Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label Qadar Ul Kalam. Show all posts
Showing posts with label Qadar Ul Kalam. Show all posts

Saturday, October 24, 2026

ستیش بترا کی تصانیف پر ایک نظر


زیرِ نظر مضمون میں نور احمد ترمذی نے ستیش بترا کی ادبی زندگی، افسانہ نگاری اور مختلف تصانیف کا جائزہ پیش کیا ہے۔ مضمون میں ان کے اردو، ہندی اور انگریزی افسانوی مجموعوں، ناول اور سفرناموں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے فن کے نمایاں موضوعات، مثلاً تقسیمِ ہند کے اثرات، سماجی مسائل، انسانی رشتوں اور زندگی کے تلخ تجربات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ تحریر ستیش بترا کی ادبی خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

 نور احمد ترمذی(کالم نگار)

ادب کی تخلیق کے محرکات بھانت بھانت کے ہوتے ہیں۔ کسی کو شہرت چاہیے ، کسی کو ملازمت چاہیے  ، کسی کو پروموشن چاہیے ، کہیں مالی منفعت کا معاملہ ہوتا ہے تو کہیں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ شاد عظیم آبادی کا بیان ہے کہ ان کی شاعری کی وجہ سے بہت لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ مرزا غالب کو صفائی دینی پڑی کہ:   

سوپشت سے پیشہ  ٔ  آبا سپہ گری،

 کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے۔

 میرتقی میر ؔ کو  تا  عمر شکایت رہی : پرداخت میری ہو نہ سکی اک امیر سے ۔ مشتاق احمد یوسفی کا بیان ہے کہ ان کی قلم کاری ان کے لیے  مالی نقصان کا سبب بنی ۔ فیض احمد فیض اپنی شاعری کی وجہ سے مدتوں جیل میں بند رہے، کچھ ویسا ہی حال حبیب جالب کا بھی ہوا ۔ فہمیدہ ریاض کو اپنی تحریروں کی وجہ سے پاکستانی صدر ضیاء الحق کے عہد حکومت میں ہندوستان میں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ ضیاء الحق کے سفرِ آخرت کے بعد وہ پاکستان واپس گئیں۔ کلیم عاجز کی شاعری کا محرک  1946 ء  کا فرقہ وارانہ فساد ہے، ان کا پہلا مجموعہ  ٔ  کلام ’’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘‘ اسی جانکاہ حادثہ کی یادگار ہے۔ ان کی پوری شاعری اس درد کو بیان کرتی ہے۔ اور پہلے کی بات یاد کریں تو دکھ کے ساتھ بتانا پڑتا ہے کہ فرانسیسی قلم کار  والٹیئر  VOLTAIRE   کو  ان کی کتاب کینڈیڈ   CANDIDE  کی وجہ سے قید با مشقت کی سزا ہوئی۔ اسے ملک چھوڑنا پڑا، وہ پچیس سال کے بعد اپنے آبائی وطن فرانس کی زیارت کو پہنچا ، جہاں  1778ء  میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ کیو ں اور کیسے ؟ پتہ نہیں۔

Friday, October 23, 2026

ذکر کلیم، فکر کلیم


کلیم عاجز اردو غزل کے ان منفرد شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری ذاتی تجربات، انسانی کرب اور عہد کے المیوں سے جنم لیتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں غزالہ ہاشمی نے کلیم عاجز کی زندگی، ان کے شعری محرکات، مخصوص طرزِ اظہار، غنائیت اور فکری جہات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحریر قاری کو کلیم عاجز کی شاعری کے پس منظر اور اس کے اثرات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

غزالہ ہاشمی 

 شعرا کی بھیڑ میں اپنی مخصوص پہچان رکھنے والے شاعر کلیم عاجز کی تاریخ ولادت خود ان کے قول کے مطابق ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء ہے، سرٹیفکٹ میں دو سال قبل کی تاریخ لکھی ہے ۔ زندگی کے ابتدائی ایام صوبہ بہار کے موضع تلہاڑا ضلع پٹنہ ( اب ضلع نالندا ) میں گزرے ۔ یہ وہی تلہاڑا ہے جس کا ذکر بڑے کرب کے ساتھ شکیلہ اختر اپنے افسانوں میں کرتی ہیں ۔ شکیلہ کا افسانہ ’’آخری سہارا ‘‘ اسی موضع کو پیش کرتا ہے ۔ افسانہ آخری سہارا کی مرکزی کردار یاسمین فسادیوں سے اپنی عزت محفوظ رکھنے کی خاطر کنویں میں کود پڑتی ہے ۔ انسانیت کو رحم نہیں آیا۔ بھالا، برچھی ، اینٹ اور پتھر سے کنویں میں اس کی مدارات ہوئی ۔ انتہائی زخمی حالت میں اسے ریلیف کیمپ پہنچا دیا جاتا ہے لیکن کلیم کی امی جان بی بی امت الفاطمہ اورچھوٹی بہن رشیدہ بائولی میں پھینکی گئیں۔ وہی بائولی ان دونوں کی اور ان جیسے دیگر کئی لوگوں کی آخری آرام گاہ بن گئی ۔ یہی واقعہ وہ محرک یا   Stimulive  ہے جس نے کلیم کے فن کو خون سے سینچا ہے ۔ 

Thursday, October 22, 2026

The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives


The research article entitled “The Difference between Urdu, Hindi and English Idioms in the Context of Cultural, Religious, Geographical and Political Perspectives” by Musheer Khan, Research Scholar, presents a comparative study of idiomatic expressions in Urdu, Hindi and English. It examines how cultural traditions, religious beliefs, geographical environments and political histories shape idioms and influence their meanings. The article also discusses the significance of idioms in translation, literary interpretation and intercultural communication.

 Musheer Khan, 

Research Scholar

Idioms are an integral part of every language because they represent the thoughts, beliefs, traditions, experiences and collective wisdom of a particular society. An idiom is a phrase whose meaning cannot always be understood from the literal meanings of its individual words. Idiomatic expressions make language more effective, expressive and culturally meaningful. They are commonly used in everyday communication, literature, media and social interaction to express emotions, ideas, humour and social attitudes in a concise and memorable manner.

Urdu, Hindi and English are three important languages with rich idiomatic traditions. Their idioms have developed under different historical, cultural, religious, geographical and political circumstances. Urdu idioms have been influenced by Persian and Arabic literary traditions as well as Indo-Islamic culture. They frequently contain elements of politeness, spirituality, emotion and poetic expression. Hindi idioms, on the other hand, are closely associated with Indian folk culture, rural life, agriculture, mythology, family relationships and traditional social values. English idioms have been influenced by Biblical traditions, maritime activities, industrialisation, commerce, sports, colonial history and modern urban life.

The purpose of this study is to examine similarities and differences among Urdu, Hindi and English idioms from cultural, religious, geographical and political perspectives. It explores how traditions, beliefs, environment, occupations, historical experiences and political circumstances have contributed to the formation and development of idiomatic expressions in the three languages. It also considers how idioms express cultural identity, social values and human experience.

Monday, September 28, 2026

مہتاب قدر کے انتقال پر قادرالکلام کی جانب سے اظہارِ تعزیت


انتہائی افسوس اور گہرے رنج و غم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ جناب مہتاب قدر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال کی خبر قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد کے لیے نہایت صدمہ انگیز اور دل گرفتہ کرنے والی ہے۔ ہم اس موقع پر مرحوم کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

جناب مہتاب قدر، سعودی عرب جنوری 2026ء سے قادرالکلام ماہنامہ کے Foreign Editorial Board Member کی حیثیت سے ادارے کے ساتھ وابستہ رہے۔ اس دوران ان کی علمی و ادبی دلچسپی، خلوص اور ادارے کے لیے نیک خواہشات ہمارے لیے ہمیشہ باعثِ حوصلہ رہیں۔ انہوں نے اپنے منصب کو محض رسمی وابستگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ادارے کے مختلف امور میں اپنی قیمتی آرا اور مشوروں سے نوازتے رہے۔

اگرچہ ان کی باضابطہ ادارتی وابستگی کا عرصہ زیادہ طویل نہیں تھا، لیکن اس مختصر مدت میں بھی ان کے ساتھ قائم ہونے والا علمی و ادبی رشتہ ہمارے لیے اہم اور قابلِ قدر رہا۔ بعد ازاں بھی وہ قادرالکلام کے لیے اپنے مشوروں، رہنمائی اور خیرخواہانہ آرا کے ذریعے ہمارے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے تھے۔ ان کی گفتگو میں ادارے کی ترقی اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے حوالے سے جو خلوص اور دلچسپی تھی، اسے ہم ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھیں گے۔

ان کا انتقال ہمارے لیے صرف ایک رکنِ ادارتی بورڈ کی جدائی نہیں بلکہ ایک مخلص علمی و ادبی رفیق اور خیرخواہ مشیر کی جدائی ہے۔ ان کی وفات سے قادرالکلام کے علمی و ادبی حلقے میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے محسوس کیا جائے گا۔ ان کی یادیں، ان کی گفتگو اور ان کے قیمتی مشورے ہمارے لیے ہمیشہ ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے رہیں گے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بعض شخصیات کا تعلق وقت کی مدت سے نہیں بلکہ ان کے خلوص، محبت اور تعاون سے پہچانا جاتا ہے۔ مہتاب قدر بھی ان ہی مخلص وابستگان میں شامل تھے جنہوں نے قادرالکلام کے سفر میں اپنی بساط کے مطابق حوصلہ افزائی اور رہنمائی فرمائی۔ ان کی خدمات اور وابستگی کو ادارہ ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھے گا۔

معروف شاعر و صحافی مہتاب قدر کا انتقال جمعہ، 25 ستمبر 2026 کی صبح حیدرآباد (تلنگانہ) میں ہوا۔ وہ طویل عرصے سے جدہ میں مقیم تھے اور مختصر مدت کے لیے اپنے وطن حیدرآباد آئے ہوئے تھے۔وہ حلقۂ اربابِ ذوق، جدہ کے بانی اور پندرہ روزہ ادبی جریدے ’’اردو گلبن‘‘ جدہ کے بانی مدیر بھی تھے۔

اس المناک موقع پر قادرالکلام ماہنامہ کی پوری ٹیم مرحوم کے اہلِ خانہ اور تمام سوگواران کے ساتھ برابر کی شریکِ غم ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔

اللہ رب العزت پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کی علمی و ادبی وابستگیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔

Sunday, September 6, 2026

برطانوی سامراج اوراردوکامزاحمتی ادب


پروفیسر سید محمود کاظمی کا یہ اہم تحقیقی مضمون "برطانوی سامراج اور اردو کا مزاحمتی ادب" اردو ادب میں مزاحمت، قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف ادبی اظہار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں غالب، بہادر شاہ ظفر، چکبست، اقبال، جوش، پریم چند اور دیگر شعراء و ادباء کے حوالے سے برطانوی سامراج کے خلاف اردو ادب کے مزاحمتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

 پروفیسرسید محمود کاظمی

ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ  کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ  ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو  ؎ 

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی

دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...