محمد عبدالرحمن(کالم نگار،مہاراشٹر)
اردو زبان دراصل برصغیر میں باہر سے آنے والی قوموں—خصوصاً عرب، ترک اور ایرانی مسلمانوں—اور مقامی باشندوں کے سماجی، معاشرتی، سیاسی اور تجارتی روابط کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس میل جول کے نتیجے میں جو مخلوط زبان پیدا ہوئی وہ ابتدا میں ہندی، ہندوی، دہلوی، گجری، دکنی، ریختہ اور اردوئے معلیٰ جیسے مختلف ناموں سے جانی گئی اور بعد میں یہی زبان “اردو” کے نام سے معروف ہوئی۔
اردو کے آغاز کے سلسلے میں ماہرینِ لسانیات نے مختلف بنیادوں پر اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ بعض نے تاریخی حالات اور سیاسی واقعات کو بنیاد بنایا، بعض نے لسانی خصوصیات اور قواعدی مماثلتوں کو دلیل بنایا، جبکہ کچھ محققین نے ضمنی طور پر اپنی تصانیف میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ چند محققین ایسے بھی ہیں جنہوں نے باقاعدہ کتابیں تصنیف کر کے اپنے نظریے کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔
ضمنی نظریات پیش کرنے والے محققین
میرامن نے ضمنی طور پر اردو کے آغاز کو عہدِ اکبری سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق اردو ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی میل جول کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح سر سید احمد خان نے اردو کی ابتدا کو شاہجہاں کے عہد سے وابستہ کیا اور اردو کو ایک مخلوط زبان قرار دیا۔ ان کے علاوہ بھی کئی اہلِ علم نے اپنی کتابوں میں مختصر طور پر اردو کی پیدائش سے متعلق مختلف خیالات پیش کیے ہیں۔
محمد حسین آزاد کا نظریہ
اردو زبان کی پیدائش کے سلسلے میں جن ابتدائی اور اہم اہلِ علم نے اظہارِ خیال کیا، ان میں محمد حسین آزاد کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اردو کے نامور ادیب، محقق اور نقاد تھے۔ اردو زبان کی تاریخ پر ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ”آبِ حیات“ کو بنیادی مآخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ یہ کتاب زیادہ تر اردو شاعری کی تاریخ سے متعلق ہے، تاہم آزاد نے ضمنی طور پر اردو زبان کے آغاز اور ارتقا پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔
محمد حسین آزاد کے نزدیک اردو زبان کی اصل برج بھاشا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اردو برج بھاشا سے ترقی پا کر وجود میں آئی۔ اس نظریے کی بنیاد انہوں نے تاریخی حالات پر رکھی۔ آزاد کے مطابق مغل بادشاہوں کے عہد میں حکومت کا مرکزی علاقہ آگرہ تھا اور آگرہ و نواح میں برج بھاشا بولی جاتی تھی۔ چونکہ شاہی دربار، فوج اور انتظامی ڈھانچہ اسی خطے میں قائم تھا، اس لیے آزاد کا خیال تھا کہ جو زبان وہاں بولی جاتی تھی وہی آگے چل کر اردو کی بنیاد بنی۔
آزاد یہ بھی کہتے ہیں کہ مغل بادشاہوں کے دور میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان سماجی، معاشرتی اور سیاسی اختلاط بڑھا۔ اس میل جول کے نتیجے میں مقامی بولیوں اور مسلمانوں کی لائی ہوئی زبانوں، خصوصاً فارسی اور عربی، کے الفاظ ایک دوسرے میں شامل ہوئے۔ یوں ایک نئی مخلوط زبان وجود میں آئی جسے بعد میں اردو کے نام سے شناخت ملی۔ آزاد کے نزدیک اردو دراصل اسی اختلاط کی پیداوار ہے۔
محمد حسین آزاد نے اردو کے ارتقا میں تاریخی عوامل کو زیادہ اہمیت دی اور لسانی دلائل یا قواعدی تجزیے پر زیادہ زور نہیں دیا۔ انہوں نے برج بھاشا اور اردو کے مابین مماثلت کی طرف اشارہ تو کیا، لیکن اس مماثلت کو ثابت کرنے کے لیے کسی باقاعدہ لسانی تجزیے، صوتیاتی مطالعے یا قواعدی شواہد کو پیش نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے محققین نے ان کے نظریے کو زیادہ مضبوط نہیں مانا۔
نقادوں کے مطابق اگر اردو واقعی برج بھاشا سے نکلی ہوتی تو اردو کے قواعد، جملوں کی ساخت اور صرف و نحو میں برج بھاشا کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اردو کا بنیادی ڈھانچہ کھڑی بولی سے زیادہ قریب ہے۔ اسی بنا پر محمد حسین آزاد کے نظریے کو تاریخی قیاس پر مبنی قرار دیا جاتا ہے، نہ کہ مستند لسانی تحقیق پر۔
اس کے باوجود یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ محمد حسین آزاد کا نظریہ اردو کی تاریخ میں ایک ابتدائی اور اہم کوشش ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اردو کو محض ایک ادبی زبان نہیں بلکہ ایک سماجی اور تہذیبی عمل کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا یہ تصور کہ اردو ہندو مسلم میل جول سے پیدا ہوئی، بعد کے تقریباً تمام محققین نے کسی نہ کسی صورت میں قبول کیا۔
الغرض محمد حسین آزاد کا نظریہ اگرچہ لسانی اور تحقیقی معیار پر پورا نہیں اترتا، تاہم اردو زبان کی تاریخ نویسی میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔ انہوں نے اردو کے آغاز پر بحث کا دروازہ کھولا اور بعد کے محققین کے لیے تحقیق کی راہیں ہموار کیں۔
محی الدین قادری زورؔ
اردو زبان کی پیدائش کے سلسلے میں جن محققین نے باقاعدہ اور منظم انداز میں اپنے نظریات پیش کیے ہیں، ان میں محی الدین قادری زورؔ کا نام نہایت اہم ہے۔ وہ ایک ممتاز ماہرِ لسانیات، محقق اور ادیب تھے۔ اردو، فارسی اور عربی کے علاوہ ہندوستانی زبانوں پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ اردو زبان کے آغاز کے بارے میں انہوں نے اپنا نظریہ اپنی مشہور کتاب ”ہندوستانی لسانیات“ میں پیش کیا ہے۔
محی الدین قادری زورؔ کے مطابق اردو زبان کا ماخذ پنجابی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اردو اس زبان سے ترقی پا کر وجود میں آئی جو بارہویں صدی عیسوی میں پنجاب میں بولی جاتی تھی۔ ان کے نزدیک اردو کی بنیاد اس وقت پڑ چکی تھی جب مسلمان ابھی دہلی فتح نہیں کر سکے تھے۔ یعنی اردو کا آغاز دہلی میں نہیں بلکہ پنجاب میں ہوا اور بعد میں یہ زبان دہلی پہنچی۔
قادری زورؔ کا کہنا ہے کہ جب مسلمان فاتحین پنجاب کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے تو ان کا مقامی پنجابی بولنے والوں سے قریبی میل جول ہوا۔ اس میل جول کے نتیجے میں عربی، فارسی اور ترکی الفاظ پنجابی زبان میں شامل ہوئے اور یوں ایک نئی مخلوط زبان وجود میں آئی۔ یہی زبان آگے چل کر اردو کی ابتدائی شکل بنی۔
وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے دہلی کو پایۂ تخت بنایا تو یہ زبان وہاں پہنچی اور دربار، فوج اور عوام میں رائج ہو گئی۔ دہلی پہنچنے کے بعد اس زبان کو زیادہ وسعت ملی اور رفتہ رفتہ یہ پورے شمالی ہند میں پھیل گئی۔ ان کے نزدیک دہلی اردو کی جائے پیدائش نہیں بلکہ اس کی تشہیر اور ترقی کا مرکز ہے۔
محی الدین قادری زورؔ نے اپنے نظریے کے حق میں تاریخی اور جغرافیائی دلائل پیش کیے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمانوں کی آمد اور قیام کا پہلا بڑا مرکز پنجاب تھا، اس لیے زبان کی ابتدائی تشکیل بھی وہیں ہوئی ہوگی۔ تاہم انہوں نے لسانی شواہد کو نسبتاً کم اور تاریخی قیاس کو زیادہ بنیاد بنایا۔
نقادوں کے مطابق محی الدین قادری زورؔ کا نظریہ اس لیے کمزور سمجھا جاتا ہے کہ اردو اور پنجابی کے درمیان اگرچہ کچھ مماثلتیں موجود ہیں، لیکن اردو کی صرف و نحو، صوتیات اور جملوں کی ساخت کھڑی بولی سے زیادہ قریب ہے۔ مزید یہ کہ اردو کے قدیم ترین ادبی نمونے دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ملتے ہیں، جو پنجابی نظریے کے خلاف جاتے ہیں۔
اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ محی الدین قادری زورؔ نے اردو کے آغاز پر بحث کو ایک نیا رخ دیا اور پنجاب کے کردار کو نمایاں کیا۔ ان کی تحقیق نے حافظ محمود شیرانی جیسے محققین کو بھی متاثر کیا، جنہوں نے پنجابی نظریے کو مزید تفصیل اور دلائل کے ساتھ پیش کیا۔
الغرض محی الدین قادری زورؔ کا نظریہ اردو زبان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ بیشتر ماہرین نے اسے مکمل طور پر قبول نہیں کیا، لیکن اردو کے آغاز سے متعلق علمی مباحث میں اس نظریے کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔
حافظ محمود شیرانی کا نظریہ
اردو زبان کی پیدائش کے سلسلے میں جن محققین نے باقاعدہ تحقیق اور مضبوط دلائل کے ساتھ اپنے نظریات پیش کیے ہیں، ان میں حافظ محمود شیرانی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ وہ ایک جید محقق، ماہرِ لسانیات اور نقاد تھے۔ اردو زبان کے آغاز پر ان کی شہرۂ آفاق کتاب ”پنجاب میں اردو“ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تاریخی، لسانی اور تہذیبی دلائل کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو زبان کی پیدائش پنجاب میں ہوئی۔
حافظ محمود شیرانی کے مطابق اردو اور پنجابی زبانوں کی ساخت، الفاظ، جملوں کی ترکیب اور قواعد میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دونوں زبانوں کی صرف و نحو تقریباً ایک جیسی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اردو کا بنیادی سانچہ پنجابی زبان سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہی لسانی مماثلت ان کے نظریے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
تاریخی اعتبار سے حافظ محمود شیرانی کا کہنا ہے کہ مسلمان فاتحین اور حکمران برصغیر میں پنجاب کے راستے داخل ہوئے۔ محمود غزنوی نے لاہور کو دارالحکومت بنایا اور ایک طویل عرصے تک یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم رہی۔ اس دوران مسلمانوں اور مقامی پنجابی باشندوں کے درمیان گہرے سماجی، معاشرتی اور تہذیبی تعلقات قائم ہوئے۔ ان روابط کے نتیجے میں عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کے الفاظ پنجابی میں شامل ہوتے گئے اور یوں ایک نئی مخلوط زبان وجود میں آئی۔
شیرانی کے مطابق یہی زبان فوجیوں، سپاہیوں، تاجروں اور درباری اہلکاروں کے ساتھ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پھیلی۔ خاص طور پر محمد بن تغلق کے دور میں یہ زبان دکن پہنچی، جہاں صوفیوں اور شعرا نے اسے اپنایا اور اس کی پرورش کی۔ دکن میں اس زبان کو ادبی اظہار کا وسیلہ بنایا گیا، جس سے اس کی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
بعد ازاں یہی زبان دہلی پہنچی اور وہاں کے سیاسی، ادبی اور تہذیبی ماحول میں رچ بس گئی۔ دہلی پہنچ کر اس زبان نے مزید وسعت اختیار کی اور شمالی ہند کے دیگر علاقوں میں پھیل گئی۔ اس طرح حافظ محمود شیرانی کے نزدیک دہلی اردو کی جائے پیدائش نہیں بلکہ اس کی ترقی اور فروغ کا مرکز ہے۔
حافظ محمود شیرانی نے اپنے نظریے کی تائید کے لیے اردو اور پنجابی کے کئی الفاظ، محاورات اور جملوں کی ساخت کا تقابلی مطالعہ پیش کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ دونوں زبانوں کے قواعد اور لسانی نظام میں نمایاں مشابہت پائی جاتی ہے، جو اتفاقی نہیں بلکہ ارتقائی رشتے کی علامت ہے۔
تاہم ناقدین کے نزدیک حافظ محمود شیرانی کا نظریہ بھی مکمل طور پر قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق اردو کا بنیادی ڈھانچہ اور قدیم ترین ادبی نمونے کھڑی بولی کے علاقے، یعنی دہلی اور اس کے نواح سے ملتے ہیں۔ مزید یہ کہ محض لسانی مماثلت کسی زبان کے ماخذ کا حتمی ثبوت نہیں ہو سکتی، کیونکہ قریبی علاقوں کی زبانیں ایک دوسرے سے اثر قبول کرتی رہتی ہیں۔
اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حافظ محمود شیرانی نے اردو کے آغاز پر سب سے زیادہ منظم، مدلل اور تحقیقی انداز میں کام کیا۔ انہوں نے اردو لسانیات کو ایک مضبوط علمی بنیاد فراہم کی اور اردو کے پنجابی نظریے کو سنجیدہ علمی بحث کا موضوع بنایا۔
الغرض حافظ محمود شیرانی کا نظریہ اردو زبان کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اگرچہ بیشتر ماہرین آج اردو کی اصل کو کھڑی بولی سے جوڑتے ہیں، لیکن پنجابی کے کردار اور اثرات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں، اور اس پہلو کو اجاگر کرنے کا سہرا حافظ محمود شیرانی ہی کے سر جاتا ہے۔
سید سلیمان ندوی
سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب ”نقوشِ سلیمانی“ میں اردو کے سندھی ماخذ کا نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق عرب مسلمان سب سے پہلے سندھ میں داخل ہوئے اور وہاں تقریباً چار سو سال تک حکومت کرتے رہے۔ اس دوران مقامی لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان سماجی اور تجارتی تعلقات قائم ہوئے، جس سے ایک مخلوط زبان وجود میں آئی جو آگے چل کر اردو بنی۔
نصیر الدین ہاشمی
نصیر الدین ہاشمی نے اپنی کتاب ”دکن میں اردو“ میں یہ نظریہ پیش کیا کہ اردو زبان دکنی بولی سے نکلی ہے۔ ان کے مطابق ساتویں صدی میں عرب تاجر مالابار کے ساحلی علاقوں میں آئے اور مقامی لوگوں سے میل جول کے نتیجے میں عربی اور مقامی بولیوں کے الفاظ مل کر ایک نئی زبان بنی۔ تاہم بعد کے محققین نے تاریخی اور لسانی شواہد کی بنیاد پر اس نظریے کو رد کر دیا۔
شوکت سبزواری
شوکت سبزواری نے ابتدا میں اپنی کتاب ”اردو زبان کا ارتقا“ میں اردو کو پالی زبان سے ماخوذ قرار دیا، لیکن بعد میں خود ہی اس نظریے کو رد کر دیا۔ اپنی دوسری کتاب ”داستانِ زبانِ اردو“ میں انہوں نے اردو کو کھڑی بولی پر مبنی قرار دیا، جو دہلی اور میرٹھ کے آس پاس بولی جاتی تھی۔ انہوں نے اس نظریے کی تفصیل سے وضاحت کی اور دیگر محققین کے نظریات پر بھی تنقیدی گفتگو کی۔
مسعود حسین خاں
مسعود حسین خاں کے مطابق اردو کی بنیاد کھڑی بولی ہے، تاہم وہ اسے محض ایک بولی تک محدود نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلی اور اس کے نواح میں چار بولیاں—کھڑی بولی، ہریانی، میواتی اور برج بھاشا—بولی جاتی تھیں، جنہوں نے مختلف ادوار میں اردو پر اثرات ڈالے۔ ان کے نزدیک دہلی اردو کا مولد ہے اور ان بولیوں میں کھڑی بولی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
سہیل احمد بخاری
سہیل احمد بخاری نے ابتدا میں اردو کو کھڑی بولی سے ماخوذ قرار دیا، لیکن بعد میں اپنی کتاب ”اردو کے روپ“ میں یہ نیا اور متنازع نظریہ پیش کیا کہ اردو کا تعلق دراوڑی زبانوں سے ہے اور اس کی جائے پیدائش اڑیسہ ہے۔ اس نظریے کو علمی حلقوں میں سراسر مسترد کر دیا گیا۔
گیان چند جین
گیان چند جین نے اردو کی اصل کھڑی بولی کو قرار دیا اور پنجابی، ہریانی، برج بھاشا اور دکنی کے نظریات کو رد کیا۔ ان کے مطابق اردو، ہندی اور کھڑی بولی بنیادی طور پر ایک ہی زبان کے مختلف روپ ہیں۔ ان کا مشہور قول ہے:
“اردو کے آغاز کو دو منزلوں میں ڈھونڈھنا چاہیے: پہلی کھڑی بولی کا آغاز، دوسری کھڑی بولی میں عربی و فارسی الفاظ کا شمول، جس کا نام اردو پڑ گیا۔”
ان تمام نظریات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگرچہ اردو کے آغاز کے بارے میں مختلف اور متضاد آرا پائی جاتی ہیں، لیکن اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ کھڑی بولی اردو کی بنیادی اساس ہے۔ کسی بھی محقق نے کھڑی بولی کے اثرات سے مکمل انکار نہیں کیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اردو زبان دہلی اور اس کے نواح میں بولی جانے والی کھڑی بولی سے ارتقا پذیر ہوئی اور عربی، فارسی، ترکی اور مقامی بولیوں کے الفاظ و اثرات نے اسے ایک ہمہ گیر، شیریں اور تہذیبی زبان بنا دیا۔
***
Abul Rehman Abdul Sattar,
Deulgaon Mahi, Buldhana, Maharashtra.431606.
abdulrehmannanded@gmail.com
Cell.+91 9822450674
جلد(1) شمارہ (5) فروری 2026
Theories on the Origin of the Urdu Language

No comments:
Post a Comment