Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Friday, June 5, 2026

حرف کی حرمت کا پاسبان :مشفق خواجہ



 سبزارسکندر(ریسرچ اسکالر)

مشفق خواجہ اردو ادب کے ایک ممتازمحقق، نقاد،مدیر ،نادرالاسلوب اور کالم نویس کی حیثیت سے پاک و ہندمیں ایک بلند مقام رکھتے ہیں ۔ ان کا اصل نام خواجہ عبدالحئی تھا ۔ ۱۹۳۵ ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور ۲۰۰۵ ء میںان کا انتقال ہوا ۔ بچپن میں مشفق خواجہ کو جو ماحول میسر آیا اس میں شعر وادب سے لگا ؤ پیدا ہونا فطری امر تھا۔ جس گھر میں انہوں نے آنکھیں کھولیں اس میں چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں ۔اسی لئے زبان و ادب کے مسائل اور ادبی تاریخوں سے گہری دلچسپی پیدا ہو گئی ۔ زمانہ طالب علمی سے ہی نہ صرف سخن فہم ہو گئے بلکہ شعر گوئی سے بھی دلچسپی پیدا ہو گئی ۔کم عمری میں مطالعہ کتب کا ایسا شوق بہت ہی کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت میں بچپن سے ہی ادبی ذوق اس طرح سرائیت کر چکا تھا کہ انہیں زندگی کے دیگر معاملات میں کوئی دلچسپی ہی نہ رہی ۔ تحقیقی موضوعات سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ کم عمری میں ہی انہوں نے تحقیق کی بڑی بڑی اور معتبر کتب کا مطالعہ کیا ۔ 
مشفق خواجہ اردو ادب کی ایک جامع الحیثیات شخصیت تھے ۔وہ نقاد تھے ، شاعر، کالم نویس اور طنز و مزاح نگار بھی تھے ۔ادب کے اعلیٰ اصناف شناس ہونے کے علاوہ ملک کے متعدد ادبی اداروں کے مشیر اور ادبیوں کے تحقیقی و تنقیدی کام میں ان کے معاون تھے لیکن ان کا فطری رجحان تحقیق کی طرف تھا ۔زمانہ طالب علمی میں ہی انہوںنے ’’انجمن ترقی اردو‘‘ کراچی کے کتب خانے سے استفادہ شروع کر دیا تھا اور اسی زمانے میںمولوی عبدالحق سے ان کی شناسائی ہوئی۔ کتابوں سے اس قدر دلچسپی دیکھ کر مولوی عبدالحق ان سے بے حد متاثر ہوئے ۔تحقیق کا کام چوں کہ بنیادی طور پر حقیقت کے انکشاف و دریافت کا کام ہے اس لئے اس میں دستاویزی شہادت اور سندی ثبوت بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مشفق خواجہ نے اردو کے قدیم سرمائے کی تحقیق جس دیدہ ریزی اور دیانت داری کے ساتھ کی ہے وہ ذرے میں آفتاب کا جلوہ دیکھنے کا عمل ہی نہیں بلکہ گم شدہ خورشید کو بازیافت کرنے کی کوہ کنی بھی ہے ۔
ان کا پہلا تحقیقی کارنامہ ’’ تذکرہ خوش معرکہ زیبا‘‘ ہے جس کو ۱۸۴۸ ء میں سعادت خاں ناصر نے مرتب کیا ۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی ’’اردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری ‘‘ کے مطابق اب تک اس تذکرے کے چار مخطوطوں کا سراغ ملا ہے ۔جن میں سے ایک خدا بخش لائبریری، پٹنہ، دوسرا مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ، تیسرا لکھنو یونی ورسٹی کے کتب خانے میں اور چوتھا خطی نسخہ’ انجمن ترقی اردو‘ کراچی کے کتب خانے میں موجود ہے۔ مشفق خواجہ نے ’تذکرہ خوش معرکہ زیبا ‘ کے مقدمے میں ان چاروں نسخوں کی روشنی میں اس تذکرے میں شعرا کی تعداد کا تعین ۸۲۴ کیا ہے جو ان کی محنت اور دیدہ ریزی کا نتیجہ ہے ۔ ’تذکرہ خوش معرکہ زیبا ‘ کی خوبی یہ ہے کہ ’گلشن ہند‘ ،’ گلدستہ حیدری‘ ،’ انتخاب دواوین‘ اور’ گلدستہ نازنیناں‘ کے بعد یہ پانچواں تذکرہ تھا جو کہ فارسی کے بجائے اردو میں لکھا گیا ہے ۔ اس میں شعرا کے حالات ، حیا ت کی تفصیل اور ادبی معرکہ آرائیوں کے علاوہ ادبی،سماجی ، معاشرتی فضا اور حکایات کا تذکرہ بھی درج ہے ۔ ’تذکرہ خوش معرکہ زیبا ‘ میں میر تقی میرؔ اور مرزا محمد رفیع سوداؔ سے لے کر مولف سعادت خاں ناصر تک تقریباً ایک صدی کے شعرا کا تذکرہ موجود ہے جس کی تحقیق شدہ دو جلدیں ’مجلس ترقی ادب‘ لاہور سے ۱۹۷۰ ء اور ۱۹۷۱ ء میں شائع ہو چکی ہیں ۔ ڈاکٹر تنویر احمد علوی لکھتے ہیں :
 ’’ مشفق خواجہ اس وقت ۔۔۔۔نسبتاً نو مشق اور نو عمر تھے لیکن انہوں نے ذہن کی پختگی اور تلاش و توازن کی جس مزاولت کا ثبوت بہم پہنچایا ہے ، اس کا اندازہ اس تذکرے کے طویل مقدمے اور اس کے ساتھ شامل تحقیق نامے سے ہوتاہے ۔ تعلیقات اور مختلف مسائل اور مباحث پر علمی گفتگوکے لئے ’’تحقیق نامے ‘‘ کی یہ اصطلاح بھی مشفق خواجہ ہی کی دین ہے ۔‘‘ ۱؎
مشفق خواجہ کا دوسرا اہم تحقیقی کارنامہ ’ ’جائزہ مخطوطات اردو ‘ ‘ہے جو ۱۲۴۸؍ صفحات پر مشتمل ہے اور یہ پہلی بار ۱۹۷۹ ء میں ’مرکزی اردو بورڈ‘ لاہور سے شائع ہو چکی ہے ۔’’ جائزہ مخطوطات اردو‘ ‘ کا منصوبہ مشفق خواجہ کے ذہن میں ان کے تحقیقی کام کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے پیدا ہوا تھا ۔اس منصوبے کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں طاہر مسعود کو بتا یا :
’’ جب میں نے تحقیقی کام شروع کیا تو مجھے اس میں بڑی دقتیں پیش آئیں ، مثلاً میں نے کسی شاعر کے حالات جاننا چاہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اس کے بارے میں اب تک کیا کچھ لکھا گیا ہے تو مجھے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر یہ معلوم کرنے کے لئے کسی شاعر کے قلمی نسخے کہاں کہاں دستیاب ہوں گے تو اس سلسلے میں رہنمائی کے لئے کوئی بھی کتاب موجود نہیں تھی ۔ لہٰذا یہ سوچ کر کہ تحقیق کرنے میں جو دقتیں مجھے پیش آرہی ہیں ،وہ دقتیں یقینا دوسروں کو بھی در پیش ہوں گی ، میں نے ’جائزہ مخطوطات اردو‘ پر کام شروع کر دیا ۔ اس کتاب کی افادیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ فرض کیجئے آپ ناسخؔپر کام کرنا چاہتے ہیں تو میری یہ کتاب آپ کو بتائی گی کہ دنیا بھر میں ناسخؔ کے دیوان کے کتنے قلمی نسخے اور ان کی کیا کیا خصوصیات ہیں ۔ کس دیوان کے کتنے ایڈیشن چھپے ہیں ، غرض کہ ناسخؔ کے بارے میں قدیم تذکروں سے لے کر آج تک جتنے مضامین لکھے گئے ہیں ، ان سب کی تفصیل آپ کو اس کتاب میں مل جائیںگی ۔اس طرح میری یہ کتاب محققوں کے لئے تحقیق کی راہ میں بہت سی آسانیاں اور سہولتیں پیدا کرے گی ۔‘‘ ۲؎
’’جائزہ مخطوطات اردو ‘ ‘مشفق خواجہ کا ایک بے مثل کارنامہ ہے ۔اسے انہوں نے دس جلدوںمیں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ ۱۲۵۲ ؍صفحات پر مشتمل اس کی پہلی جلد ۱۹۷۹ ء میں ’مرکزی اردو بورڈ‘ لاہور سے شائع ہوئی ۔ اس میں تقریباً دو سو ایسے مخطوطات ہیں جو سرکاری، غیر سرکاری اور ذاتی کتب خانوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ مخطوطات کے بارے میں ضروری معلومات کے ساتھ ساتھ مخطوطے کے دیگر نسخوں ،مطبوعہ نسخوں،مصنف کے حالات اور ماخذ کا مفصل تذکرہ اور جائزہ بھی اس میں شامل ہے ۔ اس طرح یہ کام صرف مخطوطات کی وضاحتی فہرست تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس نے سوانحی کتابیاتی جائزے کی صورت اختیار کر لی ۔ اس کتاب سے اردو میں معیاری اور علمی تحقیق کی راہ ہموار ہوئی اور سینکڑوں اہم مخطوطات سے متعلق ماخذ کا سراغ پا لینا آسان ہو گیا ۔ مذکورہ کتاب کے حوالے سے رشید حسن خان لکھتے ہیں :
’’ بلا خوف و تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواجہ صاحب نے تن تنہا وہ کام کر دکھایا ہے جو بظاہر ایک ادارے کا کام معلوم ہوتا ہے ۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے یہاں دل لگا کر اور نظر جما کر کام کرنے کا جذبہ اور حوصلہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اب تک جو کام کیے ہیں وہ ان کی قابل رشک صلاحیت کے شاہد وعادل ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو گروہ بندی سے اور ادبی و غیر ادبی جوڑ توڑ اور خفیف الحرکاتی سے دور رکھا ہے ۔وہ حصول دنیا کے سلسلے میں  ابھی تک ہوس کے اسیر نہیں ہو پائے ہیں اور علم و ادب کی عظمت اور تحقیق کی صبر آزمائی کے قائل ہیں ۔‘‘ ۳؎
مشفق خواجہ نے اس بات کی منصوبہ بندی کی کہ پاکستان میں موجود تما م مخطوطات کی ایک جامع فہرست تیار کی جائے تاکہ مخطوطے سے متعلق اہم معلومات اور تفصیلات کو یکجا کیا جاسکے ۔ وہ اس کام کو مکمل نہ کر سکے اور دس جلدوں کی بجائے صرف ایک ہی جلد منظر عام پر آئی ۔اس جلد میں دو سو مخطوطات کے بارے میں تفصیلات ملتی ہیں ۔ان کی اس کاوش کو اہل علم نے بڑے پیمانے پر سراہا ہے ۔اکبر حیدری کشمیری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ :
’’ راقم نے اطراف ہندوستان اور پاکستان کے بڑے بڑے کتب خانوں کی متعدد فہرستیں انگریزی ، اردو اور فارسی میں دیکھی ہیں۔ ان میں کسی بھی مخطوطے کی تفصیلات نہیں ملتی ہیں جس طرح خواجہ صاحب مرحوم نے مخطوطات اردو کا جائزہ لیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔‘‘ ۴؎
مشفق خواجہ کی ایک اور اہم کتاب ’ غالبؔ اور صفیرؔ بلگرامی ( ایک جائزہ )‘ کے عنوان سے ہے ۔ غالبؔ کے تقریباً دو سو شاگردوں میں صفیرؔ احمد بلگرامی کئی حیثیتوں سے نمایاںمقام کے حامل ہیں ۔ وہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں لکھتے تھے اور نظم و نثر پر یکساں قادر تھے ۔ انہوں نے نظم و نثر کی کئی اصناف میں اپنے جوہر دکھائے اور سب سے بڑھ کہ وہ غالب ؔکے ان چند شاگردوںمیں سے ہیں جن سے غالب ؔکا معنوی سلسلہ آج تک قائم ہے ۔ڈاکٹر انورسدید لکھتے ہیں :
’’ مشفق خواجہ کی کتاب ’’غالبؔ اور صفیرؔ بلگرامی ‘‘ ہے ۔ صفیر بلگرامی شاگردان غالبؔ میں اس لئے نمایاںمقام رکھتے ہیں کہ غالبؔ سے ۱۸۶۴ ء میں تعلق پیدا ہونے اور صرف دو اڈ ھائی ماہ کی صحبت ِ غالبؔ سے استفادہ کرنے کے باوجود ان میں معنوی سلسلہ اب تک زیر بحث رہتاہے ۔ ان کے نام غالبؔ کے چھ خطوط بھی شائع ہو چکے ہیں ،لیکن ان کی شخصیت کو ’تذکرہ جلوۂ خضر ‘ کے متعدد مبالغہ آمیز اور غلط بیانات نے داغ دار کر رکھا ہے ۔‘‘ ۵؎
صفیرؔ بلگرامی کی صلاحیتیں ایسی نہیں تھیں کہ انہیں آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کے شاگرد وں کا بڑا خاصا گروہ جمع ہو گیا ۔ حالاں کہ وہ خوداسی زمانے میں غالبؔ سے اصلاح لیتے تھے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ صفیرؔ نے غالب ؔسے صرف فارسی کلام پر اصلاح لی تھی لیکن ’غالبؔ اور صفیرؔ بلگرامی ‘ میں شامل خطوط سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف فارسی بلکہ اردو کلام پر بھی غالبؔ سے اصلاح لی تھی ۔ اپنے پہلے ہی خط کے ساتھ غالب ؔکے پاس اپنا فارسی کے ساتھ ساتھ اردو کلام بھی اصلاح کے لئے بھیجا تھا اور یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا ۔مشفق خواجہ کی کتاب ’’ صفیر بلگرامی ‘‘ کراچی سے ۱۹۸۱ ء میں شائع ہوئی تو اسے ’غالبیات ‘ میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا ۔ غالبؔ نے اپنے شاگرد صفیر بلگرامی کے نام نصف درجن خطوط لکھے تھے ، انہیں بھی مشفق خواجہ نے مکمل طور پر صحیح متن کے ساتھ اس کتاب میں پیش کر دیا ۔اسی طرح صفیر کا بہت سا غیر مطبوعہ کلام اور ان کی تصانیف بھی غالباًپہلی بار اسی کتاب کے ذریعے منظر عام پر آئیں ۔ غالبؔ اور صفیرؔ کے تعلق سے جو معلومات اور حقائق مشفق خواجہ نے پیش کر دیئے ہیں ،وہ ان کی تحقیقی نظر ،وسعت ِ مطالعہ اور باریک بینی کا ثبوت ہیں۔
’’اقبال از احمد الدین ‘‘مشفق خواجہ کی ایک اور اہم تحقیقی کاوش ہے ۔ مذکورہ کتاب علامہ اقبالؔ کے فکروفن پر لکھی جانے والی پہلی کتاب ہے ۔ اس کے مصنف مشفق خواجہ کے رشتہ دار چچااحمد الدین تھے ۔ انہوں نے یہ کتاب۱۹۲۳ء میں لکھی تاہم علامہ اقبال نے اس کتاب کو پسند نہیں کیا اور احمد الدین نے اس کتاب کے تمام نسخے نذر آتش کر دیئے ۔کسی طرح سے اس کتاب کے دو نسخے بچ گئے اور ان میں سے ایک مشفق خواجہ کو دستیاب ہو گیا۔ ۱۹۲۶ ء میں احمد الدین نے یہ کتاب دوبارہ شائع کروائی۔ مشفق خواجہ نے دونوں اشاعتوں کی بنیاد پر متن کی تدوین کی اور مفید حواشی اور تعلیقات کے ساتھ اس کتاب کو ’انجمن ترقی ارود‘ کراچی نے ۱۹۷۹ ء میں شائع کیا۔ مذکورہ کتاب کے حوالے سے انورسدید لکھتے ہیں :
’’ مشفق خواجہ کی تحقیقی بازیافت کا ایک ثمر ’’اقبال از احمدالدین ‘‘ ہے ۔ یہ کتاب مولوی احمد الدین نے اقبال کی زندگی میں ۱۹۲۳ ء میں لاہور سے چھپائی تھی لیکن اشاعت سے پہلے ہی اقبال نے اس کاوش کو پسند نہیں کیا ۔ کتاب نہ شائع کرنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس میں اقبال کی بعض طویل نظمیں شامل تھیں جن میں اقبال نے ترمیم و تنسیخ کر دی تھی ۔ انہی دنوں اقبال اپنا مجموعہ کلام ’ بانگ درا ‘ مرتب کر رہے تھے۔چناچہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر مولوی احمد الدین کی کتاب شائع ہو گئی تو اقبال کے مجموعے کلام کی فروخت پر منفی اثر پڑے گا ۔ مولوی احمد الدین اقبال کے مداح بھی تھے انہیں اقبال کے تاثر کا پتہ چلا تو انہوں نے تمام نسخے نذر آتش کر دیئے ۔‘‘ ۶؎
مشفق خواجہ نے عمر بھر قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا انہیں بلا شبہ اردو ادب کے میدان تحقیق کا جزوی سپاہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ وہ جس عہد میں زندہ رہے ،اس میں ان کے آس پاس معمولی درجے کے تخلیق کار بھی شہرت کے حصول میں ہانپتے نظر آتے تھے ۔ دولت ،شہرت اور نام نمود کی خواہش میں ان کے بہت سے ہم عصروں نے اپنی دنیا سنواری ، مگر مشفق خواجہ نہایت سنجیدگی سے تحقیق جیسا خشک کام کرتے رہے ۔
مشفق خواجہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوںنے اپنے لئے ایک منفرد کلچر وضع کیا تھا جس پر وہ آخری سانس تک عمل پیرا رہے ۔ اس کلچر میں کتابوں اور رسالوں سے محبت ، تحقیق اور تنقید کے کاموں سے والہانہ رغبت،فقید المثال کتب خانے کی تشکیل،علم و ادب کا پھیلاو ،ہونہار نوجوان ادباء وشعرا ،محققین اور ناقدین کی سرپرستی ، علمی ،تحقیقی اور تنقیدی استفسارات کے فوری جوابات کی فراہمی ،ادبی برادری سے ادب کے فروغ کے لئے مسلسل و متواتر رابطے اور اپنے ذرائع سے شائع ہوئے رسائل اور کتب کی اشاعت پر مصنف کو معاوضے کی ادائیگی ۔ان کی کتابوں ’غالبؔ اور صفیر بلگرامی‘، ’خوش معرکہ زیبا‘ ، ’پرانے شاعر نیا کلام‘ ، ’اقبال از احمد الدین‘، ’جائزہ مخطوطات اردو‘ ، ’تحقیق نامہ‘  وغیرہ کی عظمت کی گواہی پوری ادیب برادری دیتی ہے ۔
غالبؔ لائبریری کے پلیٹ فارم سے شائع ہونے والے رسالے سہ ماہی ’غالبؔ ‘ کو بھی وقیع بنانے کے لئے انہوں نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ بہترین تنقیدی وتحقیقی سرمایہ ان کی نگرانی میں شائع ہو ۔ اس سلسلے میں وہ ایسی نابغہ روز گار شخصیات سے مضامین حاصل کر لیا کرتے تھے کہ جن سے ایک پروگرام کے تحت لکھوانا مشکل امر تھا ۔یوں تو انہوں نے تحقیقی کتابوں کے لئے خون جگر صرف کیا لیکن ’’کلیات یگانہؔ‘‘ کے حقیقی مواد کے حصول کے لئے انہوں نے جتنی محنت کی وہ آنے والے محققین کے لئے مشعل راہ ہے ۔ اس راہ میں کوئی دوسرا شخص اسے بھاری پتھر سمجھ کر چھوڑ دیتا، اس طرح انہوں نے یگانہؔ کو زندہ و جاوید بنا دیا ۔ یگانہؔ پہلے بھی یاد گار ادبی شخصیت تھے تاہم مشفق خواجہ کی تحقیق نے اس شخصیت کو اقلیم ادب میں پہلے سے بڑا مرتبہ عطا کر دیا ہے۔ 
۱۔  ڈاکٹر تنویر احمد علوی،مضمون ’’مشفق خواجہ۔معبد تحقیق کا سنگ تراش‘‘،مشمولہ:مشفق خواجہ (ایک مطالعہ)خلیق اانجم(مرتب)،ماہنامہ کتاب نگر۔جامعہ نگر ،نئی دہلی دسمبر ۱۹۸۵،ص ۵۹
۲۔مشفق خواجہ ۔ایک انٹرویو،طاہر مسعود،مشمولہ:مشفق خواجہ (ایک مطالعہ)خلیق اانجم(مرتب)،ماہنامہ کتاب نگر۔جامعہ نگر ،نئی دہلی دسمبر ۱۹۸۵،ص ۳۰
۳۔مشفق خواجہ (ایک مطالعہ)،خلیق اانجم(مرتب)،تبصرہ رشید حسن خان،ماہنامہ کتاب نگر۔جامعہ نگر ،نئی دہلی دسمبر ۱۹۸۵،ص ۷۸
۴۔بحوالہ اکبر حید ری کشمیری ،مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری ،طارق کلیم قریشی ، سرگودھا یونی ورسٹی ، اشاعت ،۱۰۱۲ ، ص۔۱۹
۵۔ مشفق خواجہ ۔۔۔۔۔ایک کتاب ، ڈاکٹر انور سدید ، پورب اکادمی ،اسلام آباد ، ۸۰۰۲ ۔ص۔۵۸
۶۔  ایضاً،ص،۸۳
***
Sabzar Skinder Seh
Research Scholar
University of Hyderabad
Hyderabad, India
Mobile: +91 70062 34934
***
جلد(1)   شمارہ  (5)  فروری 2026

Mushfiq Khwaja: A Guardian of Literary Integrity

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...