Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Saturday, June 13, 2026

اختر حسین رائے پوری کی خود نوشت ’’گردِ راہ‘‘ کا مطالعہ


 محمد کاشف  ( اسسٹنٹ پروفیسر)

  اختر حسین رائے پوری ادیب،ناقد،عالم اور معلم کی حیثیت سے ادبی دنیا میں ایک معتبر نام ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان میںانہیں صرف’’ ادب و انقلاب‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے یا پھر ترقی پسند تحریک کے ایک رکن کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔
اختر حسین رائے پوری نے ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دنوں میں اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔ اور اس تحریک سے آخر دم تک منسلک رہے۔ آزادی کے بعد یونیسکو کے عہدے دار کی حیثیت سے مختلف ممالک میں تعلیمی امور کے انتظام میں خدمت انجام دیں۔ کئی ممالک میں کام اور دیس بدیس کے ادبی مشاہیر سے دوستانہ مراسم نے ان کے ذہنی افق کو جس طرح سے وسیع کیا ہے ہم ان کی خود نوشت’’ گرد ِراہ ‘‘کو پڑھ کر اندازہ کرسکتے ہیں۔
گردِ راہ قسط وار افکار کے مختلف شماروں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ 1984میں کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس کے بارے میں مجنوں گورکھپوری کے خیالات ملاحظہ کریں:
’’ آپ بیتی کے پیرائے ہیں دراصل یہ پچھلی پچاس ساٹھ برسوں کی ادبی ، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی زندہ دستاویز ہے اور ڈاکٹر اختر حسین رائے پری کا نام ہی اس کے مستند اور معتبر ہونے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ وہ راہی بھی ہیں اور راہبر بھی۔ ان کی یہ کتاب ادب اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے سنجیدہ حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔‘‘
گردِ راہ میں بیس ابواب ہیں جو اختر حسین رائے پوری کی ابتدائی زندگی سے شروع ہوکرملک در ملک ان کے قیام تک کے تمام حالات مشاہدات اور وہاں کے احوال پر مشتمل ہے۔ یہ خود نوشت دراصل بقول ان کے حیات اور شخصیت کو اجاگر کرنے کے بجائے ماحول،مشاہدے اور مطالعے پر مبنی ہے۔اس لئے انہوں نے اس بات کا اقرار بھی کر لیا ہے کہ اس میں آپ بیتی کم اور جگ بیتی زیادہ ہے۔ مطالعے کے دوران اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔حرف آغاز میں تاریخ کے حوالے سے جو باتیں انھوں نے کہی ہیں اس سلسلے میں ہم ان کے زاوئے نگاہ کا پوری کتاب میں مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ مشہور مورخ گینی کے قول کو نقل کیا ہے کہ ’’انسانیت کی تاریخ حماقتوں اور جرائم کے دفتر کے سوا کچھ نہیں۔ اس خود نوشت میں دو عظیم جنگوں کے درمیان میں جو کچھ ہوا اور انسان نے قبائے انسانی کو جس طرح سے چاک کیا ہے کہ تہذیب کا ملمع دھل کر صاف ہو گیا۔بقول ان کے انسان اس طرح سے اوندھا پڑا ہے جہاں اس کے جد امجد نے باغ عدن یا پہاڑ کی کھوہ سے نکل کو خود کو پایا تھاـ‘‘۔
حرف آغاز میں تاریخ کے حوالے سے جو باتیں لکھی ہیں وہ بہت ہی بصیرت افروز ہیں۔ اور انہیں سے ہم اہم تاریخ اور تاریخی شخصیتوں سے ان کی دلچسپیکا اندازہ کر سکتے ہیں۔خود لکھتے ہیں:
’’ تاریخ انسان کی ہمہ جہت  جدو جہد کا تجربہ ہے۔ اور وقت کی سیاست اس کا جزو محض ہے۔۔۔تاریخ کا شعور تحریکوں اور شخصیتوں کے داخلی محرکات کو ظاہر کرتا اور ذہن کو پیش بینی کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔‘‘
یہ خیالات ان کی تاریخی شعور کو ہی نہ صرف اجاگر کرتے ہیں بلکہ تاریخی واقعات کے پس پردہ جو محرکات کام کرتے ہیں ان تک ہماری رسائی کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔
کتاب کے ابتدائی تین ابواب میں مصنف نے اپنے خاندانی کوائف،بچپن کے احوال،حصول تعلیم کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ ابتدائی تعلیم ہندی میڈیم اسکول سے ہوئی تعلیمی جستجوکے مختلف واقعات کا ذکر بھی کیا ہے۔
ان کی پیدائش 1912میں رائے پور میں ہوئی جوبھلائی سے قریب ہے۔ ان کے والدین جاگیردارانہخاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے والداکبرحسین حق کا تعلق پٹنہ سے تھا۔جدید تعلیم سے بہرور اور اس زمانے کیٹامس انجینیرنگ کالج کے فارغ التحصل تھے۔ اور رائے پور میں ان کی تعیناتیتھی اور وہیں انھوں نے شادی کر لی۔ ان کی والدہ بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ ان کی والدہ کے انتقال کے بعدوالد نے دوسری شادی کر لی۔ والدہ کی طرف سے وراثت میں خاصی جائداد ملی۔ان کے بچپن کے زمانے میں ہندو مسلم مشترکہ کلچر کا بھی بیان بڑی عمدگی سے کیا ہے۔
اختر حسین کی ابتدائی تعلیم ہندی کے پرائمری اسکول میں ہوئی۔ عربی،فارسی اور اردو کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔سولہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔انہیں دنوں مضمون نگاری کی شروعات کی۔ پہلے ہندی میں لکھنے سے آغازکیا۔ اس بارے میں جوتفصیلات درج کی ہیں وہ واقعی حوصلہ افزا ہیں۔بچپن میں ان کی ذہنی تشکیل جس خطوط پر استوار ہوئی ان میں تحریک آزادی، ترک موالات اور خلافت تحریک کا بھی رول رہاہے۔ان واقعات کے سماج پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوئے۔مزدور کسانوں میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری کی لہر پیدا ہوئی۔وہ اب اپنی نجات کا راستہ تلاش کرنے لگے تھے۔بقول ان کے وہ پرانی قدریں جواٹلسمجھی جاتی تھیں رفتہ رفتہ مسمار ہونے لگیں۔ میٹرک کے دنوں میںبر ٹرینڈ رسل انگر سول کی تحریریں ان کی نظر سے گزریں،جن کے اثرات ان کی ذہنی نشو نما پر بہت دیکھنے کو ملتے ہیں ۔جو وہ پندرہ سال میں کائنات پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔اسرار کائنات کو سمجھنے کے لیے نرمدا کے کنارے گھنے جنگل میں سادھو کے آشرم میں جانے کے واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔ان کی ابتدائی زندگی میں پہلی تبدیلی اس وقت آئی جب انھوں نے تعلیم کی غرض سے کلکتے کا سفر کیا۔وہاں کے قیام اور مختلف لوگوں سے ان کی ملاقات خاص طور پر ہندی اخبار میں ان کے کام کی تفصیلات اور تعلیمی سفر بھی جاری رکھناان  تمام کاموں کا تذکرہ دوسرے باب میں کیا ہے۔ مصنف اپنی زندگی کے حالات کے بیان کے ساتھ ساتھ سیاسی،سماجی اور مقامی صورت حال پر تبصرہ بھی کرتے جاتے ہیں۔جہاں لگتا ہے کہ تبصرہ طویل ہو گیا ہے تو اپنی زندگی کے حالات کے بیان پر واپس آجاتے ہیں۔یہ بات صحیح ہے مصنف نے سیاسی،ادبی ، لسانی ، ثقافتی اور معاشرتی امور کو اجاگر کرنے میں زیادہ توجہ دی ہے۔اس طرح واقعات پر شخصیات کے بیان کو ترجیح دی ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد،جواہر لال نہرو،رابندر ناتھ ٹیگور،علامہ اقبال،ڈاکٹرذاکرحسین،سیف الدین کچلو،پروفیسر مجیب،پطرس بخاری،آغا حشر کاشمیری،منٹو،مجاز،اصغر گونڈوی،جگر مراد آبادی،سجاد ظہیر،رشید احمد صدیقی،ن م راشد،چراغ حسن حسرت کے سیرت کے کچھ خدو خال اور خدمات کو بھی اجاگر کیا ہے۔علاوہ ازیں گوتم بدھ،نیوٹن ،کارل مارکس، ہیگل، فردوسی، حافظ،رومی،ٹالسٹائے،آسکر وائلڈ،مسولینی،ہٹلر،سروجنی نائڈو اور خالدہ ادیب جیسی نامور عالمی شہرت یافتہ شخصیات کے افکار و خیالات کو بھی تحریرکیا ہے۔
چوتھے باب میں مولوی عبد الحق کے ساتھ ملاقات اور ان کے ساتھ کام کرنے کے واقعات کا تفصیل تذکرہ کیا ہے۔جب کہ انھوں نے لکھا ہے کہ مولوی عبد الحق ان کی صلاحیت سے بہت متاثر تھے۔چونکہ اختر صاحب کو ہندی اردو کے ساتھ انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا۔اس وجہ سے عبد الحق نے انگریزی اردو ڈکشنری کی ترتیب میں ان کا تعاون حاصل کیا۔اس کے علاوہ بہت ایسے واقعات کا بھی تذکرہ ملتا ہے جس سے مولوی عبد الحق کی شخصیت کے ان پہلوئوں پر بھی روشنی پڑتی ہے جودوسرے سوانحی کتابوں میں نہیں ملتی ہیں۔ان کی شادی میں مولوی صاحب کے مرکزی کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔
آپ بیتی کے پانچویں باب میں قیام یورپ کا تذکرہ ہے۔1937میں پی ایچ ڈی کرنے کی غرض سے پیرس گئے تھے۔پیرس کے قیام کے دوران کے جنگ عظیم دوم کے پہلے کے فرانس کے حالات ادب وآرٹمیں فرانس کی فوقیت،طرز زندگی تعلیمی ماحول اور خالدہ ادیب خانم سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔چھٹے باب میں یورپ سے واپسی کے بعد کے حالات رقم کئے گئے ہیں جس میں امرتسر کالج میں ملازمت اور پھر آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت کا ذکر ہے۔یہاں انھیں کرشن چندر،ن،م راشد اور منٹو جیسی شخصیت کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ن۔م راشد اور شاعری میں ان کے تجربے کا مختصراً جائزہ بھی لیا ہے۔انھوں نے لکھا کہ چالیس سال کے دوران اردو شاعری میں جو ہمہ جہت اضافہ ہوا ہے اس میں راشد کا سب سے بڑا حصہ ہے۔منٹو سے اپنی ملاقاتوں اور ان کی افسانہ نگاری کو بھی سراہا ہے۔اور لکھا ہے کہ منٹو نے فرد کی داخلی کیفیت اور کشمکش کو اپنے فن کا موضوع بنایا اور منافقت کے روپ کا پردہ چاک کیا ہے۔اس باب میں اس دور کے ادبی معرکے اور مشاعروں میں ہنگاموں کا ذکر پر لطف انداز میں کیا گیا ہے۔ساتواں باب ’’پاکستان ناگزیر  تھا‘‘ کے عنوان سے قیام پاکستان سے متعلق حالات و واقعات کا ذکر ہے۔اس میں اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ کس طرح ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں عدم اعتماد کی فضا کا جو رول ہے اسے ہم دیکھ سکتے ہیں ۔اس باب میں صاف طور پر لکھا ہے کہ وہ حالات کیسے اور کس طرح پیدا ہوئے جس کی وجہ سے ایک الگ ملک کا قیام ناگزیر ہوگیا۔اور تقسیم ہند سے متعلق برٹش حکومت کا جو ریاکارانہ رویہ رہا ہے اسے بھی سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔
آٹھواں باب ’’ دنیا بدل گئی‘‘کے عنوان سے ہے۔ اس میں یونیسکو کی ملازمت کا ذکر ہے۔اس آپ بیتی کے دس ابواب غیر ممالک کے اسفار کے ذکر سے بہبھرے ہوئیہیں۔مصنف کو اقوام متحدہ کی ملازمت کے دوران کئی ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ان میں یورپ،ایران،فلسطن،اسپین،جاپان،امریکہ،صومالیہ وغیرہ ہیں۔وہاں کے حالات و واقعات،تہذیب و تمدن اور تعلیمی صورت حال اور سیاسی پیچیدگیوں کا ذکر ایک دلچسپ سفر نامے کے طور پر کیا ہے۔اگر حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس کے سینے میں کئی ادوار اور کئی ممالک کی تہذیب و تمدن کے نقوش محفوظ ہیں۔بقول صہبا لکھنوی:
’’ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی خود نوشت سوانح عمری،علم و ادب،تہذیب و فکر،سیاست و تمدن،سیر و سیاحت،مشاہدہ و مطالعہ اور عصری آگہی کی ایک ایسی جامع دستاویز ہے جس کی نظیر سوانح عمریوں کے سرمائے میں شاید ہی دستیاب ہو۔‘‘فلیپ گردراہ
گردراہ کے آخری ابواب میں عالمانہ اور فکر انگیز مضامین شامل ہیں۔ان ابواب میںاختر حسین رائے پوری کی علم و ادب،تہذیب و تمدن،سیاست،تعلیم اور حالات حاضرہ اور تاریخی شعور سے متعلق بصیرت افروز اور حقائق سے بھر پورجو باتیں لکھی ہیں وہ ان کی علمیت اور گہرے مشاہدے کی غماز ہیں۔یہ خود نوشت ان کی لسانی تخلیقی اور اسلوبی خصوصیت کی آئینہ دار ہے جس میںاس عہد اورمصنف کی مطالعے اور مشاہدے کی بھر پور عکاسی ملتی ہے۔ 
٭٭٭ 
 Dr.Mohd Kashif. Assistant Professor. Dept. of Urdu. University of Hyderabad.
جلد(1)   شمارہ (6)   مارچ 2026
 Vol. 01  Issue 06    March  2026
📚 A Study of Akhtar Husain Raipuri’s Autobiography Gard-e-Rah

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...