ڈاکٹر مر وہ لطفی ہیکل (اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو)
مصر میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ کئی دہائیوں سے بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تصنیفی اور تحقیقی سرگرمیاں بھی تسلسل کے ساتھ انجام پا رہی ہیں۔ مصر کی متعدد یونیورسٹیوں میں اردو زبان میں تصنیف و تحقیق کے ذریعے علمی خدمات انجام دی ہیں۔ ان علمی کاوشوں کے نتیجے میں اردو زبان کی تدریس اور تحقیق کے میدان میں اہلِ علم نے برصغیر اور مصر کے درمیان تہذیبی، فکری اور علمی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں مصر میں اردو کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی تعداد خاصی قابلِ توجہ ہے۔
مصر کی جن یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی تدریس کا باقاعدہ انتظام موجود ہے، ان میں قاہرہ یونیورسٹی، جامعہ ازہر، عین شمس یونیورسٹی، اسکندریہ یونیورسٹی، طنطا یونیورسٹی، منصورہ یونیورسٹی اور قنا یونیورسٹی قابلِ ذکر ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اردو زبان و ادب کے مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے تحریر کیے جا رہے ہیں، جو اردو تحقیق کے فروغ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو سنہ 1930ء میں برصغیر کے کئی اردو داں افراد مصر تشریف لائے، جو اردو زبان پر عبور رکھتے تھے۔ انہی میں ابو سعید العربی کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے قاہرہ سے پہلی مرتبہ اردو زبان کا رسالہ ’’جہانِ اسلامی‘‘ شائع کیا۔ اسی زمانے میں اردو کا ایک ہفتہ وار اخبار بھی عمل میں آیا، جس سے مصر میں اردو صحافت کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
مصری یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی تدریس گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری ہے۔ بیسویں صدی کے نصفِ اول ہی سے مصری حکومت نے مشرقی زبانوں کی تعلیم و تدریس کو اپنی تعلیمی پالیسی کا حصہ بنا لیا تھا۔اس سلسلے میں 1939ء میں قاہرہ یونیورسٹی کے معہد اللغات الشرقیہ (اورینٹل لینگویج انسٹی ٹیوٹ) میں اردو کی باقاعدہ تدریس کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں 1952ء میں نشریات کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد اردو زبان کو فروغ دینا تھا۔ یہ نشریات شام چھ بجے سے رات آٹھ بجے تک قاہرہ سے نشر کی جاتی تھیں۔ ان نشریات کا مقصد برصغیر کے ممالک کے ساتھ مصر کے دوستانہ اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔قاہرہ یونیورسٹی کے بعد جامعہ ازہر، عین شمس یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں بھی اردو زبان کی درس و تدریس شروع ہوئی۔ قاہرہ یونیورسٹی سے اردو میں بی اے مکمل کرنے کے بعد جامعہ ازہر میں اردو کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران مصر کے متعدد اساتذہ نے پاکستان اور ہندوستان کی جامعات سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔پاکستان سے پی ایچ ڈی کرنے والوں میں پروفیسر ایہاب حفظی، پروفیسر عز العرب، پروفیسر محمد ابراہیم اور پروفیسر ابراہیم محمد ابراہیم قابلِ ذکر ہیں، جبکہ ہندوستان سے پی ایچ ڈی کرنے والوں میں پروفیسر احمد القاضی اور پروفیسر یوسف السید عامر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔عین شمس یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی تعلیم و تدریس کا باقاعدہ آغاز سنہ 1995ء میں فیکلٹی آف آرٹس کے شعبۂ مشرقی زبان و ادب میں ہوا۔ بعد ازاں سنہ 2014ء میں نصاب کی نئی فہرست مرتب کی گئی، جس میں زبان اور ترجمہ کے مضامین پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس نصاب میں اردو اساتذہ کی آرا کو خصوصی اہمیت دی گئی، نیز سیاسی، قانونی اور تجارتی شعبوں سے متعلق ترجمے کے متعدد کورسز شامل کیے گئے۔ اردو سے عربی اور عربی سے اردو ترجمے کے مضامین بھی نصاب کا حصہ بنائے گئے۔ اس کے علاوہ ہندی زبان کا ایک کورس بھی نصاب میں شامل کیا گیا۔
بعد ازاں سنہ 2025ء میں اردو زبان و ادب کی تدریس کے لیے ایک نئی فہرستِ مضامین مرتب کی گئی، جس میں زبان کی تدریس پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ یہ اقدام اردو زبان و ادب، تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ ہندی زبان کو شامل کر کے ایک ہم آہنگ نصاب ترتیب دینے کی اہم کوشش ہے۔ مصر میں اردو اور متعلقہ زبانوں کی تدریس کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی یہ ایک سنجیدہ کاوش ہے۔
مثال کے طور پر رواں تعلیمی سال میں عین شمس یونیورسٹی میں اردو کے طلبہ کی تعداد خاصی بڑھی ہے۔ اردو زبان کے مطالعے میں طلبہ کی تعداد تقریباً تین سو (300) ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مصر میں اردو زبان کے مطالعے میں طلبہ کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مصری جامعات میں اردو زبان و ادب کے میدان میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر بڑی تعداد میں تحقیقی مقالے تحریر کیے جا رہے ہیں، جو نہ صرف موضوعاتی تنوع رکھتے ہیں بلکہ فنی اور تحقیقی اعتبار سے بھی نہایت اہم ہیں۔
ذیل میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کے چند منتخب تحقیقی موضوعات بطورِ مثال پیش کیے جاتے ہیں:
ایم اے کے منتخب موضوعات:
"فانی بدیوانی" کی غزل کا فنی، تجزیاتی اور تنقیدی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
"باقیاتِ فانی" کا عربی میں ترجمہ۔
عصمت چغتائی کے افسانوں میں معاشرتی مسائل؛ تنقیدی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی کتاب "جماعتِ اسلامی" کی روشنی میں فکری و تنقیدی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
اردو ترجمے کا مسئلہ؛ منتخب نمونوں کا لسانیاتی مطالع۔
لغات میں فعل کے مباحث؛ لسانی مطالع۔
پیر محمد کرم شاہ کے اہم مکتوبات؛ تجزیاتی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
نسیم حجازی کے ناول "پردیسی درخت" کا اسلوبیاتی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
پی ایچ ڈی کے منتخب موضوعات:
قرآن پاک کے اردو میں ترجمے کے مسائل؛ سورۂ یوسف، کہف اور مریم کے تراجم کی روشنی میں لسانی مطالعہ۔
قرآنِ مجید کے اردو تراجم میں معنویاتی مظاہر؛ منتخب تراجم کی روشنی میں۔
عربی ادبِ عبادت میں مولانا احمد رضا بریلوی کا نظریۂ شعر۔
دو لسانی اردو لغت کے تناظر میں مستشرقین کی "اردو۔انگریزی لغت" کا تطبیقی مطالعہ۔
2014ء کے دوران ہندوستانی اردو صحافتی مضامین میں صورتِ حال کی تصویری کشی؛ تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ۔
ہمیں یہ مناسب سمجھتی ہے کہ اپنے کالج کے اردو شعبے میں مکمل ہونے والے ایم اے اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی موضوعات کو قدرے تفصیل کے ساتھ قارئینِ کرام کے سامنے پیش کیا جائے۔
اب تک ایم اے کے 17 سے زائد اور پی ایچ ڈی کے 37 تحقیقی مقالے مکمل ہو چکے ہیں۔ ذیل میں ان کی فہرست پیش کی جاتی ہے:
ایم اے کے تحقیقی مقالے:
1 - شاہ عالم کی کتاب عجائب القصص؛ تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ اور انتخاب کا عربی میں ترجمہ ۔
2 -خواجہ میر درد دہلوی کی شاعری میں فنی مظاہر ، اور عربی میں ان کے اردو د یوان کا ترجمہ ۔
-3 اس کی اقسام اور اسم اردو زبان میں ہالطاف حسین حالی کی کتاب "مجالس النسا" کی روشنی میںمطالع، اور کتاب کا عربی میں ترجمہ۔
-4 طال بنارسی کا ڈراما "نگاہ غفلت"؛ تجزیاتی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
-5 سعادت حسن منٹو کی افسانہ نگاری؛ تنقیدی مطالع، اور انتخاب کا عربی میں ترجمہ۔
-6 سید سلیمان ندوی کی کتاب "سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا" کا تجزیاتی و تنقیدی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
-7 آصفیہ اردو لغت میں عربی الفاظ کی صرفی و اصطلاحی تبدیلیاں۔
-8 اردو افسانے میں برصغیر اور ہند کی تقسیم کا انعکاس اور منتخب افسانوں کا عربی میں ترجمہ۔
-9 اردو صحافت کی روشنی میں ابو الکلام آزاد کی اصلاحی خدمات۔
-10 حافظ عبد اللہ کے ڈراموں "پسندیدہ آفاق" اور "سوانح اردو ڈرامہ نگاری میں عربی زبان کے اثرات"؛ مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
-11 سر سید احمد خان کے معاشرتی و اصلاحی مضامین؛ تجزیاتی مطالع بمع ترجمہ۔
-12 عبد الحلیم شرر کا ناول "ملک العزیز ورجینا"؛ تجزیاتی اور تنقیدی مطالع، اور عربی میں ترجمہ۔
-13 خدیجہ مستور کا ناول "آنگن"؛ تجزیاتی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
-14 عصمت چغتائی کے ناول "ٹیڑھی لکیر" کی روشنی میں ہندوستانی عورت کے اہم مسائل؛ تجزیاتی مطالع بمع ترجمہ۔
-15 کرشن چندر کے بچوں کے لیے لکھی گئی تحریروں کے ناول "الٹا درخت" کی روشنی میں مطالع بمع ترجمہ۔
-16 خواجہ حسن نظامی کے مضامین؛ تجزیاتی و تنقیدی مطالع اور انتخاب کا ترجمہ۔
-17 پروین شاکر کے مجموعہ "خوشبو" کا تجزیاتی مطالع اور ترجمہ۔
-18 ن۔م۔راشد کی شاعری میں سیاسی مسائل اور انتخاب کا ترجمہ۔
-19 شمیم حنفی کے یک باب ڈراموں کی روشنی میں ہندوستانی عورت کے اہم مسائل؛ تجزیاتی مطالع بمع انتخاب کا عربی میں ترجمہ۔
-20 مسلم ع۔س کے دیوان "کاروان حرم" کا تجزیاتی مطالع اور عربی میں ترجمہ۔
-21 بچوں کے لیے عبد اللہ سندھی کی لکھی ہوئی کہانیوں کا مطالع اور انتخاب کا ترجمہ۔
-22 حاتم کے دیوان "اٹھارویں صدی میں اردو کی اصلاحی تحریک" کے انتخاب کا ترجمہ۔
-23 مفتی زاہد کی کتاب "کہیے ہم متا جائیں" کی روشنی میں اردو فعل، ماضی اور ساختیاتی مطالع؛ ترجمہ۔
-24 حکیم احمد شجاع کے ڈرامے "باپ کا گناہ" کا تجزیاتی مطالع اور ترجمہ۔
-25 احمد فراز کے مجموعہ "گلاب کا خواب پریشان ہے"؛ تجزیاتی مطالع اور ترجمہ۔
-26 راجندر سنگھ بیدی کے "دانہ و دام" کی روشنی میں اردو طلبی جملہ، توصیفی مطالع بمع انتخاب کا عربی میں ترجمہ۔
-27 مولوی عبد الحق کے مقدمے؛ تنقیدی مطالع اور انتخاب کا ترجمہ۔
-28 میر تقی میر کی اردو شاعری میں فنِ غزل؛ موضوعاتی اور فنی مطالع، دوسرے مجموعے کی روشنی میں، بمع انتخاب کا ترجمہ۔
-29 صلاح الدین ایوبی کا تقابلی مطالع۔
-30 محسن نقوی کی شاعری میں مدحِ آلِ بیت۔
-31 2010ء سے 2013ء کے معاصر صحافتی مضامین میں کشمیر کا مسئلہ؛ انتخاب اور ذہنی تصور کا مطالعہ،
بمع ترجمہ۔
-32 قیامِ پاکستان میں صوبہ پنجاب کا کردار؛ تجزیاتی مطالعہ اور عربی میں ترجمہ۔
-33طالِ بنارسی کا ڈرامہ ’’نگاہِ غفلت‘‘؛
فنی ساخت کا مطالعہ، بمع ترجمہ۔
-34 شہر لاہور مغل سلطنت کے دور میں۔
-35 رام درش متھرا کے افسانوں میں معاشرتی اور فکری مسائل؛
تجزیاتی مطالعہ، بمع انتخاب کا ترجمہ۔
-36 انور مسعود کے شعری مجموعہ ’’روز بروز‘‘ میں سماجی مسائل؛ سماجی مطالعہ، بمع انتخاب کا ترجمہ۔
-37 ہندی سے عربی میں عصبی مشینی ترجمہ میں لسانی اغلاط؛
بھارتی صحافت (2019-2020) بطور نمونہ۔پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے :
-1 میر امن کی کتاب " باغ و بہار " کا تجزیاتی مطالعہ اور ترجمہ ۔
-2 محمد حسین آزاد دہلوی کا تنقید شعر میں منبج
-3 پریم چند کے ناول " گئودان " میں حقیقت پسندی۔
-4 وحید الدین سلیم کے مضامین کی روشنی میں اردو مرکب جملہ ؛ توصیفی مطالعہ ۔
-5 طاہر تونسوی اور ان کا تنقیدی منبج
-6 انتظار حسین کے افسانوں میں تہذیبی ورثے کا انعکاس۔
-7 فہمیدہ ریاض کا شعری بیانیہ۔
-8 بر صغیر پاک و ہند میں خاندان غلامان (1200ء-1290ء)۔
9 -علامہ اقبال کے سیاسی اور سماجی خطوط؛
توصیفی و تجزیاتی مطالعہ۔
-10 اردو مصادر میں شہرِ دہلی: ایک تہذیبی مطالعہ۔
-11 سجاد حیدر یلدرم کی کتاب ’’خیالستان‘‘ میں رومانویت۔
-12 کرشن چندر کے مجموعہ ’’مکڑی‘‘ میں متن کی ہم آہنگی۔
-13 انیسویں صدی کے پہلے نصف میں اردو شاعری میں
رباعی کا فنی و اسلوبی مطالعہ۔
-14الماس ایم اے کے ’’فلسطین‘‘ اوراحمد خیر العمری کے ’’شیفرہ بلال‘‘ میںفکری اور معاشرتی مسائل: ایک تقابلی مطالعہ۔
-15 لکھنؤ اور دہلی میں محبوب کا تصور
(انیسویں صدی عیسوی کے وسط تک)۔
-16 1947ء سے 2007ء تک
اردو مصادر کی روشنی میں پاکستان میں خواتین کا سیاسی کردار۔
-17 انیسویں صدی کے پہلے نصف میں
اردو نثر میں بیانیہ ساخت۔
عین شمس یونیورسٹی میں نصاب کی جدید تشکیل، زبان اور ترجمہ پر خصوصی توجہ، اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اردو زبان مصر میں مستقبل کے امکانات سے بھرپور ہے۔ یہ تمام کوششیں اس بات کی مظہر ہیں کہ مصر اور برصغیر کے درمیان علمی و تہذیبی روابط نہ صرف ماضی کا سرمایہ ہیں بلکہ حال اور مستقبل کی ایک مضبوط بنیاد بھی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ جیسا کہ ہمارے استادِ محترم پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے فرمایا ہے کہ ’’مصر اردو زبان کی تابناک سر زمین ہے‘‘ ، چنانچہ مصر میں ہم اہل اردو، اردو زبان کی تعلیم و تدریس، فروغ اور ترقی کے لیے پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ اپنی بھر پور کوششیں کر دیتے ہیں۔
حوالہ جات
1. قاہرہ یونیورسٹی، معہد اللغات الشرقیہ۔
اردو زبان کی تدریس اور تحقیقی سرگرمیاں، قاہرہ۔
2. عین شمس یونیورسٹی، فیکلٹی آف آرٹس، شعبۂ مشرقی زبان و
ادب۔
3. جامعہ ازہر۔
اردو زبان و ادب کے نصابات اور تحقیقی مقالہ جات، قاہرہ۔
***
Vol. 01 Issue 04 January 2026
📚 Teaching and Learning of the Urdu Language in Egypt: A Research Study
Dr. Marwa Lotfy Hekal
Assistant Professor, Department of Urdu
Ain Shams University
Faculty of Arts
Ain Shams University Abbasiya, Cairo-11566, Egypt
Email: marwa.hekal@arts.asu.edu.eg

No comments:
Post a Comment