محمد ندیم محی الدین
مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت اسلامی تہذیب، تصوف اور عالمی ادب کا ایک درخشاں باب ہے۔ آپ 1207ء میں بلخ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ بہاؤالدین ولد سے حاصل کی، جو اپنے وقت کے جید عالم اور صوفی تھے۔ حالات کے جبر، خصوصاً منگول یلغار کے خطرات کے باعث، آپ کا خاندان ہجرت کرتا ہوا مختلف علمی مراکز سے گزرا اور بالآخر قونیہ میں قیام پذیر ہوا۔ یہی شہر آپ کی علمی و روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنا اور یہیں 1273ء میں آپ کا وصال ہوا۔
رومی کی زندگی کا ایک اہم موڑ شمس تبریزی سے ملاقات ہے، جس نے ان کی فکر کو یکسر بدل دیا۔ اس سے پہلے وہ ایک جید عالم اور مدرس تھے، مگر شمس تبریز کی صحبت نے انہیں عشقِ الٰہی کی ایسی راہ پر ڈال دیا جہاں علم محض ذریعہ رہ گیا اور اصل منزل معرفتِ حق قرار پائی۔ شمس کی جدائی نے رومی کے دل میں ایک ایسا سوز پیدا کیا جس نے ان کی شاعری کو لازوال بنا دیا۔
رومی کی شاعری کا مرکزی موضوع ’’عشق‘‘ ہے، جو ان کے نزدیک کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کے مطابق کائنات کا ہر ذرہ عشق کی کشش سے متحرک ہے۔ یہی تصور ان کے کلام میں بار بار مختلف تمثیلات اور حکایات کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ ان کی مشہور تصنیف مثنوی معنوی تقریباً چھبیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے، جس میں انہوں نے تصوف، اخلاق، معرفت اور انسانی نفسیات کے پیچیدہ مسائل کو نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں قرآنی آیات اور احادیث سے استدلال بھی نمایاں ہے، جس سے ان کی فکر کی دینی بنیاد واضح ہوتی ہے۔
رومی کی ایک اور اہم تصنیف دیوان شمس تبریزی ہے، جو عشق و مستی کی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔ اس کے علاوہ فیہ ما فیہ، مجالس سبع اور مکتوبات جیسی کتب بھی ان کی علمی و فکری عظمت کی گواہ ہیں۔ ان تمام تصانیف میں ایک قدر مشترک ہے: انسان کو اپنے باطن کی طرف لوٹنے کی دعوت اور خدا سے براہِ راست تعلق پیدا کرنے کی تلقین۔
رومی کی فکر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اپنی ذات کی نفی اور حقیقتِ مطلقہ میں گم ہو جانے میں ہے۔ وہ وحدت کے قائل ہیں، جہاں کائنات کی تمام کثرت ایک ہی حقیقت میں ضم ہو جاتی ہے۔ ان کے نزدیک سچا عاشق وہ ہے جو ہر لمحہ اپنے معشوق (خدا) کے تصور میں محو رہے، یہاں تک کہ اس کی اپنی ہستی مٹ جائے اور صرف محبوب باقی رہ جائے۔
آج بھی رومی کا مزار قونیہ میں اہلِ دل کے لیے مرکزِ کشش ہے۔ ان کا پیغام وقت اور جگہ کی حدود سے ماورا ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف فارسی ادب کا سرمایہ ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے روحانی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
اسی طرح عشق کی انتہا اور حقیقت کی تلاش کو درج ذیل اشعار میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
میں اس دن بھی تھا جب کہ اسما نہ تھے
نشان اور وجود مسمیٰ نہ تھا
ہوئے مجھ سے ظاہر مسمیٰ و اسم
کہ جب امتیاز ہم و میں نہ تھا
اسے میں نے ڈھونڈا کلیساؤں میں
کلیساؤں میں وہ کسی جا نہ تھا
اسے مندروں میں کیا پھر تلاش
وہاں رنگ اس کا ہویدا نہ تھا
نظر اپنے دل پر اچانک پڑی
وہیں اس کو دیکھا دگر جا نہ تھا
یہ اشعار رومی کی فکر کے اس نکتے کو واضح کرتے ہیں کہ خدا کی تلاش باہر نہیں بلکہ انسان کے اپنے باطن میں ہے۔ وہ کلیسا، مندر، کوہِ قاف اور کعبہ تک تلاش کرتے ہیں، مگر آخرکار انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جس حقیقت کی وہ تلاش میں تھے، وہ ان کے اپنے دل میں موجود تھی۔
رومی کی شاعری میں وحدت، عشق اور فنا کا تصور بار بار سامنے آتا ہے۔ ان کے نزدیک کائنات کی ہر شے عشق کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
جملہ اجزائے جہاں زان حکم پیش
جفت جفت و عاشقانِ جفت خویش
دورِ گردوں راز موجِ عشق داں
گر نبودی عشق بفسر دی جہاں
یہ اشعار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات کی حرکت، اس کا نظام اور اس کی بقا سب عشق کے مرہونِ منت ہیں۔ اگر عشق نہ ہو تو یہ ساری کائنات بے جان ہو جائے۔
رومی کی ابتدائی زندگی ایک عالمِ دین اور مدرس کی حیثیت سے گزری، مگر ان کی زندگی میں اصل انقلاب شمس تبریزی سے ملاقات کے بعد آیا۔ یہ ملاقات محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک روحانی انقلاب تھی، جس نے رومی کے علم کو عشق میں تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد ان کی شخصیت میں وہ سوز و گداز پیدا ہوا جو ان کی شاعری میں نمایاں نظر آتا ہے۔ شمس کی جدائی نے اس آگ کو اور بھڑکا دیا اور اسی کیفیت میں ان کے اندر سے وہ شاعری پھوٹی جو رہتی دنیا تک زندہ رہے گی۔
رومی کی شاعری کا سب سے عظیم شاہکار مثنوی معنوی ہے، جو چھ دفاتر اور تقریباً چھبیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ یہ محض شاعری نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی درسگاہ ہے۔ اس کا آغاز ہی ایک نہایت معنی خیز استعارے سے ہوتا ہے، جسے ’’نی نامہ‘‘ کہا جاتا ہے:
بشنو از نے چون حکایت میکند
وز جدائیها شکایت میکند
کز نیستان تا مرا ببریدہاند
از نفیرم مرد و زن نالیدہاند
یہ اشعار دراصل انسان کی اپنی اصل (خدا) سے جدائی کا نوحہ ہیں۔ رومی ’’نے‘‘ (بانسری) کو انسان کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو اپنے اصل سے کٹ کر فراق کی آگ میں جل رہا ہے۔ اسی مفہوم کو اردو تراجم میں بھی بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے:
سن لو نے سے کیا حکایت کرتی ہے
اور جدائی سے شکایت کرتی ہے
یہ تمثیل رومی کی پوری فکر کا نچوڑ ہے کہ انسان کا اصل مقصد اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہے۔
رومی کے ہاں عشق محض ایک جذبہ نہیں بلکہ کائناتی اصول ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
دورِ گردوں راز موجِ عشق داں
گر نبودی عشق بفسر دی جہاں
یعنی کائنات کی گردش دراصل عشق کی موج ہے، اگر عشق نہ ہو تو یہ دنیا ساکن ہو جائے۔ اس تصور میں رومی کائنات کو ایک زندہ، متحرک اور باہمی تعلق رکھنے والا نظام قرار دیتے ہیں، جہاں ہر شے دوسری شے کی طرف مائل ہے:
جملہ اجزائے جہاں زان حکم پیش
جفت جفت و عاشقانِ جفت خویش
یہ اشعار اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کائنات میں جو بھی حرکت، کشش اور تخلیق ہے، اس کی بنیاد عشق ہے۔ یہی فکر آگے چل کر وحدت کے تصور میں ڈھل جاتی ہے، جہاں عاشق اور معشوق کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔
رومی کی ایک اور اہم تصنیف دیوان شمس تبریزی ہے، جو ان کے وجدانی اور جذباتی کلام کا مجموعہ ہے۔ اس میں عشق کی شدت، فراق کا کرب اور وصال کی آرزو نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ فیہ ما فیہ، مجالس سبع اور مکتوبات جیسی تصانیف بھی ان کی فکری گہرائی کا ثبوت ہیں۔
رومی کے کلام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ مشکل ترین روحانی اور فلسفیانہ نکات کو عام فہم حکایات کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں قرآن و حدیث کے مضامین کی جھلک واضح نظر آتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فکر محض وجدانی نہیں بلکہ دینی بنیادوں پر قائم ہے۔
مولانا جلال الدین رومی کی شاعری میں عاشق کی نفسیات، اس کی بے بسی، اس کی خود آگاہی اور اس کی روحانی کشمکش نہایت گہرائی کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ذیل میں دیے گئے اشعار اسی داخلی کرب اور عشقِ حقیقی کی پیچیدہ کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
میں وہ شب سیاہ ہوں ماہ سے جو خفا ہوا
میں وہ گدا حقیر ہوں شاہ سے جو خفا ہوا
یہاں شاعر اپنی کیفیت کو ’’شبِ سیاہ‘‘ سے تشبیہ دیتا ہے، یعنی وہ اندھیری رات جو چاند (ماہ) سے محروم ہو گئی ہو۔ چاند یہاں محبوبِ حقیقی (خدا) کی علامت ہے۔ جب عاشق اپنے محبوب سے دور ہو جاتا ہے تو اس کی زندگی اندھیرے میں ڈوب جاتی ہے۔ اسی طرح ’’گدا‘‘ اور ’’شاہ‘‘ کا استعارہ انسان اور خدا کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے—انسان محتاج ہے اور خدا بے نیاز۔ محبوب سے ناراضی دراصل اپنی ہی بدقسمتی کا اعلان ہے۔
تھا وہ یگانہ مہرباں گھر کی طرف پکارتا
میں وہ بہانہ ساز ہوں راہ سے جو خفا ہوا
یہ شعر انسان کی غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ خدا مسلسل انسان کو اپنی طرف بلاتا ہے، مگر انسان بہانے بنا کر اس راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ یہ صوفیانہ فکر کا اہم نکتہ ہے کہ اصل دوری خدا کی طرف سے نہیں بلکہ انسان کی طرف سے ہوتی ہے۔
اپنے نگار کے لیے آہ میں بے قرار تھا
پھر بھی نہ میں نے آہ کی آہ سے میں خفا ہوا
یہاں ایک لطیف نکتہ بیان ہوا ہے: عاشق اپنے محبوب کے لیے بے قرار تو ہے، مگر وہ اپنی اس بے قراری کا بھی صحیح اظہار نہیں کرتا۔ گویا وہ اپنی ہی فطرت، اپنی ہی سچائی سے روگردانی کرتا ہے۔ ’’آہ سے خفا ہونا‘‘ دراصل اپنے جذبے کے انکار کی علامت ہے۔
دوسرا مجموعۂ اشعار
میں نے سنا ہے عزم سفر کر رہا ہے تو
عشق حریف و یار دگر کر رہا ہے تو
یہ شعر محبوب سے شکوہ ہے کہ وہ کسی اور طرف مائل ہو رہا ہے۔ صوفیانہ معنی میں یہ انسان کی اس حالت کو ظاہر کرتا ہے جب وہ خدا کی بجائے دنیاوی محبتوں میں الجھ جاتا ہے۔
تو اجنبی ہے دہر میں دشمن ہے اک جہان
کس جا کا قصد خستہ جگر کر رہا ہے تو
یہاں دنیا کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ یہ جگہ انسان کے لیے اجنبی اور بسا اوقات دشمن ہے۔ ایسے میں اگر انسان اپنے اصل (خدا) کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جائے تو یہ اس کی نادانی ہے۔
تو مجھ سے خود کو چھین کے بیگانوں میں نہ جا
چپکے سے سوئے غیر نظر کر رہا ہے تو
یہ شعر محبت کی شدت اور غیرت کو ظاہر کرتا ہے۔ عاشق محبوب سے کہتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر ’’غیروں‘‘ کی طرف نہ جائے۔ صوفیانہ سطح پر ’’غیر‘‘ ہر وہ شے ہے جو خدا کے سوا ہو۔
اے چاند چرخ زیر و زبر ہے ترے لیے
مجھ کو خراب و زیر و زبر کر رہا ہے تو
محبوب (چاند) کے لیے تو پوری کائنات گردش میں ہے، مگر عاشق کے لیے وہی محبوب باعثِ اضطراب بن جاتا ہے۔ یہ عشق کی دوہری کیفیت ہے—محبوب کے لیے عزت، عاشق کے لیے آزمائش۔
پیمان و عہد مجھ سے کیے تھے وہ کیا ہوئے
کیا عہد تھے کہ جن سے مفر کر رہا ہے تو
یہاں وعدہ خلافی کا شکوہ ہے، جو دراصل انسان کے اپنے عہد (عہدِ الست) کی طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے—وہ وعدہ جو انسان نے خدا سے کیا تھا مگر دنیا میں آ کر بھول گیا۔
تیرے قدم وجود و عدم سے بلند ہیں
پھر کیوں وجود ہی سے سفر کر رہا ہے تو
یہ نہایت گہرا صوفیانہ شعر ہے۔ محبوب (حق) وجود و عدم دونوں سے ماورا ہے، مگر انسان ابھی تک مادی دنیا (وجود) کے دائرے میں الجھا ہوا ہے اور حقیقت تک نہیں پہنچ پا رہا۔
اے دوزخ و بہشت ترے امر کے غلام
کیوں یہ بہشت مجھ پہ سقر کر رہا ہے تو
یہاں جنت اور جہنم دونوں کو خدا کے تابع بتایا گیا ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ اگر سب کچھ تیرے اختیار میں ہے تو پھر میری حالت کیوں ایسی ہے کہ جنت بھی مجھے جہنم معلوم ہو رہی ہے؟ یہ عشق کی شدت کا اظہار ہے۔
ہے بسکہ آگ جاں مری تو پھر بھی خوش نہیں
کیوں رخ مرا فراق سے زر کر رہا ہے تو
عاشق کہتا ہے کہ میرا دل پہلے ہی عشق کی آگ میں جل رہا ہے، پھر بھی تو مجھے فراق میں مبتلا رکھے ہوئے ہے۔ ’’زر ہونا‘‘ یعنی زرد پڑ جانا، جو غم اور جدائی کی علامت ہے۔
غم سے سیاہ چاند ہو گر رخ ترا چھپے
کیوں چاند کے گہن کا سفر کر رہا ہے تو
یہاں ’’چاند کا گہن‘‘ ایک خوبصورت استعارہ ہے۔ محبوب کا چھپ جانا گویا کائنات میں اندھیرا پھیل جانا ہے۔ عاشق اس کیفیت کو برداشت نہیں کر پاتا۔
ہوتا ہوں خشک لب میں تری خشک روئی سے
اشکوں سے آنکھ کیوں مری تر کر رہا ہے تو
یہ آخری شعر عاشق کی انتہا درجے کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف وہ پیاسا اور محروم ہے، دوسری طرف اس کی آنکھیں اشکبار ہیں۔ یہ تضاد عشق کی گہری داخلی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
برصغیر میں رومی کی مثنوی کے کئی تراجم ہوئے، جن میں ’’پیراہن یوسفی‘‘ خاص اہمیت رکھتا ہے، جس کے مترجم محمد یوسف علی شاہ ہیں۔ اس ترجمے میں متن اور اردو ترجمہ ساتھ ساتھ پیش کیا گیا ہے، جو قاری کو اصل مفہوم تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح ’’شجرۂ معرفت‘‘ (از غلام حیدر کوپا) اور ’’کشف العلوم‘‘ (از مولانا ہدایت علی لکھنوی) بھی اہم تراجم میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اردو داں طبقے کو رومی کی فکر سے روشناس کرایا۔
رومی کی فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنی اصل سے کٹا ہوا ہے اور اس کا اصل مقصد اسی اصل کی طرف واپسی ہے۔ یہ واپسی عقل کے ذریعے نہیں بلکہ عشق کے ذریعے ممکن ہے۔ جب انسان اپنے نفس، انا اور خواہشات کو مٹا دیتا ہے تو وہ حقیقتِ مطلقہ سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ یہی رومی کا پیغام ہے، جو آج بھی اسی طرح تازہ اور مؤثر ہے جیسے آٹھ سو سال پہلے تھا۔
***
حوالے کتب
1- مثنوی معنوی، دفتر پنجم، مولانا جلال الدین رومی۔ مطبع بریل، لندن، 1944۔
2- پیراہن یوسفی (ترجمہ مثنوی معنوی)، محمد یوسف علی شاہ۔ (ناشر اور سنِ اشاعت دستیاب نہیں)۔
3- دیوان شمس تبریزی، مولانا جلال الدین رومی۔ منشی نول کشور، لکھنؤ، 1882۔
***
Muhammad Nadeem Mohiuddin,
Columnist and Researcher,
Hyderabad
***
جلد(1) شمارہ (8) مئی 2026

No comments:
Post a Comment