Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید
Showing posts with label الہلال. Show all posts
Showing posts with label الہلال. Show all posts

Saturday, September 19, 2026

جدوجہد آزادی اور اردو صحافت

"جدوجہدِ آزادی اور اردو صحافت" عبداللہ، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی، لکھنؤ کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران اردو صحافت کے فکری، سیاسی اور عوامی کردار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 عبداللہ(ریسرچ اسکالر،لکھنو)

 صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری، سماجی اور سیاسی زندگی کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ یہ محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی شعور کی تشکیل، افکار و نظریات کی اشاعت، سماجی اصلاح، سیاسی رہنمائی اور قومی بیداری کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم نے آزادی، انصاف یا بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی، صحافت نے اس تحریک کو سمت دینے، عوام کو باخبر رکھنے اور ظلم و استبداد کے خلاف رائے عامہ ہم وار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو کسی بھی قوم کا ضمیر اور عوامی احساسات کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے۔برصغیر میں صحافت کا آغاز اگرچہ انگریزی اور فارسی اخبارات سے ہوا، لیکن بہت جلد اردو نے بھی عوامی رابطے کی زبان کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کرلی،اور صحافت کے میدان میں قدم جمالیا۔ چوں کہ اردو مختلف مذہبی اور لسانی طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھی، اس لیے اخبارات کے لیے بھی یہی زبان زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔اردو صحافت کی باقاعدہ تاریخ 27 مارچ 1822ء سے شروع ہوتی ہے، جب کلکتہ سے "جامِ جہاں نما" جاری ہوا۔ اس کے بانی منشی ہری ہر دت تھے جب کہ اس کی ادارت منشی سدا سکھ لال کے سپرد تھی۔ اس سلسلے میں نادر علی خاں لکھتے ہیں:

"اردو اردو زبان کا پہلا اخبار جامِ جہاں نماہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتے سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ منشی سدا سکھ مرزا پوری کی ادارت میں مطبع مشن پریس میں طبع ہوکر ہری ہر دت کے اہتمام سے شائع ہوا تھا"

(نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ص: 33)

Friday, September 4, 2026

تحریک آزادی اور الہلال


 
 پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی

 یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

 مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ  صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے  ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو  ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...