اداریہ
ادب کسی بھی قوم کی فکری تاریخ، تہذیبی شعور اور اجتماعی احساسات کا آئینہ ہوتا ہے۔ اردو ادب اس حوالے سے ایک نہایت ثروت مند اور ہمہ گیر روایت رکھتا ہے جس نے برصغیر کے سماجی، سیاسی اور فکری ارتقاء کو نہایت خوبصورتی سے محفوظ کیا ہے۔ بین الاقوامی ماہنامہ قادرالکلام اسی ادبی روایت کو علمی تحقیق، تنقید اور تخلیق کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ایک سنجیدہ اور بامقصد کوشش ہے۔
زیرِ نظر شمارہ اردو ادب کے مختلف ادوار اور رجحانات کا ایک متوازن مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس میں کلاسیکی ادب سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک وسیع تناظر اختیار کیا گیا ہے۔’’ علامہ اقبال کے فکری اثرات‘‘، ’’مولانا آزاد کی طرزِ نگارش‘‘، ’’اردو زبان کا قومی ترقی میں کردارجدید تعلیمی پالیسی (NEP-2020) ‘‘کے تناظر میں اردو کی افادیت جیسے موضوعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اردو ادب آج بھی فکری ارتقاء کے سفر میں فعال اور متحرک ہے۔
اسی شمارے میں مختلف ادبی شخصیات پر تحقیقی و تنقیدی مقالات بھی شامل ہیں جنہوں نے اردو ادب کی تشکیل و ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سیماب اکبرآبادی، بشیر بدر، قاضی عدیل عباسی اور دیگر اہلِ قلم کی خدمات پر مبنی مضامین اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو تحقیق آج بھی اپنی روایت اور جدت دونوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ ماہِ محرم الحرام سے میرانیس کا تعلق ہے لہٰذا میر انیس کی مرثیہ نگاری پر شامل مضمون اردو کی کلاسیکی جمالیات اور فکری گہرائی کو نمایاں کرتا ہے، جو اس شمارے کی ادبی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔
عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو اردو ادب آج ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں اسے نئے فکری، لسانی اور تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی وسعت، عالمی لسانی مسابقت اور علمی تحقیق کے بدلتے ہوئے معیار نے ادبی جرائد کے کردار کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ایسے میں قادرالکلام جیسے علمی و تحقیقی مجلات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو ادب کو نہ صرف محفوظ رکھیں بلکہ اسے بین الاقوامی علمی برادری تک مؤثر انداز میں پہنچائیں۔
زیرِ نظر شمارہ اردو ادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادبی مطالعات کے امتزاج کی ایک عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔ اس شمارے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اردو کے کلاسیکی اور جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب کے تنقیدی و مزاحیہ رجحانات پر بھی علمی گفتگو شامل کی گئی ہے۔ خاص طور پر “The Place of Mark Twain in Humorous Literature” از ڈاکٹر محمد کلیم محی الدین ایک اہم اور قابلِ ذکر تحقیقی مقالہ ہے جو عالمی مزاحیہ ادب میں مارک ٹوین کے مقام و مرتبے کو واضح کرتا ہے۔ یہ مضمون اردو قارئین کے لیے مغربی ادبی روایت کو سمجھنے کا ایک اہم علمی ذریعہ فراہم کرتا ہے اور بین الاقوامی ادبی مکالمے کو فروغ دیتا ہے۔
ہم اس شمارے میں شامل تمام اہلِ قلم کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنی علمی و فکری کاوشوں سے اس اشاعت کو وقار اور تنوع عطا کیا۔ امید ہے کہ یہ شمارہ قارئین کے ذوقِ مطالعہ، فکری وسعت اور تحقیقی رجحان میں اضافہ کرے گا۔آخر میں ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ قادرالکلام اردو ادب، تحقیق اور تنقید کے میدان میں اپنی علمی ذمہ داری کو اسی خلوص، تسلسل اور بین الاقوامی معیار کے ساتھ جاری رکھے گا۔
***
مدیراعزازی

No comments:
Post a Comment