عبداللہ(ریسرچ اسکالر،لکھنو)
صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری، سماجی اور سیاسی زندگی کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ یہ محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی شعور کی تشکیل، افکار و نظریات کی اشاعت، سماجی اصلاح، سیاسی رہنمائی اور قومی بیداری کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم نے آزادی، انصاف یا بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی، صحافت نے اس تحریک کو سمت دینے، عوام کو باخبر رکھنے اور ظلم و استبداد کے خلاف رائے عامہ ہم وار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو کسی بھی قوم کا ضمیر اور عوامی احساسات کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے۔برصغیر میں صحافت کا آغاز اگرچہ انگریزی اور فارسی اخبارات سے ہوا، لیکن بہت جلد اردو نے بھی عوامی رابطے کی زبان کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کرلی،اور صحافت کے میدان میں قدم جمالیا۔ چوں کہ اردو مختلف مذہبی اور لسانی طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھی، اس لیے اخبارات کے لیے بھی یہی زبان زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔اردو صحافت کی باقاعدہ تاریخ 27 مارچ 1822ء سے شروع ہوتی ہے، جب کلکتہ سے "جامِ جہاں نما" جاری ہوا۔ اس کے بانی منشی ہری ہر دت تھے جب کہ اس کی ادارت منشی سدا سکھ لال کے سپرد تھی۔ اس سلسلے میں نادر علی خاں لکھتے ہیں:
"اردو اردو زبان کا پہلا اخبار جامِ جہاں نماہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتے سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ منشی سدا سکھ مرزا پوری کی ادارت میں مطبع مشن پریس میں طبع ہوکر ہری ہر دت کے اہتمام سے شائع ہوا تھا"
(نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ص: 33)

