹ء؁ ، ص : ۴۱ 

۲۔ ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ: رشید حسن خاں۔ص ۳۳۔۳۴، اکادمی ایڈیشن

۳۔ ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ: رشید حسن خاں، ص ۵

۴۔ ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ: رشید حسن خاں، ص ۵

۵۔ اُردو دنیا ،جنوری ۱۷،ص:۱۵

***

Noor Mohammed Peer Mohammed

Research Scholar,Research Guide: Dr. Ghaus Ahmed Shaikh, S.S.A. Arts and Commerce College,Solapur, Maharashtra, India.

***

Changing Trends in Literary Research
جلد(1)    شمارہ (1)    اکتوبر 

No comments:

Post a Comment

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM) ISSN: 3139-1028 Peer-Reviewed | International Research & R...