پروفیسرزماں آزردهؔ
روفیسر منظر حسین کثیر التصانیف ہیں۔ ان کی تصانیف تنقیدی اور تحقیقی کاوشوں پر محیط ہیں۔ انھوں نے مغربی مفکرین پر بھی قلم اٹھایا ہے اور مشرقی دانش وروں پربھی ۔ اقبالؔ کے حوالے سے بھی انھوں نے اپنے ذہن کی جولانیوں اور قلم کی کارفرما ئیوں سے بے حد اہم نقوش کھینچ دیے ہیں ۔ اقبالؔ نے خود اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں بعض غلط فہمیوں کے ساتھ خود سپردگی سے کام لیا ہے ۔ اول تو اس زمانے میں براہِ راست فلسفہ کا طالب علم ہونا پھر آرنلڈؔ جیسے جید پروفیسر سےکسب فیض کرنا اور اس پر فخر کرنا ، اس پر طرہ یہ کہ Development of Metaphysic in Persia پرباقاعدہ یعنی پی ایچ ڈی کے لیے مقالہ لکھنا اور اس پر میونخ جرمنی سے ڈگری حاصل کرنا۔ ان سب باتوں کے ان پر سوچنے والوں اور کام کرنے والوں نے مشرقی عینک اتار کے مغرب کے ڈھب کو اپنے اوپر طاری کردیا ۔ کچھ اس طرح کا تسامح فیض احمد فیضؔ کے سلسلے میں بھی ہوا ۔ اقبالؔ کی طرح ان کی بھی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی ۔ ان کی بھی ابتدائی تعلیم اُسی استادسے ہوئی جس سے اقبالؔ کی ہوئی تھی ، یعنی میر حسنؔ۔ اقبالؔ نے فلسفے کی تعلیم کے دوران اسلامی تعلیمات اور ان کی فلسفیا نہ تو جیہات کی طرف بھی توجہ کی اور فیضؔ نے انگریزی میں ایم اے کرنے سے پہلے عربی میں ایم اے کیا تھا مگر بعد میںان کے روزگار کا سلسلہ چونکہ ماسکو سے جڑ گیا، اس لیے ان کی اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں کی ہوئی شاعری کے تاربھی اشتراکیت کے ساتھ جوڑ دیے گیے۔
بہر حال بات ہو رہی تھی ، اقبالؔ کو مغرب کے حوالے کرنے کی ، مجھے یقین ہےکہ اقبالؔ کو مغرب سے جوڑنے کی وجہ یہی رہی ۔ جگن ناتھ آزادؔ نے اقبالؔ کے حوالے سے کافی کام کیا۔ چناں چہ پاکستان سے ہندوستان آئے تھے۔ تلوک چند محروم کے بیٹے تھے ، جن کی نعتیں سکولوں میں صبح کی دعائیہ مجالس میں خوب پڑھی جاتی تھیں ۔ دلی میں کچھ رسائل سے وابستہ رہنے کے بعد مستقل طور پر کشمیر میں رہے ۔ حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات کے پرنسپل انفارمیشن بیورو کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ پڑھنے لکھنے کی سہولتیں ہر طرح سے بہم تھیں۔ بعض آفیشل میں ان کے ساتھ اس طرح شامل کار تھے کہ ذاتی مطالعے کے لیے کتابیں بھی بہم تھیں اور جب چاہتے بول کے لکھواتے تھے ۔ اس طرح ان کے علمی کام میں ایسی بیش تر سہولتیں دستیاب تھیں، جو عموماً یو نیو رسٹیوں کے پروفیسرس کو بھی بہم نہیں ہوتی ہیں ۔ میں تو یہاں تک کہوں گاکہ اپنی جیب سے معاوضہ ادا کرنے پر بھی اس طرح کی سہولتیں حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور سے کشمیرمیں ۔ سفر کی آسانیاں بھی اُن کو مہیا تھیں، اور حق تو یہ ہے کہ علمی اداروں سے ان کے روابط بھی نہ صرف دوستانہ تھے بلکہ پڑھے لکھے لوگوں کی انفرادی سطح پر بھی نہ صرف مدد کرتے تھے ، بلکہ ان کو متعارف کرنے میں بھی کسی طرح کا بخل نہیں کرتے تھے ۔ میں کیا عرض کروں کہ میں نے پہلی بار جس علمی مجلس کی صدارت کی ہے، اسے بھی آزادؔ صاحب نے ہی آراستہ کیا تھا بل کہ ان کے اپنے ہی دفتر کے ریڈنگ روم میں اس نشست کا اہتمام ہوا تھا۔ ڈاکٹر اکبر حیدری مرحوم نے میر تقی میرؔ کے ایک دیوان کے حوالے سے گفتگوکی تھی جس کو انھوں نے آگرے میں دریافت کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میر غلام رسول ناز کی مرحوم بھی اس نشست میں موجود تھے ۔
اس پائے کے عالم ہونے کے باوجود انھوں نے بھی اقبالؔ کو سمجھنے کے لیے مغرب کی عینک کا استعمال کیا۔ یہاں ایک بات کی طرف آپ کی توجہ ضرور مبذول کر اوں گا کہ جگن ناتھ آزادؔ بنیادی طور پر اردو یا انگریزی کے نہیں بل کہ فارسی کے سند یافتہ عالم تھے ۔ البتہ ایک بات قابل ذکر ہے کہ پڑھنا لکھنا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا ، فرصت کے اوقات میں انہیں یا تو محو مطالعہ دیکھا گیا یا پھر لکھتے لکھواتے ہوئے۔ خیر اقبال ؔکے حوالے سے انھوں نے کئی کام کیے۔
بچوں سے لے کر بڑوں تک کے لیے اقبال پر لکھنا، ان کا سب سے بڑا کام تھا ۔ پڑھے لکھے لوگوں تک اقبال کے انداز فکر کو پہنچانے کے لیے مغربی مفکرین کا سہارا لینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ ’’اقبال اور مغربی مفکرین‘‘ جیسی کتاب سے میرے بیان کی تصدیق ہوتی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ سری نگر کے کالج آف ایجو کیشن کے آڈیٹوریم میں جگن ناتھ آزادؔ کا مغربی مفکرین اور اقبال کے حوالے سے ایک لیکچر ہوا ۔ اس خاص لیکچر کا موضوع تھا ’’اقبال اور شوپنہار‘‘ طویل لیکچر تھا ۔ یو نیو رسٹی کے کئی اساتذہ ، صحافی ، علمی اور ادبی دنیا کی بعض مقامی شخصیتیں بھی موجود تھیں۔ میں بھی موجود تھا ، میرے ساتھ تو آزاد صاحب کا ہمیشہ مشفقانہ سلوک رہتا تھا ۔
اس محفل میں بعض سیاسی شخصیتیں بھی تھیں ۔ شیخ صاحب (مرحوم شیخ محمد عبد الله) آزادؔ صاحب کو بوجوہ کافی پسند کرتے تھے ۔ انھوں نے ہی آزادؔ صاحب کا ملازمت سے وظیفہ ٔ حسن خدمت پانے کے بعد جموں یو نیورسٹی میں تاحیات پروفیسر ایمریٹس کے طور پر تقرر کیا تھا ۔ مجھے کچھ ایسا یاد ہے کہ شیخ صاحب بھی خود اس نشست میں موجود تھے ۔ یہ 1975 ء سے قبل کا واقعہ ہے، جب شیخ صاحب نے ابھی جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کام شروع نہیں کیا تھا۔
آپ جانتے ہوں گے کہ جرمن فلسفی شوپنہار نے کہا تھا کہ میرے مرنے پر ’’وید مقدس‘‘میرے ساتھ قبر میں ڈال دیے جائیں ۔ غرض وہ ہندوستانی فلسفے سے متاثر تھے ۔ اقبال پر شوپنہار کے اثر پر گفتگو کرنے سے یہی مراد لیا جانا تھا کہ اقبالؔ ہندوستانی فلسفے سے متاثر تھے۔ میرے ذہن میں یہ آتے ہی میں بے چین ہوگیا اورمیں نے کھڑے ہو کے آزادؔ صاحب سے سوال کیا کہ آج کی تحقیق بتاتی ہے کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اُس کے ذہن میں اس وقت تک کی ساری تہذیبی اور علمی روایات محفوظ ہوتی ہیں۔ البتہ ایک خاص بات یہ ہے کہ بعض باتیں ان میںactive ہوتی ہیں اور بعضdormant ۔ اقبالؔ ټټټچوں کہ ہندوستانی اور ان کے آبا و اجدادکشمیری تھے، وہ کسی باہر کے دیس سے نہیں آئےتھے، اس لیے ان پر ویسے بھی ہندوستانی فلسفے کے اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے ہمیں جرمن فلاسفہ اورشوپنہار کو درمیان میں لانے کی ضرورت نہیں۔
میرا یہ بیان سن کر سب ہی میری طرف دیکھنے لگے کہ یہ نوجوان لڑکا کیا بات کر رہا ہے ۔ مگرآزادؔ صاحب نے میرے استفسار کے جواب میں اتنا کہا کہ ’’میں اس پر غور کر کے اپنے پرچے کو دوبارہ ترتیب دوں گا ۔ اس کے ایک یادو برس بعد اُن کی کتاب ’’ اقبال اور مغربی مفکرین‘‘ شائع ہوئی ۔ مجھے یاد نہیں کہ انھوں نے بعد میں میرے سوال پر کوئی رد عمل دکھایا بھی تھا کہ نہیں۔ مگر یہاں مجھے محض اس لیے یہ بات یاد آگئی کہ بعض مماثلتیں یا اختلافات غیر ضروری طور پر بھی کھینچ تان کے باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جہاں تک پروفیسر منظر حسین کی تصنیف " اقبال اور مشرقی مفکرین " کا تعلق ہے، اس کتاب کا منظر عام پر آنا بعض حقائق کی نشان د ہی کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ خود کلام اقبال میں اس کی نشان د ہی کتنے ہی موقعوں پر ہوئی ہے کہ وہ کن علما، دانش وروں اور محققین سے متاثر تھے۔
اصل میں علمی دنیا میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے ۔ کہیںلو کو بڑھا دیا جاتا ہے اور کہیں اسے دھیما کر دیا جاتا ہے مگر روشنی بہر حال فکر اور تجسس کو جلا بخشتی ہے۔ اس طرح کے اثرات مثبت بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی۔
پر وفیسر منظر صاحب نے اقبال اور مشرقی مفکر ین کے حوالے سے جن موضوعات کا انتخاب کیا ہے ، وہ سبھی اپنی جگہ بہت اہم ہیں بلکہ یہ کہنا نا منا سب نہیں ہوگا کہ ان میں سے ہر موضوع صرف مضمون کا نہیں بلکہ ایک پوری کتاب کامتقاضی ہے ۔ متماثل پہلو اور اختلافی آثار دونوں اس طرح کے مطالعے میں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، اتنا ضرور عرض کروں گا کہ میں اپنی اس تحریر میں صرف تین مضامین کے متعلق گفتگو کروں گا جو پروفیسر منظرحسین نے ٹیگور، سرسید اور مولانا ابو الکلام آزاد کے حوالے سے سپرد قلم کیے ہیں۔
مجھے ٹیگور اور اقبال کے حوالے سے ایک بات یاد آگئی ۔ سید وحیدالدین نے جو اقبال کے قریبی مداحوں میں سے تھے، اپنی کتاب ’’روزگار فقیر‘‘ میں ٹیگور کے حوالے سے اقبال کے ایک بیان کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ مجھے یاد آتا ہے ، انھوں نے لکھا ہے کہ میں نے ایک بار علامہ سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ ٹیگور نے اپنی کتاب کا ترجمہ کیا، وہ جاکے یورپ گھوم آئے اور آپ اپنی جگہ سے ہلتے ہی نہیں، آپ کوبھی یورپ جاکے کچھ اس طرح کا کام کرنا چاہیے ۔ اقبال کے اس مشورے یا استفسار کے جواب میں کہا کہ ٹیگور عمل کے اعتبار سے تو گھومتا ہے لیکن اپنی تعلیمات سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اس بیان کا جو متن میرے ذہن میں ہے وہ یوں ہے۔
Tagore practices activity but preaches rest, whereas Iqbal practices rest but preaches activity.
مغرب کے حوالے سے ایک اور اہم واقعہ فقیر سید وحید الدین نے یہ لکھا ہے کہ ایک دن وہ علامہ اقبالؔ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ اقبال کی چشمانِ مبارک آبدیدہ ہیں ۔ انھوں نے اشک شوئی کا سبب پوچھا تو وہ میزکی طرف بڑھے ، ایک لفافہ اٹھا کے فقیر سید وحیدالدین کو تھمادیا ۔ انھوں نے دیکھا کہ اس میں پروفیسر نکلسن کا خط تھا، جس میں انھوں نے اجازت چاہی تھی کہ وہ " اسرار خودی" کا انگریزی میں ترجمہ کرنا چاہتے ہیں ۔
مصنف روزگار فقیر نے خط دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ تو اچھی بات ہے ۔ یورپ میں اس کتاب کو لوگ پڑھیں گے۔ اس میں رونے کی کون سی بات ہے ۔ علامہ نے اس رد عمل کے جواب میں فرمایا کہ جن لوگوں کے لیے میں نے یہ کتاب لکھی تھی وہ تو اس کو نہیں پڑھیں گے اور اہل مغرب اس کو پڑھ کے اس سے مستفید ہوں گے۔
یہ ایک دو باتیں مجھے یاد آئیں ، وہ کتابیں میرے سامنے اس وقت نہیں ہیں ، کیوں کہ میں اس وقت جموں میں بیٹھا ہوں اور کتابیں سری نگر میں ہیں۔میں نے ان باتوں کو یہاں اس لیے دہرایا کہ اگر منظر صاحب کی یہ کتاب سامنے نہ ہوتی تو مجھے یہ باتیں یاد نہ آتیں اور ان کو بیان نہ کرنا ایک طرح کی خیانت ہوتی کہ میں کتاب کو دیکھ کے اپنے رد عمل کو ٹھیک سے بیان نہیں کر رہا ہوں۔
پر وفیسرمنظر حسین نے جو مضمون اقبال اور ٹیگور کے حوالے سے رقم کیاہے اس سے پہلی بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ منظر حسین صاحب علم و ادب کے معاملے میں کسی طرح کا تعصب نہیں برتتے۔ ہمارے یہاں جس انداز میں اقبال پر لوگوں نے سوائے چند ایک کے قلم اٹھایا ہے ، اس انداز نےاقبال کو اپنے صحیح تناظر میں پڑھے لکھے لوگوں تک پہنچنے ہی نہیں دیا ۔ بل کہ بعض موقوں پر ان کی ذات اور شخصیت کو انسانوں کے حلقے سے نکال کر فرشتوں کے زمرے میں شامل کرنے کی کوشش کی ۔ ایسے لوگ تو اس عنوان یعنی " اقبال اور ٹیگور " سے ہی بھڑک اٹھیں گے ۔ اس ضمن میں منظر حسین صاحب کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
’’گرو دیو را بندرناتھ ٹیگور اور شاعر مشرق علامہ اقبال ان دونوں عظیم فن کاروں کا عہد تقریباً ایک تھا لیکن دونوں دو مختلف تہذیبی اقدار، ذاتی عقائد ، ادبی رویے ، انفرادی تشخص اور میلانات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہوئے بھی ان میں فکری و ذہنی اعتبار سے مشابہت و قربت کے پہلو بھی نمایاں ہیں ۔‘‘
اقبال اور ٹیگور کے حوالے سے پروفیسر منظر حسین نے بات کرتے ہوئے دو اہم موضوعات کو اپنے اس تقابلی مطالعے میں مرکزیت دی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ٹیگو ر بھی وطن پرست ، محب الوطن، وطن میں موجود مناظر، آثار اور روایات کے عاشق ہیں اور اقبالؔ کے ہاں بھی اس جذبے کی کوئی کمی نہیں۔ ہمالہ سے شروع کیجیے اور ہندوستان کی اہم شخصیات چاہے ان کی حیثیت مذہبی ہو ، عوامی ہو یا علم و دانش کے حوالے سے ہو، دونوں کی شاعری میں اہم مرتبہ رکھتے ہیں۔ دونوں کا مرکز فکر انسان ہے اور انسان کا مرتبہ دونوں کے نزدیک ارفع اور اعلیٰ ہے۔ تفصیل میں جانے کی اس مضمون میں گنجائش نہیں، البتہ یہ اقتباس ضرور ملاحظہ فرمائیں:
’’ٹیگور اور اقبال کے افکار میں مشابہت کا ایک اہم پہلو ان کے فلسفہ حیات میں قوتِ فکر و عمل کی اہمیت کو بھی کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں دونوں اس نظریے کے حامی تھے کہ انقلاب کی کش مکش سے بھر پور زندگی قوموں کی بقا اور ارتقا کا ضامن ہے ۔ دونوں حرکت و عمل کے شیدائی ہیں۔ دونوں حیات انسانی کو شادماں و خراماں دیکھنے کے متمنی ہیں ۔‘‘
ان سطور کی روشنی میں جب آپ دونوں مفکرین کی شاعری یانثری تحریروںکا تجزیہ کر یں گے تو دونوں کے ہاں ’’انسان‘‘ ، ’’انسانیت‘‘ اور انسانی زندگی کی اہمیت کو محسوس کرنے کی ترغیب ملتی ہے ۔ اقبال کے ہاں بھی آدمیت کی شناخت کا عمل ’’احترامِ آدمی‘‘ سے ہوتا ہے اور اس کے اپنے ماحول اور گرد و نواح سے رشتہ کی استواری اور اس کے انس اور محبت سے ہوتا ہے اور ٹیگور کے ہاں بھی آپ ان آثار اور ترجیحات کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی بڑی عمدہ بات ہے کہ منظر حسین صاحب نے اقبالؔ کےحوالے سے سرسید اور مولانا ابو الکلام آزاد کے بارے میں بھی ہماری معلومات میں کئی اضافے کیے ہیں ۔ مثال کے طور پر سبھی واقف ہیں کہ علمائے کرام میں سے بعض نے اقبالؔ کے خیالات سے اس حد تک اختلاف کیا کہ انھیں اسلام کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا ۔ اس سے پہلے خود سرسید پرایسے الزام عائد کر لیے گئے تھے ۔ یہ الزام تراشیاں ان نام نہاد علمائے اسلام کی طرف سے ہوئی تھیں، جو محض لکیر کے فقیر تھے اور حقائق کی روح تک رسائی حاصل کرنے سے معذور تھے۔ اسلام اور اسلامی تعلیمات کو قانون قدرت اور فطرت انسانی سے تعبیر کرنے والوں کو ا یسے لوگ بغیر کسی توقف اور خوف و ہر اس کے دشمن اسلام قرار دیتے تھے ۔ پروفیسر منظر حسین نے اس کیفیت کا اظہار یوں کیا ہے :
’’ان کا (سرسید کا ) اصلاحی شعور محکم اصولوں پر قائم تھا۔ انھوں نے اپنی تحریروں اور اصلاح معاشرت کی کوششوں کے ذریعے سے تجدید اور اجتہاد کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی تاکہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق زندگی کے ارتقا کی نئی نئی راہیں کشادہ ہوں ۔ جب انھوں نے علم الکلام اور تفسیر پر لکھنا شروع کیا اور عصری تقاضوں کے تحت یہ ثابت کیا کہ قرآنی قوانین قانون قدرت کے مطابق ہیں اور مافوق الفطرت واقعات کی سائنٹفک طور پر تو جیہہ پیش کی تو سرسید کو سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا تنگ نظراور جمود پسند علمائے کرام کی جانب سے ہوا ۔ قدامت پسند علما نے یہ غلط فہمی پیدا کی کہ وہ نیچری ہیں اور اسلام سے منحرف ہو گئے ہیں۔‘‘
منظر صاحب نے اقبالؔ کے حوالے سے بھی ایسی باتوں کا ذکر کیا ہے جب علمائے اسلام نے ان کی سوچ اور زاویہ فکر کو اسلام کے منافی قرار دیا ۔ حق تو یہ ہے کہ اقبال بھی جدید طرز فکر کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے اور وہ عقائد کا سائنسی اور فکری جو از تلاش کرتے تھے۔ اس طرح وہ محض روایات کے پجاری اورلکیر کو پیٹنے والےمفکر نہیں تھے۔ غالبؔ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ؎
ہر کس کہ شد صاحبِ نظر، دین ِ بزرگاں خوش نہ کرد
محض رسمی طور پر دین بزرگاں کے پیرو کا ر، نئی طرزِ فکر، علمی استدلال اورحقائق کی روح کی تلاش کو رائیگاں سمجھتے تھے ۔ اقبالؔ نے اس کیفیت کا اظہار بر ملا طور پر یوں کیا ہے۔؎
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
چہ خوش بودے اگر مردِ نکوئے، اگر تقلید بودے شیوۂ خوب
رستہ بھی ڈھونڈ خضرؑ کا سود ابھی چھوڑ دے
ز بندِ پاستاں آزاد رفتے
پیمبر ہم رہِ اجداد بودے
منظر حسین صاحب سرسید اور اقبال کی طرزِ فکر اور گرہ کشائی کے اس عمل کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
’’سرسید کی طرح علامہ اقبالؔ نے اختلاف فکر کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ عقلی اور سائنسی تھا ۔ اقبالؔ نے بھی فلسفیانہ تصورات کو عقیدے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سائنسی نظریے اور رویے سے مدد لی ۔ وہ بھی سرسید کی طرح اس نظریے کے حامی تھے کہ مذہب اور سائنس کے مابین کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ اقبالؔ نے ہمیشہ اپنے پیغام میں کتاب و حکمت دونوں پر زور دیا ہے ۔ ؎
برگ و سازما کتاب و حکمت است
این دو قوت اعتبار ملت است‘‘
آگے چل کے اپنے اس مضمون میں منظر صاحب اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں ۔
’’اسلام کی تشکیل نو کا جو سلسلہ سرسید احمد خاں نے شروع کیا تھا علامہ اقبالؔ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون ’’اسلام اور احمدیت‘‘ میں سرسید کی حقیقی عظمت کا اعتراف کیا ہے کہ سرسید پہلے ہندوستانی مسلمان ہیں جنھوں نے اسلام کی جدید تعین سمت کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس موضوع پر کام بھی کیا ہے‘‘
پروفیسر منظر حسین صاحب کا سرسید اور اقبال کی دینی خدمت کے حوالے سے جو بیان بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کو یہاں نقل کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس کے پڑھنے سے ہم ان دو مفکرین کے طرز فکر منظر صاحب کے آئینے میں واضح طور پر محسوس کر سکتے ہیں ۔ لکھتے ہیں :
’’سرسید اور علامہ اقبال کے افکار و نظریات کا ایک اہم پہلو تقلید سے انحراف ہے۔ دونوں مفکرین اندھی تقلید اور روایت پرستی کے بجائے معروضیت اور عقلیت کی ترغیب دیتے تھے۔ دونوں کے نزدیک اصلاح معاشرہ کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘
غرض پروفیسر منظر حسین نے دونوں مفکرین کے حوالے سے سائنسی نظریہ اور فلسفیانہ زاویہ فکر اور روشن خیالی کو سمجھنے کی ترغیب دی ہے ۔ پروفیسر صاحب نے دونوں مفکرین کے خیالات کو ان کے اقتباسات کے حوالوں سے سمجھنے اور سمجھانے کی ایک اچھی کوشش کی ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اخذ کردہ نتائج کے حوالوں اور دلائل کی مدد سے واضح کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔
اب میں اس مضمون کا ذکر کروں گاجس میں اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے ۔ پروفیسر صاحب لکھتے ہیں :
" علامہ اقبال اور مولانا آزاد دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے بڑی جگہ تھی ۔ دونوں ایک دوسرے کے قدر داں تھے۔ "
مولانا آزاد، اقبالؔ کی وفات کے بعد کوئی 20 برس بقید حیات رہے۔ انھوں نے اقبالؔ کو نہ صرف پڑھا تھا بل کہ ان کی مراسلت میں بارہا۔ اقبال کو مختلف تحاریر کے آئینے میں بہ نظر غائر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح پر وفیسر صاحب نے ہمارے لیے بعض ایسے حقائق کو سامنے لایا ہے ، جو اس سے قبل پردہ ٔ اخفا میں تھے ۔ چنانچہ عبد الرزاق ملیح آبادی جو علامہ اقبال سے نہ جانے کس وجہ سے خار کھاتے تھے، کی حرکتوں کی وجہ سے مولانا آزاد کو اقبال کے بارے میں غلط فہمیاں بھی ہوگئی تھیں۔
علامہ اقبال سے مولانا آزاد کی عقیدت اور محبت کا ذکر پروفیسر صاحب نے اس طرح سے کیا ہے کہ یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ مولانا نہ صرف سےاقبا ل کی شعری عظمت کے قائل تھے بل کہ کہ انہیں صرف ہندوستان ہی نہیں پورے مشرق کا اثاثہ سمجھتے تھے ۔ ان کی نظر میں اقبال مشرق کے ان جید رہنماؤں میں تھے، جن کی موت سے پیدا ہونے والے خلا کوپر کرنا آسان نہ تھا۔
پروفیسر صاحب لکھتے ہیں :
’’مولانا آزاد کو علامہ اقبال کی عبقری شخصیت اور شاعرانہ مقام کا پورے طور پر اعتراف تھا ۔ 21 اپریل 1938 ء کو جب علامہ اقبال کا انتقال ہوا تو اس خبر سے مولانا کو عظیم صدمہ ہوا اور کافی رنجیدہ ہوئے ۔ 25 اپریل 1938 ء کو مولوی محی الدین قصوری کے نام خط میں اپنے رنج و غم کا اظہار اس طرح کرتے ہیں :
اقبال کی موت سے نہایت قلق ہوا
بہت آگےگئے باقی جوہیں تیار بیٹھے ہیں‘‘
پروفیسر صاحب نے اس تعزیت نامہ کا بھی نہ صرف ذکر کیا ہے۔ بلکہ اس کو اپنے اس اہم مضمون میں نقل بھی کیا ، جو مولانا آزاد نے اقبالؔ کی وفات پر لکھا تھا ۔ وہ پیغام یہ ہے :
’’یہ خیال کرتے ہوئے کس قدر صدمہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبالؔ اس جہاں سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے ۔ ہندوستان آپ سے بڑا شاعر پیدا نہیں کرسکا ۔ آپ کی وفات سے نہ صرف ہندوستانیوں بلکہ مشرق کو نقصان پہنچا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس لیے صدمہ ہے کہ مرحوم سے میرے دوستانہ تعلقات تھے۔‘‘
اس مضمون کا ایک حصہ خلافت تحریک کے ضمن میں ہے ۔ اس حصے میں مولانا کے خیالات اور اقبالؔ کی اس تحریک سے وابستگی کاذکر خوب ہے ۔ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اقبالؔ کے 1923 ء میں حکومت برطانیہ سے’’ سر‘‘ کا خطاب قبول کرنے پر، ان کے اکثر عقیدت مندوں کو تشویش ہوئی ۔ غالباً خلافت تجریک سے وابستہ ہونے اور یہ جانتے ہوئے کہ برطانوی حکام نے اپنے دست ِ قوت کو یہاں تک دراز کیا کہ مقدس مقامات بھی ان کی تحویل میں آگئے ۔ پروفیسر منظر حسین صاحب نے مضمون کے اس حصے میں کئی مآخذ کا استعمال کر کے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی ہے ۔
ایک بات یہاں پر بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ جب بھی پروفیسر صاحب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن کی اشاعت کا قدم اٹھائیں گے۔
مضمون کے اس حصے پر نظر ثانی کرتے وقت مشہور زماں مفکر عنایت اللہ مشرقی بانی ٔ خاکسار تحریک کی ایک مختصر سی کتاب ’’تکملہ ‘‘ کو بھی مد نظر رکھیں ، کہ اس میں، جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے اقبالؔ کے ’’سر‘‘ کے خطاب کے حوالے سے بعض معلومات فراہم ہوں گی ۔ یہاں اس بات کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ علامہ عنایت اللہ مشرقی اس زمانے میں وائسرائے کے سیکرٹری تھے۔
بہر کیف پر وفیسر صاحب نے اس مجموعہ ٔ مضامین میں بیش بہا معلومات فراہم کی ہیں اور قاری بہ خوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ ان مضامین کو تحریر کرتے وقت پر وفیسر صاحب کو صحیح مآخذ تک رسائی کے سلسلے میں کس قدر محنت کرنا پڑی ہوگی۔ یہ آٹھ مضامین کا مجموعہ ہے، جو تنقیدی کم اور تحقیقی نوعیت کے زیادہ ہیں ۔ راقم نے صرف تین مضامین کے حوالے سے مختصر سی گفتگو کی ہے ۔ اس کتاب پر تبصرہ کرناوقت طلب بھی ہے اورہمت طلب بھی ۔ جتنا وقت اس کے لیے چاہیے تھا میرے پاس ایک تو اتنا وقت نہیں تھا، دوسرے ناسازی صحت اور متنوع مصروفیات بھی تفصیلی جائزہ پیش کرنے میں سد ِ راہ رہیں، پھر بھی مجھے خوشی ہے کہ میں اس مجموعے میں شامل مضامین میں سے چند ایک (صرف تین) پر تبصرہ کرسکا۔ دوسرے مضامین یعنی اقبالؔ اور مولانارومیؔ، اقبالؔ اور حافظ شیرازی ، اقبال اور مجدد الف ثانی ، اقبال اور مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی اور اقبال اور مولانا سید ابو الحسن ندویؒ پربات نہیں ہوئی ۔ اس تحریر کے اختصار کا یہ فائدہ بھی ہوگا کہ لوگ اسے آسانی سے پڑھ بھی سکیں گے ۔ ایک کمی کا احساس مجھے ضرور ہوا، وہ یہ کہ اس مجموعے میں ایک مضمون غالبؔ اور اقبالؔ کے حوالے سے بھی ہونا چاہیے تھا ۔ غالبؔ اور اقبالؔ میں جتنےمتماثل پہلو ملتے ہیں ، اتنے ہی تضادات بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ لیکن خود اقبالؔ نے مختلف موقعوں پر غالبؔ کی خود نہ صرف تعریف کی ہے بلکہ ان سے اپنی عقیدت کا بھی اظہار کیا ہے ۔ اقبال کو منظر عام پر لانے والے سر عبد القادر نے تو بانگ درا کے دیباچے ہیں یہاں تک لکھ دیا تھا کہ اگر وہ مسئلہ تناسخ کے قائل ہوتے تو یہ کہتے کہ غالبؔ کی روح کو عدم میں چین نہیں ملا اور وہ جسد ِ اقبال میں پھر ظاہر ہوئی ۔ بہر حال یہ بھی ممکن ہے کہ اس مجموعے کی اشاعت ثانی کے وقت ایک مضمون ’’ غالب اور اقبال‘‘ کے حوالے سے بھی منظر صاحب شامل کریں ۔
مجھے امید ہے کہ میری یہ چند گزارشات قارئین کو اس کتاب کے مطالعہ کی طرف متوجہ کریں گی ۔ آخر میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ مجموعہ مضامین پروفیسر منظر حسین کی تلاشِ علم کی جستجو، محنت ِ شاقہ اور دقیق النظری پر دال ہے ۔ اللہ انہیں تندرستی کےساتھ لمبی عمر عطا کرے تاکہ ہمیں ایسے مضامین برابر پڑھنے کو ملتے رہیں ۔
***
Professor Mohammad Zaman Azurdah,
Former Head, Department of Urdu ,
University of Kashmir
***
📚 Professor Zaman Azurdah on an Important Scholarly Contribution

No comments:
Post a Comment