زیرِ نظر مضمون میں نور احمد ترمذی نے ستیش بترا کی ادبی زندگی، افسانہ نگاری اور مختلف تصانیف کا جائزہ پیش کیا ہے۔ مضمون میں ان کے اردو، ہندی اور انگریزی افسانوی مجموعوں، ناول اور سفرناموں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے فن کے نمایاں موضوعات، مثلاً تقسیمِ ہند کے اثرات، سماجی مسائل، انسانی رشتوں اور زندگی کے تلخ تجربات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ تحریر ستیش بترا کی ادبی خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
نور احمد ترمذی(کالم نگار)
ادب کی تخلیق کے محرکات بھانت بھانت کے ہوتے ہیں۔ کسی کو شہرت چاہیے ، کسی کو ملازمت چاہیے ، کسی کو پروموشن چاہیے ، کہیں مالی منفعت کا معاملہ ہوتا ہے تو کہیں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ شاد عظیم آبادی کا بیان ہے کہ ان کی شاعری کی وجہ سے بہت لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ مرزا غالب کو صفائی دینی پڑی کہ:
سوپشت سے پیشہ ٔ آبا سپہ گری،
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے۔
میرتقی میر ؔ کو تا عمر شکایت رہی : پرداخت میری ہو نہ سکی اک امیر سے ۔ مشتاق احمد یوسفی کا بیان ہے کہ ان کی قلم کاری ان کے لیے مالی نقصان کا سبب بنی ۔ فیض احمد فیض اپنی شاعری کی وجہ سے مدتوں جیل میں بند رہے، کچھ ویسا ہی حال حبیب جالب کا بھی ہوا ۔ فہمیدہ ریاض کو اپنی تحریروں کی وجہ سے پاکستانی صدر ضیاء الحق کے عہد حکومت میں ہندوستان میں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ ضیاء الحق کے سفرِ آخرت کے بعد وہ پاکستان واپس گئیں۔ کلیم عاجز کی شاعری کا محرک 1946 ء کا فرقہ وارانہ فساد ہے، ان کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘‘ اسی جانکاہ حادثہ کی یادگار ہے۔ ان کی پوری شاعری اس درد کو بیان کرتی ہے۔ اور پہلے کی بات یاد کریں تو دکھ کے ساتھ بتانا پڑتا ہے کہ فرانسیسی قلم کار والٹیئر VOLTAIRE کو ان کی کتاب کینڈیڈ CANDIDE کی وجہ سے قید با مشقت کی سزا ہوئی۔ اسے ملک چھوڑنا پڑا، وہ پچیس سال کے بعد اپنے آبائی وطن فرانس کی زیارت کو پہنچا ، جہاں 1778ء میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ کیو ں اور کیسے ؟ پتہ نہیں۔




