✍️ ڈاکٹر محیا عبدالرحمانووا
(اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو، ازبیکستان)
1947ء میں ہندوستان کو آزادی حاصل ہونے کے بعد ہی تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کا باقاعدگی سے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ۱۹۹۱ء کومتذکرہ یونیورسٹی کی شرقیاتی فیکلٹی انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز میں تبدیل ہو گئی ، اس کا ایک حصہ جنوب ایشیائی زبانوں کا ڈیپارٹمنٹ ہے جہاں اردو پڑھائی جاتی ہے۔
یہاں اردو کے متعلق جو کام ہوتا آ رہا ہے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
جہاں تک درس و تدریس کا تعلق ہے تو شروع میں جب ۱۹۴۷ء میں شعبہ قائم ہوا تو اس کے اولین استاد روسی اور ہندوستانی اشخاص تھے۔ ازبیکستان میں اردو کی ترقی و ترویج میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔ شروع شروع میں اردو پڑھانے کی نصابی کتابیں نہ ہونے کے سبب ان ہی حضرات کی طرف سے روسی اردو لغت، اردو ریڈر مرتب کئے گئے تھے۔
ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں بی اے کے طلبا کو ثانوی زبان کے طور ہندی پڑھائی جاتی ہے۔ لازمی مضامین میں انگریزی، ہندوستان کی تاریخ، جغرافیہ، ادب، فلسفہ، صحافت وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن بنیادی توجہ اردو کی گرامر پر ہوتی ہے۔ دوسرے کورس سے لے کر طلبا ہر سال کسی موضوع پر تحقیقی کام کرتے ہیں۔ بی اے فائنل میں طالب علم ڈگری ورک تیار کر کے اسے پیش کرتے ہیں جو عموماً اردو صرف و نحو یا ادب سے متعلق ہوتا ہے۔
آج کل اردو زبان کئی دوسری ا علی تعلیمی اداروں میں بھی پڑھا ئی جاتی ہے۔ یونیور سٹی آف ورلڈ لینگوجز ، یونیورسٹی اف ڈپلومسی ، ادارۂ موسیقی ، اسلامک یو نیو ر سٹی جیسے تعلیمی اداروں میں طالب علم اردو تین سال کے دوران پڑھتے ہیں۔تاشقند کے دو اسکولوں میں اردو کی تدریس ہورہی ہے، ایک عام اسکول ہے دوسرا لیسی ہے۔ ان میں سے بعض آگے چل کر اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیتے ہیں۔
اردو کے حوالے سے ہونے والے تحقیقی کام کے متعلق یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ میں اردو لسانیات پر رسیرچ کا کام ہمیشہ سے ایک اہم حصہ رہا ہے ۔پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے اردو ادب و زبان پر جو تحقیقی کام کیا گیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ازبیکستان میں اردو ، خاص طور سے دکھنیات پر کام کرنے والوں کی ایک فہرست بنائی جائے تو اس میں پروفیسر آزاد شماتوف کا نام سب سے اول آتا ہے۔بہمنی دور کے بہت سے شاعروں کی کاوشوں پر مثال کے طور پر میراں جی شمس العشاق کی موضوعاتی نظمیں" خوش نامہ"، "خوش نغز"،" شہادت التحقیق "سے لے کر گولکنڈہ کے ممتاز ادیب اور اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر سلطان محمد قلی قطب شاہ جس کا تخلص” معانی “تھا ان کی تخلیقات اور دوسرے قدیم متون کی روشنی میں انہوں نے دکھنی کے لسانی ساخت پر قابل قدر کام انجام دیا ہے۔ ازبیکستان اور دوسرے ممالک کے علمی اور تحقیقی جرائد میں انکے مقالے شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ذیل میں استاد صاحب کی چند اہم کاوشیں دی جاتی ہیں :"کلاسکل دکھنی (اٹھارہویں صدی کی جنوبی ہندوستانی، ماسکو،۱۹۸۴ ء"
“On the Linguistic Authenticity of the works of Amir Khusrov Dehlevi” (Indian Linguistics. Moscow., 1978), “Abu Rayhan Beruni and his contribution to the study of ancient Indian philology” (Sanskrit and ancient Indian culture. Part 2. Moscow., 1979), “Literature of the Southern Hindustani (texts from the monuments of the XV – XVIII centuries"(Moscow., 1988)," Essays on the historical lexicology of Hindi and Urdu XV - XVIII centuries. "Muslim" vocabulary in Hindustani "(Moscow., 1990), "Central and South Asia - Medieval Linguistic Area" Congress, Canada, 2000.
بر صغیر ہند اور بیرون ممالک کی دانشگاہوں میں آزاد شماتوف صاحب کے علمی کارناموں کی قدر افزائی ہو تی رہتی ہے۔
چنانچہ ۲۰۱۳ ء کے ۱۵ ؍اگست کو ہندوستان کے صدر پرنا ب مکھرجی کے ہاتھ سےپر وفیسرآزاد شماتوف کوجارج گریرسن انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل ہوا ۔استاد صاحب اپنے کام کے اتنے صادق تھے کہ عین ایک سال بعد ۱۵ ؍اگست کو ان کا انتقال ہو گیا ۔اردو کے سچے خدمت گزاروں میں ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ کے محبوب استاد ڈاکٹر تاشمرزہ خالمرزا ئف کا نام بھی ہے - "آزادی کے بعد ہندوستان میں اردو کی صورت حال" اس موضوع پر انہوں نے ڈاکٹریٹ کا کام کیا تھا۔مرزا صاحب اردو کی لغت ،لسانی ساخت اور قواعد کےبعض پہلوؤں پر قابل قدر کام کیا۔ انہوں نے ۲۰۰۳ء میں اردو ازبیک ڈکشنری مرتب کی جس کی ضرورت عرصے سے محسوس ہو رہی تھی۔ ازبیک زبان کو سرکاری حیثیت ملنے کے بعد اس کی مانگ اور بڑھ گئی۔ یہ تقریباً دس سال کی محنت کا ثمر ہے۔ اس سے آجکل اردو سیکھنے والےازبیک طلبہ استفادہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ ان اردو دان صاحبان کے کام بھی آ سکتی ہے جو ازبیک زبانسے تھوڑا بہت واقف ہونا چاہتے ہیں۔ دو سال بعد اردو ریڈر تیار ہوا ۔ ۲۰۱۳میں انہوں نے دوسری اردو ازبیک لغت کو مرتب کیا ۔اردو کے محسن مرزا صاحب نے اردو کی لغت نویسی کے شعبے میں جو کارہائے نمایاں کام سرانجام دیئے۔
ڈاکٹرا نصا ر الدین ابراہیموف صاحب ڈاکٹریٹ کے لیے "تزکی بابری " کا انتخاب کرکے بابر نا مہ میں ہندوستانی الفاظ کے استعمال کی فرکوینسی کا جائزہ لیا تھا اور اس نتائج میں آئے ہیں کہ بابر نامہ میں کل اردو ہندی کے چار سو سے زاید الفاظ ہیں ۔ آگے چل کر انہوں نے دونوں زبانوں کے لفظیات کو تحقیق کرکے ۱۹۹۸ء میں اردو ازبیک مشترکالفاظ کی لغت کو ترتیب دی۔
اب میں ازبیکستان میں اردو کے سب سے بڑے سرپرست رحمن بیردی محمد جانوف مرحوم کی خدمات پر بولنا چاہتی ہوں ۔ آپ اردو کی قواعد کے ہر پہلو پر حکیمانہ قدرت رکھتے تھے۔ آپ نے تاشقند کے اردو اسکولوں اور یونیورسٹی کے اردو کورسز کے لیے کئی درسی کتابیں اور ٹیکسٹ بکس تیار کیے تھے۔ اردو کی نصابی کتب میں ان کی " اردو کی درسی کتاب " جو یونورسٹی کے پہلے سال کے طلبہ کے لئے ہے جس میں اردو کا بنیادی صرف و نحو دیا گیا ہے۔
اردو لسانیات پر خاص طور پر نحو کے مسائل پر راقم نے ۲۰۰۲ء میں "اردو نحو ( مرکب جملے)" ، بعد میں "اردو لیکسکولوجی " کے نام سے کتابیں چھاپیں۔امسال یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے " اردو کی درسی کتاب " چھپی جو ہمارے ڈپارٹمنٹ کی سینیئر استانی مکتوبه مرتضیٰ خواجہ کی طرف سے تالیف کی گئی ہے ۔
رحمن بیردی صاحب کا دوسرا بڑا کارنامہ ترجمہ کے ذریعے ازبیک شعروادب کو اردو میں پیش کرنا تھا۔ جہاں تکاردو سے ازبیک اور ازبیک سے اردو میں ترجمے کے کام کا تعلق ہےتو مجھے یقین ہے کہ قمر صاحب کا ذکر کئے بغیر میرا مقالہ ادھورا رہیگا۔
قمر صاحب نے بارہ سال ازبیکستان میں گزارے۔ یعنی ۱۹۶۲ ء سے ۱۹۸۳ ء تک (بیچ بیچ میں وقفے کے ساتھ) چار بار ہمارے انسٹیٹیوٹ کے مہمان پروفیسر کی حیثیت سے خد مات انجام دئے اور ۱۹۹۷ سے ۲۰۰۱ تک انڈین کلچرل سنٹر میں ڈایرکٹر کا عہدہ سرانجام دیا۔ اس مدت میں متعدد شعرا اور ادبا کی تخلیقات کے ترجمے ازبیک اردوشناسوں کی مدد سے کئے گئے۔
اردو زبان میں پہلی بار رحمن بیردی محمد جانوف اور قمر رئیس دونوں نے ۱۹۶۸ء میں"ارمغان تاشقند" کے نام سے شعری مجموعہ چھا پا جس میں نا ممور ازبیک شا عر غفور غلام کی نما یندہ نظموں کا منظو م ترجمہ تھا ۔
۱۹۷۳ ء میں تاشقند کے غفور غلام اشاعت گھر سے "شعرائے ازبیکستان "کے عنوان سے شعری مجموعہ چھپا ، جو ازبیکی شعر و ادب کے ان نما یندوں کی نگارشات پر مشتمل تھا جن کے بعض شاہکاروں نے سا ری دنیا میں شہرت حاصل کی ہے شعراء ازبیکستان سے قارئین کو اندازہ ہو ا کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف کی شا عری میں مشرق کی قدیم کلاسیکی روایات اور شعری اصناف سے بڑی ہوشمندی کے ساتھ فائد ہ اٹھایا گیا ہے اس انتخاب میں چند شاعرات کی نظمیں بھی شامل ہیں جو نزاکت خیال، شدت احساس اور حسن اظہار میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں اس مجموعے کی ترتیب، ترجمہ اور اشاعت کے کاموں میں ڈاکٹر قمر رئیس نے خلوص اور گرمجوشی سے تعاون کیا۔
۱۹۷۹ ء میں دار الاشاعت "ترقی" سے "مشرق میں بہار آء"کے عنوان سے کتاب چھپی جس میں اپنے زمانے کے ممتاز مدبر و عالم، شا عر حمزہ حکیم زا دہ نیازی کی غزلو ں، سبق آموز نظموں اور خطوط و پیغامات کا ترجمہ ہے۔ یہ کتاب تاشقندمیں چھپی ہے ۔حمزہ نہ صرف شا عر ہی تھا، وہ ایک بلند پایہ ڈرامہ نویس ، موسیقار ، باکمال ناٹک کار اور سیاسی مفکر بھی تھا۔
استاد رحمن بیردی صاحب نے ازبیک شعرو ادب کے بڑے معمار اور سولہویں صدی کے شاعر علی شیر نوائی کی سوسے زا ید غزلوں کا قمر صاحب کے ساتھ ترجمہ کیا۔ ہریانہ اردو اکیڈمی نے کئی سال کی تاخیر کے بعد یہ کتاب ۱۹۹۴ء میں شائع کی۔ اس وقت تک استاد محترم پردۂ خاک میں پنہان ہو چکے تھے۔ رحمن بیردی صاحب نمائشی آداب اور مصنوعی اخلاق سے پاک تھے وہ بےپایاں خلوص و محبت کے انسان تھے۔ خوش نصیب ہیں ہم لوگ کہ استاد محترم سے اردو کی تعلیم حاصل کی ہے۔
کتاب میں نوا ئی کے حالات زندگی ، ان کی ادبی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔علی شیر نوائی ازبیک عوام کے ایسے شاعر اور دانشور تھے جن کی شاعری میں ذہنی ارتقا ، جوش و جذبے اور عشق و محبت، زندگی کی حکمت، اجتماعی اور انفرادی روابط ہے۔ ان کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ ازبیکی زبان کو اس لایق بنایا کہ اس میں نظم و نثر میں تخلیق کی جا سکتی ہے۔
۲۰۰۱ ء میں "بیسویں صدی کی ازبیک شاعری "کے عنوان سے شعری مجموعہ منظر عام پر آیا ۔ازبیک شعرا کی نمایندہ نظموں کا یہ ترجمہ قمر صاحب نے رحمن بیردی محمد جا نوف اور اردو کے نامور اسکالر ا میر فیض اللہ کے بھر پور تعاون سے کیا۔یہ کتاب قومی کونسل براے فروغ اردو کے مالی تعاون سے شا ئع کی گئی تھی۔
۲۰۰۲ ء میں ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے" ظہیر الدین محمد بابر شخص شخصیت اور شاعری "کے نام سے کتاب چھپی۔ ازبیکستان کے عوام بابر کو ایک حکمران اور فاتح سے کہیں زیادہ ایک غنائی شاعر، نامور ادیب اور دانشور کی حیثیت سے جانتے اور پسند کرتے ہیں۔ ازبیک ممتاز علما اور ناقدین وہ سب اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی شا عری کے پیچھے ایک انسان دوست، روشن ضمیر ،مہذب انسان کی روشن جھلکی نظر آتی ہے۔
یہ ازبیک اردوشناسوں کی طرف سے ازبیک سے اردو میں کئے گئے کام ہیں ۔
ا ردو شعراء کی تخلیقات کا بھی ازبیک میں ترجمہ ہوا ہے :
۱۹۶۵ء میں استاد محترم رحمن بیردی محمد جانوف نے مرزا غالب کے اردو دیوان کی منتخب غزلوں کا ازبیکی میں ترجمہ کرکے "شیدہ" کے عنوان سے شائع کرایا۔ کتاب جلد بک گئی۔ اس لیے اس کی دوسری ایڈیشن آئی۔ غالب صدی کے موقع پر استاد صاحب نے ازبیک شعرا کی مدد سے غزلوں کے علاوہ قطعات، رباعیوں کا بھی ترجمہ کرکے پیش کیا۔
ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، نقاد علی سردار جعفری کی شاعری کا ترجمہ اردو کے بڑے اسکالر نبی محمدوف نے کیا اور ۱۹۶۰ء میں تاشقند اشاعت گھر سے چھپوا یا۔
علامہ اقبال بر صغیر کی ہی نہیں بنی نوا نسا ن کی لازوال تہذیب کے ایک صاحب نظر شاعر کی حیثیت سے ہمیشہ یاد کیے جاتے ہیں ۔ ہمارے یہاں علامہ اقبال کے کلام کو شوق سے پڑھتے ہیں۔ اردو کے اسکالر پروفیسر سعداللہ یولداشیف مرحوم نے شاعر کے فلسفی خیالات پر پی ایچ ڈی کی تھی۔ انہوں نے علامہ اقبال کی اردو اور فارسی نظموں کا ازبیک شعرا ایرکین واحدوف اور جمانیاض جباروف کی مدد سے منظوم ترجمہ کیا۔ یہ کتاب ۱۹۷۳ء میں شائع ہوئی۔ اس میں علامہ اقبال کے نہایت حکیمانہ خیالات کا اظہار بڑی خوب صورتی سے کیا گیا ہے۔ ان کی فارسی مثنوی "اسرار خودی" جس سے علامہ اقبال کا نام اپنے وطن سے باہر بھی مشہور ہوا بہت سی نظموں کا ترجمہ ہوا جن میں ایک ایک شعر اور ایک ایک مصرعہ ایسا ہے اس پر ایک مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے۔
۲۰۱۳ ء میں فارسی کے اسکالر ایر گش آچیلوف نے "گلدستۂ عمر" کے نام سے کتاب کو شائع کرایا جس میں مرزا غالب کے کلام کے شا ئع شدہ ترجموں سے اخذ کر کے فارسی غزلوں ،قطعات ، رباعیو ں کے تراجم کو بھی شامل کیا۔
اردو نثری ادب کے ترجمے کے متعلق :
رحمن بیردی صاحب کی طرح اردو شناس طاہر ابراہیموف کا شمار بھی ازبیکستان کے سب سے معتبر اردو عالموں میں ہوتا ہے۔ اردو زبان و ادب سے طاہر صاحب کی اتنی محبت تھی کہ ان کی نگرانی میں تاشقند کے غفور غلام نام کے اشاعت گھر سے اردو کلاسک اور جدید ادب کی بےشمار کتابیں ترجمہ ہوکر شائع ہوئیں۔ خود انہوں نے پانچ چھہ سال کی لگاتار محنت سے میر امن کی داستان "باغ و بہار" کا ازبیکی میں ترجمہ کیا۔ اس داستان کا پہلا ایڈیشن ساٹھ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا اور چند ماہ کے اندر ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گیا۔ ایک سال کے اندر دوسرا ایڈیشن بھی اسی تعداد میں شائع ہوا۔ بقول طاہر صاحب اس سدا بہار داستان کی مقبولیت کا سبب یہ تھا کہ زمانہ قدیم سے چہار درویش کی یہ داستان ازبیکستان میں مشہور تھی اور بچپن ہی سے گھروں میں سنی سنائی جاتی تھی۔ اب آسان اور عام فہم زبان میں ترجمہ ہو کر اس نے مزید مقبولیت حاصل کی اور نئی پیڑھی کے لوگوں کو بھی اسے پڑھنے کا موقع ملا۔
۱۹۷۸ء میں ازبیک ناول نگار صدر الدین عینی کے ناول کا رضیہ سجاد ظہیر نے اردو میں"مرگ سودخور "کے نام سے ترجمہ کیا ۔ یہ کتاب تاشقند کے دارالا شاعت "ترقی" سے چھپی۔
"ازبیکستان کے افسانے " میں پرانی اور نئی نسل کے ازبیک ادیبوں کی منتخب تخلیقات شامل ہیں جو جدید ازبیک ادب کے مختلف ادوار سے تعلق رکھتی ہیں ، اسلوب اور طرز نگارش کے ا عتبار سے ایک جیسی نہیں ہیں لیکن افسانوی ادب کے بہترین نمونے ہیں۔ مجموعہ میں شامل افسانے ازبیک افسانہ نگاری کے ارتقا کی منزلوں اور موضوعات کی وسعت کے آینہ دار ہیں۔ افسانوں کا یہ مجموعہ ۱۹۹۳ء میں لاہور کے پاکستان بکس اینڈ لٹریری ساونڈس سے منظر عام پر آیا تھا۔
اردو سے کئے گئےترجموں میں منشی پریم چند کے ناول "گؤدان " کا ترجمہ " قسمت "کے نام سے تاشقند کے سرکاری اشاعت گھر سے ۱۹۶۲ ءمیں چھپ گیا۔اس کے علاوہ پریم چند ، راجندر سنگھ بیدی ، سجاد ظہیر ،خواجہ احمد عباس جیسے ادیبوں کی تخلیقات کا بھی ترجمہ ہوا ہے۔ پریم چند کے افسانوں کے تراجم کی اسلوبیاتی خصوصیات پر پی ایچ ڈی کا کام ڈاکٹر نلوفر خواجا یوا نے کیا ہے ۔
ہماری یونیورسٹی سے دو رسالے نکلتے ہیں۔ ایک " آرینٹلسٹ" جو علمی تحقیقی رسالہ ہے اور سال میں دو دفہ چھپتا ہے۔ ہمارے اردو شناسوں کے اردو لسانیات، اسلوبیات ، سوشیو لنگوسٹکس سے تعلق رکھنے والے مقالے اس میں شائع ہوتے ہیں۔ دوسرا رسالہ "مشعل مشرق " علمی ادبی رسالہ ہے جس کے ایک کالم میں ہندوستان کے ادب ، ثقافت، تاریخ اور معاشرے سے متعلق موضوعا ت پر مقالے چھپتے رہتے ہیں۔
۲۰۱۷ ء کے اپریل میں صدر مملکت عالی جناب شوکت میرضیائیف کی ڈکری جاری ہو ئی جس کے مطابق ازبیکستان میں اعلی تعلیمی نظام کے مزید ترقی کے کے لیےمتعدد اقدامات پر زور دیا گیا تھا۔ان میں ایک پوا ینٹ یہ ہے کہ دنیا کے اعلی تعلیمی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون قائم کرنے، بین الاقوامی تعلیمی معیار پر مبنی جدید تعلیمی ٹیکنالوجی، نصاب اور تدریسی موادکو درس و تدریس میں عملی جامہ پہنانے ، ماسٹر کلاسز کا اہتمام کرنے کےلیے غیر ملکی پارٹنر تعلیمی اداروں سے پروفیسروں کو انوالو کرکے ان کے ساتھ باہمی کام کرنے کے لیے سارے ضروری امکانات فراہم کیے جائیں۔ ہمارے ڈپارٹ منٹ میں پہلا قدم رکھا گیا ہے ۔ ۲۰۱۸ء کے اکتوبر میں ہمارے شعبے میں جواہرلعل نہرو یونیورسٹی سے پروفیسر انور پاشا صاحب ایک مہینے کے دوران اردو کی تعلیم میں فایز رہے۔ آپ کی شفقت اور ملنساری کی وجہ سے انور صاحب اور طلبہ میں جلدی قربت پیدا ہو گئی
پروفیسر اکرام الدین صاحب کو اپنے وسیع المطالعہ ، شگفتہ رو ،انکساری کی وجہ سے ہر جگہ اور ہر حلقے میں مقبولیت حاصل ہوئی ۔ ایک محبوب استاد کی حیثیت سے ہمارے طلبہ پروفیسر اکرام الدین صاحب کو محبت اور عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔ پروفیسر خواجہ اکرام الدین کی طرف سے اردو شاعری پر جو ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں خاص مضمون کی حیثیت سے کافی سال سے پڑھی جاتی ہے بہت سلیس زبان میں اسی نام کی کتاب منظر عام پر آئی آپ نہ صرف اردو زبان و ادب کی تدریس، ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں بلکہ ازبیک تہذیب کی ترغیب میں بہت کوشاں ہیں - "امام بخاری کے ملک میں چند روز " کی بدولت ازبیکوں کی تاریخ، یہاں کی تہذیب ، رسم رواج، تایخی مقامات کی ساری تفصیلات ملتی ہیں ۔
مختصر بات یہ ہے کہ ازبیکستان میں اردو زبان وادب کی تاریخ اوراردو تدریس و تعلیم پچھتر سال سے وسیع پیمانے پر مختلف یونیورسیٹیوں میں ہورہی ہے۔ یہاں اردو نہ صرف ایک زبان کی حیثیت سےپڑھائی جاتی ہے بلکہ تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی طور پر ازبیکستان اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں کیوں کہ اس کے پس منظرمیں صدیوں پرانی دوستی اور خیر سگالی کے تعلقات موجود ہیں ۔ امید ہے ان قدیم ترین روابط کو اور تقویت ملتی جائے گی ۔
***
Dr. Muhayya Abdurakhmanova (Uzbekistan)
Tashkent State University of Oriental Studies Amir Temur Avenue, Tashkent - 100060, Uzbekistan
Email: abdurakhmonova@tsuos.uz
***
Promotion and Teaching of Urdu Language and Literature in Uzbekistan
✍️ Dr. Muhayya Abdurakhmanova
Assistant Professor of Urdu, Uzbekistan

No comments:
Post a Comment