Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Thursday, June 11, 2026

سید عباس متقی ؔ ۔علم و حکمت کا درخشاں آفتاب


 ڈاکٹر محمد انور الدین  (اسسٹنٹ پروفیسروصدر شعبۂ اردو)

    رمضان المبارک میںسیدعباس متقی کی پہلی برسی کے موقع پر مضمون پیش خدمت ہے۔ اردو زبان و ادب، دینی فہم، تہذیبی وقار اور علمی شائستگی کے ایک درخشاں چراغ، سید عباس متقیؒ کے انتقال کی خبر نے اہلِ علم و ادب، شاگردوں، احباب اور تمام محبانِ علم و دین کو ایک گہرے صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔
26مارچ 2025ء مطابق۱۴۴۶ھ ماہِ رمضان المبارک کی ۲۹ ویں سحر ابھی ابھی ختم ہوئی تھی اور ہم آذانِ فجرکے منتظر تھے کہ اچانک فون میں میسج کی گھنٹی بجی اور۲۹:۵ منٹ پرمیسج آیا،دیکھاتو ڈاکٹر عبدالنعیم فیضی ؔنے لکھا کہ ـ’’بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ڈاکٹر سید عباس متقی کا وصال ہوگیا ہے۔اللہ پاک خوب خوب مغفرت فرمائے۔آمین‘‘۔ہم نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھی اورچپ سادھ لیا۔فجرکی نماز پڑھی خوب دعا کی اور جانب ِمتقی رواںدواں ہوئے۔
         ڈاکٹر سید عباس متقیؒ نہایت باوقار، خوش گفتار، خوش اخلاق اور متواضع شخصیت کے حامل انسان  واقع ہوئے تھے۔ ان کی علمی لیاقت محض اردو زبان تک محدود نہ تھی بلکہ عربی و فارسی زبانوں پر بھی انھیں کامل دست رس تھا۔ ان کے خطبات، تحریریں اور دروس علم و عرفان سے لبریز ہوتے، جن میں دینی بصیرت اور ادبی شگفتگی کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔مرحوم کی ذات میں دین و دنیا کا خوب صورت امتزاج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ اور رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گہری محبت ،گفتگو، طرزِ عمل اور طرزِ فکر سے جھلکتی تھی۔ وہ اخلاص و للہیت کے پیکر تھے؛ان کی نثر، ان کے اشعار، ان کی طنزومزاح نگاری پر مشتمل مجالس اور تربیتی نشستیں آج بھی دلوں میں روشنی کی شمعیں جلا رہی ہیں۔ مرحوم کا طرزِ تدریس محض رسمی نہ تھا بلکہ وہ قلوب کی تربیت اور ذہنوں کی آبیاری پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے شاگرد آج بھی ان کی باتوں؛ ان کے اندازِ بیاں اور ان کے علمی و اخلاقی ورثے کو یاد کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ 
شگفتہ قلم و مصور طنز ڈاکٹرسید عباس متقی ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان تھے،وہ بہ یک وقت طنز و مزاح نگار بھی تھے،اردو اور فارسی کے کہنہ مشق شاعر بھی ، خاکہ نگار بھی ، کالم نویس بھی ،محقق بھی، نقاد بھی،مقبول مقرر بھی، معقول مبصر بھی ،چناں چہ ڈاکٹر سیدعباس متقی نے ان تمام زاویوں سے اردو زبان و ادب بالخصوص غیر افسانوی ادب کی غیر معمولی خدمت انجام دی ہے؛یہی وجہ ہے کہ مزاح نگاری کے میدان میں ان کی از ابتدا تا حال سترہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، جن میںدکھتی رگیں۔ طنزومزاح(۱۹۸۹ء)،چھٹی انگلی۔طنزومزاح(۱۹۹۳ء)،میری بلاسے۔ طنزومزاح(۱۹۹۶ء)،ڈرتا ہوں آئینے سے۔ طنزومزاح(۲۰۰۳ء)، لگے ہاتھوں۔طنزومزاح(۲۰۰۷ء)،ہیں کواکب کچھ۔ طنزومزاح(۲۰۰۹ء)،ٹُک ٹُک دیدم۔ طنزومزاح(۲۰۱۰ء)،من خوب می شناسم۔طنزومزاح( ۲۰۱۲ء) ،ناگفتہ بہ۔ طنزومزاح (۲۰۱۳ء)،گپ شپ ۔طنزومزاح (۲۰۱۴ء)،بادشمنان مدارا۔ طنزومزاح(۲۰۱۵ء)،ہر چہ بادا باد۔طنزومزاح(۲۰۱۶ء)،کہاں گیا میرا بچپن۔خودنوشت (۲۰۱۸ء)،حج متقی ۔سفرنامہ (۲۰۱۹ء) دورودراز ۔طنزومزاح(۲۰۲۱ء)اورہم حیدرآباد اور نیویارک۔ سفرنامہ (۲۰۲۲ء) قابل ذکر ہیں۔
   تصنیفات اردو(شاعری)کے حوالے سے(۱)تسلیماً کثیراً(نعوت وسلاموں کا مجموعہ)باراول ۱۹۹۰ء(۲)مثنوی نوال السبحان (منظوم ترجمۂ سورۃ الرحمن)باراول۱۹۹۲ء(۳)تنہائیاں (شعری مجموعہ)باراول۱۹۹۳ء(۴)فی ظلال البردہ (منظوم ترجمہ قصیدہ بردہ شریف)باراول ۱۹۹۶ء(۵)رودِ دود (شہرآشوب) باراول۲۰۰۱ء(۶) متاعِ روح(اردو فارسی کلام) باراول۲۰۱۷ء اور تصنیفات فارسی(شاعری)کی روسے(۱)رباعیاتِ متقی (شعری مجموعہ) باراول۲۰۱۰ء(۲)رشکِ گردون (شعری مجموعہ) باراول۲۰۱۱ء(۳)مناجاتِ متقی (شعری مجموعہ) باراول۲۰۱۲ء(۴)مینا بدوش (شعری مجموعہ) باراول۲۰۱۴ء اہمیت کے حامل ہیں۔علاوہ ازیں تصنیفات فارسی(نثر)میںمقائسہ غالب ؔباراول۲۰۱۳ء میں شائع ہوکر منظرعام پر آئی ہیں۔
جہاں تک اُن کی علمی خدمات کا تعلق ہے وہ اردو اور فارسی دونوںزبانوں کے مدرس و محاضر رہے ، مستزاد انھوں نے جامعاتی سطح پر تحقیق بھی کی ہے،جن میں سب سے پہلے ایم۔فل (اردو) ’’قاضی احمد علی قاضی :حیات اور کار نامے‘‘کے عنوان سے ڈاکٹر ابو الفضل سید محمود قادری پروفیسر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ حیدرآبادکی نگرانی میں مقالہ لکھ کر ۱۹۸۹ء میں ایم۔فل۔ اردو کے مستحق قرار پائے ۔ اس کے بعد۱۹۹۲ء میں جامعہ عثمانیہ ہی سے پی ایچ۔ڈی (اردو) میں سند حاصل کی۔ ان کے پی ایچ۔ڈی اردو کے مقالے کا عنوان’’آزادی کے بعد طنز و مزاح کا تہذیبی و سماجی پس منظر ‘‘تھا جس کو انھوں نے پروفیسر حبیب ضیاء ریڈر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ کی نگرانی میںقلم بند کیا تھا،اس طرح فروری ۱۹۹۳ء میں پی ایچ۔ڈی کی سند کے مستحق قرار پائے ۔عرصۂ دراز بعدفارسی میں پی ایچ۔ڈی بھی کی تھی ۔
موصوف نے مشاعروں میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اپنا کلام سنانے کی سعادت بھی حاصل کی تھی۔ انھوں نے غزل کے علاوہ نظم کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہے اس طرح نظم کی مختلف ہئیتوں مثلاً مسمط میں مثلث،مربع،مخمس،مسدس،قطعہ ،مستزاد، ترجیع بند،ترکیب بند،تضمین وغیرہ جیسی ہئیتوں میں عمدہ تخلیقات پیش کی ہیں،اس طرح اردو شاعری پر مشتمل ڈاکٹر عباس متقی کی پانچ کتابیں شائع ہوئی ہیں،ان میں تسلیماً کثیراً(۱۹۹۰ء)،مثنوی نوال السبحان (منظوم ترجمۂ سورۃ الرحمن)(۱۹۹۲ء)،تنہائیاں(۱۹۹۳ء)،فی ظلال البردہ (منظوم ترجمۂ قصیدہ بردہ شریف)(۱۹۹۶ء)،مثنوی رودِ دود (۲۰۰۱ء)،متاعِ روح(۲۰۱۷ء)شرف قبولیت حاصل کرچکی ہیں۔علاوہ ازیںفارسی شاعری میں رباعیاتِ متقی(۲۰۱۰ء)،رشکِ گردون(۲۰۱۱ء)،مناجاتِ متقی(۲۰۱۲ء) کے علاوہ ازیںمینا بدوش(۲۰۱۴ء) شامل ہیں ۔
ڈاکٹر عباس متقی مقفیٰ ومسجع عبارت بھی قلم بند کرتے تھے اور ادق زبان بھی لکھتے تھے نیزوہ اپنی نثرمیں معروف شاعروں کے اشعار، مشہور ادبا کے مقولے اور اداکاروں کے مکالموں کو بھی مُزاح کا پیرہن دیتے تھے۔
ڈاکٹرعباس متقی نے اپنااصل نام سید عباس ، انور پاشا عرفیت ، متقیؔ تخلص اور قلمی نام سید عباس متقی اختیار کیاتھا۔آپ کی پیدائش ۱۷؍جنوری ۱۹۵۳ء کو محلہ جنگم میٹ، فلک نما، حیدرآباد میں ہوئی تھی ابتدائی تعلیم تعلقہ چنچولی شہر گلبر گہ کے ایک اردو میڈیم اسکول میں ہوئی۔ سید عباس متقی کے والد بزرگ وار محکمے پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے اور ان کا تبادلہ تعلقہ چنچولی گلبرگہ شریف میں ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں سیدعباس متقی کووہیں کے ایک اردو میڈیم اسکول میں شریک کروادیا گیا؛اس طرح ان کا پہلا مدرسہ چنچولی کا گورنمنٹ پرائمری اسکول قرار پاتا ہے۔ایک آدھ سال بعدان کے والدمحترم سید محمد کا تبادلہ حیدرآباد ہوگیا تو ا ن کے والد محترم نے اپنی سالی کے ہاں قیام کیااورپروفیسر رفیع رئوف نے اپنے بھانجے سید عباس متقی کو ملک پیٹ کے ایک معروف مدرسے ادارۂ ملیہ میں جماعت اول میں شریک کروادیا ۔مدرسے کے ادبی ماحول نے جہاںاُن کی دست گیری کی وہیں ان کے اساتذہ کی شفقت اور مہربانیوں نے اُن کے ادبی ذوق کی پرورش کی، چناں چہ جب وہ ہفتم میں زیر تعلیم تھے تو محترمہ اظہر جہاں ہیڈ مسٹرس دی نیوپروگریسیو ہائی اسکول نے موصوف کو مدرسے کے وال میگزین کا ایڈیٹر بنادیاتھا ۔وہ پوری دلچسپی اور دلجمعی سے اپنا فریضہ انجام دیتے تھے۔ ۱۹۶۸ء میں سید عباس متقی کو امتحان فیس کی عدم ادائیگی کے سبب انھیں دسویں جماعت کے امتحان میں بیٹھنے سے محروم کردیا گیا۔دو سال تک یوں ہی بے کار رہے اور ان کی تعلیم موقیتی طور پر منقطع ہوگئی۔تعلیم کیا منقطع ہوئی ان کا دل حصول تعلیم سے ٹوٹ گیا اور وہ ممبئی جاکر فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کی بابت سوچنے لگے تھے۔ چوں کہ موصوف خوب رو تھے،آواز بھی اچھی پائی تھی مستزاد ادا کارانہ صلاحیتوں کا لوہا بھی منوالیا تھا لیکن بعد میں ارادہ ترک کردیااورمیٹرک جامعہ عثمانیہ (۱۹۷۰ء) ؛پی یوسی جامعہ عثمانیہ (۱۹۷۲ء) ؛ٹائپ رائٹنگ(انگریزی)(۱۹۷۳ء)قرأت سیدنا امام عاصم جامعہنظامیہ۱۹۷۶ئامامت و خطابت جامعہنظامیہ۱۹۷۷ء بی۔اے جامعہ عثمانیہ۱۹۸۰ء ایم۔اے۔(اردو)جامعہ عثمانیہ۱۹۸۳ئاردو پنڈت کمپر ہنسیو کالج۱۹۸۳ ء ایم۔فل۔(اردو)جامعہ عثمانیہ۱۹۸۳ ئ مخطوطہ شناسی(اردو)جامعہ عثمانیہ۱۹۹۰ء پی ایچ۔ ڈی۔ (اردو) جامعہ عثمانیہ۱۹۹۲ئ گسترشِ زبان فارسی۲۰۰۲ء ایم۔اے۔ (فارسی)جامعہ عثمانیہ(گولڈمڈل)۔۲۰۰۵ئپی ایچ۔ڈی (فارسی) پہلاسمسٹر مولاناآزادنیشنل اردویونی ورسٹی۲۰۱۲ئپی ایچ۔ڈی (فارسی)دوسرا سمسٹرمولاناآزادنیشنل اردو یونی ورسٹی۲۰۱۶ء میںکامیاب کیے۔
        ڈاکٹر سید عباس متقی کوگراں قدر تدریسی خدمات کے سلسلے میں جہاں ۲۰۰۹ء میں اردو اکیڈیمی آندھراپردیش سے’’بیسٹ اردو ٹیچرایوارڈ‘‘سے سرفراز کیا گیا ہے وہیں سال ۲۰۱۱ء میںاسی اکیڈیمی کی جانب سے اردو زبان وادب کے میدان میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں زمرہ ’’نثر‘‘میں’’ڈاکٹرآغاحیدرحسن‘‘کارنامہ حیات ایوارڈ عطاکیا گیاعلاوہ ازیں تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کی جانب سے اردو زبان وادب اورطنز و مزاح کے فروغ و اشاعت کے سلسلے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے باوقار اعزاز ’’مخدوم ایوارڈ ‘‘سے بھی سال ۲۰۱۸ء میں نوازاگیا ۔ماضی میں انھیں مذکورہ اکیڈیمی سے ان کی طنز و مزاح پر مشتمل بیش تر کتابوں اور اردو وفارسی شعری مجموعوںپر ’’مطبوعات پر انعامات اسکیم ‘‘کے تحت انعام اول سے نوازا جاتارہا۔
              ڈاکٹر سید عباس متقی کی حیات ہی میں راقم الحروف نے ایک منظوم تہنیت لکھ کر انھیں نذر کی تھی۔قارئین کے تفننِ طبع کے لیے یہاں چند اشعار پیش کی جاتے ہیں۔  ؎   تہنیت
جب گھر سے نکل جاتے ہیں عبّاس متّقی
پھر گھر کو چلے آتے ہیں عبّاس متّقی
رنج و الم مٹاتے ہیں‘ دیتے ہیں جام عشق
کیا جانے کیا پلاتے ہیں عبّاس متّقی
تقوے کا عالم یہ کہ اللہ کے گھر میں
آنسو بہت بہاتے ہیں عبّاس متّقی
اردو کی روٹی کھاتے تھے کچھ عرصے وہ پہلے
اب فارسی کی کھاتے ہیں عبّاس متّقی
انورؔ کو یہ پتا ہے کہ فی الوقت تین ہیں
چوتھی کو اور لاتے ہیں عبّاس متّقی
                               جب علم، ادب، شگفتگی اور تہذیب کسی ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں، تو وہ شخصیت ایک چراغ ہی نہیں، ایک آفتاب بن جاتی ہے۔ ڈاکٹرسید عباس متقیؒ ایسی ہی ایک ہستی تھے جنھوں نے اردو، فارسی اور عربی زبان و ادب کو صرف پڑھایا نہیںبلکہ اپنی زندگی کا جزوِ لاینفک بنا کر پیش کیا۔ ان کے اچانک سانحہ ارتحال کی خبر نے صرف مجھے نہیں بلکہ اہلِ علم و ادب، ان کے شاگردوں، مداحوں اور تمام قدردانانِ تہذیب کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔میری ان سے وابستگی صرف ایک طالب علم یا محقق کی حیثیت سے نہیں تھی بلکہ ان کی شخصیت پر میں نے اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کیا جو’’ ڈاکٹر سید عباس متقی :علمی وادبی خدمات ‘‘کے عنوان سے یونی ورسٹی آف حیدرآباد میں پی ایچ ڈی کے لیے منظور ہوا۔ اس مقالے کی تیاری کے دوران مجھے ان کے ذخیرہ فکر، وسعتِ مطالعہ، تہذیبی شعور اور نکتہ سنجی کی وہ پرتیں کھولنے کا موقع ملا جو عام قاری کی نگاہ سے اکثر اوجھل رہ جاتی ہیں۔
           ڈاکٹرسید عباس متقیؒ کا طنز و مزاح ،سستے فقرے یا سطحی مزاح سے پاک ہے۔ ان کی شگفتہ تحریریں تہذیب کا پرتو ہوتی تھیں۔ ان کے مزاح میں طنز کی کاٹ بھی تھی، مگر وہ کسی کی دل آزاری کا ذریعہ نہیں بنتی تھی؛ ان کی شگفتہ نگاری کا کمال یہ تھا کہ قاری مسکراتے مسکراتے سوچنے پر مجبور ہو جاتاہے۔
     ڈاکٹرسید عباس متقیؒ کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو ان کی لسانی مہارت تھی؛ اردو زبان ان کا اوڑھنا بچھونا تھی، فارسی ان کے لہجے میں گھلی ہوئی تھی اور عربی پر ان کی گرفت دیکھ کر اہلِ مدارس بھی حیرت زدہ ہوتے۔ ان کی مجالس میں جب وہ فارسی اشعار کے ذریعے بات کی تہہ تک پہنچتے، تو ایسا لگتا جیسے غالبؔ، سعدیؔ اور میرؔ ایک ہی محفل میں جمع ہو گئے ہوں۔وہ محض زبان دان یا ادب شناس نہیںبلکہ دین و معرفت کے رموز سے آشنا تھے۔ ان کا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق مجازی نہیں، حقیقی اور عملی تھا۔ ان کے خطبات اور نعتیہ اشعار میں اس روحانی نسبت کی جھلک ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ان کی علمی نشستیں محض لیکچر نہیں ہوتیں تھیںبلکہ روح کی آبیاری کا ذریعہ ہوتی تھیں۔ انھوں نے نسلوں کو تربیت دی، محض زبان نہیں سکھائی بلکہ طرزِ فکر عطا کیا۔
       ایک محقق کے طور پر جب  میں نے ان پر پی ایچ ڈی کی، تو مجھے ان کی شخصیت میں حیرت انگیز توازن، شفقت، تنقیدی فہم، مزاحیہ ذکاوت اور روحانی ٹھہراؤ کا ایسا امتزاج ملا جو بہت کم شخصیات میں دکھائی دیتا ہے۔ میری تحقیق کے دوران انھوں نے مکمل رہنمائی فرمائی، مگر کبھی اپنی ذات کو بلند کرنے کی کوشش نہ کی۔ ان کا انکسار، علم میں اضافے کا باعث بنا۔
       ڈاکٹرسید عباس متقیؒ کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ صرف اردو ادب یا دینی حلقے میں نہیںبلکہ انسانی اقدار کی ایک پوری فضا میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ وہ بلاشبہ ایک عہد تھے، ایک دبستان تھے، ایک کارواں تھے۔ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے اورانھیںجنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء و صالحین کے ساتھ مقام عطا فرمائے۔ اہلِ خانہ، شاگردوں، عقیدت مندوں اور محبّانِ علم و ادب کو صبر جمیل اور صبر جمیل پر اجر جزیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کی علمی، ادبی اور اخلاقی میراث کا امین بنائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں مرحوم کی زندگی سے سبق لینے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور اپنے اندر علم و عمل کا نور پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ راقم الحروف نے ڈاکٹرسید عباس کے وصال کے بعدایک مرثیہ لکھا ہے ،میں اسی مرثیےسے چند اشعار  پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔  ؎
مرثیہ در غمِ  مصور طنز
 حضرت سید عباس المتخلص بہ متقی ؔ علیہ الرحمہ 
غم کے بادل چھا گئے ہیں، دہر میں اندھیرا ہے 
اشک بہتے جا رہے ہیں، دل لہو کا دَریا ہے
سیدِ والا صفاتِ نیک کی تصویر تھے
 علم و حکمت کے جہاں میں آپ اک تنویر تھے
متقی، پرہیز گاری میں تھے وہ یکتا مثال 
زہد و تقویٰ پے تھا موصوف کو ازحد کمال
عمر ساری راہِ حق میں وقف کردی آپ نے
دینِ احمدؐ کو وفائیں نذر کردی آپ نے
جب تلک دیتے رہیں گے چاند، سورج روشنی 
یاد آتی ہی رہے گی آپ کے احسان کی
یاد ان کی دل کے اندر اک چراغِ نور ہے 
حق کی راہوں کا مسافر، فرقتوں میں چور ہے
وہ سخاوت میں تھے یکتا، مہرباں ہر ایک پر
دستِ فیاضی میں قدرت، خلق پر رحمت نظر
ہم فقیرِ در ہیں ان کے، ہر غریب اُن کا عزیز  
زندگی بھر حق پہ قائم ہر ستم سے تھے ستیز
حق کہو، چاہے عدو بھی بن کے خنجر تان لے 
سرقلم ہو یا اٹھے باطل کا لشکر، ٹھان لے
ظلم کے طوفاں کے آگے ڈٹ کھڑے تھے بے خطر
واسطے مظلوم کے تھی ان کی دعائیں با ثمر
کر عطا ان کو خدا جنت میں اعلیٰ مقام
جو سدا دینِ نبیﷺ پر کرتے تھے ہجت تمام
خواب میں وہ آئے تو یہ دل خوشی سے چور ہو
لب پہ جاری ہو دعائیں اشک بھی معمور ہو
کی جو انورؔ ! ان پہ پی ایچ ڈی بڑی ہے بے بہا
ہے نظر میں بر سرِ تحقیق ان کے نقش پا
٭٭٭ 
جلد(1)   شمارہ (5)   فروری 2026
Dr.Mohd.Anweruddin
Assistant Professor
Head, Department of Urdu Government Degree College for Women Hussaini Alam, Hyderabad 
Pincode: 500064, Telangana  
Mobile: 09032458868
***
 Vol. 01  Issue 05    February 2026

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...