"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری" معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)
’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے ؎
اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے
دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے
قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے
کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے
تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک
ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک